فَمَا لَـكُمۡ فِىۡ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَـتَيۡنِ وَاللّٰهُ اَرۡكَسَهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا‌ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَهۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 88

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَا لَـكُمۡ فِىۡ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَـتَيۡنِ وَاللّٰهُ اَرۡكَسَهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا‌ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَهۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے متعلق تمہاری دو رائیں ہوگئیں حالانکہ اللہ نے ان (منافقوں) کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اوندھا کردیا ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ اس کو ہدایت پر چلاؤ جس میں اللہ نے گمراہی پیدا کردی ہے اور جس میں اللہ نے گمراہی کو پیدا کردیا، تم اس کے لیے (ہدایت پر چلانے کا) کوئی طریقہ نہیں پا سکو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے متعلق تمہاری دو رائیں ہوگئیں حالانکہ اللہ نے ان (منافقوں) کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اوندھا کردیا ہے۔ (النساء : ٨٨) 

اس آیت کے شان نزول میں دو قول ہیں ‘ پہلے قول کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف نکلے تو آپ کے لشکر میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک فریق نے کہا ہم ان کو قتل کریں گے اور دوسرے فریق نے کہا ہم ان کو قتل نہیں کریں گے۔ 

اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” فمالکم فی المنافقین فئتین “۔ (النساء : ٨٨) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مدینہ لوگوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جسے لوہے سے زنگ نکال دیتی ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٤‘ مسند احمد ج ٨‘ رقم الحدیث : ٢١٦٥٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

دوسرا قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ لوگ مکہ سے مدینہ آگئے تھے ‘ انہوں نے مسلمانوں پر یہ ظاہر کیا کہ وہ مسلمان ہیں پھر وہ مکہ واپس چلے گئے اور مکہ والوں پر یہ ظاہر کیا کہ وہ مشرک ہیں : امام ابن جریر روایت کرتے ہیں : 

مجاہد اس آیت کے شان نزول میں بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچ گئے اور انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ مہاجر ہیں ‘ پھر اس کے بعد وہ مرتد ہوگئے ‘ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی کہ وہ مکہ سے اپنا مال لا کر تجارت کریں گے تو انکے متعلق مسلمانوں میں اختلاف ہوگیا ‘ بعض مسلمانوں نے کہا وہ منافق ہیں اور بعض نے کہا وہ مومن ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کو بیان کردیا اور ان سے قتال کا حکم دیا وہ اپنا مال لے کر مدینہ جانے کا ارادہ کر رہے تھے تو ان سے ہلال بن عویمر اسلمی نے ملاقات کی ‘ اس کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ تھا اور یہی وہ شخص تھا جس کا مسلمانوں سے لڑتے لڑتے دل تنگ ہوچکا تھا یا وہ اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے عاجز ہوچکا تھا ‘ اس نے ان لوگوں کی مدافعت کی اور کہا یہ مومن ہیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ٢٦٣۔ ٢٦٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا تم چاہتے ہو کہ اس کو ہدایت پر چلاؤ جس میں اللہ نے گمراہی پیدا کردی ہے اور جس میں اللہ نے گمراہی کو پیدا کردیا، تم اس کے لیے (ہدایت پر چلانے کا) کوئی طریقہ نہیں پا سکو گے۔ (النساء : ٨٨) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کو ان کی سرکشی اور ان کے کفر کی وجہ سے دین سے گمراہ کردیا ہے ‘ مسلمان یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ منافق سچے اور مخلص مسلمان بن جائیں ‘ اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ کیا تم ان لوگوں کو جنت کا راستہ دکھانا چاہتے ہو جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جنت کے راستہ سے گمراہ کردیا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار کو جنت کے راستہ کی ہدایت نہیں دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 88

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞

ترجمہ:

اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ (النساء : ٨٦) 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تھا اور جہاد کے احکام میں سے یہ بھی ہے کہ جب فریق مخالف صلح کرنے پر تیار ہو تو تم بھی اس سے صلح کرلو ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وان جنحوا للسلم فاجنح لھا “۔ (الانفال : ٦١) 

ترجمہ : اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوں۔ 

اسی طرح جب کوئی شخص سلام کرے تو اس کے سلام کا عمدہ طریقہ سے جواب دینا چاہیے ورنہ کم از کم اسی لفظ سے سلام کا جواب دیا جائے۔ مثلا السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے اور اسلام علیکم ورحمۃ اللہ کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔

اسلام میں سلام کے مقرر کردہ طریقہ کی افضلیت : 

