بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی

تواضع و تکبر کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں

تواضع و تکبر کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں

مجیب الرحمان علیمی

تکبر اور عُجب ا گرچہ یہ دونوں معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں لیکن ایک باریک فرق ان کے درمیان موجود ہے اور وہ یہ کہ :عُجب : خود پسندی ہے اور تکبر : خودپسندی کے علاوہ دوسروں پرتعلّی اور اپنی بڑائی جتانا ہے ۔ یعنی جب انسان اپنے آپ میں کوئی کمال اور اچھائی دیکھتا ہے تو اس پر خوش اور مغرور ہوتا ہے ، اس حالت کو عُجب کہتے ہیں بہ الفاظ دیگر عُجب میں انسان ، صرف اپنی ذات کو دیکھتا اور اپنی کسی اچھائی پر مغرور ہوتا ہے جبکہ تکبر میں غرور اور فخر کا دائرہ اپنی ذات سے بھی وسیع تر ہوکر دوسروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہےاور اپنی ذات کے علاوہ دوسروں کو بھی دیکھتا ہے اور ان پر اپنی فضیلت اور بڑائی ثابت کرنے کی کو شش کرتا ہے ۔

تکبر کرنے کی بہت سی وجوہات ہیں مگر سب کا سرچشمہ خودخواہی ، انانیت اور پروردگار عالم کی عظمت اور کبریائی سے ٹکر لینا ہے ؛ حالانکہ بڑائی اور کبریائی صرف اور صرف اللہ کو ہی زیبا ہے ۔صوفیہ نے تکبر کی بہت ساری وجوہات بیان کی ہے مثلا:

علم: ہر چیز کی کوئی نہ کوئی آفت اور بیماری ہوتی ہے علم کے لیے بہت سی آفات اور بیماریاں ہیں اور بدترین آفت تکبر ہے ۔جبکہ تکبر کرنے والا حقیقت میں علم حقیقی کا طالب ہی نہیں۔

عمل:تکبر کی ایک وجہ نیک اعمال اور عبادات ہیں ۔ بعض لوگ اپنے نیک اعمال اور عبادات کی وجہ سے تکبر جیسی پستی میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور اپنے احترام کو دوسروں پر واجب سمجھتے ہیں اور بجز اپنے جیسے افراد کے ، سب کوفاسق و فاجر تصور کرتے ہیں اور لوگوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اللہ کے بڑے نیک اور محبوب بندے ہیں ، باقی تمام لوگ اللہ کے ناپسندیدہ بندے ہیں ۔

حسب و نسب:بعض لوگ اپنے حسب و نسب کی وجہ سے تکبرو تفاخر میں مبتلا ہوجاتے ہیں مثلا اپنے رشتہ داروں کے عالم ، دولت مند ، سیاست دان ، طاقتور ، وغیرہ کی وجہ سے دوسروں پر اپنی برتری جتاتے ہیں ۔

حسن و جمال: حسن و جمال اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے ۔بعض صاحبان حسن و جمال ، خدا کی اس نعمت پر شاکر ہونے کے بجائے ، تکبر جیسی آفت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

دولت: دولت تکبر اور فخر ہر زمانے میں بہت عام وجہ رہی ہے ۔اس زمانے میں تو دولت بڑائی اور فضیلت کا ایک معیار بن چکی ہے ۔جب کہ صاحب دولت کو معلوم ہے کہ قارون اسی سبب سے ذلیل و خار ہوا۔

 طاقت: طاقت ، چاہے کسی بھی صورت میں ہو ، جسمانی ہو یا روحانی ، فردی ہو یا اجتماعی ، سیاسی ہو یا غیر سیاسی، اللہ کی دی ہوئی ایک بڑی نعمت ہے ۔ اسے اللہ کی رضا اور اس کی اطاعت میں استعمال کرنا چاہئے اور اس کے قرب کا ذریعہ بنانا چاہئے لیکن اگر یہی نعمت تکبر اور غرور کا باعث بنے تو اس کا حامل انسان اللہ کی بارگاہ سے دور ہوجاتا ہے اور اس کے عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے۔

اولاد اور قوم و خاندان: بعض لوگ اپنی اولاد کی کثرت یا بیٹوں کے باپ ہونے پر دوسروں کی نسبت برتری کا اظہار کرتے ہیں اور بعض لوگ خاندان پرتکبرکرتے ہیں۔

تکبر کے درجات

تکبر کے کئی درجات ہیں (۱) خدا کے سامنے تکبر۔(۲) انبیاء کے سامنے تکبر۔ (۳)مخلوق کے سامنے تکبر ۔اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جناب میں تکبر کرنا کفر ہے جبکہ عام بندوں پر تکبر کرنا کفر نہیں لیکن اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔

اول: خدا کے سامنے تکبر دائمی ہلاکت کا سبب ہے ۔ تکبر کی یہ قسم ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جو الوہیت اور خدائی کا دعوی کرتے ہیں جیسے فرعون نے کہا:أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ۔(النازعات:۲۴) یا ایسے لوگوں میں پائی جاتی ہے جو بالکل خدا کے وجود کے منکر ہیں اور کافر معاند کہلاتے ہیں یا ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جو بظاہر مسلمان ہیں مگر اللہ اور اس کے احکام کے سامنے سر جھکانے اور اس کی اطاعت کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔

دوم: انبیاکے سامنے تکبر ،جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقابلے میں ہو ، جس طرح فرعون کے طرفداروں نے حضرت موسی اور حضرت ہارون پر ایمان لانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا : أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا (المومنون:۴۷)کیا ہم اپنے جیسے دو انسانوں پر ایمان لائیں !؟  اورجس طرح کفارِ مکہ نے کیا اور کہا کہ ہم آپ جیسے بشر کی اطاعت نہیں کریں گے ،ہماری ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ یا سردار کیوں نہیں بھیجا، آپ تو ایک یتیم شخص ہیں۔

