فَمَا لَـكُمۡ فِىۡ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَـتَيۡنِ وَاللّٰهُ اَرۡكَسَهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا‌ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَهۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 88

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَا لَـكُمۡ فِىۡ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَـتَيۡنِ وَاللّٰهُ اَرۡكَسَهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا‌ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَهۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے متعلق تمہاری دو رائیں ہوگئیں حالانکہ اللہ نے ان (منافقوں) کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اوندھا کردیا ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ اس کو ہدایت پر چلاؤ جس میں اللہ نے گمراہی پیدا کردی ہے اور جس میں اللہ نے گمراہی کو پیدا کردیا، تم اس کے لیے (ہدایت پر چلانے کا) کوئی طریقہ نہیں پا سکو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے متعلق تمہاری دو رائیں ہوگئیں حالانکہ اللہ نے ان (منافقوں) کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اوندھا کردیا ہے۔ (النساء : ٨٨) 

اس آیت کے شان نزول میں دو قول ہیں ‘ پہلے قول کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف نکلے تو آپ کے لشکر میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک فریق نے کہا ہم ان کو قتل کریں گے اور دوسرے فریق نے کہا ہم ان کو قتل نہیں کریں گے۔ 

اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” فمالکم فی المنافقین فئتین “۔ (النساء : ٨٨) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مدینہ لوگوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جسے لوہے سے زنگ نکال دیتی ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٤‘ مسند احمد ج ٨‘ رقم الحدیث : ٢١٦٥٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

دوسرا قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ لوگ مکہ سے مدینہ آگئے تھے ‘ انہوں نے مسلمانوں پر یہ ظاہر کیا کہ وہ مسلمان ہیں پھر وہ مکہ واپس چلے گئے اور مکہ والوں پر یہ ظاہر کیا کہ وہ مشرک ہیں : امام ابن جریر روایت کرتے ہیں : 

مجاہد اس آیت کے شان نزول میں بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچ گئے اور انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ مہاجر ہیں ‘ پھر اس کے بعد وہ مرتد ہوگئے ‘ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی کہ وہ مکہ سے اپنا مال لا کر تجارت کریں گے تو انکے متعلق مسلمانوں میں اختلاف ہوگیا ‘ بعض مسلمانوں نے کہا وہ منافق ہیں اور بعض نے کہا وہ مومن ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کو بیان کردیا اور ان سے قتال کا حکم دیا وہ اپنا مال لے کر مدینہ جانے کا ارادہ کر رہے تھے تو ان سے ہلال بن عویمر اسلمی نے ملاقات کی ‘ اس کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ تھا اور یہی وہ شخص تھا جس کا مسلمانوں سے لڑتے لڑتے دل تنگ ہوچکا تھا یا وہ اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے عاجز ہوچکا تھا ‘ اس نے ان لوگوں کی مدافعت کی اور کہا یہ مومن ہیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ٢٦٣۔ ٢٦٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا تم چاہتے ہو کہ اس کو ہدایت پر چلاؤ جس میں اللہ نے گمراہی پیدا کردی ہے اور جس میں اللہ نے گمراہی کو پیدا کردیا، تم اس کے لیے (ہدایت پر چلانے کا) کوئی طریقہ نہیں پا سکو گے۔ (النساء : ٨٨) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کو ان کی سرکشی اور ان کے کفر کی وجہ سے دین سے گمراہ کردیا ہے ‘ مسلمان یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ منافق سچے اور مخلص مسلمان بن جائیں ‘ اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ کیا تم ان لوگوں کو جنت کا راستہ دکھانا چاہتے ہو جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جنت کے راستہ سے گمراہ کردیا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار کو جنت کے راستہ کی ہدایت نہیں دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 88

اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يُدۡرِكْكُّمُ الۡمَوۡتُ وَلَوۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ بُرُوۡجٍ مُّشَيَّدَةٍ‌ ؕ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ حَسَنَةٌ يَّقُوۡلُوۡا هٰذِهٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ يَّقُوۡلُوۡا هٰذِهٖ مِنۡ عِنۡدِكَ‌ ؕ قُلۡ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ ؕ فَمَالِ ھٰٓؤُلَۤاءِ الۡقَوۡمِ لَا يَكَادُوۡنَ يَفۡقَهُوۡنَ حَدِيۡثًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 78

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَيۡنَ مَا تَكُوۡنُوۡا يُدۡرِكْكُّمُ الۡمَوۡتُ وَلَوۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ بُرُوۡجٍ مُّشَيَّدَةٍ‌ ؕ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ حَسَنَةٌ يَّقُوۡلُوۡا هٰذِهٖ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ ۚ وَاِنۡ تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةٌ يَّقُوۡلُوۡا هٰذِهٖ مِنۡ عِنۡدِكَ‌ ؕ قُلۡ كُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ ؕ فَمَالِ ھٰٓؤُلَۤاءِ الۡقَوۡمِ لَا يَكَادُوۡنَ يَفۡقَهُوۡنَ حَدِيۡثًا ۞

ترجمہ:

تم جہاں کہیں بھی ہو تم کو موت پالے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو ‘ اور اگر ان کو کچھ اچھائی پہنچے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کچھ برائی پہنچے تو (اے رسول مکرم) یہ کہتے ہیں کہ یہ آپ کی طرف سے ہے آپ کہیے کہ ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا کہ یہ کوئی بات سمجھ نہیں پاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تم جہاں کہیں بھی ہو تم کو موت پالے گی خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو ‘ اور اگر ان کو کچھ اچھائی پہنچے تو یہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اگر ان کو کچھ برائی پہنچے تو (اے رسول مکرم) یہ کہتے ہیں کہ یہ آپ کی طرف سے ہے آپ کہیے کہ ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے تو ان لوگوں کو کیا ہوا کہ یہ کوئی بات سمجھ نہیں پاتے۔ (النساء : ٧٨) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ موت ایک حتمی چیز ہے اور جب انسان کی مدت حیات پوری ہوجائے تو اس کو موت بہر حال آلیتی ہے خواہ ہو کھلے میدان میں ہو یا کسی مضبوط قلعہ میں ہو یا وہ میدان جنگ میں ہو۔ حضرت خالد بن ولید (رض) نے متعدد معرکوں میں حصہ لیا ‘ اور بہت جنگیں لڑیں لیکن ہو کسی جنگ میں شہید نہیں ہوئے ان کو بستر پر طبعی موت آئی اس سے واضح ہوگیا کہ جہاد میں شرکت کرنا موت کا سبب نہیں ہے ‘ موت صرف اپنے وقت پر آتی ہے خواہ انسان میدان جنگ میں ہو یا اپنے گھر کے بستر پر ! 

اچھائی اللہ کی طرف سے پہنچتی ہے اور برائی ہمارے گناہوں کے نتیجہ میں :

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے محترم اصحاب (رض) ہجرت کرکے مدینہ آئے اور اس کے بعد یہودیوں اور منافقوں کو اچھائیاں اور برائیاں ‘ راحتیں اور مصیبتیں پہنچی تو انہوں نے کہا جب سے یہ مدینہ میں آئے ہیں ہمارے پھلوں اور کھیتوں کی پیداوار کم ہو رہی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ‘ سختی ہو یا آسانی ‘ کامیابی ہو یا ناکامی فصلوں کی پیداوار زیادہ ہو یا کم ‘ فائدہ ہو یا نقصان ‘ اور بیماری ہو یا صحت ‘ تمام امور کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کی قضا اور قدر سے ہوتا ہے ‘ البتہ جب تم پر رزق کی وسعت ‘ خوشحالی اور فراخ دستی ہو تو یہ محض اللہ کا فضل اور انعام ہے۔ سو اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرو اور جب تم کو تنگی اور رزق میں کمی پہنچے تو یہ تمہارے گناہوں اور شامت اعمال کا نتیجہ ہے اس کی نسبت اپنی طرف کرو۔ 

بعض پڑھے لکھے جاہلوں نے ” کل من عنداللہ “ کا غلط معنی سمجھا ہے وہ کہتے ہیں نیک اعمال اور برے اعمال دونوں اللہ کی طرف سے ہیں تو اس میں بندے کا کیا قصور ہے ! اور اس کو آخرت میں سزا کیوں ملے گی ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس آیت میں اچھائی اور برائی اور ہر چیز کا تعلق امور تکوینیہ سے ہے امور تشریعیہ سے نہیں ہے ‘ امور تکوینیہ سے مراد وہ امور ہیں جو بندوں کے دخل کے بغیر وقوع پذیر ہوتے ہیں جیسے پیدا ہونا ‘ مرنا ‘ صحت ‘ بیماری ‘ بارش کا ہونا نہ ہونا ‘ طوفانوں اور زلزلوں کا آنا وغیرہ ‘ اور امور تشریعیہ سے مراد وہ کام ہیں جن کرنے یا ان کو نہ کرنے کا بندوں کو حکم دیا ہے مثلا نیک کام کرنا اور برے کاموں کو ترک کرنا ‘ نیک اور بدکاموں میں سے جس کا بھی بندہ قصد اور ارادہ کرتا ہے اللہ اس کو پیدا فرماتا دیتا ہے ‘ بندہ کے ارادہ کو کسب اور اللہ تعالیٰ کے پیدا کرنے کو خلق اور ایجاد کہتے ہیں ‘ اور بندہ کو اس کے کسب کی وجہ سے جزاء یا سزا ملتی ہے ‘ جو کسب اور خلق کا فرق نہیں کرتے ان میں سے بعض کہتے ہیں انسان پتھروں کی طرح مجبور ہے اور ہر نیک اور بدکام کی نسبت اللہ کی طرف کرتے ہیں یہ جبریہ ہیں ‘ اور بعض کہتے ہیں انسان اپنے افعال کا خود خالق ہے یہ معتزلہ ہیں ‘ اور اہل سنت کا مذہب یہ ہے کہ بندہ کا سب ہے اور اللہ تعالیٰ خالق ہے ‘ جبریہ اور معتزلہ مردہ مذاہب ہیں لیکن ان کے نظریات اور آثار اب بھی بعض لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 78

کوئی غسل خانہ میں ہرگز پیشاب نہ کرے

حدیث نمبر :337

روایت ہے عبداﷲ ابن مغفل سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی غسل خانہ میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس میں غسل یا وضو کرے گا۲؎کیونکہ عام وسوسے اسی سے ہوتے ہیں۳؎ اسے ابوداؤد،ترمذی اورنسائی نے روایت کیا مگر ان دونوں نے "ثم یغتسل” کا ذکر نہ کیا۔

شرح

۱؎ آپ صحابی ہیں،قبیلہ مزینہ سے ہیں،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ قیام رہا،شہر تَسْتُر فتح ہونے پر اول آپ ہی وہاں داخل ہوئے،عہد فاروقی میں بصرہ میں لوگوں کو علم دین سکھانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا،وہیں ۵۹ھ ؁میں وفات ہوئی۔

۲؎ مستحمہ کے معنی ہیں گرم پانی استعمال کرنے کی جگہ۔ حمیم گرم پانی،اسی سے حمام بنا۔اگرغسل خانہ کی زمین پختہ ہواوراس میں پانی خارج ہونے کی نالی بھی ہو تو وہاں پیشاب کرنے میں حرج نہیں،اگرچہ بہتر ہے کہ نہ کرے۔لیکن اگر زمین کچی ہو اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہو تو پیشاب کرنا سخت برا ہے کہ زمین نجس ہوجائے گی،اورغسل یاوضو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔یہاں دوسری صورت ہی مراد ہے اسی لیے تاکیدی ممانعت فرمائی گئی۔

۳؎ یعنی ا س سے وسوسوں اور وہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے،جیسا کہ تجربہ ہے یا گندگی چھینٹیں پڑنے کا وسوسہ رہے گا۔پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔

بڑی چاہتوں سے ہے اس در کو پایا

حکایت نمبر150: بڑی چاہتوں سے ہے اس در کو پایا

حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں، مجھ سے حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اِیمان لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : مَیں” اصبہان” کے ایک گاؤں میں رہتاتھا، میرا باپ ایک بڑا جاگیردار تھا اور وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا، میں اس کے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ پیارا تھا۔ اسی محبت کی وجہ سے وہ مجھے گھر سے باہر نہ نکلنے دیتا، ہر وقت مجھے گھر ہی میں رکھتا، میری خوب دیکھ بھا ل کرتا،میرے باپ کی یہ خواہش تھی کہ مَیں پکا مجوسی (یعنی آتش پرست) بنوں کیونکہ ہمارا آبائی مذہب ”مجوسیت” ہی تھاا ور میرا باپ پکا مجوسی تھا۔ وہ مجھے بھی اپنی ہی طر ح بنانا چاہتا تھا لہٰذا اس نے میری ذمہ داری لگا دی کہ میں آتش کدہ میں آگ بھڑکاتا رہوں اور ایک لمحہ کے لئے بھی آگ کو نہ بجھنے دو ں۔ میں اپنی ذِمہ داری سر انجام دیتا رہا۔ ایک دن میرا باپ کسی تعمیری کام میں مشغول تھا جس کی وجہ سے وہ زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے نہیں جاسکتا تھا۔

