اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 87

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا  ۞

ترجمہ:

اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو۔ (النساء : ٨٧) 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سلام کا احسن طریقہ سے جواب دینے کا حکم دیا تھا ‘ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو اجنبی شخص تم کو سلام کرے تم اس کو مسلمان جانو ‘ اور یہ نہ سمجھو کہ اس نے جان بچانے کے لیے سلام کیا ہے اور اس کے دل میں کفر ہے کیونکہ باطن کا حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے ‘ اور جس نے اسلام کو ظاہر کیا اور باطن میں وہ کافر تھا اس کا حساب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لے گا ‘ اس لیے اس کے بعد قیامت کا ذکر کیا اور فرمایا اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو ‘ لہذا ہم یہاں اللہ تعالیٰ کے صدق کے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ 

امتناع کذب کا بیان :

اللہ تعالیٰ واجب بالذات ہے اور اس کی تمام صفات قدیم اور واجب بالذات ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا صدق بھی قدیم اور واجب بالذات ہے اور کذب صدق کی نقیض ہے جب کذب آئے گا تو صدق نہیں رہے گا اور کذب آ نہیں سکتا لہذا صدق جا نہیں سکتا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ کا کذب ممتنع بالذات ہے۔ 

امتناع کذب پر امام رازی کے دلائل : 

امام فخرالدین محمد عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا صدق واجب ہے اور اس کے کلام میں کذب اور خلف محال ہے ‘ ہمارے اصحاب کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کاذب ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا زوال ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ قدیم کا عدم ممتنع ہے ‘ اور جب کذب کا زوال ممتنع ہوگا تو اس کا صدق ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ ایک ضد کا وجود دوسری ضد کے وجود سے مانع ہے ‘ اس لیے اللہ کو کاذب مانا جائے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا ‘ لیکن اس کا کذب ممتنع ہے کیونکہ ہم بالبداہت جانتے ہیں کہ جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس علم کے مطابق اس چیز کی خبر دے سکتا ہے اور یہی صدق ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا صادق ہونا ثابت ہوگیا تو اس کا کاذب ہونا ممتنع ہوگیا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨) 

نیز ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ کذب کا امکان صدق عدم کے امکان کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کا صدق واجب ہے اور قدیم ہے اس کا عدم اور سلب ممکن نہیں ہے لہذا اس کے کلام میں کذب بھی ممکن نہیں ہے۔ 

امتناع کذب پر علامہ تفتازانی کے دلائل : 

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر رازی تفتازانی متوفی ٧٩٣ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا کلام ازل میں ماضی ‘ حال اور استقبال کے ساتھ متصف نہیں تھا ورنہ لازم آئے گا کہ ازل میں اللہ کا کلام مثلا فعصی فرعون ” فرعون نے معصیت کی “ کاذب ہو کیونکہ ازل میں فرعون تھا نہ اس نے معصیت کی تھی ‘ اور اللہ تعالیٰ کا کذب محال ہے اولا ‘ اس لیے کہ اس پر علماء کا اجماع ہے ‘ ثانیا اس لیے کہ معجزہ کی دلالت سے انبیاء (علیہم السلام) کی خبروں کا صدق تواتر سے ثابت ہے اور ان کا صدق اللہ کے کلام پر موقوف نہیں ہے چہ جائیکہ وہ اللہ کے کلام کے صدق پر موقوف ہو ‘ ثالثا اس لیے کہ تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے کیونکہ نقص عجز ‘ جہل یا عبث کو مستلزم ہے ‘ رابعا ‘ اس لیے کہ اگر ازل میں اللہ تعالیٰ کی خبر کاذب ہو تو ازل میں اس کا صدق ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ جس چیز کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے ‘ جب ازل میں اللہ تعالیٰ صادق ہے تو ازل میں کذب محال ہوگا۔ (شرح المقاصد ملخصا ج ٤ ص ١٥٩۔ ١٥٨‘ مطبوعہ ایران) 

امتناء کذب پر میر سید شریف کے دلائل :

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٢ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ پر کذب کے محال ہونے کی تین دلیلیں ہیں :

(١) پہلی دلیل یہ ہے : کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے نیز اگر اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب واقع ہو تو لازم آئے گا کہ بعض اوقات ہم اللہ تعالیٰ سے زیادہ کامل ہوں یعنی جس وقت ہمارا کلام صادق ہو (اور اس کا کلام کاذب ہو) 

(٢) دوسری دلیل یہ ہے : کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب سے متصف ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حوادث قائم نہیں ہوسکتے اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا صدق سے متصف ہونا محال ہوگا جو کذب کا مقابل ہے ورنہ اس کی صفت کذب کا زوال ممکن ہوگا اور ہم پہلے اس کے زوال کو محال فرض کرچکے ہیں کیونکہ اس کی صفات قدیم ہیں اور جس کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے اور لازم باطل ہے یعنی اللہ پر صدق کا ممتنع ہونا باطل ہے کیونکہ ہم بالبداہت جانتے ہیں کہ جس کو کسی چیز کا علم ہو اس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس علم کے مطابق خبر دے۔ 

(٣) اور تیسری اور متعمد دلیل جو کلام لفظی اور کلام نفسی دونوں میں کذب بالبداہت معلوم ہے اور اس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ‘ لہذا ہم یہ کہتے ہیں کہ تواتر سے منقول ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں صادق ہے ‘ جس طرح تواتر سے یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ متکلم ہے ‘ اگر اس دلیل پر یہ اعتراض کیا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے صادق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تصدیق کی اور ان کو صادق فرمایا اب اگر اللہ کا صادق ہونا اور اس پر کذب کا ممتنع ہونا انبیاء (علیہم السلام) کے قول اور ان کی خبر سے ثابت ہو تو یہ دور ہوجائے گا انبیاء کا صادق ہونا اللہ کی خبر پر اور اللہ کا صادق ہونا انبیاء کی خبر پر موقوف ہوا اور یہ کسی شے کا اپنے نفس پر موقوف ہونا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا صدق اللہ کی تصدیق پر موقوف نہیں ہے بلکہ معجزہ کی دلالت پر موقوف ہے ‘ انبیاء (علیہم السلام) اپنے دعوی نبوت پر معجزہ خارق عادت پیش کرتے ہیں جس سے ان کا صدق ثابت ہوتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا صادق اور متکلم ہونا انبیاء (علیہم السلام) کی خبر پر موقوف ہے ‘ وہ خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ متکلم اور صادق ہے۔ (شرح موافق ج ٨ ص ١٠٣۔ ١٠١‘ مطبوعہ ایران) 

شرح مواقف کے دلائل پر علامہ میر سید شریف کے اعتراضات 

صاحب مواقف نے امتناع کذب پر پہلی دلیل یہ قائم کی کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے ‘ پھر اس پر یہ اعتراض کیا کہ کلام نفسی میں کذب نقص ہے کلام لفظی میں کذب نقص نہیں ہے ‘ کیونکہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی جسم میں کلام کاذب پیدا کردے ‘ اس کا جواب یہ دیا کہ کلام کاذب کو پیدا کرنا بھی نقص ہے اور وہ اللہ پر محال ہے ‘ ثابت ہوا کہ اللہ کے کلام میں کذب مطلقا محال ہے ‘ اس پر علامہ میر شریف نے یہ اعتراض کیا کہ اشاعرہ افعال کا حسن اور قبح شرعی مانتے ہیں اور قبح عقلی کے قائل نہیں ہیں اور قبح عقلی اور نقص میں کوئی فرق نہیں ہے اور جب اللہ پر قبح عقلی جائز ہے تو اس پر نقص بھی جائز ہونا چاہیے اور جب اللہ پر نقص جائز ہوگیا تو اس کے کلام میں کذب کا ممتنع ہونا ثابت نہیں ہوا۔ (شراح المواقف ج ٨ ص ١٠٣ مطبوعہ ایران) 

علامہ میر سید شریف کے اعتراضات کے جوابات :

ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ فنی نفسہ حسن ہے اور جس چیز سے منع کیا ہے وہ فی نفسہ قبیح ہے مثلا منعم کا شکر ادا کرنا حسن ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کا حکم نہ بھی دیتا تب بھی فی نفسہ حسن ہی رہتا اور قتل ناحق فی نفسہ قبیح ہے اگر اللہ تعالیٰ اس سے منع نہ بھی فرماتا تب بھی یہ قبیح ہی رہتا ‘ کیونکہ اول الذکر کے حسن اور ثانی الذکر کے قبح کا ادراک کرنے میں عقل مستقل ہے اور یہ معنی ہے ان کے اس قول کا کہ افعال کا حسن اور قبح عقلی ہے ‘ اور اشاعرہ یہ کہتے ہیں کہ حسن اور قبح شرعی ہے یعنی جس کا شارع نے حکم دیا ہے وہ حسن ہے اور جس سے منع کیا ہے وہ قبیح ہے عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں ‘ اگر بالفرض شارع قتل ناحق کا حکم دیتا تو وہ حسن ہوتا اور شکر منعم یا عبادت کرنے سے منع کرتا تو ہو قبیح ہوتی۔ اور اس بحث میں حسن کا معنی ہے جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مدح کا اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہو اور قبیح کا معنی ہے جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مذمت کا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہو ‘ اس حسن اور قبح کو اشاعرہ کہتے ہیں کہ شرعی سے عقلی نہیں ہے یعنی عقل اس کے ادراک میں مستقل نہیں ہے مثلا عقل کیسے جان سکتی ہے کہ تیمم سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے یا موزہ کے اوپر کے حصے پر مسح کرنے سے طہارت ہوجاتی ہے یا سونے اور ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے ان کا حسن اور قبح شرعی ہے اور ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ افعال کا حسن اور قبح عقلی ہے یعنی عقل ‘ ان کے حسن اور قبح کی ادراک میں مستقل ہے۔ اشاعرہ اور ماتریدیہ کا افعال کے حسن اور قبح کے عقلی ہونے یا نہ ہونے کا اختلاف اسی معنی میں ہے۔ 

حسن کا دوسرا معنی ہے صفت کمال جیسے علم اور صدق ‘ قبح کا دوسرا معنی ہے صفت نقصان جیسے جہل اور کذب اس میں ماتریدیہ اور اشاعرہ سمیت تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کا حسن اور قبیح عقلی ہے اور جب یہ واضح ہوگیا تو مواقف میں جو یہ لکھا ہے کہ کذب نقص ہے اور یہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے پھر اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ کذب کا نقص ہونا تو قبح عقلی ہے اور اس کو اشاعرہ نہیں مانتے یہ اعتراض صحیح نہیں ہے کیونکہ اشاعرہ حسن اور قبح جس معنی کو شرعی کہتے ہیں اور اس کے عقلی ہونے کی نفی کرتے ہیں وہ اور معنی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مذمت اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہو وہ قبیح ہے اور جس کیوجہ سے دنیا میں میں تعریف اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہو وہ حسن ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کے لیے اس معنی کے لحاظ سے نہ کوئی فعل حسن ہے نہ قبیح ‘ اللہ تعالیٰ کے لحاظ سے حسن وہ فعل ہے جس میں کمال ہو اور قبیح وہ ہے جس میں نقص ہو اور اس معنی کے لحاظ سے حسن اور قبح کا عقلی ہونا اشاعرہ سمیت سب کے نزدیک مسلم ہے اس لیے کذب صفت نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے اور اس دلیل پر کوئی اعتراض نہیں ہے ‘ مسلم الثبوت اور اس کی شروحات میں بھی یہی لکھا ہے لیکن ہم نے قارئین کی سہولت کے لیے اس کو بہت آسان ‘ سہل اور واضح کرکے پیش کیا۔ (شرح مسلم الثبوت للخیر آبادی ص ٨٣۔ ٥٢ ملخصا مطبوعہ کوئٹہ ‘ فوتح الرحموت مع المتصفی ج ١ ص ٤٦۔ ٢٦‘ ملخصا مطبوعہ مصر) 

صاحب مواقف نے دوسری دلیل یہ قائم کی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب سے متصف ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حوادث قائم نہیں ہوسکتے اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا صدق سے متصف ہونا محال ہوگا ‘ جو کذب کا مقابل ہے اور اگر کذب قدیم نہ ہو تو اس کا زوال ممکن ہوگا اور ہم پہلے فرض کرچکے ہیں کہ کذب اس کی صفت ہے اور قدیم ہے اور جس کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے پس اگر کذب کو اللہ کی صفت مانا جائے تو اس کا صادق ہونا محال ہوگا اور یہ باطل ہے کیونکہ ہم بداھۃ جانتے ہیں کہ جس کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس کے مطابق خبر دے سکتا ہے۔ 

