وَاِنَّ مِنۡكُمۡ لَمَنۡ لَّيُبَطِّئَنَّ‌ۚ فَاِنۡ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَالَ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَىَّ اِذۡ لَمۡ اَكُنۡ مَّعَهُمۡ شَهِيۡدًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 72

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ مِنۡكُمۡ لَمَنۡ لَّيُبَطِّئَنَّ‌ۚ فَاِنۡ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَالَ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَىَّ اِذۡ لَمۡ اَكُنۡ مَّعَهُمۡ شَهِيۡدًا ۞

ترجمہ:

بیشک تم میں وہ (گروہ بھی) ہے جو ضرور تاخیر کرے گا پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو وہ کہے گا کہ اللہ نے مجھ پر انعام کیا کہ میں (جنگ میں) ان کے ساتھ نہ تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک تم میں وہ (گروہ بھی) ہے جو ضرور تاخیر کرے گا پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو وہ کہے گا کہ اللہ نے مجھ پر انعام کیا کہ میں (جنگ میں) ان کے ساتھ نہ تھا۔ اور اگر تمہیں اللہ کا فضل (مال غنیمت) مل جائے تو ضرور (اس طرح) کہے گا گویا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی ہی نہ تھی کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرلیتا۔ (النساء : ٧٣۔ ٧٢) 

ان دو آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ تمہارے درمیان منافق بھی ہیں اور بزدل اور کمزور ایمان والے بھی ہیں ‘ منافقوں کو تو جہاد سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ان کو اسلام اور مسلمانوں سے کوئی محبت نہیں ہے اور جو بزدل اور کمزور ایمان والے ہیں۔ وہ موت کے ڈر سے جہاد میں شریک نہیں ہونا چاہتے ‘ یہ لوگ جہاد کے نتیجہ اور انجام کے منتظر رہتے ہیں اگر کسی معرکہ میں مسلمان قتل ہوجائیں یا بہت زخمی ہوجائیں تو یہ جہاد میں اپنے شریک نہ ہونے اور قتل سے بچنے کی وجہ سے بہت خوش ہوتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس لشکر میں وہ نہیں تھے ‘ اور اگر مسلمان فتح یاب ہو کر لوٹیں اور بہت سامال غنیمت لائیں تو یوں کہتے ہیں جیسے ان کا تمہارے دین سے کوئی تعلق ہی نہیں کاش ہم بھی اس معرکہ میں ہوتے اور ہم کو بھی مال غنیمت سے حصہ ملتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 72

فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اس وقت کیا حال ہوگا جب ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑے تو پھر یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آئیں کہ ہمارا تو ماسوا نیکی اور باہمی موافقت کے اور کوئی ارادہ نہ تھا

القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ رَاَيۡتَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡكَ صُدُوۡدًا‌ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 61

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰى مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ وَاِلَى الرَّسُوۡلِ رَاَيۡتَ الۡمُنٰفِقِيۡنَ يَصُدُّوۡنَ عَنۡكَ صُدُوۡدًا‌ ۞

ترجمہ:

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس کتاب کی طرف جس کو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف تو آپ دیکھتے ہیں منافقین آپ سے اعراض کرتے ہوئے کترا کر نکل جاتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس کتاب کی طرف جس کو اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف تو آپ دیکھتے ہیں منافقین آپ سے اعراض کرتے ہوئے کترا کر نکل جاتے ہیں۔ اس وقت کیا حال ہوگا جب ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑے تو پھر یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آئیں کہ ہمارا تو ماسوا نیکی اور باہمی موافقت کے اور کوئی ارادہ نہ تھا۔ (النساء : ٦٢۔ ٦١) 

ابن جریج نے بیان کیا کہ جب مسلمان منافقوں سے کہتے تھے کہ آؤ اپنے مقدمہ کا فیصلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کراؤ تو وہ منہ موڑ کر کتراتے ہوئے نکل جاتے تھے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٩) 

جس منافق کو حضرت عمر (رض) نے قتل کیا تھا اس کا قصاص لینے کے لیے اس کے اہل آئے اور معذرت کر کے کہنے لگے ‘ کہ ہم نے جو حضرت عمر (رض) سے فیصلہ کرانے کے لیے کہا تھا اس سے ہمارا صرف یہ مقصد تھا کہ اس منافق کے ساتھ نیک سلوک ہو اور اس منافق اور اس کے مخالف یہودی کے درمیان صلح ہوجائے ‘ اس آیت میں اس مصیبت سے مراد اس منافق کا قتل کیا جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان منافقوں کے دلوں میں جو شر اور فتنہ ہے اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے ‘ آپ ان کے بہانوں کو قبول کرنے سے اعراض کیجئے کیونکہ ان کے بہانوں کے قبول کرنے کا مطلب ہے حضرت عمر (رض) سے قصاص لینا اور جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ نہ مانے اس کا خون مباح ہے اور اس کا کوئی قصاص نہیں ہے ‘ آپ ان کو زبان سے نصیحت کیجئے اور ان کے نفاق سے درگذر کیجئے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 61

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 200

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! فی نفسہ صبر کرو اور لوگوں کی زیادیتوں پر صبر کرو اور اپنے نفسوں اور اپنی سرحدوں کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! فی نفسہ صبر کرو اور لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کرو اور اپنے نفسوں اور اپنی سرحدوں کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو۔ (آل عمران : ٢٠٠) 

رب آیات : 

یہ اس سورت کی آخری آیت ہے ‘ اور سورة آل عمران میں جو تمام مضامین تفصیلی طور پر ذکر کیے گئے ہیں وہ تمام مضامین اجمالی طور پر اس آیت میں ذکر کردیئے گئے ہیں ‘ اس آیت میں عبادات کی مشقتوں کو برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی طرف ” اصبروا “ میں اشارہ ہے ‘ اور مخالفین کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی طرف ” صابروا “ میں اشارہ ہے اور کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے اس کی طرف ” رابطوا “ میں اشارہ ہے اور اصول اور فروع یعنی عقائد اور اعمال سے متعلق احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی طرف ” واتقوا اللہ “ میں اشارہ ہے۔ 

صبر کا لغوی اور شرعی معنی : 

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

صبر کے معنی ہیں تنگی میں کسی چیز کو روکنا ‘ صبرت الدابۃ کا معنی ہے میں نے بغیر دانے اور چارہ کے سواری کو روک لیا ‘ اور صبر کا اصطلاحی معنی ہے عقل اور شرع کے تقاضوں کے مطابق نفس کو روکنا اور پابند کرنا ‘ صبر ایک جنس ہے اور اس کی کئی انواع ہیں ‘ مصیبت پہنچنے پر نفس کو جزع وفزع ہے اور جنگ کے وقت نفس کو بزدلی سے روکنا صبر ہے اس کو شجاعت کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں بزدلی ہے ‘ عبادات میں مشقتوں کو برداشت کرنا اور غضب ‘ شہوت اور حرص وطمع کی تحریک کے وقت اپنے نفس کو اللہ کی نافرمانی سے روکنا بھی صبر ہے اس کو اطاعت کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں فسق وفجور ہے (مفردات الفاظ القرآن ص ٢٧٣‘ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ) 

صبر کے متعلق احادیث :

مصیبت کے وقت نفس کو جزع اور فزع سے روکنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک عورت کے قریب سے گزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی ‘ آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو اس نے کہا ایک طرف ہٹو تم کو میری طرح مصیبت نہیں پہنچی ‘ اس نے آپ کو پہچانا نہیں تھا ‘ اس کو بتایا گیا کہ یہ تو نبی کریم ہیں ‘ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازہ پر آئی وہاں اس نے کوئی دربان نہیں پایا ‘ اس نے کہا میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا ‘ آپ نے فرمایا جب پہلی بار صدمہ (یامصبیت نہیں پہنچی ‘ اس نے آپ کو پہنچانا نہیں تھا ‘ آپ نے فرمایا جب پہلی بار صدمہ (یامصیبت) پہنچے اسی وقت (نفس کو روکنا) صبر ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ج ١٢٨٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٢٦) 

اور کفار سے جنگ کے وقت اپنے نفس کو بزدلی سے روکنے کے متعلق یہ حدیث ہے 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشمنوں سے جنگ کرتے ہوئے ایک دن انتظار کیا حتی کہ سورج ڈھل گیا ‘ پھر آپ نے لوگوں میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! دشمن سے مقابلہ کی توقع نہ کرو ‘ اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو ‘ اور جب تمہارا دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو (یعنی بزدلی نہ کرو) اور یقین رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٦‘ ٢٩٦٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٧) 

عبادات کی مشقتوں کو برداشت کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتی ہیں کہ جس دن سورج گرہن ہوا اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرائے آپ نے اپنی قمیص پہنی ‘ اور چادر اوڑھی ‘ پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں بہت لمبا قیام کیا پھر آپ نے رکوع کیا ‘ میں نے دیکھا کہ ایک عورت مجھ سے عمر میں بڑی تھی اور کھڑی ہوئی تھی اور ایک عورت میری بہ نسبت بیماری تھی وہ بھی قیام میں تھی تو میں نے دل میں کہا میں تمہاری بنسبت زیادہ حقدار ہوں کہ طول قیام کی مشقت پر صبر کروں (مسند احمد ج ٦ ص ٣٤٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