عیسائیوں کے سلام کا طریقہ ہے منہ پر ہاتھ رکھا جائے (آج کل پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہیں) یہودی ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں ‘ مجوسی جھک کر تعظیم کرتے ہیں عرب کہتے ہیں حیاک اللہ (اللہ تمہیں زندہ رکھے) اور مسلمانوں کا سلام یہ ہے کہ کہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام طریقوں سے افضل ہے کیونکہ سلام کرنے والا مخاطب کو یہ دعا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آفتوں ‘ بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے ‘ نیز جب کوئی شخص کسی کو سلام کرتے ہے تو وہ اس کو ضرر اور خوف سے مامون اور محفوظ رہنے کی بشارت دیتا ہے ‘ مکمل سلام یہ ہے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ‘ اور تشہد میں بھی اتنا ہی سلام ہے ‘ جب کوئی شخص فقط السلام علیکم کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا چاہیے اور اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے ‘ اور بعض روایات میں ومغفرتہ کا اضافہ بھی ہے۔ (سنن ابوداؤد : ٥١٩٦) سلام کی ابتداء کرنے والا پہلے لفظ السلام کہتا ہے اور جواب دینے والا وعلیکم السلام کہہ کر بعد میں لفظ السلام کہتا ہے ‘ اس میں نکتہ یہ ہے کہ سلام اللہ کا نام ہے اور مجلس کی ابتداء بھی اللہ کے نام سے ہو اور انتہاء بھی اللہ کے نام پر ہو ‘ اور ابتداء بھی سلامتی کی دعا سے ہو اور انتہاء بھی سلامتی کی دعا پر ہو۔ 

مصافحہ اور معانقہ کی فضیلت اور اجر وثواب کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اسلام کا کون سا وصف سب سے بہتر ہے آپ نے فرمایا : تم کھانا کھلاؤ اور ہر (مسلمان) کو سلام کرو خواہ تم اس کو پہچانتے ہو یا نہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٤) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک تم ایمان نہیں لاؤ گے جنت میں داخل نہیں ہو گے ‘ اور جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے تمہارا ایمان (کامل) نہیں ہوگا ‘ کیا میں تم کو ایسی چیزنہ بتاؤں جس کے کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرو ؟ ایک دوسرے کو بکثرت سلام کیا کرو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٥٤‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٣‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ٢٠٠٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٤٥ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٤‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٩١١) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے اگر ہم کسی درخت کی وجہ سے جدا ہو کر پھر مل جاتے تو ایک دوسرے کو سلام کرتے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٧٩٨٣) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : السلام علیکم آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دس (نیکیاں) ‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ آپ نے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا پھر آپ نے فرمایا (تیس) نیکیاں ‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ‘ امام بیہقی نے بھی اس کو حسن کہا ہے ‘ امام ابوداؤد نے سہل سے مرفوعا روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے : پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ، آپ نے فرمایا چالیس (نیکیاں) (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٨‘ کتاب الآداب للبیہقی ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠‘ الادب المفرد “ رقم الحدیث : ٩٨٦‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣٩) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بھی دو مسلمان ملاقات کے بعد مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے الگ ہونے سے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢١٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٣٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٣‘ کشف الاستار “ رقم الحدیث : ٢٠٠٤) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب جب ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کرتے۔ حافظ منذری نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (الترغیب والترہیب ج ٣ ص ٤٢٣‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٩٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حماد بن زید نے ابن المبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تشہد کی تعلیم دی درآں حالیکہ میری دونوں ہتھیلیاں آپ کی دونوں ہتھیلیوں میں تھیں (صحیح البخاری کتاب الاستیذان ‘ باب ٢٨‘ الاخذ بالیدین ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٥) 

حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے ‘ اگر دونوں کے درمیان کوئی درخت یا دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور پھر ملاقات ہو تو دوبارہ سلام کرے (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٠) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص سلام کرنے میں ابتداء کرے وہ تکبر سے بری ہوجاتا ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٨٦) 

کن لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوار ‘ پیدل کو سلام کرے اور پیدل بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٣٣٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٠‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٥١٩٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢١٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٩٩٥‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٤٥) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا آپ کا بچوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢٠٥‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٠‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩‘ حلیۃ الاولیاء : ج ٦ ص ٢٩١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوٹا بڑے کو سلام کرے ‘ اور گزرنے والا بیٹھے ہوئے پر اور قلیل ‘ کثیر پر (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧١٣‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٨) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