علامہ سید شریف نے اس دلیل پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس دلیل سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام نفسی میں کذب محال ہو ‘ کیونکہ قدیم کلام نفسی ہے ‘ رہا کلام لفظی تو وہ مخلوق اور حادث ہے اور کلام لفظی جو صادق ہو وہ ممکن اور حادث ہونے کی وجہ سے زائل بھی ہوسکتا ہے اور کلام لفظی میں صدق کے زوال کا امکان بعینہ کذب کا امکان ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ اللہ کا کلام لفظی صادق اور حادث ہے اور حادث کا زوال بھی ممکن ہے لیکن کلام صادق کے زوال سے کلام کاذب کا امکان لازم نہیں آتا ‘ کیونکہ کذب کا معنی ہے ایسی خبر جو واقع کے خلاف ہو اور کلام صادق کے زوال اور عدم کے امکان سے یہ کب لازم آتا ہے کہ ایسی خبر وجود میں آجائے جو واقع کے خلاف ہو ‘ خلاصہ یہ ہے یہ کلام لفظی صادق کے زوال کا امکان عام ہے اور کلام کاذب کا ثبوت خاص ہے اور عام کا ثبوت خاص کے ثبوت کو مستلزم نہیں ہوتا ‘ عام کی خاص پر دلالت نہ مطابقی ہوتی ہے نہ تضمنی نہ التزامی ‘ اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ کلام صادق لفظی کے زوال کا امکان بعینہ کذب کا امکان ہے۔ 

امتناع کذب پر علامہ میرسید شریف کی تصریحات : 

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

(فرق باطلہ میں سے) مزداریہ نے کہا اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے پر قادر ہے ‘ علامہ میر سید شریف اس کا رد فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا تو وہ جھوٹا خدا ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے۔ (شرح مواقف ج ٨ ص ٣٨١‘ مطبوعہ ایران)

امتناع کذب کے متعلق دیگر علماء کی تصریحات اور دلائل :

علامہ محمد عبدالحکیم سیالکوٹی متوفی ١٠٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کی ذات پر جہل اور کذب دونوں محال ہیں۔ (حاشیہ عبدالحکیم علی الخیالی ص ٢٥٧‘ مع مجموعہ الحواشی السجھیہ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ١٣٩٧ ھ) 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ صادق نہیں ہوسکتا اور کذب اللہ پر محال ہے کیونکہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے۔ 

علامہ احمد شہاب الدین خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں : زیادہ صادق ہونے کی نفی کا معنی یہ ہے کہ کوئی شخص صدق میں اللہ کے مساوی بھی نہیں ہوسکتا ‘ اللہ تعالیٰ کے حق میں کذب عقلا اور شرعا محال ہے کیونکہ جھوٹ یا تو کسی ضرورت کی بناء پر بولا جائے گا یا بلاضرورت ‘ کسی ضرورت کی بناء پر جھوٹ بولنا اللہ پر اس لیے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے مستغنی ہے اور بلاضرورت جھوٹ عدم علم کی وجہ سے بولا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے ‘ کوئی چیز اس سے غائب نہیں ‘ یابلاضرورت قصدا جھوٹ بولا جائے گا اور یہ حماقت ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس دلیل سے تو کلام نفسی میں جھوٹ محال ہوگا اور کلام لفظی میں تو جھوٹ ممکن رہے گا کہ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق میں ایسی خبر پیدا کردے جو واقع کے خلاف ہو بایں طور کہ وہ اس مخلوق کا کلام نہ ہو بلکہ اللہ کا کلام ہو اور غیر کی طرف منسوب ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جیسے قرآن کلام لفظی ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی نقص ہے کیونکہ اس سے جہل تو لازم نہیں آتا لیکن اس میں تجہیل ہے اور دوسروں کو جاہل بنانا ہے اور یہ بھی اللہ کے لیے نقص ہے اور نقص اللہ پر عقلا محال ہے ‘ علاوہ ازیں یہ محال شرعی بھی ہے۔

زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کون ہے جس کی بات اللہ کی بات سے زیادہ سچی ہو۔ “ اس کا معنی ہے ‘ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچا ہے نہ کوئی صدق میں اس کے برابر ہے اور نہ کوئی صدق میں اس سے زیادہ ہے ‘ مخلوق میں سب سے زیادہ سچے انبیاء (علیہم السلام) ہیں لیکن ان کا صدق واجب بالغیر ہے اور ان کے کلام میں کذب ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہے ‘ اگر اللہ کا صدق بھی اسی طرح ہو اس کے کلام میں بھی کذب ہو ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہو تو انبیاء (علیہم السلام) اور اللہ تعالیٰ صدق میں مساوی ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو ‘ یعنی وہ سب سے زیادہ سچا ہے جس کا تقاضا ہے کہ اس کا صدق قدیم اور واجب بالذات ہو اور اس کا کذب ممتنع بالذات ہو۔ 

مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا جھوٹ ممتنع بالذات ہے کیونکہ پیغمبر کا جھوٹ ممتنع بالغیر اور رب تعالیٰ تمام سے زیادہ سچا تو اس کا سچا ہونا واجب بالذات ہونا چاہیے ورنہ اللہ کے صدق اور رسول کے صدق میں فرق نہ ہوگا۔ (نور العرفان ص ١٤٤‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ گجرات)

امتناع کذب کے متعلق علماء دیوبند کا عقیدہ : 

شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ١٣٢٣ ھ لکھتے ہیں : 

آپ نے مسئلہ امکان کذب کو استفسار فرمایا ہے مگر امکان کذب بایں معنی کہ جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کے خلاف پر وہ قادر ہے مگر باختیار خود اس کو وہ نہ کرے گا یہ عقیدہ بندہ کا ہے اور اس عقیدہ پر قرآن شریف اور احادیث صحاح شاہد ہیں اور علماء امت کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ مثلا فرعون پر ادخال نار کی وعید ہے مگر ادخال جنت فرعون پر بھی قادر ہے اگرچہ ہرگز اس کو نہ دیوے گا ‘ اور یہی مسئلہ مبحوث اس وقت میں ہے بندہ کے جملہ احباب یہی کہتے ہیں اس کو اعداء نے دوسری طرح پر بیان کیا ہوگا اس قدرت اور عدم ایقاع کو امکان ذاتی وامتناع بالغیر سے تعبیر کرتے ہیں۔ فقط : (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ٨٥۔ ٨٤ مطبوعہ قرآن محل کراچی)

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب ممتنع اور محال بالذات ہے اور محال بالذات تحت قدرت نہیں ہوتا ‘ مثلا اللہ تعالیٰ کا عدم محال بالذات ہے اور یہ تحت قدرت نہیں ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا جہل اور کذب بھی محال بالذات ہے اور یہ تحت قدرت نہیں ہے۔ اس کی تفصیل حسب ذیل عبارت میں ہے۔ 

خلف وعید کا اختلاف اللہ تعالیٰ کے کذب کو مستلزم نہیں ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

امام قرافی اور ان کے متبعین نے کہا ہے کہ کافر کی مغفرت کی دعا کرنا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کو طلب کرنا ہے اور یہ کفر ہے۔ (الی قولہ) کیا خلف فی الوعید جائز ہے ؟ مواقف اور مقاصد کی ظاہر عبارت کا تقاضایہ ہے کہ اشاعرہ خلف فی الوعید کے قائل ہیں کیونکہ خلف فی الوعید جود اور کرم ہے نقص نہیں ہے ‘ اور علامہ تفتازانی وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ خلف فی الوعید جائز نہیں ہے ‘ علامہ نسفی نے کہا ہے کہ یہی صحیح ہے کیونکہ خلف فی الوعید محال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” مایبدل القول لدی “۔ اور فرمایا ہے (آیت) ” لن یخلف اللہ وعدہ ای وعیدہ “ اور اشبہ بالحق یہ ہے کہ مسلمانوں کے حق میں خلف فی الوعید جائز ہے۔ اور کفار کے حق میں جائز نہیں ہے تاکہ دونوں طرف کے دلائل میں تطبیق ہوجائے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ اس میں یہ تصریح ہے کہ مشرک کی مغفرت نہیں ہوگی ‘ اور مسلمان نے خواہ کبیرہ گناہ کیا ہو اس کی مغفرت ہوجائے گی ‘ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی : (آیت) ” ربنا اغفرلی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب “۔ ان آیتوں کا تقاضا یہ ہے کہ کافر کی مغفرت نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے عذاب کی جو وعید فرمائی ہے اس کا خلاف محال ہے اور گنہگار مسلمانوں کے لیے جو عذاب کی وعید ہے اس کا خلاف ہوجائے گا کیونکہ مسلمان کے حق میں وعید کا یہ معنی ہے کہ اگر تم نے فلاں گناہ کیا تو میں تم کو عذاب دوں گا بشرطیکہ میں نے چاہا یا میں نے تم کو معاف نہ کیا اور اس سے کذب لازم نہیں آتا کیونکہ گناہ گار مسلمانوں کے لیے آیات وعید عدم عفو یا مشیت کے ساتھ مقید ہیں۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٣٥١ ملخصا وموضحا مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

شیخ خلیل احمد ایبیٹھوی متوفی ١٣٤٦ ھ لکھتے ہیں : 

امکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا بلکہ قدماء میں اختلاف ہوا ہے کی خلف وعید جائز ہے یا نہیں ؟ (براھین قاطعہ ص ٢ مطبوعہ مطبع بلالی ہند) 

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اشاعرہ جو خلف وعید کے قائل ہیں وہ گناہ گار مسلمانوں کے حق میں خلف وعید کے قائل ہیں اور عذاب کی آیات کو عدم عفو کے ساتھ مقید کرتے ہیں اور کفار کے حق میں خلف وعید کے قائل نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کذب کے لزوم سے برات کا اظہار کرتے ہیں۔ 

علامہ کمال الدین بن ابی شریف اشعری المذہب متوفی ٩٠٥ ھ لکھتے ہیں :

اشعریہ اور ان کے غیر کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہر وہ شے جو بندوں کے حق میں نقص ہو وہ اللہ پر محال ہے اور کذب بندوں کے حق میں وصف نقص ہے سو وہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔ (مسامرہ ج ١ ص ١٨٤‘ مطبوعہ مکران) 

اور علامہ بحرالعلوم عبدالعلی بن نظام الدین لکھنوی متوفی ١٢٢٥ ھ لکھتے ہیں : 

حق یہ ہے کہ حقیقت سے عدول کرنے کا موجب موجود ہے اور وہ گنہ گار مسلمانوں ‘ نہ کہ مشرکوں کے لیے جو از عفو کا ثبوت ہے اور یہ ثبوت آفتاب نیم روز کی طرح قطعی اور یقینی ہے پس کفار کے غیر (گناہ گار مسلمانوں) کی وعیدوں میں ظاہر سے عدول کرنا ضروری ہے پس یا تو آیات وعید کو عدم عفو کے ساتھ مقید کیا جائے گا ‘ (یعنی اگر اللہ ان کو معاف نہ کرے تو یہ سزا دے گا) یا ان کو انشاء تخویف پر محمول کیا جائے گا (یعنی اللہ تعالیٰ نے گنہ گار مسلمانوں کو عذاب دینے کی خبر نہیں دی بلکہ ان کو عذاب سے ڈرانے کے لیے ایسا فرمایا ہے) رہا وعد تو اس میں حقیقت سے عدول کرنے کا کوئی موجب نہیں تو وہ آیات اپنی حقیقت پر ہیں۔ (فواتح الرحموت مع المستصفی ص ٦٢‘ مطبوعہ مصر ‘ ١٢٩٤ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 87

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 6 سورہ البقرہ آیت نمبر47 تا 59

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ(۴۷)

اے اولادِ یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ اس سارے زمانہ پر تمہیں بڑائی دی (ف۷۹)

(ف79)

” اَلْعٰلَمِیْنَ” کا استغراق حقیقی نہیں مراد یہ ہے کہ میں نے تمہارے آباء کو ان کے زمانہ والوں پر فضیلت دی یا فضل جزئی مراد ہے جو اور کسی امت کی فضیلت کا نافی نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے امت محمدیہ کے حق میں ارشاد ہوا ” کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ” (روح البیان جمل وغیرہ)

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْــٴًـا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ(۴۸)

اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی (ف۸۰) اور نہ کافر کے لیے کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر اس کی جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد ہو (ف۸۱)

(ف80)

وہ روز قیامت ہے آیت میں نفس دو مرتبہ آیا ہے پہلے سے نفس مؤمن دوسرے سے نفس کافر مراد ہے (مدارک)