سوم: مخلوق سے تکبر عام بات ہوگئی ہے ۔ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ متکبرانہ انداز میں پیش آتے ہیں اور اپنی چیزوں کو فضیلت اور برتری کا معیار سمجھتے ہیں ۔ انا خیر منہ کے جذبے کے ساتھ زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں ۔ میں اس سے بہتر ہوں ۔ میرا علم اس سے زیادہ ہے ۔ میری دولت ، حسن ، طاقت وغیرہ فلاں کی نسبت زیادہ ہے ، پس میں اس سے بہتر ہوں ۔ میں اسے کیوں سلام کروں ، کیوں اس سے میل جول رکھوں وغیرہ ۔

انسان ہر روز خدا کے بجائے شیطان کی پیروی کرتے ہوئے اس کو ملعون کرنے والے جملے کو کسی نہ کسی شکل میں دہراتا ہے وہ یہ کہ میں تو اس سے بہتر ہوں۔ گھر ، محلہ ، ملک اور دنیا میں بہت سے لڑائی جھگڑے اسی تکبر اور بڑائی دکھانے کا نتیجہ ہیں ۔

 کبر کی قسمیں

( ۱) ظاہری( ۲) باطنی ۔ باطنی کبر ایک نفسانی کیفیت ہے۔اور ظاہری کبر ایسے اعمال کا نام ہے جو اعضاء و جوارح سے سرزد ہوتے ہیں۔ لہٰذا باطنی اور نفسانی کیفیت پر کبر کا اطلاق زیادہ مناسب ہے جبکہ سرزد ہونے والے اعمال اسی کیفیت کا نتیجہ ہوتے ہیں، اور کبر کی نفسانی کیفیت انہی اعمال کے انجام پانے کا موجب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نفسانی کیفیت اعمال کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے تو اسے تکبر کہا جاتا ہے اور اگر باطن میں رہتی ہے تو اسےکبرکہتے ہیں۔

اسی بنا پر اس کی اصل وہی کیفیت ہوتی ہے جو نفس انسانی کے اندر پائی جاتی ہے کہ انسان ان لوگوں کو دیکھتا ہے جن پر تکبر کر رہا ہوتا ہے تو اس طرح اس کے نفس کو ایک قسم کی تسکین ہوتی ہے اسے ان لوگوں پر فوقیت حاصل ہے۔

کبر کے لیے دو فریقوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایک وہ جو تکبر کر رہا ہے اور دوسرا وہ جس پر تکبر کیا جا رہا ہے۔ یہیں سے کبر اورعجب ،خودپسندی کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خود پسندی کا تعلق صرف ایک فریق سے یعنی خود انسان کی اپنی ذات سے ہوتا ہے جس کا وہ شکار ہوتاہے اگر (بالفرض) دنیا میں صرف ایک ہی انسان پیدا ہوتا اور وہ صرف اپنی ہی ذات کو پسند کرتا تو اسے خودپسند تو کہاجاتا لیکن متکبرنہیں ،اگر اس کے ساتھ کوئی دوسرا انسان بھی ہوتا اور اس میں یہی نفسانی کیفیت پیدا ہوتی کہ وہ خود کو کمال کی صفات کا حامل اوردوسرے سے برتر سمجھتا تو متکبر کہلاتا،البتہ کسی کے متکبر کہلانے کے لیے صرف یہی کافی نہیں ،کیونکہ اگروہ اپنے آپ کو بڑا اور برتر سمجھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کسی دوسرے شخص کو بھی اپنے سے بالاتر جانتا ہے یا کم از کم اپنے برابر سمجھتا ہے ایسا شخص متکبر نہیں کہلائے گا۔ اسی طرح صرف کسی کو حقیر سمجھ لینے سے متکبر نہیں کہلائے گا جبکہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو بھی احقر تر جانتا ہے یا اپنے آپ کو اس کے برابر سمجھتا ہے، پھر بھی ایسا شخص متکبر نہیں ہو گا۔

 تکبر محمود

گرچہ تکبر اپنی تمام تر اقسام کے ساتھ ایک ناپسندیدہ اور مذموم صفت ہے اور انسان کو اس صفت سے دور رہنا چاہیےلیکن تکبر بالحق  ایک ایسی پسندیدہ صفت ہے جسے انسان کو اپنانا چاہیے۔ یہ لغوی طور پر تکبر کے ذیل میں آتا ہے، عرفی اور حقیقی تکبر سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ تکبر بالحق  کا مطلب یہ ہے کہ انسان ، اپنے اندر یہ صفت پیدا کرے کہ اللہ کی ذات کے سوا باقی تمام مخلوقات سے بے نیاز رہے ۔ صرف اسی کی ذات کاملہ کی طرف توجہ رکھے ۔ صوفیہ فرماتے ہیں: مَاأَحسَنَ تَواضُعَ الأَغنِیاءِ لِلفُقَراءِ طَلَبًا لِمَا عِندِاللہِ وَ أَحسَنُ مِنهُ لِلّٰہِ الفُقَراءُ عَلَی الأَغنِیاءِ ، اتِّکالًا عَلَی اللہِ  ۔خدا کی خوشنودی کے لیے فقیروں کے سامنے امیروں کی تواضع ، بہت اچھی ہے ، مگر اس سے اچھی ، خدا پر توکل کرتے ہوئے فقیروں کی امیروں سے بے نیازی ہے ۔

یوں ہی کہا جاتا ہے کہ متکبر کے ساتھ تکبر کرنا عبادت ہے ۔ اس قول کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے اندر تکبر کی خصلت پیدا کرے یا اسے اپنے اندر سے دور نہ کرے ۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان اندر سے متواضع ہو لیکن ظاہر میں ، متکبر اورمغرور انسان کے ساتھ تکبر اور سختی کے ساتھ پیش آئے ۔ اگر ایسا کرے گا تو تکبر کرنے والے کی ناک خاک آلود ہوگی اور اس کا غرور کافور ہوگااور ممکن ہے کہ اس ظاہری تکبر کی وجہ سے ایک متکبر انسان کی اصلاح ہوجائے یا کم از کم ایک متکبر کے فتنے اور اس کی صحبت سے ایک شریف و متواضع انسان اپنے متکبرانہ عمل اور رویہ کے اظہار کے ذریعے محفوظ تو ہو جائےگا ۔

تکبر کا معیار

تکبر کے لیے معیار یہ ہے کہ انسان اپنے لیے ایک مرتبہ مقرر کرے اور دوسرے کے لیے بھی اسی طرح کا مرتبہ متعین کرے پھر اپنے آپ کو اس مرتبہ سے بالاتر سمجھنے لگے تو گویا مذکورہ تینوں صورتوں میں اس کے اندرکبر کی کیفیت پائی جائے گی صرف اس لحاظ سے نہیں کہ وہ اپنے اندر یہ کیفیت دیکھتا ہے، بلکہ اس لحاظ سے کہ وہ یہ کیفیت دیکھتا بھی ہے اور یہ عقیدہ اس کے اندر پھلتا پھولتابھی ہے، اسی وجہ سے یہ اس کے دل میں ایک خوبی شمار ہونے لگتا ہے جس سے اسے نشاط حاصل ہوتاہے، اور وہ اس سے فرحت و شادمانی محسوس کرتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے دل میں عزت کا احساس کرتا ہے۔ پس یہی عزت، فرحت، نشاط و شادمانی کبر کی کیفیت ہوتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اَلْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ‘‘(مسلم،باب تحریم الکبر:۹۱) تکبر حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام ہے۔

تکبر کے دنیاوی نقصانات

 متکبر انسان ، لوگوں کی نظروں سے گرجاتا ہے ۔ تکبر کرنے والا ، اپنے کام سے اپنے خیال میں لوگوں میں عزت تلاش کرتا ہے مگر حقیقت میں اسے ذلت کےسوا کچھ حاصل نہیں ہوتا صوفیہ نے فرمایا  جو شخص دوسروں کے ساتھ تکبر کرتا ہے ، ذلیل ہوجاتا ہے۔

تکبر انسان کو تنہائی کی زندگی پر مجبور کرتا ہے ، متکبر انسان لوگوں کی نظروں میں قابل نفرت ہوجاتا ہے۔ لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ۔انسان فطرتا متواضع اور منکسر المزاج انسان سے محبت کرتا ہے اور متکبر انسان سے نفرت رکھتاہے اس لیے متکبر انسان کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔کہا جاتا ہے لیس للمتکبر صدیق متکبر شخص کا کوئی دوست نہیں ہوتا ۔متکبر انسان تنہا،بد نام اور علم و حکمت سےمحروم ہوجا تا ہے ۔علم نور ہے، اللہ جسے چاہتا ہے اس کے دل میں ڈال دیتا ہے اور تکبر تاریکی ہے، نور اور تاریکی کبھی بھی ایک جگہ اکھٹے نہیں ہوسکتے ،حقیقی علم ، تکبر کرنے والوں کو کبھی بھی نصیب نہیں ہوسکتا ،متکبر انسان کا دل ، سخت پتھر کی طرح ہے اور پھول ہرگز سخت پتھروں میں نہیں کھلتا بلکہ نرم مٹی میں کھلتا ہے ، علم کی مثال بھی اسی طرح ہے ۔

 تکبرکے دینی نقصانات

تکبر کا دینی نقصان ، شرک اور کفر میں مبتلا ہونا اور دائمی عذاب میںگرفتار ہوناہے ۔ تکبر کی حقیقت خدا کی حکمت پر اعتراض ، اس کی ربوبیت کا  انکار اور اس کی کبریائی اور بڑائی کو چیلنج کرنا ہے: أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ۔(ص:۷۴)شیطان نے سجدہ کرنے سےانکار کیا اور تکبر کیا اور کافروں میں سے ہوگیا ۔ کافر کی جگہ دوزخ ہے ۔

 تکبر اور بڑائی صرف اللہ کو ہی زیب ہے اس لیے جو شخص کبریائی اور بڑائی کی ردا کو اوڑھ لیتا ہے وہ خدا کو اس کی بڑائی میں  چیلنج کرتا ہے اور جو خدا کو  چیلنج کرےوہ اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے ۔ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ (النحل:۲۳)  وہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا :سَأَصْرِفُ عَنْ آيَاتِيَ الَّذِينَ يَتَكَبَّرُونَ فِي الأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ (الاعراف: ۱۴۶) جو لوگ زمین پر بغیر حق کے تکبر کرتے ہیں ، میں ان کو اپنی رحمت کی نشانیاں نہیں دکھاؤں گا۔

تکبر کا علاج

تکبر کا علاج دو طریقوں سے کیا جاسکتا ہے (۱) علمی، فکری  طریقہ۔(۲) عملی طریقہ ۔

اول: خدا کی عظمت کی شناخت۔ تکبر کی ایک وجہ خدا کی عظمت سے غفلت ہے ۔ اگر انسان ، پروردگار عالم کی عظمت اور کبریائی کے بارے میں فکر کرے اور اس کی شناخت حاصل کرے تو اتنی آسانی سے تکبر جیسی ذلت کا شکار نہیں ہوسکتا ‏۔ اس خدا کے بارے میں فکر کرے ،جس کی مدح و ثناءکرنے والے کما حقہٗ مدح و ثنا نہیں کرسکتے اور گنتی کرنے والے اس کی نعمتوں کوشمار نہیں کر سکتے اور جس کی ذات کا ادراک صاحب افکار نہیں کرسکتے۔

 کائنات کی عظمت کا مطالعہ بھی اللہ کی معرفت اور عظمت کا سبب ہوسکتی ہے ۔ آج ہر انسان کومعلوم ہےکہ ہم جس فرش پر اپنی زندگی گزار رہے ہیں وہ سورج سے بہت چھوٹی ہے اور سورج ہمارے نظام شمسی کا ایک ستارہ ہے ۔ اسی طرح کے سیارےکروڑوں کی تعداد میںہیں جن کے مقابلے میں ہمارا سورج ایک ذرے سے بھی کم ہے۔ پھر اے انسان سوچ! اس بڑی کائنات میں تیری کیا حیثیت ہے ؟

 انسان اپنی کمزوری کے بارے میں فکرکرے کہ وہ کیسا بنایا گیا ہے اور کس نے اس کو پیدا کیا ہے ؟وَخُلِقَ الإِنسَانُ ضَعِيفًا۔(النساء:۲۸) اور انسان ، ضعیف اور کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مَا لاِبْنِ آدَمَ وَالْفَخْرِ: أَوَّلُهُ نُطْفَةٌ، وَآخِرُهُ جِيفَةٌ، وَلاَ يَرْزُقُ نَفْسَهُ، وَلاَ يَدفَعُ حَتْفَهُ.  بنی آدم کو تکبر اور فخر سے کیا کام ! اس کا آغاز ، نطفہ ہے اور انجام مردار ، نہ اپنے آپ، رزق حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی موت کو اپنے سے دور کرسکتا ہے ۔(نهج البلاغة ،الحكم ،الحكمة: ۴۵۱)

 موت کی یاد انسان کو تکبر سے دور کرتی ہے اور متواضع بناتی ہے ۔بزرگوں نے فرمایا ہے: ضَعْ فَخْرَكَ، وَاحْطُطْ كِبْرَكَ، وَاذْكُرْ قَبْرَكَ.کبرچھوڑ، فخر ترک کر اور اپنی قبر کو یاد کرتا رہ۔(نهج البلاغة ،الحكم ،الحكمة: ۳۹۵)

دوم: تکبر اوراس طرح کی دیگرتمام بیماریوں کاعملی علاج تواضع ہے ۔ صوفیہ نے فرمایا: ضَادُّوا الکِبرَ بِالتَّوَاضُعِ  تواضع کے ذریعے تکبر سے مقابلہ کرو۔ (عيون الحكم والمواعظ:۱/۳۰۹)

تواضع یہ ہے کہ انسان اعلیٰ رتبہ ہوکر ادنیٰ رتبہ کے افراد کے ساتھ گھل مل جائے، انسان صاحب فضیلت ہوکر عام لوگوں سے نہ دور ہو اور نہ ان کو خود سے دور کرے، اگر کوئی آپ کے علوئے مرتبت کا اظہار بھی کرے تو آپ اس سے اعراض کریں تو اس طرز عمل اور خلق کے اس سلوک کا نام تواضع وانکساری ہے۔

غرضیکہ تواضع یہ ہے کہ ہر ممکن اپنی فضیلت و برتری کو چھپایا جائے۔ افضل ہوکر خود کو معمولی ظاہر کیا جائے، اعلیٰ ہوکر خود کو ادنیٰ ظاہر کیا جائے، عالم ہوکر خود کو طالب علم بتایا جائے۔ نیک و پارسا اور متقی و پرہیزگار ہوکر خود کو گنہگار ظاہر کیا جائے۔ فرمانبردار ہوکر بھی خود کو سیاہ کار بتایا جائے تو اس کو تواضع کہتے ہیں۔

تواضع انسان کے اندر موجود کبر و غرور کی ضد ہے۔ تواضع کے عمل سے انسان کے اندر موجود کبرو غرور کی سرکشی اور باغی صفت دم توڑتی ہے۔ تواضع انسان کی معاشرتی زندگی میں ایک لطافت پیدا کرتی ہے اور انسان کو خاکسار بناتی ہے اور اپنی چال ڈھال میں عاجزی کو فروغ دیتی ہے۔ تواضع کے عمل سے انسان دوسروں کو قابل احترام جانتا ہے۔ دوسروں کی عزت و توقیر کرتا ہے۔ تواضع کے عمل میں انسان تصنع کو اختیار نہیں کرتا۔ تواضع کا عمل انسان کو اللہ کی بندگی میں پختہ کرتا ہے۔ تواضع انسان کو اللہ کے حضور جھکادیتی ہے۔

تواضع کا قرآنی مفہوم

تواضع ایک ایسی صفت حمیدہ اور صالحانہ خصلت ہے جو صاحب تواضع کی نیک طبیعت کی عکاس ہوا کرتی ہےاور ایسا وصف ہے جس کے ذریعہ مؤدت و اخوت،الفت و محبت اور عدل و مساوات کے پیغام کو عام کیا جا سکتا ہے،یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کو تواضع اپنانے اور اسے اپنی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ بنانے کی تلقین کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:وَعِبَادُ الرَّحْمَٰنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا۔(فرقان -۶۳) اسی طرح رب ذوالجلال نے اپنے بندے کو تواضع سے لیس ہونے کی رہنمائ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ۔(شعراء :۲۱۵) وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۔ (الحجر: ۸۸)اور اہلِ ایمان کی دلجوئی کے لیے اپنےشفقت والتفات کے بازو جھکائے رکھئے۔

تواضع کاحدیثی مفہوم

نبی اکرم ﷺ نےتواضع کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّه۔ُ  (مسلم:باب استحباب العفو و التواضع:۴/۲۰۰۱)

مال سے صدقہ دینا مال میں کمی نہیں کرتا اور بندے کا معاف کرانا اور معذرت خواہ ہونے سے اللہ اس کی عزت کو بڑھاتا ہے اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لیے بندے کی تواضع و انکساری سے اللہ اسے درجہ فضیلت میں بلند کرتا ہے۔

اس حدیث نے ہماری زندگی میں پائے جانے والے تین تصورات کی اصلاح کی ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں پر خرچ کرنے اور صدقہ و خیرات کرنے سے مال میں کمی ہوجائے گی اور صدقہ و خیرات کا عمل مال کو گھٹادے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صدقہ مال کو گھٹاتا نہیں بلکہ بڑھاتا ہے۔ اسی طرح دوسرا تصور ہم کسی کو معاف کرنا اپنی بزدلی اور کم ہمتی اور ذلت و پستی جانتے ہیں اور اسی طرح ہم سے کوئی غلطی ہوجائے تو اسے تسلیم کرنے میں عار سمجھتے ہیں۔ یوں ہم سمجھتے ہیں معاف کرنا ذلت ہے اور معذرت خواہ ہونا ندامت ہے اور بے عزت ہونا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں ہر گز نہیں۔ معاف کرنا اور معذرت طلب کرنے کا خلق و عمل انسان کی عزت کو بڑھاتا ہے۔