اسماء بنت یزید (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہم عورتوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ہم کو سلام کیا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٥٧‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٦) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے بیٹے جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرو اس سے تم پر برکت ہوگی اور تمہارے گھر والوں پر برکت ہوگی۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٠٧) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کلام سے پہلے سلام کرو ‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث منکر ہے (سنن ترمذی : ٢٧٩٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو تم کہو وعلیکم (صحیح مسلم : ٢١٦٣‘ سنن ابوداؤد ‘ ٥٢٠٧) 

جن مواقع پر سلام نہیں کرنا چاہیے : 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

(١) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے یہودی کو سلام کی ابتداء نہ کرو ‘ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے اس کو خط میں بھی سلام نہ کہو ‘ امام ابویوسف نے کہا نہ ان کو سلام کرو نہ ان سے مصافحہ کرو ‘ اور جب تم ان پر داخل ہو تو کہو ” السلام علی من اتبع الھدی “ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ ضرورت کے وقت ان کو ابتداء سلام کرنا جائز ہے (مثلاکسی کا افسر کافر یابدمذہب ہو تو اس کو اس کے دائیں بائیں فرشتوں کی نیت کرکے سلام کرے) اور جب وہ سلام کریں تو وعلیک کہنا چاہیے حسن نے کہا ہے کہ کافر کو وعلیکم السلام کہنا تو جائز ہے لیکن وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ مغفرت کی دعا ہے اور کافر کے لیے مغفرت کی دعا جائز نہیں ‘ شعبی نے ایک نصرانی کے جواب میں کہا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ‘ ان پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا کیا یہ اللہ کی رحمت میں جی نہیں رہا ! 

(٢) جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو حاضرین کو سلام نہ کرے کیونکہ لوگ امام کا خطبہ سننے میں مشغول ہیں۔ 

(٣) اگر حمام میں لوگ برہنہ نہا رہے ہوں تو ان کو سلام نہ کرے اور اگر ازار باندھ کر نہا رہے ہوں تو ان کو سلام کرسکتا ہے۔ 

(٤) جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو ‘ روایت حدیث کر رہا ہو ‘ یا مذاکرہ علم میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٥) جو شخص اذان اور اقامت میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٦) امام ابو یوسف نے کہا جو شخص چوسر یا شطرنج کھیل رہا ہو یا کبوتر اڑا رہا ہو ‘ یا کسی معصیت میں مبتلا ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٧) جو شخص قضاء حاجت میں مشغول ہوا اس کو سلام نہ کرے۔ 

(٨) جو شخص گھر میں داخل ہو تو اپنی بیوی کو سلام کرے اگر اس ساتھ کوئی اجنبی عورت ہو تو اس کو سلام نہ کرے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨٠)

سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے ‘ اگر جماعت مسلمین کو سلام کیا تو ہر ایک پر جواب دینا فرض کفایہ ہے لیکن جب کسی ایک نے جواب دے دیا تو باقیوں سے جواب دینے کا فرض ساقط ہوجائے گا ‘ فساق اور فجار کو پہلے سلام نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی اجنبی عورت کسی مرد کو سلام کرے تو اگر بوڑھی ہو تو اس کا جواب دینا چاہیے اور اگر جوان ہو تو اس کے سلام کا جواب نہ دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

کافر نے موجودہ مسلمانوں پر اس طرح قبضہ جمایا کہ

کافر نے موجودہ مسلمانوں پر اس طرح قبضہ جمایا کہ علما کے جذبات ٹھنڈے کردیے اور عوام کو نرم کردیا ۔

بہ قول سیداکبرالٰہ آبادی ؎

سر تراشا اُن کا ، کاٹا اِن کا پاؤں

وہ ہوئے ٹھنڈے ، گئے یہ بھی پگَھل

شیخ کو یَخ کردیا ، مومن کو موم۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں کی حالت گئی آخر بدَل !!

لفظِ شیخ تین حروف کا مجموعہ تھا ، اس کا سر کاٹا ( یعنی پہلا حرف شین مٹایا ) تو یہ یخ ہو گیا ۔

مطلب: موجودہ شیخ ، شیخ نہ رہا ، اس کی قائدانہ صلاحتیں ختم ہوگئیں ، مجاہدانہ جذبات یخ ٹھنڈے ہوگئے ، یہ بزدل بن گیا ۔

اور مومن چار حروف کامجموعہ تھا ، اس کا پاؤں کاٹا

( یعنی آخری حرف نون کاٹا ) تو پیچھے موم رہ گیا ۔

مطلب: بندۀ مومن کے دینی جذبات کو ” امن “ وغیرہ کے نام پر نرم کیا ، پھر انھیں پگھلا کر اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال دیا —