(ف81)

یہاں سے رکوع کے آخر تک دس نعمتوں کا بیان ہے جو ان بنی اسرائیل کے آباء کو ملیں۔

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ(۴۹)

اور یاد کروجب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی (ف۸۲) کہ تم پر بُرا عذاب کرتے تھے (ف۸۳) تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے (ف۸۴) اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی یا بڑا انعام (ف۸۵)

(ف82)

قوم قبط و عمالیق سے جو مصر کا بادشاہ ہوا اس کو فرعون کہتے ہیں حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانہ کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان ہے یہاں اسی کا ذکر ہے اس کی عمر چار سو برس سے زیادہ ہوئی آل فرعون سے اس کے متبعین مراد ہیں۔ (جمل وغیرہ)

(ف83)

عذاب سب برے ہوتے ہیں۔ ” سُوْۤءَ الْعَذَابِ ” وہ کہلائے گا جو اور عذابوں سے شدید ہو اس لئے حضرت مترجم قُدِّ سَ سِرُّ ہ، نے ( برا عذاب) ترجمہ کیا ( کما فی الجلالین وغیرہ) فرعون نے بنی اسرائیل پر نہایت بے دردی سے محنت و مشقت کے دشوار کام لازم کیے تھے پتھروں کی چٹانیں کاٹ کر ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمریں گردنیں زخمی ہوگئیں تھیں غریبوں پر ٹیکس مقرر کیے تھے جو غروب آفتاب سے قبل بجبر وصول کیے جاتے تھے جو نادار کسی دن ٹیکس ادا نہ کرسکا اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ ملا کر باندھ دیئے جاتے تھے اور مہینہ بھر تک اسی مصیبت میں رکھا جاتا تھا اور طرح طرح کی بے رحمانہ سختیاں تھیں۔(خازن وغیرہ)

(ف84)

فرعون نے خواب دیکھا کہ بَیْتُ الْمَقْدِسْ کی طرف سے آگ آئی اس نے مصر کو گھیر کر تمام قبطیوں کو جلا ڈالا بنی اسرائیل کو کچھ ضرر نہ پہنچایا اس سے اس کو بہت وحشت ہوئی کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ہلاک اور زوال سلطنت کا باعث ہوگا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو قتل کردیا جائے دائیاں تفتیش کے لئے مقرر ہوئیں بارہ ہزار وبروایتے ستر ہزار لڑکے قتل کر ڈالے گئے اور نوّے ہز ار حمل گرادیئے گئے اور مشیتِ الہٰی سے اس قوم کے بوڑھے جلد جلد مرنے لگے قوم قبط کے رؤسانے گھبرا کر فرعون سے شکایت کی کہ بنی اسرائیل میں موت کی گرم بازاری ہے اس پر ان کے بچے بھی قتل کیے جاتے ہیں تو ہمیں خدمت گار کہاں سے میسر آئیں گے فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کیے جائیں اور ایک سال چھوڑے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون پیدا ہوئے اور قتل کے سال حضرت موسٰی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔

(ف85)

بلا امتحان و آزمائش کو کہتے ہیں آزمائش نعمت سے بھی ہوتی ہے اور شدت و محنت سے بھی نعمت سے بندہ کی شکر گزاری اور محنت سے اس کے صبر کا حال ظاہر ہوتا ہے اگر ” ذَالِکُمْ” کا اشارہ فرعون کے مظالم کی طرف ہو تو بلا سے محنت و مصیبت مراد ہوگی اور اگر ان مظالم سے نجات دینے کی طرف ہو تو نعمت

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ(۵۰)

اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا پھاڑ دیا تو تمہیں بچالیا اور فرعون والوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا (ف۸۶)

(ف86)

یہ دوسری نعمت کا بیان ہے جو بنی اسرائیل پر فرمائی کہ انہیں فرعونیوں کے ظلم و ستم سے نجات دی اور فرعون کو مع اس کی قوم کے ان کے سامنے غرق کیا یہاں آل فرعون سے فرعون مع اپنی قوم کے مراد ہے جیسے کہ ” کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ” میں حضرت آدم و اولاد آدم دونوں داخل ہیں۔ (جمل) مختصر واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام والسلام بحکم الہٰی شب میں بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر روانہ ہوئے صبح کو فرعون ان کی جستجو میں لشکر گراں لے کر چلا اور انہیں دریا کے کنارے جا پایا بنی اسرائیل نے لشکر فرعون دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام سے فریاد کی آپ نے بحکم الہٰی دریا میں اپنا عصا (لاٹھی) مارااس کی برکت سے عین دریا میں بارہ خشک رستے پیدا ہوگئے پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہوگیا ان آبی دیواروں میں جالی کی مثل روشندان بن گئے بنی اسرائیل کی ہر جماعت ان راستوں میں ایک دوسری کو دیکھتی اور باہم باتیں کرتی گزر گئی فرعون دریائی رستے دیکھ کر ان میں چل پڑا جب اس کا تمام لشکر دریا کے اندر آگیا تو دریا حالت اصلی پر آیا اور تمام فرعونی اس میں غرق ہوگئے دریا کا عرض چار فرسنگ تھا یہ واقعہ بحرِ قُلْز م کا ہے جو بحر فارس کے کنارہ پر ہے یا بحر ماورائے مصر کا جس کو اساف کہتے ہیں بنی اسرائیل لب دریافرعونیوں کے غرق کا منظر دیکھ رہے تھے یہ غرق محرم کی دسویں تاریخ ہوا حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس دن شکر کا روزہ رکھا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے زمانہ تک بھی یہود اس دن کا روزہ رکھتے تھے حضور نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی فتح کی خوشی منانے اور اس کی شکر گزاری کرنے کے ہم یہود سے زیادہ حق دار ہیں ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ عا شورہ کا روزہ سنّت ہے ۔مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء کرام پرجوانعامِ الٰہی ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور شکر بجا لانا مسنون ہے اگر کفار بھی قائم کرتے ہوں جب بھی اس کو چھوڑا نہ جائے گا ۔

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ(۵۱)

اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ فرمایا پھر اس کے پیچھے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم ظالم تھے (ف۸۷)

(ف87)

فرعون اور فرعونیوں کے ہلاک کے بعد جب حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر کی طرف لوٹے اور ان کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے عطائے توریت کا وعدہ فرمایا اور اس کے لئے میقات معین کیا جس کی مدت معہ اضافہ ایک ماہ دس روز تھی مہینہ ذوالقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے حضرت موسٰی علیہ السلام قوم میں اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ و جانشین بنا کر توریت حاصل کرنے کے لئے کوہ طور پر تشریف لے گئے چالیس شب وہاں ٹہرے اس عرصہ میں کسی سے بات نہ کی اللہ تعالیٰ نے زبر جدی الواح میں توریت آپ پر نازل فرمائی یہاں سامری نے سونے کا جواہرات سے مرصع بچھڑا بنا کر قوم سے کہا کہ یہ تمہارا معبود ہے وہ لوگ ایک ماہ حضرت کا انتظار کرکے سامری کے بہکانے سے بچھڑا پوجنے لگے سوائے حضرت ہارون علیہ السلام اور آپ کے بارہ ہزار ہمراہیوں کے تمام بنی اسرائیل نے گوسالہ کو پوجا (خازن)

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۵۲)

پھر اس کے بعد ہم نے تمہیں معافی دی (ف۸۸) کہ کہیں تم احسان مانو (ف۸۹)

(ف88)

عفو کی کیفیت یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ توبہ کی صورت یہ ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی ہے وہ پرستش کرنے والوں کو قتل کریں اور مجرم برضاو تسلیم سکون کے ساتھ قتل ہوجائیں وہ اس پر راضی ہوگئے صبح سے شام تک ستر ہزار قتل ہوگئے تب حضرت موسٰی و ہارون علیہما السلام بتضرع و زاری بارگاہِ حق کی طرف ملتجی ہوئے وحی آئی کہ جو قتل ہوچکے شہید ہوئے باقی مغفور فرمائے گئے۔

ان میں کے قاتل و مقتول سب جنتی ہیں مسئلہ: شرک سے مسلمان مرتد ہوجاتا ہے مسئلہ : مرتد کی سزا قتل ہے کیونکہ اللہ تعالٰی سے بغاوت قتل و خونریزی سے سخت ترجرم ہے فائدہ گوسالہ بنا کر پوجنے میں بنی اسرائیل کے کئی جرم تھے ایک تصویر سازی جو حرام ہے دوسرے حضرت ہارون علیہ السلام کی نافرمانی تیسرے گوسالہ پوج کر مشرک ہوجانا یہ ظلم آل فرعون کے مظالم سے بھی زیادہ شدید ہیں کیونکہ یہ افعال ان سے بعد ایمان سرزد ہوئے اس لئے مستحق تو اس کے تھے کہ عذاب الٰہی انہیں مہلت نہ دے اور فی الفور ہلاکت سے کفر پر ان کا خاتمہ ہوجائے لیکن حضرت موسٰی وہارون علیہما السلام کی بدولت انہیں توبہ کا موقع دیا گیا یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔

(ف89)

اس میں اشارہ ہے کہ بنی اسرائیل کی استعداد فرعونیوں کی طرح باطل نہ ہوئی تھی اور اس کی نسل سے صالحین پیدا ہونے والے تھے چنانچہ ان میں ہزارہا نبی و صالح پیدا ہوئے

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۵۳)

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور حق و باطل میں تمیز کردینا کہ کہیں تم راہ پر آؤ

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِىٕكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىٕكُمْؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۵۴)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو (ف۹۰) یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان (ف ۹۱)

(ف90)

یہ قتل ان کے لئے کفارہ تھا۔

(ف91)

جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور کفارہ میں اپنی جانیں دے دیں تو اللہ تعالٰٰی نے حکم فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام انہیں گو سالہ پرستی کی عذر خواہی کے لئے حاضر لائیں حضرت ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے طور پر لے گئے وہاں وہ کہنے لگے اے موسٰی ہم آپ کا یقین نہ کریں گے جب تک خدا کو علانیہ نہ دیکھ لیں اس پر آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی جس کی ہیبت سے وہ مر گئے حضرت موسٰی علیہ السلام نے بتضرع عرض کی کہ میں بنی اسرائیل کو کیا جواب دوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں یکے بعد دیگرے زندہ فرمادیا مسئلہ: اس سے شان انبیاء معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام سے ” لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ ” کہنے کی شامت میں بنی اسرائیل ہلاک کیے گئے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد والوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ انبیاء کی جناب میں ترک ادب غضب الٰہی کا باعث ہوتا ہے اس سے ڈرتے رہیں مسئلہ: یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولان بارگاہ کی دعا سے مردے زندہ فرماتا ہے۔

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ(۵۵)

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک علانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۵۶)

پھر مرے پیچھے ہم نے تمہیں زندہ کیا کہ کہیں تم احسان مانو

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰىؕ-كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْؕ-وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۵۷)

اور ہم نے ابر کو تمہارا سائبان کیا (ف۹۲) اور تم پرمنْ اور َسلْویٰ اتارا کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں (ف۹۳) اور انہوں نے کچھ ہمارا نہ بگاڑا ہاں اپنی ہی جانوں کا بگاڑ کرتے تھے

(ف92)

جب حضرت موسٰی علیہ السلام فارغ ہو کر لشکر بنی اسرائیل میں پہنچے اور آپ نے انہیں حکم الہی سنایا کہ ملک شام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کا مدفن ہے اسی میں بیت المقدس ہے اس کو عمالقہ سے آزاد کرانے کے لئے جہاد کرو اور مصر چھوڑ کر وہیں وطن بناؤ مصر کا چھوڑنا بنی اسرائیل پر نہایت شاق تھا اول تو انہوں نے اس میں پس و پیش کیا اور جب بجبرو اکراہ حضرت موسٰی و حضرت ہارون علیہما السلام کی رکاب سعادت میں روانہ ہوئے توراہ میں جو کوئی سختی و دشواری پیش آتی حضرت موسٰی علیہ السلام سے شکایتیں کرتے جب اس صحرا میں پہنچے جہاں نہ سبزہ تھا نہ سایہ نہ غلہ ہمراہ تھا وہاں دھوپ کی گرمی اور بھوک کی شکایت کی اللہ تعالٰی نے بدعائے حضرت موسیٰ علیہ السلام ابر سفید کو انکا سائبان بنایا جو رات دن انکے ساتھ چلتا شب کو ان کے لئے نوری ستون اترتا جس کی روشنی میں کام کرتے انکے کپڑے میلے اور پرانے نہ ہوتے ناخن اور بال نہ بڑھتے اس سفر میں جولڑکا پیدا ہوتا اس کا لباس اس کے ساتھ پیدا ہوتا جتنا وہ بڑھتا لباس بھی بڑھتا۔