حرص ‘ غضب اور شہوت کے تقاضوں پر صبر کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت سلمہ بن صخر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ظہار کیا پھر ایک رات کو اس سے جماع کرلیا ‘ صبح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ واقعہ عرض کیا : آپ نے فرمایا اے سلمہ ! تم نے یہ کام کیا ؟ میں نے دو مرتبہ عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھ سے تقصیر ہوگئی اور میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں ‘ آپ کو جو اللہ فرمائے آپ مجھے اس کا حکم دیجئے۔ الحدیث : (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٢١٣) 

صابروا کا لغوی معنی اور صبر اور مصابرہ میں فرق : 

علامہ سید محمد مرتضیٰ حسینی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (اصبروا وصابروا ورابطوا “ اس آیت میں ادنی سے اعلی کی طرف انتقال ہے ‘ صبر ‘ مصابرہ سے کم ہے اور مصابرہ ‘ مرابطہ سے کم ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اصبروا کا معنی ہے اپنے نفوس کے ساتھ صبر کرو اور صابروا کا معنی ہے مصیبتوں پر اپنے دلوں میں اللہ پر صبر کرو ‘ اور رابطوا کا معنی ہے اپنے اسرار کا اللہ کے ساتھ رابطہ رکھو اور ایک قول یہ ہے کہ اصبروا کا معنی ہے اللہ میں صبر کرو ‘ اور صابروا کا معنی ہے اللہ کے ساتھ صبر کرو اور رابطوا کا معنی ہے اللہ کے ساتھ رابطہ رکھو۔ (تاج العروس ج ٣ ص ‘ ٣٢٤ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب مشرکین کو معاف کردیتے تھے اور ان کی ایذا ارسانیوں پر صبر کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ج ٦٢٠٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٩٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنے امیر کی کوئی ناگوار چیز دیکھے وہ اس پر صبر کرے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی علیحدہ ہوا ‘ اور مرگیا وہ جاہلیت کی موت مرا (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٤٩) 

امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس میں تشریف فرما تھے ‘ آپ ہنسے ‘ پھر آپ نے فرمایا کیا تم مجھ سے نہیں دریافت کرتے کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں ؟ صحابہ نے عرض کیا آپ کس وجہ سے ہنسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا مجھے مومن کے حال پر تعجب ہوتا ہے ‘ اس کا ہرحال خیر ہے اگر اس کو کوئی پسندیدہ چیز ملے اور وہ اس پر اللہ کی حمد کرے تو یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اس کو کوئی ناگوار چیز ملے اور وہ اس پر صبر کرے تو یہ بھی اس کے لیے خیر ہے اور مومن کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کا ہرحال خیر ہو۔ (سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٨٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٩٩٩‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٣٣‘ ٣٣٢‘ ج ٦ ص ١٥١٦) 

مرابطہ کے معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

مرابطہ کی دو قسمیں ہیں ‘ مسلمانوں کی سرحدوں کی نگہبانی اور حفاظت کرنا ‘ کہیں اس پر دشمن اسلام حملہ آور نہ ہوں اور دوسری قسم ہے نفس کا بدن کی نگہبانی اور حفاظت کرنا کہیں شیطان اس سے گناہ نہ کرائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا بھی رباط ہے ‘ یہ دوسری قسم ہے اور پہلی قسم کے متعلق یہ آیت ہے : 

(آیت) ” واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل “۔ (الانفال : ٦٠) 

ترجمہ : ان کے لیے بہ قدر استطاعت ہتھیاروں کی قوت اور گھوڑے باندھنے کو فراہم کرو۔ (مفردات الفاظ القرآن ص ١٨٦ ‘۔ ١٨٥‘ مطبوعہ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ) 

آیت مذکورہ میں رابطور کے محامل : 

ہر چند کہ انسان ضبط نفس کرکے فی نفسہ صبر کرتا ہے اور لوگوں کی ایذاء رسانی پر بھی صبر کرتا ہے لیکن پھر بھی اس میں شہوت ‘ غضب اور حرص پر مبنی برے اخلاق ہوتے ہیں اور اپنے نفس کو برے اخلاق سے پاک کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس سے جہاد کرے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور جب کبھی شہوت یا حرص کے غلبہ سے کسی گناہ کی تحریک ہو تو اپنے نفس کو اس گناہ سے آلودہ نہ ہونے دے ‘ اور یہ محاسبہ اور نگہبانی اسی وقت ہوسکتی ہے جب انسان کے دل میں اللہ کا ڈر اور خوف ہو ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا : (آیت) ’ ورابطوا واتقوا اللہ “۔ یعنی اپنے نفس کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں کامیابی کی امید ہو۔ 

چونکہ سورة آل عمران کی زیادہ کی زیادہ تر آیتیں جنگ احد سے متعلق ہیں اور بعض مسلمانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک حکم کی خلاف ورزی کی تھی جس کے نتیجہ میں وہ شکست سے دوچار ہوئے اور اس شکست پر آزردہ خاطر ہوئے ‘ اس لیے اس آیت کا ایک ظاہری محمل یہ ہے کہ کفار سے جنگ کے دوران ثابت قدم رہو اور جنگ میں ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرو ‘ اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کرو ‘ اور اس سلسلہ میں اللہ اور رسول کے احکام پر عمل کرنے میں اللہ سے ڈرتے رہو اور کسی قسم کی حکم عدولی نہ کرو تاکہ تمہیں کامیابی اور سرفرازی کی امید ہو۔ 

اس آیت کا ایک محمل یہ بھی ہے کہ نفسہ صبر کرو اور مخالفوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرو اور ہرحال میں اللہ سے رابطہ استوار رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ 

اسلامی ملک کی سرحد کی حفاظت کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی حفاظت کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دن اور ایک رات سرحد کی حفاظت کرنا ‘ ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے افضل ہے ‘ اور اگر وہ مرگیا تو اس کا یہ اجر جاری رہے گا اور وہ فتنہ میں ڈالنے والے سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٩١٣‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٦٨‘ ٣٦٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٧‘ مسنداحمد ‘ ج ٢ ص ١٧٧‘ ج ٥ ص ٤٤١‘ ٤٤٠‘ تحفۃ الاشراف : رقم الحدیث : ٩١ ٤٤) 

فتنہ میں ڈالنے سے مراد یا تو منکر نکیر ہیں اور یا اس سے مراد شیطان ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل منقطع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کے ثواب کو جاری رکھے گا اور جس حدیث میں ہے ابن آدم میں سے ہر ایک کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ماسوا تین کے اس کا مطلب ہے ان تین کا عمل منقطع نہیں ہوتا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل منقطع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کا ثواب جاری رکھے گا۔ 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عثمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منی میں فرمایا اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی حفاظت کرنا اس کے علاوہ ہزار ایام سے افضل ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ٥٧‘ ٦٦‘ ٦٤‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٣١) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو مٹا دے اور درجات کو بلند کر دے ‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا مشقت کے وقت مکمل وضو کرنا ‘ زیادہ قدم چل کر مسجد میں جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ‘ سو یہی رباط ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥١‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٥١، سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٤٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٧٧‘ ٢٠٢) 

گناہوں کو مٹانے سے مراد یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال سے گناہ مٹادیئے جائیں ‘ یا گناہ کے مقابلہ میں دل کے اندر جو ایک سیاہ نقطہ بن جاتا ہے اس کو مٹا دیا جائے ‘ مشقت کے وقت مکمل وضو کرنے سے مراد یہ ہے کہ جب انسان کو پانی ٹھنڈا لگے یا پانی کے استعمال سے جسم میں تکلیف ہو اس وقت مکمل وضو کرے ‘ دور سے چل کر مسجد میں آنا یہ واضح ہے ‘ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اس سے یا تو مسجد میں بیٹھ کر انتظار کرنا مراد ہے تو یہ اعتکاف کے ایام میں پانچوں نمازوں سے حاصل ہوتا ہے اور عام دنوں میں آسانی سے عصر کے بعد مغرب کی نماز اور مغرب کے بعد مسجد میں عشاء کی نماز کے انتظار میں حاصل ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ انسان ایک نماز پڑھ کر اپنے گھر یا دکان یا دفتر میں آجائے لیکن اس کا دل و دماغ دوسری نماز کے انتظار میں لگا ہوا ہو ‘ تو یہ انتظار پانچویں نمازوں میں آسانی سے حاصل ہوسکتا ہے ‘ اس کو آپ نے رباط فرمایا ہے کیونکہ رباط سے مراد نفس کو پابند کرنا ہے۔ خواہ سرحد کی حفاظت پر خواہ ان عبادات میں یا اس لیے کہ رباط کا معنی ہے نفس اور جسم کا عبادات کے ساتھ ارتباط رکھنا ‘ یا رباط کا معنی ہے نگہبانی کرنا خواہ سرحد کی دشمنان اسلام سے نگہبانی کی جائے خواہ وضو سے نماز کی حفاطت کی جائے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرکے اس کی نگہبانی کی جائے اور اس کو ضائع ہونے بچایا جائے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے سو یہی رباط ہے اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ سورة آل عمران میں جو رابطو ‘ کا لفظ ہے اس سے مراد ان عبادات کی نگہبانی کرنا ہے۔ 

آج ٢٢ صفر المظفر ١٤١٧ ھ۔ جولائی ١٩٩٦ ء بروز پیر سورة آل عمران کی تفسیر مکمل ہوگئی الہ العلمین جس طرح آپ نے آل عمران کی تفسیر مجھ سے مکمل کرائی ہے بقیہ قرآن مجید کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں اور اس تفسیر میں مجھ کو غلطیوں اور لغزشوں سے محفوظ رکھیں اور اس تفسیر تبیان القرآن کو تا روز قیامت مقبول اور اثر آفرین رکھیں اور مجھے ‘ میرے والدین ‘ میرے اساتذہ اور میرے قارئین اور محبین کو دنیا اور آخرت کے عذاب سے بچائیں اور ان کے لیے دارین کی نعمتوں کا دروازہ کھول دیں ” واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ خیر خلقہ سیدنا محمد و علی الہ و اصحابہ وازواجہ وعلمآء ملتہ واولیآء امتہ وامتہ اجمعین “۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 200