لقمان شاہد

20/2/2019 ء

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 85

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞

ترجمہ:

جو اچھی شفاعت کرے گا اس کے لیے (بھی) اس میں سے حصہ ہے ‘ اور جو بری سفارش کرے گا اس کے لئے (بھی) اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جو اچھی شفاعت کرے گا اس کے لیے (بھی) اس میں سے حصہ ہے ‘ اور جو بری سفارش کرے گا اس کے لئے (بھی) اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (النساء : ٨٥) 

شفاعت کا معنی اور اس کی اقسام : 

شفاعت لفظ شفع سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے ایک انسان دوسرے ضرورت مند انسان کے ساتھ مل جائے اور دونوں مل کر اس ضرورت کے متعلق سوال کریں ‘ اور یہاں پر مراد ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں اور جو مسلمان آپ کی ترغیب سے جہاد کریں گے تو ان کی اس نیکی میں آپ کا بھی حصہ ہوگا ‘ یہ شفاعت حسنہ ہے ‘ اور شفاعت سیئہ یہ ہے کہ منافق اپنے بعض منافقوں کو جہاد میں شریک نہ کرنے کے لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شفاعت کرتے تھے کہ ان کو فلاں فلاں عذر ہے اور اس شفاعت سے جہاد میں شریک نہ ہونے کا گناہ دونوں کو ہوگا ان کو بھی جو شریک نہیں ہوئے اور ان کو بھی جنہوں نے ان کے لیے اس کی سفارش کی۔ 

اسی طرح کسی بھی نیک کام میں سفارش کرنا اچھی شفاعت ہے مثلا کسی طالب علم کو دینی مدرسہ میں داخل کرنے کے لیے سفارش کرنا ‘ کسی ضرورت مند عالم دین کے لیے کسی تونگر سے سفارش کرنا کہ ان کی ضرورت کی کتابیں ان کو خرید کردیں ‘ مسجد اور دینی مدرسہ بنوانے کے لیے سفارش کرنا ‘ کسی مجاہد کے لیے اسلحہ کے حصول میں سفارش کرنا ‘ کسی غریب لڑکی کی شادی کے لیے رشتہ یا جہیز کی سفارش کرنا ‘ کسی بےروزگار کے لیے ملازمت کی سفارش کرنا بہ شرطی کہ وہ وہ اس ملازمت کا اہل ہو ‘ اللہ کے حضور کسی مسلمان کے لیے دعا کرنا اس کی مغفرت چاہنا ‘ یہ سب اچھی سفارشیں ہیں ‘ اور بری سفارش یہ ہے کہ شراب خانہ کے پر مٹ کے لیے سفارش کی جائے ‘ سینما بنانے کے لیے کسی سے سفارش کی جائے ‘ آلات موسیقی کی دکان کے لیے کسی سے سفارش کی جائے ‘ بینک اور انشورنس کمپنی میں ملازمت کے لیے سفارش کی جائے یا کسی نااہل اور غیر مستحق کے لیے سفارش کی جائے۔ 

نیکی کے کاموں میں شفاعت کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب کوئی سائل آتا یا آپ سے کوئی شخص حاجت طلب کرتا تو آپ فرماتے تم شفاعت کرو تمہیں اجر دیا جائے گا ‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ فرمائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٤٣٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٦٢٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٢‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٥٦‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٨١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٤٠٠‘ ٤٠٣‘ ٤٠٩‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٧‘ صحیح ابن حبان ج ٢ ص ٥٣١) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص لایا گیا جو آپ سے سواری طلب کرتا تھا ‘ آپ کے پاس اس وقت کوئی سواری نہیں تھی۔ آپ نے اس کی کسی اور شخص کی طرف رہنمائی کی اس شخص نے اس کو سواری دے دی ‘ اس سائل نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر اس کی خبر دی ‘ آپ نے فرمایا نیکی کی رہنمائی کرنے والا بھی نیکی کرنے والے کی مثل ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٦٩‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٩٣‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٢٩‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ١٧٠٨٣‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ١٤٢) 

کسی برے کام کے حصول کے لیے شفاعت کی ممانعت پر اس آیت میں دلیل ہے : 

(آیت) ” ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان “۔ (المائدہ : ٢) 

ترجمہ : اور گناہ اور سرکشی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ‘۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 85

فَقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَـفۡسَكَ‌ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ عَسَے اللّٰهُ اَنۡ يَّكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّاَشَدُّ تَـنۡكِيۡلًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 84