(ف93)

مَنۡ ترنجبین کی طرح ایک شیریں چیزتھی روزانہ صبح صادق سےطلوع آفتاب تک ہرشخص کے لئےایک صاع کی قدرآسمان سے نازل ہوتی لوگ اس کو چادروں میں لے کر دن بھر کھاتے رہتے سلوٰی ایک چھوٹا پرند ہوتا ہے اس کو ہوا لاتی یہ شکار کرکے کھاتے دونوں چیزیں شنبہ کو تو مطلق نہ آتیں باقی ہر روز پہنچتیں۔ جمعہ کو اور دنوں سے دونی آتیں حکم یہ تھا کہ جمعہ کو شنبہ کے لئے بھی حسب ضرورت جمع کرلو مگر ایک دن سے زیادہ کا جمع نہ کرو بنی اسرائیل نے ان نعمتوں کی ناشکری کی ذخیرے جمع کیے وہ سڑ گئے اور ان کی آمد بند کردی گئی۔ یہ انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا کہ دنیا میں نعمت سے محروم اور آخرت میں سزاوار عذاب کے ہوئے۔

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْؕ-وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۸)

اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جاؤ (۹۴) پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو (ف۹۵) اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں (ف۹۶)

(ف94)

اس بستی سے بیتُ المقدِس مراد ہے یا اریحا جو بیت المقدس کے قریب ہے جس میں عمالقہ آباد تھے اور اس کو خالی کر گئے وہاں غلے میوے بکثرت تھے ۔

(ف95)

یہ دروازہ ان کے لئے بمنزلہ کعبہ کے تھا کہ اس میں داخل ہونا اور اس کی طرف سجدہ کرنا سبب کفارہ ذنوب قرار دیا گیا ۔

(ف96)

مسئلہ :اس آیت سے معلوم ہوا کہ زبان سے استغفار کرنا اور بدنی عبادت سجدہ وغیرہ بجالانا توبہ کا متمم ہے مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشہور گناہ کی توبہ باعلان ہونی چاہئے مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مقامات متبرکہ جو رحمت الہی کے مورد ہوں وہاں توبہ کرنا اور طاعت بجالانا ثمرات نیک اور سرعت قبول کا سبب ہوتا ہے۔ (فتح العزیز) اسی لئے صالحین کا دستور رہا ہے کہ انبیاء و اولیاء کے موالد ومزارات پر حاضر ہو کر استغفار و اطاعت بجالاتے ہیں عرس و زیارت میں بھی یہ فائدہ متصور ہے۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠(۵۹)

تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا (ف۹۷) تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا (ف۹۸) بدلہ ان کی بے حُکمی کا

(ف97)

بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں اور زبان سے ( حِطّۃٌ) کلمۂ توبہ و استغفار کہتے جائیں انہوں نے دونوں حکموں کی مخالفت کی داخل تو ہوئے سرینوں کے بل گھسیٹتے اور بجائے کلمۂ توبہ کے تمسخر سے حَبَّۃٌ فِیۡ شَعۡرَۃٍ کہا جس کے معنی ہیں( بال میں دانہ)

(ف98)

یہ عذاب طاعون تھا جس سے ایک ساعت میں چوبیس ہزار ہلاک ہوگئے ۔

مسئلہ : صحاح کی حدیث میں ہے کہ طاعون پچھلی امتوں کے عذاب کا بقیہ ہے جب تمہارے شہر میں واقع ہو وہاں سے نہ بھاگو دوسرے شہر میں ہو تو وہاں نہ جاؤ

مسئلہ: صحیح حدیث میں ہے کہ جو لوگ مقام وباء میں رضائے الہی پر صابر رہیں اگر وہ وباء سے محفوظ رہیں جب بھی انہیں شہادت کا ثواب ملے گا۔

Brexit

Brexit

برطانیہ عظمیٰ یعنی Great Britainکسی وقت سپر پاور تھا اور کہا جاتا تھا: ”اس کی حدودِسلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا‘ ایک خطے میں سورج غروب ہورہا ہوتا تو دوسرے میں طلوع ہورہا ہوتا ‘‘۔ امریکہ‘ کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ ‘ برصغیر پاک وہند‘ ہانگ کانگ اور افریقا کے کئی ممالک اس کے زیر نگیں تھے‘ پھر اس کے عالمی اقتدار کا سورج بتدریج غروب ہوتا چلا گیااور جنگ عظیم دوم کے بعد اس سمٹائو کی رفتار تیز تر ہوگئی ۔آج کا برطانیہ چار اکائیوں پر مشتمل ہے : انگلینڈ‘ ویلز‘سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ۔سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ میں بھی یو کے سے علیحدگی کی تحریک موجود ہے‘ مستقبل میں ‘اگر یہ تحریکیں کامیاب ہوئیں تو برطانیہ انگلینڈ اور ویلزتک محدود ہوکر رہ جائے گا۔

یورپین یونین نومبر1993ء میں قائم ہوئی‘ یونین کے قیام کے بعداس کے رکن اٹھائیس ممالک الگ الگ خود مختار ریاستیں رہنے کے باوجود ایک مشترکہ منڈی میں شامل ہوگئے ہیں۔اس میں چار چیزوں کی آزادانہ نقل وحرکت کی ضمانت دی گئی ہے ‘یعنی؛ سامانِ تجارت‘ سرمایہ‘ خدمات اور لیبر‘ ان اٹھائیس ممالک کے درمیان کسٹم اور امیگریشن کی چیک پوسٹیں نہیں ہیں ۔ برطانیہ یورپین یونین کے قیام کے باوجود کافی عرصہ الگ تھلگ رہا‘ مگر آخر کار 1998ء میں یونین میں شامل ہوگیا‘ تاہم اس نے اپنی کرنسی پائونڈ سٹرلنگ برقرار رکھی۔

اس کے نتیجے میں برطانیہ میں یورپی یونین کے لوگوں کی آزادانہ آمد شروع ہوئی‘ پولینڈ ودیگر ممالک سے سستی لیبر کی درآمد ہونے لگی‘ سوشل ویلفیئر کے شعبے پر بھی دبائو پڑا۔ انگریزوں کے اندر اپنے ماضی کے اعتبار سے برتری اور تفاخر کا ایک احساس تھا ‘ انہیں خدشہ لاحق ہوا کہ یورپ کی وسیع تر وحدت میں کہیں ان کی انفرادیت اور امتیاز گم نہ ہوجائے‘ سو بوجوہ یونین سے علیحدگی کی تحریک چلی اور آخر کار23جون 2016ء کو اس مسئلے پر ریفرنڈم ہوا‘ جذباتی فضا میں عواقب پر نظر رکھے بغیر محض دو فیصد کی اکثریت سے علیحدگی کا فیصلہ ہوا ۔ یورپین یونین سے علیحدگی کا عمل بھی کافی پیچیدہ ہے اور اسی لیے اس عمل کے مکمل ہونے کے لیے کافی وقت رکھا گیا ہے۔ اُس وقت کے مقبول وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون علیحدگی کے حق میں نہیں تھے‘ ریفرنڈم کا فیصلہ ان کی مرضی کے خلاف آیا تو انہوں نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفا دے دیا‘ تاکہ یورپین یونین سے علیحدگی کی مہم ایک نئی قیادت انجام دے۔

ٹرِسامَے نئی وزیر اعظم منتخب ہوئیں اور ان کی قیادت میں بریگزٹ کا عمل شروع ہوا۔ بریگزٹ Britishکے مخفَّفBR اور Exitکا مرکب ہے ‘اس کے معنی ہیں: ”یورپین یونین سے برطانیہ کا خروج‘‘۔ عربی کا محاورہ ہے :”قَدِّمِ الْخُرُوجَ قَبْلَ الْوُلُوْج‘‘یعنی داخل ہونے سے پہلے نکلنے کی بابت سوچو کہ اگر کہیں اس کی نوبت آگئی تو تدبیر کیا ہوگی‘ اس کو ہم یوں بھی تعبیر کر سکتے ہیں:”کسی کام کے آغاز سے پہلے انجام کی سوچو‘‘۔انگریزوں کی بابت ہمارے ہاں مشہور ہے کہ سو سال بعد کی سوچتے ہیں‘ شاید یورپین یونین میں شمولیت کے وقت وہ یہ نہ کرسکے۔ 

ٹرِسامَے کو آج یہی مشکل درپیش ہے ‘انہوں نے طویل اور صبر آزما مذاکرات کے بعد یورپین یونین کے ساتھ یونین سے علیحدگی کا جو معاہدہ ”بریگزٹ ڈیل‘‘ کے عنوان سے طے کیا‘ برطانوی پارلیمنٹ نے اس کی منظوری دینے سے انکار کردیا‘ پھر اس میں چند ترمیمات پیش ہوئیں‘ مگر پارلیمنٹ نے انہیں بھی رد کردیا‘ آخر میں صرف ایک ترمیم کی منظوری ہوئی: ”No Brexit with out deal‘‘ یعنی ڈیل کے بغیر بریگزٹ نہیں ہوگی‘ جبکہ بظاہر تا حال No Dealکے آثار زیادہ ہیں۔ ٹرِسامَے ہاتھ پائوں مار رہی ہیں ‘ان کی حالت قابلِ رحم ہے ‘ لیکن یورپین یونین ڈیل پرنظرثانی کے لیے تیار نہیں ہے ۔ انگریزوں نے سوچا نہیں ہوگا کہ ایسی بند گلی میں بھی پھنس سکتے ہیں۔

در اصل دو ایسے تضادات ہیں‘ جن میں بیک وقت تطبیق آسان نہیں ہے۔ ایک تو یہ کہ یورپین یونین سے نکلنے کے بعد برطانیہ اور یونین کے دیگر ممالک کے درمیان کسٹم ڈیوٹی اور امیگریشن چیک پوسٹ کے روایتی اصول لاگو ہوں گے‘افراداور سامان کی بلا روک ٹوک اور آزادانہ نقل وحمل کی سہولت ختم ہوجائے گی‘ الغرض برطانیہ یونین کے دوسرے ممالک کے لیے اجنبی ہوجائے گا۔ دوسرا یہ کہ برطانیہ اورجمہوریہ آئر لینڈ کے درمیان 2003میں ”Good Friday Agreement‘‘کے نام سے یہ معاہدہ طے پاچکا ہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ اورشمالی آئر لینڈکے درمیان ہارڈ کسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹ نہیں ہوگی اور لوگوں کی دونوں طرف آمد ورفت اور سامان کی نقل وحمل آزادانہ رہے گی ۔ آئر ش قوم کے یہ دونوں حصے خشکی پر ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں‘ جبکہ برطانیہ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان سمندر ہے ۔ آئر لینڈ کے دونوں حصوں کی صورت ایسی ہی ہے‘ جیسے ہمارے قبائلی علاقہ جات میں افغانستان کے لوگوں کی آمد ورفت کسٹم اور امیگریشن کے بغیر جاری رہتی ہے ‘ کیونکہ دونوں طرف ایک ہی قبائل کے لوگ رہتے ہیں۔واضح رہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ آزاد ملک ہے اور بدستوریورپین یونین کا رکن ہے اور شمالی آئر لینڈ برطانیہ کے زیر اقتدار ہے۔

شمالی آئر لینڈ برطانیہ کا حصہ ہے ‘لہٰذا اب بریگزٹ کے بعد یونین قوانین کا تقاضا ہے کہ جمہوریہ آئر لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے درمیان باقاعدہ ہارڈکسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹیں ہوں ‘ سامان کی آزادانہ نقل وحمل اور دونوں طرف کے لوگوں کی آزادانہ آمد ورفت موقوف ہوجائے‘ جب کہ شمالی آئر لینڈ کے لوگ اس پر کبھی آمادہ نہیں ہوں گے‘ ماضی میں فسادات ہوتے رہے ہیںاوراگرآئر لینڈ کے دونوں حصوں کے درمیان سامان اور لوگوں کی آزادانہ نقل وحمل اور آمد ورفت جاری رہتی ہے تو یورپین یونین کا مطالبہ ہے کہ برطانیہ اور یونین کے درمیان ہارڈ کسٹم اور امیگریشن چیک پوسٹ کے لیے کوئی بیک اپ لائن ہونی چاہیے‘ جبکہ ٹرسامَے کہتی ہیں کہ ہم سمندر میں لائن کیسے کھینچ سکتے ہیں‘ کیونکہ ایک ہی ملک ہے۔ 

