فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اس وقت کیا حال ہوگا جب ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑے تو پھر یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آئیں کہ ہمارا تو ماسوا نیکی اور باہمی موافقت کے اور کوئی ارادہ نہ تھا

القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

وَلَا تَجۡعَلُوا اللّٰهَ عُرۡضَةً لِّاَيۡمَانِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَتَتَّقُوۡا وَتُصۡلِحُوۡا بَيۡنَ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 224

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَجۡعَلُوا اللّٰهَ عُرۡضَةً لِّاَيۡمَانِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡا وَتَتَّقُوۡا وَتُصۡلِحُوۡا بَيۡنَ النَّاسِ‌ؕ وَاللّٰهُ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ

اور تم نیکی ‘ تقوی اور لوگوں کی خیر خواہی سے بچنے کے لیے اللہ کے نام کی قسمیں کھانے کو بہانہ نہ بناؤ اور اللہ خوب سننے والا ‘ بہت جاننے والا ہے

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں اور تم جس طرح چاہو اپنی کھیتیوں میں آؤ ‘ پھر فرمایا : ایام حیض میں اپنی عورتوں سے مباشرت نہ کرنا ‘ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض اوقات میں جماع کی ممانعت تھی ‘ بعض لوگ از خود چارماہ مباشرت نہ کرنے کی قسم کھا کر اپنے آپ کو عورتوں سے روک لیتے تھے ‘ اس خاص قسم کو ایلاء کہتے ہیں ‘ ایلاء کا حکم بیان کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے عام قسموں کا بھی حکم بیان فرمایا : بعض لوگ نیکی پرہیزگاری اور لوگوں کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی نہ کرنے کی قسم کھالیتے تھے ‘ پھر اگر کوئی ان کو ٹوکتا کہ تم یہ کار خیر کیوں نہیں کرتے ؟ تو وہ کہتے کہ ہماری قسم ٹوٹ جائے گی ‘ ہم نے ان کاموں کے نہ کرنے کی قسم کھالی ہے۔

حافظ سیوطی لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : ایک شخص یہ قسم کھالیتا کہ وہ اپنے رشتہ دار سے کلام نہیں کرے گا ‘ یا صدقہ نہیں دے گا ‘ یا ان دو آدمیوں میں صلح نہیں کرائے گا جو آپس میں لڑے ہوئے ہیں۔ وہ کہتا کہ میں حلف اٹھا چکا ہوں کہ میں یہ کام نہیں کروں گا ‘ تب یہ آیات نازل ہوئیں کہ نیکی اور خدا خوفی کے کاموں سے رکنے کے لیے اللہ کی قسموں کو بہانہ نہ بناؤ اور گویا اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ تم ایسی قسموں کو توڑ کر ان نیکی کے کاموں کو کرو اور اپنی قسموں کا کفارہ دو ۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٢٦٨ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یمین (قسم) اور ایلاء کا بیان شروع کیا ہے اس لیے ہم یہاں یمین کا لغوی اور شرعی معنی اور یمین اور ایلاء کے شرعی احکام بیان کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق :

قسم کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور قسم کی شرائط اور ارکان :

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

یمین اصل میں دائیں ہاتھ کو کہتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے : ” واصحاب الیمین “ اس میں قوت اور برکت کے معنی کا اعتبار ہے اور یمین کا استعارہ حلف سے بھی کیا جاتا ہے کیونکہ جب کوئی شخص کسی سے عہد کرتا ہے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اس کے دائیں ہاتھ پر رکھ کر عہد کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔

(آیت) ” ام لکم ایمان علینا بالغۃ الی یوم القیمۃ “۔ (القلم : ٣٩)

ترجمہ : یا تمہارے لیے ہم پر کچھ عہد و پیمان (قسمیں) ہیں جو قیامت تک پہنچنے والا ہیں۔

قرآن مجید کی زیر بحث آیت میں بھی یمین کا لفظ حلف کے معنی میں ہے۔ (المفردات ص ‘ ٥٥٣ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ علاء الدین حصکفی لکھتے ہیں :