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَـفۡسَكَ‌ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ عَسَے اللّٰهُ اَنۡ يَّكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّاَشَدُّ تَـنۡكِيۡلًا‏ ۞

ترجمہ:

سو آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے آپ کو صرف آپ کی ذات کا مکلف کیا جائے گا ‘ اور آپ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی ‘ عنقریب اللہ کافروں کے زور کو روک دے گا اور اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے اور اس کا عذاب بہت شدید ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : سو آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے آپ کو صرف آپ کی ذات کا مکلف کیا جائے گا۔ (النساء : ٨٤) 

شان نزول اور ربط آیات : 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی بہت زیادہ ترغیب دی تھی ‘ اور ان لوگوں کی مذمت کی تھی جو جہاد سے روکتے تھے اور منع کرتے تھے۔ اس آیت میں فرمایا آپ ان لوگوں کے منع کرنے کی طرف توجہ اور التفات نہ کیجئے بلکہ آپ خود اللہ کی راہ میں قتال کیجئے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ شجاع اور بہادر ہیں۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہاد کا حکم دیا ہے خواہ آپ کو تنہا کافروں سے جہاد کے لیے جانا پڑے ‘ ابو سفیان نے بدر الصغری میں آپ سے مقابلہ کا وعدہ کیا تھا ‘ بعض مسلمانوں نے وہاں جانا ناپسند کیا ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ آپ نے کسی کے منع کرنے کی طرف توجہ نہیں کی اور ستر مسلمانوں کے ساتھ آپ روانہ ہوئے اگر کوئی نہ جاتا تو آپ تنہا روانہ ہوجاتے۔ 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ شجاع اور دلیر تھے اور قتال کے احوال کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے ‘ کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتال کا مکلف کیا ہے۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیجئے ‘ سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو جہاد کی طرف راغب کرنے کے لیے بہت ارشادات فرمائے جن کو ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا عنقریب اللہ کافروں کے زور کو روک دے گا ‘ اللہ کے کلام میں جب بھی عسی (عنقریب) کا لفظ آئے تو وہ یقین کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں یہ پیش گوئی ہے کہ عنقریب کفار مغلوب ہوں گے اور مسلمان غالب ہوں گے ‘ سو بعد میں ایسا ہی ہوا اور تمام جزیر عرب مسلمانوں کے تسلط میں آگیا اور جب تک مسلمان احکام شرعیہ سے تغافل ‘ عیاشی اور باہمی تفرقہ میں مبتلا نہیں ہوئے اور تبلیغ اسلام کے لیے دنیا میں جہاد کرتے رہے تمام ممالک ان کے زیر تسلط آتے رہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 84

وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ ۚ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 83

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ ۚ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو یہ اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس خبر کو رسول یا اپنے صاحبان علم کی طرف پہنچا دیتے تو انمیں سے خبر کا تجزیہ کرنے والے ضرور اس کے (صحیح) نتیجہ تک پہنچ جاتے ‘ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو چند لوگوں کے سوا تم شیطان کی پیروی کرلیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو یہ اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس خبر کو رسول یا اپنے صاحبان علم کی طرف پہنچا دیتے تو ان میں سے خبر کا تجزیہ کرنے والے ضرور اس کے (صحیح) نتیجہ تک پہنچ جاتے ‘ الخ۔ (النساء : ٨٣) 

اس آیت میں استنباط کا معنی ہے کسی چیز کو نکالنا ‘ اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ عالم اپنی عقل اور علم سے کسی خبر میں غور وفکر کرکے اس سے صحیح نتیجہ نکالے ‘ قرآن اور حدیث میں غور وفکر کرکے ان سے احکام شرعیہ اخذ کرنے کو بھی استنباط کہتے ہیں۔ 

شان نزول :

یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہوتے اور لشکر کو شکست ہوتی یا اس کو مال غنیمت حاصل ہوتا ‘ تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خبر دینے سے پہلے اس خبر کو اڑا دیتے تھے تاکہ مسلمانوں کے دل کمزور ہوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت پہنچے ‘ اگر وہ یہ خبر نہ پھیلاتے حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا آپ کے معظم اصحاب میں سے مثلا حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) وغیرہ اس خبر کی خود تحقیق کرتے تو وہ اس خبر سے صحیح نتیجہ نکال لیتے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٨٧) 

امام ابن جریر نے لکھا ہے ان لوگوں سے مراد منافق ہیں یا ضعفاء مسلمین (جامع البیان ج ٥ ص ١١٤) 