سو‘ اس مسئلے کا حل آسان نہیں ہے اور ٹرِسامے مشکل میں ہے۔ پس آج ماضی کی سپر پاور کا المیہ یہ ہے کہ بریگزٹ اُس کے گلے کا چھچھوندر بنا ہوا ہے‘ نہ نگلا جارہا ہے اور نہ اگلا جارہا ہے۔ ان مذاکرات کے بارے میں گارڈین اخبار نے لکھا: ”یہ مذاکرات بے خبر لوگوں کے لیے کسی تیاری کے بغیر نامعلوم ایجنڈے کے تحت نامعلوم نتائج حاصل کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں ‘‘۔ 

ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا جہل کو فروغ دینے کے لیے شہباز شریف‘ عبدالعلیم خاں ‘شیخ رشید اور فواد چودھری ایسے اہم موضوعات میں اتنا مصروف ہے کہ نئی نسل کوعالمی مسائل کے بارے میں آگہی دینے کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہے اور شاید ہمارے کالج اور یونیورسٹی سطح کے نوجوان طلبہ بھی عالمی امور کی ان نزاکتوں سے آگاہ نہیں ہوں گے ۔

فطرت سے بغاوت: کیتھولک مسیحیت میں ان کے مذہبی پیشوامرد وزن تجردکی زندگی گزارتے ہیں‘ شادی نہیں کرتے‘ وہ اس سے استدلال کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے شادی نہیں کی تھی‘ یہ لوگ رُہبان (راہب کی جمع) اور راہبات (راہبہ کی جمع)کہلاتے ہیں اورانگریزی میں انہیں Monksاور Nunsکہتے ہیں‘ یہ فطرت کے خلاف ہے ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نبی کریمﷺ کے امتی کی حیثیت سے قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اور علامہ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے :”شادی بھی کریں گے‘‘۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے: ”یہ تمہارے لیے کیسامقامِ افتخار ہوگا کہ مسیح ابن مریم علیہ السلام تمہارے درمیان اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا‘‘ (مسند احمد: 7680)۔بالفرض شادی کی روایت سے کسی کو اختلاف بھی ہو تو وہ نبی ہیں اور نبی معصوم ہوتے ہیں۔ حضرت زکریا نے جب حضرت مریم کے حجرۂ عبادت میں اُن کے پاس بے موسم کا تازہ پھل دیکھا ‘ تو اُن کے دل میں امنگ پیدا ہوئی کہ جوقادرِ مطلق بے موسم کا تازہ پھل عطافرماسکتا ہے ‘ وہ بڑھاپے میں اولاد بھی عطا فرماسکتاہے۔سو‘ انہوں نے اولاد کے لیے دعا کی اور اس کی قبولیت کی بابت قرآنِ کریم میں ہے: ” بے شک اللہ تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے‘ جو کلمۃ اللہ (حضرت عیسیٰ ) کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘سردار ہوں گے ‘ عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور نیک لوگوں میں سے نبی ہوں گے ‘‘ (آل عمران:39)۔پس غیر ِنبی کو چاہیے کہ اپنے آپ کو انبیائے کرام علیہم السلام کی خصوصیات پرقیاس نہ کرے۔سیدنا محمد ﷺ کی بھی بہت سی خصوصیات وامتیازات ہیں‘ جو امت کے لیے واجب الاتباع نہیں ہیں‘ جیسے: ایک وقت میں چار سے زیادہ ازواجِ مطہرات کا نکاح میں ہونا‘ افطار کیے بغیر پے در پے روزے رکھنااور تہجد کی نماز کااضافی ہوناشامل ہے۔ اس لیے سنت صرف آپ ﷺ کے اُن اقوال‘ افعال اور احوالِ مبارکہ کو کہتے ہیں ‘جو امت کی اتباع کے لیے ہیں۔

عیسائی مذہبی پیشوائوں کا تجرُّد کا شعار فطرت کے خلاف ہے اور ان کے منفی نتائج کا برآمد ہونا ناگزیر ہے ؛ چنانچہ اب کیتھولک عبادت گاہوں میں بچوں اور خود ان کی راہبات (Nuns)کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات منظرعام پر آرہے ہیں۔ پہلے تو کیتھولک چرچ ان جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا تھا‘ لیکن کچھ عرصے سے مغربی پریس نے ان واقعات کو بہت زیادہ اچھالنا شروع کردیاہے‘لہٰذا اب کیتھولک مسیحیت کے روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے متحدہ عرب امارات کے دورے کے موقع پراعتراف کیا ہے کہ راہبات کو جنسی غلام بنا لیا جاتا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ مسیحی چرچ اس پر غور کرے اور اپنے راہبوں(Monks) اور راہبات (Nuns) کو شادیوں کی اجازت دے‘ تاکہ چرچ میں بچوں اور عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا سدِّباب ہوسکے۔ قانون فطرت سے انحراف منفی نتائج کو جنم دیتا ہے‘ آپ پانی کے فطری بہائو کو روکیں گے تو وہ کسی اور جانب سے اپنا راستہ بنالے گا۔

الحمد للہ علیٰ احسانہٖ! میرے فتاویٰ کا مجموعہ ”تفہیم المسائل ‘‘ کے عنوان سے دس مجلّدات پر مشتمل شائع ہوچکا ہے‘ گیارہویں جلد زیر ترتیب ہے اور روزنامہ دنیا میں مطبوعہ کالموں کا مجموعہ ”آئینہ ایام‘‘ کے نام سے پانچ مجلدات پر مشتمل شائع ہوچکا ہے اور ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور/کراچی سے دستیاب ہے ‘ تفہیم المسائل کا مجموعہ خواجہ بک ڈپو جامع مسجد دہلی کے زیر اہتمام انڈیاسے بھی شائع ہوچکا ہے ۔الحمد للہ! ہمارے کالموں اور تحریروںکے قارئین دیگر ممالک کے علاوہ بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بھی کافی تعداد میں ہیں ‘ ان کے ساتھ برطانیہ کے دوست علماء کے توسط سے ہمارابالواسطہ رابطہ ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے۔ (النساء : ٥٩) 

کتاب ‘ سنت ‘ اجماع اور قیاس کی حجیت پر استدلال :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دلائل شرعیہ چار ہیں۔ کتاب ‘ سنت ‘ اجماع ‘ اور قیاس ‘ اطیعوا اللہ ‘ سے مراد کتاب اللہ کے احکام ہیں۔ اطیعوا الرسول سے مراد سنت ہے اور اولی الامر منکم سے مرا داجماع ہے یعنی ہر زمانہ کے علماء حق کی اکثریت کیونکہ علماء حق کی اکثریت کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہوگی اور (آیت) ” فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول “ اس سے مراد قیاس ہے یعنی جس مسئلہ کی کتاب اور سنت صاف تصریح نہ ہو اس کی اصل کتاب اور سنت سے نکال کر اس کو کتاب اور سنت کی طرف لوٹا دو اور اس پر وہی حکم جاری کردو۔ 

اولی الامر کی تفسیر میں متعدد اقوال اور مصنف کا مختار : 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : (آیت) ” اولی الامر منکم “۔ سے مراد امراء اور حکام ہیں ‘ ابن وہب نے کہا اس سے مراد سلاطین ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد اصحاب فقہ ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد اہل دین اور اہل فقہ ہیں یعنی دیندار علماء عطاء بن سائب نے کہا اس سے مراد صاحبان علم اور اصحاب فقہ ہیں ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد علماء ہیں ‘ مجاہد سے ایک روایت یہ ہے کہ اس سے مراد صحابہ ہیں امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے فرمایا ان اقوال میں اولی یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر “ سے مراد ائمہ اور حکام ہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میرے بعد حکام ہوں گے (ان میں) نیک حاکم بھی ہوں گے اور فاسق بھی ‘ تم ان کے احکام سننا اور ان کا جو حکم حق کے موافق ہو اس میں ان کی اطاعت کرنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا اگر وہ نیک کام کریں گے تو اس میں تمہارا اور ان کا نفع ہے اور اگر وہ برے کام کریں گے تو تم کو نفع ہوگا اور ان کو ضرر ‘ اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان شخص پر حکم کی اطاعت لازم ہے خواہ اس کو وہ حکم پسند ہو یا ناپسند ‘ ہاں اگر اس کو اللہ کی معصیت کا حکم دیا جائے تو خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٥۔ ٩٣‘ ملخصا مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امام فخرالدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے فرمایا (آیت) ” اولی الامر منکم “ کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں۔ (١) خلفاء راشدین۔ (٢) عہد رسالت میں لشکروں کے حاکم (٣) وہ علماء حق جو احکام شرعیہ کے مطابق فتوی دیتے ہیں اور لوگوں کو دین کی تعلیم دیتے ہیں یہ قول حضرت ابن عباس (رض) ‘ حسن بصری اور مجاہد سے مروی ہے اور روافض سے مروی ہے کہ اس سے مراد ائمہ معصومین ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٢٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

ہماری رائے یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد علماء حق ہیں جو قرآن اور سنت سے مسائل استنباط کرتے ہیں اور پیش آمدہ مسائل میں فتوے دیتے ہیں اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے : 

(آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ (النسآء : ٨٣) 

ترجمہ : اور اگر وہ اس معاملہ کو رسول اور اپنے اولی الامر کی طرف لوٹا دیتے تو اس کا (حل) وہ لوگ ضرور جان لیتے تو ان میں سے کسی مسئلہ کو مستنبط کرسکتے ہیں۔ 

اور خلفاء راشدین کے دور کے بعد ہر زمانہ میں مسلمان ‘ امراء اور حکام کے مقابلہ میں ائمہ فتوی کی پیروی کرتے ہیں۔ آج بھی اگر عدالت کسی عورت کا یک طرفہ فیصلہ کرکے اس کا نکاح فسخ کردیتی ہے تو مسلمان اس فیصلہ کو ائمہ فتوی کے پاس لے جاتے ہیں اگر وہ اس کی تائید کردیں تو اس فیصلہ پر عمل کرکے عورت کا نکاح کردیتے ہیں ورنہ نہیں کرتے ‘ اور خلفاء راشدین خود اصحاب علم اور ائمہ فتوی تھے اس سے معلوم ہوا کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد ہر دور میں ائمہ فتوی اور علماء اور فقہاء ہی ہیں۔ 

اللہ اور رسول کی اطاعت مستقل ہے اور (آیت) ” اولی الامر “ کی اطاعت بالتبع ہے۔ 

اس آیت میں (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ فرمایا ہے اور (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے پہلے ” اطیعوا “ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اس کا پہلے اطیعوا ‘ پر عطف کیا گیا تاکہ ان کی اطاعت بالتبع ہو اس میں یہ نکتہ ہے کہ اللہ کی مستقل اطاعت ہے اور رسول کی بھی مستقل اطاعت ہے اور علماء اور حکام کی مستقل اطاعت نہیں ہے جب ان کے احکام اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق ہوں تو ان کی اطاعت ہے ورنہ نہیں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنادیا اس نے آگ جلائی اور لشکر سے کہا اس میں داخل ہوجاؤ ’ بعض لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا دوسروں نے کہا ہم آگ ہی سے بھاگ کر (اسلام میں) آئے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا تو جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا آپ نے ان سے فرمایا اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اس آگ ہی میں رہتے اور دوسروں کی آپ نے تعریف کی اور فرمایا اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے اطاعت صرف نیکی میں ہے (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٤٠) 

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اقوال صحابہ پر مقدم ہیں : 

نیز اس آیت میں فرمایا : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اللہ اور رسول کی ارشادات باقی تمام لوگوں پر مقدم ہیں ‘ ہم اس سے پہلے باحوالہ بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کو تیمم کرنے سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کیلیے تیمم کو مشروع کیا ہے اس لیے جمہور صحابہ ‘ فقہاء تابعین اور مجتہدین اسلام نے حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) کی جلالت شان کے باوجود انکے قول کو قبول نہیں کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیث کو مقدم رکھا۔ 

اس کی ایک اور مثال یہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) زخمی ہوگئے تو حضرت صیہب (رض) روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ہائے میرے بھائی ‘ ہائے میرے صاحب ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے صہیب تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میت کے گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٧) جب حضرت عائشہ ام المومنین (رض) کے سامنے حضرت عمر (رض) کا یہ قول بیان کیا گیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے ‘ خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے اور تمہارے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کافی ہے۔