لَـتُبۡلَوُنَّ فِىۡۤ اَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ وَلَـتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡۤا اَذًى كَثِيۡـرًا‌ؕ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 186

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَـتُبۡلَوُنَّ فِىۡۤ اَمۡوَالِكُمۡ وَاَنۡفُسِكُمۡ وَلَـتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَمِنَ الَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡۤا اَذًى كَثِيۡـرًا‌ؕ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ

ترجمہ:

بیشک تم اپنی جانوں اور مالوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے تم ان سے اور مشرکوں سے ضرور بہت سی دل آزار باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرتے رہے اور اللہ سے ڈرتے رہے تو یہ ضرور بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک تم اپنی جانوں اور مالوں میں ضرور آزمائے جاؤ گے اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے تم ان سے اور مشرکوں سے ضرور دل آزار باتیں سنو گے ‘ اور اگر تم صبر کرتے رہے اور اللہ سے ڈرتے رہے تو یہ ضرور بڑی ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ (آل عمران : ١٨٦) 

کافروں اور بےدینوں کی زیادیتوں کو خندہ پیشانی برداشت کرنا : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماکر تسلی دی تھی کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے یہ آیت بھی تسلی کے اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ‘ اور یہ بیان فرمایا کہ جس طرح کفار اور مشرکین نے جنگ احد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو ایذاء پہنچائی تھی ‘ اسی طرح مستقبل میں بھی یہ لوگ ہر ممکن طریقہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانون کو جانی اور مالی نقصان پہنچا کر ‘ ان کے خلاف سازشیں کر کے اور دل آزار باتیں کرکے انہیں ایذاء پہنچائیں گے ‘ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ان مصائب کے لیے تیار رکھیں اور تکلیفیں برداشت کرنے اور مشقتیں جھیلنے کا خود کو عادی بنائیں ‘ اور جب انسان کو پہلے سے یہ پتہ چل جائے کہ اس پر مصیبت آنے والی ہے تو اس کے لیے وہ مصیبت آسان ہوجاتی ہے ‘ سو اللہ تعالیٰ کا ان کو پہلے سے آنے والی مصیبتوں پر خبردار کرنا بھی ان پر اللہ کا بڑا کرم ہے۔ 

ان آنے والے مصائب کے متعلق بعض مفسرین نے کہا اس سے مراد مال کی کمی اور جہاد میں قتل ہونا اور زخمی ہونا ہے ‘ اور اس سے کافروں اور مشرکوں کی دل آزار باتیں بھی مراد ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اس جانی اور مالی نقصان اور کفار کے طعن وتشنیع پر صبر کریں اور ان کی یذاء کا جواب ایذارسانی سے نہ دیں کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے اس حسن سلوک سے متاثر ہو کر بہت سے کافر مسلمان ہوجائیں گے ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل “۔ (الاحقاف : ٣٥) 

ترجمہ : آپ صبر کیجئے جس طرح ہمت والے رسولوں نے صبر کیا ہے، 

(آیت) ” ولا تستوی الحسنۃ ولا السیئۃ ادفع بالتیھی احسن فاذا بینک وبینہ عداوۃ کا نہ ولی حمیم فاذا الذی بینک وبینہ عداوۃ کا نہ ولی حمیم (حم السجدۃ : ٣٤) 

ترجمہ : نیکی اور بدی برابر نہیں ہے آپ بدی کو بہترین طریقہ سے دفع کیجئے ‘ تو آپ کے اور جس شخص کے درمیان عداوت ہے تو وہ گویا آپ کو خیرخواہ اور دوست ہوجائے گا۔ 

(آیت) ” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “۔ (الشوری : ٤٠) 

ترجمہ : سو جس نے معاف کردیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے۔ 

(آیت) ” ولمن صبر وغفر ان ذالک لمن عزم الامور “۔ (الشوری : 43) 

ترجمہ : اور جس نے صبر کیا اور معاف کردیا تو بیشک یہ ضرور ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو الحارث بن خزرج میں حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی عیادت کے لیے ایک دراز گوش پر سوار ہو کر تشریف لے گئے اس سواری پر فدک کی بنی ہوئی ایک موٹی چادر تھی اور آپ کے پیچھے حضرت اسامہ بیٹھے ہوئے تھے ‘ یہ غزوہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے ‘ آپ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بیٹھا ہوا تھا ‘ اور مسلمانوں میں حضرت عبداللہ بن رواحہ بھی تھے ‘ جب اس مجلس پر اس سواری کا غبار پڑا تو عبداللہ بن رواحہ بھی تھے “ جب اس مجلس پر اس سواری کا غبار پڑا تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک پر کپڑا رکھ لیا اور پھر کہا ہم پر غبار نہ اڑاؤ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو سلام کیا (رض) پھر آپ ٹھہر گئے اور سواری سے اترے اور ان کو اللہ کی طرف دعوت دی ‘ اور ان پر قرآن مجید کی تلاوت کی ‘ عبداللہ بن ابی سلول نے کہا جو آپ کہتے ہیں اس سے اچھی کوئی چیز نہیں ہے اگر یہ حق بھی ہے تو آپ ہمیں ہماری مجلس میں ایذاء نہ پہنچائیں ‘ اپنی سواری کی طرف جائیں اور جو شخص آپ کے پاس آئے اس کے سامنے بیان کریں ‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ نے کہا کیوں نہیں ! یا رسول اللہ ! آپ ہماری مجلس میں ٹھیریں ‘ ہم اس کو پسند کرتے ہیں ہیں ‘ پھر مسلمان اور مشرکین اور یہود ایک دوسرے کو برا کہنے لگے ‘ حتی کہ قریب تھا کہ وہ جوش میں آجاتے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو مسلسل ٹھنڈا کرتے رہے ‘ حتی کہ ان کا جوش ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر سوار ہو کر روانہ ہوگئے ‘ اور حضرت سعد بن عبادہ کے پاس گئے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا اے سعد ! کیا تم نے نہیں سنا کہ ابو حباب (عبداللہ بن ابی کی کنیت ہے) نے کیا کہا ہے ‘ اس نے اس اس طرح کہا ہے ‘ حضرت سعد بن عبادہ نے کہا یا رسول اللہ ! اس کو معاف کر دیجئے اور اس سے درگذر کیجئے ‘ اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے اور آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ‘ اس خطہ زمین کے لوگوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ وہ اس کے سر پر تاج پہنائیں گے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین حق دے کر اس کا انکار کردیا تو یہ غضب ناک ہوگیا اور اس نے وہ کچھ کیا جو آپ نے دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو معاف کردیا ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب ‘ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مشرکین اور اہل کتاب کو معاف کردیتے تھے ‘ اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتے تھے۔ (صحیح بخاری ج ٥ ص ٢٠٨‘ رقم الحدیث ٤٥٦٦‘ مطبوعہ مکتبہ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٢ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 186

وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتًا ‌ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَۙ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 169

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتًا ‌ؕ بَلۡ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَۙ

ترجمہ:

اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کردیے گئے ان کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ اپنے رب کے نزدیک زندہ ہیں انھیں رزق دیا جا رہا ہے

تفسیر:

مناسبت اور شان نزول :

جہاد میں جانے والوں کو منافقین یہ کہہ کر جہاد سے روکتے تھے کہ جہاد میں انسان قتل کردیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا رد فرمایا کہ قتل کیا جانا بھی اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر سے وابستہ ہے جس طرح طبعی موت مرنے کا تعلق اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر سے متعلق ہے ‘ سو جس طرح جس شخص کی موت مقدر کردی گئی ہو وہ اس سے ٹل نہیں سکتی ‘ اسی طرح جس شخص کا قتل کیا جانا مقدر کردیا گیا ہو وہ اس سے ٹل نہیں سکتا ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا ایک اور جواب دیا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل کیا جانا ناپسندیدہ اور بری بات یا کوئی آفت اور مصیبت نہیں ہے ‘ کیونکہ جو شخص اللہ کی راہ میں قتل کردیا گیا اللہ تعالیٰ اس کو قتل کے بعد زندہ کردیتا ہے اور اس کو انواع و اقسام کی نعمتوں اور ثواب سے نوازتا ہے اور اس کو طرح طرح کے رزق اور خوشیاں عطا فرماتا ہے۔ 

یہ آیت جنگ بدر اور جنگ احد کے شہداء کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ کیونکہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی اس وقت ان ہی دو مشہور جنگوں میں مسلمان شہید ہوئے تھے اور منافق مجاہدوں کو جہاد کرنے سے اس لیے روکتے تھے کہ وہ ان دو جنگوں میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی طرح شہید نہ ہوجائیں۔ 

حیات شہداء کے متعلق احادیث :

