🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

حضرت سیدنا عبدالله بن مسعود رضي الله عنه کا قول ہے :

رسول الله صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے فرمایا

*🌷أَلَا أُخْبِرُكم بمَن يَحْرُمُ على النَّارِ، وبمَن تَحْرُمُ عليه النَّارُ؟ على كلِّ قريبٍ هيِّنٍ سهْلٍ🌷*

📗 ترمذی اورأحمد

فقیر خالد محمود عرض کرتا ہے کہ حدیث پاک کے ابتدائیہ پر قربان ۔

اللہ تبارک و تعالی کے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت و شفقت کا انتہائی انداز اختیار فرمایا ۔

کیا میں تمہیں بتاءوں نہیں

اس قدر نرم ، دھیما ، پیار بھرا لہجہ اختیار فرما کر بات کرے محبوب رب العالمین تو پھر صد ہزار حیف ہے اس پر جو ان پر عمل نہ کرے ، ان کو اپنے کردار کا حصہ نہ بنائے ۔ پھر خصوصا جب کہ نہ زیادہ مشکل ہوں اور نہ ان پر خرچ آئے ۔

ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی آئے چوکھا۔

اس قدر اظہار شفقت سے متوجہ کر کے فرمایا

جو جہنم کی آگ پر حرام کر دیا گیا ہے اور جس پر جہنم کی آگ حرام کر دی گئی ۔

فقیر خالد محمود آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہے کہ فرمایا

حرام کر دیا گیا ہے، حرام کر دی گئی ہے، یہ نہیں فرمایا کہ ہو جائے گی بلکہ پختہ اور ٹھوس انداز میں فرمایا کہ حرام ہو چکا ہے ۔ پھر اس بات کو صرف ایک ہی بار نہیں فرمایا بلکہ جملہ بدل کر دو بار فرمایا ۔ ان کو جہنم پر اور جہنم کو ان پر قطعا حرام ہو جانا بتایا

تو بات یہ بنی کہ جہنم میں جانا تو دور کی بات ہے ، جہنم کے قریب تک کا بھی کوئی امکان نہیں ۔

*کن پر :

*على كُلِّ قَريبٍ*،

دوستو !

اللہ تبارک و تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بشارت کو کتنا عام فرما دیا ۔

كُلِّ _ یعنی ہر کوئی ، امیر غریب چھوٹا بڑا شاہ گدا کالا گورا کوئی بھی ہو

ہو بس !

(1) *قَريبٍ* : لوگوں کے قریب، ان سے دور نہ بھاگنے والا ۔ لوگ اس کے ساتھ آسانی سے مل سکیں ۔

یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اعزہ و احباب و اقارب اس سے بے شک دور ہوتے رہیں ۔ یہ قریب رہتا ہے ۔

(2) *هَيِّنٍ*، سكون و وَقار اور نرمی کے ساتھ لوگوں کے ساتھ برتاؤ رکھنے والا ۔

(3) *سَهْلٍ*: معاملات اور اخلاق میں سہولت والا ، لوگوں میں آسانیاں بانٹنے والا ۔

🌻 فقیر خالد محمود اس معاشرے کا کمزور ترین فرد ہے اور بخوبی آگاہ کہ یہ تینوں عادات اپنانا اتنا آسان نہیں خصوصا اس عہد عجیب و پرآشوب میں

لیکن آپ کو یقین دلاتا ہے کہ ناممکن بھی نہیں ۔ مرد تو ہوتا ہی وہی ہے جو مشکلات سے کھیلے ۔

بدی را بدی سھل باشد جزا

اگر مردی احسن إلى من أساء.

حضرت شیخ سعدی عليه الرحمة کا شعر جو اپنے والد مرحوم و مغفور سے بچپنے میں بھی اکثر سنا ۔

مفتی خالد محمود

کامیابی ، معیار اور حصول ؟

📜کامیابی ، معیار اور حصول ؟

🔦 نت نئی ایجادات اور مختلف مصنوعات کا دور دورہ ہے ۔ ہر چیز کے ساتھ بنانے والی کمپنی کی طرف سے ایک تحریر ملتی ہے جس پر اس چیز کے سارے فنکشن ، استعمال کا طریق کار ، حفاظتی تدابیر اور دیگر ضروری معلومات درج ہوتی ہیں جو ان بنانے والوں کو ہی بہتر طور پر معلوم ہوتی ہیں اور اس چیز کی بقا، کامیابی اور سارے فوائد کا دارومدار انہی ہدایات پر عمل کرنے میں مضمر ہوتا ہے ۔

