درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو (جنتی) حوریں جو کہ جنت میں اس (شوہر) کی زوجہ ہوں گی، کہتی ہیں:

اے عورت! اسے تنگ نہ کر، تیرا ستیاناس یہ شوہر تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا-

(انظر: ابن ماجہ، باب فی المراۃ توذی زوجھا، ج1، ص560، ملخصاً)

اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں ہے کہ عورتوں کو اپنے شوہر کو تکلیف نہیں دینی چاہیے بلکہ اس روایت سے دو اہم مسئلے بھی معلوم ہوئے:

(1) اگر کسی بندے کو دور سے پکارنا شرک ہوتا تو جنتی حوریں دنیا کی عورتوں کو نہ پکارتیں اور جو کہتا ہے کہ نبی کو پکارنے سے مسجد گندی ہو جاتی ہے تو بہ قول اس کے غیر نبی کو پکارنے کی وجہ سے جنت بھی گندی ہو جانی چاہیے!

(2) جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو جنت کی حور سن لیتی ہے؛ جب جنت کی ایک مخلوق کی سماعت کا یہ عالم ہے تو مالک جنت، صاحب شریعت ﷺ کی سماعت کا کیا عالم ہوگا-

ممکن ہے کہ کسی کے پیٹ میں اس حدیث کی سند کو لے کر درد اٹھے لہذا دوا کے طور پر ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے-

(صحیح سنن ابن ماجہ، جلد1، صفحہ نمبر341)

عبد مصطفی

بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی

ہمارے زمانے کی عورتیں

ہمارے زمانے کی عورتیں

عورتوں کے مسجد جانے کے متعلق ام المومنین، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتے جو انھوں نے اب ایجاد کیا ہے تو ان کو (مسجد میں آنے سے) منع فرما دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا-

(بخاری شریف، ج1، ص472، ر869)

علامہ بدرالدین عینی حنفی علیہ الرحمہ (م855ھ) لکھتے ہیں کہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا عورتوں کے اس بناؤ سنگھار کو دیکھ لیتیں جو انھوں نے ہمارے زمانے میں ایجاد کر لیا ہے اور اپنی نمائش میں غیر شرعی طریقے اور مذموم بدعات نکال لی ہیں، خاص طور پر شہر کی عورتوں نے تو وہ (حضرت عائشہ صدیقہ) ان عورتوں کی بہت زیادہ مذمت کرتیں-

(عمدۃ القاری، ج6، ص227)

علامہ غلام رسول سعیدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ اگر علامہ عینی ہمارے زمانے کی فیشن زدہ عورتوں کو دیکھ لیتے تو حیران رہ جاتے- اب اکثر عورتوں نے برقع لینا چھوڑ دیا ہے، سر کو ڈوپٹے سے نہیں ڈھانپتیں، تنگ اور چست لباس پہنتی ہیں، بیوٹی پارلر میں جا کر جدید طریقوں سے میک اپ کراتی ہیں، مردوں کے ساتھ مخلوط اجتماعات میں شرکت کرتی ہیں، مراتھن دوڑ میں حصّہ لیتی ہیں، بسنت میں پتنگ اڑاتی ہیں، ویلین ٹائنس ڈے مناتی ہیں، اس قسم کی آزاد روش میں عورتوں کے مسجد میں جانے کا تو خیر کوئی امکان ہی نہیں ہے-

(نعم الباری فی شرح صحیح البخاری، ج2، ص798)

میں (عبد مصطفی) کہتا ہوں کہ اب تو حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ سامنے کوئی جناب ہیں یا محترمہ! ایسا فیشن نکلا ہے کہ مرد اور عورت میں تمیز کرنا دشوار ہو گیا ہے-

ایک فکر لوگوں کے ذہنوں میں ڈالی جا رہی ہے کہ "عورتیں مردوں سے کم نہیں” اور اسی مقابلے کے چکر میں عورتوں نے شرم و حیا نام کی چیز کو اپنی لغت (ڈکشنری) سے مٹا (ڈلیٹ کر) دیا ہے!

اب تو ایسا لگتا ہے کہ ان کے لیے صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے-

عبد مصطفی

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِىۡ سَبِيۡلٍ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 43

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِىۡ سَبِيۡلٍ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا

ترجمہ:

اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو ‘ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو ‘ پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو ‘ بیشک اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (النساء : ٤٣) 

حالت نشہ میں نماز پڑھنے سے ممانعت کا شان نزول : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی ابن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے ہمارے لئے کھانے کی دعوت کی ‘ اور ہم کو (تحریم شراب سے پہلے) شراب پلائی ہم نے شراب پی اور نماز کا وقت آگیا ‘ انہوں نے نماز پڑھانے کے لیے مجھے امام بنادیا میں نے پڑھا (آیت) ” قل یایھا الکافرون، لا اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون “۔ (آپ کہیے کہ اے کافرو میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم عبادت کرتے ہو) تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٣٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧١) 

امام ابن جریر متوفی ٣١٠‘ ھ نے از ابو عبدالرحمن از حضرت علی (رض) روایت کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت علی (رض) نے شراب پی اور نماز حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے پڑھائی اور ان کو اس آیت کے پڑھنے میں التباس ہوگیا تب یہ آیت نازل ہوئی : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٦١) 

امام ابوبکر جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ٢٠١) 

امام حاکم نیشا پوری متوفی ٤٠٥ ھ نے اس حدیث میں یہ روایت کیا ہے کہ ایک شخص کو امام بنادیا گیا اور اس نے قرات میں یہ غلطی کی پھر یہ آیت نازل ہوئی ‘ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ‘ امام ذہبی نے بھی اس کو صحیح لکھا ہے۔ (المستدر ج ٢ ص ٣٠٧) 

امام ابوالحسن واحدی متوفی ٤٦٨ ھ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٥٦‘ تفسیر سفیان الثوری ‘ ص ٥٦‘ تفسیر الزجاج ج ٢ ص ٥٦) 

بعض مفسرین نے کہا اس آیت کا معنی ہے جب تم پر نیند کا غلبہ ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :۔ اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حالت جنابت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص سفر میں جنبی ہوجائے اور اس کو غسل کے لئے پانی نہ ملے تو وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے ‘ زجاج نے کہا اس کی حقیقت یہ ہے کہ حالت جنابت میں تم نماز نہ پڑھو ‘ قبتی نے کہا اس آیت میں صلوۃ سے مراد موضع الصلوۃ ہے یعنی مسجد ‘ اور اس کا معنی ہے کہ حالت جنابت میں تم مساجد کے قریب نہ جاؤ مگر صرف راستہ گزرنے کے لئے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو ‘ پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو ‘۔ 

تیمم کی مشروعیت کا سبب : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں گئے ‘ جب مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گرگیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس ہار کو تلاش کرنے کے لئے رک گئے ‘ اور آپ کے ساتھ تمام قافلہ رک گیا ‘ اس جگہ پانی تھا اور نہ صحابہ کے ساتھ پانی تھا ‘ صحابہ نے حضرت ابوبکر (رض) سے شکایت کی اور کہنے لگے کہ تم نہیں دیکھ رہے کہ (حضرت) عائشہ (رض) نے کیا کیا ہے ؟ تمام لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ٹھہرا لیا ‘ اس مقام پر پانی ہے اور نہ لوگوں کے ساتھ پانی ہے۔ (یہ شکایت سن کر) حضرت ابوبکر (رض) میرے پاس آئے اور اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے زانو پر سر رکھے ہوئے محو نیند تھے ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے ڈانٹنا شروع کیا اور کہنے لگے تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام صحابہ کو پریشان کیا ہے اور ایسی جگہ روک لیا ہے جہاں بالکل پانی نہیں ہے ‘ نہ صحابہ کے پاس پانی ہے ‘ پھر حضرت ابوبکر (رض) ناراض ہو کر جو کچھ ان کے آیا کہتے رہے اور اپنے ہاتھ سے میری کو کھ میں اپنی انگلی چبھوتے رہے ‘ اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آرام میں خلل آنے کے خیال سے اپنی جگہ سے مطلقا نہیں ہلی ‘ یہاں تک کہ اسی حال میں یعنی جب کہ لوگوں کے پاس پانی نہ تھا ‘ صبح ہوگئی ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی ‘ فرمائی پھر نقباء میں سے حضرت اسید بن حضیر نے کہا اے آل ابوبکر یہ کوئی آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ! حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نے اس اونٹ کو کھڑا کیا جس پر میں سوار تھی تو ہار اس کے نیچے سے نکل آیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٥٦٨) 

حضرت عائشہ (رض) کے گم شدہ ہار کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کی بحث : 

اس حدیث میں ہے : 

حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو اس کے نیچے سے ہار نکل آیا۔ 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں : 

صحیح بخاری میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو بھیجا تو اس کو ہار مل گیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤) 

ایک روایت میں دو شخصوں کا ذکر ہے ‘ اور یہ ایک ہی واقعہ ہے ‘ علماء نے کہا ہے کہ جس شخص کو بھیجا وہ حضرت اسید بن حضیر اور اس کے متبعین تھے ‘ وہ گئے تو ان کو کچھ نہیں ملا ‘ پھر واپسی میں حضرت اسید کو اس اونٹ کے نیچے سے وہ ہار مل گیا۔ (شرح مسلم للنووی ج ١ ص ١٦٠‘ مطبوعہ کراچی) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے ابتداء نہیں بتایا یا اس طرف متوجہ نہیں کیا کہ ہار کہاں ہے کیونکہ اس میں متعدد حکمتیں تھیں اور آپ کی امت کو بہت سے مسائل کی تعلیم دینا تھی بعض ازاں یہ ہیں۔ 

