فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اس وقت کیا حال ہوگا جب ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑے تو پھر یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آئیں کہ ہمارا تو ماسوا نیکی اور باہمی موافقت کے اور کوئی ارادہ نہ تھا

القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

اٹھانہ پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

اٹھانہ پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

محمد مجیب الرحمٰن علیمیؔ مصباحیؔ ،بی،اے،عربی ۔

یہ بات کہی جاتی ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو ہمیشہ دہراتی ہے، اسلام شریعت وطریقت کا پیکر مجسم ہے ،تاریخ شاہد ہے کہ اسلام نے جہاں انسان کو ظاہری طور پر عابد وزاہد بنایا وہیں اس نے ظاہر وباطن میں موافقت کا بھی پیغام دیا ،کیوں کہ جب انسان کا باطن منور وتاباں ہوتاہے تو وہ چلتا پھرتا حق وانصاف ہوتا ہے اور پورا وجود ہی رشد و ہدایت کا منار تصور کیا جانے لگتا ہے ،جب اس کی جلوت وخلوت،سفر وحضر یکساں ہوتا ہے تو خدا کی مخلوق اس پر اعتماد کرنے لگتی ہے ،پھر کیا ہے؟ اس کا بولنا حق کا بولنا ،اس کا چلنا حق کا چلنا ،بلکہ اس کے شب وروز حق کے لئے ہوتے ہیں ،یاد کیجئے جب ہندوستان میں صوفیائے کرام اور مقربان بارگاہ الٰہی کی جماعت شورش انسانی کے جلو میں اٹھی تھی اور قرآنی اصول پر عمل کرتے ہوئے حکمت وموعظت سے سارے ہندوستان کو اپناا سیر بنا لیا تھا ،آج بھی پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ غیر منقسم ہندوستان میں اسلام کی اشاعت ان ہی نفوس قدسیہ وذوات عالیہ کی رہین منت ہے ،یہ جدھر گئے اپنا بنا لیا اور جس رخ پر ان کے مقدس قدم اٹھے اُدھر کارواں بنتا چلا گیا ۔

آخر ایساکیوں ہوا؟وہ کونسی طاقت تھی کہ ان صوفیاء نے فقیری اور درویشی کی زندگی گزارتے ہوئے بھی شہنشاہوں کو بھی اپنے قدموں میں بلا لیا ۔حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس اگر کوئی طاقت تھی تو حق تعالیٰ کی عطا کردہ وہ طاقت وقوت تھی جس کے حصول کے لئے انہوں نے نبیٔ عربی اکی اطاعت وپیروی ،خواہشات نفسانی کی سرکوبی اور اپنے ظاہر وباطن کی صفائی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہ کیا تھا،یہ وہی حضرات تھے جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ شریعت وطریقت سے عبارت تھا ،وہ عالم شریعت ہونے کے ساتھ ہی صوفیٔ کامل اور شریعت وطریقت کے جامع تھے ،مگر افسوس کہ ایک دور ایسا بھی آیا ان صوفیہ کے کارناموں کو عملی طور پر صاف بھلا دیا گیا ،اور اسلامی تعلیم وتربیت کا عمل دو حصوں میں منقسم ہو گیا،تعلیم کے لئے مدارس و جامعات کا قیام عمل میں آیا اور تربیت کے لئے خانقاہوں کو خاص کردیا۔ میدان عمل کے اس انقسام کا یہ نتیجہ ہوا کہ تعلیم ،تربیت سے خالی ہوگئی ،اور تربیت تعلیم سے عاری رہی ،جبکہ یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ بے تربیت کی تعلیم انسان کو تاجر اور انسانیت کو تجارت اور تعلیم سے خالی تربیت گمراہ اور تنگ نظر بنادیتی ہے،چنانچہ ایسا ہی ہوا مدارس میں شریعت اسلامی کی تعلیم رہی مگر اسلامی روح رخصت ہوگئی ،خانقاہوں میں سلوک وتصوف کے نام پر ضلالت وگمرہی ،بدعات وخرافات نے اپنا ڈیرا ڈال دیا ،ایک طرف فارغین مدارس اپنے علم ،جبۂ ودستار کا غرہ لئے شیطان کی نیابت میں مصروف رہے تو دوسری طرف نام نہاد صوفیوں نے علم لدنی کا دعویٰ کرکے شریعت سے آزاد ہوکر گمرہی وبد مذہبی کے فروغ میں اہم رول ادا کیا۔

ہماری پیش کردہ یہ باتیں تلخ تو ضرور ہیں مگر حقیقت کے عین مطابق ،اگر آج کے علما وفضلا اپنے ظاہر وباطن کا جائزہ لیں اور اپنے شب وروز کا محاسبہ کریں تو ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ہمارے ظاہر میں کتنا فساد ہے اور باطن میں کس قدر آلودگی،بغض وحسد کے منبع ہم،عیب جوئی اور غیبت کے ترک سے پرہیز ہم کو ،ذکر وفکر اسلامی سے عاری ہم، فتنہ وفساد کی آماجگاہ ہماری ذات،گفتار کے غازی اور کردار کے قلاش ہم ،استثناء ات سے ہمیں انکار نہیں،کیوں کہ رحمت خداوندی کے دروازے بندگان الٰہی پر بند نہیں ہوئے ہیں۔اس ناگفتہ بہ صورت حال سے بچنے کے لئے ضروری اور فوری اقدامات کئے جانے ناگزیر ہیں ،چنانچہ اس خصوص میں چند تجاویز درج ذیل ہیں۔