امام ابو داؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے بھائی جنگ احد میں شہید ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے پوٹوں میں رکھ دیا ‘ وہ جنت کے دریاؤں میں جاتے ہیں اور جنت کے پھلوں سے کھاتے ہیں اور عرش کے سایہ میں جو سونے کی قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں وہاں پلٹ آتے ہیں ‘ جب انہوں نے کھانے پینے اور آرام کرنے کی پاکیزہ چیزیں حاصل کرلیں تو انہوں نے کہا ہمارے بھائیوں تک ہمارا یہ پیغام کون پہنچائے گا کہ ہم کو جنت میں رزق دیا جا رہا ہے تاکہ وہ جہاد سے بےرغبتی نہ کریں اور جنگ سے سستی نہ کریں ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان تک تمہارا یہ پیغام میں پہنچاؤں گا ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کردیئے گئے ان کو مردہ نہی سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں انہیں ان کے رب کی طرف سے رزق دیا جا رہا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٤١ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) 

امام ترمذی روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجھ سے ملاقات ہوئی ‘ آپ نے مجھ سے فرمایا اے جابر ! کیا ہوا میں تم کو غم زدہ دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے والد جنگ احد میں شہید ہوگئے ‘ اور انہوں نے بچے اور قرض چھوڑا ہے ‘ آپ نے فرمایا کیا میں تم کو یہ خوشخبری نہ دوں کہ اللہ نے ان سے کس طرح ملاقات کی ہے ! میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی سے بلاحجاب بات نہیں کی مگر تمہارے والد سے بلاحجاب بات کی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے میرے بندے تم تمنا کرو میں تم کو عطا کروں گا ‘ تمہارے والد نے کہا اے میرے رب ! تو مجھے زندہ کر اور میں دوبارہ تیری راہ میں قتل کیا جاؤں ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں یہ کہہ چکا ہوں کہ یہ دوبارہ دنیا کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے آپ نے فرمایا پھر یہ آیت نازل ہوئی :

(آیت) ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “۔ 

مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے (آیت) ” ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتابل احیاء عند ربھم “ کی تفسیر کے متعلق دریافت کیا گیا ‘ انہوں نے کہا ہم نے اس آیت کے متعلق دریافت کیا تھا ‘ تو آپ نے ہمیں یہ خبر دی کہ ان کی روحیں سبز پرندوں میں ہیں اور وہ جنت میں جہاں چاہیں کھاتی پیتی ہیں ‘ اور عرش کے نیچے جو قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں ان میں بسیرا کرتی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ ان کی طرف متوجہ ہوا اور فرمایا : تم کچھ اور زیادہ چاہتے ہو تو میں تمہیں اور زیادہ دوں ؟ انہوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہم اور کیا زیادہ چاہیں گے ! ہم جنت میں جہاں سے چاہتے ہیں کھاتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان کی طرف دوبارہ متوجہ ہوا اور فرمایا : اگر تم کچھ اور زیادہ چاہتے ہو تو میں تم کو اور زیادہ دوں ! جب انہوں نے یہ دیکھا کہ ان کو نہیں چھوڑا جاتا تو انہیں نے کہا ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے حتی کہ ہم دنیا کی طرف لوٹ جائیں اور پھر تیری راہ میں دوبارہ قتل کیے جائیں : امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (الجامع الصحیح ج ٥‘ ص ٢٣١‘ حدیث : ٣٠١١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

حیات شہداء کی کیفیت میں فقہاء اسلام کے نظریات : 

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں :

شہداء کی حیات کی کیفیت میں علماء کا اختلاف ہے ‘ اکثر متقدمین نے یہ کہا ہے کہ شہداء کی حیات حقیقی ہے اور جسم اور روح کے ساتھ ہے لیکن ہم اس زندگی میں اس کا ادراک نہیں کرسکتے ‘ ان کا استدلال اس آیت سے ہے (آیت) ” عندربھم یرزقون “۔ انہیں ان کے رب کے پاس رزق دیا جاتا ہے۔ “ نیز صرف روحانی حیات میں شہداء کی کوئی تخصیص نہیں ہے کیونکہ یہ حیات تو عام مسلمانوں بلکہ کفار کو بھی مرنے کے بعد حاصل ہوتی ہے پھر ان کا دوسروں سے کیا امتیاز ہوگا ؟ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ شہداء کی حیات صرف روحانی ہوتی ہے اور ان کو رزق دیا جانا اس کے منافی نہیں ہے کیونکہ حسن سے مروی ہے کہ شہداء اللہ تعالیٰ کے پاس زندہ ہوتے ہیں اور ان کی روحوں کو رزق پیش کیا جاتا ہے جس سے ان کو فرحت اور مسرت حاصل ہوتی ہے ‘ جس طرح آل فرعون پر صبح وشام آگ پیش کی جاتی ہے جس سے ان کو تکلیف اور اذیت ہوتی ہے ‘ سو رزق سے مراد یہ فرحت اور مسرت ہے اور شہداء کا باقی مسلمان روحوں سے صرف حیات میں امتیاز نہیں ہے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ کا جو خصوصی قرب حاصل ہے اور جو ان کو اللہ عزوجل کی بار گاہ میں خصوصی عزت اور وجاہت حاصل ہوگی اس سے ان کا باقی مسلمانوں سے امتیاز ہوگا۔ 

بلخی نے شہداء کی حیات کا مطلقا انکار کیا ہے اور اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ شہداء کو قیامت کے دن زندہ کیا جائے گا اور ان کو اچھی جزا دی جائے گی اور بعض معتزلہ نے یہ کہا ہے کہ حیات سے مراد یہ ہے کہ ان کا ذکر زندہ رہے گا اور دنیا میں ان کی تعریف ہوتی رہے گی ‘ اور اصم سے منقول ہے کہ حیات سے مراد ہدایت اور موت سے مراد گمراہی ہے یعنی یہ نہ کہو کہ شہداء گمراہ ہیں بلکہ وہ ہدایت پر ہیں لیکن یہ تمام اقوال نہایت ضعیف ہیں بلکہ باطل ہیں اور شہداء کی حیات جسمانی کا قول ہی صحیح ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) ‘ قتادہ ‘ مجاہد ‘ حسن ‘ عمروبن عبید ‘ واصل بن عطاء ‘ رمانی اور مفسرین کی ایک جماعت کا یہی مختار ہے۔ 

جو علماء شہداء کی جسمانی حیات کے قائل ہیں ان کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا ان کا وہی جسم زندہ ہوتا ہے جس کو قتل کردیا گیا تھا یا وہ کسی اور جسم کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں ‘ جو علماء اس کے قائل ہیں کہ وہ اسی جسم کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں جس کو قتل کیا گیا تھا وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اس قتل شدہ جسم میں ایسی حیات پیدا کر دے جس کی وجہ سے ان کو احساس اور ادراک حاصل ہوجائے اگرچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اجسام زمین میں مدفون ہیں اور کوئی تصرف نہیں کر رہے اور ان میں زندہ جسموں کی کوئی علامت نہیں پائی جاتی کیونکہ حدیث میں ہے کہ انتہاء بصر تک مومن کی قبر میں وسعت کردی جاتی ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ تم دلہن کی طرح سو جاؤ‘ حالانکہ ہم اس کا مشاہدہ نہیں کرتے کیونکہ برزخ کے امور اور واقعات ہمارے ذہنوں اور ادراک و شعور سے بہت دور ہیں۔ 

جسمانی حیات کے بعد قائلین نے کہا کہ شہداء کی حیات ایک اور جسم کے ساتھ ہوتی ہے جو پرندوں کی صورت پر ہوتا ہے اور ان کی روح اس جسم کے ساتھ متعلق ہوتی ہے ان کی دلیل اس حدیث سے ہے ‘ امام عبدالرزاق ‘ عبداللہ بن کعب بن مالک (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : شہداء کی روحیں سبز پرندوں کی صورت میں جنت کی قندیلوں پر معلق رہتی ہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کو لوٹا دے گا ‘ اگر یہ سوال ہو کہ اس حدیث کے معارض یہ حدیث ہے کہ امام مالک ‘ امام احمد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے حضرت کعب بن مالک (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹوں میں ہوتی ہیں اور جنت کے پھلوں یا درختوں پر معلق رہتی ہیں ‘ اور امام مسلم نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ شہداء کی روحیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہیں اور جنت میں جہاں چاہیں چرتی ہیں۔ پھر عرش کے نیچے قندیلوں میں ٹھہرتی ہیں کیونکہ پرندوں کے پیٹوں میں یا ان کے پوٹوں میں ہونے کا یہی مطلب ہے کہ وہ پرندوں کی صورت میں ہوتی ہیں کیونکہ دیکھنے والا ان کو صرف پرندوں کی صورتوں میں دیکھتا ہے۔ 

بعض امامیہ کا یہ مسلک ہے کہ شہداء اپنے دنیاوی جسم کی صورت پر ایک اور جسم کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں (یعنی جسم مثالی کے ساتھ) حتی کہ اگر ان کو کوئی شخص دیکھ لے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو دیکھا ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ ابو جعفر یونس بن ظبیان سے روایت ہے کہ ایک دن میں ابو عبداللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو انہوں نے کہا مومنین کی ارواح کے متعلق تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ عرش کے نیچے سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہوں گی ‘ ابو عبداللہ نے کہا سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن کا مرتبہ اس سے بلند ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی روح کو سبز پرندے کے پوٹے میں رکھے ‘ اللہ تعالیٰ جب مومن کی روح کو قبض کرلیتا ہے تو وہ اس روح کو ایسے قالب (جسم) میں رکھتا ہے جو اس کے دنیاوی قالب کی مثل ہوتا ہے پھر وہ کھاتے پیتے رہتے ہیں پھر جب ان کے پاس کوئی شخص آتا ہے تو وہ اس کو ان کی اسی دنیاوی صورت میں پہچان لیتا ہے۔ (الفروع من الکافی ج ٣ ص ٢٤٥‘ مطبوعہ طہران) 