چنانچہ میرے باپ نے مجھے بلایا اور کہا: ”ا ے میرے بیٹے !آج میں یہاں بہت مصروف ہوں اور کھیتوں کی دیکھ بھال کے لئے نہیں جاسکتا ۔ آج وہاں تُو چلا جا او رخادموں کو فلاں فلاں کام کی ذمہ داری سونپ دینا اور ان کی نگرانی کرنا، اِدھر اُدھر کہیں متوجہ نہ ہونا، سیدھااپنے کھیتوں پرجانا ہے اور کام پورا ہونے کے فوراً بعدواپس آجانا۔” اپنے باپ کا حکم پاتے ہی میں اپنی زمینوں کی طرف چل دیا۔ راستے میں عیسائیوں کا عبادت خانہ تھا۔ جب میں اس کے قریب سے گزرا تو مجھے اندر سے کچھ آوازیں سنائی دیں۔وہاں کچھ راہب نماز میں مشغول تھے۔ میں جب اندر داخل ہوا اور ان کااندازِ عبادت مجھے بڑا انوکھااوراچھا لگامیں نے پہلی مرتبہ اس انداز میں کسی کو عبادت کر تے ہوئے دیکھا تھا۔میں چونکہ زیادہ تر گھر ہی میں رہتاتھا اس لئے لوگو ں کے معاملات سے آگاہ نہ تھا۔ اب جب یہاں ان لوگوں کو دیکھا کہ یہ ایسے انداز میں عبادت کر رہے ہیں جو ہم سے بالکل مختلف ہے تو میرا دل ان کی طر ف راغب ہونے لگا اور مجھے ان کا اندازِ عبادت بہت پسند آیا۔

میں نے دل میں کہا :” خدا عزوجل کی قسم! ان راہبوں کا مذہب ہمارے مذہب سے اچھا ہے ۔” پھر میں سارادن انہیں دیکھتا رہا اور اپنے کھیتوں پر نہیں گیا۔ جب تاریکی نے اپنے پر پھیلانا شروع کئے تو میں ان لوگو ں کے قریب گیا اور ان سے پوچھا: ” تم جس دین کو مانتے ہو اس کی اصل کہاں ہے؟ یعنی تمہارا مرکز کہاں ہے؟ ” انہوں نے بتا یا:” ہمارا مرکز” شام” میں ہے۔” پھرمیں گھر چلا آیا۔ میرا باپ بہت پریشان تھا کہ نہ جانے میرا بچہ کہا ں گم ہوگیا؟ اس نے میری تلاش میں کچھ لوگوں کو آس پاس کی بستیوں میں بھیج دیا تھا۔ جب میں گھر پہنچا تو میرے باپ نے بے تاب ہوکر پوچھا:” میرے لال! تُو کہاں چلا گیا تھا؟ ہم تو تیری وجہ سے بہت پریشان تھے۔ ”میں نے کہا :”میں اپنی زمینوں کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں کچھ لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا ، مجھے ان کا اندازِ عبادت بہت پسند آیا چنانچہ میں شام تک انہی کے پاس بیٹھا رہا۔”
یہ سن کر میرا باپ پریشان ہوااور کہنے لگا :”میرے بیٹے !ان لوگوں کے مذہب میں کوئی بھلائی نہیں۔ جس مذہب پر ہم ہیں اورجس پر ہمارے آباؤ اجدادتھے وہی سب سے اچھا ہے لہٰذا تم کسی اور طرف تو جہ نہ دو۔”میں نے کہا:” ہر گز نہیں، خداعزوجل کی قسم !ان راہبوں کا مذہب ہمارے مذہب سے بہت بہتر ہے۔ ”میری یہ گفتگو سن کر میرے باپ کو یہ خوف ہونے لگا کہ کہیں میرا بیٹا مجوسیت کو چھوڑ کرنصرانی مذہب قبول نہ کرلے۔ اسی خوف کے پیشِ نظر اس نے میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈالوا دیں اورمجھے گھر میں قید کر دیا تا کہ میں گھر سے باہر ہی نہ نکل سکوں۔ مجھے ان راہبوں سے بہت زیادہ عقیدت ہو گئی تھی۔ میں نے کسی طر یقے سے ان تک پیغام بھجوایا کہ جب کبھی تمہارے پاس ملکِ شام سے کوئی قافلہ آئے تو مجھے ضرور اطلاع دینا۔
چند رو ز بعد مجھے اِطلاع ملی کہ شام سے راہبوں کا ایک قافلہ ہمارے شہر میں آیا ہوا ہے۔ میں نے پھر راہبوں کو پیغام بھجوایا کہ جب یہ قافلہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد واپس شام جانے لگے تو مجھے ضرور اطلاع دینا ۔کچھ دن بعد مجھے اِطلاع ملی کہ قافلہ واپس شام جارہا ہے ۔میں نے بہت جدو جہد کے بعداپنے قدموں سے بیڑیاں اُتا ریں اور فوراً شام جانے والے قافلے کے ساتھ جا ملا ۔ مُلکِ ”شام ”پہنچ کر میں نے لوگوں سے پوچھا:” تم میں سب سے زیادہ معزز اورصاحب ِعلم وعمل کون ہے ؟” لوگوں نے بتا یا:”فلاں کنیسہ(یعنی عبادت خانہ) میں رہنے والا راہب ہم میں سب سے زیادہ قابل اِحترام اور سب سے زیادہ متقی و پر ہیز گار ہے ۔”چنانچہ میں اس راہب کے پاس پہنچا اور کہا:” مجھے آپ کا دین بہت پسند آیا ہے ، اب میں اس دین کے بارے میں کچھ معلومات چاہتا ہوں۔ اگر آپ قبول فرمالیں تومیں آپ کی خدمت کیا کروں گا اور آپ سے اس دین کے متعلق معلومات بھی حاصل کرتا رہوں گا۔ برائے کرم !مجھے اپنی خدمت کے لئے رکھ لیجئے ۔”
یہ سن کر اس راہب نے کہا:” ٹھیک ہے، تم بخوشی میرے ساتھ رہو اور مجھ سے ہمارے دین کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔”چنانچہ میں اس کے ساتھ رہنے لگا لیکن وہ راہب مجھے پسند نہ آیا۔وہ بہت بُرا شخص تھا، لوگو ں کو صدقات وخیرات کی ترغیب دلاتا ۔ جب لوگ صدقات وخیرات کی رقم لے کر آتے تو یہ اس رقم کو غریبو ں اور مسکینوں میں تقسیم نہ کرتا بلکہ اپنے پاس ہی جمع کرلیتا ۔ اس طرح اس بد با طن راہب نے بہت سارا خزانہ جمع کرکے سونے کے بڑے بڑے سات مٹکے بھر لئے تھے ۔ مجھے اس کی ان حرکتوں پر بہت غصہ آتا بالآخرجب وہ مرا تو لوگو ں کا بہت بڑا ہجوم اس کی تجہیز وتکفین کے لئے آیا ۔ میں نے لوگو ں کو بتایا: ” جس کے بارے میں تمہارا گما ن تھا کہ وہ سب سے بڑا راہب ہے وہ تو بہت لالچی اور گندی عادتو ں والا تھا۔ ” لوگ کہنے لگے :” یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ راہب بُر ا شخص تھا؟” میں نے کہا : ”اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں آتاتو میرے ساتھ چلو، میں تمہیں اس کامال ودولت اور خزانہ دکھاتا ہوں جو وہ جمع کرتا رہااورفقراء ومساکین اوریتیموں پر خرچ نہ کیا ۔” لوگ میرے ساتھ چل دیئے۔ میں نے انہیں وہ مٹکے دکھائے جن میں سونا بھر اہوا تھا ۔ انہوں نے وہ مٹکے لئے اور کہا:” خدا عزوجل کی قسم !ہم اس راہب کو دفن نہیں کریں گے ۔” پھر انہوں نے اس کے مردہ جسم کو سولی پر لٹکایا اور پتھر مار مار کر چھلنی کردیا پھراس کی لاش کو بے گور وکفن پھینک دیا۔ اس کے بعد لوگو ں نے ایک اور راہب کواس کی جگہ منتخب کرلیا۔ وہ بہت اچھی عادات وصفات کا مالک اورانتہائی متقی وپرہیز گار شخص تھا، طمع ولا لچ اس میں بالکل نہ تھی، دن رات عبادت میں مشغول رہتا۔ دُنیوی معاملات کی طر ف بالکل بھی تو جہ نہ دیتا ،میرے دل میں اس کی عقیدت ومحبت گھر کر گئی۔ میں نے اس کی خوب خدمت کی اوراس سے نصرانیت کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہا ۔
جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا : ”آپ مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کر تے ہیں ؟ آپ کے بعد میری رہنمائی کون کریگا ؟” وہ راہب کہنے لگا :” اے میرے بیٹے! اللہ عزوجل کی قسم! جس دین پر میں ہوں اس میں سب سے بڑا عالم وفقیہہ ایک شخص ہے جو ” موصل ” میں رہتا ہے۔میرے نزدیک اس سے بہتر کوئی نہیں جو تمہاری رہنمائی کر سکے، اگرتم سے ہوسکے تو اس کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ ۔” راہب کی یہ بات سن کر میں موصل چلا گیا اوروہاں کے راہب کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے واقعی اسے ایسا پایا جیسا اس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ وہ بہت نیک وزاہد شخص تھا ۔چنانچہ میں اس کے پاس رہنے لگا پھر جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا : ”اب آپ مجھے کس کے پاس جانے کاحکم دیتے ہیں جو آپ کے بعد میری صحیح رہنمائی کرے؟”اس نے جواب دیا : ” اللہ عزوجل کی قسم! اس وقت ہمارے دین کا سب سے بڑا باعمل عالم ” نصیبین ”میں رہتا ہے ۔میری نظروں میں اس سے بہتر کوئی اور نہیں،اگر ہوسکے تو اس کے پاس چلے جاؤ ۔”
چنانچہ میں سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ہوا ”نصیبین ” پہنچا اور اس راہب کے پاس رہنے لگا۔ وہ بھی نہایت متقی وپرہیزگار شخص تھا ، جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے پوچھا: ”آپ مجھے کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں ؟ ”اس نے کہا: ”اس وقت ہمارے دین پر قائم رہنے والوں میں سب سے بڑا باعمل راہب ” عموریہ ” میں رہتا ہے، میری نظروں میں اس سے بہتر کوئی نہیں، تم اس کے پاس چلے جاؤ وہ تمہاری صحیح رہنمائی کریگا۔” چنانچہ میں ”عموریہ” پہنچا اور اس راہب کی خدمت میں رہنے لگا ۔ وہ واقعی بہت نیک وصالح شخص تھا ۔ میں اس سے دینِ نصاری کے بارے میں معلومات حاصل کرتا اور دن کوبطورِ اجیر(یعنی مزدور) ایک شخص کے جانوروں کی دیکھ بھال کرتا۔اس طرح میرے پاس اتنی رقم جمع ہوگئی کہ میں نے کچھ گائے اور بکریا ں وغیرہ خرید لیں ۔ پھر جب اس راہب کی موت کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا:”آپ مجھے کس کے پاس بھیجیں گے جو آپ کے بعد میری صحیح رہنمائی کرے؟ ”
اس راہب نے کہا:” اے میرے بیٹے! اب ہمارے دین پر قائم رہنے والا کوئی ایسا شخص نہیں جس کے پاس میں تجھے بھیجوں۔ ہاں! اگر تم نجات چاہتے ہو تو میری بات تو جہ سے سنو: اب اس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جلوہ گری کا وقت بہت قریب آگیا ہے جو دینِ ابراہیمی لے کر آئے گا۔ وہ سر زمین عرب میں مبعوث ہوگا اور کھجوروں والی زمین کی طرف ہجرت فرمائے گا ۔ اس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی کچھ واضح نشانیاں یہ ہیں:”(۱) ۔۔۔۔۔۔وہ ہدیہ قبول فرمائیں گے (۲)۔۔۔۔۔۔ لیکن صدقے کا کھانا نہیں کھائیں گے اور (۳)۔۔۔۔۔۔ اُن کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی ۔”
اگر تم اُس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کازمانہ پاؤ تو ان کے پاس چلے جانا ان شاء اللہ عزوجل تم دنیا وآخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے ۔اے میرے بیٹے !تم اس رحمت والے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ضرور ملنا ۔ اِتنا کہنے کے بعد اس راہب کا بھی اِنتقال ہوگیا۔پھرجب تک میرے رب عزوجل نے چاہا میں”عموریہ” میں ہی رہا۔پھر مجھے اِطلاع ملی کہ قبیلہ ”بنی کلب ”کے کچھ تاجر عرب شریف جارہے ہیں تو میں ان کے پاس گیا اور ان سے کہا: ”میں بھی تمہارے ساتھ عرب شریف جانا چاہتاہوں، میرے پاس کچھ گائیں اور بکریاں ہیں،یہ سب کی سب تم لے لو او رمجھے عرب شریف لے چلو۔” ان تاجروں نے میری یہ بات منظور کرلی اور میں نے انہیں تمام گائیں اور بکریاں دے دیں ۔چنانچہ ہمارا قافلہ سوئے عرب روانہ ہوا۔ جب ہم وادی ”قُرٰی” میں پہنچے تو ان تا جروں نے مجھ پر ظلم کیا اور مجھے جبراً اپنا غلام بنا کر ایک یہودی کے ہاتھوں فر وخت کردیا۔
یہودی مجھے اپنے علاقے میں لے گیا ۔وہا ں میں نے بہت سے کجھوروں کے درخت دیکھے تو میں سمجھا کہ شاید یہی وہ شہر ہے جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا ہے کہ نبی آخر الزّماں، سلطان ِدو جہاں ،محبوبِ رب الانس والجاں عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہاں تشریف لائیں گے ۔ چنانچہ میں اس یہودی کے پاس رہنے لگا اور اس کی خدمت کرنے لگا۔ کچھ دنوں کے بعد اس یہودی کا چچا زاد بھائی مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماًسے اس کے پاس آیا۔ اس کا تعلق قبیلہ ”بنی قریظہ” سے تھا ۔یہودی نے مجھے اس کے ہاتھوں فر وخت کردیا ۔ وہ مجھے لے کر مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماً کی طر ف روانہ ہوگیا۔ خدا عزوجل کی قسم! جب میں مدینہ منورہ کی پاکیزہ فضاؤں میں پہنچا تو میں نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا کہ یہی جگہ میری عقیدتوں کا محور ومرکز ہے۔ یہی وہ پاکیزہ شہر ہے جس میں نبی آخر الزماں، سلطانِ دو جہاں ، سرور کون ومکاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری ہوگی۔ جو نشانیاں راہب نے مجھے بتائی تھیں کہ وہاں بکثر ت کھجوریں ہوں گی ،وہ میں نے وہاں پالی تھیں ۔
اب مَیں منتظر تھا کہ کب میرے کانوں میں یہ صدا گونجے کہ اس پاکیزہ ہستی نے اپنے جلوؤں سے مدینہ منورہ کو نور بارکردیا ہے جس کی آمد کی خبر سابقہ آسمانی کتب میں دی گئی ہے ۔
بالآخر اِنتظار کی گھڑیاں ختم ہو ئیں۔ ایک دن میں کھجور کے درخت پر چڑھا ہوا تھا اور میرا مالک نیچے بیٹھا تھا ۔ اس کا چچا زاد بھائی آیا اور کہنے لگا:” اللہ عزوجل فلاں قبیلے (یعنی اوس وخزرج ) کو برباد کرے ،وہ لوگ مقام ”قباء ”میں جمع ہیں او رایک ایسے شخص کا دین قبول کرچکے ہیں جومکہ مکرمہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماًسے آیا ہے اور وہ اپنے آپ کو اللہ عزوجل کا نبی کہتا ہے۔اس قبیلے (یعنی اوس وخزرج) کے اکثر لوگ اپنے آباء واجداد کادین چھوڑکر اس پر ایمان لاچکے ہیں۔” جب میں نے اپنے مالک کے چچازاد بھائی کی یہ بات سنی تو میں خوشی کے عالم میں جھوم اٹھا۔قریب تھا کہ میں اپنے مالک کے اوپر گر پڑتا لیکن میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور جلدی جلدی نیچے اُترا۔ پھر پوچھا: ”ابھی تم نے کیا بات کہی ہے؟ اور کون شخص مکہ سے آیا ہے ؟” میری یہ بات سن کر میرے مالک کو بہت غصہ آیا اور اس نے مجھے ایک زوردار طمانچہ مارا اور کہا:” تمہیں ہماری باتوں سے کیا مطلب؟ جاؤ! ”جا کر اپنا کام کرو ۔”
میں نے کہا : ”میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھا ۔”یہ کہہ کر میں دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ میرے پاس کچھ رقم بچی ہوئی تھی۔ ایک دن موقع پاکر میں بازار گیا، کچھ کھانے پینے کی اشیاء خریدیں اور بے تا ب ہوکراس رخِ زیبا کی زیارت کے لئے قباء کی طر ف چل دیا جس کے دیدار کی تمنانے مجھے فارس سے مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماً تک پہنچا دیا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے ان کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضر ہوکر عرض کی: ”اے اللہ عزوجل کے بندے! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ اللہ عزوجل کے برگزیدہ بندے ہیں اور آپ کے اصحاب میں اکثر غریب اورحاجت مند ہیں، میں کچھ اشیائے خورد ونوش لے کر حاضر ہوا ہوں ، میں یہ اشیاء بطورِ صدقہ آپ کی بارگاہ میں پیش کرتا ہوں، آپ قبول فرمالیں۔”
یہ سن کراس پاکیزہ ومطہر ہستی نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”آؤ! اوریہ چیزیں کھالو ۔” لوگ کھانے لگے او رآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا۔ یہ دیکھ کر میں نے دل میں کہا: ”ایک اور نشانی تو میں نے پالی ہے۔” پھر کچھ دنوں کے بعد میں کھانے کا کچھ سامان لے کر حاضر خدمت ہوا اور عرض کی: ”حضور! یہ کچھ کھانے کی چیزیں ہیں، انہیں بطور ِہدیہ قبول فرمالیں۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس میں سے کچھ کھایا اور اپنے اصحاب کو بھی اپنے ساتھ کھانے کا حکم فرمایا ۔ میں نے دل میں کہا :” یہ دوسری نشانی بھی پوری ہوگئی ہے۔”
پھر ایک دن میں جنت البقیع کی طر ف گیا تو دیکھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم وہا ں موجود ہیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے جسمِ اَطہر پر دو چادر یں ہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے گرد ا س طرح جمع ہیں جیسے شمع کے گرد پروانے جمع ہوتے ہیں۔ میں نے جا کر سلام عرض کیا اور پھر ایسی جگہ بیٹھ گیا جہاں سے میری نظرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پشت مبارک پر پڑے تاکہ میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مبارک شانوں کے درمیان مہرِنبوت کو دیکھ سکوں کیونکہ مجھے راہب نے جو نشانیاں بتائی تھیں وہ سب کی سب میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ذات میں دیکھ لی تھیں۔ بس آخری نشانی (یعنی مہرِ نبوت) دیکھنا باقی تھی ۔ میں بڑی بے تابی سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف دیکھ رہا تھا جب نبی غیب داں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے میری یہ حالت دیکھی تو میرے دل کی بات جان لی اور میری طرف پیٹھ پھیرکر مبارک شانوں سے چادر اُتارلی جیسے ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے چادر ہٹائی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہرِ نبوت جگمگارہی تھی۔ مَیں دیوانہ وار آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طر ف بڑھا اور مہرِ نبوت کو چُومنا شروع کردیا۔ مجھ پر رقت طاری ہوگئی ،بے اِختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ آج میری خوشی کی اِنتہاء نہ تھی جس کے روئے زیبا کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے مَیں نے اِتنی مصیبتیں اور مشقتیں جھیلیں آج وہ نورِمجسّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے سامنے موجود تھے اور میں ان کے جلوؤں میں اپنے جسم کومنور ہوتا دیکھ رہا تھا ۔
میں نے فوراً حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:”اے میرے محبوب آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کردیجئے اوراپنے غلاموں میں شامل فرمالیجئے۔” پھر الْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلّ َ مَیں مسلمان ہوگیا ۔میں ابھی تک حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی مہرِ نبوت کو بو سے دے رہا تھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:” اب بس کرو۔” چنانچہ میں ایک طرف ہٹ گیا، پھر میں نے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنی ساری رُوداد سنائی تو صحابہ کرام علیہم الرضوان بہت حیران ہوئے کہ میں کس طرح یہاں تک پہنچااورمیں نے کتنی مشقتیں برداشت کیں۔
حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا:” اے سلمان(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )! تم اپنے مالک سے مکاتبت کرلو( یعنی اسے رقم دے کر آزادی حاصل کرلو) جب حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مالک سے بات کی تو اس نے کہا :” مجھے تین سو کھجوروں کے درخت لگا دو اور چالیس اوقیہ چاندی بھی دو پھر جب یہ کھجور یں پھل دینے لگ جائیں گی تو تم میری طرف سے آزاد ہوجاؤگے ۔”
میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بیکس پنا ہ میں حاضر ہوا اور اپنے مالک کی شرطیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بتائیں ۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو ۔” چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھرپور تعاون کیا، کسی نے کھجوروں کے 30پودے لاکر دیئے، کسی نے 50 ۔ الغرض !مددگار صحابہ کرام علیہم الرضوان کی مدد سے میرے پاس 300کھجوروں کے پودے جمع ہوگئے ۔

