دیگر صحابہ کرام کے حدیثی مجموعے

دیگر صحابہ کرام کے حدیثی مجموعے

اسی طرح حضور کے خادم خاص حضرت ابورافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایتیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ذریعہ جمع ہوچکی تھیں۔( الطبقات الکبری لابن سعد ۲/۱۲۳)

حضرت سمرہ بن جندب کی روایتیں بھی انکی زندگی میں جمع ہوئیں اوریہ مجموعہ انکے خاندان میں ایک عرصہ تک محفوظ رہا ، انکے پوتے حبیب نے اسے دیکھ کر روایتیں کیں ۔(تہذیب التہذیب ۴/۱۹۸)

حضرت سعد بن عبادہ انصاری فن کتابت میں مہارت کی بنیاد پر مردکامل سمجھے جاتے تھے ،آپ نے بھی ایک صحیفہ احادیث مرتب کیا تھا ، آپکے صاحبزادے نے ان احادیث کو روایت کیا ۔(الجامع للترمذی، باب الیمین مع الشاہد، ۱/۱۶۰)

حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس بھی ایک مجموعہ تھا ،ایک مرتبہ آپ نے اپنے کاتب وراد ثقفی سے حضرت امیر معاویہ کو ایک حدیث لکھواکر بھیجی تھی۔( الجامع للبخاری، باب العساکر بعد الصلوۃ، ۱/۱۱۷)

حضرت براء بن عازب جلیل القدر صحابی ہیں ، انکی روایتیں انکی حیات ہی میں تحریری شکل میں مرتب ہوگئی تھیں ،انکے شاگردوں کے شوق کتابت کا یہ عالم تھا کہ کاغذ موجود نہ ہوتا تو ہتھیلیوں پر لکھ لیتے تھے۔(السنن للدارمی، ۶۶)

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ایک خاص صحابی ہیں ،انہوں نے بھی حدیثیں کتابی شکل میں جمع کی تھیں ،سالم ابو النضر کا بیان ہے کہ میں نے آپکی تحریر کردہ ایک حدیث پڑھی ہے۔( الجامع للبخاری، باب الصبر عند القتال، ۱/۳۹۷)

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کتابت حدیث سے اتنی دلچسپی تھی کہ اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو نصیحت کرتے تھے کہ علم حاصل کرو ،کیونکہ آج تم قوم میں چھوٹے ہو لیکن کل بڑے ہوگے توقوم کو تمہاری ضرورت ہوگی ،جویاد نہ کرسکے تو اسے چاہیئے کہ وہ لکھ لیا کرے۔( جامع بیان العلم، ۴۰)

حضرت امیر معاویہ ،حضرت ثوبان اور حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مرویات انکے شاگرد خالد بن معدان کے ذریعہ تحریری شکل میں مدون ہوئیں ،انہوں نے ستر صحابہ کرام سے ملاقات کی تھی ،تحریر وتدوین کی جانب خاص توجہ کے باعث انکے پاس ایک باقاعدہ کتاب مرتب ہوگئی تھی۔( تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۲/۱۱۹)

جن صحابہ کرام کی تحریری کوششوں کا ذکر ہم نے کیا ان میں بالخصوص وہ حضرات بھی ہیں جنکو مکثرین صحابہ میں شمارکیاجاتاہے یعنی جن سے ایک ہزارسے زائد احادیث روایت کی گئی

ہیں ۔ انکی تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے ۔

۱۔ حضرت ابو ہریرہ ۵۳۷۴

۲۔ حضرت عبداللہ بن عمر ۲۶۳۰

۳۔ حضرت انس بن مالک ۲۲۸۶

۴۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۲۲۱۰

۵۔ حضرت عبداللہ بن عباس ۱۶۶۰

۶۔ حضرت جابر بن عبداللہ ۱۵۴۰

۷۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۱۱۷۰

انکے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تعداد حدیث کے بارے میں آپ خود حضرت ابو ہریرہ کا فرمان پڑھ چکے کہ مجھ سے زیادہ احادیث حضرت ابن عمرو کی ہیں ۔اس طرح ان حضرات کی مرویات کی تعداد تیئیس ہزار سے زیادہ ہوگی ۔ اور بعض محدثین نے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی مکثرین میں شمار کیا ہے تو کم از کم دوہزار کے مزید اضافہ سے یہ تعداد پچیس ہزار سے بھی زائد ہوجائیگی ۔اور باقی صحابہ کرام کی روایات علیحدہ رہیں ۔

ناظرین اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عہد صحابہ میں تدوین حدیث کس منزل میں تھی ۔لہذا منکرین کا یہ کہنا کہ احادیث دوسوسال کے بعد ہی صحیفہ قرطاس پر ثبت ہوئیں ،اس سے پہلے فقط حافظوں پرموقوف تھیں یہ حقیقت سے کتنی بعید بات ہے ۔

وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ ۚ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 83

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ ۚ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو یہ اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس خبر کو رسول یا اپنے صاحبان علم کی طرف پہنچا دیتے تو انمیں سے خبر کا تجزیہ کرنے والے ضرور اس کے (صحیح) نتیجہ تک پہنچ جاتے ‘ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو چند لوگوں کے سوا تم شیطان کی پیروی کرلیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو یہ اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس خبر کو رسول یا اپنے صاحبان علم کی طرف پہنچا دیتے تو ان میں سے خبر کا تجزیہ کرنے والے ضرور اس کے (صحیح) نتیجہ تک پہنچ جاتے ‘ الخ۔ (النساء : ٨٣) 

اس آیت میں استنباط کا معنی ہے کسی چیز کو نکالنا ‘ اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ عالم اپنی عقل اور علم سے کسی خبر میں غور وفکر کرکے اس سے صحیح نتیجہ نکالے ‘ قرآن اور حدیث میں غور وفکر کرکے ان سے احکام شرعیہ اخذ کرنے کو بھی استنباط کہتے ہیں۔ 

شان نزول :

یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہوتے اور لشکر کو شکست ہوتی یا اس کو مال غنیمت حاصل ہوتا ‘ تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خبر دینے سے پہلے اس خبر کو اڑا دیتے تھے تاکہ مسلمانوں کے دل کمزور ہوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت پہنچے ‘ اگر وہ یہ خبر نہ پھیلاتے حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا آپ کے معظم اصحاب میں سے مثلا حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) وغیرہ اس خبر کی خود تحقیق کرتے تو وہ اس خبر سے صحیح نتیجہ نکال لیتے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٨٧) 

امام ابن جریر نے لکھا ہے ان لوگوں سے مراد منافق ہیں یا ضعفاء مسلمین (جامع البیان ج ٥ ص ١١٤) 

اس آیت میں اولی الامر سے مراد یا تو ان لشکروں کے امیر ہیں یا اصحاب علم وفضل ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٧٢) 

قیاس اور تقلید کے حجت ہونے کا بیان :

اس آیت سے معلوم ہوا کہ شریعت میں قیاس بھی حجت اور دلیل ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ واجب کیا ہے کہ خبر کے ظاہر پر عمل نہ کیا جائے بلکہ غور و فکر کرکے اس خبر سے صحیح نتیجہ اخذ کیا جائے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ بعض احکام ظاہر نص سے معلوم نہیں ہوتے بلکہ ظاہر نص سے جو حکم مستنبط کیا جائے اس پر عمل کرنا واجب ہے ‘ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو نئے نئے مسائل پیش آتے ہیں ان میں عوام پر واجب ہے کہ وہ علماء کی تقلید کریں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی مسائل شرعیہ میں استنباط کرتے تھے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد پیش آمدہ واقعات اور مسائل حاضرہ میں اصحاب علم کو قرآن اور احادیث سے استنباط اور اجتہاد کرنا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 83

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 4 سورہ البقرہ آیت نمبر30 تا 39

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں (ف۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے (ف۵۴) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے (ف۵۵)

(ف53)

خلیفہ احکام واوامرکے اجراء و دیگر تصرفات میں اصل کا نائب ہوتا ہے یہاں خلیفہ سے حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں اگرچہ اور تمام انبیاء بھی اللہ تعالٰی کے خلیفہ ہیں حضرت داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا ” یَادَاو،دُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ ” فرشتوں کو خلافت آدم کی خبر اس لئے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کرکے معلوم کرلیں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے قبل ہی خلیفہ کا لقب عطا ہوا اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی

مسئلہ : اس میں بندوں کو تعلیم ہے کہ وہ کام سے پہلے مشورہ کیا کریں اور اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو مشورہ کی حاجت ہو ۔

(ف54)

ملائکہ کا مقصد اعتراض یا حضرت آدم پر طعن نہیں بلکہ حکمت خلافت دریافت کرنا ہے اور انسانوں کی طرف فساد انگیزی کی نسبت کرنا اس کا علم یا انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا ہو یا لوح محفوظ سے حاصل ہوا ہو یا خود انہوں نے جنات پر قیاس کیا ہو ۔

(ف55)

یعنی میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں بات یہ ہے کہ انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے اولیاء بھی علماء بھی اور وہ علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)

اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے (ف۵۶) پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)

(ف56)

اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر تمام اشیاء و جملہ مسمیات پیش فرما کر آپ کو ان کے اسماء و صفات و افعال و خواص و اصول علوم و صناعات سب کا علم بطریق الہام عطا فرمایا ۔

(ف57)

یعنی اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں گا اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام تصرف و تدبیراور عدل و انصاف ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اس کو متصرف فرمایا گیا اور جن کا اس کو فیصلہ کرنا ہے۔

مسئلہ : اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے ملائکہ پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ علمِ اسماء خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے

مسئلہ: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ سے افضل ہیں ۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲)

بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے (ف۵۸)

(ف58)

اس میں ملائکہ کی طرف سے اپنے عجزو قصور کا اعتراف اور اس امر کا اظہار ہے کہ اُن کا سوال استفساراً تھا۔ نہ کہ اعتراضاً اور اب انہیں انسان کی فضیلت اور اُس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے ۔

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(۳۳)

فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادئیے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو (ف۶۰)

(ف59)

یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے ہر چیز کا نام اور اس کی پیدائش کی حکمت بتادی۔

(ف60)

ملائکہ نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی و خوں ریزی کرے گا اور وجوہات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ مستحق خلافت وہ خود ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے افضل و اعلم کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا مسئلہ اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالٰی کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا، کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جملہ لغات اور کل زبانیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ ملائکہ کے علوم و کمالات میں زیادتی ہوتی ہے ۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴)

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۵)

(ف۶۱) اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف۶۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے (ف۶۳)

(ف61)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور ملائکہ کے لئے حصول کمالات کا وسیلہ کیا تو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں شکر گزاری اور حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اعتراف اور اپنے مقولہ کی معذرت کی شان پائی جاتی ہے بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا تھا ان کی سند یہ آیت ہے

” فَاِذَا اسَوَّیْتُہ’ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ’ سَاجِدِینَ ”(بیضاوی) سجدہ کا حکم تمام ملائکہ کو دیا گیا تھا یہی اصح ہے۔(خازن) مسئلہ : سجدہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک سجدۂ عبادت جو بقصد پر ستش کیا جاتا ہے دوسرا سجدۂ تحیت جس سے مسجود کی تعظیم منظور ہوتی ہے نہ کہ عبادت۔

مسئلہ : سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا نہ کسی شریعت میں کبھی جائز ہوا یہاں جو مفسرین سجدۂ عبادت مراد لیتے وہ فرماتے ہیں کہ سجدہ خاص اللہ تعالیٰ کے لئے تھا۔اور حضرت آدم علیہ السلام قبلہ بنائے گئے تھے تو وہ مسجود الیہ تھے نہ کہ مسجودلہ، مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سجدہ سے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا فضل و شرف ظاہر فرمانا مقصود تھا اور مسجود الیہ کا ساجد سے افضل ہونا کچھ ضرور نہیں جیسا کہ کعبہ معظمہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ و مسجود الیہ ہے باوجودیکہ حضور اس سے افضل ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں سجدۂ عبادت نہ تھا سجدۂ تحیت تھا اور خاص حضرت آدم علیہ السلام کے لئے تھا زمین پر پیشانی رکھ کر تھا نہ کہ صرف جھکنا یہی قول صحیح ہے اور اسی پر جمہور ہیں۔(مدارک)

مسئلہ سجدۂ تحیت پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ کیا گیا اب کسی کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ جب حضرت سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا کہ مخلوق کو نہ چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (مدارک) ملائکہ میں سب سے پہلا سجدہ کرنے والے حضرت جبریل ہیں پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر عزرائیل پھر اور ملائکہ مقربین یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زوال سے عصر تک کیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکہ مقربین سو برس اور ایک قول میں پانچ سو برس سجدہ میں رہے شیطان نے سجدہ نہ کیا اور براہ تکبر یہ اعتقاد کرتا رہا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے اس کے لئے سجدہ کا حکم معاذ اللہ تعالیٰ خلاف حکمت ہے اس اعتقاد باطل سے وہ کافر ہوگیا۔

مسئلہ : آیت میں دلالت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل ہیں کہ ان سے انہیں سجدہ کرایا گیا۔

مسئلہ : تکبر نہایت قبیح ہے اس سے کبھی متکبر کی نوبت کفر تک پہنچتی ہے۔ (بیضاوی و جمل)

(ف62)

اس سے گندم یا انگور وغیرہ مراد ہے (جلالین)

(ف63)

ظلم کے معنی ہیں کسی شے کو بے محل وضع کرنا یہ ممنوع ہے اور انبیاء معصوم ہیں ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا یہاں ظلم خلاف اولی کے معنی میں ہے۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام کو ظالم کہنا اہانت و کفر ہے جو کہے وہ کافر ہوجائے گا اللہ تعالیٰ مالک و مولیٰ ہے جو چاہے فرمائے اس میں ان کی عزت ہے دوسرے کی کیا مجال کہ خلاف ادب کلمہ زبان پر لائے اور خطاب حضرت حق کو اپنی جرأت کے لئے سند بنائے، ہمیں تعظیم و توقیر اور ادب و طاعت کا حکم فرمایا ہم پر یہی لازم ہے۔

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(۳۶)

تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف۶۴) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف۶۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے (ف۶۶)

(ف64)

شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا (علیہماالسلام) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجر خلد بتادوں، حضرت آدم علیہ السلام نے انکار فرمایا اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے بایں خیال حضرت حوّا نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا’ حضرت آدم کو خیال ہوا کہ ” لَاتَقْرَبَا ” کی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(ف65)

حضرت آدم و حوا اور ان کی ذریت کو جوان کے صلب میں تھی جنت سے زمین پر جانے کا حکم ہوا حضر ت آدم زمین ہند میں سراندیپ کے پہاڑوں پر اور حضرت حوا جدّے میں اتارے گئے۔ (خازن) حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے زمین کے اشجار میں پاکیزہ خوشبو پید اہوئی۔(روح البیان)

(ف66)

اس سے اختتام عمر یعنی موت کا وقت مراد ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے لئے بشارت ہے کہ وہ دنیا میں صرف اتنی مدت کے لئے ہیں اس کے بعد پھر انہیں جنت کی طرف رجوع فرمانا ہے اور آپ کی اولاد کے لئے معاد پر دلالت ہے کہ دنیا کی زندگی معین وقت تک ہے عمر تمام ہونے کے بعد انہیں آخرت کی طرف رجوع کرنا ہے۔

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷)

پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف۶۷) بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان

(ف67)

آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اورتمام اہلِ زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں ” رَبَّنَا ظَلَمْنَا ”الآیہ ‘ کے ساتھ یہ عرض کیا ” اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ” ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔

” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ ” یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندۂ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا ” مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللّٰہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ ”

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)

ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم(ف۶۸)

(ف68)

یہ مؤمنین صالحین کے لئے بشارت ہے کہ نہ انہیں فزع اکبر کے وقت خوف ہو نہ آخرت میں غم وہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹)

اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کے مجموعے

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کے مجموعے

میدان علم میں آپکی جلالت شان سب کو معلوم ہے، مشکل مسائل میں جلیل القدر صحابہ کرام آپکی طرف رجوع کرتے اوراحادیث نبویہ کی روایت کرتے تھے ۔آپ کے علم وفضل کا یہ ایک عالم تھا کہ فرائض ومیراث کے مسائل جنکا زبانی نکالنا کوئی آسان کام نہیں لیکن آپ بآسانی حل فرماتی تھئیں ،قوت یادداشت کایہ حال کہ کسی شاعر کے ساٹھ ساٹھ اشعار بلکہ بعض اوقات سوسواشعار برجستہ سنادیتی تھیں ۔

آپ سے مردوں میں حضرت عروہ بن زبیر نے جو آپکے بھانجے تھے خاص طور پر علم حاصل کیا تھا ، آپکی مرویات کو سب سے زیادہ جاننے والے یہ ہی تھے ۔انہوں نے کتابی شکل میں روایات کا ایک مجموعہ بھی تیار کیاتھا لیکن واقعہ حرہ کے موقع پر جبکہ یزیدیوں نے مدینہ طیبہ کوتاراج کیا توآپ کا وہ صحیفہ بھی ضائع ہوگیا جس پر آپ کو نہایت افسوس ہوتاتھا ۔فرماتے تھے۔

لوددت انی کنت فدیتھا باہلی ومالی (تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۷/۱۸۳)

اچھا ہوتا کہ میں اپنے اہل وعیال اور تمام جائداد کو اس پر قربان کردیتا ۔

عورتوں میں آپکی خاص تلمیذہ مشہور خاتون حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن ہیں ۔ انکی مرویات کو انکے بھانجے حضرت ابوبکر بن محمد بن عمروبن حزم نے جمع کیا تھا۔ کیونکہ خلیفۂ راشدحضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مدینہ شریف میں تدوین حدیث کے لئے جو پیغام آیا تھا اسکی تعمیل آپ ہی نے کی تھی ۔

تیسرے شاگر د حضرت قاسم بن محمد آپکے بھتیجے ہیں کہ آپکی کفالت میں رہے اورحدیثوں کاایک وافر ذخیرہ آپ سے حاصل کیا ۔انکی مرویات بھی ابوبکر بن محمد نے جمع کی تھیں ۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِىۡ سَبِيۡلٍ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 43

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِىۡ سَبِيۡلٍ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا

ترجمہ:

اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو ‘ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو ‘ پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو ‘ بیشک اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (النساء : ٤٣) 

حالت نشہ میں نماز پڑھنے سے ممانعت کا شان نزول : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی ابن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے ہمارے لئے کھانے کی دعوت کی ‘ اور ہم کو (تحریم شراب سے پہلے) شراب پلائی ہم نے شراب پی اور نماز کا وقت آگیا ‘ انہوں نے نماز پڑھانے کے لیے مجھے امام بنادیا میں نے پڑھا (آیت) ” قل یایھا الکافرون، لا اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون “۔ (آپ کہیے کہ اے کافرو میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم عبادت کرتے ہو) تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٣٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧١) 

امام ابن جریر متوفی ٣١٠‘ ھ نے از ابو عبدالرحمن از حضرت علی (رض) روایت کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت علی (رض) نے شراب پی اور نماز حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے پڑھائی اور ان کو اس آیت کے پڑھنے میں التباس ہوگیا تب یہ آیت نازل ہوئی : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٦١) 

امام ابوبکر جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ٢٠١) 

امام حاکم نیشا پوری متوفی ٤٠٥ ھ نے اس حدیث میں یہ روایت کیا ہے کہ ایک شخص کو امام بنادیا گیا اور اس نے قرات میں یہ غلطی کی پھر یہ آیت نازل ہوئی ‘ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ‘ امام ذہبی نے بھی اس کو صحیح لکھا ہے۔ (المستدر ج ٢ ص ٣٠٧) 

امام ابوالحسن واحدی متوفی ٤٦٨ ھ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٥٦‘ تفسیر سفیان الثوری ‘ ص ٥٦‘ تفسیر الزجاج ج ٢ ص ٥٦) 

بعض مفسرین نے کہا اس آیت کا معنی ہے جب تم پر نیند کا غلبہ ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :۔ اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حالت جنابت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص سفر میں جنبی ہوجائے اور اس کو غسل کے لئے پانی نہ ملے تو وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے ‘ زجاج نے کہا اس کی حقیقت یہ ہے کہ حالت جنابت میں تم نماز نہ پڑھو ‘ قبتی نے کہا اس آیت میں صلوۃ سے مراد موضع الصلوۃ ہے یعنی مسجد ‘ اور اس کا معنی ہے کہ حالت جنابت میں تم مساجد کے قریب نہ جاؤ مگر صرف راستہ گزرنے کے لئے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو ‘ پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو ‘۔ 

تیمم کی مشروعیت کا سبب : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں گئے ‘ جب مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گرگیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس ہار کو تلاش کرنے کے لئے رک گئے ‘ اور آپ کے ساتھ تمام قافلہ رک گیا ‘ اس جگہ پانی تھا اور نہ صحابہ کے ساتھ پانی تھا ‘ صحابہ نے حضرت ابوبکر (رض) سے شکایت کی اور کہنے لگے کہ تم نہیں دیکھ رہے کہ (حضرت) عائشہ (رض) نے کیا کیا ہے ؟ تمام لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ٹھہرا لیا ‘ اس مقام پر پانی ہے اور نہ لوگوں کے ساتھ پانی ہے۔ (یہ شکایت سن کر) حضرت ابوبکر (رض) میرے پاس آئے اور اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے زانو پر سر رکھے ہوئے محو نیند تھے ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے ڈانٹنا شروع کیا اور کہنے لگے تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام صحابہ کو پریشان کیا ہے اور ایسی جگہ روک لیا ہے جہاں بالکل پانی نہیں ہے ‘ نہ صحابہ کے پاس پانی ہے ‘ پھر حضرت ابوبکر (رض) ناراض ہو کر جو کچھ ان کے آیا کہتے رہے اور اپنے ہاتھ سے میری کو کھ میں اپنی انگلی چبھوتے رہے ‘ اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آرام میں خلل آنے کے خیال سے اپنی جگہ سے مطلقا نہیں ہلی ‘ یہاں تک کہ اسی حال میں یعنی جب کہ لوگوں کے پاس پانی نہ تھا ‘ صبح ہوگئی ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی ‘ فرمائی پھر نقباء میں سے حضرت اسید بن حضیر نے کہا اے آل ابوبکر یہ کوئی آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ! حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نے اس اونٹ کو کھڑا کیا جس پر میں سوار تھی تو ہار اس کے نیچے سے نکل آیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٥٦٨) 

حضرت عائشہ (رض) کے گم شدہ ہار کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کی بحث : 

اس حدیث میں ہے : 

حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو اس کے نیچے سے ہار نکل آیا۔ 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں : 

صحیح بخاری میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو بھیجا تو اس کو ہار مل گیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤) 

ایک روایت میں دو شخصوں کا ذکر ہے ‘ اور یہ ایک ہی واقعہ ہے ‘ علماء نے کہا ہے کہ جس شخص کو بھیجا وہ حضرت اسید بن حضیر اور اس کے متبعین تھے ‘ وہ گئے تو ان کو کچھ نہیں ملا ‘ پھر واپسی میں حضرت اسید کو اس اونٹ کے نیچے سے وہ ہار مل گیا۔ (شرح مسلم للنووی ج ١ ص ١٦٠‘ مطبوعہ کراچی) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے ابتداء نہیں بتایا یا اس طرف متوجہ نہیں کیا کہ ہار کہاں ہے کیونکہ اس میں متعدد حکمتیں تھیں اور آپ کی امت کو بہت سے مسائل کی تعلیم دینا تھی بعض ازاں یہ ہیں۔ 

حدیث تیمم سے استنباط شدہ مسائل : 

علامہ بدرالدین عینی نے بیان کیا کہ اس حدیث سے حسب ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں : 

(١) بعض علماء (علامہ ابن حجر عسقلانی) نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس جگہ قیام کرنا جائز ہے ‘ جہاں پانی نہ ہو اور اس راستہ پر سفر کرنا جائز ہے جہاں پانی نہ ہو ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی ہی جگہ سفر اور قیام کیا تھا۔ 

(٢) کسی شادی شدہ خاتون کی شکایت اس کے والد سے کرنا ‘ خواہ اس کا خاوند موجود ہو ‘ صحابہ کرام (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے اس لیے شکایت کی تھی کہ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو رہے تھے اور صحابہ کرام (رض) آپ کو نیند سے بیدار نہیں کرتے تھے۔ 

(٣) کسی فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف کرنا ‘ کیونکہ پانی نہ ملنے کا سبب حضرت عائشہ (رض) کے ہار کا گم ہونا تھا۔ 

(٤) کسی شخص کا اپنی بیٹی کے پاس جانا خواہ اس وقت اس کا خاوند موجود ہو ‘ جب اس کو یہ معلوم ہو کہ اس کا خاوند اس پر راضی ہوگا۔ 

(٥) کسی شخص کا اپنی بیٹی کو سرزنش کرنا خواہ وہ بیٹی شادی شدہ ہو اور صاحب منصب ہو۔ 

(٦) اگر کسی شخص کو ایسی تکلیف یا آفت پہنچے جو حرکت اور اضطراب کا موجب ہو تو وہ صبر کرے اور اپنے جسم کو ہلنے سے باز رکھے جب کہ اس کی حرکت سے کسی سونے والے ‘ بیمار یا نمازی یا قاری یا علم میں مشغول شخص کی تشویش اور بےآرامی کا خدشہ ہو۔ 

(٧) سفر میں تہجد کی رخصت ‘ یہ اس قول پر ہے کہ آپ پر تہجد کی نماز واجب تھی۔ 

(٨) پانی کو تلاش کرنا صرف اس وقت واجب ہوتا ہے جب نماز کا وقت آجائے ‘ کیونکہ عمرو بن حارث کی روایت میں ہے نماز کا وقت آگیا پانی کو تلاش کیا گیا۔ 

(٩) آیت وضو کے نازل ہونے سے پہلے وضو واجب تھا ‘ اسی وجہ سے ان کو بہت تشویش اور صدمہ لاحق ہوا کہ وہ ایسی جگہ ٹھہرے ہیں جہاں پانی نہیں ہے ‘ اور حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) پر ناراضگی کا اظہار کیا ‘ علامہ ابن البر نے کہا ہے کہ تمام اہل سیرت اس پر مفتق ہیں کہ جب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز فرض ہوئی ہے ‘ آپ نے وضو کے ساتھ نماز پڑھی ہے (آیت وضو آیت تیمم کے ساتھ نازل ہوئی ہے یہ سورة مائدہ کی آیت نمبر ٦ ہے) اگر یہ اعتراض ہو کہ وضو پہلے ہی واجب تھا تو آیت وضو کو نازل کرنے میں کیا حکمت تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تاکہ وضو کی فرضیت قرآن مجید سے ہوگئی ‘ بعض روایت میں ہے کہ حضرت اسلع اعرجی ‘ جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سواری لاتے تھے ایک دن انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا میں جنبی ہوں تو تیمم کی آیت نازل ہوگئی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا واقعہ بھی ہار گم ہونے والے دن پیش آیا ہو کیونکہ وہی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا اور سواری والا تھا۔ 

(١٠) اس حدیث میں تیمم میں نیت کے وجوب پر دلیل ہے کیونکہ تیمم کا معنی ہے قصد کرو۔ 

(١١) اس میں یہ دلیل ہے کہ تندرست ‘ مریض ‘ بےوضو اور جنبی سب کے لیے تیمم مشروع ہے ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کے لیے تیمم جائز نہیں قرار دیتے تھے ‘ لیکن فقہاء میں سے کسی نے ان کے قول پر عمل نہیں کیا ‘ کیونکہ احادیث صحیحہ میں جنبی کے لیے تیمم کا جواز ثابت ہے۔ 

(١٢) اس حدیث میں سفر میں تیمم کرنے کے جواز کی دلیل ہے ‘ اس پر سب کا اجماع ہے ‘ اور حضر میں تیمم کرنے میں اختلاف ہے ‘ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مسلک یہ ہے کہ سفر اور حضر میں تیمم کرنا مساوی ہے ‘ جب پانی نہ ملے ‘ یا مرض یا خوف شدید یا وقت نکلنے کے خوف سے پانی کا استعمال کرنا مشکل ہو ‘ علامہ ابو عمرو ابن عبدالبر مالکی نے کہا کہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے ‘ امام شافعی نے کہا جو شخص تندرست ہو اور مقیم ہو اس کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس کو اپنی جان کی ہلاکت کا خوف ہو ‘ علامہ طبری نے کہا امام ابویوسف اور امام زفر کے نزدیک مقیم کے لئے مرض اور خروج وقت کے خوف کی وجہ سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے ‘ امام شافعی ‘ لیث اور طبری نے یہ بھی کہا ہے کہ جب خروج وقت کا خوف ہو تو تندرست اور بیمار دونوں تیمم کرسکتے ہیں ‘ وہ نماز پڑھ لیں اور ان پر اعادہ لازم ہے ‘ اور عطاء بن ابی رباح نے یہ کہا ہے کہ جب پانی دستیاب ہو تو مریض اور غیر مریض دونوں تیمم نہ کریں۔ میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن عبدالبر کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ خروج وقت کے خوف سے تیمم جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مقیم کے لیے خروج وقت کے خوف کے سبب سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ 

(١٣) امن کے زمانہ میں ازواج کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے اگر ایک شخص کی کئی بیویاں ہوں تو وہ کسی ایک کو ساتھ لے جائے ‘ اور قرعہ اندازی کر کے اس کو لے جانا مستحب ہے جس کے نام کا قرعہ نکلے ‘ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک قرعہ اندازی کرنا واجب ہے 

جنبی کے لیے جواز تیمم میں صحابہ کا اختلاف : 

جنبی کے لیے تیمم کرنے میں صحابہ کا اختلاف تھا ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس سے منع کرتے تھے اور جمہور صحابہ کے نزدیک جنبی کے لیے تیمم کرنا جائز تھا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابزی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا میں جنبی ہوگیا اور مجھے پانی نہیں مل سکا ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا نماز مت پڑھ۔ حضرت عمار (رض) کہنے لگے ‘ اے امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سفر میں تھے۔ ہم دونوں جنبی ہوگئے اور ہمیں پانی نہیں ملا۔ آپ نے بہرحال نماز نہیں پڑھی ‘ لیکن میں زمین پر لوٹ پوٹ ہوگیا ‘ اور میں نے نماز پڑھ لی (جب حضور کی خدمت میں میں پہنچا اور واقعہ عرض کیا) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم دونوں ہاتھ زمین پر مارتے پھر پھونک مار کر گرد اڑا دیتے ‘ پھر ان کے ساتھ اپنے چہرہ اور ہاتھوں پر مسح کرتے ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا اے عمار خدا سے ڈرو ‘ حضرت عمار (رض) نے کہا اگر آپ فرمائیں تو میں یہ حدیث کسی اور سے نہ بیان کروں ‘ امام مسلم نے ایک اور سند بیان کر کے یہ اضافہ کیا کہ حضرت عمار (رض) کے جواب کے بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہم تمہاری روایت کا بوجھ تمہیں پر ڈالتے ہیں۔ 

شقیق بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ حضرت ابوموسی (رض) نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مخاطب ہو کر فرمایا ‘ اگر کسی شخص پر غسل فرض ہو اور اس کو ایک ماہ تک پانی نہ مل سکے تو وہ شخص کس طرح نمازیں پڑھے گا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا وہ شخص تیمم نہ کرے خواہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے ‘ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا ‘ پھر آپ سورة مائدہ کی اس آیت کا کیا جواب دیں گے۔ (آیت) ” فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا “۔ ” جب تم کو پانی نہ مل سکے تو پانی مٹی سے تیمم کرو “ حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے خدشہ ہے کہ اگر اس آیت کی بناء پر لوگوں کو تیمم کی اجازت دیدی جائے تو وہ پانی ٹھنڈا لگنے کی بناء پر بھی تیمم کرنا شروع کردیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار (رض) کی یہ حدیث نہیں سنی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کیلیے بھیجا ‘ راستہ میں (جب میں سویا تو) مجھ پر غسل فرض ہوگیا۔ پس میں خاک پر اسی طرح لوٹ پوٹ ہونے لگا ‘ جس طرح جانور لوٹ پوٹ ہوتے ہیں ‘ پھر جب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمتت میں حاضر ہوا ‘ اور اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تمہارے لیے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کرتے پھر آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر ایک مرتبہ مارے اور بائیں ہاتھ سے دائیں پر مسح کیا اور دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور چہرہ پر مسح کیا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کیا تمہیں پتہ نہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عمار کی حدیث پر اطمینان نہیں کیا تھا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٨‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٤٦۔ ٣٤٠‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٢۔ ٣٢١) 

نیزامام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) ایک سرد رات کو جنبی ہوگئے ‘ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ پھر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کو ملامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری کتاب التیمم باب : ٧) 

اس سے یہ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام (رض) کا بعض مسائل میں اختلاف ہوتا تھا لیکن وہ ایک دوسرے کو طعن تشنیع نہیں کرتے تھے اور فروعی مسائل میں اختلاف کو وسعت ظرف سے لیتے تھے ‘ اگر اس قسم کا اختلاف آج کے مسلمانوں میں ہو تو ایک دوسرے کے خلاف نہ جانے کتنے رسالے لکھے جائیں اور ایک دوسرے کی تکفیر کی جائے اور آپس میں جو تم پیزار شروع ہوجائے۔ 

تیمم کی تعریف ‘ اس کی شرائط اور مذاہب فقہاء : 

تیمم ‘ کتاب ‘ سنت اور امت مسلمہ کے اجماع سے ثابت ہے ‘ تیمم کی خصوصیت سے اللہ تعالیٰ نے صرف اس امت کو سرفراز کیا ہے ‘ امت کا اس پر اجماع ہے کہ حدث اصغر ہو یا حدث اکبر ‘ تیمم صرف چہرے اور ہاتھوں پر کیا جاتا ہے ‘ ہمارا اور جمہور کا اس پر اجماع ہے کہ تیمم کے لیے دو ضربیں (دو بار پاک مٹی پر ہاتھ مارنا) ضروری ہیں ‘ ایک ضرب سے چہرے پر مسح کیا جائے اور ایک ضرب سے کہنیوں سمیت ہاتھوں پر مسح کیا جائے ‘ حضرت علی بن ابی طالب ‘ حضرت عبداللہ بن عمر ‘ حسن بصری ‘ شعبی ‘ سالم بن عبداللہ بن عمر ‘ سفیان ثوری ‘ امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ ‘ اصحاب رائے اور دوسرے تمام فقہاء (رض) کا یہی مسلک ہے ‘ عطاء مکحول ‘ اوزاعی ‘ امام احمد ‘ اسحق ‘ ابن المنذر ‘ اور عامۃ المحدثین کا مسلک یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کیلیے صرف ایک ضرب واجب ہے۔ زہری نے یہ کہا ہے کہ ہاتھوں پر بغلوں تک مسح کرنا واجب ہے ‘ علامہ خطابی نے کہا ہے کہ اس میں علماء کا اختلاف نہیں ہے کہ کہنیوں سے ماوراء تیمم نہیں ہے ‘ اور ابن سیرین سے منقول ہے کہ تیمم میں تین ضربات ہیں ‘ ایک ضرب چہرے کے لیے دوسری ضرب ہتھیلیوں کے لیے اور تیسری ضرب کلائیوں کے لئے۔ 

علماء کا اس پر اجماع ہے ‘ تیمم حدث اصغر کے لئے بھی ہے اور حدث اکبر (جنبی ‘ حائض اور نفساء) کے لئے بھی ہے ‘ سلف اور خلف میں سے اس کا کوئی مخالف نہیں ہے ‘ ماسوا حضرت عمر بن الخطاب (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے ایک قول کے ‘ یہ بھی روایت ہے کہ ان دونوں نے اس قول سے رجوع کرلیا تھا ‘ جنبی کے لیے تیمم کے جواز کے ثبوت میں بکثرت احادیث مشہورہ مروی ہیں ‘ جب جنبی تیمم سے نماز پڑھ لے تو اس پر غسل کرنا بالاجماع واجب ہے ‘ اس میں صرف ابوسلمہ عبدالرحمن تابعی کا قول مخالف ہے لیکن یہ قول بالاجماع متروک ہے ‘ اور احادیث صحیحہ مشہورہ میں وارد ہے کہ جب پانی مل گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کو غسل کرنے کا حکم دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٤) اگر مسافر کے پاس پانی نہ ہو تو وہ پھر اپنی بیوی سے جماع کرسکتا ہے ‘ وہ (اگر اتنا پانی ہو تو) اپنی شرمگاہوں کو دھو کر تیمم کریں اور نماز پڑھ لیں اور اگر انہوں نے اپنی شرمگاہیں دھو لیں تو ان پر نماز کا اعادہ نہیں ہے ‘ اور اگر مرد نے اپنے آلہ کو نہیں دھویا اور اس پر رطوبت فرج لگی ہوئی تھی جس قول کے مطابق رطوبت فرج نجس ہے اس کو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا ورنہ نہیں ‘ جس شخص نے کسی مرض یا زخم کی وجہ سے تیمم کیا تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے اور جس نے پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کیا تو اگر وہ ایسی جگہ ہے جہاں پر غالبا پانی نہیں ہوتا ‘ مثلا سفر میں ہے تو اس پر اعادہ واجب نہیں ہے ‘ اور اگر ایسی جگہ ہے جہاں پر کبھی کبھی پانی نہیں ہوتا اور اکثر ہوتا ہے تو اس پر نماز کا اعادہ ہے (جو شخص ڈیڑھ انگریزی میل کی مسافت پر شہر سے دور ہو اور اس کو پانی دستیاب نہ ہو تو وہ فقہاء احناف کے نزدیک تیمم کرسکتا ہے اور اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے، ہدایہ) 

امام شافعی ‘ امام احمد ‘ ابن المنذر ‘ داؤد ظاہری، اور اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ تیمم صرف ایسی پاک مٹی کے ساتھ جائز ہے جس کا غبار عضو کے ساتھ لگ جائے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک یہ کہتے ہیں کہ زمین کی تمام اقسام سے تیمم کرنا جائز ہے ‘ حتی کہ دھلے ہوئے پتھر سے بھی تیمم کرنا جائز ہے ‘ اور بعض اصحاب مالک نے یہ کہا ہے کہ جو چیز زمین کے ساتھ متصل ہو ‘ اس کے ساتھ تیمم کرنا بھی جائز ہے اور برف کے متعلق ان کی دو روایتیں ہیں ‘ اور اوزاعی اور سفیان ثوری نے یہ کہا کہ برف اور ہر وہ چیز جو زمین پر ہو اس کے ساتھ تیمم کرنا جائز ہے۔ 

تیمم کے بعض مسائل : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو جہم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیرجمل (مدینہ کے قریب ایک جگہ) کی طرف جارہے تھے ایک مسلمان نے آپ کو سلام کیا ‘ آپ نے اس کو سلام کا جواب نہیں دیا حتی کہ آپ ایک دیوار کے پاس گئے اور تیمم کر کے اس کو جواب دیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩ )

یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ اس وقت پانی نہیں تھا کیونکہ جب پانی موجود ہو اور اس کے استعمال پر قدرت ہو تو تیمم جائز نہیں ہے ‘ خواہ فرض نماز ‘ نماز عید ‘ یا نماز جنازہ کے فوت ہونے کا خوف ہو ‘ امام شافعی کا مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ عید اور جنازہ کے فوت ہونے کے خوف کی وجہ سے تیمم جائز ہے ‘ کیونکہ ان کی قضاء نہیں ہے۔ 

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مٹی کی جنس سے تیمم کرنا ضروری ہے اور اس پر غبار ہونا ضروری نہیں جیسا کہ احناف کا مذہب ہے کیونکہ عام طور پر دیوار پر غبار نہیں ہوتا۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ دیوار کے مالک کی اجازت کے بغیر آپ نے کیسے تیمم کرلیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ دیوار مباح تھی یا کسی ایسے شخص کی دیوار تھی جس کو آپ جانتے تھے اور آپ کو علم تھا کہ آپ کے تصرف سے اس کو اعتراض نہیں ہوگا ‘ اس حدیث میں نوافل کے لیے تیمم کرنے پر بھی دلیل ہے ‘ پیشاب کرتے وقت جس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس کافورا جواب نہیں دیا ‘ اس میں یہ دلیل ہے کہ قضاء حاجت کے وقت سلام کرنا مکروہ ہے اور اگر کوئی سلام کرے تو اس حالت میں اس کا جواب دینا بھی مکروہ ہے اسی طرح اس حالت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذکر کرنا بھی مکروہ ہے۔ اسی طرح جماع کی حالت میں بھی ذکر کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس حال میں مطلقا کلام کرنا مکروہ تنزیہی ہے لیکن ضرورت کے مواقع مستثنی ہیں ‘ مثلا کسی نابینا کو کو یں کی طرف بڑھتا ہوا دیکھے تو بتادے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 43

کتابت حدیث کی اجازت خود حضور نے دی

کتابت حدیث کی اجازت خود حضور نے دی

تدوین حدیث کو کتابت حدیث کی صورت ہی میں تسلیم کرنے والے اس بات پر بھی مصر ہیں کہ دوسری اور تیسری صدی میں حدیث کی جمع وتدوین کا اہتمام ہوا، اس سے پہلے محض زبانی حافظوں پر تکیہ تھا ،اس مفروضہ کی حقیقت کیا ہے بعض کی طرف اشارہ کیا جاچکا ہے ،مزید تفصیل ملاحظہ فرمائیں ۔ جب اسلام لوگوں کے قلوب واذہان میں راسخ ہوگیا اور قرآن مجید کا کافی حصہ نازل ہوچکا اور اس چیز کا اب خطرہ ہی جاتا رہا کہ قرآن وحدیث میں کسی طرح کا اختلاط روبعمل آئے گا تو کتابت حدیث کی اجازت خود حضور نے عطافرمائی ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :۔

مامن اصحاب النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احداکثر حدیثا عنی الاماکان من عبداللہ عمرو ،فانہ کان یکتب ولااکتب ۔(السنۃ قبل التدوین، ۳۰۴)

صحابہ کرام میں سے کسی کے پاس مجھ سے زیادہ احادیث پاک کا ذخیرہ نہیں سوائے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ، کیونکہ وہ لکھا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ۔

روی عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان رجلا من الانصار کان یشہد حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فلایحفظہ فیسأل اباہریرۃ فیحدثہ ،ثم شکا قلۃ حفظہ الی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فقال لہ النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : استعن علی حفظک بیمینک۔(السنۃ قبل التدوین، ۳۰۴)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ انصار میں سے ایک شخص حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوتا لیکن احادیث کو یاد نہ رکھ پاتا ،پھرابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کرتا تو وہ اسے احادیث سناتے ،ایک دن اپنے حافظ کی کمی کی شکایت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کی توآپ نے اس سے فرمایا : اپنے حافظے کی مدد اپنے دائیں ہاتھ سے کیا کرو ۔ یعنی حفظ کے ساتھ ساتھ احادیث کو لکھ لیا کرو ۔

روی عن رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہ قال: قلنا : یارسول اللہ ! انا نسمع منک اشیاء افنکتبھا ؟قال : اکتبوا ولا حرج ۔(المعجم الکبیر للطبرانی، ۴/۳۲۹)

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم ، ہم آپ سے کچھ چیزیں سنتے ہیں کیا ہم انہیں لکھ لیاکریں ،آپ نے فرمایا : لکھ لیا کرو ۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔

روی عن انس بن مالک انہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : قیدوا العلم بالکتاب ۔( المستدرک للحاکم، ۱/۱۰۶)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : علم کو تحریر کے ذریعہ مقید کرلو ۔

ان تمام روایات سے ثابت کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر کتابت حدیث کی اجازت عطا فرمائی ۔لہذ بہت صحابہ کرام اقوال کریمانہ کو ضبط تحریر میں لائے اور حضور کے زمانۂ اقدس اور صحابہ کرام کے عہد زریں میں کثیر تعداد میں صحیفے تیار ہوئے ۔

حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مجلس مبارکہ میں بارہا ایسا ہوتا کہ حضور جو فرماتے صحابہ کرام اس کو لکھتے ۔

دارمی شریف کی روایت ہے :۔

عن ابی قبیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : سمعت عبداللہ قال: بینما نحن حول رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نکتب اذ سئل رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ای المدینتین تفتح اولا قسطنطنیۃ اورومیۃ ؟ فقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لابل مدینۃ ہرقل ۔(السنن للدارمی، ۱/۱۶۲)

حضرت ابو قبیل کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا ، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے لکھ رہے تھے کہ اتنے میں حضور سے پوچھا گیا : یارسول اللہ !دونوں شہروں میں سے پہلے کون فتح ہوگا ،قسطنطنیہ یا رومیہ ؟ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا : نہیں بلکہ ہرقل کا شہر یعنی قسطنطنیہ ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے سال ایک خطبہ دیا جس کا پس منظر یوں ہے :۔ بنوخزاعہ کے کچھ لوگوں نے بنو لیث کے کسی ایک شخص کو قتل کردیا ،حضور کو اس چیز کی اطلاع دی گئی ،آپ نے ایک سواری پر تشریف فرماہوکر خطبہ شروع فرمایا ،اس مبارک بیان میں مکہ معظمہ کی حرمت اور لوگوں کو قتل وغارت گری سے بچانے کیلئے سخت ہدایات تھیں ،اس خطبہ کی عظمت کے پیش نظر یمنی صحابی حضرت ابوشاہ نے لکھنے کی خواہش ظاہر کی تو حضور نے یہ پورا خطبہ لکھوایاتھا ۔(الجامع للبخاری، کتاب العلم،)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب یمن کے گورنر مقرر کئے گئے اور آپ یمن جانے لگے تو حضور نے ان کو ضروری چیزیں لکھواکر مرحمت فرمائیں ،ساتھ ہی اشباہ ونظائر پر قیاس اور استنباط مسائل کی تعلیم سے بھی نوازا۔آپ نے وہاں جاکر جب ماحول کا جائزہ لیا تو بہت سی باتیں الجھن کا باعث تھیں ، لہذا آپ نے ان تمام چیزوں کے متعلق بارگاہ رسالت سے ہدایات طلب کیں جس کے جواب میں حضور نے ان کو ایک تحریر روانہ فرمائی۔( السنن للدار قطنی،)

اسی طرح وائل بن حجر مشہور صحابی جو حضر موت کے شہزادے تھے جب مشرف باسلام ہوئے اور اپنے وطن واپس جانے لگے توحضور سے نماز ،روزہ ،سود اور شراب وغیرہ کے اسلامی احکام لکھوانے کی خواہش ظاہر کی جو آپ کو لکھ کر عنایت کئے گئے ۔

حضرت عمروبن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوجب یمن کا حاکم بناکربھیجا گیا تھا تو انہیں بھی فرائض ،صدقات اوردیتوں کے احکام تحریری شکل میں ہی دیئے گئے تھے ۔(کنز العمال للمتقی، ۳/۱۶۶)

آپ کو زکوۃ کے احکام نہایت تفصیل سے بعد میں ارسال کئے گئے تھے جو آپ کے خاندان کے پاس ایک عرصہ تک محفوظ رہے اور حضرت عمربن عبدالعزیز کے زمانۂ خلافت میں ان کے خاندان میں برآمد ہوئے جس کی تفصیل سنن ابودائود میں موجود ہے۔( السنن لابی داؤد۔)

علامہ سید محمود احمد صاحب رضوی لکھتے ہیں :۔

سنن ابو دائود میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں وہ تمام حدیثیں جن کا تعلق مسائل زکوۃ سے تھا یکجا قلم بند کروادیں جس کا نام ’’کتاب الصدقہ ‘‘تھا مگر اسکو عمال وحکام کے پاس روانہ کرنے سے قبل ہی آپ کا وصال ہوگیا تو خلفائے راشدین میں سے سید نا صدیق اکبر وفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اپنے زمانے میں اسے نافذ کیا ،اس کے مطابق زکوۃ کے وصول وتحصیل کا ہمیشہ انتظام رکھا ۔

امام بخاری نے اسی’’ کتاب الصدقہ ‘‘کا مضمون نقل کیا ہے جسے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحرین کا حاکم بناکر بھجتے وقت انکے حوالے کیا تھا ، اس میں اونٹوں ،بکریوں ،چاندی اورسونے کی زکوۃ کے نصاب کابیان ہے ۔

’’کتاب الصدقہ ‘‘جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ابو بکر بن حزم کو لکھوائی تھی وہ دوسرے امراء کو بھی بھجی گئی ۔

محصلین زکوۃ کے پاس کتاب الصدقہ کے علاوہ اور بھی تحریریں تھیں ۔

ضحاک بن سفیان صحابی کے پاس حضور کی تحریر کرائی ہوئی ایک ہدایت تھی جس میں شوہر کی دیت کا حکم تھا ۔ حرم مدینہ طیبہ کے سلسلہ میں ایک تحریر حضرت رافع بن خدیج کے پاس تھی نیز حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مجموعہ تیار کیا تھا جو ان کے صاحبزادے کے پاس رہا ۔

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہرقل کو جو خط لکھا تھا اس کا ذکر کتب صحاح میں ملتا ہے ،اب اس خط کی فوٹوبھی شائع بھی ہوچکی ہے ،صحاح کے بیان اور فوٹو کی تحریر میں ذرہ برابر فرق نہیں (فیوض الباری شرح بخاری، ۱/۲۳)

اسکے علاوہ سلاطین کو دعوت اسلام ،صلح نامے ، معاہدے ، اور امان نامے وغیرہ سیکڑوں چیزیں تھیں جو آپ کے زمانہ اقدس میں تحریری شکل میں موجود تھیں ۔

وَاِنۡ اَرَدتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـــًٔا‌ ؕ اَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا- سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 20

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ اَرَدتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـــًٔا‌ ؕ اَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا

ترجمہ:

اور اگر تم ایک بیوی کے بدلہ دوسری بیوی لانا چاہو اور ان میں سے ایک کو تم ڈھیروں مال دے چکے ہو ‘ تو اس مال میں سے کچھ بھی واپس نہ لو، کیا تم اس مال کو بہتان باندھ کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرکے واپس لو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم ایک بیوی کے بدلہ دوسری بیوی لانا چاہو ‘ اور ان میں سے ایک کو تم ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس مال میں سے تم کچھ بھی واپس نہ لو۔ کیا تم مال کو بہتان باندھ کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرکے واپس لو گے ؟۔ (النساء : ٢٠ )

زیادہ سے زیادہ مہر رکھنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اگر تم کو کوئی عورت ناپسند ہو اور اس کے علاوہ دوسری عورت پسند ہو اور تم یہ ارادہ کرو کہ تم اپنی عورت کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرلو تو تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ مطلقہ عورت کو جو مہر دیا تھا اس کو واپس لے لو ‘ خواہ وہ ڈھیروں مال کیوں نہ ہو ‘ کیا تم اس عورت پر کوئی تہمت یا بہتان باندھ کر اس مال کو واپس لو گے ؟ اور تمہارے لئے اس عورت سے مال لینا کس طرح جائز ہوگا حالانکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ عمل ازدواج کرکے جسمانی قرب حاصل کرچکے ہو ‘ اور تم اس عورت سے مہر پر عقد نکاح کرچکے ہو جس پر مسلمان گواہ ہوچکے ہیں اور اللہ بھی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (الوسیط ج ١ ص ٢٨۔ ٢٧ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت کا زیادہ سے زیادہ مہر رکھنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

قنطار کا معنی : 

اس آیت میں عورت کو دی ہوئی رقم کے لئے قنطار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کی مقدار میں حسب ذیل آثار ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا قنطار بارہ ہزار ہیں ‘ ابو نضرہ العبدی نے کہا بیل کی کھال میں جتنا سونا بھرا جاسکے ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد بارہ ہزار ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد ستر ہزار دینار ہیں ‘ حضرت معاذ (رض) نے کہا اس مراد بارہ سو اوقیہ ہیں (ایک اوقیہ ‘ چالیس درہم کے برابر ہے) مجاہد سے ایک اور روایت ہے کہ اس سے مراد ستر ہزار مثقال ہیں۔ (سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٣٤٧٠۔ ٣٤٦٤‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت) 

تاہم اس آیت میں قنطار سے مراد ڈھیروں روپیہ ہے امام ابو جعفر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے کہا اس سے مراد مال کثیر ہے (جامع البیان : ج ٤ ص ٢١٤) اسی طرح علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی لکھا ہے اس سے مراد مال کثیر ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٢٤٣) 

حضرت عمر کا زیادہ مہر رکھنے سے منع فرمانا :

امام سعید بن منصور متوفی ٢٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ انہوں نے اللہ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا سنو ! عورتوں کے مہر بہت زیادہ نہ رکھا کرو۔ اگر مجھے کسی کے متعلق معلوم ہوا کہ کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باندھے ہوئے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے تو میں آپ کے مقرر کردہ مہر سے زائد رقم کو بیت المال میں داخل کر دوں گا۔ اس وقت قریش کی ایک عورت نے کہا اے امیر المومنین آیا اللہ کی کتاب پر عمل کرنا زیادہ حقدار ہے یا آپ کے حکم پر عمل کرنا ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا بلکہ اللہ کی کتاب پر عمل کرنا ‘ اس عورت نے کہا آپ نے ابھی عورتوں کا زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا ہے حالانکہ اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے : اگر تم نے کسی عورت کو قنطار (ڈھیروں مال) بھی دیا ہو تو اس سے واپس نہ لو ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہر شخص عمر سے زیادہ فقیہہ ہے آپ دو یا تین بار یہ فرما کر منبر سے نیچے اتر آئے اور فرمایا میں نے تم کو زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا تھا سنو اب جو شخص جتنا چاہے مہر رکھ سکتا ہے۔ (سنن سعید بن منصور ‘ رقم الحدیث : ٥٩٨‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٠٤٢٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٣٣‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٨٤) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

کہ امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص چار سو درہم سے زیادہ مہر نہ رکھے اور جب اس عورت نے قرآن مجید کی یہ آیت پیش کی تو آپ نے فرمایا اے اللہ مجھے معاف فرما ہر شخص کو عمر سے زیادہ قرآن کی سمجھ ہے ‘ اور زبیر بن بکار نے عبداللہ بن مصعب سے روایت کیا ہے کہ اس عورت کے اعتراض کے بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا مرد نے خطا کی اور عورت نے درست کیا۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٣٣) 

دوسری روایت کو حافظ ابن عبدالبرمتوفی ٤٦٣ ھ نے بھی عبداللہ بن مصعب سے روایت کیا ہے (جامع بیان العلم ج ١ ص ١٣١) 

حضرت عمر (رض) کے علم پر شیعہ کا اعتراض اور اس کا جواب : 

علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے اس حدیث کو امام ابویعلی کے حوالہ سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ شیعہ اس حدیث پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عمر کو اس مسئلہ کا بھی علم نہیں تھا تو وہ خلافت کے اہل کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ پھر انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس آیت میں یہ تصریح نہیں ہے کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے مثلا کوئی کہے کہ اگر فلاں شخص تمہارے بیٹے کو قتل کردے پھر بھی تم اس کو معاف کردینا اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ اس کو قتل کرنا جائز ہے اسی طرح یہاں فرمایا کہ اگر تم عورت کو قنطار دو پھر بھی اس سے واپس نہ لینا۔ اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ قنطار مہرباندھنا جائز ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں قنطار دینے کا ذکر ہے نہ یہ کہ قنطار بہ طور مہر دیا جائے اس لئے اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے اور خاوند کا عورت کو ہبہ کرکے واپس لینا صحیح نہیں ہے ‘ امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے بہتر عورت وہ ہے جس کا سب سے آسان مہر ہو ‘ حضرت عائشہ (رض) نے روایت کیا ہے کہ عورت کی سعادت یہ ہے کہ اس کا مہر سہل ہو۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٢٤٥) 

ہمارے نزدیک علامہ آلوسی کے یہ دونوں جواب صحیح نہیں ہیں کیونکہ اس حدیث کے مطابق حضرت عمر (رض) نے یہ تسلیم کرلیا تھا کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے اور اس عورت کی رائے کو صحیح اور اپنی رائے کو خطا قرار دے کر اس سے رجوع فرمالیا تھا اور یہ حضرت عمر (رض) کی للہیت اور بلند ہمتی کی دلیل ہے کہ بھرئے مجمع میں انہوں نے اپنی رائے سے رجوع فرما لیا۔ رہا شیعہ کا اعتراض تو اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کے لئے عالم کل ہونا لازم نہیں ہے ‘ امام بخاری نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی (رض) نے زندیقوں کو جلا دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو ان کو نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو اور میں ان زندیقوں کو قتل کردیتا ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کردو (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٩٢٢) 

امام حسین بن محمد بغوی متوفی ٥١٦ ھ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب حضرت علی (رض) کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا : ابن عباس (رض) نے سچ کہا۔ اور تمام اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا۔ (شرح السنۃ ج ٥ ص ٤٣١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے کوئی مسئلہ دریافت کیا آپ نے اس کا جواب دیا اس شخص نے کہا یہ مسئلہ اس طرح نہیں اس طرح ہے ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا تم نے درست کہا اور میں نے خطا کی ” وفوق کل ذی علم علیم “ اور ہر علم والے سے زیادہ علم والا ہے۔ (جامع البیان ج ١٣ ص ١٩‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

حافظ ابن عبد البر نے بھی اس اثر کو محمد بن کعب القرظی سے روایت کیا ہے (جامع العلم ج ١ ص ١٣١) 

ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ کسی ایک مسئلہ کا علم نہ ہونا خلافت کے منافی نہیں اور یہ حضرت علی (رض) کی عظمت ہے کہ انہوں نے حدیث کے سامنے ہونے کے بعد اپنے موقف سے رجوع فرما لیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 20