اگر اس حدیث میں مومنوں سے مراد شہداء ہوں پھر تو وجہ استدلال بالکل ظاہر ہے اور اگر اس سے مراد عام مومن ہو تو پھر شہید کا حال اس سے بطریق اولی معلوم ہوگا۔ 

(میں کہتا ہوں کہ علامہ آلوسی ایسے سنی عالم کا احادیث اہل سنت کے خلاف امامیہ کی روایت سے استدلال کرنا باعث حیرت ہے۔ سعیدی غفرلہ) 

شہید اپنے دنیاوی جسم کے ساتھ زندہ ہوتا ہے یا جسم مثالی کے ساتھ یا سبز پرندوں کے جسم کے ساتھ ؟ 

علامہ آلوسی لکھتے ہیں میرے نزدیک ہر مرنے والے کے لیے برزخ میں حیات ثابت ہے خواہ وہ شہید ہو یا نہ ہو ‘ اور اس بات سے کوئی مانع نہیں ہے کہ اس دنیاوی بدن کے علاوہ کسی اور برزخی بدن کے ساتھ اس کی روح کا تعلق ہو اور اراوح شہداء کو بھی برزخی ابدان کے ساتھ اس طرح تعلق ہوتا ہے جس سے وہ دوسروں سے ممتاز رہتے ہیں اور علاوہ ازیں ان کو ایسی فرحت اور مسرت حاصل ہوتی ہے اور ایسی نعمتیں اور ثواب حاصل ہوتا ہے جو ان کے مقام کے لائق ہے اور ان برزخی ابدان لطیفہ کی دنیاوی اجسام کثیفہ کے ساتھ مکمل مشابہت ہوتی ہے ‘ اور یہ بھی ممکن ہے کہ احادیث میں شہداء کے لیے جو سبز پرندوں کا ذکر ہے وہ بربناء تشبیہہ ہو ‘ یعنی یہ اجسام برزخیہ اس قدر سرعت کے ساتھ حرکت کرتے ہیں کہ ان کو سبز پرندوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے ‘ اور صورت کا معنی صفت ہو جیسا کہ اس حدیث میں ہے خلق آدم علی صورۃ الرحمان ” آدم صورت رحمان پر پیدا کیا گیا ہے “ یعنی رحمان کی صفت پر پیدا کیا گیا ہے ‘ اور حضرت ابو عبداللہ (رض) نے جو مومن کی روح کے سبز پرندوں کے پوٹوں میں رہنے کو مستبعد قرار دیا وہ اس کے ظاہری معنی کے اعتبار سے تھا اور ہم نے جو بیان کیا ہے کہ سبز پرندوں سے مراد ان کے تیزی سے اڑنے کی صفت ہے اس بناء پر یہ اشکال لازم نہیں آئے گا کہ ایک جسم کے ساتھ دو روحیں متعلق ہوگئیں۔ ایک پرندے کی روح اور ایک شہید کی روح ‘ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ شہید کی روح بنفسہ پرندہ کی صورت اختیار کرلیتی ہے ‘ کیونکہ ارواح انتہائی لطیف ہوتی ہیں اور ان میں کسی جسم کی صورت اختیار کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جیسا کہ حضرت جبرائیل نے حضرت دحیہ کلبی کی شکل اختیار کرلی تھی ‘ رہا یہ کہنا کہ دنیاوی جسم جو بوسیدہ ہوجاتا ہے جس کے اجزاء بکھر جاتے ہیں اور جسم کی ہیئت تبدیل ہوجاتی ہے ‘ شہید کا یہی جسم زندہ رہتا ہے تو ہرچند کہ اس جسم کا زندہ رکھنا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بعید نہیں ہے لیکن اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے اور نہ اس میں شہید کی کوئی فضیلت اور عظمت ہے بلکہ اس کی وجہ سے ضعیف الایمان مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں اور یہ جو بیان کیا جاتا ہے کہ فلاں شخص اتنے سال پہلے شہید ہوا تھا اور اس کے جسم کے زخم اب بھی تروتازہ ہیں اور اس کے زخم سے پٹی ہٹائی تو اسی طرح خون بہہ رہا تھا تو یہ محض قصہ کہانیاں اور خرافات ہیں (روح المعانی ج ٢ ص ٢٢۔ ٢٠‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

شہداء کی حیات جسمانی میں مصنف کا موقف اور بحث ونظر : 

علامہ آلوسی کے عظیم علم و فن کے باوجود ہمیں علامہ آلوسی کی اس رائے سے اختلاف ہے کیونکہ یہ امر تسلسل اور تواتر سے منقول ہے کہ کسی وجہ سے بعض شہداء کی قبریں ایک بڑے عرصہ کے بعد کھل گئیں اور ان کے اجسام اسی طرح تروتازہ پائے گئے اور ان کے زخموں سے اسی طرح خون رس رہا تھا۔ 

ملا علی بن سلطان محمد القاری متوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں : 

امام مالک بیان کرتے ہیں کہ انہیں عبدالرحمن بن عبداللہ بن صعصہ سے یہ خبر پہنچی کہ حضرت عمرو بن الجموع انصاری اور حضرت عبداللہ بن عمرو انصاری (رض) ان دونوں قبروں تک سیلاب کا پانی پہنچ گیا تھا ‘ یہ دونوں جنگ احد میں شہید ہوئے تھے اور ایک قبر میں مدفون تھے ان کی قبر کھودی گئی تاکہ ان کی قبر کی جگہ تبدیل کی جاسکے ‘ جب ان کو قبر سے نکالا گیا تو ان کے جسم بالکل متغیر نہیں ہوئے تھے یوں لگتا تھا جیسے کل فوت ہوئے ہوں ان میں سے ایک زخمی تھا اور دفن کے وقت اس کا ہاتھ اس کے زخم پر تھا اور اس کا ہاتھ اب بھی اسی طرح زخم پر تھا جب اس کا ہاتھ زخم سے ہٹا کر چھوڑا گیا تو وہ پھر اسی طرح زخم پر آگیا۔ غزوہ احد اور اس قبر کو کھودنے کے درمیان چھیالیس سال کا عرصہ تھا۔ (المرقات ج ٤ ص ٧٢‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ موطا امام مالک ص ٤٨٣۔ ٤٨٢‘ طبع لاہور) 

امام مالک کی یہ روایت بعد کی روایتوں پر راجح ہے۔ 

نیزامام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میرے والد کے ساتھ ایک شخص کو دفن کیا گیا ‘ میں اس سے خوش نہیں ہوا حتی کہ میں نے اپنے والد کو اس قبر سے نکال کر علیحدہ دفن کیا ‘ حضرت جابر کہتے ہیں میں نے اپنے والد کو چھ ماہ بعد نکالا تھا اور ان کے کان کے سوا ان کا پورا جسم اسی طرح تروتازہ تھا جیسے ابھی دفن کیا ہو۔ (سنن کبری ج ٤ ص ٥٨۔ ٥٧‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان) 

ایک اور سند سے امام بیہقی روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کے ساتھ ایک شخص کو دفن کیا گیا ‘ اس سے میرے دل میں کچھ بات تھی پھر میں نے چھ ماہ بعد اپنے والد کے جسم کو نکالا تو ان کی ڈاڑھی کے چند بالوں کے سوا جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے تھے باقی پورا جسم اسی طرح تازہ تھا۔ (سنن کبری ج ٤ ص ٥٨۔ ٥٧‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان) 

خیال رہے کہ حضرت جابر کے والد ‘ حضرت عبدللہ غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے : 

ان قوی آثار سے یہ واضح ہوگیا کہ بسا اوقات شہداء کے یہی دنیاوی اجسام باقی رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ان اجسام کو زندہ رکھتا ہے اور گلنے سڑنے سے محفوظ رکھتا ہے اور مرور زمانہ کے باجود یہ اجسام اسی طرح ترو تازہ رہتے ہیں اور ان کے زخم اسی طرح خون آلود رہتے ہیں البتہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ میدان جنگ میں جو مسلمان قتل کیے جاتے ہیں کچھ عرصہ کے بعد ان کے اجسام پھول جاتے ہیں اور ان سے بدبو آنے لگتی ہے ‘ ان کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ مقتولین بدعقیدہ ہوں یا ان کا عقیدہ تو صحیح ہو لیکن ان کی نیت صحیح نہ ہو اور اگر ان کا عقیدہ بھی صحیح ہو اور ان کی نیت بھی شہادت کی ہو تو یہ کہا سکتا ہے کہ ان کی حیات جسمانی اس دنیاوی جسم کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیاوی جسم کے بدلہ ان کو کوئی اور جسم دے دیا ہے جو ان کے دنیاوی جسم کی مثل ہے۔ 

شہداء کی حیات جسمانی کے سلسلہ میں تمام احادیث اور آثار کو سامنے رکھنے کے بعد یہ معلوم ہوتا ہے کہ شہداء کے درجات اور مراتب کے اعتبار سے شہداء کی حیات کی حیات جسمانیہ کے متعدد اعتبار ہوتے ہیں ‘ صحابہ کرام (رض) اور دوسرے مقربین اور صالحین اگر شہید ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اسی جسم کے ساتھ زندہ رکھتا ہے ‘ اور بعض شہداء کو جسم مثالی عطا فرما دیتا ہے کیونکہ جو مسلمان اللہ کی راہ میں ایک چیز خرچ کرے اور وہ جسم قتل کے بعد بوسیدہ اور مٹی ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو اس جیسے کئی اجسام مثالیہ عطا فرما دے ‘ اور بعض شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں اڑتی پھرتی ہیں ‘ جنت کی کیا ریوں میں چرتی ہیں اور عرش کے نیچے قندیلوں میں لٹکتی رہتی ہیں اور اس سلسلہ میں بکثرت احادیث ہیں۔ 