(آیت) ” ولا تزروازرۃ وزراخری “۔ (الزمر : ٧) 

ترجمہ : اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٨) 

حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایک یہودیہ (کی قبر) سے ہوا جس پر لوگ رو رہے تھے ‘ آپ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٩) 

حضرت عائشہ (رض) نے قرآن مجید کو حضرت عمر کے قول پر مقدم رکھا اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عام قاعدہ نہیں بیان کیا کہ گھروالوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے کیونکہ کسی کے گناہ کا دوسرے کو عذاب نہیں ہوتا ‘ بلکہ آپ نے ایک خاص واقعہ میں ایک یہودی عورت متعلق یہ فرمایا تھا ‘ مرتبہ صحابیت میں حضرت عمر (رض) کا مرتبہ حضرت عائشہ (رض) سے بہت زیادہ ہے لیکن حضرت عائشہ (رض) نے اللہ اس کے رسول کے ارشاد کو حضرت عمر (رض) کے قول پر مقدم رکھا۔ 

اسی طرح حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان حج تمتع سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ حج تمتع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے ثابت ہے اس لیے جمہور صحابہ اور فقہاء تابعین اور علماء اسلام نے آپ کی سنت ثابتہ کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہیں کیا : مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کے پاس حاضر تھا ‘ حضرت عثمان تمتع اور حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے ‘ جب حضرت علی (رض) نے یہ دیکھا تو آپ نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اور کہا لبیک بعمرۃ وحجۃ “ میں نبی کریم کی سنت کو کسی کے بناء پر ترک نہیں کروں گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٥٦٣) 

حضرت عمران (رض) نے کہا ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تمتع کیا اور قرآن نازل ہوتا رہا اور ایک شخص نے اپنی رائے سے جو کہا سو کہا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٧١) 

سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل شام سے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے حج تمتع (الگ الگ احرام کے ساتھ حج اور عمرہ جمع کرنے) کے متعلق سوال کیا ‘ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا وہ جائز ہے ‘ اس نے کہا آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے تھے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا یہ بتاؤ کہ میرے باپ حج تمتع سے منع کرتے ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہو تو میرے باپ کے حکم پر عمل کیا جائے گا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم پر ! اس شخص نے کہا بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر عمل کیا جائے گا حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٨٢٥) 

ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ اکابر کا کوئی قول اگر قرآن مجید اور حدیث صحیح کے خلاف ہو تو اصاغر کے لیے یہ جائز ہے کہ اس قول سے اختلاف کریں اور اللہ اور رسول کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہ کریں اور اس میں انکی کوئی بےادبی اور گستاخی نہیں ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول کی بڑائی کا اظہار ہے اور سورة نساء کی اس آیت پر عمل ہے : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ۔ 

ائمہ اور فقہاء کے اقوال پر احادیث کو مقدم رکھنا ان کی بےادبی نہیں ہے۔ 

اسی طرح اگر ائمہ مجتہدین میں سے کسی کا قول حدیث صحیح کے خلاف ہو تو حدیث صحیح پر عمل کیا جائے گا اور اس میں کسی امام کی بےادبی نہیں ہے بلکہ اس آیت پر عمل ہے ‘ امام ابوحنیفہ نے عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کو مطلقا مکروہ قرار دیا ہے خواہ متصل روزے رکھے جائیں یا منفصل تاکہ فرض پر زیادتی کے ساتھ تشبیہ نہ ہو ‘ لیکن حدیث صحیح میں اس کی فضیلت اور استحباب ہے۔ 

حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی مثل ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١١٦٤) 

لیکن چونکہ امام اعظم (رح) کا یہ قول حدیث صحیح کے خلاف ہے اس لیے علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ لیکن عام متاخرین فقہاء کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنے میں مطلقا کوئی کراہت نہیں ہے۔ (البحرالرائق ج ٢ ص ٢٥٨) 

علامہ ابن ہمام متوفی ٨٦١ ھ علامہ طحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ ‘ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی متوفی متوفی ١٠٦٩ ھ اور علامہ ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ سب نے اسی طرح لکھا ہے اور ان روزوں کو مستحب قرار دیا ہے۔ 

اسی طرح امام محمد نے امام ابوحنیفہ سے یہ روایت کی ہے کہ لڑکے کا عقیقہ کیا جائے نہ لڑکی کا (الجامع الصغیر ص ٥٣٤) اور تمام فقہاء احناف نے عقیقہ کرنے کو مکروہ یا مباح لکھا ہے (بدائع الصنائع ج ٥ ص ٦٩ عالم گیری ج ٥ ص ٣٦٢) 

لیکن چونکہ بہ کثرت احادیث سے عقیقہ کا سنت ہونا ثابت ہے اس لیے امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ نے لکھا ہے کہ عقیقہ سنت ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ٨ ص ٥٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

دلائل کی بناء پر اکابر سے اختلاف کرنا ان کی بےادبی نہیں ہے ـ: 

اسی طرح امام احمد رضا قادری کے بعد کے علماء نے امام احمد رضا قادری سے بھی اختلاف کیا ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ بدھ کے دن ناخن کاٹنے کے متعلق لکھتے ہیں : 

نہ چاہیے حدیث میں اوس سے نہی (ممانعت) آئی کہ معاذ اللہ مورث برص ہوتا ہے بعض علماء رحمہم اللہ نے بدھ کو ناخن کتروائے کسی نے برنباء حدیث منع کیا ‘ فرمایا صحیح نہ ہوئی فورا برص ہوگئے۔ (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ٣٧ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

صدرالشریعہ مولانا امجد علی قادری متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

ایک حدیث میں ہے جو ہفتہ کے دن ناخن ترشوائے اس سے بیماری نکل جائے گی اور شفا داخل ہوگی اور جو اتوار کے دن ترشوائے فاقہ نکلے گا ‘ اور توانگری آئے گی ‘ اور جو پیر کے دن ترشوائے جنون جائے گا اور صحت آئے گی اور جو منگل کے دن ترشوائے مرض جائے گا اور شفا آئے گی اور جو بدھ کے دن ترشوائے وسواس وخوف نکلے گا اور امن وشفا آئے گی الخ۔ (درمختار۔ ردالمختار) ّ (بہار شریعت ج ١٦ ص ١٢٢‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکشز لاہور) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انگریزی رقیق دوائیں جو ٹنچر کہلاتی ہیں ان میں عموما اسپرٹ پڑتی ہے اور اسپرٹ یقینا شراب بلکہ شراب کی نہایت بدتر قسموں سے ہے وہ نجس ہے ان کا کھانا حرام لگانا حرام بدن یا کپڑے یا دونوں کی مجموع پر ملا کر اگر روپیہ بھر جگہ سے زیادہ میں ایسی شے لگی ہوئی ہو نماز نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ ج ١١ ص ٨٨ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی متوفی ١٩٦٦ ء لکھتے ہیں : 

لیکن ہم نے جہاں تک ڈاکٹروں کی زبانی سنا یہی معلوم ہوا کہ یہ (اسپرٹ) بھی شراب سے نہیں بنائی جاتی جس کو شرعا خمر کہا جاتا ہے بلکہ یہ (اسپرٹ) ایسی شراب کا جوہر ہے جو گنے وغیرہ سے بنائی گئی ہے پس اگر یہ صحیح ہے تو اس کا استعمال بغرض صحیح (اس مقدار میں جو مسکر نہیں ہے) حرام نہیں اور اس کی بیع وشراء بھی جائز ہے۔ (فتاوی مظہریہ ص ٢٨٩‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ سید مہدی حسن مارہرہ کے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں : 

حضور عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعا ممنوع وسنت نصاری وفتح یاب ہزاراں فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ١٥٤ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی متوفی ١٤٠٣ ھ لکھتے ہیں : 

پھر حدیث صحیح سے بھی یہ مسئلہ تعلیم الکتابہ للنساء ثابت ہے مسند احمد بن حنبل ج ٦ ص ٣٧٢‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٦‘ مستدرک حاکم ج ٤ ص ٥٧‘ سنن بیہقی ج ٩ ص ٣٤٩‘ میں حضرت شفابنت عبداللہ (رض) سے بکلمات متقاربہ ثابت ہے کہ حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حفصہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور میں بھی حاضر تھی تو مجھے فرمایا کی تو اس کو رقیہ النملۃ کی تعلیم نہیں دیتی جیسے اس کو کتابت کی تعلیم تم نے دی ہے حاکم نے کہا یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٤‘ مطبوعہ لاہور ١٩٨٣ ء) 

نیز امام احمد رضا قادری نے سماع مع المزامیر کو حرام لکھا ہے اور استاذ العلماء مولانا حافظ عطا محمد چشتی دامت برکاتھم اور حضرت غزالی زماں امام اہل سنت سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ نے اس کو جائز لکھا ہے۔ 

علماء اور مجتہدین حضرات معصوم نہیں دلائل کے ساتھ ان سے اختلاف کرنا جائز ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کچھ بشر معصوم نہیں اور غیر معصوم سے کوئی نہ کوئی کلمہ غلط یا بیجا صادر ہونا کچھ نادر کا لمعدوم نہیں پھر سلف صالحین وائمہ دین سے آج تک اہل حق کا یہ معمول رہا ہے کہ ہر شخص کا قول قبول بھی کیا جاتا ہے۔ اور اس کو رد بھی کیا جاتا ہے جاتا ہے ماسوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ‘ جس کی جو بات خلاف حق و جمہور دیکھی وہ اسی پر چھوڑی اور اعتقاد وہی رکھا جو جماعت کا ہے (فتاوی رضویہ ج ٦ ص ٢٨٣ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

نیز فرماتے ہیں : 

ویابی اللہ العصمۃ الالکلامہ ولکلام رسولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ اپنے کلام اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کے سوا کسی کے کلام کو معصوم قرار دینے سے انکار فرماتا ہے (پھر فرمایا) انسان سے غلطی ہوتی ہے مگر رحمت ہے اس پر جس کی خطا کسی امر دینی مہم پر زد نہ ڈالے۔ (الملفوظ ج ٤ ص ٣‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ سے سوال کیا گیا کہ اعلی حضرت مجدد مائتہ حاضرہ نے گھڑی کے چین اور عورتوں کی کتابت اور انگریزی لباس وغیرہ کو ناجائز لکھا ہے اور آپ نے ان کو جائز لکھا ہے کیا وہ فتوی وقتی اور عارضی تھا اور اب یہ امور جائز ہوگئے ہیں ؟ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ نے اس کے جواب میں لکھا : 

(١) ہاں مجدد وقت کی ایسی ہدایات و تصریحات (جو کتاب وسنت سے مستنبط ہیں) کی روشنی میں یوں ہوسکتا ہے ؟ بلکہ عملا خود مجدد وقت ہی اس کا سبق بھی دے چکے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ خالصا لوجہ اللہ تعالیٰ ہو ‘ تعجب ہے کہ خود مستفتی صاحب کو روز روشن کی طرح معلوم ہے کہ حضرت امام اعظم (رض) کے محققانہ اقوال وفتاوائے شرعیہ کی موجودگی میں حضرات صاحبین وغیرہما اجلہ تلامذہ بلکہ متاخرین کے بھی بکثرت ایسے اقوال وفتاوی ہیں ‘ جو ان کے خلاف ہیں جن کی بنا قول صوری و ضروری وغیرہ اصول ستہ پر ہے جس کی تفصیل فتاوی رضویہ ج ١ ص ٣٨٥ وغیرہا میں ہے بلکہ یہ بھی اظہرمن الشمس ہے کہ خود ہمارے مجدد برحق کے صدہا نہیں بلکہ ہزار ہا تطفامات ہیں جو صرف متاخرین نہیں بلکہ متقدمین حضرات فقیہ النفس امام قاضی خاں وغیرہ کے اقوال وفتاوی شرعیہ پر ہیں جن میں اصول ستہ کے علاوہ سبقت قلم وغیرہ کی صریح نسبتیں بھی مذکور ہیں اور یہ بھی نہاں نہیں کہ ہمارے مذہب مہذب میں مجددین حضرات معصوم نہیں تو تطفامات کا دروازہ اب کیوں بند ہوگیا ؟ کیا کسی مجدد کی کوئی ایسی تصریح ہے یا کم از کم اتنی ہی تصریح ہو کہ اصول ستہ کا زمانہ اب گزر گیا لہذا الکیر کا فقیر بننا فرض عین ہوگیا ‘ کیا تازہ حوادثات ونوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکل صم بکم بن جائیں اور عملا اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے ‘ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزار ہا تقاضوں کا کوئی حل ہی نہیں ‘ ” ولا حوال ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ 