یمین اس قومی عقد کو کہتے ہیں جس کے ساتھ قسم کھانے والا کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا عزم کرتا ہے۔ اس کی شرائط یہ ہیں : اسلام ‘ مکلف ہونا اور قسم پوری ہونے کا ممکن ہونا ‘ اس کا حکم یہ ہے : قسم کو پورا کرنا یا قسم توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرنا۔ اس کا رکن وہ الفاظ ہیں جن کے ساتھ قسم کھائی جاتی ہے ‘ کیا غیر اللہ کے ساتھ حلف اٹھانا مکروہ ہے ؟ ایک قول یہ ہے کہ ہاں ‘ کیونکہ حدیث میں ہے : جو شخص حلف اٹھائیے وہ اللہ کے نام سے حلف اٹھائے ورنہ نہ اٹھائے اور عام فقہاء نے یہ کہا ہے کہ یہ مکروہ نہیں ہے ‘ ہمارے فقہاء نے اسی قول پر فتوی دیا ہے ‘ خاص طور پر ہمارے زمانہ میں اور حدیث کی ممانعت کو اس پر محمول کیا ہے جب بغیر یقین دلانے کے قسم کھائی جائے جیسے تمہارے باپ کی قسم ! اور تمہاری زندگی کی قسم ! (یعنی اللہ کے نام کے ساتھ حلف اٹھانا یقین دلانے اور وثوق کے ساتھ مخصوص ہے اور بغیر وثوق کے غیر اللہ کے ساتھ حلف اٹھانا جائز ہے ) ۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٣ ص ٤٦ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

غیر اللہ کی قسم ‘ اور مستقبل اور ماضی میں طلاق اور عتاق کی قسم کھانے کی تحقیق :

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

علامہ زیلعی نے کہا ہے کہ غیر اللہ کی یمین (قسم) بھی مشروع ہے اور یہ جزاء کو شرط پر معلق کرنا ہے اور یہ اصطلاحا یمین نہیں ہے ‘ اس کو فقہاء کے نزدیک یمین کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس سے بھی یمین باللہ (اللہ کی قسم) کا معنی حاصل ہوتا ہے اور وہ ہے کی کام پر ابھارنا یا کسی کام سے رکنا اور اللہ کی قسم کھانا مکروہ نہیں ہے اور زیادہ قسمیں کھانے کے بجائے کم قسمیں کھانا زیادہ بہتر ہے ‘ اور بعض فقہاء کے نزدیک غیر اللہ کی قسم کھانا مکروہ ہے اور اکثر فقہاء کے نزدیک مکروہ نہیں ہے کیونکہ اس سے مخالف کو یقین اور وثوق حاصل ہوتا ہے ‘ خاص طور پر ہمارے زمانہ میں ‘ اور حدیث میں جو غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت ہے (جو شخص حلف اٹھائے تو اللہ کے ساتھ حلف اٹھائے ورنہ خاموش رہے۔ (صحیح بخاری ٢ ص ٩٨٣) یہ اس پر محمول ہے جب بغیر وثوق دلانے کے قسم کھائی جائے جیسے کوئی کہے : تمہارے باپ کی قسم ! میری زندگی کی قسم ! ” فتح القدیر “ میں بھی اسی طرح مذکور ہے خلاصہ یہ ہے کہ غیر اللہ کی قسم سے کبھی یقین دلایا جاتا ہے تاکہ فریق مخالف حالف اٹھانے والے کی بات پر یقین کرلے ‘ مثلا طلاق اور عتاق پر تعلیق کی جائے ( اور یوں کہے کہ اگر میں فلاں کام کیا یا نہ کیا تو میری بیوی کو تین طلاق یا میرا غلام آزاد) یہ اس قسم کا حلف ہے جس میں حرف قسم نہیں ہوتا ‘ اور کبھی غیر اللہ کی قسم سے وثوق اور یقین دلانا مقصود نہیں ہوتا ‘ اس میں قسم پوری نہ ہونے سے قسم کھانے والا حانث نہیں ہوتا اور کفارہ لازم نہیں آتا ‘ لہذا اس قسم سے فریق مخالف کو حلف اٹھانے والے کی بات پر وثوق اور یقین حاصل نہیں ہوتا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو ارشاد ہے : جو شخص حلف اٹھائے وہ اللہ کا حلف اٹھائے ‘ یہ اکثر فقہاء کے نزدیک غیر تعلیق پر محمول ہے ‘ کیونکہ گیر تعلیق میں جب کوئی شخص غیر اللہ کی قسم کھائے گا تو وہ غیر اللہ کے نام کو تعظیم میں اللہ کے مساوی قرار دے گا۔ رہا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے خود غیر اللہ کی قسم کھائی ہے جیسے ” والضحی “ ” واللیل “ والنجم ‘ وغیرھا تو فقہاء نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اللہ تعالیٰ مالک ہے وہ جس کو چاہے معظم قرار دے ‘ اور ہمارے لیے ممانعت کے بعد غیر اللہ کی قسم کھانا جائز نہیں ہے اور رہی تعلیق تو اس میں غیر اللہ کی تعظیم نہیں ہے (کیونکہ اس میں غیر اللہ کا ذکر ہی نہیں ہے) بلکہ اس میں حصول وثوق کے ساتھ کسی کام پر خود کو ابھارنا ہے یا کسی کام سے خود کو روکنا ہے ‘ لہذا یہ بالاتفاق مکروہ نہیں ہے جیسا کہ ہماری تقریر سے ظاہر ہے ‘ بلکہ ہمارے زمانہ میں اللہ کے نام سے حلف اٹھانے کی بہ نسبت طلاق یا عتاق کی قسم سے مخالف کو زیادہ وثوق اور یقین حاصل ہوتا ہے کیونکہ لوگ حانث ہونے اور لزوم کفارہ کی بہت کم پرواہ کرتے ہیں ‘ اس لیے حلف اٹھانے والا بیوی کو طلاق پڑنے یا غلام آزاد ہوجانے کے ڈر سے قسم پوری نہ کرنے یا قسم کے خلاف کرنے سے باز رہے گا ‘ اور ” معراج “ میں مذکور ہے کہ اگر کسی نے یقین دلانے کے بغیر یا ماضی کے کسی واقعہ پر طلاق یا عتاق کے ساتھ حلف اٹھایا تو یہ مکروہ (تحریمی) ہے۔ (رد المختار ج ٣ ص ٤٧۔ ٤٦‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