شہادت کے اجر وثواب کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر مسلمانوں کو میرے پیچھے رہنا ناگوار نہ ہوتا کیونکہ میں ان سب کے لیے سواری مہیا نہیں کرسکتا ‘ تو میں اللہ کی راہ میں لڑنے والے ہر لشکر میں شامل ہوتا ‘ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں ‘ پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٠٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص کو یہ پسند نہیں ہوگا کہ مرنے کے بعد اس کے لیے اللہ کے پاس اتنا اجر وثواب ہو جو دنیا ومافیہا کے برابر ہو اور اس کو واپس دنیا میں بھیج دیا جائے سوائے شہید کے کیونکہ جب وہ شہادت کی فضیلت دیکھے گا تو یہ چاہے گا کہ اس کو واپس دنیا میں بھیج دیا جائے اور اس کو دوبارہ (راہ خدا میں) قتل کردیا جائے (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٠٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) 

امام ترمذی نے روایت کیا ہے کہ وہ دس بار اللہ کی راہ میں قتل کیے جانے کی تمنا کرے گا (الجامع الصحیح ج ٤ ص ١٨٧‘ طبع بیروت) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی راہ میں قتل کیا جانا قرض کے سوا ہر چیز کا کفارہ ہے۔ (صحیح مسلم ج ٣ ص ١٥٠٢‘ حدیث : ١٨٨٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

(امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شہید کو قتل کیے جانے سے صرف اتنی تکلیف ہوتی ہے جتنی تم کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ١٩٠‘ طبع بیروت ‘ سنن نسائی ج ٢ ص ٥٩‘ طبع کراچی ‘ سنن ابن ماجہ ج ٢ ص ٧٣٩‘ طبع بیروت ‘ سنن دارمی ج ٢ ص ١٢٥‘ طبع ملتان ‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٧‘ طبع بیروت) 

(امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ ‘ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا شہید اپنے گھر کے ستر افراد کی شفاعت کرے گا۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٣٤١‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی پاکستان لاہور ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ الشریعہ للاجری ص ٣١٢‘ مبطوعہ دارالسلام ریاض) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت مقدام بن معد یکرب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے نزدیک شہید کے چھ خصال (اجور) ہیں ‘ پہلی مرتبہ اس کی مغفرت کردی جائے گی ‘ وہ جنت میں اپنا مقام دیکھ لے گا ‘ وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا ‘ (حشر کے دن) فزع اکبر (سب سے ہولناک ‘ گھبراہٹ اور پریشانی) سے امن میں رہے گا ‘ اس کو یاقوت کا تاج وقار پہنایا جائے گا جس میں دنیا اور مافیہا کی خیر ہوگی ‘ بڑی آنکھوں والی بہتر حوروں سے اس کا نکاح کیا جائے گا وہ اپنے ستر رشتہ داروں کی شفاعت کرے گا۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ١٨٨۔ ١٨٧‘ حدیث : ١٦٦٣ مطبوعہ بیروت) 

امام ابن ماجہ اور امام احمد نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی شہید کی مغفرت کردی جائے گی اور ان میں ایک اور درجہ کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس کو ایمان کا حلہ پہنایا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ ج ٢ ص ٩٣٦‘ حدیث : ٢٧٩٩‘ طبع بیروت ‘ مسند احمد ج ٤ ص ١٣٢٠‘ طبع بیروت) 

امام آجری متوفی ٣٦٠ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں نوخصال کا ذکر ہے۔ (الشریعہ ص ٣١٢‘ مطبوعہ دارالسلام ریاض ١٤١٣ ھ) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو دو قطروں اور دواثروں (نشانوں) سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں ایک آنسو کا وہ قطرہ جو اللہ کے خوف سے گرا ہو ‘ دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اللہ کی راہ میں گرایا گیا ہو ‘ اور رہے دو اثر تو ایک اثر اللہ کی راہ میں ہے اور ایک اثر اللہ کے فرائض میں سے کسی فریضہ کی ادائیگی میں ہے (الجامع الصحیح ج ٤ ص ١٩٠‘ الحدیث : ١٦٦٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں مجھ پر تین قسم کے لوگ پیش کیے گئے جو سب سے پہلے جنت میں جائیں گے، شہید ‘ پاک دامن اور وہ بندہ جس نے اچھا طرح اللہ کی عبادت کی اور اپنے مالکوں کی بھی خیر خواہی کی۔ (جامع ترمذی ج ٤ ص ‘ ١٧٦‘ الحدیث : ١٦٤٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

سہل بن حنیف اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے صدق دل سے اللہ سے شہادت کی دعا کی اللہ تعالیٰ اس کو شہداء کا مرتبہ عطا فرماتا ہے۔ خواہ وہ اپنے بستر پر مرے۔ (جامع ترمذی ج ٤ ص ‘ ١٨٣‘ الحدیث : ١٦٥٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ سنن ابن ماجہ ج ٢ ص ٩٣٤‘ طبع بیروت) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے وہ شخص جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے خون کا رنگ خون کی طرف ہوگا اور اس میں خوشبو مشک کی ہوگی۔ (جامع ترمذی ج ٤ ص ‘ ١٨٤‘ الحدیث : ١٦٥٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ سنن ابن ماجہ ج ٢ ص ٩٣٤‘ طبع بیروت) 

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت کے دروازے تلواروں کے سائے کے نیچے ہیں۔ (جامع ترمذی ج ٤ ص ‘ ١٨٦‘ الحدیث : ١٦٥٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

حکمی شہداء کے متعلق احادیث وآثار : 

امام ابو داؤد متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت بن عتیک (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے پوچھا : تم لوگ کس چیز کو شہادت شمار کرتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ عزوجل کی راہ میں قتل ہونے کو ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قتل فی سبیل اللہ کے سوا شہادت کی سات قسمیں اور ہیں ‘ طاعون میں مرنے والا شہید ہے ‘ نمونیہ میں مرنے والا شہید ہے ‘ پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے ‘ جل کر مرنے والا شہید ہے ‘ کسی چیز کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے اور حاملہ درد زہ میں مبتلا ہو کر مرجائے تو وہ شہید ہے، (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٨٧ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سعید بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے ‘ جو اپنی جان کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا وہ شہید ہے ‘ جو دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا گیا وہ شہید ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٢٢٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں سواری سے گر کر مرا وہ شہید ہے (مسند احمد ج ٢ ص ٤٤١‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن نوفل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے فرمایا : اللہ کی راہ میں (طبعی موت) مرنے والا شہید ہے۔ (المصنف ج ٥ ص ٢٦٨‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص پہاڑ کی چوٹیوں سے گر کر مرجائے اور جس کو درندے کھا جائیں اور جو سمندر میں ڈوب جائے وہ سب اللہ کے نزدیک شہید ہیں۔ (المصنف ج ٥ ص ٢٦٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حالت نفاس میں مرنا شہادت ہے۔ (المصنف ج ٥ ص ٢٧١‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) 

حضرت ایوب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب نے ٹیلہ کی چوٹی سے قریش کے ایک آدمی کو آتے دیکھا ‘ صحابہ نے کہا یہ شخص کتنا طاقت ور ہے ! کاش اس کی طاقت اللہ کے راستہ میں خرچ ہوتی ‘ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا صرف وہی شخص اللہ کے راستہ میں ہے جو قتل کردیا جائے ؟ پھر فرمایا جو شخص اپنے اہل کو سوال سے روکنے کے لیے حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے ‘ اور جو شخص اپنے آپ کو سوال سے روکنے کے لیے حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے ‘ اور جو شخص اپنے آپ کو سوال سے روکنے کے لیے حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستہ میں ہے ‘ البتہ جو شخص مال کی کثرت کی طلب میں نکلے وہ شیطان کے راستہ میں ہے۔ (المصنف ج ٥ ص ١٧٢۔ ٢٧١‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) 

امام ابوبکرعبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

مسروق بیان کرتے ہیں کہ جو مسلمان کسی مصبیت (حادثہ) میں فوت ہوگیا وہ بھی شہید ہے (المصنف ج ٥ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤٠٦) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے صدق دل کے ساتھ اللہ سے شہادت کی دعا کی اللہ اس کو شہید کا اجر عطا فرمائے گا ‘ امام مسلم ‘ امام دارمی ‘ امام ترمذی اور امام ابن ماجہ کی روایت ہیں ہے : خواہ وہ بستر پر فوت ہو۔ (المستدرک ج ٢ ص ٧٧‘ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ سنن دارمی ج ٢ ص ١٢٥‘ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان) 

حافظ الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں : 

عبدالملک بن ہارون بن عترہ اپنے والد سے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھیھپڑوں کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے اور سفر میں مرنے والا شہید ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٥ ص ٣٠١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤٠٢ ھ) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے ایک دن میں پچیس بار یہ دعا کی ” اللہم بارک لی فی الموت وفیما بعد الموت “ اس کو اللہ تعالیٰ شہید کا اجر عطا فرمائے گا۔ (مجمع الزوائد ج ٥ ص ٣٠١‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ ١٤٠٢ ھ) 

امام علی متقی متوفی ٩٧٥ ھ بیان کرتے ہیں : 