حدیث تیمم سے استنباط شدہ مسائل : 

علامہ بدرالدین عینی نے بیان کیا کہ اس حدیث سے حسب ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں : 

(١) بعض علماء (علامہ ابن حجر عسقلانی) نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس جگہ قیام کرنا جائز ہے ‘ جہاں پانی نہ ہو اور اس راستہ پر سفر کرنا جائز ہے جہاں پانی نہ ہو ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی ہی جگہ سفر اور قیام کیا تھا۔ 

(٢) کسی شادی شدہ خاتون کی شکایت اس کے والد سے کرنا ‘ خواہ اس کا خاوند موجود ہو ‘ صحابہ کرام (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے اس لیے شکایت کی تھی کہ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو رہے تھے اور صحابہ کرام (رض) آپ کو نیند سے بیدار نہیں کرتے تھے۔ 

(٣) کسی فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف کرنا ‘ کیونکہ پانی نہ ملنے کا سبب حضرت عائشہ (رض) کے ہار کا گم ہونا تھا۔ 

(٤) کسی شخص کا اپنی بیٹی کے پاس جانا خواہ اس وقت اس کا خاوند موجود ہو ‘ جب اس کو یہ معلوم ہو کہ اس کا خاوند اس پر راضی ہوگا۔ 

(٥) کسی شخص کا اپنی بیٹی کو سرزنش کرنا خواہ وہ بیٹی شادی شدہ ہو اور صاحب منصب ہو۔ 

(٦) اگر کسی شخص کو ایسی تکلیف یا آفت پہنچے جو حرکت اور اضطراب کا موجب ہو تو وہ صبر کرے اور اپنے جسم کو ہلنے سے باز رکھے جب کہ اس کی حرکت سے کسی سونے والے ‘ بیمار یا نمازی یا قاری یا علم میں مشغول شخص کی تشویش اور بےآرامی کا خدشہ ہو۔ 

(٧) سفر میں تہجد کی رخصت ‘ یہ اس قول پر ہے کہ آپ پر تہجد کی نماز واجب تھی۔ 

(٨) پانی کو تلاش کرنا صرف اس وقت واجب ہوتا ہے جب نماز کا وقت آجائے ‘ کیونکہ عمرو بن حارث کی روایت میں ہے نماز کا وقت آگیا پانی کو تلاش کیا گیا۔ 

(٩) آیت وضو کے نازل ہونے سے پہلے وضو واجب تھا ‘ اسی وجہ سے ان کو بہت تشویش اور صدمہ لاحق ہوا کہ وہ ایسی جگہ ٹھہرے ہیں جہاں پانی نہیں ہے ‘ اور حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) پر ناراضگی کا اظہار کیا ‘ علامہ ابن البر نے کہا ہے کہ تمام اہل سیرت اس پر مفتق ہیں کہ جب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز فرض ہوئی ہے ‘ آپ نے وضو کے ساتھ نماز پڑھی ہے (آیت وضو آیت تیمم کے ساتھ نازل ہوئی ہے یہ سورة مائدہ کی آیت نمبر ٦ ہے) اگر یہ اعتراض ہو کہ وضو پہلے ہی واجب تھا تو آیت وضو کو نازل کرنے میں کیا حکمت تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تاکہ وضو کی فرضیت قرآن مجید سے ہوگئی ‘ بعض روایت میں ہے کہ حضرت اسلع اعرجی ‘ جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سواری لاتے تھے ایک دن انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا میں جنبی ہوں تو تیمم کی آیت نازل ہوگئی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا واقعہ بھی ہار گم ہونے والے دن پیش آیا ہو کیونکہ وہی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا اور سواری والا تھا۔ 

(١٠) اس حدیث میں تیمم میں نیت کے وجوب پر دلیل ہے کیونکہ تیمم کا معنی ہے قصد کرو۔ 

(١١) اس میں یہ دلیل ہے کہ تندرست ‘ مریض ‘ بےوضو اور جنبی سب کے لیے تیمم مشروع ہے ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کے لیے تیمم جائز نہیں قرار دیتے تھے ‘ لیکن فقہاء میں سے کسی نے ان کے قول پر عمل نہیں کیا ‘ کیونکہ احادیث صحیحہ میں جنبی کے لیے تیمم کا جواز ثابت ہے۔ 

(١٢) اس حدیث میں سفر میں تیمم کرنے کے جواز کی دلیل ہے ‘ اس پر سب کا اجماع ہے ‘ اور حضر میں تیمم کرنے میں اختلاف ہے ‘ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مسلک یہ ہے کہ سفر اور حضر میں تیمم کرنا مساوی ہے ‘ جب پانی نہ ملے ‘ یا مرض یا خوف شدید یا وقت نکلنے کے خوف سے پانی کا استعمال کرنا مشکل ہو ‘ علامہ ابو عمرو ابن عبدالبر مالکی نے کہا کہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے ‘ امام شافعی نے کہا جو شخص تندرست ہو اور مقیم ہو اس کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس کو اپنی جان کی ہلاکت کا خوف ہو ‘ علامہ طبری نے کہا امام ابویوسف اور امام زفر کے نزدیک مقیم کے لئے مرض اور خروج وقت کے خوف کی وجہ سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے ‘ امام شافعی ‘ لیث اور طبری نے یہ بھی کہا ہے کہ جب خروج وقت کا خوف ہو تو تندرست اور بیمار دونوں تیمم کرسکتے ہیں ‘ وہ نماز پڑھ لیں اور ان پر اعادہ لازم ہے ‘ اور عطاء بن ابی رباح نے یہ کہا ہے کہ جب پانی دستیاب ہو تو مریض اور غیر مریض دونوں تیمم نہ کریں۔ میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن عبدالبر کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ خروج وقت کے خوف سے تیمم جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مقیم کے لیے خروج وقت کے خوف کے سبب سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ 

(١٣) امن کے زمانہ میں ازواج کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے اگر ایک شخص کی کئی بیویاں ہوں تو وہ کسی ایک کو ساتھ لے جائے ‘ اور قرعہ اندازی کر کے اس کو لے جانا مستحب ہے جس کے نام کا قرعہ نکلے ‘ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک قرعہ اندازی کرنا واجب ہے 

جنبی کے لیے جواز تیمم میں صحابہ کا اختلاف : 

جنبی کے لیے تیمم کرنے میں صحابہ کا اختلاف تھا ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس سے منع کرتے تھے اور جمہور صحابہ کے نزدیک جنبی کے لیے تیمم کرنا جائز تھا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابزی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا میں جنبی ہوگیا اور مجھے پانی نہیں مل سکا ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا نماز مت پڑھ۔ حضرت عمار (رض) کہنے لگے ‘ اے امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سفر میں تھے۔ ہم دونوں جنبی ہوگئے اور ہمیں پانی نہیں ملا۔ آپ نے بہرحال نماز نہیں پڑھی ‘ لیکن میں زمین پر لوٹ پوٹ ہوگیا ‘ اور میں نے نماز پڑھ لی (جب حضور کی خدمت میں میں پہنچا اور واقعہ عرض کیا) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم دونوں ہاتھ زمین پر مارتے پھر پھونک مار کر گرد اڑا دیتے ‘ پھر ان کے ساتھ اپنے چہرہ اور ہاتھوں پر مسح کرتے ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا اے عمار خدا سے ڈرو ‘ حضرت عمار (رض) نے کہا اگر آپ فرمائیں تو میں یہ حدیث کسی اور سے نہ بیان کروں ‘ امام مسلم نے ایک اور سند بیان کر کے یہ اضافہ کیا کہ حضرت عمار (رض) کے جواب کے بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہم تمہاری روایت کا بوجھ تمہیں پر ڈالتے ہیں۔ 

شقیق بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ حضرت ابوموسی (رض) نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مخاطب ہو کر فرمایا ‘ اگر کسی شخص پر غسل فرض ہو اور اس کو ایک ماہ تک پانی نہ مل سکے تو وہ شخص کس طرح نمازیں پڑھے گا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا وہ شخص تیمم نہ کرے خواہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے ‘ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا ‘ پھر آپ سورة مائدہ کی اس آیت کا کیا جواب دیں گے۔ (آیت) ” فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا “۔ ” جب تم کو پانی نہ مل سکے تو پانی مٹی سے تیمم کرو “ حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے خدشہ ہے کہ اگر اس آیت کی بناء پر لوگوں کو تیمم کی اجازت دیدی جائے تو وہ پانی ٹھنڈا لگنے کی بناء پر بھی تیمم کرنا شروع کردیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار (رض) کی یہ حدیث نہیں سنی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کیلیے بھیجا ‘ راستہ میں (جب میں سویا تو) مجھ پر غسل فرض ہوگیا۔ پس میں خاک پر اسی طرح لوٹ پوٹ ہونے لگا ‘ جس طرح جانور لوٹ پوٹ ہوتے ہیں ‘ پھر جب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمتت میں حاضر ہوا ‘ اور اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تمہارے لیے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کرتے پھر آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر ایک مرتبہ مارے اور بائیں ہاتھ سے دائیں پر مسح کیا اور دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور چہرہ پر مسح کیا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کیا تمہیں پتہ نہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عمار کی حدیث پر اطمینان نہیں کیا تھا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٨‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٤٦۔ ٣٤٠‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٢۔ ٣٢١) 