اس آیت میں اولی الامر سے مراد یا تو ان لشکروں کے امیر ہیں یا اصحاب علم وفضل ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٧٢) 

قیاس اور تقلید کے حجت ہونے کا بیان :

اس آیت سے معلوم ہوا کہ شریعت میں قیاس بھی حجت اور دلیل ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ واجب کیا ہے کہ خبر کے ظاہر پر عمل نہ کیا جائے بلکہ غور و فکر کرکے اس خبر سے صحیح نتیجہ اخذ کیا جائے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ بعض احکام ظاہر نص سے معلوم نہیں ہوتے بلکہ ظاہر نص سے جو حکم مستنبط کیا جائے اس پر عمل کرنا واجب ہے ‘ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو نئے نئے مسائل پیش آتے ہیں ان میں عوام پر واجب ہے کہ وہ علماء کی تقلید کریں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی مسائل شرعیہ میں استنباط کرتے تھے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد پیش آمدہ واقعات اور مسائل حاضرہ میں اصحاب علم کو قرآن اور احادیث سے استنباط اور اجتہاد کرنا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 83

ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ان دنوں مِن حَیثُ القوم ہم ایک دوسرے کی قبریں کھودنے ‘ چیتھڑے اڑانے ‘ طعنہ زنی ‘عیب جوئی اور تذلیل وتحقیر میں مصروف رہتے ہیں اور اس میں ہمیں بڑا لطف آتا ہے‘ جبکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں ان عادات واقدار کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے ‘اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

(1)”ہلاکت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو منہ پر طعنے دیتا ہے اور پسِ پشت عیب جوئی کرتا ہے‘جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کر رکھا ‘وہ گمان کرتا ہے کہ اُس کا مال اُسے حیاتِ جاودانی عطا کرے گا‘ہرگز نہیں!وہ ”حُطَمَۃ‘‘ میں ضرور پھینک دیا جائے گا اور آپ کو کیامعلوم ”حُطَمَۃ‘‘کیا ہے ‘وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے (جس کے شعلے ) سینوں تک بلند ہوں گے ‘بے شک وہ آگ ان پر ہر طرف سے لمبے لمبے ستونوں میںبند کی ہوئی ہوگی ‘(الہُمَزہ:1-9)‘‘۔ 

تفسیر کبیر میں ہے:”ھُمَزَہ‘‘ سے مراد غیبت کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد عیب جوئی کرنا ‘ ابوزید نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد ہاتھ یا اشاروں سے اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد زبان سے عیب جوئی کرنا ‘ ابوالعالیہ نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد سامنے طعن کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد پیٹھ پیچھے غیبت کرنا‘ ایک معنی یہ بیان کیا ہے کہ ھُمَزَہ سے مراد ظاہراً اور لُمَزَہ سے مراد آنکھ یا ابروکے اشارے سے طعن کرنا ‘ ولید بن مغیرہ ایسے ہی کرتا تھا ۔

اللہ تعالیٰ نے نہایت نفیس انداز میں فرمایا:”اپنے عیب نہ نکالواور(ایک دوسرے کو)برے ناموں سے نہ پکارو‘‘ (الحجرات:11)۔ اس میں نفسیاتی انداز میں بتایا گیا کہ تم جس کے عیب نکالتے ہو‘ وہ تمہارا ہی بھائی ہے ‘ تمہاری ملّت کا ایک فرد ہے‘ کوئی غیر تو نہیں ہے ‘ یعنی اس کی توہین کر کے تم اپنی توہین کر رہے ہو‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(1) ”اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو‘ بے شک بعض گمان گناہ ہیں اور نہ تم دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگائو اور نہ تم ایک دوسرے کی غیبت کرو‘ کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ سو تم اس کو ناپسند کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے‘‘(الحجرات: 12)۔(2) ”اور(اے مخاطَب!) جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کی ٹوہ میں نہ لگ جائو‘ بے شک کان ‘ آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں (روزِ قیامت) باز پرس ہوگی‘‘ (الاسرائ: 36)۔اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگانے سے منع فرمایا ‘ حدیث پاک میں اسے ”تجسُّس‘‘اور ”تَحَسُّس‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے:

” رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے اور بلند آواز سے پکارا: اے لوگو! جو اپنی زبان سے ایمان لائے ہو اور (ابھی) ایمان تمہارے دلوں میں جاگزیں نہیں ہوا‘ مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچائو‘ انہیں عار نہ دلائو‘ ان کی پوشیدہ باتوں کے درپے نہ ہوجائو‘ پس بے شک جو اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ راز کے درپے ہوگا‘اللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرمائے گااور جس کے عیوب کو اللہ ظاہر کر دے ‘وہ رسوا ہوجائے گاخواہ وہ کجاوے میں بیٹھا ہو‘نافع بیان کرتے ہیں: ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرکی نظر بیت اللہ پر پڑی تو انہوں نے کہا: (اے بیت اللہ!)تیری عظمت بے پایاں ہے ‘ تیری حرمت عظیم ہے لیکن ایک (بے قصور)مسلمان (کے خونِ ناحق) کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے‘‘ (سنن ترمذی:2032)۔

(2)”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان‘ مسلمان کا بھائی ہے‘ وہ نہ اس پر خود ظلم کرے اور نہ کسی اور کو اس پر ظلم کرنے دے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مشغول رہتا ہے‘اللہ تعالیٰ اس کی حاجت براری فرماتا ہے اور جس نے کسی مسلمان سے کوئی مصیبت دور کی تو اللہ قیامت کی مصیبتوں میں سے اس کی کوئی مصیبت دور فرمادے گا اور جس نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا‘ اللہ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا‘‘ (صحیح البخاری:2442)۔

اسلام نے ایک دوسرے کی پردہ دری اور عیب جوئی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ اپنے دین کے دشمنوں کو اپنا رازدار نہیں بنانا چاہیے ‘ اس کا انجام نقصان ہی نقصان ہے ‘ فرمایا:”اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بنائو‘ وہ تمہاری بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے‘ انہیں وہی چیز پسند ہے ‘جس سے تمہیں تکلیف پہنچے ‘ان کی باتوں سے تودشمنی عیاں ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے‘ وہ اس سے بھی زیادہ بڑا ہے‘ اگر تم عقل سے کام لیتے ہو تو ہم نے تمہارے لیے نشانیوں کو بیان کردیا ہے‘‘(آل عمران:118)۔بہت سے حضرات اپنا راز دوسروں پر افشا کرتے ہیں اور پھر اُن سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اُس پر پردہ ڈالے رہیں ‘ جب ایک شخص خود اپنے رازوں کی حفاظت نہیں کرسکتا تو کسی دوسرے سے توقع رکھنا عبث ہے۔رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے مفاسد کا منبع زبان ہے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا: (1)”جو مجھے اس چیز کی (شریعت کے تابع رکھنے کی )ضمانت دے گا جو دو داڑھوں اور دو ٹانگوں کے درمیان ہے(یعنی زبان اور شرمگاہ) ‘ تو میں اُسے جنت کی ضمانت دوں گا‘‘ (بخاری: 6474)۔(2)”جو خاموش رہا‘ اس نے نجات پائی‘‘ (سنن ترمذی:2501)۔(3)”جب بنی آدم صبح کرتا ہے تو اُس کے تمام اعضازبان کے تابع ہوتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں: ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہ ‘ کیونکہ ہمارے حقوق کی حفاظت تمہارے ذریعے ہے‘ اگر تو صحیح رہے گی تو ہم بھی صحیح رہیں گے اور اگر تو کجی اختیار کرلے گی تو ہم میں بھی کجی آجائے گی‘‘ (ترمذی:2407)۔(4)سفیان بن عبداللہ ثقفی نے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے وہ چیز بتائیے‘ جسے میں مضبوطی سے تھام لوں‘ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو:میرا رب اللہ ہے ‘ پھر اس پر ثابت قدم رہو ‘ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے‘ جس سے مجھے سب سے زیادہ خوفزدہ رہنا چاہیے ‘ تو آپ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک کو پکڑ کر فرمایا: یہ(یعنی زبان)‘‘ (ترمذی: 2410)۔(5)”نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کو چھپایا‘اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے عیب پر پردہ ڈالے گااور جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کی پردہ دری کی تو قیامت میں اللہ تعالیٰ اُس کے عیب کو فاش کردے گایہاں تک کہ اُسے اپنے گھر میں رسواکرے گا‘ ‘(سنن ابن ماجہ:2546)۔