حضرت ربیع انصاری بیان کرتے ہیں کہ نیزہ کی ضرب سے مرنا اور درندوں کے کھانے سے مرنا یہ شہادت ہے۔ (کنزالعمال ج ٤ ص ٤١٦‘ مطبوعہ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جو شخص کسی پر عاشق ہوگیا اور اس اس نے اپنے آپ کو حرام کاری سے بچایا وہ شہید ہے۔ (کنزالعمال ج ٤ ص ٤١٦‘ مطبوعہ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) 

امام علی متقی بن حسام الدین ہندی متوفی ٩٧٥ ھ بیان کرتے ہیں : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ بخار (میں مرنا) شہادت ہے۔ (کنزالعمال ج ٤ ص ٤١٦‘ مطبوعہ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) 

حضرت عبداللہ بن جبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ گڑھے میں گر کر مرنا شہادت ہے۔ (کنزالعمال ج ٤ ص ٤١٩‘ مطبوعہ مؤسستہ الرسالۃ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) 

حضرت ابن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص پر ظلم کیا جائے وہ لڑے اور مارا جائے تو وہ شہید ہے (کنزالعمال ج ٤ ص ٤٢٢‘ مطبوعہ بیروت) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں بستر پر مرے وہ شہید ہے ‘ اور سانپ یا بچھو سے ڈسا جانے والا شہید ہے ‘ اچھو سے مرنے والا شہید ہے۔ (کنزالعمال ج ٤ ص ٤٢٢‘ مطبوعہ بیروت) 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کے اوپر گھر گرجائے وہ شہید ہے ‘ جو شخص چھت سے گرے اور ٹانگ یا گردن ٹوٹنے کی وجہ سے مرجائے وہ شہید ہے ‘ جس پر پتھر گرے اور وہ وہ مرجائے وہ شہید ہے ‘ جو عورت اپنے خاوند پر غیرت کرتی ہو وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور اس کے لیے شہید کا اجر ہے ‘ جو اپنے بھائی کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے ‘ جو اپنے پڑوسی کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے وہ شہید ہے ‘ جو شخص نیکی کا حکم دے اور بڑائی سے روکے وہ شہید ہے۔ (کنزالعمال ج ٤ ص ٤٢٥‘ مطبوعہ بیروت) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص سرحد کی حفاظت کرتا ہوا مارا گیا وہ شہید ہے (کنزالعمال ج ٤ ص ٤١٨‘ مطبوعہ بیروت) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو مالک اشعری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اللہ کے راستہ میں نکلا پھر مرگیا یا اس کو قتل کردیا گیا وہ شہید ہے یا جس شخص کو گھوڑے یا اونٹ نے گرا دیا یا جس شخص کو حشرات الارض میں سے کسی نے ڈس لیا یا جو شخص (اللہ کی راہ میں) بستر پر مرگیا یا جس طرح بھی اللہ نے چاہا اس کو موت آگئی وہ شہید ہے اور اس کے لیے جنت ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ‘ ٣٣٨ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور 

١٤٠٥ ھ) 

امام بخاری روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ۔ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طاعون کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : طاعون ایک عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ جس قوم پر چاہتا ہے بھیج دیتا ہے ‘ اور مسلمانوں کے لیے طاعون کو رحمت بنادیا ‘ سو جو مسلمان کسی ایسے شہر میں ہو جس میں طاعون پھیلا ہوا ہو ‘ وہ اسی شہر میں ٹھہرا رہے اور صبر و استقامت کی نیت کر کے اس شہر سے نہ نکلے اور اس پر یقین رکھے کہ جو چیز اللہ نے اس کے لیے مقرر کردی ہے وہ ہو کر رہے گی تو وہ شہید ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٩٧٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص بیماری میں فوت ہوگیا وہ شہید ہے اس کو قبر کے فتنہ سے محفوظ رکھا جائے گا اور اس کو صبح وشام رزق دیا جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ ص ١١٧‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معقل بن یسار (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے صبح اٹھ کر تین مرتبہ پڑھا ” اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم “ اور سورة حشر کی آخری تین آیتوں کو پڑھا تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتوں کو مقرر کردیتا ہے جو شام تک اس کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اگر وہ اس دن فوت ہوگیا تو وہ شہادت کی موت مرے گا اور جس نے شام کو یہ کلمات پڑھے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ (الجامع الصحیح ج ٥ ص ١٨٢‘ مطبوعہ بیروت ‘ سنن دارمی ج ٢ ص ٣٢٩‘ مطبوعہ ملتان ‘ مسند احمد ج ٣ ص ٢١‘ مطبوعہ بیروت) 

امام ابو نعیم اصبہانی متوی ٤٣٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے چاشت کی نماز پڑھی اور ہر ماہ تین روزے رکھے اور سفر اور حضر میں کبھی وتر کو نہیں چھوڑا ‘ اس کے لیے شہید کا اجر لکھا جائے گا۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٤ ص ٣٣٢‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ ‘ الترغیب والترہیب ج ١ ص ٤٠٧‘ مطبوعہ قاہرہ ١٤٠٧ ھ ‘ مجمع الزوائد طبع بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ ج ٢ ص ٢٤١‘ کنز العمال ج ٧ ص ٨١٠۔ ٨٠٩‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ) 

علامہ قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ ‘ امام آجری متوفی ٣٦٠ ھ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس ! اگر تم سے ہو سکے تو ہمیشہ باوضو رہو کیونکہ جب فرشتہ کسی بندہ کی روح قبض کرے اور وہ باوضو ہو تو اس کے لیے شہادت کا اجر لکھ دیا جاتا ہے۔ (التذکرۃ فی احوال الموتی و امور الآخرۃ ص ١٨٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

امام احمد متوفی ٢٤١ ھ سند حسن کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

راشد بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیت المقدس کا خادم شہید ہے اور زکام یا کھانسی میں مرنے والا شہید ہے۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٤٨٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ الترغیب والترہیب مطبوعہ قاہرہ ١٤٠٧ ھ ج ٣ س ٣٣٤) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے میری امت کے فساد (بدعت اور جہالت کے غلبہ) کے وقت میری سنت پر عمل کیا اس کو سو شہیدوں کا اجر ہوگا ‘ امام بیہقی نے اس حدیث کو کتاب الزھد میں روایت کیا ہے۔ (مشکوۃ ص ٣٠ مطبوعہ دہلی ‘ مصابیح السنہ ج ١ ص ١٦٣) 

امام ابن عدی نے اس حدیث کو حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کی سند کے متعلق لکھا ہے اس میں کوئی نقص نہیں ہے (کامل ابن عدی ج ٢ ص ٧٣٩) 

حافظ منذری نے اس کو امام بیہقی اور امام طبرانی کے حوالے سے درج کیا ہے اور اس کی سند پر اعتماد کیا ہے (الترغیب والترہیب ج ١ ص ٨٠) 

امام طبرانی کی روایت میں ایک شہید کا اجر ہے۔ (المعجم الاوسط ج ٦ ص ١٩٧‘ مکتبہ المعارف ریاض ١٤٩٥ ھ) 

نیز یہ حدیث امام ابو نعیم نے بھی روایت کی ہے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ٢٠٠‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ ہیثمی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١ ص ١٧٢) 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ روایت کرتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ہر مومن شہید ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : 

(آیت) ” والذین امنوا باللہ ورسلہ اولئک ھم الصدیقون والشہدآء عندربھم لھم اجرھم ونور ھم (الحدید : ١٩) 

ترجمہ : جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر (کامل) ایمان لائے وہی اللہ کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں اور ان کے رب کے پاس ان کا اجر اور نور ہے۔ (المصنف ج ٥ ص ٢٦٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) 

حکمی شہداء کا خلاصہ : 

مذکور الصدر احادیث میں جو حکمی شہادت کی اقسام بیان کی گئی ہیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے : 

(١) طاعون میں مرنے والا۔ 

(٢) پیٹ کی بیماری میں مرنے والا۔ 

(٣) ڈوبنے والا۔ 

(٤) دب کر مرنے والا۔ 

(٥) نمونیہ میں مرنے والا۔ 

(٦) جل کر مرنے والا۔ 

(٧) دردزہ میں مبتلا ہو کر مرنے والی حاملہ۔ 

(٨) اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا۔ 

(٩) اپنی جان کی حفاظت میں مارا جانے والا۔ 

(١٠) اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا۔ 

(١١) دین کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا۔ 

(١٢) سواری سے گر کر مرنے والا۔ 

(١٣) اللہ کے راستہ میں مرنے والا مثلا علم دین کی طلب میں جانے والا ‘ نماز کو جانے والا ‘ حج کو جانے والا ‘ غرض ہر نیک کام کے لیے جانے والا اس دوران اگر مرجائے۔ 

(١٤) پہاڑ سے گر کر مرنے والا۔ 

(١٥) جس کو درندے کھا جائیں۔ 

(١٦) نفاس میں مرنے والی عورت۔ 

(١٧) اپنے لیے رزق حلال کی طلب کے دوران مرنے والا۔ 

(١٨) اپنے اہل و عیال کے لیے رزق حلال کی طلب کی دوران مرنے والا۔ 

(١٩) کسی مصیبت یا حادثہ میں مرنے والا۔ 

(٢٠) صدق دل سے شہادت کی دعا کرنے والا۔ 

(٢١) پھھپڑوں کی بیماری مثلا دمہ ‘ کھانسی یا تپ دق میں مرنے والا۔ 

(٢٢) سفر میں مرنے والا۔ 

(٢٣) جو شخص ایک دن میں پچیس بار یہ دعا کرے ” اللہم بارک لی فی الموت وفیما بعد الموت “۔ 

(٢٤) نیزہ کی ضرب سے مرنے والا۔ 

(٢٥) جو عاشق پاک دامن رہا۔ 

(٢٦) بخار میں مرنے والا۔ 

(٢٧) سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے مرنے والا۔ 

(٢٨) گڑھے میں گر کر مرنے والا۔ 

(٢٩) ظلما قتل کیا جانے والا۔ 

(٣٠) اپنے حق کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا۔ 

(٣١) اللہ کی راہ میں بستر پر فوت ہونے والا۔ 

(٣٢) جس کو سانپ یا بچھو ڈس لے۔ 

(٣٣) جو اچھو سے مرجائے۔ 

(٣٤) پڑوسی کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے۔ 

(٣٥) جو چھت سے گرے اور ٹانگ یا گردن ٹوٹنے کی وجہ سے مرجائے۔ 

(٣٦) جو پتھر گرنے سے مرجائے۔ 

(٣٧) جو عورت اپنے خاوند پر غیرت کرتی ہوئی مرجائے۔ 

(٣٨) نیکی کا حکم دیتے ہوئے اور برائی سے روکتے ہوئے مرجائے 

(٣٩) اپنے بھائی کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے۔ 

(٤٠) جو شخص اللہ کی راہ میں سواری سے گر جانے سے مرجائے۔ 

(٤١) جو شخص اللہ کی راہ میں سواری سے گر جانے سے مرجائے۔ 

(٤٤) جو شخص کسی بھی بیماری میں فوت ہوا وہ شہید ہے۔ 

(٤٥) صبح وشام سورة حشر کی آخری تین آیتیں پڑھنے والا شہید ہے۔ 

(٤٦) چاشت کی نماز پڑھنے والا ہر ماہ تین روزے رکھنے والا اور وتر قضا نہ کرنے والا شہید ہے۔ 

(٤٧) دائما باوضو رہنے والا شہید ہے۔ 

(٤٨) بیت المقدس کا خادم شہید ہے۔ 

(٤٩) زکام یا کھانسی میں مرنے والا شہید ہے۔ 

(٥٠) غلبہ بدعت کے وقت سنت پر عمل کرنے والا شہید ہے۔

(٥١) ہر مومن کامل شہید ہے۔ 

غسل شہداء کے متعلق مذہب فقہاء : 

جوشخص میدان جنگ میں مارا گیا اور اس کے علاج کا موقع نہیں ملا اس کو غسل نہیں دیا جائے گا اور نہ کفن پہنایا جائے گا بلکہ ان ہی خون آلودہ کپڑوں میں اس کو دفن کردیا جائے گا۔ یہی حکم اس مسلمان کا ہے جس کو ظلما ” قتل “ کیا گیا ‘ اور باقی تمام شہداء کو غسل بھی دیا جائے گا اور کفن بھی پہنایا جائے گا امام شافعی اور امام ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے ‘ اور امام احمد اور داؤد بن علی ظاہری کا مسلک یہ ہے کہ تمام شہداء کو غسل دیا جائے گا جمہور کی دلیل یہ حدیث ہے : 

امام عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابربن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان کو ان کے خونوں میں دفن کرو یعنی جنگ احد کے دن ‘ اور آپ نے ان کو غسل دینے کا حکم نہیں دیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٧٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

شہدا کی نماز جنازہ کے متعلق مذاہب فقہاء : 

اسی طرح شہید کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی ان کی دلیل یہ حدیث ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہداء احد میں سے دو دو کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے پھر فرماتے ان میں سے کس کو زیادہ قرآن یاد ہے پھر جس کی طرف اشارہ کیا جاتا اس کو لحد میں پہلے رکھتے اور فرماتے قیامت کے دن میں ان پر گواہ ہوں گا ‘ اور ان کو ان کے خون کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا ‘ نہ ان کو غسل دیا گیا اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٧٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوحنیفہ کے نزدیک شہید کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ان کی دلیل یہ حدیث ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں : حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن باہر آئے اور شہداء احد پر نماز جنازہ پڑھی۔ الحدیث (صحیح بخاری ج ١ ص ١٧٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

ائمہ ثلاثہ نے حضرت جابر کی حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں شہداء احد کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا ذکر ہے اور امام ابوحنیفہ نے حضرت عقبہ بن عامر (رض) کی حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں شہداء احد پر نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ ایک صحابی کسی چیز کے ثبوت کی خبر دے اور دوسرا اس کی نفی کی خبر دے تو ثبوت کی خبر کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ جو نفی کی خبر دے رہا ہے اس نے اس چیز کے ثبوت کو نہیں دیکھا اور دوسرے نے دیکھا ہے اس لیے اس کی روایت کو ترجیح ہے نیز حضرت عقبہ کی روایت کی تائید اور تقویت ان احادیث سے ہوتی ہے ‘ امام ابوداؤد متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو مالک بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حمزہ (رض) کی نعش لانے کا حکم دیا پھر ان کو رکھا گیا پھر نو اور شہداء لائے گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی نماز جنازہ پڑھی ‘ پھر ان کو اٹھا لیا گیا ‘ اور حضرت حمزہ کو رہنے دیا گیا ‘ پھر نو اور شہیداء کو لا کر رکھا گیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر سات بار نماز پڑھی ‘ حتی کہ آپ نے حضرت حمزہ سمیت ستر شہداء پر نماز پڑھی اور ہر بار ان کے ساتھ حضرت حمزہ (رض) پر بھی نماز پڑھی۔ 

شعبی بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن نبی کریم نے حضرت حمزہ (رض) پر ستر بار نماز پڑھی ‘ پہلے حضرت حمزہ پر نماز پڑھتے پھر دوسرے شہداء کو منگواتے پھر ان پر نماز پڑھتے اور ہر ایک کے ساتھ حضرت حمزہ پر بھی نماز پڑھتے۔ 

عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی ہے۔ (مراسیل ابو داؤد ص ١٨‘ مطبوعہ مطبع ولی محمد اینڈ سنز کراچی) 

حضرت جابر (رض) کے اس دن والد فوت ہوگئے تھے اور وہ شدت غم سے نڈھال تھے اس لیے ہوسکتا ہے کہ ان کو شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھے جانے کا علم نہ ہوسکا ہو یا اس وقت وہ کسی اور کام میں مشغول ہوں اور وہاں پر موجود نہ ہوں یا ان کی روایت کا یہ مطلب ہو کہ شہداء احد پر علی الفور نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہیں رزق دیا جا رہا ہے۔ 

شہداء کے رزق کا بیان : 

اس سے مراد رزق معروف ہے جیسا کہ احادیث میں ہے کہ شہداء کی روحیں جنت میں چرتی پھرتی ہیں۔ بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ شہداء کی روحیں جنت کی خوشبوؤں کو سونگھتی ہیں اور جو نعمتیں ارواح کے لائق ہیں ان سے متمتع ہوتی ہیں اور جب ان روحوں کو ان کے اجسام میں لوٹا دیا جائے گا تو وہ ان تمام نعمتوں سے متمتع ہوں گی جو اللہ تعالیٰ ان کو عطا فرمائے گا۔ 

حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کہ اللہ تعالیٰ نے شہداء کی روحوں کو سبز پرندوں کے پیٹوں میں کردیا ہے وہ جنت کے دریاؤں پر جاتی ہیں اور اس کے پھولوں سے کھاتی ہیں اور عرش کے سائے کے نیچے لٹکی ہوئی سونے کی قندیلوں میں آرام کرتی ہیں۔ (مسند احمد و سنن ابوداؤد) اور قتادہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ شہداء کی روحیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک سبز پرندوں کی طرح ہیں ان کے لیے عرش کے نیچے قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں وہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں چرتی ہیں۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١١٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

شہداء کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے پیٹوں میں ہوتی ہیں اور ان پرندوں کے پیٹ بہ منزلہ سواری ہوتے ہیں اور ان روحوں کا تعلق اپنے اپنے اجسام سے بھی ہوتا ہے۔ 

حافظ شمس الدین ابن قیم حنبلی متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں : 

بعض احادیث میں ہے شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہیں ‘ بعض میں ہیں ان کے پیٹوں میں ہیں ‘ بعض میں ہے کہ سبز پرندوں کی مثل ہیں ‘ ہوسکتا ہے کہ یہ تمام کلمات تشبیہ کے ہوں اور چونکہ شہداء کی روحیں بہت تیزی کے ساتھ جنت میں پھرتی ہیں۔ اس لیے ان کو سبز یا سفید پرندوں کے ساتھ تشبیہ دی ہو۔ اور شہداء کی یہ روحیں جو عرش کے نیچے قندیلوں میں آرام کرتی ہیں ابھی بطور دوام کے جنت میں داخل نہیں ہوئیں اور قیامت کے بعد بہ طور دوام کے جنت میں داخل ہوں گی تو اپنی اصل منازل اور محلات میں قیام کریں گی۔ (کتاب الروح ص ٩٣۔ ٩٢‘ مطبوعہ دارالحدیث)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 169

وَمَاۤ اَصَابَكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰهِ وَلِيَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ‏ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 166

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَصَابَكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِ فَبِاِذۡنِ اللّٰهِ وَلِيَعۡلَمَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَۙ‏

ترجمہ:

دو فریقوں کے مقابلہ کے دن تم پر جو مصیبت آئی تھی تو وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لیے کہ اللہ مومنوں کو متمیز کر دے

القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 166