نیزامام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) ایک سرد رات کو جنبی ہوگئے ‘ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ پھر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کو ملامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری کتاب التیمم باب : ٧) 

اس سے یہ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام (رض) کا بعض مسائل میں اختلاف ہوتا تھا لیکن وہ ایک دوسرے کو طعن تشنیع نہیں کرتے تھے اور فروعی مسائل میں اختلاف کو وسعت ظرف سے لیتے تھے ‘ اگر اس قسم کا اختلاف آج کے مسلمانوں میں ہو تو ایک دوسرے کے خلاف نہ جانے کتنے رسالے لکھے جائیں اور ایک دوسرے کی تکفیر کی جائے اور آپس میں جو تم پیزار شروع ہوجائے۔ 

تیمم کی تعریف ‘ اس کی شرائط اور مذاہب فقہاء : 

تیمم ‘ کتاب ‘ سنت اور امت مسلمہ کے اجماع سے ثابت ہے ‘ تیمم کی خصوصیت سے اللہ تعالیٰ نے صرف اس امت کو سرفراز کیا ہے ‘ امت کا اس پر اجماع ہے کہ حدث اصغر ہو یا حدث اکبر ‘ تیمم صرف چہرے اور ہاتھوں پر کیا جاتا ہے ‘ ہمارا اور جمہور کا اس پر اجماع ہے کہ تیمم کے لیے دو ضربیں (دو بار پاک مٹی پر ہاتھ مارنا) ضروری ہیں ‘ ایک ضرب سے چہرے پر مسح کیا جائے اور ایک ضرب سے کہنیوں سمیت ہاتھوں پر مسح کیا جائے ‘ حضرت علی بن ابی طالب ‘ حضرت عبداللہ بن عمر ‘ حسن بصری ‘ شعبی ‘ سالم بن عبداللہ بن عمر ‘ سفیان ثوری ‘ امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ ‘ اصحاب رائے اور دوسرے تمام فقہاء (رض) کا یہی مسلک ہے ‘ عطاء مکحول ‘ اوزاعی ‘ امام احمد ‘ اسحق ‘ ابن المنذر ‘ اور عامۃ المحدثین کا مسلک یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کیلیے صرف ایک ضرب واجب ہے۔ زہری نے یہ کہا ہے کہ ہاتھوں پر بغلوں تک مسح کرنا واجب ہے ‘ علامہ خطابی نے کہا ہے کہ اس میں علماء کا اختلاف نہیں ہے کہ کہنیوں سے ماوراء تیمم نہیں ہے ‘ اور ابن سیرین سے منقول ہے کہ تیمم میں تین ضربات ہیں ‘ ایک ضرب چہرے کے لیے دوسری ضرب ہتھیلیوں کے لیے اور تیسری ضرب کلائیوں کے لئے۔ 

علماء کا اس پر اجماع ہے ‘ تیمم حدث اصغر کے لئے بھی ہے اور حدث اکبر (جنبی ‘ حائض اور نفساء) کے لئے بھی ہے ‘ سلف اور خلف میں سے اس کا کوئی مخالف نہیں ہے ‘ ماسوا حضرت عمر بن الخطاب (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے ایک قول کے ‘ یہ بھی روایت ہے کہ ان دونوں نے اس قول سے رجوع کرلیا تھا ‘ جنبی کے لیے تیمم کے جواز کے ثبوت میں بکثرت احادیث مشہورہ مروی ہیں ‘ جب جنبی تیمم سے نماز پڑھ لے تو اس پر غسل کرنا بالاجماع واجب ہے ‘ اس میں صرف ابوسلمہ عبدالرحمن تابعی کا قول مخالف ہے لیکن یہ قول بالاجماع متروک ہے ‘ اور احادیث صحیحہ مشہورہ میں وارد ہے کہ جب پانی مل گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کو غسل کرنے کا حکم دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٤) اگر مسافر کے پاس پانی نہ ہو تو وہ پھر اپنی بیوی سے جماع کرسکتا ہے ‘ وہ (اگر اتنا پانی ہو تو) اپنی شرمگاہوں کو دھو کر تیمم کریں اور نماز پڑھ لیں اور اگر انہوں نے اپنی شرمگاہیں دھو لیں تو ان پر نماز کا اعادہ نہیں ہے ‘ اور اگر مرد نے اپنے آلہ کو نہیں دھویا اور اس پر رطوبت فرج لگی ہوئی تھی جس قول کے مطابق رطوبت فرج نجس ہے اس کو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا ورنہ نہیں ‘ جس شخص نے کسی مرض یا زخم کی وجہ سے تیمم کیا تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے اور جس نے پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کیا تو اگر وہ ایسی جگہ ہے جہاں پر غالبا پانی نہیں ہوتا ‘ مثلا سفر میں ہے تو اس پر اعادہ واجب نہیں ہے ‘ اور اگر ایسی جگہ ہے جہاں پر کبھی کبھی پانی نہیں ہوتا اور اکثر ہوتا ہے تو اس پر نماز کا اعادہ ہے (جو شخص ڈیڑھ انگریزی میل کی مسافت پر شہر سے دور ہو اور اس کو پانی دستیاب نہ ہو تو وہ فقہاء احناف کے نزدیک تیمم کرسکتا ہے اور اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے، ہدایہ) 

امام شافعی ‘ امام احمد ‘ ابن المنذر ‘ داؤد ظاہری، اور اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ تیمم صرف ایسی پاک مٹی کے ساتھ جائز ہے جس کا غبار عضو کے ساتھ لگ جائے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک یہ کہتے ہیں کہ زمین کی تمام اقسام سے تیمم کرنا جائز ہے ‘ حتی کہ دھلے ہوئے پتھر سے بھی تیمم کرنا جائز ہے ‘ اور بعض اصحاب مالک نے یہ کہا ہے کہ جو چیز زمین کے ساتھ متصل ہو ‘ اس کے ساتھ تیمم کرنا بھی جائز ہے اور برف کے متعلق ان کی دو روایتیں ہیں ‘ اور اوزاعی اور سفیان ثوری نے یہ کہا کہ برف اور ہر وہ چیز جو زمین پر ہو اس کے ساتھ تیمم کرنا جائز ہے۔ 

تیمم کے بعض مسائل : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو جہم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیرجمل (مدینہ کے قریب ایک جگہ) کی طرف جارہے تھے ایک مسلمان نے آپ کو سلام کیا ‘ آپ نے اس کو سلام کا جواب نہیں دیا حتی کہ آپ ایک دیوار کے پاس گئے اور تیمم کر کے اس کو جواب دیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩ )

یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ اس وقت پانی نہیں تھا کیونکہ جب پانی موجود ہو اور اس کے استعمال پر قدرت ہو تو تیمم جائز نہیں ہے ‘ خواہ فرض نماز ‘ نماز عید ‘ یا نماز جنازہ کے فوت ہونے کا خوف ہو ‘ امام شافعی کا مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ عید اور جنازہ کے فوت ہونے کے خوف کی وجہ سے تیمم جائز ہے ‘ کیونکہ ان کی قضاء نہیں ہے۔ 

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مٹی کی جنس سے تیمم کرنا ضروری ہے اور اس پر غبار ہونا ضروری نہیں جیسا کہ احناف کا مذہب ہے کیونکہ عام طور پر دیوار پر غبار نہیں ہوتا۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ دیوار کے مالک کی اجازت کے بغیر آپ نے کیسے تیمم کرلیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ دیوار مباح تھی یا کسی ایسے شخص کی دیوار تھی جس کو آپ جانتے تھے اور آپ کو علم تھا کہ آپ کے تصرف سے اس کو اعتراض نہیں ہوگا ‘ اس حدیث میں نوافل کے لیے تیمم کرنے پر بھی دلیل ہے ‘ پیشاب کرتے وقت جس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس کافورا جواب نہیں دیا ‘ اس میں یہ دلیل ہے کہ قضاء حاجت کے وقت سلام کرنا مکروہ ہے اور اگر کوئی سلام کرے تو اس حالت میں اس کا جواب دینا بھی مکروہ ہے اسی طرح اس حالت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذکر کرنا بھی مکروہ ہے۔ اسی طرح جماع کی حالت میں بھی ذکر کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس حال میں مطلقا کلام کرنا مکروہ تنزیہی ہے لیکن ضرورت کے مواقع مستثنی ہیں ‘ مثلا کسی نابینا کو کو یں کی طرف بڑھتا ہوا دیکھے تو بتادے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 43

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌ۚ وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰ لِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ ؕ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 24

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌ۚ وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰ لِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ ؕ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا

ترجمہ:

اور (تم پر حرام کی گئی ہیں) وہ عورتیں تو دوسروں کے نکاح میں ہوں مگر (کافروں کی) جن عورتوں کے تم مالک بن جاؤ‘ یہ حکم تم پر اللہ کا فرض کیا ہوا ہے اور ان کے علاوہ سب عورتیں تم پر حلال کی گئی ہیں ‘ کہ تم اپنے مال (مہر) کے عوض ان کو طلب کرو ‘ درآں حالیکہ تم ان کو قلعہ نکاح کی حفاظت میں لانے والے ہو نہ کہ محض عیاشی کرنے والے ہو ‘ پھر جن عورتوں سے (نکاح کرکے) تم نے مہر کے عوض لذت حاصل کی ہے، تو ان عورتوں کو ان کا مہر ادا کردو ‘ (یہ اللہ کا کیا ہوا) فرض ہے ‘ اور مہر مقرر کرنے کے بعد جس (کمی بیشی) پر تم باہم راضی ہوگئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ بیشک اللہ خوب جاننے والا بہت حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اور تم پر حرام کی گئی ہیں) وہ عورتیں جو دوسروں کے نکاح میں ہوں مگر (کافروں کی) جن عورتوں کے تم مالک ہوجاؤ یہ حکم تم پر اللہ کا فرض کیا ہوا ہے۔ (النساء : ٢٤ )

جنگی قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنانے کی تحقیق :

میدان جنگ میں جو کافر قید ہوجائیں ان کو غلام بنالیا جاتا ہے اور امیر لشکر ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیتا ہے اور جو کافر عورتیں مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوں اور قید ہوجائیں انکو باندیاں بنالیا جاتا ہے اور امیر لشکر ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیتا ہے اور ان باندیوں کے ساتھ ان کے مالک بغیر نکاح کے مباشرت کرسکتے ہیں۔ مخالفین اسلام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام میں انسانوں کو غلام اور باندیاں بنایا جاتا ہے اور یہ شرف انسان کے خلاف ہے بلکہ تذلیل انسانیت ہے۔ اس اعتراض کی وجہ اس مسئلہ سے ناواقفیت ہے۔ جنگی قیدیوں کے ساتھ روس ‘ جرمنی اور یورپی ممالک میں جو وحشیانہ مظالم کئے جاتے رہے اور ان سے جو جبری مشقتیں لی جاتی رہیں۔ اس کے مقابلہ میں اسلام نے غلاموں اور باندیوں کے ساتھ جس حسن سلوک کی ہدایت دی ہے اور ان کو آزاد کرنے پر جو اجر وثواب کی بشارتیں دی ہیں یہ ان ہی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا سے لونڈی اور غلاموں کا چلن ختم ہوگیا ‘ نیز یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ اسلام نے یہ لازمی طور پر نہیں کہا کہ جنگی قیدیوں کو لونڈیاں اور غلام بنایا جائے بلکہ اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ ان کو بلافدیہ آزاد کردیا جائے یا جسمانی فدیہ کے بدلہ میں آزاد کردیا جائے یا ان کو لونڈی اور غلام بنالیا جائے چونکہ اس زمانہ میں جنگی قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنانے کا رواج تھا ‘ اس لئے مسلمانوں کو یہ اجازت دی کہ اگر وہ تمہارے قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنائیں تو تم بھی مکافات عمل کے طور پر ان کے قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنا سکتے ہو۔ اگر وہ تمہارے قیدیوں کو مالی فدیہ کے بدلے میں آزاد کریں تو تم بھی ان کے قیدیوں کو مالی فدیہ کے بدلہ میں آزاد کردو ‘ اور اگر وہ تمہارے جنگی قیدیوں سے اپنے قیدیوں کا تبادلہ کریں تو تم بھی ان کے جنگی قیدیوں سے اپنے قیدیوں کا تبادلہ کرلو اور اگر وہ تبرع اور احسان کرکے تمہارے جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ چھوڑ دیں مسلمان مکارم اخلاق اور تبرع اور احسان کرنے کے زیادہ لائق ہیں۔ اور اس کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے : 

(آیت) ” فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منا بعد واما فدآء حتی تضع الحرب اوزارھا “۔ (محمد : ٤) 

ترجمہ : جب تم کافروں سے نبرد آزما ہو تو ان کی گردنیں اڑا دو ‘ یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ گرفتار ہوں ان کو مضبوطی سے قید کرلو پھر یا تو ان پر محض احسان کرکے ان کو آزاد کردو یا ان سے (مالی یا بدنی) فدیہ لے کر ان کو آزاد کردو۔ 

اور اگر کافر مسلمانوں کے جنگی قیدیوں کو لونڈی یا غلام بنائیں تو مکافات عمل کے طور پر انکے جنگی قیدیوں کو بھی لونڈی اور غلام بنانا جائز ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” وجزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا “۔ (الشوری : ٤٠ )

ترجمہ : برائی کا بدلہ تو اس کی مثل برائی ہے۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام نے لازمی طور پر جنگی قیدیوں کو لونڈی یا غلام بنانے کی ہدایت نہیں دی ہے۔ 

ہم نے قرآن مجید کی آیت سے یہ بیان کیا ہے کہ جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ یا مالی یا جانی فدیہ لے کر آزاد کرنا اسلام میں جائز ہے اب ہم اس پر احادیث سے دلائل پیش کر رہے ہیں مکہ جنگ سے فتح ہوا تھا اور تمام اہل مکہ جنگی قیدی تھے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امتنانا ان کو آزاد کردیا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے اور جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا اس کو امان ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٨٠‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٧٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٢‘ ٥٣٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٤ ص ٤٧٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ١١٨‘ مطولا ومختصرا) 

امام ابو محمد عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ روایت کرتے ہیں ؛ 

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے دروازہ پر کھڑے ہوئے اور فرمایا لا الا اللہ وحدہ لاشریک لہ “۔ اللہ نے اپنے وعدہ کو سچا کیا۔ اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور صرف اسی نے تمام لشکروں کو شکست دی ‘ سنو زمانہ جاہلیت کی ہر زیادتی ‘ ہر خون اور ہر مال آج میرے قدموں کے نیچے ہے یہاں کعبہ کی چوکھٹ اور حجاج کی سبیل پر ‘ اے قریش کی جماعت ! اللہ نے تم سے زمانہ جاہلیت کے تکبر اور باپ دادا پر فخر کو دور کردیا ہے ‘ تمام انسان آدم سے پیدا کئے گئے ہیں اور آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ تم سب آزاد ہو۔ (مختصرا) (السیرۃ النبویہ لابن ہشام علی ہامش الروض الانف ج ٢ ص ٢٧٤‘ مطبوعہ مطبعہ فاروقیہ ملتان ١٣٩٧ ھ ‘ سبل الہدی والرشاد ج ٥ ص ٢٤٢) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ نے اس خطبہ کو زیادہ تفصیل کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ (سنن کبری ج ٩ ص ١١٨‘ مطبوعہ نشرالسنہ ملتان) 

مالی فدیہ کے بدلہ میں جنگی قیدی آزاد کرنے کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا فرمایا تھا۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگی قیدیوں کے متعلق فرمایا اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ مجھ سے ان بدبوداروں (قیدیوں) کے متعلق سفارش کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو آزاد کردیتا۔ 

(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣١٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٨٩‘ مسند حمیدی ‘ رقم الحدیث : ٥٥٨‘ مسند ابویعلی ‘ رقم الحدیث : ٧٤١٦‘ شرح السنہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧١٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٦٧‘ مسند احمد ج ٤ ص ٨٠‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١٥٠٦) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فدیہ لے کر (قیدیوں کو) آزاد کردیا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٠) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے دن اہل جاہلیت کے لئے چار سو (درہم) فدیہ مقرر فرمایا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩١) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے لئے فدیہ کی رقم بھیجی تو حضرت زینب (رض) نے ابو العاص کے فدیہ کے لئے جو مال بھیجا اس میں وہ ہار بھی تھا جو حضرت خدیجہ (رض) نے انکی ابو العاص سے شادی کے موقع پر ان کو دیا تھا ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر شدید رقت طاری ہوگئی اور آپ نے فرمایا : اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو اس کے قیدی کو (بلامعاوضہ) آزاد کردو اور ان کا ہار ان کو واپس کردو۔ صحابہ نے کہا ٹھیک ہے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو العاص سے وعدہ لے لیا یا اس نے از خود وعدہ کیا تھا کہ وہ حضرت زینب (رض) کو آپ کو آپ کے پاس بھیج دے گا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید بن حارثہ اور ایک انصاری (رض) کو بھیجا اور فرمایا تم بطن یا جج میں ٹھہرنا حتی کہ تمہارے پاس سے (حضرت) زینب گزریں وہ دونوں حضرت زینب کو حضور کے پاس لے کر آئے۔ (سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٢‘ المستدرک ج ٣ ص ٢٣‘ مسند احمد ج ٦ ص ٢٧٦) 

علامہ محمد بن یوسف صالحی شامی متوفی ٩٤٢ ھ لکھتے ہیں۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے قیدیوں کا چار سو درہم فدیہ مقرر کیا تھا ‘ عباس نے کہا ان کے پاس کوئی مال نہیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو وہ مال کہاں ہے جس کو تم نے اور ام الفضل نے زمین میں دفن کیا تھا اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں اس مہم میں کام آگیا تو یہ مال میرے بیٹوں فضل ‘ عبداللہ اور قثم کے لئے ہوگا۔ عباس نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ یہ ایسی بات ہے جس کا میرے اور ام الفضل کے سوا کسی کو پتہ نہیں تھا۔ 

امام بخاری اور بیہقی نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ بعض انصار نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھتیجے عباس سے فدیہ نہ لیں ‘ آپ نے فرمایا۔ نہیں بخدا تم ان میں سے ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔ آپ نے بعض سے چار ہزار فدیہ لیا بعض سے دو ہزار ‘ بعض سے ایک ہزار اور بعض پر احسان کر کے ان کو بلافدیہ آزاد کردیا۔ 