اسی طرح تیسرا تصور ہمارا یہ ہے کہ ہم اعلیٰ مقام و مرتبہ پر ہونے کی وجہ سے کسی قسم کی عاجزی و انکساری نہیں کریں گے، یہ عمل اور یہ رویہ اور یہ خلق ہماری عزت کو خاک میں ملائے گا، عاجزی ہمیں رسوائی دے گی۔ انکساری ہمیں خواری کی کیفیت سے دوچار کرے گی۔ اس لیے ہم اپنے اسٹیٹس کو قائم رکھنے میں کبرو غرور کا اظہار کریں گے تاکہ ہماری حیثیت اور فضیلت میں کمی نہ آئے۔

تواضع و انکساری کا عمل انسان کے درجے اور مقام اور اسٹیٹس کو کم نہیں کرتا بلکہ تواضع و انکساری کی وجہ سے انسان کا درجہ و فضیلت کو اللہ رب العزت نہ صرف اپنے حضور بڑھاتا ہے بلکہ لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت و تکریم میں مزید اضافہ کردیتا ہے اسے عاجزی و انکساری کی بنا پر وہ رفعت، وہ فضیلت اور وہ بلندی عطا کرتا ہے جس کا وہ پہلے کبھی تصور بھی نہیں کرسکتا۔

رسول اللہ کا خلق تواضع کو اپنانا،رسول اللہﷺ کو باری تعالیٰ نے جلیل المنصب بنایا۔  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اختیار دیا گیا کہ آپ نبی بادشاہ ہونا پسند کرتے ہیں یا نبی بندہ ہونا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نبی بندہ ہونا پسند کیا۔(السنن الكبرى:۷/۴۸)

رسول اللہ کی اسی تواضع و انکساری کی بنا پر باری تعالیٰ قیامت کے دن اولاد آدم کی سرداری آپ کو عطا فرمائے گا اور آپ ہی قیامت کے دن وہ پہلےفرد ہوں گے جو اللہ کے حضور لوگوں کے لیے شفاعت کریں گے۔

حضرت ابو امامہ بیان کرتے ہیں:قال خرج علينا رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم متوکئا علی عصا فقمنا له فقال لا تقوموا کما تقوم الا عاجم یعظم بعضهم بعضا وقال انما انا عبدا اکل کما ياکل العبد واجلس کما يجلس العبد.(سنن ابی داؤد: ۵/۳۹۸۔سنن ابن ماجہ: ۲/۱۶۶۱) رسول اللہ ﷺ عصا مبارک کا سہارا لیے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم سب آپ کے لیے کھڑے ہوگئے۔ آپﷺ نے فرمایا عجمیوں کی طرح نہ کھڑے ہوا کرو اس لیے وہ یونہی ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس منع کرنے کی وجہ یہ بیان کی میں تو ایک بندہ ہوں میں اسی طرح کھاتا ہوں جیسے کوئی عام آدمی کھاتا ہے اور اسی طرح بیٹھتا ہوں جیسے کوئی عام آدمی بیٹھتا ہے۔

آپ نے اس حدیث مبارکہ میں اپنی ذات کے لیے کھڑے اور قیام کرنے کے عمل سے اپنی صفت تواضع اور اپنے خلق عاجزی و انکساری کی بنا پر منع کردیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اسی عمل کو دوسرے افراد کے لیے اختیار کرنے کا حکم دیا۔ جب آپ کی خدمت میں حضرت سعد آتے ہیں تو آپ اپنی مجلس میں موجود تمام صحابہ کرام کو حکم دیتے ہیں:قوموا لسيدکم.سب کھڑے ہوکر اپنے سردار کا استقبال اور احترام بجا لاؤ۔

اب دونوں احادیث مبارکہ سے امت کو یہ تعلیم ملتی ہےکہ کوئی بھی داعی ہو، مربی ہو، معلم و قائد ہو، راہنما و رہبر ہو اس کی ذاتی خواہش نہ ہو کہ لوگ اس کے لیے کھڑے ہوں، اس کا احترام بجا لائیں، ہاں اگر وہ از خود کھڑے ہوکر اس کا استقبال کریں اور اس کا احترام کریں اور اس کی عزت افزائی کریں تو یہ دونوں عمل احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔

لیکن اس کایہ مطلب نہیں کہ کوئی صاحب مقام یا صاحب نسبت ہو تو وہ اپنی تعظیم کو اپنے چاہنے والے پر واجب خیال کرے جیسا کہ ہمارے دور کے اکثر اہل نسبت کا حال ہے کہ وہ اپنے چاہنے والے کی جیب پر تو اپنا واجبی حق سمجھتے ہی ہیں ،اپنی تعظیم و تکریم کو بھی دوسروں پر واجب خیال کرتے ہیں ،ہمارے دور کے اکثراہل نسبت حضرات دست بوسی اور قدم بوسی کرانا اپنا واجبی حق سمجھنے لگے ہیں ، اگر کسی مرید نے کبھی دست بوسی نہ کی تو کہا جاتا ہے کہ فلاں مرید آج کل مغرور ہوگیا ہے جب کہ اہل نسبت کو مقام حجریت پر ہونا چاہیے، کوئی ہاتھ پاؤں چومے یا نہ چومے کوئی فرق نہ پڑے ۔اگر ایسا نہیں تو یہ مقام ہلاکت ہے جب کہ چومنے والا مقام تواضع پر ہوتا ہے اور تواضع و انکساری میں ہی انسان کے لیے نجات ہے۔

مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ ، فَهُوَ فِي نَفْسِهِ صَغِيرٌ ، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ عَظِيمٌ ، وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرٌ ، وَفِي نَفْسِهِ كَبِيرٌ ، وَحَتَّى لَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِمْ مِنْ كَلْبٍ أَوْ خِنْزِيرٍ ” (مسند شہاب:۳۲۰)جب کوئی انسان اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے تو اللہ اس کو بلند فرمادیتا ہے۔ وہ اپنی نظر میں معمولی ہوتا ہے؛ جبکہ لوگوں کی نگاہ میں غیر معمولی ہوجاتا ہے اور جب کوئی انسان تکبر کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو ذلیل کردیتا ہے وہ اپنی نظر میں عظیم ہوتا ہے جب کہ لوگوں کی نظر میں حقیر ہوتا ہے یہاں تک کہ کتا اور سور سے بھی زیادہ حقیر ہوجاتا ہے۔ ـ