خلاصہ یہ ہے کہ مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر غیر اللہ کی قسم کھانا جائز ہے کیونکہ اس سے وثوق اور حنث مطلوب نہیں ہوتا ‘ اور علامہ شامی نے لکھا ہے کہ اس پر اکثر فقہاء کے نزدیک طلاق اور عتاق کی قسم کھانا بھی جائز ہے کیونکہ یہ اصطلاحا قسم نہیں ہے نہ اس میں قسم کے الفاظ ہیں اور اللہ کی قسم کی بہ نسبت اس میں زیادہ وثاقت ہے اس لیے خصوصا یہ اصطلاھا قسم نہیں ہے نہ اس میں قسم کے الفاظ ہیں اور اللہ کی قسم کی بانسبت اس میں زیادہ وثاقت ہے ‘ اس لیے خصوصا یہ ہمارے زمانہ میں یہ قسم جائز ہے مثلا کوئی شخص کہے کہ اگر میں نے یہ کام کیا یا نہیں کیا تو میری بیوی کو طلاق یا تین طلاقیں۔ اس کے برعکس ماضی کی کسی بات پر اور دعوی میں طلاق اور عتاق کے ساتھ حلف اٹھانا اکثر فقہاء کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ علامہ علاء الدین حصکفی نے ” کتاب الدعوی “ میں لکھا ہے :

ہر چند کے مخالف اصرار کرے پھر بھی طلاق اور عتاق کے ساتھ حلف نہ اٹھائے (تاتارخانیہ) کیونکہ ان کے ساتھ حلف اٹھانا حرام ہے۔ (خانیہ) اور ایک قول یہ ہے کہ اگر ضرورت ہو تو یہ قاضی کی رائے پر موقوف ہے ‘ سو اگر قاضی نے مدعی علیہ کو حلف دیا اور اس نے انکار کیا اور مال کے دعوی میں قاضی نے اس کے خلاف فیصلہ کردیا تو اکثر کے قول کے مطابق اس کا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔ فیصلہ کا عدم نفوذ اکثر کے قول پر مبنی ہے لیکن جن فقہاء کے نزدیک مدعی علیہ کو طلاق اور عتاق کا حلف دینا جائز ہے ‘ ان کے نزدیک مدعی علیہ کے انکار پر اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ نافذ ہوجائے گا ورنہ اس کو حلف دینے کا کیا فائدہ ہے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٤ ص ٤٢٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