اہل مکہ کو لکھنا آتا تھا اور اہل مدینہ کو لکھنا نہیں آتا تھا ‘ جس اہل مکہ کے پاس مال نہیں تھا آپ نے ان کا یہ فدیہ مقرر کیا کہ وہ مدینہ کے دس لڑکوں کو لکھنا سکھائیں اور جب وہ لڑکے لکھنے میں ماہر ہوگئے تو وہ آزاد کردیئے گئے ‘ حضرت زید بن ثابت نے بھی ان ہی سے لکھنا سیکھا تھا۔ (سبل الہدی والرشاد ج ٤ ص ٦٩‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٤) 

مسلمانوں قیدیوں سے تبادلہ میں جنگی قیدی آزاد کرنے کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبادلہ میں بھی قیدیوں کو آزاد کیا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو ثقیف بنو عقیل کا حلیف تھا۔ ثقیف نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے دو شخصوں کو قید کرلیا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے بنو عقیل کے ایک شخص کو گرفتار کرلیا اور اس کے ساتھ عضباء اونٹنی کو بھی پکڑ لیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کے پاس گئے درآں حالیکہ وہ بندھا ہوا تھا اس نے کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اس سے پوچھا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا حجاج کی اونٹنیوں پر سبقت کرنے والی اونٹنی کیوں پکڑی گئی ؟ یعنی عضباء ‘ اور آپ نے مجھے کس جرم میں پکڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے تم کو تمہارے حلیف ثقیف کے بدلہ میں پکڑا ہے پھر آپ چلے گئے اس نے کہا یا محمد ‘ یامحمد ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہربان اور رقیق القلب تھے ‘ آپ لوٹ آئے اور پوچھا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا میں نے مسلمان ہوں ! آپ نے فرمایا اگر تو گرفتار ہونے سے پہلے یہ کہتا تو مکمل طور پر کامیاب ہوتا آپ چلے گئے اس نے پھر آواز دی اور کہا یا محمد یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا میں بھوکا اور پیاسا ہوں مجھے کھانا اور پانی دیجئے آپ نے اس کی حاجت پوری کی ‘ پھر اس کو ان دو مسلمانوں کے بدلہ میں آزاد کردیا گیا جن کو ثقیف نے پکڑا تھا۔ (صحیح مسلم “ رقم الحدیث : ١٦٤١‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٣١٦‘ مسند حمیدی ‘ رقم الحدیث : ٨٢٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٨٥٩‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ٥٣٩٥‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٤٠‘ ٤٣٣‘ سنن بیہقی ج ٩ ص ٧٢‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٤ ص ١٨٨‘ المعجم الکبیر للطبرانی ج ١٨ ص ٤٥٣) 

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) بیان کرتے ہیں ہیں کہ ہم نے قبیلہ فزارہ کے خلاف جہاد کیا۔ اس جہاد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو ہمارا امیر بنایا تھا جب ہمارے اور پانی کے درمیان کچھ دیر کی مسافت رہ گئی تو حضرت ابوبکر (رض) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم رات کے آخری حصہ میں اتریں ‘ پھر ہر طرف سے حملہ کا حکم دیا گیا ‘ اور ہم ان کے پانی پر پہنچے اور جس جگہ کو قتل کرنا تھا اس کو قتل کیا اور قید کیا ‘ میں کفار کے ایک گروہ کو دیکھ رہا تھا جس میں کفار کے بچے اور عورتیں تھیں مجھے یہ خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان ایک تیار مارا جب انہوں نے تیر کو دیکھا تو سب ٹھہر گئے میں ان سب ٹھہر گئے میں ان سب کو گھیر کرلے آیا ‘ ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی جس نے چمڑے کی کھال کو منڈھ رکھا تھا اور اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین دوشیزہ تھی ‘ میں ان سب کو پکڑ کر حضرت ابوبکر (رض) کے پاس لے آیا حضرت ابوبکر (رض) نے وہ لڑکی مجھے انعام میں دے دی ‘ ہم مدینہ پہنچے ابھی میں نے اس لڑکی کے کپڑے بھی نہ اتارے تھے کہ میری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بازار میں ملاقات ہوئی آپ نے فرمایا : اے سلمہ یہ لڑکی مجھے ہبہ کردو ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ خدا کی قسم یہ لڑکی مجھے بہت پسند ہے اور میں نے ابھی تک اس کا لباس بھی نہیں اتارا اگلے دن میری پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے فرمایا : اے سلمہ یہ لڑکی مجھے دے دو تمہارا باپ بہت اچھا تھا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! خدا کی قسم ! یہ آپ کی ہے میں نے اس لڑکی کا لباس تک نہیں اتارا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ لڑکی اہل مکہ کو بھیج دی اور اس کے بدلہ میں کئی مسلمان قیدیوں کو چھڑا لیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٥٥‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٤٦‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٨٦٠‘ مسند احمد ج ٤ ص ٤٦‘ ٥١ سنن بیہقی ج ٩ ص ١٢٩) 

جنگی قیدیوں کو احسانا بلامعاوضہ آزاد کرنے کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلامعاوضہ بھی جنگی قیدیوں کو آزاد کیا ہے فتح مکہ کے بعد اہل مکہ کو طلقاء (آزاد) قرار دینے اور جنگ بدر کے بعض جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ آزاد کرنے کی ہم اس سے پہلے احادیث سے مثالیں ذکر کرچکے ہیں بعض مزید احادیث ملاحظہ فرمائیں : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجد کی طرف حملہ کرنے کے لئے گھوڑے سواروں کی ایک جماعت بھیجی ‘ صحابہ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو گرفتار کرکے لائے جس کا ثمامہ بن اثال تھا اور اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ نے فرمایا ثمامہ کو کھول دو ‘ ثمامہ مسجد کے قریب ایک درختت کے پاس گیا اس نے غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا : ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ “۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ایضا “۔ : ٤٦٩‘ ٢٤٢٢‘ ٢٤٢٣‘ ٤٣٧٢) 

امام مسلم نے اس حدیث کو بہت تفصیل سے روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٦٤) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

مروان بن الحکم اور مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوازن کے مسلمانوں کا وفد آیا اور انہوں نے یہ سوال کیا کہ آپ انہیں (مال غنیمت میں ان سے لئے ہوئے) اموال اور ان کے جنگی قیدی واپس کردیں آپ نے فرمایا میرے نزدیک سب سے اچھی بات وہ ہے جو سب سے سچی ہو تم دو میں سے ایک چیز کو اختیار کرلو جنگی قیدی یا مال ‘ اور میں تم کو غور کے لئے مہلت دیتا ہوں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف سے واپس آنے کے بعد دس سے زیادہ راتوں تک ان کا انتظار کیا جب ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دو میں سے صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا ہم اپنے جنگی قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے مطابق اس کی حمد وثناء کی پھر فرمایا تمہارے یہ مسلمان بھائی تمہارے پاس رجوع کرتے ہوئے آئے ہیں اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی ان کو واپس کر دوں تم میں سے جو شخص طیب خاطر سے ایسا کرسکتا ہے وہ کر دے ‘ اور جو یہ چاہتا ہو کہ اس کا حصہ اسکے پاس رہے تو جب اس کے بعد سب سے پہلے مال غنیمت حاصل ہوگا ہم اس کو اس کا حصہ واپس کردیں گے۔ مسلمانوں نے کہا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر خوشی سے ایسا کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمیں پتا نہیں چلا کہ تم میں سے کس شخص نے خوشی سے اجازت دی اور کسی نے خوشی سے اجازت نہیں دی تم واپس جاؤ اور اپنے اپنے کار مختار سے مشورہ کرو۔ انہوں نے اپنے اپنے کار مختار سے مشورہ کیا اور پھر آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ہم خوشی سے اجازت دیتے ہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣١٣٢۔ ٣١٣١‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٣) 

جنگی قیدیوں کو مال کے بدلہ آزاد کرنے ‘ جنگی قیدیوں کے بدلہ آزاد کرنے ‘ اور بلامعاوضہ آزاد کرنے کے متعلق ہم احادیث بیان کی ہیں، اب ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ کے متعلق فقہاء کی آراء بھی بیان کردیں :

جنگی قیدیوں کو آزاد کرنے کے متعلق فقہاء اسلام کی آراء : 

علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد بن ھمام حنفی متوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوحنیفہ (رح) سے ایک روایت یہ ہے کہ جنگی قیدیوں سے فدیہ نہ لیا جائے قدوری اور صاحب ہدایہ کا یہی مختار ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ سے دوسری روایت یہ ہے کہ ان سے فدیہ لیا جائے۔ امام ابویوسف ‘ امام محمد ‘ امام شافعی ‘ امام مالک اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے، مگر عورتوں کا فدیہ لینے میں ان کا اختلاف ہے اور امام احمد نے بچوں کا بھی فدیہ لینے سے منع کیا ہے ‘ اور سیر کبیر میں مذکور ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا فدیہ لیا ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کی ظاہر روایت یہی ہے ‘ امام ابویوسف نے کہا کہ مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے ان کا فدیہ لیا جائے۔ امام ابوحنیفہ کے پہلے قول کی دلیل یہ ہے کہ اگر جنگی قیدی کافروں کو لوٹا دیئے گئے تو وہ ان کی قوت اور مسلمانوں کے لئے ضرر کا باعث ہوں گے اور دوسرے قول اور تمام ائمہ کے قول کی دلیل یہ ہے کہ جنگی قیدی کو قتل کرنے یا اس کو غلام بنانے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس کے بدلہ میں مسلمان قیدی کو کافروں سے چھڑا لیا جائے کیونکہ مسلمانوں کی حرمت بہت عظیم ہے ‘ اور جنگی قیدی کو ان کے حوالے کرنے سے مسلمانوں کو ضرر پہنچنے کی جو دلیل دی گئی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جب اس کے بدلہ میں ہمارا مسلمان قیدی ہمارے پاس آجائے گا تو اس ضرر کا توڑ ہوجائے گا اور یہ معاملہ برابر برابر ہوجائے گا اس کے علاوہ ایک مسلمان کو کافروں کی قید سے چھڑانے کی فضیلت اور اس کو اللہ کی عبادات کرنے کا موقع فراہم کرنا اس پر مستزاد ہے اور جب کہ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث سے بھی ثابت ہے۔ (فتح القدیر ج ٥ ص ٤٦١‘ درالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

کافر جنگی قیدی کو مسلمان قیدی کے بدلہ میں آزاد کیا جائے یا مال کے بدلہ میں ‘ قول مشہور کے مطابق پہلی صورت جائز نہیں ہے لیکن ضرورت کے وقت اس میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ سیر کبیر میں ہے۔ امام محمد نے فرمایا جب ان قیدیوں سے نسل متوقع نہ ہو جیسے شیخ فانی پھر بھی ان کے تبادلہ میں کوئی حرج نہیں ہے (الاختیار) قیدیوں کے تبادلہ میں اختلاف ہے لیکن محیط میں مذکور ہے کہ ظاہر الروایہ کے مطابق یہ جائز ہے اس کی پوری بحث قہستانی میں ہے ‘ اور زیلعی نے سیر کبیر سے نقل کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ کا ظاہر قول جواز ہے۔ فتح القدیر میں ہے کہ امام ابو یوسف اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے اور ائمہ ثلاثہ سے بھی یہی منقول ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہی ثابت ہے صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مسلمانوں قیدیوں کا دو مشرک قیدیوں سے تبادلہ کیا اور ایک عورت کے بدلہ میں مکہ میں قید بہت سے مسلمانوں کو آزاد کرایا (ہدایہ ‘ قدوری) اور دیگر متون میں جو مذکور ہے قیدیوں سے فدیہ لینا جائز نہیں ہے اس سے مراد مالی فدیہ ہے جب ضرورت نہ ہو اور ضرورت کے وقت مالی فدیہ لینا بھی جائز ہے اور مسلمان قیدیوں سے تبادلہ بھی جائز ہے۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٢٢٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

کیا بغیر نکاح کے لونڈیوں سے مباشرت کرنا قابل اعتراض ہے : 

عام طور سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ بغیر نکاح لونڈیوں سے مباشرت کرنا ایک غیر اخلاقی فعل ہے حالانکہ اسلام اس کو روارکھا گیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح کے بعد بیویوں سے مباشرت کرنا اور ان کے جسم پر خواہی نخواہی مالکانہ تصرف کرنا کیونکر اخلاقی فعل ہوگیا ؟ نکاح کی حقیقت صرف یہ ہے کہ دو مسلمان گواہوں کے سامنے ایک عورت خود یا اس کا وکیل کہے کہ میں اس شخص کے ساتھ اتنے مہر کے عوض خود کو یا اپنی موکلہ کو نکاح میں دیتا ہوں اور مرد کہے میں نے قبول کیا ‘ اور امام مالک کے نزدیک گواہوں کا ہونا بھی شرط نہیں ہے کسی مجمع عام میں ایجاب و قبول کرلیا جائے تو نکاح ہوجاتا ہے آخر ایجاب و قبول کے ان کلمات میں کیا تاثیر ہے کہ ایک عورت بالکلیہ مرد پر حلال ہوجاتی ہے ؟ 

اصل واقعہ یہ ہے کہ محض ایجاب و قبول سے عورت مرد پر حلال نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے حلال ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے نکاح کی اس خاص صورت میں عورتوں کو مردوں پر حلال کردیا ہے ورنہ تنہائی میں اگر عورت اور مرد ایجاب و قبول کے یہی کلمات کہہ لیں تو وہ ایک دوسرے پر حلال نہیں ہیں، بلکہ نکاح کے بعد بھی بیوی کے ساتھ مباشرت کرنا مطلقا حلال نہیں ہے۔ حیض اور نفاس کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے اس کو بیوی سے مباشرت کی اجازت نہیں دی ہے اس لئے ان ایام میں بیوی سے مباشرت کرنا مرد کے لئے جائز نہیں ہے ‘ اس سے واضح ہوگیا کہ عورت کے مرد پر حلال ہونے کا سبب نکاح نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی اجازت ہے ‘ اگر اللہ تعالیٰ نکاح کی صورت میں اجازت دے تو بیویاں شوہروں پر حلال ہوجاتی ہیں اور اگر اللہ ملک یمین کی صورت میں اجازت دے تو باندیاں مالکوں پر حلال ہوجاتی ہیں ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد وہ قابل اعتراض نہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد یہ بھی قابل اعتراض نہیں ہے۔ 

اب ہم آپ کے سامنے وہ آیات پیش کرتے ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے باندیوں کو مالکوں پر حلال کردیا ہے بشرطیکہ اس کا باندی ہونا شرعا صحیح ہو ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ اوماملکت ایمانکم “۔ (النساء : ٣) 

ترجمہ : اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ تم ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل نہیں کرسکو گے تو ایک بیوی پر قناعت کرو یا اپنی باندیوں پر اکتفاء کرو۔ 

(آیت) ” والمحصنات من النسآء الا ما ملکت ایمانکم “۔ (النساء : ٢٤) 

ترجمہ : دوسروں کی بیویاں تم پر حرام ہیں البتہ تمہاری باندیاں تم پر حرام نہیں۔ 

(آیت) ” والذین ھم لفروجھم حافظون، الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم فانھم غیرملومین، (المؤمنون : ٥۔ ٦‘ المعارج : ٣٠۔ ٢٩) 

ترجمہ : اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں البتہ اپنی بیویوں اور باندیوں سے مباشرت کرنے میں ان پر ملامت نہیں ہے۔ 

ان کے علاوہ قرآن مجید میں اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں باندیوں کے ساتھ مباشرت کی اجازت دی گئی ہے۔ اب صرف ایک بات رہ جاتی ہے کہ عقد نکاح میں عورت اپنے اختیار سے یہ عقد کرتی ہے جب کہ جب باندی کو ہبہ کیا جاتا ہے یا اس کو فروخت کیا جاتا ہے تو اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی پاداش میں بطور سزا اس کا یہ اختیار سلب کرلیا گیا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جب سے دنیا میں لونڈی اور غلام بنانے کا رواج ہوا لونڈیوں کے ساتھ یہی معاملہ روا رکھا گیا ہے اس لئے اگر کافر مسلمانوں کے ساتھ یہ معاملہ کریں تو ان کے ساتھ بھی عمل مکافات کے طور پر یہی معاملہ روا رکھا گیا ‘ لیکن جو شخص کسی باندی کے ساتھ مباشرت کرتا ہے اور اس سے اولاد ہوجاتی ہے تو وہ اس کی حقیقی اولاد اور اس کی وارث ہوتی ہے اور وہ باندی ام ولد ہوجاتی ہے اور اس شخص کے مرنے کے بعد وہ آزاد ہوجاتی ہے ‘ اسلام نے غلامی کے رواج کو ختم کرنے کے لئے بہت اقدامات کئے ہیں اور غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے بہت بشارتیں دیں ہیں ‘ ہم انشاء اللہ النساء : ٣٦ میں اس کو تفصیل سے بیان کریں گے اور اس کے نتیجہ میں اب دنیا سے غلامی کا چلن ختم ہوگیا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کے علاوہ سب عورتیں تم پر حلال کی گئی ہیں کہ تم اپنے مال (مہر) کے عوض ان کو طلب کرو۔ (النساء : ٢٤ )

مہر کے مال ہونے پر دلیل : 

اس آیت میں امام اعظم ابوحنیفہ کی یہ دلیل ہے کہ مہر مال ہوتا ہے۔ بعض شوافع اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ چونکہ عرف عام میں مال کو مہر قرار دیا جاتا ہے اس لئے یہاں مال کا ذکر کیا گیا ہے اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت سہل بن سعد (رض) سے یہ حدیث مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہبہ کردیا ایک شخص نے جب دیکھا کہ آپ کو اس حاجت نہیں تو اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا آپ اس سے میرا نکاح کر دیجئے۔ جب اس شخص کو مہر کے لئے کچھ نہ مل سکا تو آپ نے اس سے پوچھا تمہیں کتنا قرآن یاد ہے اس نے کہا مجھے فلاں فلاں سورت یاد ہے آپ نے فرمایا تمہیں جو قرآن یاد ہے اس کے سبب سے میں نے تمہارا اس سے نکاح کردیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم قرآن بھی مہر ہوسکتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تعلیم قرآن مہر کا بدل نہیں ہے آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے میں نے قرآن مجید کی تعظیم کی وجہ سے تمہارا اس سے نکاح کردیا اور اس شخص پر مہر مثل واجب تھا اس پر تفصیلی بحث ہم اس سے پہلے کرچکے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جن عورتوں سے (نکاح کرکے) تم نے مہر کے عوض تمتع کیا ہے (لذت حاصل کی ہے) تو ان عورتوں کو ان کا مہر ادا کردو۔ (النساء : ٢٤ )

جواز متعہ پر علماء شیعہ کے دلائل : 

مشہور شیعہ مفسر ابو علی فضل بن الحسن الطبرسی من القرن السادس لکھتے ہیں : 

اس آیت سے مراد نکاح المتعہ ہے اور یہ وہ نکاح ہے جو مہر معین سے مدت معین کے لئے کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ سدی ‘ ابن سعید اور تابعین کی ایک جماعت سے یہی مروی ہے ‘ اور ہمارے اصحاب امامیہ کا یہی مذہب ہے اور یہی واضح ہے کیونکہ لفظ استمتاع اور تمتع کا لفظی معنی نفع اور لذت حاصل کرنا ہے لیکن عرف شرع میں وہ اس عقد معین کے ساتھ مخصوص ہے۔ خصوصا جب اس لفظ کی عورتوں کی طرف اضافت ہو اس بناء پر اس آیت کا یہ معنی ہوگا جب تم ان سے متع کرلو تو ان کو اس کی اجرت دے دو ‘ اور اس کو اس کی اجرت دے دو ‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماع کے بعد مہر کو واجب نہیں کیا بلکہ متعہ کے بعد مہر کو واجب کیا ہے اور حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے اس آیت کی اس طرح قرات کی ہے : 

(آیت) ” فما استمتم بہ منھن الی اجل مسمی فاتوھن اجورھن “۔ 

ترجمہ : جب تم نے مدت معین تک ان سے استمتاع (متعہ) کیا تو ان کو ان کی اجرت (مہر) دے دو ۔ 

اور اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اس آیت میں آیت میں استمتاع سے مراد عقد متعہ ہے۔ 

حکم نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کیا ہے کہ اگر حضرت عمر (رض) متعہ سے منع نہیں کرتے تو کسی بدبخت کے سوا کوئی زنا نہیں کرتا ‘ اور عطا نے حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد اور حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر کے عہد میں متعہ کیا ہے۔ نیز اس آیت میں لفظ استمتاع سے مراد متعہ ہے نہ کہ جماع اور انتفاع ‘ اس پر دلیل یہ ہے کہ اگر اس آیت کا یہ معنی ہو کہ جن عورتوں سے تم مہر کے عوض لذت حاصل کی یعنی جماع کیا ہے تو ان کو ان کا مہر ادا کردو تو اس سے لازم آئے گا کہ بغیر جماع کے مہر واجب نہ ہو۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ غیر مدخولہ کا بھی نصف مہر واجب ہوتا ہے۔ اس پر مزید تائید یہ ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں دو متعہ (متعہ نکاھ اور تمتع بالحج) حلال تھے اور میں ان سے منع کرتا ہوں اور تمتع بالحج بالاتفاق منسوخ نہیں ہے تو پھر تمتع بالنکاح بھی منسوخ نہیں ہوگا۔ (مجمع البیان ج ٣ ص ‘ ٥٣۔ ٥٢ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ‘ ایران ‘ ١٤١١ ھ) 

علماء شیعہ کے نزدیک متعہ کے فقہی احکام : 

شیخ ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی متوفی ٣٢٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو عمیر کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن سالم سے متعہ کا طریقہ پوچھا انہوں نے کہا تم یوں کہو اے اللہ کی بندی میں اتنے پیسوں کے عوض اتنے دنوں کے لئے تم سے متعہ کرتا ہوں ‘ جب وہ ایام گزر جائیں گے تو اس کو طلاق ہوجائے گی اور اس کی کوئی عدت نہیں ہے۔ (الفروع من الکافی ج ٥ ص ٤٥٦‘ ٤٥٥‘ مطبوعہ درالکتب الاسلامیہ تہران ‘ ١٣٢٦ ھ) 

شیخ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی متوفی ٤٦٠ ھ روایت کرتے ہیں :

منصور صیقل بیان کرتے ہیں کہ ابوعبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا مجوسی (آتش پرست) عورت سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے (الاستبصار ج ٣ ص ١٤٤‘ مطبوعہ دارالاسلامیہ طہران ‘ ١٣٦٥ ھ) 

زرارہ کہتے ہیں کہ ابوعبداللہ (علیہ السلام) سے پوچھا گیا کہ کیا متعہ صرف چار عورتوں سے کیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا متعہ اجرت کے عوض ہوتا ہے خواہ ہزار عورتوں سے کرلو۔ (الاستبصارج ٣ ص ١٤٧) 

عمر بن حنظہ بیان کرتے ہیں کہ متعہ میں فریقین کے درمیان میراث نہیں ہوتی (الاستبصارج ٣ ص ١٥٣) 

شیخ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین قمی متوفی ٣٨١ ھ لکھتے ہیں : 

محمد بن نعمان نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے پوچھا کم از کم کتنی چیز کے عوض متعہ ہوسکتا ہے انہوں نے کہا دو مٹھی گندم سے۔ تم اس سے کہو کہ میں تم سے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے مطابق متعہ کرتا ہوں تو نکاح ہے زنا نہیں ہے اس شرط پر کہ نہ میں تمہارا وارث ہوں اور نہ تم میری وارث ہو ‘ نہ میں تم سے اولاد کا مطالبہ کروں گا ‘ یہ نکاح ایک مدت متعین تک ہے پھر اگر میں نے چاہا تو میں اس مدت میں اضافہ کر دوں گا اور تم بھی اضافہ کردینا۔ (من لایحضرہ الفقیہہ ج ٣ ص ٢٤٩‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران ‘ ١٣٦١ ھ) 

شیخ روح اللہ خمینی متعہ کے احکام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

(٢٤٢١) متعہ والی عورت اگرچہ حاملہ ہوجائے خرچ کا حق نہیں رکھتی۔ 

(٢٤٢٢) متعہ والی عورت (چار راتوں میں سے ایک رات) ایک بستر پر سونے اور شوہر سے ارث پانے اور شوہر بھی اس کا وارث بننے کا حق نہیں رکھتا۔ 

(٢٤٢٣) متعہ والی عورت کو اگرچہ علم نہ ہو کہ وہ اخراجات اور اکٹھا سونے کا حق نہیں رکھتی تب بھی اس کا عقد صحیح ہے اور نہ جاننے کی وجہ سے بھی شوہر پر کوئی حق نہیں رکھتی۔ (توضیح المسائل اردو ‘ ٣٦٩‘ ٣٦٨‘ مطبوعہ سازمان تبلیغات) 

علماء شیعہ کے جواز متعہ پر دلائل کے جوابات :

علماء شیعہ نے ” الی اجل مسمی “ کی قرات سے متعہ کے جواز پر جو استدلال کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ قرات شاذہ ہے قرآن مجید کی جو قرات متواتر ہے حتی کہ شیعہ کے قرآن میں بھی جو قرات مذکورہ ہے اس میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں اس لئے قرات متواترہ کے مقابلہ میں اس قرات سے استدلال درست نہیں ہے۔ 

اس پر اتفاق ہے کہ جنگ خیبر سے پہلے متعہ حلال تھا پھر جنگ خیبر کے موقعہ پر متعہ کو حرام کردیا گیا ‘ پھر فتح مکہ کے موقع پر تین دن کے لئے متعہ حلال کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس کو دائما حرام کردیا گیا۔ حضرت ابن عباس (رض) متعہ کے جواز کے قائل تھے لیکن اخیر عمر میں انہوں نے اس سے رجوع کرلیا تھا اور جب حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا گیا کہ آپ نے متعہ کے جواز کا فتوی دیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا میں نے یہ فتوی نہیں دیا میرے نزدیک متعہ خون ‘ مردار اور خنزیر کی طرح حرام ہے اور یہ صرف اضطرار کے وقت حلال ہے ‘ یعنی جب نکاح کرنا ممکن نہ ہو اور انسان کو غلبہ شہوت کی وجہ سے زنا کا خطرہ ہو ‘ لیکن اخیر عمر میں حضرت ابن عباس (رض) نے اس سے بھی رجوع کرلیا اور یہ جو بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے عہد میں متعہ کیا جاتا تھا حتی کہ حضرت عمر (رض) نے اس سے منع کردیا اس کا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں تک متعہ کی حرمت نہیں پہنچی تھی وہ متعہ کرتے تھے حضرت عمر نے ان کو تبلیغ کردی تو وہ متعہ سے باز آگئے۔ حضرت عمر (رض) نے متعہ کو حرام نہیں کیا نہ یہ ان کا منصب ہے انہوں نے صرف متعہ کی حرمت بیان کی ہے جیسے اور دیگر احکام شرعیہ بیان کئے ہیں اور حضرت علی (رض) نے جو فرمایا کہ اگر حضرت عمر (رض) متعہ سے منع نہ کرتے تو کوئی بدبخت ہی زنا کرتا ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حضرت عمر (رض) متعہ کی حرمت کو قرآن اور حدیث سے واضح نہ کرتے اور متعہ کی ممانعت پر سختی سے عمل نہ کراتے تو زنا بالکل ختم ہوجاتا۔ 

صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت جابر ‘ حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت بہرہ بن معبد جہنی (رض) سے اباحت متعہ کے متعلق احادیث ہیں۔ لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ وطن میں متعہ کی اجازت دی گئی ہو ‘ ان تمام احادیث میں یہ مذکور ہے کہ سفر میں متعہ کی اجازت دی گئی تھی۔ جہاں ان صحابہ کی بیویاں نہیں تھیں جب کہ وہ گرم علاقے تھے اور عورتوں کے بغیر ان کا رہنا مشکل تھا۔ اس وجہ سے جہاد کے موقعہ پر ضرورتا متعہ کی اجازت دی گئی حضرت ابن ابی عمر (رض) کی روایت میں یہ تصریح ہے کہ ابتداء اسلام میں ضرورت کی بناء پر متعہ کی اجازت تھی جیسے ضرورت کے وقت مردار کا کھانا مباح ہوتا ہے فتح مکہ کے موقع پر متعہ کو قیامت تک کے لئے حرام کردیا گیا اور حجۃ الوداع کے موقع پر تاکیدا اس تحریم کو دہرایا گیا ہم ان تمام امور پر باحوالہ احادیث پیش کریں گے۔ 

شیخ طبرسی نے لکھا ہے کہ اگر اس آیت کا یہ معنی ہو کہ جن عورتوں سے تم نے مہر کے عوض لذت حاصل کی یعنی جماع کیا ہے تو انکا مہر ادا کردو ‘ تو اس سے لازم آئے گا کہ بغیر جماع کے مہر واجب نہ ہو، حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ غیر مدخولہ کا بھی نصف مہر واجب ہوتا ہے ‘ یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں حصر کا کوئی لفظ نہیں ہے کہ تم صرف اسی عورت کا مہرادا کرو جس سے تم نے جماع کیا ہو۔ 

حرمت متعہ پر قرآن مجید سے دلائل : 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی وثلاث وربع فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ وما ملکت ایمانکم “۔ (النساء : ٣)

ترجمہ ؛ جو عورتیں تم کو پسند ہیں ان سے نکاح کرو ‘ دو دو سے تین تین سے اور چار چار سے اور اگر تمہیں یہ خدشہ ہو کہ ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکوگے تو صرف ایک نکاح کرو یا اپنی کنیزوں پر اکتفاء کرو۔ 

یہ آیت سورة نساء سے لی گئی ہے جو مدنی سورت ہے اور ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قضاء شہوت کی صرف دو جائز صورتیں بیان فرمائی ہیں کہ وہ ایک سے چار تک نکاح کرسکتے ہیں ‘ اور اگر ان میں عدل قائم نہ رکھ سکیں تو پھر اپنی باندیوں سے نفسانی خواہش پوری کرسکتے ہیں اور بس ! اگر متعہ بھی قضاء شہوت کی جائز شکل ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی ان دو صورتوں کے ساتھ ذکر فرما دیتا اور اس جگہ متعہ کا بیان نہ کرنا ہی اس بات کا بیان ہے کہ وہ جائز نہیں ہے۔ اوائل اسلام سے لے کر فتح مکہ تک متعہ کی جو شکل معمولی اور مباح تھی اس آیت کے ذریعہ اس کو منسوخ کردیا گیا۔ 

شیعہ حضرات کو اگر شبہ ہو کہ اس آیت میں لفظ نکاح متعہ کو بھی شامل ہے لہذا نکاح کے ساتھ متعہ کا جواز بھی ثابت ہوگیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح کی حد صرف چار عورتوں تک ہے اور متعہ میں عورتوں کی تعداد کے لئے کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ نکاح اور متعہ دو الگ الگ حقیقتیں ہیں نکاح میں عقد دائمی ہوتا ہے اور متعہ میں عقد عارضی ہوتا ہے نکاح میں منکوحات کی تعداد محدود ہے اور متعہ میں ممنوعات کی کوئی حد نہیں۔ نکاح میں نفقہ ‘ سکنی ‘ نسب اور میراث لازم ہوتے ہیں اور ایلاء ظہار ‘ لعان اور طلاق عارض ہوتے ہیں اور متعہ میں ان میں سے کوئی امر لازم نہیں ہے نہ عارض۔ لہذا نکاح اور متعہ دو متضاد حقیقتیں ہیں اور نکاح سے متعہ کا ارادہ غیر معقول ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 24

پیٹ میں کچھ پائے تو اس پر مشتبہ ہوجائے

حدیث نمبر :294

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ میں کچھ پائے تو اس پر مشتبہ ہوجائے کہ کچھ نکلایانہیں تو مسجد سے نہ جائے،تاآنکہ آواز سن لے یا بُو محسوس کرے ۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ یعنی اگرکوئی شخص مسجد میں جماعت سے نماز پڑھ رہا ہے کہ اس کے پیٹ میں گڑ گڑاہٹ ہوئی لیکن بو محسوس نہ ہوئی،ہوا کے نکلنے کا یقین نہ ہوا،یونہی شبہ ساہوگیاتوشبہ کا اعتبار نہ کرے،وہ باوضو ہے،نماز پڑھے جائے۔آواز سننے سے مراد ہے نکلنے کا یقین۔اس سےمعلوم ہوا کہ یقینی وضو مشکوک حدث سے نہیں جاتا،ہمیں یقین ہے کہ ظہر کے وقت ہم نے وضو کیا تھا مگر ٹوٹنے کا صرف شبہ ہے یقینی نہیں تو ہمارا وضو باقی ہے۔

بندۂ مؤمن جب وضو کرنے لگے تو خطائیں اس کے منہ سے نکل جاتی ہیں

حدیث نمبر :285

روایت ہے عبداﷲ صنابحی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بندۂ مؤمن جب وضو کرنے لگے تو خطائیں اس کے منہ سے نکل جاتی ہیں۲؎ اور جب ناک میں پانی لے تو خطائیں اس کے ناک سے نکل جاتی ہیں اور جب اپنا منہ دھوئے خطائیں اس کے چہرے سے نکل جاتی ہیں۳؎ حتی کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے نکلتی ہیں،اور جب اپنے ہاتھ دھوئے تو خطائیں ہاتھوں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں اور جب اپنے سر کا مسح کرے تو خطائیں اس کے سر سے نکل جاتی ہیں حتی کہ اس کے کانوں سے نکل جاتی ہیں۴؎ پھر جب پاؤں دھوئے تو خطائیں اس کے پاؤں سے نکل جاتی ہیں حتی کہ پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں۵؎ پھر اس کا مسجد کی طرف جانا اور نماز پڑھنا زیادتی ہوتی ہے۶؎(مالک ونسائی)

شرح

۱؎ حق یہ ہے کہ آ پ کا نام عبدالرحمن ابن عسیلہ ہے،کنیت ابوعبداﷲ،قبیلہ صنابح سے ہیں،جو قبیلہ مراد کا ایک ٹولہ ہے۔آپ تابعی ہیں صحابی نہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات شریف میں ہجرت کرکے مدینہ پاک کی طرف چلے مقام حجفہ پہنچے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات شریف واقع ہوگئی،ابوبکر صدیق سے ملاقات ہوئی۔لہذا یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ صحابی کا نام رہ گیا۔

۲؎ یعنی زبان سے جو غیبت،جھوٹ وغیرہ گناہ صغیر ہوئے تھے وہ کلی کی برکت سے معاف ہوجاتے ہیں۔مؤمن کی قید اس لیے ہے کہ کافر کے وضو کی یہ تاثیر نہیں،ہاں اگر ایمان لانے کے لئے وضو کرے تو شاید مذکورہ فائدہ اسے بھی حاصل ہوجائے۔وضو کو مطلق فرمانے سے معلوم ہوا کہ ہر وضو کا یہ فائدہ ہے نماز کے لئے ہویااورعبادت کے لیے۔

۳؎ یعنی ناک میں پانی لینے کی برکت سے ناک یا دماغ کے گناہ جھڑ جاتے ہیں،جیسے ناجائز خوشبو سونگھنا اور دماغ میں گندے خیالات رکھنا۔خیال رہے کہ یہاں بھی گناہ صغائر ہی مراد ہیں اور چہرے کے دھونے سے آنکھ کے گناہ جھڑتے ہیں،جیسے ناجائزچیزوں کودیکھنایاناجائزاشارے بازیاں۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ کانوں کا شمار سر میں ہے نہ کہ چہرے میں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے ساتھ اس کا ذکر فرمایا،لہذا نہ تو کانوں کو چہرے کے ساتھ دھویا جائے گا اور نہ علیحدہ پانی سے اس کا مسح ہوگا بلکہ مسح سرکی تری سے ہی ان کا مسح بھی کیا جائے گا،یہی امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کا مذہب ہے،یہ حدیث امام صاحب کی دلیل ہے۔

۵؎ یعنی جو قدم ناجائز جگہ پر جانے میں پڑے ان کا گناہ اس کی برکت سے معاف ہوجاتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ پیر کا دھونا فرض ہے نہ کہ اس کا مسح جیسا کہ روافض نے سمجھا۔

۶؎ یعنی گناہوں سے معافی تو وضو میں ہوچکی اب یہ اعمال معافی گناہ پر زائد ہیں جن سے درجے بلند ہوتے ہیں،یہاں نفل لغوی معنے میں ہے فرماتا ہے:”وَوَہَبْنَا لَہٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوۡبَ نَافِلَۃً”۔