اسی لیے صوفیہ فرماتے ہیں کہ مرید اللہ تک پہنچتا ہے؛ کیوں کہ اللہ کے بندوں سے اس نے اللہ کے لیے محبت کی ، اللہ کے لیے اس کی تعظیم کی اور اللہ کے لیے تواضع اختیار کیا ـ۔ ممکن ہے کہ ایک شخص کسی صاحب نسبت کو اپنا شیخ جان کر اور اس کی تعظیم بجا کر اللہ کا مقرب ہوجائے اور وہ صاحب نسبت اپنے نسبت پر غرور اور تکبر کرنے کی وجہ سے جہنم رسید ہوجائے ـ۔

تواضع اور انکساری ایسی نعمت ہے جس پر کوئی شخص حسد نہیں کرتا، کیونکہ مالدار، طاقتور اور صاحبِ منصب لوگ جو تکبر کا شکار ہوتے ہیں تو وہ تکبر کے ہوتے ہوئے تواضع اور خاکساری کی صفت اپنے اندر پیدا نہیں کرسکتے تو تواضع کرنے والے شخص پر بھی حسد نہیں کریں گے، کیونکہ تواضع اور تکبر کا آپس میں ٹکراؤ ہے۔

حضرت امام حسن عسکری فرماتے ہیں:اَلتَّواضُعُ نِعمَةٌ لايُحسَدُ عَلَيها۔(تحف العقول: ۳۶۳) انکساری ایسی نعمت ہے جس پر حسد نہیں کیا جاتا۔تواضع، اخلاقی اقدار میں سے ہے جس پر قرآن، احادیث اور اخلاقی تعلیمات میں تاکید ہوئی ہے۔ تواضع یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ان لوگوں سے بہتر اور برتر نہ سمجھے جن کا مقام اس سے کم ہے اور نیز اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے۔ تواضع تکبر کی ضد ہے جس سے سخت منع کیا گیا ہے۔ تواضع کا مفہوم اپنے آپ کو چھوٹا سمجھنے اور دوسروں کا احترام کرنے کے معنی میں ہے، اللہ تعالی کی بےشمار نعمتوں میں سے ایک نعمت تواضع اور انکساری ہے۔ عموماً لوگ جو ایک دوسرے پر حسد کرتے ہیں، اللہ تعالی ہی کی عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں ایک دوسرے پر حسد کرتے ہیں، مگر تواضع اور انکساری اخلاقی اقدار میں سے ایسی صفت ہے اور ایسی نعمت ہے جس پر حسد نہیں کیا جاتا۔ کیونکہ تواضع ایسی صفت ہے کہ ہر شخص اس کے حامل ہونے کی طرف راغب نہیں ہوتا، اس لیے کہ جو دو لت مند آدمی ہو وہ تواضع کو اپنی شان کے خلاف سمجھتا ہے اور اگر طاقتور ہو تو اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے چھوٹا نہیں دیکھنا چاہتا اور تواضع کو طاقت کے منافی سمجھتا ہے کیونکہ اس کا خیال یہ ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ طاقت بھی ہو اور تواضع بھی۔ اسی لیے مالدار اور طاقتور لوگ، تواضع پر حسد نہیں کرتے اورنہ تواضع کرنے والے شخص پر بھی حسد کرتےہیں۔تواضع تب وقوع پذیر ہوتا ہے جب تواضع کرنے والا شخص، منصب، طاقت، مال یا کسی مثبت پہلو کا حامل ہو ورنہ تواضع کرنا بے معنی ہے۔اپنے سے بڑے مرتبے والے کے سامنے تواضع کا اظہار آسان ہے، اپنے برابر کے سامنے یا اپنے سے کم مرتبہ والے کے سامنےمنکسرو عاجز رہنااصل تواضع ہے ۔

جناب ابوسعید خدری رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت و دوزخ میں بحثا بحثی ہوئی دوزخ کہنے لگی میرے ہاں تو بڑے بڑے جابر اور متکبر لوگ فروکش ہوں گے۔ جنت بولی ، میرے ہاں تو ضعیف و نادار لوگ ہی جگہ پا سکیں گے اس بحث کا فیصلہ فرماتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا جنت ! تو میری رحمت ہے ، تیرے ذریعہ میں جس پر چاہوں گا رحم کروں گا اور اے دوزخ ! تو میرا عذاب ہے ، میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعہ اسے عذاب دوں گا البتہ تم دونوں کا یہ حق مجھ پر لازم ہے کہ دونوں کو بھردوں گا ‘(مسلم،:۲۸۴۶)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ» قَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ: «إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ۔ (صحیح مسلم کتاب الایمان )سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جنت میں نہ جائے گا جس کے دل میں رتی برابر بھی غرور اور گھمنڈ ہو گا۔ ایک شخص بولا کہ ہر ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو، (تو کیا یہ بھی غرور اور گھمنڈ ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال خوبصورتی پسند کرتا ہے۔غروراورگھمنڈ یہ ہے کہ انسان حق کو ناحق کرے (یعنی نفسانیت سے واجبی اور صحیح بات کو رد کرے اور نہ مانے) اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔‘‘

متواضع انسان کی علامتیں

دین کے اندر تواضع اختیار کریں یعنی قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کو عقل کی کسوٹی پر نہ تولیں، رسول کی لائی ہوئی شریعت کی مکمل پاسداری کے ساتھ اس کی تابعداری کو لازم پکڑیں نیزاس کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں۔حق کے سامنے عاجزی و انکساری کا اظہار کریں اور اپنی رائے کو دوسروں کی رائے پر ترجیح نہ دیں۔مسلمانوں کے ساتھ سگےبھائی جیسا برتاؤ کریں اور صاحب عذر کے عذر کو قبول کریں۔ چھوٹے بڑے ، امیر فقیر ، سب کو سلام کریں ۔ دوسروں کے فضائل پر توجہ رکھیں۔ فقیروں کے ساتھ میل جول رکھیں۔اور دعوتی اور شرعی ضرورت کے بغیر امیر لوگوںسے میل جول نہ رکھیں ۔