اسی ایک جواب سے نمبر ٢ اور نمبر ٣ کے جواب میں واضح ہیں البتہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مفاد ومنشا سے جائز ومباح کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں مگر شرعا اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں ‘ غرضیکہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ہی ضروری ہے ‘ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علماء کرام محض اللہ کے لیے نفسانیت سے بلند وبالا سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں ‘ مثلا یہ کہ وہ لباس جو کفار یا فجار کا شعار ہونے کے باعث ناجائز تھا کیا اب بھی شعار ہے تو ناجائز ہے یا اب شعار نہیں رہا تو جائز ہے ‘ مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کرسکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔ ” فانا للہ وانا الیہ راجعون “۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٠۔ ٤٦٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ (النساء : ٥٨) 

ربط آیات اور شان نزول :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے بعض احوال بیان فرمائے اور وعید اور وعد کا ذکر فرمایا ‘ اس کے بعد پھر احکام تکلیفیہ کا ذکر شروع فرمایا ‘ نیز اس سے پہلے یہود کی خیانت کا ذکر فرمایا تھا کہ انکی کتاب میں سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر جو دلائل ہیں وہ ان کو چھپالیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتے اور اس میں خیانت کرتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو امانت داری کا حکم دیا۔ امانت ادا کرنے کا حکم عام ہے خواہ مذاہب میں ہو ‘ عقائد میں ہو معاملات میں ہو یا عبادات میں ہو۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کے متعلق نازل ہوئی ہے فتح مکہ کے دن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس سے کعبہ کی چابیاں لے لیں پھر آپ بیت اللہ کے باہر اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے آئے ‘ پھر آپ نے عثمان کو بلایا اور انہیں چابیاں دے دیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٢) 

امانت ادا کرنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

فان امن بعضکم بعض فلیؤد الذی اؤتمن امانتہ ولیتق اللہ ربہ “۔ (البقرہ : ٢٨٣) 

ترجمہ : پس اگر تم میں سے ایک کو دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کی امانت ادا کردے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امانتکم وانتم تعلمون “۔ (الانفال : ٢٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرودرآں حالیکہ تم کو علم ہے۔ 

(آیت) ” والذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون “۔ (المؤمنون : ٨) 

ترجمہ : اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ 

امانت ادا کرنے کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرو ‘ سائل نے پوچھا امانت کیسے ضائع ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جب کوئی منصب کسی نااہل کے سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٩) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٣٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٨‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٩٧‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٤١٤‘ المستدرک ج ٢ ص ٤٦) 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجالس کی گفتگو امانت ہوتی ہے ماسوا اس کے کہ کسی کا ناجائز خون بہانا ہو ‘ یا کسی کی آبرو ریزی کرنی ہو یا کسی کا مال ناحق طریقہ سے حاصل کرنا ہو (یعنی اگر ایسی بات ہو تو اس کی صاحب حق کو اطلاع دے کر خبردار کرنا چاہیے) (سنن ابودادؤ‘ رقم الحدیث : ٤٨٦٩) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص امانت دار نہ وہ اس کا ایمان نہیں اور جو وضو نہ کرے اس کا ایمان نہیں۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٤) 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘ جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو امانت ادا کرو ‘ جب تم عہد کرو تو اس کو پورا کرو ‘ جب تم بات کرو سچ بولو ‘ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ‘ اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ نہ پھیلاؤ۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٦ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت میں سے جو چیزیں سب سے پہلے اٹھائی جائیں گی وہ حیا اور امانت ہیں ‘ سو تم اللہ عزوجل سے اس کا سوال کرو۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا کسی شخص کی نماز اور روزے سے تم دھوکے میں نہ آنا ‘ جو چاہے نماز پڑھے اور جو چاہے روزے رکھے لیکن جو امانت دار نہیں ہے وہ دین دار نہیں ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٩)

اللہ کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ متعلق ہوتا ہے یا مخلوق کے ساتھ اور ہر معاملہ کے ساتھ اس پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ کو امانت داری کے ساتھ کرے۔ 

اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام بجالائے اور جن چیزوں سے اللہ نے اس کو منع کیا ہے ان سے رک جائے ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا ہر چیز میں امانت داری لازم ہے ‘۔ وضو میں جنابت میں ‘ نماز میں ‘ زکوۃ میں اور روزے میں ‘ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان میں شرم گاہ پیدا کی اور فرمایا میں اس امانت کو تمہارے پاس چھپا کر رکھ رہا ہوں ‘ اس کی حفاظت کرنا ‘ ہاں اگر اس کا حق ادا کرنا ہو ‘ یہ بہت وسیع معاملہ ہے ‘ زبان کی امانت یہ ہے کہ اس کو جھوٹ ‘ چغلی ‘ غیبت ‘ کفر ‘ بدعت اور بےحیائی کی باتوں میں نہ استعمال کرے ‘ آنکھ کی امانت یہ ہے کہ اس سے حرام چیز کی طرف نہ دیکھے۔ کان کی امانت یہ ہے کہ اس سے موسیقی ‘ فحش باتیں ‘ جھوٹ اور کسی کی بدگوئی نہ سنے ‘ نہ دین اور خدا اور رسول کے خلاف باتیں سنے ‘ ہاتھوں کی امانت یہ ہے کہ ان سے چوری ‘ ڈاکہ ‘ قتل ‘ ظلم اور کوئی ناجائز کام نہ کرے ‘ منہ میں لقمہ حرام نہ ڈالے ‘ اور پیروں کی امانت یہ ہے کہ جہاں جانے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے وہاں نہ جائے اور تمام اعضاء سے وہی کام لے جن کاموں کے کرنے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 

(آیت) ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان ‘ انہ کان ظلوما جھولا “۔ (الاحزاب ‘ ٧٢) 

ترجمہ : ہم نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر اپنی امانت کو پیش کیا انہوں نے اس امانت میں خیانت کرنے سے انکار کیا اور اس میں خیانت کرنے سے ڈرے ‘ اور انسان نے اس میں خیانت کی بیشک وہ ظالم اور جاہل ہے۔ 

خلق خدا کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

تمام مخلوق کی امانت کو ادا کرنا ‘ اس میں یہ امور داخل ہیں : اگر کسی شخص نے کوئی امانت رکھوائی ہے تو اس کو واپس کرنا ‘ ناپ تول میں کمی نہ کرنا ‘ لوگوں کے عیوب بیان نہ کرنا ‘ حکام کا عوام کے ساتھ عدل کرنا ‘ علماء کا عوام کے ساتھ عدل کرنا بایں طور پر کہ انکی صحیح رہنمائی کرنا ‘ تعصب کے بغیر اعتقادی مسائل کو بیان کرنا ‘ اس میں یہود کیلیے بھی یہ ہدایت ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے جو دلائل تورات میں مذکور ہیں انکونہ چھپائیں ‘ اور بیوی کے لئے ہدایت ہے کہ شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی عزت اور اس کے مال کی حفاظت کرے اور جس شخص کا گھر میں آنا اسے ناپسند ہو اس کو نہ آنے دے ‘ تاجر ذخیرہ اندوزی نہ کریں ‘ بلیک مارکیٹ نہ کریں ‘ نقلی دوائیں بنا کر لوگوں کی جان سے نہ کھیلیں ‘ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ نہ کریں ‘ ٹیکس نہ بچائیں ‘ اسمگلنگ کرکے کسٹم ڈیوٹی نہ بچائیں۔ سودی کاروبار نہ کریں ‘ ہیروئن ‘ چرس اور دیگر نشہ آور اور مضر صحت اشیاء کو فروخت نہ کریں ‘ بیروکریٹس رشوت نہ لیں ‘ سرکاری افسران اپنے محکمہ سے ناجائز مراعات حاصل نہ کریں ‘ ڈیوٹی پر پورا وقت دیں ‘ دفتری اوقات میں غیر سرکاری کام نہ کریں۔ آج کل شناختی کارڈ ‘ پاسپورٹ مختلف اقسام کے لائسنس اور ٹھیکہ داروں کے بل غرض کوئی کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا جب ان کاموں کا کرنا ان کی سرکاری ڈیوٹی ہے تو بغیر رشوت کے یہ کام نہ کرنا سرکاری امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح ایک پارٹی کے ممبر کو عوام میں اس پارٹی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں ممبربننے کے بعد وہ رشوت لے کر لوٹا کریسی کی بنیاد پر پارٹی بدل لیتا ہے تو وہ بھی عوام کے انتخاب اور انکی امانت میں خیانت کرتا ہے ‘ حکومت کے ارکان اور وزراء جو قومی خزانے اور عوام کے ٹیکسوں سے بلاوجہ غیر ملکی دوروں پر غیر ضروری افراد کو اپنے ساتھ لے جا کر اللے تللے اور عیاشیاں کرتے ہیں وہ بھی عوام کی امانت میں خیانت کرتے ہیں ‘ اسکول اور کالجز میں اساتذہ اور پروفیسر حضرات پڑھانے کی بجائے گپ شب کرکے وقت گزار دیتے ہیں۔ یہ بھی امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح تمام سرکاری اداروں میں کام نہ کرنا اور بےجامراعات حاصل کرنا اور اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو نوازنا ‘ کسی اسامی پر رشوت یا سفارش کی وجہ سے نااہل کا تقرر کرنا یہ بھی امانت میں خیانت ہے، کسی دنیاوی منفعت کی وجہ سے نااہل کو ووٹ دینا یہ بھی خیانت ہے۔ اگر ہم گہری نظر سے جائزہ لیں تو ہمارے پورے معاشرے میں خیانت کا ایک جال بچھا ہوا ہے اور ہر شخص اس نیٹ ورک میں جکڑا ہوا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحت افراد کے متعلق سوال ہوگا ‘ حاکم نگہبان ہے اور اس سے اپنے عوام کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور مرد اپنے اہل خانہ کا نگہبان ہے اور اس سے اپنے اہل کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اور اس سے امور خانہ کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ نوکر اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور ایک شخص اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور تم میں سے ہر شخص (کسی نہ کسی چیز کا) نگہبان ہے اور اس سے اس چیز کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٨٩٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٢٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٩٢٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے کسی آدمی کو کسی جماعت کا امیر بنایا حالانکہ اس کی جامعت میں اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بندہ تھا تو بنانے والے نے اللہ ‘ اس کے رسول اور جماعت مسلمین سے خیانت کی ‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ لیکن امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (المستدرک ج ٤ ص ٩٣۔ ٩٢) 

علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی متوفی ٩٧٥ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی نے کسی شخص کو مسلمانوں کا عامل بنایا حالانکہ وہ شخص جانتا تھا کہ اس سے بہتر شخص موجود ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا زیادہ جاننے والا ہے تو اس آدمی نے اللہ تعالیٰ اسکے رسول اور تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی۔ (کنز العمال ج ٦ ص ٧٩) 

ان دونوں حدیثوں کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا ‘ اور جس شخص نے اپنے بھائی کی رہنمائی کسی چیز کی طرف کی حالانکہ اس کو علم تھا کہ اہلیت اور صلاحیت اس کے غیر میں ہے تو اس نے اپنے بھائی کی ساتھ خیانت کی (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٥٧) 

اپنے نفس کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا اپنے نفس کے ساتھ امانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اس چیز کو پسند کرے جو دین اور دنیا میں اس کے لیے زیادہ مفید اور نفع آور ہو ‘ اور غلبہ غضب اور غلبہ شہوت کی وجہ سے ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے مآل کار دنیا میں اس کی عزت وناموس جاتی رہے اور آخرت میں وہ عذاب کا مستحق ہو ‘ انسان کی زندگی اور صحت اس کے پاس اللہ کی امانت ہے وہ اس کو ضائع کرنے کا مجاز نہیں ہے ‘ اس لیے سگریٹ پینا ‘ چرس ‘ ہیروئن اور کسی طرح تمباکو نوشی کرنا ‘ افیون کھانا ‘ یہ تمام کام صحت اور انسانی زندگی کے لیے مضر ہیں ‘ اسی طرح شراب پینا یا کوئی نشہ آور مشروب کھانا اور پینا ‘ نشہ آور دوائیں استعمال کرنا یہ بھی انسان کی صحت کے لیے مضر ہیں اور آخرت میں عذاب کا باعث ہیں ‘ اور یہ تمام کام اپنے نفس کے ساتھ خیانت کے زمرہ میں آتے ہیں ‘ ناجائز ذرائع سے آمدنی حاصل کرنا ‘ لوگوں پر ظلم کرنا یہ بھی دنیا اور آخرت کی بربادی کا سبب ہیں اور اپنی ذات کے ساتھ خیانت کرنا ہے ‘ فرائض اور واجبات کو ترک کرکے اور حرام کاموں کا ارتکاب کرکے خود کو عذاب کا مستحق بنانا یہ بھی اپنی ذات کے ساتھ خیانت ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا مکلف کیا ہے کہ وہ خود بھی نیک بنے اور اپنے گھر والوں کو بھی نیک بنائے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا “۔ (التحریم : ٦) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ 