پھر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اے سلمان فارسی( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !تم جاؤ او رزمین کو ہموار کرو۔” چنانچہ میں گیا اور زمین کو ہموار کرنے لگا تا کہ وہاں کھجور کے پودے لگائے جاسکیں ۔ ا س کام سے فارغ ہو کر میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے میرے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!میں نے زمین ہموار کر دی ہے۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے ساتھ چل دیئے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہمراہ تھے ۔ ہم حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو کھجوروں کے پودے اُٹھا اُٹھا کر دیتے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے دستِ اقدس سے اسے زمین میں لگاتے جاتے ۔

حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”اس پاک پروردگار عزوجل کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں سلمان فارسی ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی جان ہے ! حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جتنے پودے لگائے وہ سب کے سب اُگ آئے اور ان میں بہت جلد پھل لگنے لگے ۔”چنا نچہ میں نے 300کھجوریں اپنے مالک کے حوالے کیں۔ ابھی میرے ذمہ 40اوقیہ چاندی باقی رہ گئی تھی ؟پھر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس کسی نے مرغی کے انڈے جتنا سونے کا ایک ٹکڑا بھجوایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسارفرمایا: ”سلمان فارسی کا کیا ہوا ؟ ” پھر مجھے بلواکر فرمایا:”اسے لے جاؤ،اور اپنا قرض اداکرو۔”میں نے عرض کی :”ابھی 40 اوقیہ چاندی اور دینی ہے ،پھر مجھے غلامی سے آزادی ملے گی۔ ” 

حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے وہ سونے کا ٹکڑا دیا اورفرمایا:” جاؤ! او راس کے ذریعے 40اوقیہ چاندی جو تمہارے ذمہ باقی ہے، اسے ادا کرو ۔” میں نے عرض کی:”اے میرے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! یہ اِتنا سا سونا 40اوقیہ چاندی کے برابر کس طر ح ہوگا ؟” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ”تم یہ سونا لو اور اس کے ذریعے 40 اوقیہ چاندی جو تمہارے ذمہ ہے، اسے ادا کرو، اللہ عزوجل تمہارے لئے اسی سونے کو کافی کردے گااور تمہارے ذِمہ جتنی چاندی ہے یہ اس کے برابر ہوجائے گا ۔” میں نے وہ سونے کا ٹکڑا لیااوراس کا وزن کیا۔ اس پاک پروردگار عزوجل کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! وہ تھوڑا سا سونا 40 اوقیہ چاندی کے برابر ہوگیا او راس طرح میں نے اپنے مالک کو چاندی دے دی اور غلامی کی قید سے آزاد ہوکر سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے غلاموں میں شامل ہوگیا۔ پھر میں غزوہ خندق میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ شامل ہوا ۔اس کے بعد میں ہر غزوہ میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ رہا ۔

(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث سلمان الفارسی، الحدیث۲۳۷۹۸،ج۹،ص۱۸۵تا۱۸۹)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کے مجموعے

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ کے مجموعے

میدان علم میں آپکی جلالت شان سب کو معلوم ہے، مشکل مسائل میں جلیل القدر صحابہ کرام آپکی طرف رجوع کرتے اوراحادیث نبویہ کی روایت کرتے تھے ۔آپ کے علم وفضل کا یہ ایک عالم تھا کہ فرائض ومیراث کے مسائل جنکا زبانی نکالنا کوئی آسان کام نہیں لیکن آپ بآسانی حل فرماتی تھئیں ،قوت یادداشت کایہ حال کہ کسی شاعر کے ساٹھ ساٹھ اشعار بلکہ بعض اوقات سوسواشعار برجستہ سنادیتی تھیں ۔

آپ سے مردوں میں حضرت عروہ بن زبیر نے جو آپکے بھانجے تھے خاص طور پر علم حاصل کیا تھا ، آپکی مرویات کو سب سے زیادہ جاننے والے یہ ہی تھے ۔انہوں نے کتابی شکل میں روایات کا ایک مجموعہ بھی تیار کیاتھا لیکن واقعہ حرہ کے موقع پر جبکہ یزیدیوں نے مدینہ طیبہ کوتاراج کیا توآپ کا وہ صحیفہ بھی ضائع ہوگیا جس پر آپ کو نہایت افسوس ہوتاتھا ۔فرماتے تھے۔

لوددت انی کنت فدیتھا باہلی ومالی (تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۷/۱۸۳)

اچھا ہوتا کہ میں اپنے اہل وعیال اور تمام جائداد کو اس پر قربان کردیتا ۔

عورتوں میں آپکی خاص تلمیذہ مشہور خاتون حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن ہیں ۔ انکی مرویات کو انکے بھانجے حضرت ابوبکر بن محمد بن عمروبن حزم نے جمع کیا تھا۔ کیونکہ خلیفۂ راشدحضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مدینہ شریف میں تدوین حدیث کے لئے جو پیغام آیا تھا اسکی تعمیل آپ ہی نے کی تھی ۔

تیسرے شاگر د حضرت قاسم بن محمد آپکے بھتیجے ہیں کہ آپکی کفالت میں رہے اورحدیثوں کاایک وافر ذخیرہ آپ سے حاصل کیا ۔انکی مرویات بھی ابوبکر بن محمد نے جمع کی تھیں ۔

کنز الایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 1 سورہ البقرہ آیت نمبر1 تا 7

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

سورۂ بقرہ یہ سورت مدنی ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مدینہ طیّبہ میں سب سے پہلے یہی سورت نازل ہوئی سوائے آیت ” وَاتَّقُوْا یَوْماً تُرْجَعُوْنَ ” کے کہ حجِ وَداع میں بمقام مکّہ مکرّمہ نازل ہوئی ۔ (خازن) اس سورت میں دو سو چھیاسی آیتیں چالیس رکوع چھ ہزار ایک سو اکیس کلمے پچیس ہزار پانچ سو حرف ہیں ۔ (خازن) پہلے قرآنِ پاک میں سورتوں کے نام نہ لکھے جاتے تھے ، یہ طریقہ حجّاج نے نکالا ۔ ابنِ عربی کا قول ہے کہ سورۂ بقر میں ہزار امر ، ہزار نہی ، ہزار حکم ، ہزار خبریں ہیں ، اس کے اخذ میں برکت ، ترک میں حسرت ہے ، اہلِ باطل جادو گر اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، جس گھر میں یہ سورت پڑھی جائے تین دن تک سرکش شیطان اس میں داخل نہیں ہوتا ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں یہ سورت پڑھی جائے ۔ (جمل) بیہقی و سعید بن منصور نے حضرت مغیرہ سے روایت کی کہ جو شخص سوتے وقت سورۂ بقرکی دس آیتیں پڑھے گا قرآن شریف کو نہ بھولے گا ، وہ آیتیں یہ ہیں چار آیتیں اوّل کی اور آیت الکرسی اور دو اس کے بعد کی اور تین آخر سورت کی ۔ 

مسئلہ : طبرانی وبیہقی نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا میت کو دفن کر کے قبر کے سرہانے سورۂ بقر کے اول کی آیتیں اور پاؤں کی طرف آخر کی آیتیں پڑھو ۔ 

شانِ نُزول : اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ایک ایسی کتاب نازل فرمانے کا وعدہ فرمایا تھا جو نہ پانی سے دھو کر مٹائی جا سکے نہ پرانی ہو ، جب قرآنِ پاک نازل ہوا تو فرمایا ”ذٰلِکَ الْکِتٰبُ ” کہ وہ کتابِ موعود یہ ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل سے ایک کتاب نازل فرمانے اور بنی اسمٰعیل میں سے ایک رسول بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا ، جب حضور نے مدینہ طیّبہ کو ہجرت فرمائی جہاں یہود بکثرت تھے تو ”الۤمّۤ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ ” نازل فرما کر اس وعدے کے پورے ہونے کی خبر دی ۔ (خازن)

الٓمّٓۚ(۱)(ف۲ )

(ف2)

”الٓمّٓۤ ”سورتوں کے اول جو حروفِ مقطّعہ آتے ہیں ان کی نسبت قولِ راجح یہی ہے کہ وہ اَسرارِ الٰہی اور متشابہات سے ہیں ، ان کی مراد اللہ اور رسول جانیں ہم اس کے حق ہونے پر ایمان لاتے ہیں ۔

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲)

وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں( ف ۳ ) اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو (ف۴)

(ف3)

اس لئے کہ شک اس میں ہوتا ہے جس پر دلیل نہ ہو ، قرآنِ پاک ایسی واضح اور قوی دلیلیں رکھتا ہے جو عاقلِ مُنْصِف کو اس کے کتابِ الٰہی اور حق ہونے کے یقین پر مجبور کرتی ہیں تو یہ کتاب کسی طرح قابلِ شک نہیں جس طرح اندھے کے انکار سے آفتاب کا وجود مشتبہ نہیں ہوتا ایسے ہی مُعانِدِ سیاہ دل کے شک و انکار سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہو سکتی ۔

(ف4)

” ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ” اگرچہ قرآنِ کریم کی ہدایت ہر ناظرکے لئے عام ہے ، مومن ہو یا کافِر جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ” ھُدًی لِّلنَّا سِ” لیکن چونکہ اِنتفاع اس سے اہلِ تقوٰی کو ہوتا ہے اس لئے ” ھُدًی لِلّمُتَّقِیْنَ ” ارشاد ہوا جیسے کہتے ہیں بارش سبزہ کے لئے ہے یعنی منتفع ، اس سے سبزہ ہوتا ہے اگرچہ برستی کلر اور زمین بے گیاہ پر بھی ہے ۔ تقوٰی کے کئی معنٰی آتے ہیں ، نفس کو خوف کی چیز سے بچانا اور عرفِ شرع میں ممنوعات چھوڑ کر نفس کو گناہ سے بچانا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا متّقی وہ ہے جو شرک وکبائر و فواحش سے بچے ۔ بعضوں نے کہا متّقی وہ ہے جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے ۔ بعض کا قول ہے تقوٰی حرام چیزوں کا ترک اور فرائض کا ادا کرنا ہے ۔ بعض کے نزدیک معصیت پر اصرار اور طاعت پر غرور کا ترک تقوٰی ہے ۔ بعض نے کہا تقوٰی یہ ہے کہ تیرا مولٰی تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ۔ ایک قول یہ ہے کہ تقوٰی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اور صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی پیروی کا نام ہے ۔ (خازن) یہ تمام معنی باہم مناسبت رکھتے ہیں اور مآل کے اعتبار سے ان میں کچھ مخالفت نہیں ۔ تقوٰی کے مراتب بہت ہیں عوام کا تقوٰی ایمان لا کر کُفر سے بچنا ، مُتوسّطین کا اوامر و نواہی کی اطاعت ، خواص کا ہر ایسی چیز کو چھوڑنا جو اللہ تعالٰی سے غافل کرے ۔ (جمل) 

حضرت مترجم قدس سرہ نے فرمایا تقوٰی سات قسم کا ہے ۔

(۱) کُفر سے بچنا یہ بفضلہ تعالٰی ہر مسلمان کو حاصل ہے (۲) بدمذہبی سے بچنا یہ ہر سنی کو نصیب ہے (۳) ہر کبیرہ سے بچنا (۴) صغائر سے بھی بچنا (۵) شبہات سے احتراز (۶) شہوات سے بچنا (۷) غیر کی طرف التفات سے بچنا یہ اخص الخواص کا منصب ہےاور قرآنِ عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی ہے ۔

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳)

وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں (ف۵) اور نماز قائم رکھیں (ف۶) اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں (ف۷)

(ف5)

” اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ” یہاں سے مُفْلِحُوْنَ ” تک آیتیں مومنین با اخلاص کے حق میں ہیں جو ظاہراً و باطناً ایماندار ہیں ۔ اس کے بعد دو آیتیں کھلے کافِروں کے حق میں ہیں جو ظاہراً و باطناً کافِر ہیں ۔ اس کے بعد ” وَ مِنَ النَّاسِ” سے تیرہ آیتیں منافقین کے حق میں ہیں جو باطن میں کافِر ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔ (جمل) 

غیب مصدر یا اسمِ فاعِل کے معنی میں ہے ، اس تقدیر پر غیب وہ ہے جو حواس و عقل سے بدیہی طور پر معلوم نہ ہو سکے ، اس کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ جس پر کوئی دلیل نہ ہو یہ علمِ غیب ذاتی ہے اور یہی مراد ہے آیۂ ” عِنْدَہ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ ” میں اور ان تمام آیات میں جن میں علمِ غیب کی غیرِ خدا سے نفی کی گئی ہے ، اس قِسم کا علمِ غیب یعنی ذاتی جس پر کوئی دلیل نہ ہو اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے ، غیب کی دوسری قِسم وہ ہے جس پر دلیل ہو جیسے صانِعِ عالَم اور اس کی صفات اور نبوّات اور ان کے متعلقات احکام و شرائع و روزِ آخر اور اس کے احوال ، بَعث ، نشر ، حساب ، جزا وغیرہ کا علم جس پر دلیلیں قائم ہیں اور جو تعلیمِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے یہاں یہی مراد ہے ، اس دوسرے قسم کے غیوب جو ایمان سے علاقہ رکھتے ہیں ان کا علم و یقین ہر مومن کو حاصل ہے اگر نہ ہو آدمی مومن نہ ہو سکے اور اللہ تعالٰی اپنے مقرب بندوں انبیاء و اولیاء پر جو غیوب کے دروازے کھولتا ہے وہ اسی قسم کا غیب ہے یا غیب معنی مصدری میں رکھا جائے اور غیب کا صلہ مومن بہ قرار دیا جائے یا باء کو متلبسین محذوف کے متعلق کر کے حال قرا ر دیا جائے ، پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے جو بے دیکھے ایمان لائیں جیسا حضرت مترجم قدس سرہ نے ترجمہ کیا ہے ، دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے جو مؤمنین کے پسِ غیب ایمان لائیں یعنی ان کا ایمان منافقوں کی طرح مومنین کے دکھانے کے لئے نہ ہو بلکہ وہ مخلص ہوں ، غائب حاضر ہر حال میں مؤمن رہیں ۔ غیب کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ غیب سے قلب یعنی دل مراد ہے ، اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ دل سے ایمان لائیں ۔ (جمل) ایمان جن چیزوں کی نسبت ہدایت و یقین سے معلوم ہے کہ یہ دینِ محمّدی سے ہیں ، ان سب کو ماننے اور دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ایمان صحیح ہے ، عمل ایمان میں داخل نہیں اسی لئے ” یُؤمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ” تر جمۂ کنز الایمان : (جو بے دیکھے ایمان لائیں ) کے بعد ” یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ” تر جمۂ کنز الایمان : (نماز قائم رکھیں ) فرمایا ۔

(ف6)

نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ اس پر مداومت کرتے ہیں اور ٹھیک وقتوں پر پابندی کے ساتھ اس کے ارکان پورے پورے ادا کرتے اور فرائض ، سُنَن ، مستحبات کی حفاظت کرتے ہیں ، کسی میں خلل نہیں آنے دیتے ، مفسدات و مکروہات سے اس کو بچاتے ہیں اور اس کے حقوق اچھی طرح ادا کرتے ہیں ۔ نماز کے حقوق دو طرح کے ہیں ایک ظاہری وہ تو یہی ہیں جو ذکر ہوئے ، دوسرے باطنی وہ خشوع اورحضوریعنی دل کو فارغ کر کے ہمہ تن بارگاہِ حق میں متوجہ ہو جانا اور عرض و نیاز و مناجات میں محویت پانا ۔

(ف7)

راہِ خدا میں خرچ کرنے سے یا زکٰوۃ مراد ہے جیسا دوسری جگہ فرمایا ” یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکوٰۃَ ” یا مطلق انفاق خواہ فرض و واجب ہو جیسے زکٰوۃ ، نذر ، اپنا اور اپنے اہل کا نفقہ وغیرہ ، خواہ مستحب جیسے صدقاتِ نافلہ ، اموات کا ایصالِ ثواب ۔ 

مسئلہ : گیارھویں ، فاتحہ، تیجہ ، چالیسواں وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں کہ وہ سب صدقاتِ نافلہ ہیں اور قرآنِ پاک و کلمہ شریف کا پڑھنا ، نیکی کے ساتھ اور نیکی ملا کر اجر و ثواب بڑھاتا ہے ۔ 

مسئلہ : ” مِمَّا ” میں مِنْ تبعیضیہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ انفاق میں اسراف ممنوع ہے یعنی انفاق خواہ اپنے نفس پر ہو یا اپنے اہل پر یا کسی اور پر ، اعتدال کے ساتھ ہو اسراف نہ ہونے پائے ۔ 

” رَزَقْنَا ھُمْ ” کی تقدیم اور رزق کو اپنی طرف نسبت فرما کر ظاہر فرمایا کہ مال تمہارا پیدا کیا ہوا نہیں ، ہمارا عطا فرمایا ہوا ہے ، اس کو اگر ہمارے حکم سے ہماری راہ میں خرچ نہ کرو تو تم نہایت ہی بخیل ہو اور یہ بُخل نہایت قبیح ۔

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ-وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴)

اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا(ف۸) اور آخرت پر یقین رکھیں (ف۹)

(ف8)

اس آیت میں اہلِ کتاب سے وہ مومنین مراد ہیں جو اپنی کتاب اور تمام پچھلی آسمانی کتابوں اور انبیاء علیہم السلام کی وحیوں پر بھی ایمان لائے اور قرآنِ پاک پر بھی اور ” مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ ” سے تمام قرآنِ پاک اور پوری شریعت مراد ہے ۔ (جمل) 

مسئلہ : جس طرح قرآنِ پاک پر ایمان لانا ہر مکلَّف پر فرض ہے اسی طرح کتبِ سابقہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو اللہ تعالٰی نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے قبل انبیاء علیہم السلام پر نازل فرمائیں البتہ ان کے جو احکام ہماری شریعت میں منسوخ ہو گئے ان پر عمل درست نہیں مگر ایمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ الْمقد س قبلہ تھا ، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضروری ہے مگر عمل یعنی نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں ، منسوخ ہو چکا ۔ 

مسئلہ : قرآنِ کریم سے پہلے جو کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کے انبیاء پر نازل ہوا ان سب پر اجمالاً ایمان لانا فرضِ عین ہے اور قرآن شریف پر تفصیلاً فرض کفایہ ہے لہٰذا عوام پر اس کی تفصیلات کے علم کی تحصیل فرض نہیں جب کہ عُلَماء موجود ہوں جنہوں نے اس کی تحصیلِ علم میں پوری جہد صرف کی ہو ۔

(ف9)

یعنی دارِ آخرت اور جو کچھ اس میں ہے جزا و حساب وغیرہ سب پر ایسا یقین و اطمینان رکھتے ہیں کہ ذرا شک و شبہ نہیں ، اس میں اہلِ کتاب وغیرہ کُفّار پر تعریض ہے جن کے اعتقاد آخرت کے متعلق فاسد ہیں ۔

اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)

وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۶)

بےشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے (ف۱۰) انہیں برابر ہے چاہے تم انہیں ڈراؤیا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں

(ف10)
اولیاء کے بعد اعداء کا ذکر فرمانا حکمتِ ہدایت ہے کہ اس مقابلہ سے ہر ایک کو اپنے کردار کی حقیقت اور اس کے نتائج پر نظر ہو جائے ۔
شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل ، ابولہب وغیرہ کُفّار کے حق میں نازل ہوئی جو علمِ الٰہی میں ایمان سے محروم ہیں اسی لئے ان کے حق میں اللہ تعالٰی کی مخالفت سے ڈرانا ، نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں ، انہیں نفع نہ ہو گا مگر حضور کی سعی بیکار نہیں کیونکہ منصبِ رسالتِ عامّہ کا فرض رہنمائی و اقامت حُجّت و تبلیغ علٰی وجہِ الکمال ہے ۔
مسئلہ : اگر قوم پندپذیر نہ ہو تب بھی ہادی کو ہدایت کا ثواب ملے گا ۔ اس آیت میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ کُفّار کے ایمان نہ لانے سے آپ مغموم نہ ہوں آپ کی سعی تبلیغِ کامل ہے اس کا اجر ملے گا ، محروم تو یہ بدنصیب ہیں جنہوں نے آپ کی اطاعت نہ کی ۔ کُفر کے معنٰی اللہ تعالٰی کے وجود یا اس کی وحدانیت یا کسی نبی کی نبوّت یا ضروریاتِ دین سے کسی امر کا انکار یا کوئی ایسا فعل جو عِنْدَ الشَّرع انکار کی دلیل ہو کُفر ہے ۔

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠(۷)

اللہ نے اُن کے دِلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے (ف۱۱) اور ان کے لیے بڑا عذاب

(ف11)

خلاصہ : مطلب یہ ہے کہ کُفّار ضلالت و گمراہی میں ایسے ڈوبے ہوئے ہیں کہ حق کے دیکھنے ، سننے ، سمجھنے سے اس طرح محروم ہو گئے جیسے کسی کے دل اور کانوں پر مُہر لگی ہو اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہو ۔ 

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندوں کے افعال بھی تحتِ قدرتِ الٰہی ہیں ۔

استمداد اور استعانت

استمداد اور استعانت کا معنی ’’طلب معونت‘‘یعنی مدد طلب کرنا ہے ۔’’ استغاثہ ‘‘ فریاد خواہی کو کہتے ہیں(عامۂ لغات ،نیز دیکھیں الجواہر المنظم؍ ص ۱۲۴،المجمع الثقافی ،ابو ظبی) اور توسل، وسیلہ،تشفع یہ استمداد اور استعانت کے قریب المعنی الفاظ ہیں جن کا معنی تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ(حاشیہ الصاوی علی الجلا لین ، ج۱؍ ص ۲۸۲) یہ بھی استعانت کی ایک نوع ہے ۔اور ’توحید‘’شرک‘ کی ضد ہے ،توحید کا حقیقی مفہوم الوہیت اور لوازم ِالوہیت کو صرف اللہ عز و جل کے لئے مخصوص ماننا اور اسی کی ذات میں منحصر سمجھنا ہے ۔بلفظ دیگر اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات و صفات میں یکتا و منفرد اعتقاد کرنا اور شریک سے پاک ماننا ہے۔ (حاشیہ صحیح البخاری ،ج۲؍ ص ۱۰۹۶، تعریف علامہ بدرالدین عینی حنفی)

زیر نظر عنوان میں اس بات کی وضاحت مقصود ہے کہ اہل سنت و جماعت میں رائج و معمول انبیاء ،اولیاء،اور صالحین سے استمداد ’’استعانت اور استغاثہ و توسل‘‘آیا تصور توحید کے منافی ہے یا یہ کہ یہ اسلامی معتقدات اور معمولات ہی کا ایک حصہ ہے؟۔۔۔۔

اسلام کی ابتدائی تین صدیوں سے لے کر ساتویں صدی ہجری تک تمام اہل اسلام میں انبیاء و صالحین سے طلبِ معونت، فریاد خواہی اور قضائے حاجت کے لئے انہیں وسیلہ بنانا ایک حقیقتِ ثابتہ رہی اور بلا تفریق جمہور مسلمین اس کے جواز و استحسان پرقولاً و عملاً متحد و متفق رہے۔خیر القرون میں صحابہ و تابعین و تبع تابعین ،کتاب و سنت کے حاملین خود ساتویں صدی ہجری کے علمائے راسخین و فقہاء و محدثین کا یہی موقف رہا،اور بے کسی اختلاف و نزاع کے رسول اللہکے صحیح و حقیقی جانشین آج بھی اسی پاکیزہ موقف پر گامزن ہیں۔ان میں سے کسی نے بھی انبیاء و صلحاء سے’’ استمداد و توسل ‘‘کو اسلامی تصورِ توحید کے منافی نہیں جانا۔چنانچہ اسلامی معتقدات ومعمولات کے شارح حجۃ الاسلام امام غزالی(متوفی ۵۰۵؁ھ) قُدِّ سَ سِرُّہُ فرماتے ہیں:’’مَنْ یُّسْتَمَدُّ فِیْ حَیَا تِہٖ یُسْتَمَدُّ بَعْدَ وَفَا تِہٖ‘‘(احیاء العلوم للغزالی)جس سے زندگی میں مدد مانگی جاتی ہے بعد وفات بھی اس سے مدد مانگی جائے گی ۔امام احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی شافعی مکی (۹۷۴؁ھ)’’الجوہر المنظم‘‘ میں چند حدیثیں نقل فرماتے ہیں جو استمداد اور توسل کے جواز و استحباب کی دلیل ہیں۔

پھر فرماتے ہیں : ’’ہر طرح کے ذکر خیر میں حضور اقدسکا وسیلہ اور ان سے استعانت کی جاتی ہے۔آپ کے اس دنیا ئے فانی میں ظہور سے قبل بھی اور بعد ظہور بھی ،آپ کی حیات ظا ہری میں بھی اور بعد وصال بھی،یوں ہی میدان قیامت میں بھی ،چنانچہ آپاپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں گے اور یہ ان امور میں سے ہے جن پر اجماع قائم ہے اور اس تعلق سے اخبار تواتر کی حد تک ہیں۔(الجواہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم ؍ص۱۷۸ ابو ظبی۔)

میں نے صرف دو اقوال نقل کئے، اگر علمائے راسخین کے اس قسم کے اقوال نقل کئے جائیں تو ایک کامل کتاب تیار ہوسکتی ہے ۔پوری جماعت اہل سنت کی جانب سے مسئلہ’’ استمداد اور توسل ‘‘کی وکالت کے لئے یہ دو اقتباسات کافی ہیں ۔’’استمداد وتوسل ‘‘کا یہ نظریہ ہر دور اور ہر قرن میں موجود رہا ۔اس میں پہلا رخنہ ڈالنے والا اور اس نظریۂ فکر کا پہلا منکر (نیز غیر اللہ سے استمداد وتوسل کو شرک وبت پرستی سے تعبیر کرنے والا) ساتویں صدی ہجری کے وسط کی پیدا وار ابن تیمیہ ہے(جس کی ولادت ۶۶۱ھ؁ میں ہوئی)اس دور کے علماء نے ابن تیمیہ کے دیگر تفردات کی طرح اس مسئلہ میں بھی اس کا شدید ردو ابطال فرمایا ۔ جس کے نتیجہ میں کوئی چار سو سال تک یہ فتنہ زیرِ زمین دفن رہا۔ بارہویں صدی کے آغاز میں محمد ابن عبد الوہاب نجدی نے اس فتنہ کو ابھارا اور اسی صدی کے اخیر میں شیخ نجدی کے ایک ریزہ خوار مولوی اسماعیل دہلوی نے ہندوستان میں اس فتنہ کو ہوادی،اور ان کے سُر سے سر ملاکر آج کل کے غیر مقلدین اس فاسد نظریہ کے داعی بن گئے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آنے والے سطور میں ہم اہل سنت کے نظریۂ استمداد پر ٹھوس دلائل وثبوت فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ استمدادو استعانت (غیر اللہ سے مدد طلب کرنا)کے وسیع مفہوم میں’’استغاثہ‘‘(فریاد خواہی)’’توسل‘‘تشفع‘‘مدد کے لئے ندا سبھی شامل ہیں،یوں ہی انبیاء وصلحاء سے ’’استمداد وتوسل‘‘خواہ ان کی ظاہری زندگی میں ہو یا بعد وصال اعمال صالحہ سے استعانت ووسیلہ کی طرح یہ بھی جائز ومستحسن ہے۔علامہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں :

’’ولا فرق بین ذکر التوسل والاستغاثۃ والتشفع والتوجہ بہ ا او بغیرہ من الانبیاء وکذاالاولیاء‘‘ (الجواہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم ؍ص۱۷۵ ابو ظبی۔)

’’لفظ توسل واستعانت ذکر کیا جائے،یا تشفع وتوجہ ان میں کوئی فرق نہیں اور یہ سب رسول اللہ ا سے جائز ودرست ہیں یونہی دیگر انبیاء کرام اور اولیاء سے‘‘۔

میں اوپر بیان کرچکا ہوں کہ آغاز اسلام سے لیکر اب تک ہر دور میں انبیاء،صلحاء،اولیاء سے استمداد وتوسل کا عام دستور رہا ’علمائے راسخین اورکتاب وسنت کے حاملین سے ہر قرن وصدی معمور رہی ،مگر کسی نے اس پر نکیر نہیں فرمائی سبھی بالاتفاق جائز ومستحسن اور قضائے حاجات کا ذریعہ سمجھتے رہے پچھلی امت میں بھی ذوات واشخاص اور اعمال سے استمداد واستعانت وتوسل کا دستور رہا ۔

ولادت مبارکہ سے قبل استمداد وتوسل

حضورکی ولادت مبارکہ سے قبل بھی آپ کی ذات پاک کا وسیلہ لیا گیا ۔خود حضرت آدم علی نبینا علیہ الصلاۃ والسلام نے لیا چنانچہ حاکم نے مستدرک میں ایک روایت نقل کی اور اسے صحیح قرار دیا کہ حضورﷺ نے فرمایا:لما اقترفت آدم الخطیئۃ قال یا رب!اسئلک بحق محمد اان غفرت لی۔ (المستدرک للحاکم ۲؍ ۶۱۵)

’’حضرت آدم علی نبینا علیہ السلام سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے بارگاہ خدا میں عرض کیا ،اے میرے پروردگار! میں تجھ سے محمدا کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوںکہ میری مغفرت فرما‘‘

اگر یہ وسیلہ واستعانت حرام یا شرک ہوتا تو حضرت آدم علیہ السلام کیوںکر وسیلہ لیتے؟ پھر حدیث کے آخری ٹکڑے میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صدقت یا آدم انہ لاحب الخلق الیّ اذا سالتنی بحقہ فقد غفرتک‘‘اے آدم ! تونے سچ کہا وہ مجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں اور جب تونے میرے حبیب کے وسیلے سے دعا مانگی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت فرمادی‘‘۔

کیا اب بھی کسی کے لئے یہ گنجائش باقی ہے کہ استمداد و توسل کو تصور توحید کے منافی سمجھے؟۔یہاں نہ تو وسیلہ لینے والا کوئی عامی ہے نہ وہ جس کا وسیلہ لیا جاتا ہے ۔وسیلہ لینے والا بھی نبی ہے جس کا وسیلہ لیا جارہا ہے وہ بھی نبی ہے ۔

اور پھر اللہ عزوجل کا اس وسیلے کو قبول فرماکر مغفرت فرمانا اس کے صحت واستحسان کی مستحکم دلیل ہے ۔یہ روایت حاکم کے نزدیک صحیح ہے ۔ اس روایت کو امام مالک علیہ الرحمہ نے بھی قبول فرمایا ہے ۔چنانچہ امام شہاب الدین خفاجی (متوفی ۸۱۲ھ؁) نے شرح شفاء میں نقل کیا ہے کہ جب خلیفہ منصور نے حج کیا اور حضور اقدسکی قبر شریف کی زیارت کی مسجد نبوی شریف میں حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ عرض کیا کہ اے ابو عبد اللہ ! میں قبلہ کی طرف رخ کرتا ہوا دعا مانگوں یا حضورکی طرف چہرہ کروں؟۔ حضرت امام مالک نے فرمایا:

’’ولمَ تصرف وجھک عنہ وھو وسیلتک ووسیلۃ ابیک آدم الی اللہ تعالیٰ بل استقبلہ واستشفع بہ فشفعہ اللہ فیک‘‘ ( شرح الشفاء لامام خفاجی ۳؍ ۳۹۸۔ شفاء السقام ؍ ۱۵۴ ۔۔ وفاء الوفاء ص ۱۳۷۶)

’’تم کیوں حضور کی طرف سے اپنا چہرہ پھیروگے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب تمہارا بھی وسیلہ ہیں،تمہارے باپ حضرت آدم کا بھی وسیلہ ہیں؟حضور ہی کی طرف چہرہ کرو اور حضور کی شفاعت کی درخواست کرو اللہ تعالیٰ تمہارے معاملے میں آپ کی شفاعت کو قبول فرمائے گا۔‘‘

پچھلی امتوں میں نبیٔ کریمسے توسل و استعانت کا رواج تھا چنانچہ یہود کے بارے میں قرآن کریم میں ہے۔’’اہل کتاب یہود نبی کے وسیلے سے کافروں کے مقابلے میں فتح مانگا کرتے تھے‘‘۔ (سورۃ البقرہ ؍ ۸۹

)

اسی آیت کی تفسیر میں امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں ’’یعنی فتح ونصرت کا سوال کرتے اور یوں دعا مانگتے اے اللہ ! نبی ِامی کے صدقے ہمیں فتح ونصرت عطا فرما‘‘ (التفسیر الکبیر ج ۳؍ ص ۲۰)

تفسیر در منثور میں ابو نعیم کے حوالے سے حضرت عبد اللہ ابن عباس کی جو روایت تخریج کی گئی ہے اس میں بنی قریظہ ونضیر کے یہودیوں کی دعا کے الفاظ اس طرح تھے :

’’اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے آخری پیغمبراکے طفیل کافروں پرفتحیا بی چاہتے ہیں،توہماری مدد فرماتوان کی مدد ہوئی‘‘ (دُرِّ منثور ، ج ۱؍ ص ۱۲۵)

تابوت سکینہ سے استمدادو توسل

ذوات واشخاص ہی کے ساتھ استمداد وتوسل خاص نہ تھا بلکہ انبیاء وصلحاء کی طرف منسوب اشیاء سے بھی لوگ توسل کرتے اور مدد چاہتے تھے ۔چنانچہ ’’تابوت سکینہ‘‘ کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اور جسے کتاب اللہ نے عظیم الشان نشانی قرار دیا ہے ۔ (سورۃ البقرہ آیت ۲۴۸)علامہ قاضی بیضاوی اور دیگر مفسرین کی صراحت کے مطابق ’’تابوت سکینہ‘‘میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا مبارک اور آپ کے کپڑے،آپ کے نعلین،حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ مبارکہ اور توریت کے ٹکڑے تھے۔(تفسیر بیضاوی بقرہ ص۱۶۱)اس تابوت کے تعلق سے کتب تفاسیر میں یہ ذکر ہے کہ جب بنی اسرائیل کو کوئی مصیبت در پیش ہوتی تو وہ اس تابوت کے وسیلہ سے دعائیں کرتے اور دشمنوں کے مقابلے میں فتح پاتے’’وکانوا یستفتحونہٗ علی عدوھم ویقدمون فی القتال ویسکنون الیہ (تفسیر جلالین بقرہ ص ۳۸)’’بنی اسرائیل اس تابوت کے توسل سے اپنے دشمنوں پر فتح یابی طلب کرتے اور اسے معرکۂ جنگ میں آگے رکھتے اور اس سے سکون حاصل کیا کرتے تھے ‘‘ظاہر ہے کہ ’’تابوت سکینہ‘‘اللہ نہیں ہے ،غیر اللہ ہے تو اس کے توسل سے فتح یابی چاہنا غیر اللہ سے استعانت ہوئی ۔اور قرآن کریم نے نکیر نہ فرمائی بلکہ موقع مدح میں ذکر فرمایا۔اس لئے قرآن وتفاسیر کا مطالعہ کرنے والااور اس پر ایمان لانے والا کوئی بھی شخص استعانت بغیراللہ کا انکار کرہی نہیں سکتا ۔ان چیزوں سے استعانت اس لئے تھی کہ یہ چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی جانب منسوب تھیں ۔حضرت اسماء بنت ابی بکررضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توسط سے رسول اللہکا زیب تن کیا ہوا جُبّہ ملا تو وہ اسے مریضوں کے لئے نکالا کرتی اور دھو کر اس کا غسالہ مریضوں کو پلایا کرتی تھیں اور اس سے شفا چاہتی تھیں۔

(مسلم بحوالہ مشکوٰۃ ص؍۳۷۴)

قرآن کریم سے استمداد بغیر اللہ کا ثبوت

رب کریم ارشاد فرماتا ہے ’’واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ‘‘(سورۃ البقرہ آیت ۱۵۳) ’’صبر اور نماز سے مدد چاہو‘‘۔ظاہر ہے کہ نہ صبر خدا ہے ،نہ نماز بلکہ دونوں غیر اللہ ہیں،اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ سے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے ۔اس سے ثابت ہو ا کہ اعمال صالحہ سے استمداد واستعانت جائز ومستحسن ہے ۔

رب عزوجل اشخاص وذوات سے بھی استمداد کا حکم فرماتا ہے۔ ارشاد ہے’’تعاونوا علی البر والتقویٰ‘‘(سورۂ مائدہ آیت ۲)’’نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘اس آیت میں اشخاص سے استمدادواستعانت کا حکم فرمایا گیا ہے۔ائمہ مجتہدین شخصیت اور عمل دونوں کے وسیلے سے متعلق استدلال میں درج ذیل آیت کریمہ پیش کرتے ہیں:

’’یاایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ‘‘(سورئہ مائدہ آیت ۳۵)’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو‘‘حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وسیلہ لیا ۔اور ان کے وسیلہ سے بارش ہوئی ۔تو حضرت عمر نے فرمایا ’’ھذا واللہ الوسیلۃ الی عزوجل والمکان منہ‘‘خدا کی قسم حضرت عباس اللہ کی بارگاہ کے وسیلہ اور رتبہ والے ہیں۔(الاستیعاب لابن عبد البر) اس روایت نے واضح کردیا کہ مذکورہ آیت کریمہ میں صرف اعمال صالحہ کا وسیلہ مطلوب نہیں ۔ بلکہ صلحاء کی ذات کا بھی وسیلہ مطلوب ہے۔یعنی خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بناناجو غیر اللہ سے استمداد کی ایک اہم صورت ہے کیا کوئی دعویٰ اسلام کے بعد یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ معاذ اللہ غیر اللہ سے استمدادو استعانت کاحکم دے کر اللہ عزوجل نے ناجائز وحرام بلکہ شرک کا حکم دیا ۔لہٰذا ماننا پڑے گا کہ استمدادو استعانت اور توسل ذوات واشخاص کا بھی درست ہے پھر یہ اپنے عموم میں زندہ ووصال یافتہ دونوں کو شامل ہے ۔

احادیث سے استمداد بغیر اللہ کا ثبوت

استمدادو استعانت خواہ اعمال سے ہو یا ذوات واشخاص سے قبل وصال ہو یا بعد وصال اس کا ثبوت کثیر وافر احادیث سے ہے ۔علماء راسخین نے غیراللہ سے استمداد ووسلیہ کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ (۱)عمل صالح سے استمدادوتوسل(۲)نیک اشخاص سے استمداد وتوسل۔

عمل صالح سے استمداد و توسل

اعمال صالحہ سے استمداد وتوسل کے تعلق سے مندرجہ ذیل حدیث پاک سے استدلال بہت معروف ہے جسے امام بخاری نے کتاب الاجارہ میں ،امام مسلم نے کتاب الذکر والدعا والتوبہ والاستغفار ،باب قصۃ اصحاب الغار الثلثۃ میں ذکر فرمایا ہے کہ رسول اللہنے ارشاد فرمایا :

’’تین آدمی جارہے تھے کہ بارش ہونے لگی ان لوگوں نے پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی ،غار کے منھ پر ایک چٹان آگئی جس سے غار کا منھ بند ہوگیا ،ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ،اللہ کے لئے جو نیک کام تم نے کیا اس پرغور کرو اور ان اعمال صالحہ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگو،شاید اللہ عزوجل یہ مصیبت تم سے دور فرمادے ، تو ان تین میں سے ایک نے یہ دعا کی ۔ اے اللہ ! میرے ماں ،باپ بوڑھے تھے ، میری بیوی تھی اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ،میں ان کے لئے بکریاں چراتا جب میں واپس لوٹتا تو دودھ دُوہتا ،اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے ماں باپ کو دودھ پلاتا ،ایک دن درختوں نے مجھے دور پہونچا دیا تو رات سے پہلے میں لوٹ نہ سکا ،میرے والدین میرے لوٹنے تک سوچکے تھے ،میں نے حسب معمول دودھ دُوہااور ایک برتن میں دودھ لیکر والدین کے سرہانے کھڑا ہوگیا ،ان کو نیند سے بیدار کرنا میں ناپسند کرتا تھا اور ان سے پہلے بچوں کو دودھ پلانا بھی مجھے نا پسند تھا ،باوجودیکہ میرے بچے میرے قدموں کے پاس چیخ رہے تھے ،فجر طلوع ہونے تک میرا اور میرے ماں ،باپ کا یہی حال رہا ،اے اللہ تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا جوئی کے لئے کیا تھا ،تو ہمارے اس غار میں کشادگی کردے کہ ہم اس غار سے آسمان کو دیکھ لیں ،تو اللہ عزوجل نے کچھ کشادگی کردی اور ان تینوں نے اس غار سے آسمان کو دیکھ لیا ۔ پھر دوسرے شخص نے دعا کی اے اللہ ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جس سے مجھے بے پناہ محبت تھی جیسا کہ مرد عورت سے محبت کرتا ہے ،میں نے اس سے ملاقات کی درخواست کی ،اس نے انکار کیا اور سودینار کی طلبگار ہوئی ،میں نے بڑی مشقّت سے سو دیناراکٹھا کئے اور اسے لے کر اپنی محبوبہ کے پاس گیا ،جب میں اس کے ساتھ جنسی عمل کرنے بیٹھا تو اس نے کہا ،اے اللہ کے بندے!اللہ سے ڈر اور حرام طریقے سے مہر نہ توڑ،تو میں اسی وقت اس سے علیحدہ ہوگیا ۔ اے اللہ! تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے تیری رضا مندی کے لئے ایسا کیا تھا ،تو ہمارے لئے اس غار کو کچھ کھول دے ،تو اللہ تعالیٰ نے غار کو کچھ کھول دیا ۔اور تیسرے شخص نے کہا ،اے اللہ ! میں ایک شخص کو ایک فرق چاول کی اجرت پر اجیر رکھا تھا ،جب اس نے اپنا کام پورا کرلیا تو کہا میری اجرت دے دو، میں نے اس کو مقررہ اجرت دے دی مگر اس نے اس سے اعراض کیا ،پھر میں ان چاولوں سے کاشت کرتا رہا تاآنکہ اس کی آمدنی سے میں نے گائے اور چرواہے جمع کرلئے ،ایک دن وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔اللہ سے ڈرو اور میرا حق نہ مارو،میں نے کہا جائو اوران گایوں اور چرواہوںکو لے لو ،اس نے کہا اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو۔میں نے کہا میں تم سے مذاق نہیں کرتا یہ گائے اور چرواہے لے لو ،وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ اے اللہ !تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضاجوئی کے لئے کیا تھا ،تو غار کے منھ کا جو حصہ کھلنے سے رہ گیا ہے اسے کھول دے تو اللہ تعالیٰ نے کھول دیا بعض روایتوں میں ہے کہ وہ غار سے نکل کر روانہ ہوگئے ۔ (صحیح المسلم جلد دوم ص ۳۵۳)

ان تینوں آدمی نے اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کی اور وہ دعا بارگاہ ِالٰہی میں قبول ہوئی اور یہ حدیث موقع مدح میں ہے تو اس سے وسیلے کا جواز واستحسان ثابت ہوا ۔

بخاری ونسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،وہ نبیٔ کریمسے روایت کرتے ہیں۔’’استعینوا بالغدوۃ والروحۃ وشئی من الدجلۃ‘‘صبح کی عبادت سے استعانت کرو ،شام کی عبادت سے استعانت کرو ،کچھ رات کا حصہ باقی ہوتو اس کی عبادت سے استعانت کرو ۔

ابن ماجہ اور حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ نبیٔ کریمﷺ سے کہ فرمایا’’استعینوا بطعام السحر علے صیام النھاروبالقیلولۃ علے قیام اللیل‘‘سحر کے کھانے سے دن کے روزے پر استعانت کرواور دوپہر کے سونے سے قیام لیل پر استعانت کرو۔

ظاہر ہے کہ نہ تو صبح کی عبادت خدا ہے ،نہ شام کی ،نہ سحر کی ،نہ دوپہر کا سونا ۔تو ان سے استمدادو استعانت کا حکم دیا گیا۔ جس سے ثابت ہو کہ غیر اللہ سے استمدادواستعانت جائز وروا، مستحسن ومستحب ہے۔

ذوات واشخاص سے استمداد و توسل

ائمہ دین نے مندرجہ ذیل احادیث کریمہ سے مسئلۂ استمداد واستعانت وتوسل میں استدلال فرمایا ہے ۔حضرت عثمان ابن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیث ہے،حضورﷺ نے انہیں خود ایک دعا تعلیم فرمائی ۔جس کے الفاظ یہ ہیں’’اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک نبیک محمد نبی الرحمہ یامحمد انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی ھذہٖ لتقضی لی حاجتی ۔اللھم فشفعہ۔ (ترمذی شریف جلد دوم ص ۱۹۷)

’’اے اللہ ! میں تیرے نبی محمد ا جو نبیِ رحمت ہیں۔کے وسیلے سے تجھ سے مانگتا اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، یارسول اللہ !میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہوںتاکہ میری حاجت پوری ہو ،الٰہی !حضور کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔‘‘یہ حدیث صرف امام ترمذی نے اخذ نہیں کی ہے بلکہ امام بخاری نے تاریخ کبیر میں ،ابن ماجہ نے سنن صلوۃ الحاجۃ میں ،نسائی نے عمل الیوم واللیلۃ میں ،ان کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی اس کی تخریج فرمائی اور متعدد محدثین نے اس کے صحیح ہونے کی صراحت بھی فرمائی اس حدیث پاک سے صاف ظاہر ہے کہ نبیٔ کریم علیہ الصلاۃ والسلام کو وسیلہ ورابطہ بنا کر قضائے حاجات کے لئے ان سے استمداد واستعانت منصوص ہے ۔ حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں مذکورہے کہ ایک شخص کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک اہم کام تھا جو پورا نہیں ہورہا تھا ۔وہ حضرت عثمان بن حنیف کے پاس آیا آپ نے نماز حاجت کے سوا مذکورہ دعا ’’اللھم انی اسئلک الخ‘‘کی تعلیم فرمائی ۔ اس طرح اس کی حاجت پوری ہوگئی ،پھر جب اس شخص کی ملاقات حضرت عثمان بن حنیف سے ہوئی تو اس نے کہا ’’ جزاک اللہ خیرا ماکان ینظر ولا یلتفت اِلَیَّ حتّٰی کلمتُہ فی‘‘اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے وہ میری طرف التفات کرتے ہی نہ تھے پھر میں نے اپنی ضرورت کے تعلق سے گفتگو کی اور وہ پوری ہوئی ۔ (الترغیب والترہیب جلد اول۔ والخصائص الکبریٰ جلد دوم ؍ص۱ ۲۰)

روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عثمان بن حنیف نے اس شخص سے کہا کہ ،خلیفۃ المسلمین سے آپ کے بارے میں میری کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر تھے ۔ایک نابینا صحابی بھی حاضر بارگاہ ہوئے ،اور اپنی بینائی کے لئے دعاکی درخواست کی ۔حضور ا نے اسے صبر کی تلقین کی ۔مگر وہ اپنی بات پر مصر رہے ۔تو حضورنے انہیں وضو،نماز اور اسی دعا کی تلقین فرمائی ۔ وہ نابینا صحابی دعا کرنے کے لئے گئے ،اور ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں دیر تک رہے۔ تو ہم نے دیکھا کہ وہ نابینا صحابی حضور کی بارگاہ میں اس حال میں آئے کہ ان کی دونوں آنکھیں بالکل صحیح تھیں۔(وفاء الوفاء جلد چہارم ص۱۳۷۳ للعلامہ السمھودی)

غور فرمائیں کہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابیٔ رسول ہیں ان حضرات سے بڑھ کر احادیث رسول کو سمجھنے والے کون ہوسکتے ہیں؟۔ انہوں نے دعائے حاجت والی حدیث سے یہی سمجھا کہ یہ دعا نبیٔ کریمکی ظاہری زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔حضور سے استمدادو استعانت ،نداء اور پکار ان کی ظاہری زندگی کے بعد بھی خود صحابہ کا معمول ہے ۔پھر حضرت عثمان ابن حنیف کے کہنے پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آنے والے حاجت مند یا تو صحابی تھے یا کم از کم کبار تابعین میں سے تھے ۔ انہوں نے بلا چون و چرا اس عملِ توسل واستعانت پر عمل کیا جس سے واضح ہے کہ بعد رحلت بھی استمدادووسیلہ ونداء جائز ومستحسن ہیں ……… ربیعہ ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں’’کنت أبیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل فقلت اسئلک مرافقتک فی الجنۃ قال أوغیر ذلک قلت ھو ذاک ،قال فاعنی علی نفسک بکثرۃ السجود (رواہ مسلم) (مسلم شریف بحوالہ مشکوٰۃص ۸۴)

’’میں سرکار دوعالمکے ساتھ وہاں رات میں رہتا ۔ ایک دفعہ رات میں آپ کے لئے وضو کا پانی اور دیگر ضرورت کی چیزیں لایا۔ آپ نے فرمایا کہ ربیعہ !مانگ کیا مانگتا ہے ؟۔عرض کی میں حضور سے سوال کرتا ہوں کہ جنت میں حضور کی رفاقت ہو ،فرمایا کچھ اور مانگنا ہے ۔ عرض کی میری مراد تو بس یہی ہے ،فرمایا تو تم اپنے نفس پرمیری مدد زیادہ سجدہ کرکے کرو‘‘۔ مذکورہ حدیث پاک میں وارد دو،تین الفاظ کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں۔(۱)ایک تولفظ’’ سَلْ‘‘ ہے(۲)دوسرا’’اسئلک مرافقتک‘‘ یعنی جنت میں حضور کی رفاقت کا سوال(۱)سَلْ امر کا صیغہ ہے جس میں حضورا نے ربیعہ بن کعب سے مانگنے کو کہا ،اس کا مفعول مذکور نہیں کیونکہ کوئی خاص مفعول یہاں مطلوب نہیں ،تو جس چیز کا بھی مطالبہ ہو وہ صحیح ہوگا۔کہ اس میں نا کسی چیز کی تقید ہے ،نا کسی امر کی تحصیص تو اس سے صاف واضح ہوا کہ حضورا ہر قسم کی حاجت وضرورت پوری فرما سکتے ہیں ،ہر طرح کی مدد کرسکتے ہیں۔(۲)جنت میں حضور کی رفاقت کا سوال خود حضور سے ہی کیا گیا ، جنت میں رفاقت عظیم ترین نعمت ہے۔مگر اس نعمت کے سوال پر حضور نے منع نہ فرمایااور نہ یہ فرمایا کہ ربیعہ یہ شرک ہے ۔بلکہ مزید مانگنے کا مطالبہ فرمایا۔یہ غیر خدا سے مدد مانگنا ہوا ۔(۳)لفظ أعِنِّیْ کا معنی ہی ہے ’’میری مدد واعانت کر ‘‘اسی کو استعانت کہتے ہیں۔تو غیر اللہ سے استعانت ہوئی ۔ اگر یہ تصور توحید کے منافی ہوتا تو حضور ہر گز ارشاد نہ فرماتے۔شیخ محقق اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں’’سل‘‘فرماکر سوال کو مطلق رکھا ،کسی خاص چیز سے مقید نہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ تمام معاملات حضور کے دست کرم میں ہیں،جوچاہیں ،جس کو چاہیںاپنے رب کے حکم سے عطا کردیں۔ (اشعۃ اللمعات للشیخ عبد الحق ،باب السجود وفضلہ)

شیخ محقق کی یہ تشریح استمداد کو تصور توحید کے منافی قرار دینے والوں کے لئے تا زیانۂ عبرت ہے ۔

قحط میں حضورکے وسیلے سے دعاکرنا

جب اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوگئے اور انہوں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر شکایت کی تو رسول اللہﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی۔تو خوب جم کر بارش ہوئی ۔مدینہ منورہ کے آس پاس کے لوگوں نے حاضر ہوکر عرض کی ہم ڈوب جائیں گے ۔پھر آپ نے دعا کی اور بارش صرف ارد گرد میں ہوئی ۔حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ولو ادرک ابو طالب ھذا الیوم لسرہ فقال لہ بعض اصحابہ یا رسول اللہ!اردت بقول ؎ وابیض یستقی الغمام بوجھہ ثمال الیتامیٰ عصمۃللارامل

’’ قال نعم‘‘یعنی اگر ابو طالب اس دن کو پاتے تو خوش ہوتے ایک صحابی نے عرض کیا ۔ حضور آپ کااشارہ ان کے اس شعر کی جانب ہے ۔ گورے رنگ والے جن کے چہرے کے وسیلے سے بارش کی دعا مانگی جاتی ہے ۔ یتیموںاور ناداروں کے ماویٰ وملجاء ،فرمایا ہاں۔(السیرۃ النبویہ لابن ھشام ج ۱؍ص ۱۷۹ ۔صحیح البخاری باب الاستقاء اول ص ۱۳۷)

بعد رحلت حضور سے توسل واستعانت

وسیلہ بالانسان کے متعلق بخاری باب الاستقاء میں روایت ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل یہ تھا کہ جب قحط پڑتا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وسیلے سے آپ اللہ سے بارش کا سوال کرتے ۔دعا کے الفاظ یہ ہوتے۔’’اللھم انا کنا نتوسل الیک نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال فیسقون۔ (صحیح البخاری جلد اول ص ۱۳۷)

اے اللہ ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی ا کا وسیلہ لے کر حاضر ہوتے تھے توتو ہمیں سیراب کرتا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کا وسیلہ لیکر آئے ہیں،ہم پر بارش برسا ۔راوی کہتے ہیں تو مینہ برستا‘‘۔

یہ حدیث اس پر واضح دلیل ہے کہ اہل بیت اور بزرگان دین کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بنانا اور ان کے سہارے مدد طلب کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عمل تمام صحابۂ کرام کے مجمع میں ہوا اور بلا نکیر سب نے اس پر عمل کیا تو توسل واستعانت کے مستحب ہونے پر صحابہ کا اجماع ہوگیا ۔توسل سے یہاں دعاکی درخواست مراد نہیں ،جیسا کہ ابن تیمیہ کے ریزہ خوار کہتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں صاف تصریح ہے کہ اے اللہ !ہم اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ لاتے ہیں۔ہم پر بارش نازل فرما۔اس کو دعا کی درخواست پر محمول کرنا حدیث کی تحریفِ معنوی ہے۔ابن تیمیہ کے پیرو کاروں کا یہ کہنا ہے کہ اگر بعد رحلت بھی حضور اکرم ا سے تو سل جائز ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عباس سے کیوں وسیلہ لیتے۔دھوکا اور فریب وجہالت ہے کیونکہ کسی چیز کے مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کو اپنانا دوسرے کی نفی کی دلیل نہیںبلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ بر تر کے ہوتے ہوئے اس سے کم رتبے والے سے بھی وسیلہ لیا جاسکتا ہے ۔پھر یہ کہ حضرت عباس سے توسل میں ایک اہم افادہ مقصود تھا حضور اقدس ا سے توسل واستعانت کا مستحب مستحسن ہونا سب کو معلوم تھا ممکن ہے کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ غیر نبی سے تو سل جائز نہیں تو حضرت عمر نے حضرت عباس کو وسیلہ بنا کر واضح کردیا کہ غیر نبی سے توسل بھی مستحب ہے،بالخصوص رشتۂ نبی ا کا وسیلہ لینا ، حدیث کے الفاظ ’’کنا نتوسل‘‘سے ظاہر ہے کہ یہ تو سل واستعانت صرف عہد رسالت ا کے ساتھ خاص نہ تھا بعد میں بھی صحابہ کا یہ معمول رہا ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وصال کے بعد استمداد ووسیلہ لینا جائز نہیں،وہ در اصل صحیح روایتوں کے منکر ہیں۔چنانچہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں اور علامہ قسطلانی نے ’’المواھب اللدنیہ‘‘میں مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے یہ روایت بیان فرمائی۔ اس کے راوی حضرت عمر کے خازن مالک الدار ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ’’اصاب الناس قحط فی زمان عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجاء رجل الی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ!استق اللہ لامتک فانھم قد ھلکو افاتاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام فقال ائت عمر فاقرئہ السلام واخبرہ انھم یسقون۔ (فتح الباری دوم ،ص ۱۳۷)

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں لوگ قحط میں مبتلاء ہوئے تو ایک شخص نبیٔ کریم ا کے مزار اقدس پر حاضر ہوا ،اور کہا یا رسول اللہا !اپنی امت کے لئے بارش کی دعا فرمائیں ،لوگ ہلاک ہورہے ہیں ۔نبی کریم ا خواب میں ایک شخص کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: عمر سے جاکر عرض کرو کہ عنقریب بارش آئے گی۔بعض لوگوں نے اس شخص کا نام بلال بن حارث مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتایا ہے۔اس حدیث کو علامہ ابن حجر اور علامہ قسطلانی نے صحیح قرار دیا ہے۔بیہقی نے’’ دلائل النبویہ‘‘ میں یہ حدیث ذکر کیا ہے ۔تو اس حدیث صحیح سے ثابت ہوا کہ وقتا فوقتا صحابۂ کرام حضور ا کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر حضورا سے استعانت واستمداد کرتے تھے ۔

منکرین استمداد کے لئے یہ آیت کریمہ کافی ہے۔اللہ عزوجل فرماتا ہے :

’’ولوانھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروااللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما۔(سورۃ النساء آیت ۶۴)

اور جب وہ اپنی جانو ںپر ظلم (یعنی گناہ)کرکے تیرے پاس حاضر ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور معافی مانگیںان کے لئے رسول تو بیشک اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔

رسول پاک کی بارگاہ میں حاضری دے کر ان سے معافی مانگنے اور توبہ واستغفار کرنے کا یہ حکم حضور کی حیات ظاہری کے ساتھ خاص نہیں۔بلکہ آپ کے پردہ فرمانے کے بعد بھی یہ حکم جو ں کا تو ںباقی ہے ۔ صحابۂ کرام اور ائمۂ اسلام نے اس آیت کریمہ سے یہی سمجھا ہے ۔ چنانچہ علامہ نور الدین علی ابن احمد سمہودی اپنی کتاب’’وفاء الوفاء ‘‘ میںفرماتے ہیں :

’’علماء اسلام نے اس آیت کریمہ سے یہی سمجھا ہے کہ یہ حکم حضور اکی ظاہری حیات اور بعد وصال دونوں کو عام ہے اور آپ کی قبر انور پر حاضر ہونے والوں کے لئے اس آیت کریمہ کی تلاوت اور توبہ کرنے اور مغفرت چاہنے کو مستحب قرار دیا ہے‘‘ چنانچہ ذیل میں عہد صحابہ کے دو واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن سے علامہ سمہودی علیہ الرحمہ اور دیگر علمائے راسخین کی رائے اور مسلک اہلسنت وجماعت کی تائید ہوتی ہے ۔

(۱)محمد عتبی سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی قبر انور کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی دیہاتی آیا اور وہ السلام علیک یا رسول اللہ کے بعد کہنے لگا ،اے رسولوں میں سب سے بہتر اللہ تعالیٰ نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے ،اور اس میں ارشاد فرمایا ہے جب لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرکے آپ کی بار گاہ میں حاضر ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور آپ بھی ان کے لئے سفارش کریں تو اللہ ضرور توبہ قبول فرمائے گا ۔میں آپ کے پاس اپنے گناہوں کی مغفرت کے لئے آیا ہو ں یارسول اللہ! میں آپ کو اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں شفیع بناتاہوں،پھر روتے ہوئے اس نے یہ اشعار پڑھے۔

یا خیرمن دفنت بالقاع أعظمہ

فطاب من طیبھن لاقاع والاکم

نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ

فیہ العفاف وفیہ الجود والکرم

’’اے ان تمام لوگوں میں سب سے افضل جو زمین میں دفن کردیئے گئے تو ان کی خوشبو سے چٹیل میدان اور ٹیلے مہک اٹھے ۔میری جان اس قبر پر فدا جس میں آپ آرام فرماہیںجو پاک دامنی اور جود وکرم کا خزانہ ہے‘‘۔راوی کہتے ہیں کہ وہ اعرابی دوبارہ مغفرت طلب کرکے لوٹااتنے میں میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں نبیٔ کریم ا کی زیارت سے مشرف ہوا۔سرکار نے فرمایا:’’یا عتبی الحق الاعرابی فبشرہ بان اللہ تعالیٰ قد غفرلہ۔‘‘ ’’جائو اس اعرابی سے مل کر بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے میری سفارش سے اس کی مغفرت فرمادی ہے۔‘‘(رواہ ابن عساکر فی تاریخہ ،الجواہر المنظم لابن حجر الھیتمی ص ۱۵۳)

(۲)دوسری روایت ابو سعید السمعانی کی ہے ۔وہ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ کے وصال کے تین دن بعد ایک اعرابی آپ کی قبر انور پر حاضر ہوئے اور انہوں نے خود کو قبر شریف پر گرا دیا اور قبر کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگے اور کہتے جاتے تھے ۔ یارسول اللہ ! جو کچھ آپ نے فرمایا ہم نے سنا اور ہم نے آپ کے بتائے ہوئے کو محفوظ کرلیا یا رسول اللہ! آپ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ’’ولو انھم اذ ظلمواالخ‘‘میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اب میں آپ کی بار گاہ میں حاضر آیا ہوںکہ آپ اپنے رب سے میرے لئے استغفار کریں ۔تو قبر انور سے آواز آئی کہ تیری مغفرت ہوگئی‘‘۔( وفاء الوفاء ،ج ۴، ص ۱۳۶۱، الجواہر المنظم ص ۱۵۵)

ان دونوں روایتوں میں صاف وضاحت ہے کہ آپﷺ کی رحلت کے بعد قبر انور پر حاضر ہوکر استغفار واستمداد واستعانت واستشفاء جائزومستحب ہے اور یہ صحابۂ کرام کا طریقہ ہے۔عہد صحابہ کے بعد کے ائمہ ،علماء واولیاء نے بھی استمداد واستعانت وتوسل کو جائز ومستحسن سمجھا ۔ اس تعلق سے مستند کتابوں میں اتنا کچھ ہے کہ اس کے لئے دفتر در کار ہے ۔ یہاں سید الاولیاء حضرت غوث الثقلین کا ایک ارشاد نقل کیا جارہا ہے ۔ حضور سیدنا غوث اعظم کا یہ ارشاد’’ بہجۃ الاسرار شریف ‘‘میں مذکور ہے ۔’’جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہواور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہواور جو کسی حاجت میں اللہ تعالیٰ کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے اور دورکعت نماز پڑھے ،ہر رکعت میںبعد فاتحہ کے سورۂ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام پھیر کر نبی اپر درود بھیجے اور مجھے یاد کرے پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے‘‘۔اس طرح بہت سے اقوال حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہیں ۔ان کے علاوہ بہت سے بزرگان دین سے اس طرح کے اقوال مروی ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیاء وصلحاء سے استمداد جائز ودرست ہے۔

حضرت شیخ حسن عدوی حمزاوی نے ’’مشارق الانوار‘‘ میں شیخ الاسلام شہاب الدین رملی کا یہ عقیدہ بیان فرمایا۔’’شیخ الاسلام رملی سے پوچھا گیا کہ عوام مصیبت وپریشانی کے وقت یا شیخ فلاں اور اس قسم کے الفاظ کہتے ہیں تو کیا مشائخ کرام وصال کے بعد امداد فرماتے ہیں ؟تو آپ نے جواب دیا کہ انبیاء،اولیاء، صالحین اور علماء سے استغاثہ(فریاد خواہی)جائز ہے۔کیونکہ یہ حضرات وصال کے بعد ایسی ہی امداد فرماتے ہیں ۔جیسی وہ اپنی حیات ظاہری میں امداد فرمایا کرتے تھے کیونکہ انبیاء کے معجزے ، اولیاکی کی کرامتیں ہیں۔ مشارق الانوار ،للشیخ الحسن العدوی الحمزاوی

خاتم الفقہاء علامہ ابن عابدین شامی کی رد المختار کے حاشیہ میں ہے’’زیادی نے یہ بات بہ تحقیق بیان کی ہے، جب کسی انسان کی کوئی چیز گم ہوجائے اور وہ یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز واپس فرمادے تو اسے چاہییٔ کہ کسی بلند جگہ قبلہ رو کھڑا ہو جائے اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر اس کا ثواب نبیٔ کریم ا کو پہونچائے پھر سیدی احمد بن علوان کو ایصال ثواب کرے۔’’یا سیدی احمد یا ابن علوان ان لم ترد علی ضالتی والانزعتک من دیوان الاولیاء‘‘یعنی اس طرح کہے یا سیدی احمد اے ابن علوان !اگر آپ نے میری گم شدہ چیز واپس نہ کی تو میں آپ کا نام دفتر اولیاء سے کاٹ دوں گاتو اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے کہنے والے کو واپس فرمادے گا۔‘‘رد المختار کتاب اللقطہ ج ۶؍ص ۴۴۷

شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ ’’فتح العزیز‘‘میں سورئہ فاتحہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ غیراللہ سے استمدادو استعانت اگر بایں طور ہے کہ اس غیراللہ پر کلی اعتماد کرتا ہے اور اسے عون الٰہی کا مظہر نہیں جانتا تو وہ حرام ہے اور اگر التفات تو حق تعالیٰ کی طرف ہے اور غیر اللہ سے استمداد بایں طور ہے کہ اسے مدد الٰہی کا مظہر جانتا ہے جس کو استعانت ظاہری کہتے ہیں یہ شرعا جائز ودرست ہے۔انبیاء ،اولیاء سے اس قسم کی استعانت کی جاتی ہے‘‘۔ فتح العزیز تفسیر سورۂ فاتحہ

الغرض ذوات واشخاص سے استعانت واستمداد بلا شبہ جائز ومستحسن ہے۔کوئی بھی مسلمان انبیاء ،اولیاء ،صلحاء سے استمدادا نہیں مستقل بالذات سمجھ کر نہیں کرتا ہے۔نہ ہی انہیں قادر بالذات سمجھتا ہے بلکہ انہیں قضائے حاجات کا وسیلہ اور وصول فیض کا واسطہ جانتا ہے اور یہ معنیٰ تو غیر خدا ہی کے ساتھ خاص ہے ۔اس استمدادواستعانت کو تصور توحید کے منافی قرار دینا اور مشرک گرداننا توحید اور شرک کے شرعی مفہوم سے جاہل وناواقف رہنے کی بین دلیل ہے۔جیسا کہ ابن تیمیہ اور اس کے ریزہ خوار محمد ابن عبد الوھاب واسماعیل دہلوی نے اسے شرک قرار دیا ہے ۔ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ پورے عالم کا مسئلہ استمدادپر اجماع واتفاق رہا کہ عہد رسالت سے تقریبا سات سو سال تک کسی کے دل میں یہ خیال بھی نہ گزرا ہوگا کہ انبیاء واولیاء سے استمداد توحید کے منافی عمل ہے۔رہا ابن تیمیہ کا اسے حرام وشرک بتانا تو یہ جمہور اسلام کی مخالفت ہے جسے اس کے دور کے علماء نے اسے مسترد کردیا ہے ۔در اصل ابن تیمیہ اور اس کے متبعین شرک وتوحید کا معنیٰ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ لوگ اس بنیادی نکتہ پر غور نہ کر سکے کہ عہد رسالت کے مشرکین کا اصل شرک کیا تھا ۔اس لئے انہوں نے اپنے خود ساختہ تصور توحید کو اسلامی تصور توحید قراردے دیاحالانکہ اسلامیات کے ماہرین نے اس بات کی خوب صراحت کردی ہے ، کہ عہد رسالت کے مشرکین کا شرک ان کا چند معبود جاننے کا نظریہ تھا اور اللہ سبحانہ کے لئے اولاد ماننے کا عقیدہ تھا اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو نظام کائنات کی تدبیر میں خدا کا شریک سمجھناتھا ۔شرک توحید کی ضد ہے۔علامہ عینی نے توحید کا معنیٰ یہ بیان کیا ہے۔ ’’توحید اصل میں وَحَّدَ یُوَحِّدُ کا مصدر ہے اور وَحّدْتُ اللہ َ کے معنیٰ ہیں میں نے اللہ کو اس کی ذات وصفات میں منفرداعتقاد کیا ۔ جس کی نہ تو کوئی نظیر ہے ،نہ ہی اس کی کوئی شبیہ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ توحید نام ہے اللہ کی ذات کے لئے یہ ثابت کرنا کہ وہ دوسری ذات کے مشابہ نہیں ہے اور نہ صفات سے عاری ہے‘‘۔ حاشیہ بخاری جلد دوم ،ص ۱۰۹۶

اسی کے ساتھ ساتھ شرک کا مفہوم بھی ذھن میں بسالیں علامہ سعد الدین تفتازانی شرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں ۔شرک کرنے کے معنیٰ یہ ہیں۔الوہیت بمعنٰی وجوب وجود میں کسی کو خدا کا شریک ثابت کرنا جیسا کہ مجوسیوں کا شرک ہے ۔یا الوہیت بمعنیٰ استحقاق عبادت میں کسی کو خدا کا شریک ثابت کرنا جیسا کہ اصنام پرستوں کا شرک ہے۔ شرح العقائد للنسفی ۶۱ ، مجلس برکات مبارکپور اعظم گڑھ

شرک کی اس تعریف سے بخوبی عیاں ہے کہ خدا کی عطا کردہ قوت امداد مان کر انبیاء اولیا ء سے مدد طلب کرنا ہرگز ہرگز شرک کے خانے میں نہیں آتا …نہ ہوگا کہ دینی و دنیاوی کسی بھی طرح کی مدد کسی غیر اللہ سے چاہنا شرک ٹھہرے گا ۔والعیاذ باللہ ! تو حق وہی ہے جس پر عہد رسالت سے لیکر آج تک مسلمانان عالم کا اجماع ہے ۔بلکہ پچھلی اُمتوں کا بھی کہ قضائے حاجات کے لئے صالحین سے استمدادتصوّرِ توحید کے منافی نہیں ۔