 متواضع اور خاکسار انسان ہمیشہ بزم کے آخری حصے میں بیٹھتا ہے۔ متواضع انسان سلام کرنے میں دوسروں پر سبقت لے جاتا ہے۔ جنگ و جدال سے باز رہتا ہے خواہ حق اسکے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ متواضع انسان اس بات کا خواہاں نہیں ہوتا ہے کہ اسکی پرہیز گاری کی تعریف کی جائے۔

تواضع کے فوائد

تواضع اختیار کرنا حسن خاتمہ اور حسن اخلاق کی دلیل ہے۔ متواضع قیامت کے روز عذاب الیم سے محفوظ رہےگا۔ تواضع رب کی قربت حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ تواضع مؤمنین کے اوصاف حمیدہ میں سے ایک بہترین وصف ہے۔ تواضع سعادت دارین کی علامت ہے۔یہ بات عیاں ہوگئ کہ تواضع دنیا و آخرت میں سرخروئی و سرفرازی کا اور تکبر ہلاکت اور بربادی کاباعث ہے۔

وہم پرستی اورتکبر

وہم پرستی اورتکبر

امام الدین سعیدی

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

 وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلًا(۳۶) وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًااِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا(۳۷) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا(۳۸) ذٰلِكَ مِمَّا اَوْحٰی اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰی فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا( بنی اسرائیل ۳۹ )

 ترجمہ : اس چیز کے پیچھے مت پڑ و جس کا تمھیں علم نہیں ، یقینی طور پر آنکھ ،کان ،دل ان میں سے ہر ایک کے تعلق سے بازپُرس ہو نی ہے ، اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو ،اس لیے کہ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑ کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو، یہ سب تیرے رب کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے ۔یہ وہ حکمت ہے جو آپ کے رب نے آپ کی طرف وحی کی ہے ،اللہ کے سوا کسی اور کو معبود نہ بنا ؤ،ورنہ ملامت و ذلت کے ساتھ جہنم میں ڈال دیے جا ؤ گے ۔

۱۔ وہم وگمان کی پیروی
قرآن مجید نے متنبہ کردیا کہ جس معاملے میں تمہارے پا س کو ئی علم اور تحقیق نہ ہواُس کے پیچھے نہ پڑو، اس میں بحث اور کُرید نہ کرو۔
مطلب یہ ہے کہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیںکہ وہ کسی پربے بنیاد الزام یا تہمت لگائے ، کسی سے بدگمان ہوجائے یا بلا تحقیق کسی کے بارے کوئی موقف قائم کرلے یا کوئی قدم اٹھا ئے۔
اسی طرح محض شکوک و شبہات کی بنا پر کسی کے بارے میں افواہ بھی نہ اڑائے ۔
اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے :

 یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ( حجرات۶)

 ترجمہ : اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبرلےکر آئے تو اُس کی خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو اور پھرتمھیں اپنے کیے پر شرمندگی اٹھانی پڑی ۔

 دوسری جگہ ارشاد ہے:

 یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا( حجرات۱۲)

ترجمہ : اے ایمان والو!بہت زیا دہ گمان کرنے سے بچو ، کیوں کہ بعض گمان گناہ ہو تے ہیں اور کسی کی ٹوہ میں نہ رہو ۔

وہم پرستی سے پیدا ہونے والے امراض 
بلا تحقیق راے قائم کرنا اِن آیات کریمہ میں اللہ رب العزت نے اس اہم بات کی طرف اشارہ فرما یاہے کہ اگر کو ئی فاسق کسی بات کی خبر دے تواُس بات کی تحقیق اور چھان بین کیے بغیر کو ئی رائے قائم نہ کرو اور نہ کوئی قدم اٹھاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ جلد بازی میں کو ئی قدم اٹھا لو اور بعد میں تمھیں اس پر کف افسوس ملنا پڑے ۔ایسے معاملات میں یہ دیکھو کہ خبر دینے والا کیسا ہے یہ نہ دیکھو خبر کیسی ہے؟ جس طرح محدثین کا احادیث کریمہ کی روایت کےسلسلے میں اس اصول پر عمل ہے کہ جب تک راوی کے ثقہ ہوجانے کی تحقیق نہ ہو جائےاس وقت تک اُن کی روایت کو نہیں لیتے ہیں،یہاں بھی یہی اصول اپناناچاہیے۔
 بدگمانی
اِس آیت کریمہ میں دوسری بات زیادہ گمان سے بچنے کا حکم ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض گمان سے صریح گناہ کا ارتکاب ممکن ہے ۔ انسا ن اس دنیا میں جس شخص سےبھی ملتا ہے اُس کے بارے میں اچھا یا بُرا گمان فطری طور پر اُس کےدل میں پیدا ہو ہی جاتا ہے، پھر اسی گمان پر اس سے قربت یادوری پیدا ہو تی ہے۔ گو یا یہ معاشرتی زندگی میں ایک دوسرے کے لیے محبت و نفرت اوراتحاد و اختلاف کی بنیاد ہے۔
اس لحاظ سے انسان کو اِس معاملےمیں بہت حساس اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے ۔
اِس آیت کریمہ میں یہ واضح ہدایت ہے کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان رکھنا چاہیے،کیوں کہ اچھاگمان رکھنااس اخوت ایمانی کا لا زمی تقاضا ہے جس پر اسلامی معاشرہ کا قیام ہے۔ اس کے برعکس جس شخص کا حال یہ ہو جائے کہ جو بھی الٹاسیدھا گمان اس کے دل میں آئے وہ اسی کی پیروی کرنے لگے تو اس کا نقصان خود اسی کو اٹھا نا پڑےگا،اس لیےکہ بعض گمان صریحی طور پر گناہ ہو تے ہیں جو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں ۔
اس کی مثال اس پاگل شکاری کی طرح ہے جو ہرنی کی تلاش میں ہر جنگل میں بلاسوچے سمجھے داخل ہو تا چلا جائے اور وہاں موجود درندوںسے بے پرواہ ہوجائے تو عین ممکن ہے کہ ہرنی کے بجائے کبھی شیر ہی مل جائے اوروہ اُس کی ہلاکت کی وجہ بن جائے ۔
 تجسس 
وہم پرستی کے ضمن میں اس آیت کریمہ میں تیسری بات یہ ہے کہ کسی کے ٹوہ میں نہ پڑے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کےعیوب و نقائص تلاش کرنا،یاکسی کی ذاتی زندگی کےتعلق سےکوئی سراغ حاصل کرنے کی کو شش میں رہنا،تا کہ اس کو ذلیل کیا جائے،یہ مذموم ہے ۔
ظاہر ہے کہ اس طرح کا تجسس انسان کی نجی زندگی اور معاشرتی زندگی دونوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو تا ہے، کیوں کہ یہ آپسی جذبۂ احترام اور انسانی ہمدردی کے سراسر منافی ہے ۔

۲۔ فخراورتکبر
اول الذکر آیتوں میں جو دوسرا حکم ہے وہ یہ کہ زمین پر اکڑ کر نہ چلو،کیوں کہ اس طرح کی چال تکبر کو ظاہر کرتی ہے۔ علم و دولت ، حسن وطاقت ،یا اس طرح کی دوسری چیزیں عمومی طورسے آدمی کے اندر غرور پیدا کرتی ہیں ،جس کااثراُس کی مخصوص چال ڈھال میں نمایا ں ہو تاہے جو اِس بات پر دلیل بن جاتی ہے کہ یہ آدمی متکبر ہے اورعجزو انکساری کی دولت سے محروم ہے۔ اس کے بر عکس جن کے پا س تواضع ہو تا ہے وہ اکڑ نے کے بجائے سر جھکا ئے نرم چال چلتے ہیں ۔
تکبر ایک بد ترین صفت ہے ،اس پر حدیث میں سخت وعید آئی ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

الْعِزُّ إِزَارُهٗ، وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَاؤُهٗ، فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهٗ۔ ( مسلم ،باب تحریم الکبر،حدیث :۲۶۲۰)

ترجمہ:عزت، رب تعالیٰ کی اِزار ہے، کبریائی اُس کی رِدا ہے۔ جو بھی اس سے مقابلہ کرےگا اُسے عذاب دیا جائےگا ۔

ایک دوسری حدیث میں ہے :

لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ۔( ابو داؤ د ،باب ماجاء فی الکبر،حدیث:۴۰۹۱)

ترجمہ:وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی کبر ہو ۔

 کیوںکہ یہ اُم الخبائث ہے، یہ ایسی بُرائی ہے جو بڑے بڑے گناہو ں کی وجہ بنتی ہے، جیسے کسی بات کو حق جانتے ہوئے اُس کا انکار کرنا ، رنگ و نسل اور حسب ونسب کے اعتبار سے اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھنا ، دوسروں کو حقارت سے دیکھنا ،اُن کا مذاق اڑانا ،دل آزاری کرنا وغیرہ ۔
ذیل میں ان کی قدرے تفصیل بیان کی جاتی ہے:
حق سے روگردانی 
تکبر کی وجہ سے حق کا انکار کرنے والوں کے لیے اللہ رب العزت کی سخت تنبیہ آئی ہے۔ قرآن کریم میں ارشادہے :

 اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ(۴۰) لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ ( اعراف ۴۱)

 ترجمہ:وہ لوگ جنھوںنے ہماری آیتو ں کو جھٹلایااور (کبر کی وجہ سے) اُن سے منھ موڑ لیااُن کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جا ئیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوسکیں گے ۔ہا ں!اس صورت میں کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سماجائے ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں، ان کے لیے دوزخ کا بچھونا اوردوزخ ہی کا اوڑھنا ہو گا،کیوں کہ ظالموں کوہم ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں ۔

حسب ونسب پر غرور
اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرف و عزت والا ہو نے کے لیے کسی نسل یا کسی خاندان میں ہو نا شرط نہیں، بلکہ متقی ہو نا شرط ہے۔ اس کی بارگا ہ میں وہی سرخرو اور کامیا ب ہو گا جو سب سے زیادہ اللہ سےڈرنے والا ہو، اُس کے احکام کی پابندی کرنے والا ہو ،اگر چہ وہ معمولی حسب ونسب والاہی کیو ں نہ ہو، اور جو سرکش و متکبر ہو گا وہ اسی قدر ذلیل و رسوا ہو گا اگر چہ وہ عالی نسب ہی کیوںنہ ہو ۔اس لیے کہ نسل اور خاندا ن کی تقسیم صرف تعارف وپہچان کے لیے ہے نہ کہ فخروبرتری ظاہر کرنے کے لیے ۔ ا
للہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

 یٰاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰی وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآىِٕلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ( حجرات ۱۳)

 ترجمہ : اےلو گو! ہم نے تمھیں ایک مردو عورت سے پیدا کیا، پھر قبیلوںاور طبقوں میں تقسیم کردیا،تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقوی رکھتا ہو ، بے شک اللہ علیم و خبیر ہے ۔

مذاق اڑانا 
واضح رہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی کے معززیا حقیر ہونے کا معیار اُس کا ایمان و عمل ہے، دنیا والوں کے بنائے ہوئے پیمانے پر اُس کو منطبق کرنا حماقت اور نادانی ہے۔
جو لوگ خو د کو اِس دنیا میں عزت و شوکت والے سمجھ رہے ہیں ممکن ہے کہ قیامت میں ذلت و رسوائی ان کے حصے میں آئےاور جنھیں اِس دنیا میں ذلیل و کمتر گردانا جا تا ہے،عین ممکن ہے کہ اُنھیں عزت و تکریم کے مقام پر فائز کردیا جائے ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

 یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰی اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰی اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ (حجرات ۱۱)

 ترجمہ:اے ایمان والو! ایک قوم دوسری قوم کامذاق نہ اڑائے،ہو سکتا ہے کہ وہ اُن سے بہتر ثابت ہو ں اورنہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ وہ اُن سے بہتر ہو ں ۔

 غرض کہ اس طرح بہت ساری برائیوں کی جڑ تکبر اور غرور ہی ہے۔اس لیے لو گ اس مہلک خصلت کوبھی معمولی نہ سمجھیں بلکہ جہاں بھی اس کا شائبہ ہو اُسے غیرمعمولی سمجھ کر خود کو اُس سے بچائیں اور اپنے فکرو نظر اورقلب و شعور کواُس سے پاک رکھیں ۔