اگر کوئی شخص خود نیک ہے اور پابند صوم وصلوۃ ہے لیکن اس کے گھر والے اور اس کے ماتحت لوگ بدکار ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل نہیں کرتے اور وہ ان کو برے کام ترک کرنے اور نیک کام کرنے کا حکم نہیں دیتا تب بھی وہ بری الذمہ نہیں ہے اور اخروی عذاب کا مستحق ہے اور اپنے نفس کے ساتھ خیانت کر رہا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کا نگہبان ہے اور ہر شخص ان کے متعلق جواب دہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ (النساء : ٥٨) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو حاکم بنایا جائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کرے ‘ ہم اس جگہ قضاء کے متعلق احادیث بیان کریں گے تاکہ معلوم ہو کہ اسلام میں قضاء کے متعلق کیا ہدایات ہیں :

قضاء کے آداب اور قاضی کے ظلم اور عدل کے متعلق احادیث : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا ‘ آپ نے پوچھا تم کیسے فیصلہ کرو گے ‘ انہوں نے کہا میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اگر کتاب اللہ میں (مطلوبہ حکم) نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں رسول اللہ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے پوچھا اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں مطلوبہ حکم نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرستادہ کو توفیق دی۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٩٢) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو بکرہ (رض) نے سجستان میں اپنے بیٹے کی طرف خط لکھا کہ تم دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا ‘ کیونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی شخص غصہ کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٧٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٩) 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے پاس دو شخص مقدمہ پیش کریں تو جب تک تم دوسرے شخص کا موقف نہ سن لو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٦‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٣١٠) 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاضیوں کی تین قسمیں ہیں ایک جنت میں ہوگا اور دو دوزخ میں ہوں گے ‘ جنت میں وہ قاضی ہوگا جو حق کو پہچان لے اور اس کے مطابق فیصلہ کرے ‘ اور جو حق کو پہچاننے باوجود اس کے خلاف فیصلہ کرے وہ دوزخ میں ہوگا ‘ اور جو شخص جہالت سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے وہ بھی دوزخ میں ہوں گا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٣) 

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حاکم اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور صحیح نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور جب وہ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور غلط نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٤) 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب اور اس کے نزدیک سب سے مقرب شخص امام عادل ہوگا اور سب سے زیادہ مبغوض اور سب سے دورامام ظالم ہوگا (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٤) 

حضرت ابن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک قاضی ظلم نہ کرے اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب وہ ظلم کرے تو اللہ اس کے ساتھ نہیں ہوتا اور شیطان اس سے چمٹ جاتا ہے۔ (سنن ترمذی : ١٣٣٥) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں اس کے کمزور کا حق اس کے طاقت ور سے نہ لیا جائے۔ (اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں المثنی بن صباح ہے یہ ضعیف راوی ہے ‘ ایک روایت میں ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے اور ایک روایت میں کہا ہے اس کی حدیث لکھی جائے گی اور اس کو ترک نہیں کیا جائے گا ‘ اور دوسرے کے نزدیک یہ متروک ہے) (کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١٣٥٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کسی فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدی ١٣٤١) 

امام طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ نے حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ٣٩٨) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن کسی کا سایہ نہیں ہوگا اس دن سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے۔ عدل کرنے والا حاکم ‘ وہ شخص جو اللہ کی عبادت میں جوان ہوا ‘ جس کا دل مسجدوں میں معلق رہا ‘ وہ دو شخص جو اللہ کی محبت میں ملیں اور اللہ کی محبت میں جدا ہوں ‘ وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھ سے آنسو بہیں ‘ وہ شخص جس کو خوب صورت اور بااختیار عورت گناہ کی دعوت دے اور وہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے حتی کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ اس نے دائیں ہاتھ سے کیا دیا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٦٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٠٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٣٩١‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٦٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٤٦٩‘ سنن کبری للبیہقی : ج ٣ ص ٦٥‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٥٧) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار آدمیوں سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے : جو بہت قسمیں کھا کر سودا بیچے ‘ متکبر فقیر ‘ بوڑھا زانی ‘ اور ظالم حاکم : (صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٥٥٣٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٦٥) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عدل کرنے والے حاکم کا ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے اور زمین میں حد کو قائم کرنا اس زمین پر چالیس روز کی بارش سے زیادہ نفع آور ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٧٩)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡـثًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 42

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡـثًا

ترجمہ:

جن لوگوں نے کفر کیا اور رسول اللہ کی نافرمانی کی ‘ اس دن وہ تمنا کریں گے کہ کاش (ان کو دفن کرکے) ان پر زمین برابر کردی جائے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہ سکیں گے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کافر اور رسول کی نافرمانی کرنے والے اس دن یہ تمنا کریں گے کہ کاش (ان کو دفن کرکے) ان پر زمین برابر کردی جائے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے۔ (النساء : ٤٢) 

قیامت کے دن کفار کے مختلف احوال :

اس آیت میں رسول اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کا کافروں پر عطف کیا گیا ہے اور عطف مغائرت کو چاہتا ہے ‘ اس سے یہ واضح ہوا کہ کفر الگ گناہ ہے اور رسول اللہ کی نافرمانی کرنا الگ گناہ ہے اور کافروں کو کفر کی وجہ سے بھی عذاب ہوگا ‘ اور کافروں کو رسول کی نافرمانی کی وجہ سے اسی وقت عذاب ہوگا جب یہ مانا جائے کہ کافر فروعی احکام کے بھی مخاطب ہیں۔ نیز اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اس روز کافر یہ تمنا کریں گے کہ ان پر زمین برابر کردی جائے اس کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ تمنا کریں گے کہ ان کو زمین میں دفن کردیا جائے ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کو دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا اور وہ اسی طرح زمین مدفون رہتے ‘ تیسرا معنی یہ ہے کہ جب وہ دیکھیں گے کہ جانوروں کو مٹی بنادیا گیا ہے تو وہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کو بھی مٹی بنادیا جائے۔ 

پھر فرمایا اور وہ اللہ سے کسی بات کو نہیں چھپا سکیں گے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن جب مشرکین دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما رہا ہے جنہوں نے شرک نہیں کیا تو وہ کہیں گے۔ (آیت) ” واللہ ربنا ماکنا مشرکین “۔ (الانعام : ٢٣) ” ہمیں اپنے پروردگار کی قسم ہم شرک کرنے والے نہیں تھے “ اس وقت ان کے منہ اور ہاتھ اور پیر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سورة الانعام میں یہ مذکور ہے کہ کفار یہ کہیں گے کہ ہم شرک کرنے والے نہیں تھے اور اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے اور یہ تعارض ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن مختلف احوال ہوں گے ‘ ایک وقت میں وہ کہیں گے کہ (آیت) ” ماکنا نعمل من سوء “۔ (النحل : ٢٨) ” ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے “ اور کہیں گے کہ ہم شرک کرنے والے نہیں تھے اور ایک وقت ہوگا کہ (آیت) ” شہد علیہم سمعھم وابصارھم وجلودھم بما کانوا یعملون “۔ (حم السجدہ : ٢٠) ” ان کے کان ‘ انکی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے “ اس وقت وہ کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان پر زمین برابر کردی جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 42

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ‌ ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 40

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ‌ ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا

ترجمہ:

بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عطا فرماتا ہے۔ (النساء : ٤٠) 

اللہ کے ظلم نہ کرنے کا معنی :

ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کے مخصوص محمل کے سوا ‘ کمی یا زیادتی کرکے کسی اور جگہ رکھنا سو اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ کسی کی نیکیوں کے ثواب میں کمی کرتا ہے نہ کسی کی برائیوں کے عذاب میں کمی کرتا ہے ‘ اس لئے بندوں کو چاہیے کہ انکو جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور جس کام سے منع کیا ہے اس سے رک جائیں۔ 

ظلم کا یہ معنی بھی ہے : غیر کی ملک میں تصرف کرنا ‘ اللہ کے سوا جو کچھ ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور مالک اپنی ملک میں جو تصرف بھی کرے وہ ظلم نہیں ہے۔ اگرچہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرے گا لیکن پھر بھی بفرض محال اگر وہ تمام مخلوق کو دوزخ میں ڈال دے تو یہ ظلم نہیں ہوگا کیونکہ سب اس کے مملوک ہیں اور وہ مالک علی الاطلاق ہے ہم نے بفرض محال اس لیے کہا ہے کہ وہ نیکی کرنے والوں کو اجر وثواب دینے کا وعدہ فرما چکا ہے اور اپنے وعدے کے خلاف کرنا اس کے حق میں محال ہے کیونکہ انعام کا وعدہ کرکے انعام نہ دینا عیب ہے اور عیب اللہ کے لیے محال ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کے اجروثواب بڑھانے کا معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر کوئی نیکی ہو تو وہ اس کو دگنا کردیتا ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ بندہ ایک نیکی پر دس گنے اجر کا مستحق ہے تو اللہ اس کو بیس گنا اجر عطا فرمائے گا یا تیس گنا اجر عطا فرمائے گا یا اس سے بھی زیادہ عطا فرمائیگا۔ 

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

زازان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس گیا انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اولین اور آخرین کو جمع فرمائیگا ‘ پھر اللہ کی طرف سے ایک منادی یہ ندا کرے گا کہ جس شخص نے اپنا حق لینا ہو آئے اور اپنا حق لے لے ‘ بخدا اگر بچے کا اپنے باپ پر یا کسی کا اپنے بیٹے پر یا اپنی بیوی پر جو بھی حق ہوگا وہ لے لے گا ‘ خواہ وہ چھوٹا حق ہو ‘ اور اس کا مصداق کتاب اللہ میں یہ آیت ہے : 

(آیت) ” فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسآء لون “۔ (المؤمنون : ١٠١) 

ترجمہ : پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان اس دن رشتے (باقی) نہیں رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھیں گے۔ 

ایک شخص سے کہا جائیگا ان لوگوں کے حقوق ادا کرو وہ شخص کہے گا اے رب ! دنیا تو گذر چکی ہے میں ان کے حقوق کہاں سے ادا کروں ؟ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیگا اس شخص نے نیک اعمال کو دیکھو ‘ اور مستحقین کو اس کی نیکیاں دید و ‘ پھر جب اس کی ایک ذرہ کے برابر نیکی رہ جائے گی تو فرشتے کہیں گے ‘ (حالانکہ اللہ کو خوب علم ہے) اے ہمارے رب ہم نے ہر حقدار کو اس کی نیکی دیدی اب اس کی صرف ایک نیکی رہ گئی ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیگا میرے اس بندہ کی نیکی کو دگنا چوگنا کردو ‘ اور اس کو میرے فضل اور رحمت سے جنت میں داخل کردو ‘ اور اس کا مصداق یہ آیت ہے ‘ اور اگر وہ بندہ شقی ہو اور اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں تو فرشتے عرض کریں گے کہ اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور اس کی صرف برائیاں رہ گئی ہیں اور لوگوں کے حقوق باقی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیگا حقداروں کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈال دو اور اس کے لئے جہنم کا پروانہ لکھ دو ۔ (نعوذ باللہ منہ) 

ابوعثمان النھدی بیان کرتے ہیں کہ میری حضرت ابوھریرہ (رض) سے ملاقات ہوئی میں نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ ایک نیکی کا اجر بڑھا کر ایک بڑھا کر ایک کروڑ درجہ کردیا جاتا ہے ‘ انہوں نے کہا تم کو اس پر کیوں تعجب ہے بہ خدا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو ہزار ضرب ہزار (ایک کروڑ) درجہ تک پہنچا دے گا۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٥٨۔ ٥٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے ‘ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ بندہ کا عمل اتنے اجر کا مقتضی نہیں ہے یہ اجر اللہ اپنے پاس سے عطا فرماتا ہے ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں کا اجر وثواب بڑھاتا ہے جس سے بندہ کو جنت میں جسمانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے جس سے بندہ کو روحانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور یہ روحانی لذتیں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے حاصل ہوتی ہے اور یہ جنت میں حاصل ہونے والی سب سے عظیم نعمت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 40