🎇 یہ ساری کائنات اللہ عزوجل کی بنائی ہوئی ہے اس کی ساخت اور ترکیب کے اجزاء اور ان کے بارے میں معلومات اس سے بڑھ کر کسی اور کو پھر کیسے ہو سکتی ہیں ؟

انسان تو اس کی شاہکار تخلیق ہے

اور وہ خود فرماتا ہے کہ

🕋 میں نے اس انسان کو عبث اور فضول پیدا نہیں کیا ۔

تو اب یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس عز و جل نے اس کی فوز و فلاح اور کامیابی و کامرانی کے حصول کے طریقے نہ بنائے اور بتائے ہوں ۔

اور وہ طریقے اس سے بہتر نہ کوئی جان سکتا اور بتا سکتا ہے ۔

🍁بحیثیت اس کی انسانی مخلوق ہونے کے اپنی کامیابی کے لیئے ہمیں اس کی ہدایات پر ہی عمل کرنا چاہیے تھا

لیکن اس کا ہم پر تو مزید کرم یہ ہے کہ اس نے ہمیں اپنے اوپر ایمان رکھنے کی لازوال بے مثال سعادت عطا فرما رکھی ہے ۔ ہمارا معبود و مسجود بھی وہی ہے اور خالق ومالک اور رب بھی وہی چنانچہ ہم پر تو اس نسبت کی بنا پر اور زیادہ لازم ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی کامیابی و کامرانی اسے ہی سمجھیں جو وہ فرمائے اوراس کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہونے کے لئے اس گفتار و کردار کو اپنائیں جو وہ بتاتا ہے

🕌 اس کی ہی تعلیمات کی روشنی میں مساجد کے موذنین دن میں 5 مرتبہ

📢حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ

( آؤ کامیابی کی طرف ) کی صدا لگا کر ہمارے اذہان میں تازہ کرتے ہیں کہ کامیابی کیا ہے اور کہاں ہے ؟ ۔

اگر یہ فرمان صرف ایک بار بھی ہوتا تو ہمارا یقین وعمل یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم اپنی کامیابی کو اسی میں ہی مضمر سمجھتے لیکن یہ دل نواز صدائیں تو ہمیں دن میں پانچ مرتبہ سنائی دیتی ہیں جس سے بخوبی پتہ چل جاتا ہے کہ ہماری کامیابی میں اس اذان اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کا کتنا بڑا حصہ ہے ۔ اسی لیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع فرما دیتے

🌹اللہ تبارک وتعالی نے اپنے مقدس کلام میں کامیابی کا معیار بڑا واضح طور پر بیان فرما دیا ہے

🌹 فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ الْنَارِ وَاُدْخِلُ الْجَنَّۃَفَقَدْ فَازَ

(سورۃ آل عمران آیت 185)

"پس جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا، بے شک وہی کامیاب ہو گیا "

اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ کامیابی ان امور اور اطوار کو اختیار کرنے میں ہے جو جہنم سے دور اور جنت سے قریب کرتے ہیں ۔

اللہ تعالی نے تو فرما دیا ہے

🔖وَھَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنَ

(سورۃالبلدآیت10)

ہم نے انسان کے سامنے کامیابی اور نا کامی دونوں راستے کھول کر رکھ دیے ہیں

🔖 فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ

(سورۃالکھف آیت 29)

اب انسان کے اپنے اختیار میں ہے جو چاہے انہیں مان کر کامیاب ہوجائے اور جو چاہے نہ مان کر ناکام و نامراد اور جہنم کا ایندھن بن جائے ۔

🔆اللہ تبارک تعالی ہمیں ، ہمارے والدین، اساتذہ، مشائخ ، اہل خانہ و اعزہ و احباب و کل امت مسلمہ کو جہنم کی آگ سے محفوظ رہنے اور جنت میں داخل ہونے کی توفیقات عطاء فرمائے ۔🤲

آمین آمین آمین

اللہ تبارک و تعالی سے اس کا فضل مانگتے رہنا چاہئے کہ دیگر نعمتوں کی طرح کامیابی اور کامرانی اس کے فضل کی ہی مرہون منت ہے