ظاہر یہ ہے کہ جو فقہاء طلاق اور عتاق کے ساتھ قسم دینے کے قائل ہیں انکے نزدیک ہرچند کہ طلاق اور عتاق کے ساتھ حلف دینا مشروع ہے اس کے باوجود مدعی علیہ پر یہ حلف پیش کیا جائے گا کیونکہ جس میں معمولی بھی دیانت ہوگی وہ طلاق اور عتاق کا جھوٹا حلف نہیں اٹھائے گا ‘ کیونکہ اس سے یا تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی یا اس کی باندی آزاد ہوجائے گی یالازم آئے گا کہ وہ انکو برسبیل حرام اپنے پاس رکھے ‘ اس کے برخلاف جب اس نے اللہ کی قسم کھائی تو اس میں ہر زمانہ میں لوگ بہت تساہل کرتے ہیں (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٤٢٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

حاصل کلام یہ ہے کہ مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر طلاق کی قسم کھانا جائز ہے ‘ مثلا یوں کہے کہ اگر میں نے فلاں کام نہیں کیا یا کیا تو میری بیوی کو تین طلاقیں یا میری باندی آزاد ‘ علامہ زیلعی ‘ علامہ ابن ھمام ‘ علامہ شامی اور اکثر فقہاء کی یہی تحقیق ہے اور جب کسی شخص پر دعوی کیا جائے کہ مثلا اس نے کسی شخص کے ہزار روپے دینے ہیں یا اس نے کسی کی زمین غصب کرلی ہے ‘ مدعی کے پاس گواہ نہ ہوں اور مدعی علیہ پر قسم آئے تو اب مدعی علیہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ اس کے ذمہ ہزار روپے نہیں ہیں یا اس نے زمین غصب نہیں کی اور علامہ ابن ھمام علامہ زیلعی ‘ علامہ حصکفی ‘ علامہ شامی اور اکثر فقہاء کے نزدیک اس کے لیے طلاق اور عتاق کے ساتھ حلف اٹھانا جائز نہیں ہے مثلا یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ اگر اس نے زمین غصب کی ہو تو اس کی بیوی پر تین طلاق پڑنے سے ڈرتے ہیں۔ تنقیح مقام یہ ہے کہ مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے پر طلاق اور عتاق کی قسم کھانا اکثر فقہاء کے نزدیک جائز ہے اور ماضی کی کسی بات پر طلاق اور عتاق کے ساتھ حلف اٹھانا اکثر فقہاء کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے اور بعض فقہاء کے نزدیک جائز ہے اور ان کے نزدیک بھی یہ مکروہ تنزیہی ہے۔

یمین غموس (جھوٹی قسم)

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

قسم کی تین قسمیں ہیں : (ا) یمین غموس : (٢) یمین لغو اور (٣) یمین منعقدہ :

اگر کوئی شخص عمدا جھوٹ عمدا جھوٹ پر قسم کھائے تو یہ یمین غموس ہے مثلا کسی نے کسی شخص کے ایک ہزار روپے دینے ہوں ‘ اور وہ قسم کھائے : اللہ کی قسم ! میں نے اس کے ایک ہزار روپے نہیں دینے ‘ حالانکہ اس کو علم ہو کہ اس نے ایک ہزار روپے دینے ہیں۔ اس کو غموس اس لیے کہتے ہیں کہ یہ قسم قسم کھانے والے کو گناہ میں ڈبودیتی ہے یہ قسم مطلقا گناہ کبیرہ ہے خواہ اس قسم کے ذریعہ کسی مسلمان کا حق دبائے یا نہ دبائے ‘ کیونکہ ” صحیح بخاری “ میں ہے : کبائر یہ ہیں : اللہ کے ساتھ شرک کرنا ‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنا ‘ قتل ناحق کرنا اور یمین غموس۔ علامہ سرخسی نے لکھا ہے کہ اس پر یمین کا اطلاق مجازا ہے کیونکہ یمین ایک عقد مشروع ہے اور یہ محض گناہ کبیرہ ہے۔ اس پر توبہ لازم ہے۔

یمین لغو (بلاقصد قسم)

یمین لغویہ ہے کہ انسان ماضی یا حال کی کسی بات پر اپنی دانست میں سچی قسم کھائے اور درحقیقت وہ جھوٹ ہو ‘ اس کو لغو اس لیے کہتے ہیں کہ اس پر کوئی ثمرہ مرتب نہیں ہوتا ‘ نہ گانہ کفارہ اس میں قسم کھانے والے کی بخشش کی امید کی گئی ہے۔ امام شافعی یہ کہتے ہیں کہ یمین لغو اس قسم کو کہتے ہیں جو انسان کی زبان پر بلاقصد جاری ہو جیسے ” لا واللہ بلی واللہ “ نہیں خدا کی قسم ‘ ہاں خدا کی قسم۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٣ ص ٤٨۔ ٤٧ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :

یمین لغو کی جو تعریف مصنف نے ذکر کی ہے ‘ ” ہدایہ “ اس کی شروحات اور دیگر متون میں اسی طرح لکھا ہے لیکن علامہ زیلعی نے امام ابوحنیفہ سے امام شافعی کی طرف یمین لغو کی تعریف نقل کی ہے اس طرح ” بدائع “ میں ہمارے اصحاب کی طرف سے پہلے پہلی تعریف نقل کی ہے ‘ پھر لکھا ہے : امام محمد نے امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ لوگوں کی زبان پر جو نہیں خدا کی قسم اور ہاں خدا کی قسم ! جاری ہوتا ہے یہ یمین لغو ہے ‘ ہمارے نزدیک یہ قسم ماضی اور حال پر موقوف ہے اور ہمارے نزدیک یہ لغو ہے اور ہمارے اور امام شافعی کے درمیان اختلاف کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بلاقصد مستقبل کے متعلق قسم کھائے تو یہ امام شافعی کے نزدیک یمین لغو ہے اور اس میں کفارہ نہیں ہے اور ہمارے نزدیک یہ یمین منعقدہ ہے اور اس میں کفارہ ہے۔ یمین لغو صرف وہ ہے جو ماضی یا حال کے متعلق بلاقصد کھائی جائے (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٤٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ماوردی شافعی لکھتے ہیں :

یمین لغو وہ ہے جو زبان پر بلاقصد جاری ہوجاتی ہے جیسے نہیں خدا کی قسم ! اور ہاں خدا کی قسم ! یہ حضرت عائشہ (رض) اور حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے ‘ اور امام شافعی کا یہی مذہب ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٢٨٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں :

یمین لغو میں ایک قول یہ ہے کہ ایک شخص اپنے گمان کے مطابق کسی بات پر حلف اٹھائے پھر اس پر منکشف ہو کہ واقعہ اس کے خلاف ہے ‘ حضرت ابوہریرہ ‘ حضرت ابن عباس (رض) عطاء شعبی ‘ ابن جبیر ‘ مجاہد ‘ قتادہ ‘ امام مالک اور مقاتل کا یہی قول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ کوئی شخص قسم کھانے کے قصد کے بغیر کہے : نہیں خدا کی قسم ! ہاں خدا کی قسم ! یہ حضرت عائشہ (رض) طاؤس ‘ عروہ ‘ نخعی اور امام شافعی کا قول ہے ‘ اس قول پر اس آیت سے استدلال کیا گیا ہے ‘” لیکن اللہ ان قسموں پر تم سے مواخذہ کرے گا جو تم نے پختہ ارادوں سے کھائی ہیں “۔ یہ دونوں قول امام احمد سے منقول ہیں ‘ تیسرا قول یہ ہے کہ آدمی غصہ میں جو قسم کھائے وہ یمین لغو ہے ‘ چوتھا قول یہ ہے کہ آدمی کسی گناہ پر قسم کھائے ‘ پھر قسم توڑ کر کفارہ دے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ‘ وہ یمین لغو ہے ‘ یہ سعید بن جبیر کا قول ہے ‘ پانچواں قول یہ ہے کہ آدمی کسی چیز پر قسم کھائے پھر اس کو بھول جائے ‘ یہ نخعی کا قول ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ‘ ٢٥٥۔ ٢٥٤ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی لکھتے ہیں :

امام مالک کے نزدیک یمین لغو یہ ہے کہ آدمی اپنے گماں کے مطابق کسی چیز پر قسم کھائے اور واقعہ اس کے خلاف ہو۔ (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ٢٤١ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

یمین منعقدہ (بالقصد قسم)

علامہ علاء الدین حصکفی لکھتے ہیں :

اگر مستقبل کے کسی کام پر قسم کھائی جائے تو وہ یمین منعقدہ ہے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ وہ کام فی نفسہ ممکن ہو ‘ اگر کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ خدا کی قسم ! میں نہیں مروں گا ‘ یا خدا کی قسم ! سورج طلوع نہیں ہوگا تو یہ یمین غموس ہے۔ اگر اس قسم کو پورا نہیں کیا تو اس میں کفارہ ہے۔ (مثلا اس نے قسم کھائی : خدا کی قسم ! میں کل روزہ رکھوں گا ‘ اب اگر اس نے کل روزہ نہیں رکھا تو اس کو کفارہ دینا ہوگا) (درمختار علی ھامش الرد ج ٣ ص ٤٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 224