Surah Al Baqarah Ayat No 187
sulemansubhani نے Thursday، 25 June 2020 کو شائع کیا.

اُحِلَّ لَکُمْ لَیۡلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰی نِسَآئِکُمْؕ ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنۡتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّؕ عَلِمَ اللہُ اَنَّکُمْ کُنۡتُمْ تَخْتَانُوۡنَ اَنۡفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیۡکُمْ وَعَفَا عَنۡکُمْۚ فَالۡـٰٔنَ بٰشِرُوۡہُنَّ وَابْتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللہُ لَکُمْ۪ وَکُلُوۡا وَاشْرَبُوۡا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیۡطُ الۡاَبْیَضُ مِنَ الْخَیۡطِ الۡاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیۡلِۚ وَلَا تُبٰشِرُوۡہُنَّ وَاَنۡتُمْ عٰکِفُوۡنَۙ فِی الْمَسٰجِدِؕ تِلْکَ حُدُوۡدُ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قَالُوۡا نَـعۡبُدُ اَصۡنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عٰكِفِيۡنَ‏ ۞ ترجمہ: انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں سو ہم ان ہی کے لیے جم کر بیٹھے رہتے ہیں۔ صنم کا معنی  الشعراء ۷۱ میں ہے انہوں نے کہا ہم اصنام کی عبادت کرتے ہیں سو ہم […]

مکمل تحریر پڑھیے »


أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ الَّذِىۡ جَعَلۡنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اۨلۡعَاكِفُ فِيۡهِ وَالۡبَادِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّرِدۡ فِيۡهِ بِاِلۡحَـادٍۢ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡهُ مِنۡ عَذَابٍ اَ لِيۡمٍ۞ ترجمہ: بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ اللہ کے راستہ سے روکنے لگے اور اس مسجد حرام […]

مکمل تحریر پڑھیے »


مسجد کے ادب و احترام کے متعلق اہم مسائل :- مسئلہ: مسجد میں ا یسا اکل و شرب ( کھانا پینا ) جس سے اس کی تلوث ہو مطلقاً ناجائز ہے اگرچہ معتکف ہو ۔ ردالمحتار باب الاعتکاف میں ہے ’’ الظاہر ان مثل النوم والاکل والشرب اذا لم یشغل المسجد ولم یلوثہ لان تنظیفۃ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


*درس 035: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مَطْلَبٌ فِي السِّوَاكِ (وَمِنْهَا) السِّوَاكُ لِمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ»، وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ كُلِّ وُضُوءٍ مسواک کا بیان وضو کی دوسری سنت مسواک کرنا ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: […]

مکمل تحریر پڑھیے »