🌲 کامیابی و کامرانی کے لیئے جس طرح ایک مخلص اور مکمل ہادی اور رہنما کا ہونا ضروری ہے اسی طرح کامیابی کی خواہش رکھنے والے کے لئے چند اور صلاحیتوں کا ہونا بھی لازم ہے اور اللہ تعالی نے قرآن مجید میں وہ بھی بتائی ہیں

مثلا دانائی , بینائی, سماعت ، زندہ اور سلیم دل ، وغیرہا ۔

اس پوری کائنات کا خالق اور رب فرماتا ہے کہ جو لوگ اس کے فرمائے ہوئے ، عطا کئے ہوئے اصول و ضوابط کی روشنی میں زندگی بسر نہیں کرتے کامیاب و بامراد ہونا تو دور کی بات وہ بہرے ہیں, گونگے ہیں, اندھے ہیں ,بلکہ دلوں کے اندھے ہیں عقل سے بھی بے بہرہ ہیں بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ اور بد تر ہیں ۔

🔖صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ( سورة البقرة 18 )

🔖صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ( سورة البقرة 171)

🔖لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ

( سورة الاعراف 179)

🔖أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلاً

( سورة الفرقان:44 )

🔖فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ

( سورة الحج 46 )

 بینا ، دانا ، زندہ دل انسان کامیابی کے لئے وقت کی قدروقیمت کو بخوبی جانتا ہے لیکن اللہ کا فضل عمیم کہ کتاب ہدایت قرآن کریم میں ارشاد فرمایا

فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ (7)وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (8 سورة الانشراح )

حضرات مفسرین کی تفسیر کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ایک کام سے فارغ ہوئے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں بلکہ اور زیادہ لگن مزید جوش اور جذبے سے کسی اور کام میں لگ جائیں

یہاں یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حکم میں "نصب "کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنی ہے "کام کی جسم کو چور چور کردینے والی تھکاوٹ” .

کام دین کا ہو یا دنیا کا اس میں کچھ دیر مصروف رہنے سے ایک سستی سی پیدا ہو جاتی ہے ۔

سبحان اللہ

انسانی نفسیات سے ہم آہنگ کتنی خوبصورت تعلیم دی بے۔۔

بے دلی ، پریشان فکری سے کام کرنے میں ثمرات بہت کم ہو جاتے ہیں ۔ تو انسان اس سے کسی قدر فارغ ہو کر کسی اور کام میں لگ جائے تو نئی دلچسپی نئی توجہ نئی اٹھان کی وجہ سے اب کیا جانے والا کام زیادہ ثمرات دے گا

اور إلى ربك فارغب

فرما کر یہ بتا دیا کہ جس بھی کام میں لگو اس میں تمہاری ساری رغبت اور دلچسپی تمہارے رب کی طرف ہونی چاہیے اور یہ تو ظاہر ہے کہ رب کی رغبت والے کام کس طرح کے با برکت اور نتیجہ خیز ہوں گے ۔

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تبارک تعالی کے دو انعامات ایسے ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کے اندر سخت گھاٹے میں مبتلا ہیں

1 صحت

2 فارغ وقت

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد ہے کہ مجھے یہ دیکھنا سخت ناگوار گزرتا ہے کہ میں تم میں سے کسی کو خالی اور بیکار دیکھوں نہ تو دنیا کے کسی کام میں مصروف ہے اور نہ ہی دین کے

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما دو کشتی کرتے ہوئے مردوں کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا ہمیں اپنے فارغ وقت میں اس کا حکم نہیں دیا گیا

🌻 فراغت اور ٹال مٹول کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دونوں ہی کامیابی کے دشمن ہیں ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جناب ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک نصیحت ہے ” اپنے آپ کو بہت بچاؤ اس رویہ سے کہ اچھا تھوڑی دیر بعد میں کرلیتا ہوں ۔ اس لیئے کہ تم ! آج اس وقت تم ہو اس کے بعد ( تو سمجھ لے کے تم نہیں ہو گے) اور اگر اللہ کے فضل سے کل کی مہلت مل گئی تو اس میں بھی یہی سوچ رکھنا ۔ کل کر لونگا اگر تم نے اپنے آج سے نکال دیا تو تجھے کسی کمی کوتاہی رہ جانے کی ندامت نہیں ہوگی ۔

🌟 زندگی میں ناکامی اور آس امید کے ٹوٹنے اور بہت کچھ کھو جانے والے واقعات بھی ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی ان کو دل پر لے کر پڑ جائے تو کبھی بھی کامیاب انسان نہیں بن سکتا بلکہ سبق سیکھ کر نئے جذبے اور نئے ولولے سے دوبارہ میدان عمل میں کودنا ضروری ہوتا ہے

غزوہ احد میں شروع کی شاندار فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پسپائی ، ناکامی اور بہت زیادہ جانی نقصان مسلمانوں کو برداشت کرنا پڑا۔

اس موقع پر بھی اللہ نے فرمایا

🌹 وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ( سورة ال عمران 139 )

اور نہ کمزوری دکھاؤ اور نہ غم کرو تم ہی بلند و بالا ہو جب تک کہ تم مومن ہو

وھن بدن کی کمزوری کو بولتے ہیں اور حزن دل میں پیدا ہونے والی ناامیدی ، افسوس اور غم کو اور یہ دونوں کیفیتیں انسان کو بزدل ، درماندہ اور ناکارہ سا بنا دیتی ہیں چنانچہ اللہ تبارک وتعالی نے فورا یہ اصلاح فرمائی کہ یہ وقتی نقصان ہے اپنی کمزوریوں پر قابو پاؤ ۔ دل میں یقین پیدا کرو ۔ میرے اس فرمان ” تم ہی سب سے اعلی ہو ” کو اپنا طغری اور تمغہ سمجھ کر نئے جذبے ، نئی حکمت عملی اور نئی تیاری سے کمربستہ ہو جاؤ ۔

یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں….

کیا آپ بینا و دانا ہیں ؟

کسوٹی حاضر خدمت ہے ۔

۞ أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ ( سورة الرعد 19)

تو کیا جو جانتا ہے کہ جوکچھ آپ پر آپ کے رب کی جناب سے نازل کیا گیا ہے وہ بالکل حق ہے ، وہ اس جیسا ہے جو ( اس نازل شدہ پر ایمان و عمل نہ کر کے ) اندھا ہو ۔ بات تو یہی ہے کہ نصیحت اہل عقل ہی پکڑتے ہیں ۔

یہاں اللہ تعالی نے سبھی لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے

(1) جو اللہ کے رسول پر نازل فرمودہ کو حق جانتے ہیں اور حق جاننے کا مطلب اس پر عمل اور اس کے مطابق اپنی کردار سازی ہے ۔

(2) جو ایسے نہیں اور اللہ نے انہیں اندھا قرار دیا ہے ۔

اس نصیحت کو فرمانے کے بعد ، بتایا کہ جو اس نصیحت کو قبول کرے وہ عقل والا ہے

یعنی جو اس پر کان نہ دھرے وہ لاکھ عقلمند بنا پھرے ، خالق کائنات کی جناب میں بے عقل بھی ہے ، اندھا تو پہلے ہی بیان ہو چکا ۔

فقیر خالد محمود عرض گذار ہے کہ اپنے رب کے ارشاد پر ضرور غور فرمائیں ۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ اندھا تو ہے لیکن ہے عقل والا تو نابینائی کی وجہ سے جو کمی پیدا ہوئی وہ کسی حد تک عقل کی وجہ سے پوری ہو گئی جیسا کہ مشاہدہ بھی ہے لیکن اگر دونوں ہی نہ ہوں تو !!!

اب لگے ہاتھوں یہ غور بھی فرما لیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے کیا نازل فرمایا ہے ، وہ کہاں ہے اور کن کے پاس اور ان کے بارے میں آپ کا رویہ کیا ہے ؟ آپ اس میں کہاں ہیں ؟

اور

اللہ تبارک و تعالی نے اگلی آیات میں ان اہل عقل کی درج ذیل نشانیاں بیان فرمائی ہیں ۔

اللہ تعالی کے ساتھ اپنے ( روز الست کے ) عھد کو پورا کرتے ہیں

اپنے پختہ قول و قرار کو توڑتے نہیں ( آیت نمبر 20)

اللہ نے جسے ملانے کا حکم دیا ہے اسے ملا کر ہی رکھتے ہیں

اپنے رب کی خشیت رکھتے ہیں

اور بڑے حساب خوفزدہ رہتے ہیں ( آیت نمبر 21)

جو اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر رکھتے ہیں

نماز قائم رکھتے ہیں

ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں

برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں ۔ ( آیت نمبر 22)

اللہ تبارک و تعالی سے دعاء ہے کہ وہ یہ صفات اعلی ترین پیمانے پر ہمارے اندر پیدا فرما دے ۔

آمین آمین یا رب العالمین…

(مفتی خالد محمود صاحب)

حضرت عدی بن حاتم کا قبول اسلام اور اس میں موجود اسباق

📜حضرت عدی بن حاتم کا قبول اسلام اور اس میں موجود اسباق ۔

مفتی خالد محمود کراچی

☀ اپنے والد حاتم طائی کے بعد اپنے قبیلہ کے رئیس بنے۔یہ قبیلہ اجاَ اور سلمی دو پہاڑوں کے درمیان رہتا تھا ۔ آج کل یہ علاقہ منطقہ حائل میں آتا ہے

🌹جناب رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے ربيع الآخر 9 ھ میں حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجهه الكريم کی سربراہی میں ایک لشکر اس علاقہ کی طرف بھیجا۔

اس وقت جناب عدی اپنے علاقہ کی بجائے شام کے قریب چلے گئے اور جانے کی وجہ وہ خود ہی بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کا معزز و شریف آدمی بلکہ رئیس تھا، دین پر بھی تھا، مال غنیمت کا چوتھائی لے لیتا۔

سو پورے عرب میں آپ سے زیادہ مجھے کسی اور نفرت نہ تھی۔

( فقیر خالد محمود کہتا ہے کہ آپ صلی الله عليه وسلم کی دعوت میں عدی کو اپنی یہ چاروں شانیں بظاہر مفقود ہوتی نظر آرہی تھیں لیکن نبی تو اپنے دامن سے وابستہ ہونے والوں کی عزتوں میں اضافہ کرتے ہیں ۔ چنانچہ بعد میں جب کبھی مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے ۔ نبی اکرم صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے ایک معزز سردار کا پروٹوکول آپ کو دیا ۔

فقیر مزید عرض گزار ہے کہ صرف اس ایک واقعہ سے عقائد اہل سنت اور اصلاح معاشرہ کی کثیر تعداد کی تعلیمات ہیں لیکن فقیر اختصار کی بھر پور کوشش کر کے صرف انتہائی ضروری باتیں لکھے گا ۔

علاقہ کونسا ہے؟ مدینہ سے کتنا دور ہے ؟

آپ صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم کبھی وہاں تشریف نہیں لے گئے

اور عدی لشکر کی آمد سے قبل راہِ فرار اختیار کر چکے ہیں خواہ صرف دعوت نبی کا سن کر یا لشکر کی آمد کا سن کر۔دونوں باتیں اکھٹی ہو سکتی ہیں )

● اس غزوہ میں جو لوگ قید کرکے مدینہ منورہ میں لائے گئےان میں جناب عدی کی بہن سفانۃ بھی تھیں جو کہ بہت خوبیوں والی اور پر اثر گفتگو کرنے والی خاتون تھیں

مسجد نبویؐ کے دروازے کے پاس ان سب کو رکھا گیا تھا ۔

جناب رسول اللہ صلی الله عليه وسلم کو جاتے دیکھا تو کھڑے ہو کر بولیں

"هلك الوالد وغاب الوافد فامنن علي، من الله عليك”

والد فوت ہو چکے ہیں، رابطہ کر کے آنے والا بھاگ گیا ہے ۔ آپ مجھ پر احسان کریں ۔ اللہ آپ پر احسان کرے گا ۔

( دوستو ! جملے تو 4 ہیں لیکن ہیں کمال کے ۔ اپنے دل کی ساری خواہش بہترین مؤثر پس منظر کے ساتھ بیان کر دی اور رہائی کی درخواست بھی انتہائی باوقار اور مخاطب کو محبوب ترین انداز و الفاظ میں کر دی )

اللّہ تبارک وتعالیٰ کے رسول نے پوچھا "تیرا وافد ہے کون؟ عرض کیا:عدی بن حاتم۔

رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا ‘ الله اور اس کے رسول سے بھاگنے والا ؟

(دوستو ! عدی بھاگے تو رسول کی وجہ سے تھے لیکن یہاں رسول اللہ نے الله کو اپنے ساتھ جمع کر کے ذکر فرمایاہے )

سفانہ کہتی ہیں کہ رسول الله سن کر خاموش چل دیئے ۔اگلے دن بھی ایساہی ہوا۔تیسرا دن آیا۔میں مایوس ہو چکی تھی الله کے رسول گزرے تو علی نے جو پیچھے آ رہے تھے اشارہ کیا کہ بات کرو۔ میں نے اپنی بات کی تو آپ نے فرمایا جلدی نہ کرو ۔کوئی بااعتماد ذریعہ بنتاہے تو مجھے بتانا۔بھیج دونگا

چند روز کے بعد میں نے کہا یارسول اللہ بااعتماد قافلہ جو مجھے پہنچا دےگا ،آگیا ہے، الله کے رسول نے مجھے لباس، سواری اور راستہ کا سب خرچ دیا۔میں عدی کے پاس گئی۔

اس بہن کی باتیں سن کر عدی مدینہ کی طرف چل دیئے، مدینہ منورہ میں مسجد نبویؐ پہنچے۔نبی اکرم صلی الله عليه وسلم وہاں صحابہ کے ساتھ موجود تھے ۔کہتے ہیں کہ میں نے سلام کیا ۔آپ نے جواب دے کر پوچھا آپ کون صاحب ہیں؟ میں نے کہا: عدی بن حاتم

آپ مجھے لے کر گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔لوگ کہہ رہے تھے عدی بن حاتم آگیا، عدی بن حاتم آگیا

مجھے لئے ہوئے رسول اللہ صلی الله عليه وسلم اپنے گھر کی راہ پر تھے کہ آپ کو ایک کمزور اور بڑی عمر کی بی اماں نے روک لیا اور کافی دیر تک اپنی ضروریات بتاتی رہیں

میں نے دل میں کہا ۔واللہ یہ بادشاہ تو نہیں

گھر پہنچنے تو کھجور کی چھال بھرا ہوا چمڑے کا ایک ہی بچھونا تھا ۔وہ آپ نے مجھے دے کر کہا کہ اس پہ بیٹھ جاؤ ۔میں نے کہا آپ تشریف رکھیں ۔آپ صلی الله عليه وسلم نے انکار کر کے مجھے اس پر بٹھایا اور خود زمین پہ بیٹھ گئے، میں نے دل میں کہا :واللہ یہ بادشاہی طریقہ کار نہیں

آپ نے فرمایا ۔

کیا تم رکوسی نہیں ؟

(دوستو !

رکوسیت بطور دین پہلے کبھی آپ نے سنا ہے؟ یہ اس وقت بھی یہودیت اور عیسائیت کاملغوبہ قسم کا تقریبا ناپید مذہب تھا ۔ اب ذرا سوچئے ۔

دین کا تعلق دل کے ساتھ ہے سو معروف مذاہب سے تعلق نہ رکھنے والا اور کوئی ظاہری مذہبی شناخت نہ رکھنے والا ، عیسائی معاشرے میں پیدا ہونے والا ، پروان چڑھنے والا ، اپنے علاقے میں کسی سےاس حقیقت حال کو نہ سننے والا اتنی دور ایک بندے کے منہ سے یہ الفاظ سنے گا تو حیران نہیں ہوگا تو کیا ہو گا ) ۔

فرمایا ۔تم مرباع(مال غنیمت میں سے چوتھائی) لے اڑتے ہو۔

میں نے کہا کہ جی ہاں ۔

فرمایا ۔تیرے دین میں تو یہ حلال نہیں ۔

میں نے کہا جی بالکل ۔

عدی کہتے ہیں وعرفت انه نبي مرسل يعلم مايجهل.

مجھے خوب یقین ہو گیا کہ آپ بھیجے ہوئے نبی ہیں جو وہ کچھ جانتے ہیں دوسروں کو جس کا پتہ نہیں ہوتا۔

(دوستو ! ذہن نشین کر لو عدی، نبی کی شان اور تعریف کیا بتا رہے ہیں۔)

صاحب البدایة و النھایة نے مندرجہ بالا الفاظ سیرت ابن اسحاق کے حوالے سے ذکر کیئے ہیں ۔اب مسند امام احمد بن حنبل کے درج ذیل الفاظ پڑھئے ۔

: امام ابن کثیر البدایہ میں لکھتے ہیں کہ

امام احمد نے اپنی مسند میں یہ گفتگو پوری سند کے ساتھ یوں بیان کی ہے کہ

رسول اللہ صلی الله عليه وسلم نے فرمایا۔ اے عدی! مسلمان ہو جاؤ سلامتی والے ہو جاؤ گے ۔

تین بار آپ نے فرمایا تو اب کے میں نے کہا میں ایک دین کا پیرو ہوں تو آپ نے فرمایا ۔میں تیرے دین کو تجھ سے زیادہ جانتا ہوں ۔میں نے کہا ۔دین میرا اور آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ۔

فرمایا! کیا تم رکوسی نہیں ؟

اور چوتھائی مال غنیمت لے نہیں لیتے ۔

میں نے کہا ۔جی ہاں۔

فرمایا ۔اور یہ تیرے دین میں حلال نہیں ۔

میں نے کہا جی بالکل

عدی کہتے ہیں کہ اس گفتگو نے مجھے آپ کے حق میں کافی متواضع بنا دیا۔

فرمایا مجھے یہ بھی علم ہے کہ تمہیں اسلام قبول کرنے سے روکنے والی تیری یہ سوچ ہے کہ کمزور لوگ جنہیں اہل عرب نے قبول نہیں کیا، وہ اس دین کے پیروکار ہیں ۔

کیا تمہیں حیرۃ کا پتہ ہے؟

میں نے کہا ۔سنا ہے ۔دیکھا نہیں،

فرمایا اس اسلام کو الله تعالیٰ ایسا تمام فرمائے گا کہ حیرۃ سےایک اونٹنی سوار عورت کسی سے پناہ مانگے بغیر چلے گی مکہ اور مدینہ آئے گی ۔راستہ میں سوائے اللہ کے خوف اور بھیڑیئے کے بکری چرانےکے اور کوئی خوف اسے نہ ہو گا ۔

عدی کہتے ہیں کہ میں نے دل میں سوچا کہ قبیلہ "طی”کے وہ لٹیرے جنھوں نے شہروں میں آگ لگا رکھی ہے وہ کدھر ہونگے

پھر فرمایا۔تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو کسری بن ہرمز کے خزاے فتح کرے گا ۔

میں نے بطور تعجب پوچھا کسری بن ہرمز کے ؟؟

فرمایا۔ہاں کسری۔ابن ہرمز کے ۔

اور تیری زندگی لمبی ہوئی تو تو دیکھے گا کہ بندہ مٹھی بھر سونا، مٹھی بھر چاندی لئیےگلیوں میں، اس زکوۃ کو قبول کرنے والے کی تلاش میں پھر رہا ہوگا لیکن کوئی نہیں ملے گا ۔

عدی کہتے ہیں کہ اسی موقع پر میں نے اللہ کے رسول کو یہ بھی فرماتے سنا۔کہ تم میں سے کچھ ایک اللہ کی جناب میں اس طرح حاضر ہوں گے کہ اللہ اور ان کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا ۔ دائیں دیکھیں گے تو جھنم اور بائیں دیکھیں گے تو صرف جھنم۔

لوگو "جھنم سے بچو اگر چہ کھجورکے ٹکڑے سے ہو اور کھجور کا ٹکڑا بھی نہ ملے تو اچھی بات سے "

عدی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سےحیرۃ سے آئی بڑھیا کوطواف کرتےدیکھا۔

کسری کے خزانے فتح کرنے والوں میں میں خود بھی شامل تھا ۔اور تیسری بات بھی تم لوگ جلدہی دیکھ لو گے کہ اللہ کے رسول کا فرمان ہے۔ ہو کر رہے گا ۔

[ بیہقی نے لکھا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے عہد خلافت میں یہ تیسری پیشین گوئی بھی پوری ہو چکی ۔ ]

فقیر خالد محمود کہتا ہے کہ صاحب البدایة و النھایة نے بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی،مسنداحمد ،سیرت ابن اسحاق کے حوالوں سے یہ تمام واقعات ذکر کئیے ہیں . دیگر کتب میں بھی ہیں ۔ان کو بار بارپڑھیں ۔ عقائد اہلسنت کی تائیدات حاصل کریں ۔

اپنے مذھب اسلام کو اپنے اوپر اور معاشرہ میں نافذ کرنے کی کوششیں کریں تاکہ یہ برکتیں پھر سے نصیب ہو جائیں ۔اچھی باتوں ، عمدہ اخلاق (اسی موقع پر رسول الله صلی الله عليه وسلم کے حوالے سے اخلاق حسنہ کے متعلق حضرت علیؓ کی گفتگو ہے ۔وہ الگ عرض کرونگا ان شاء الله تعالیٰ) اور صدقات و خیرات کے ذریعے جھنم سے بچنے کی تدبیریں آج اختیار کر لیں ۔