اب حکومتِ وقت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے اور اس پر کریک ڈائون کی بات کر رہی ہے ‘ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے منفی استعمال کا شعار بھی ہماری آج کی حکمراں جماعت نے حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے رائج کیا اور اب اُسی کاہتھیار اس کے خلاف استعمال ہورہا ہے اور وہ اس سے بچائو کی تدبیر اختیار کرنے پر مجبور ہے‘ ماضی کی حکومت نے جب سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی تھی تو جنابِ عمران خان نے اس کی شدیدمخالفت کی تھی ‘لیکن : دیر آید درست آید‘ موجودہ حزبِ اختلاف یقینااس کی مخالفت کرے گی ۔ ہمارے سیاسی رہنماہرچیز کے حُسن وقبُح کے بارے میں وقتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آج سوشل میڈیا موجودہ حکومت کے لیے دردِ سر بنا تو اس کے خلاف کریک ڈائون کرنے کی تدبیر کی جارہی ہے ‘ اس اقدام کانیک نیتی پر مبنی ہوناصرف اُس صورت میں سمجھا جائے گاکہ حکومت خود بھی اپنے ماضی کے رویے پراظہارِ ندامت کرے اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم کرے تو یہ اقدام قابلِ ستائش ہے ‘ لیکن اگر اپنے خلاف موادپر مواخذہ کرے اور دوسروں کی بدستور تضحیک کرے ‘تو اسی کو چنیدہ انصاف کہتے ہیں؛البتہ جو لوگ اسلام دشمن عناصر بالخصوص قادیانی‘ سیکولرز لبرلز کامہذب انداز میں ردّاور اسلام کا دفاع کرتے ہیں‘ توان پرپابندی کا کوئی جواز نہیں ہے ‘ ہمیشہ دائمی مفاد پیشِ نظر رہنا چاہیے ۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی بابت ایک عالم نے کہا: ” فوائد ونقصانات دونوں کے حامل جدید آلات کوان کے مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں کا موازنہ کیے بغیراستعمال نہ کریں ‘ انسان جلد باز ہے‘ وہ مثبت پہلوئوں سے جلد متاثر ہوتا ہے اور منفی گوشوں سے غفلت برتتا ہے۔ ذرائع ابلاغ واشتہارات کے ذریعے جب کسی نئی چیز کا فائدہ اس کے علم میں آتا ہے‘ تو وہ فوراً اس کی طرف لپکتا ہے اور اس کے منفی پہلوئوں اور نقصانات پر غور نہیں کرتا؛ چنانچہ وہ نتائج سے بے خبر رہ کربتدریج ان کے نقصانات کاشکار ہوجاتا ہے‘‘۔اسلام نے شراب کی قطعی حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے شراب اور جوئے سے اجتناب کے بارے میں یہی اصول تعلیم فرمایا: ”(اے رسول !)وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں‘ آپ کہیے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیںاور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ‘‘ (البقرہ:219)۔اسی کو فقہ کی اصطلاح میں ”سدِّ ذرائع‘‘ کہتے ہیں ‘یعنی دفعِ شر کوحصولِ منفعت پر مقدم رکھنا۔ اس آفت میں بعض دین دار لوگ بھی مبتلا ہوگئے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی فہم میں شر کو خیر کے حصول کا ذریعہ بنارہے ہیں ‘ کیونکہ اُن کے نزدیک اپنے مخالف کا رَد یا اہانت خیر ہے ۔

سوشل میڈیا کے غیر دانشمندانہ استعمال کا نقصان شعارِدین کو بھی ہورہا ہے‘ بعض ایسے لوگ جو اہلیت نہیں رکھتے‘جہاد باللسان یا جہاد بالقلم سمجھ کر اپنے اپنے فتوے صادر کردیتے ہیں اور ردعمل میں لبرل طبقہ چاہتا ہے کہ صریح کفر کے سدِّباب کے لیے جہاں فتویٰ ضروری ہے ‘وہاں بھی پابندی لگا دی جائے‘ تاکہ کفروضلالت کے آگے کوئی شرعی رکاوٹ ہی نہ رہے اور دین بازیچۂ اطفال بن جائے۔ یہ لوگ کچھ حساس و اہم اسلامی قوانین کوبے اثر بنانے کیلئے شہادتِ مردودہ کوبہانہ بنا کرشعوری طور پراسی حربے کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ماضی میں ”اِنِ الْحُکمُ اِلَّا لِلّٰہ‘‘ (یعنی حکم اور فیصلہ تو اللہ ہی کا نافذہو گا)کا نعرہ لگا کر خوارج نے فتنہ برپا کیا‘ جو مختلف صورتوں میں آج بھی جاری ہے ‘ اسی حربے کی فتنہ سامانی پرحضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”یہ کلمۂ حق ہے ‘جسے باطل مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ‘‘۔ الغرض باطل کو حق کے لیے یا حق کو باطل کے لیے حربے کے طور پر استعمال کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان