وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ ۚ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 83

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ ۚ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو یہ اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس خبر کو رسول یا اپنے صاحبان علم کی طرف پہنچا دیتے تو انمیں سے خبر کا تجزیہ کرنے والے ضرور اس کے (صحیح) نتیجہ تک پہنچ جاتے ‘ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو چند لوگوں کے سوا تم شیطان کی پیروی کرلیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو یہ اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس خبر کو رسول یا اپنے صاحبان علم کی طرف پہنچا دیتے تو ان میں سے خبر کا تجزیہ کرنے والے ضرور اس کے (صحیح) نتیجہ تک پہنچ جاتے ‘ الخ۔ (النساء : ٨٣) 

اس آیت میں استنباط کا معنی ہے کسی چیز کو نکالنا ‘ اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ عالم اپنی عقل اور علم سے کسی خبر میں غور وفکر کرکے اس سے صحیح نتیجہ نکالے ‘ قرآن اور حدیث میں غور وفکر کرکے ان سے احکام شرعیہ اخذ کرنے کو بھی استنباط کہتے ہیں۔ 

شان نزول :

یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہوتے اور لشکر کو شکست ہوتی یا اس کو مال غنیمت حاصل ہوتا ‘ تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خبر دینے سے پہلے اس خبر کو اڑا دیتے تھے تاکہ مسلمانوں کے دل کمزور ہوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت پہنچے ‘ اگر وہ یہ خبر نہ پھیلاتے حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا آپ کے معظم اصحاب میں سے مثلا حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) وغیرہ اس خبر کی خود تحقیق کرتے تو وہ اس خبر سے صحیح نتیجہ نکال لیتے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٨٧) 

امام ابن جریر نے لکھا ہے ان لوگوں سے مراد منافق ہیں یا ضعفاء مسلمین (جامع البیان ج ٥ ص ١١٤) 

اس آیت میں اولی الامر سے مراد یا تو ان لشکروں کے امیر ہیں یا اصحاب علم وفضل ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٧٢) 

قیاس اور تقلید کے حجت ہونے کا بیان :

اس آیت سے معلوم ہوا کہ شریعت میں قیاس بھی حجت اور دلیل ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ واجب کیا ہے کہ خبر کے ظاہر پر عمل نہ کیا جائے بلکہ غور و فکر کرکے اس خبر سے صحیح نتیجہ اخذ کیا جائے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ بعض احکام ظاہر نص سے معلوم نہیں ہوتے بلکہ ظاہر نص سے جو حکم مستنبط کیا جائے اس پر عمل کرنا واجب ہے ‘ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو نئے نئے مسائل پیش آتے ہیں ان میں عوام پر واجب ہے کہ وہ علماء کی تقلید کریں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی مسائل شرعیہ میں استنباط کرتے تھے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد پیش آمدہ واقعات اور مسائل حاضرہ میں اصحاب علم کو قرآن اور احادیث سے استنباط اور اجتہاد کرنا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 83

وَلَوۡ اَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِيَارِكُمۡ مَّا فَعَلُوۡهُ اِلَّا قَلِيۡلٌ مِّنۡهُمۡ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَشَدَّ تَثۡبِيۡتًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 66

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ اَنِ اقۡتُلُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ اَوِ اخۡرُجُوۡا مِنۡ دِيَارِكُمۡ مَّا فَعَلُوۡهُ اِلَّا قَلِيۡلٌ مِّنۡهُمۡ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَشَدَّ تَثۡبِيۡتًا ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم ان پر یہ فرض کردیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو اس پر ان میں سے صرف کم لوگ عمل کرتے اور جو ان کو نصیحت کی گئی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو ان کے لیے بہت بہتر ہوتا اور ثابت قدمی کے لیے بہت مضبوط ہوتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور اگر ہم ان پر یہ فرض کردیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو اس پر ان میں سے صرف کم لوگ عمل کرتے اور جو ان کو نصیحت کی گئی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو ان کے لیے بہت بہتر ہوتا۔ (النساء : ٦٦) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم ان منافقین پر یہ فرض کردیتے کہ اپنے آپ کو قتل کرو یا اپنے وطن سے نکل جاؤ تو ان منافقوں میں سے بہت کم لوگ اس پر عمل کرتے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے کرم فرمایا اور اپنی رحمت سے ہم پر آسان اور سہل احکام فرض کیے تو ان منافقوں کو چاہیے تھا کہ یہ نفاق کو ترک کردیتے ‘ دکھاوے اور سنانے کو چھوڑ کر اخلاص کے ساتھ اسلام کے احکام پر عمل پیرا ہوتے اور اگر یہ ایسا کرتے تو ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 66

درس 030: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 030: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَالْمُعْتَبَرُ فِي إقَامَةِ هَذِهِ السُّنَّةِ عِنْدَنَا هُوَ الْإِنْقَاءُ دُونَ الْعَدَدِ، فَإِنْ حَصَلَ بِحَجَرٍ وَاحِدٍ كَفَاهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْصُلْ بِالثَّلَاثِ زَادَ عَلَيْهِ

اور ہم احناف کے نزدیک اس سنت پر عمل کرنے کے لئے صفائی کا اعتبار کیا جائے گا نہ کہ ڈھیلوں کی تعداد کا۔۔ تو اگر ایک ہی ڈھیلے سے صفائی ہوگئی تو کافی ہے اور اگر تین ڈھیلوں سے بھی صفائی نہ ہوسکے تو زیادہ ڈھیلے لینا ہوں گے۔

وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ الْعَدَدُ مَعَ الْإِنْقَاءِ شَرْطٌ، حَتَّى لَوْ حَصَلَ الْإِنْقَاءُ بِمَا دُونِ الثَّلَاثِ كَمَّلَ الثَّلَاثَ، وَلَوْ تَرَكَ لَمْ يُجْزِهِ.

اور امام شافعی کے نزدیک صفائی تو شرط ہے مگر اس کے ساتھ ڈھیلوں کی تعداد بھی شرط ہے، لہذا اگر تین سے کم ڈھیلوں میں صفائی ہوگئی پھر بھی تین کا عدد پورا کرنا ضروری ہوگا، اگر عدد پورا نہ کیا تو استنجاء کی سنت پوری نہیں ہوگی۔

وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ بِمَا رَوَيْنَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ» أَمْرٌ بِالْإِيتَارِ، وَمُطْلَقُ الْأَمْرِ لِلْوُجُوبِ.

امام شافعی کی دلیل وہ روایت ہے جو ہم (درس نمبر 26 میں) بیان کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: جو ڈھیلے سے استنجاء کرے اسے چاہئے کہ وہ طاق عدد (Odd Number) میں استعمال کرے۔ اس حدیث میں طاق عدد استعمال کرنے کا حکم ہے، اور مطلق (یعنی بغیر کسی کنڈیشن کے) حکم واجب کو ثابت کرتا ہے۔

(وَلَنَا) مَا رَوَيْنَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَحْجَارَ الِاسْتِنْجَاءِ فَأَتَاهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَرَمَى الرَّوْثَةَ، وَلَمْ يَسْأَلْهُ حَجَرًا ثَالِثًا،وَلَوْ كَانَ الْعَدَدُ فِيهِ شَرْطًا لَسَأَلَهُ إذْ لَا يُظَنُّ بِهِ تَرْكُ الْوَاجِبِ

اور ہماری دلیل عبد اللہ بن مسعود کی وہ حدیث ہے جسے ہم (درس نمبر 28 میں) بیان کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے عبد اللہ بن مسعود سے استنجاء کے ڈھیلے طلب فرمائے تو آپ دو ڈھیلے اور ایک لید کا ٹکڑا لے آئے، تو حضور ﷺ نے لید کا ٹکڑا پھینک دیا اور تیسرا پتھر طلب نہیں فرمایا۔

اگر استنجاء میں تعداد کا لحاظ رکھنا شرط ہوتا تو حضور ﷺ ان سے تیسرا ڈھیلا ضرور طلب فرماتے، اور حضور ﷺ سے یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آپ واجب کو ترک کریں۔

وَلِأَنَّ الْغَرَضَ مِنْهُ هُوَ التَّطْهِيرُ وَقَدْ حَصَلَ بِالْوَاحِدِ، وَلَا يَجُوزُ تَنْجِيسُ الطَّاهِرِ مِنْ غَيْرِ ضَرُورَةِ.

نیز ڈھیلے کے استعمال کا اصل مقصد طہارت حاصل کرنا ہے اور جب مقصد ایک ہی ڈھیلے سے حاصل ہوجائے تو بلاضرورت پاک شے کو ناپاک کرنا جائز نہیں ہے۔

(وَأَمَّا) الْحَدِيثُ فَحُجَّةٌ عَلَيْهِ

اور امام شافعی کی پیش کردہ حدیث انہیں کے خلاف حجت ہے۔

لِأَنَّ أَقَلَّ الْإِيتَارِ مَرَّةً وَاحِدَةً، عَلَى أَنَّ الْأَمْرَ بِالْإِيتَارِ لَيْسَ لِعَيْنِهِ بَلْ لِحُصُولِ الطَّهَارَةِ فَإِذَا حَصَلَتْ بِمَا دُونَ الثَّلَاثِ فَقَدْ حَصَلَ الْمَقْصُودُ فَيَنْتَهِي حُكْمُ الْأَمْرِوَكَذَا اسْتَنْجَى بِحَجَرٍ وَاحِدٍ لَهُ ثَلَاثَةُ أَحْرُفٍ؛ لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فِي تَحْصِيلِ مَعْنَى الطَّهَارَةِ.

اسلئے کہ طاق عدد کم سے کم ایک ہوتا ہے اور حدیث میں طاق عدد کا حکم طہارت حاصل کرنے کے لئے ہے نہ کہ طاق کی گنتی پوری کرنے کے لئے، لہذا اگر تین سے کم میں بھی طہارت حاصل ہوگئی تو مقصود حاصل ہوگیا اور حضور ﷺ کے حکم کی تعمیل بھی ہوگئی۔

اسی طرح اگرکسی نے ایک ایسے ڈھیلے سے استنجاء کیا جس کے تین کنارے (Three Sides) تھےتو طہارت حاصل ہوجائے گی، اس لئے کہ وہ ایک ڈھیلا تین ڈھیلوں کے برابر شمار ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

استنجاء کے لئے کن چیزوں کا استعمال جائز ہے کن کا استعمال منع ہے، اس پر بحث ہوچکی۔

اب علامہ کاسانی ایک نئی بحث کا آغاز کررہے ہیں اور اسکی وجہ امام شافعی کا اختلاف ہے۔

*استنجاء میں کتنے ڈھیلے استعمال کرنے چاہئے۔۔؟؟*

ہم احناف کے نزدیک ڈھیلوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں ہے، بلکہ جتنے ڈھیلوں سے پاکیزگی حاصل ہوجائے اتنے ڈھیلے استعمال کرنا سنت ہے، ہاں اگر ایک یا دو ڈھیلوں سے پاکیزگی حاصل ہوجائے تو تین کا عدد پورا کرنا مستحب ہے، اسی طرح چار سے حاصل ہوجائے تو پانچ کا عدد پورا کرنا مستحب ہے۔۔ وجہ یہ ہے کہ احادیث میں جہاں طاق عدد کا ذکر آیا ہے وہی تین کا عدد بھی مذکور ہے ۔ لہذا کم از کم تین کا عدد پورا کرنا بہرحال مستحب ہے۔

طہارت کے مسائل میں عدد کے حوالے سے ہم احناف کا موقف یہ ہے *نجاست کو زائل کرنا* ضروری ہے *عدد کا لحاظ* ضروری نہیں ہے، ہاں اگر ایک یا دو بار میں نجاست زائل ہوجائے اور احادیث میں کسی عدد کا ذکر ملتا ہو تو اس عدد کو پورا کرلیناحسبِ دلیل سنت یا مستحب ہوتا ہے۔

علامہ کاسانی نے امام شافعی کی جو دلیل ذکر کی ہے دراصل امام شافعی کا استدلال صرف لفظ *وتر* سے نہیں ہے بلکہ ان کے دلائل میں وہ احادیث بھی شامل ہیں جس میں *ثلاثة احجار* یعنی تین پتھروں کے استعمال کا ذکر ہے۔ ابوداؤد، نسائی اور بیہقی وغیرہم کتبِ حدیث میں وہ روایات موجود ہیں۔

ہوسکتا ہے کسی کے ذہن میں یہ اشکال آئے کہ علامہ کاسانی نے لکھا ہے کہ جب ایک ڈھیلے سے طہارت ہوگئی تو مقصد حاصل ہوگیا۔۔۔ پھر دو ٹھیلے لینا *تنجیس الطاہر* کے اصول کے مخالف ہے یعنی پاک چیز کو ناپاک کرنا ناجائز ہے تو دو ڈھیلے لینا بھی ناجائز ہے۔

علامہ کاسانی نے عبارت میں *بلاضرورت* کی قید لگاکر اس اشکال کو دور کردیا ہے، یعنی ضرورت ہو تو ایک ڈھیلے سے طہارت ہوجانے کے باوجود دو ڈھیلے لینا جائز ہے۔۔۔ اور حدیث کے ظاہر پر عمل کرنا بلاشبہ ضرورت میں شامل ہے، لہذا تین کا عدد پورا کرنا مستحب ہے ناجائز نہیں ہے۔

علامہ کاسانی نے ایک پتھر کو تین طرف سے استعمال کرنے کی جو مثال پیش کی ہے وہ امام شافعی کےموقف کو کمزور ثابت کرنے کی بہت اچھی دلیل ہے، کیونکہ امام شافعی ایک طرف تو تین ڈھیلے استعمال کرنے کو ضروری قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ ایک پتھر کو تین طرف سے استعمال کرلیا جائے تو تین کا عدد پورا ہوجائے گا۔

*ثلاثة أحجار* یعنی تین پتھر کے فرمان پر عمل کرنا ہے تو پتھر کا تعداد میں تین ہونا ضروری ہے، لہذا امام شافعی کا تین اطراف (Sides) کے مسئلہ کو جائز قرار دینا ان کے موقف کو کمزور ثابت کرتا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

صحابہ نے عمل سے کتابت حدیث کا ثبوت دیا

صحابہ نے عمل سے کتابت حدیث کا ثبوت دیا

اولاً بعض صحابہ کرام کو کتابت حدیث میں تامل رہا ،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کتابت کی وجہ سے حفظ وضبط کا وہ اہتمام نہیں رہ سکے گا اور اسکی جانب وہ توجہ باقی نہ رہے گی ، اس طرح سفینوں کا علم سینوں کو خالی کردیگا ،آئندہ صرف تحریریں ہونگی جن پر اعتماد ہوگا اور انکے پیچھے حافظہ کی قوت نہ ہوگی کہ غلطیوں کی تصحیح ہوسکے ،لہذا حذف واضافہ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور تحریف کے دروازے کھل جائیں گے ، منافقین اور یہودونصاری کو روایات میں تغیروتبدل کا موقع مل جائے گا، اس طرح دین کی بنیادوں میں رخنہ اندازی شروع ہوسکتی ہے ،ان وجوہ کی بنا پر کچھ ایام بعض صحابہ کرام کو تذبذب رہا ،لیکن اسلام جب دور دور تک پھیل گیا ، اور خوب قوت حاصل ہوگئی تو مندرجہ بالا خدشات کی جانب سے اطمینان ہوگیا اورقرآن مجید کی طرح رفتہ رفتہ حدیث کی کتابت پر بھی سب متفق ہوگئے ۔ ہاں مگر ان حضرات صحابہ کے درمیان یہ طریقہ بھی رائج تھا کہ کتابیں دیکھ دیکھ کر احادیث بیان نہیں کی جاتی تھیں ، اسی وجہ سے ان تحریری مجموعوں کو کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوسکی پھر کافی تعداد میں صحابہ کرام نے اس فریضہ کو انجام دیا جس کی قدرے تفصیل اس طرح ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو پہلے کتابت حدیث کے سخت مخالف تھے لیکن بعد میں وہ عملی طور پر اس میدان میں اتر آئے اور آخر میں ان کی مجالس کا یہ طریقہ تھا ۔

حضرت سعید بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔

کنت اکتب عند ابن عباس فی صحیفۃ (السنن للدارمی، ۹۶)

میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں اوراق پر احادیث لکھتاتھا۔

حضرت موسی بن عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ۔

وضع عندنا کریب حمل بعیر اوعدل بعیر من کتب ابن عباس ،قال :

فکان علی بن عبداللہ بن عباس اذا اراد الکتاب کتب الیہ ابعث علی بصحیفۃ کذاکذا ،قال : ینسخھا فیبعث الیہ احداہما ( کتاب العلل للترمذی، الطبقات الکبری لا بن سعد، ۵/۲۱۶)

حضرت کریب نے ہمارے پاس ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی کتابیں رکھیں ۔حضرت علی بن عبداللہ بن عباس جب کوئی کتاب چاہتے تو انہیں لکھدیتے کہ مجھے فلا ں صحیفہ بھیجدو ،وہ اسے نقل کرتے اور ان میں سے ایک بھیج دیتے۔

انکی یہ تصانیف انکی زندگی ہی میں دوردور تک پھیل گئی تھیں ،اس سلسلہ میں امام طحاوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ان کا بیان نقل کیا ہے ۔

عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان ناسا من اہل الطائف اتوہ بصحیفۃ من صحفہ لیقرء ھا علیہم ،فلما اخذہالم ینطلق فقال : انی لما ذھب بصری بلھت فاقرأوھاعلی ،ولایکن فی انفسکم من ذلک حرج ،فان قرأ تکم علی کقرأنی علیکم۔ (شرح معانی الآثار، للطحاوی، ۲/۳۸۴)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ طائف کے کچھ لوگ انکے پاس انکی کتابوں سے ایک کتاب لیکر آئے تاکہ وہ انہیں پڑھکر سنائیں ،حضرت ابن عباس نے جب وہ کتابیں لیں تو پڑھ نہ سکے ،فرمایا: جب سے میری نگاہ جاتی رہی میں بیکار ہوگیا ہوں ،تم لوگ خود میرے سامنے پڑھو اوراس میں کچھ حرج نہ سمجھو ،میرے سامنے تمہارا پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے کہ میں تمہارے سامنے پڑھوں ۔

تصانیف کی اس کثرت سے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیئے ،کیونکہ آپ نے علم حدیث کی تحصیل میں غیر معمولی کوشش اور محنت سے کام لیاتھا ۔اسکی تفصیل آپ گذشتہ پیغامات میں پڑھ چکے ہیں ۔

يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَـكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 26

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُرِيۡدُ اللّٰهُ لِيُبَيِّنَ لَـكُمۡ وَيَهۡدِيَكُمۡ سُنَنَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَيَتُوۡبَ عَلَيۡكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ‏

ترجمہ:

اللہ تمہارے لیے وضاحت سے احکام بیان کرنا چاہتا ہے ‘ اور تمہیں ان (نیک) لوگوں کے راستوں پر چلانا چاہتا ہے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور تمہاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بہت حکمت والا ہے A

تفسیر:

احکام شرعیہ پر عمل کرنے کی ترغیب : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تمہارے لئے وضاحت سے احکام بیان کرنا چاہتا ہے۔ (النساء : ٢٦ )

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام احکام شرعیہ بیان کردیئے اور حلال کر حرام سے متمیز کردیا اور اچھے اور نیک کام کو برے اور قبیح کام سے ممتاز کردیا۔ پھر فرمایا : اور تمہیں ان نیک لوگوں کے راستہ پر چلانا چاہتا ہے جو گزر چکے ہیں۔ ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ تم سے پہلے جو نیک ‘ صالحین اور حق پرست لوگ گزرے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے انکی سیرتیں بیان کردی ہیں تاکہ تم حق کی اتباع کرو اور باطل سے اجتناب کرو ‘ پھر فرمایا اللہ تمہاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے بیان کئے ہوئے احکام شرعیہ پر عمل کرنے میں اور اہل حق کی اتباع کرنے میں اگر تم سے کوئی تقصیر یا کوئی زیادتی یا کمی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 26