اس وقت ایک طرف اسلام کے ازلی دشمن یہود ونصاریٰ کے تجویز کردہ طریقوں پر عمل کرتے ہوئے آل سعود نجدی وغیر مقلدین پوری توجہ اور مکمل انتظام کے ساتھ مسلمانوں کو اسلامی روح سے دور کرنے کے لئے تصوف اسلام کے استیصال اور اس کو غیر اسلامی قرار دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ،تو دوسری طرف امن وآشتی سے محروم انسانیت روحانی سکون کی تلاش میں سر گرداں نظر آرہی ہے،بلکہ علماوفضلا نے بھی اب روحانیت کی کھوج شروع کردی ہے ،ایسے حالات میں ضروری ہے کہ مدارس اسلامیہ میں باضابطہ کتب تصوف کو داخل نصاب کیا جائے ،طلبہ کو عمدہ تربیت دے کر تصوف اور اہل تصوف سے اچھی طرح واقف کرایا جائے ،اگر تصوف کو نصاب میں داخل کرنے کی گنجائش نہ ہوتو روحانی تربیت کے لئے چھ مہینہ یا ایک سال کا کورس متعین کیا جائے تاکہ علما وفضلا عالم انسانیت کے لئے فیض رساں ثابت ہوں،مگر یاد رہے کہ مدارس کے طلبہ محتاج تربیت مربیوں کی نگرانی اور اسلامی روح سے عاری اسلامی تعلیم کے حصول میں نو سالہ زندگی گزارنے کے بعد مقصد زندگی اور تقاضۂ انسانیت سے عملا کافی دور جا چکے ہوتے ہیں ۔اس لئے ان کی عملی وروحانی تربیت کا کام اب آسان نہیں رہ جاتا ہے،لہٰذا اس مقصد میں کامیابی کے حصو ل کے لئے ہر پہلو پر نہایت باریک بینی سے غور وفکر کرنے کی اشد ضرورت ہے ،دوسری طرف خانقاہوں میں رہنے والے پیران طریقت سے گزارش ہے کہ وہ اپنے خلفاء ومریدین کو پاس شریعت رکھنے کی سخت تلقین کرتے رہیں،جاہل اوربے عمل عالم کو خلافت دینے سے پرہیز کریں ،اگر چہ جاہل عابد شب زندہ دار ،اور عالم آسمان علم وفضل کا درخشندہ ستارہ ہو ، تربیت دیئے بغیر مرید وخلیفہ بنانے سے گریز کریں ،اور جو خلافت وجانشینی کا مستحق ہو ،خواہ وہ کوئی بھی ہو ،اس کا انتخاب کریں اسلام اور اسلامی روح جو شریعت پر عمل اور تزکیۂ نفس کا نام ہے کی فکر کریں ،کیوں کہ پیری مریدی اور تصوف کا مقصد صرف اور صرف عملی اور روحانی تربیت اور تزکیۂ باطن ہے ،پیران طریقت بعض اوقات اپنی لاعلمی یابے توجہی کی بنا پربعض ایسے لوگوں کو اپنا خلیفہ بنادیتے ہیں ،جو پنج گانہ بھی ادا نہیں کرتے ،بلکہ کچھ تو وہ ہیں جو پنج وقتہ نماز کے طریقوں سے بھی واقفیت نہیں رکھتے ،اور کچھ ایسے سند یافتہ علما مسند خلافت پر براجمان ہیں جن کو پیر ومرید کے حقوق وآداب سے بھی آشنائی نہیں ہوتی، چہ جائے کہ انہیں تصوف اور اہل تصوف کے آداب اور ان کے رموز واسرار سے واقفیت ہو ،کچھ بھی ہو مگر وہ لوگوں میں صوفیٔ کامل کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں ،انہیں شاید اس حقیقت سے آشنائی نہیں کہ تصوف کوئی ایسا لباس نہیں جسے پہن کر لوگوں کے درمیان فخر وبرتری کا اظہار کیا جائے ،اور شہرت وناموری حاصل کی جائے ،اور نہ ہی اقربا پروری ،حصول دولت وثروت ،شہوت کی غلامی ،چادرگاگر کے رسوم کی ادائیگی ،فاتحہ ونیاز کے اہتمام ،عورتوں اور مردوں کے اجتماع کا مجموعی طور پر تصوف سے کوئی علاقہ ہے ،بے شک ان میں سے بعض چیزیں جائز ہیں ،مگر مقصد بیعت وخلافت اور تصوف نہیں ،جبکہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تصوف ان ہی اعمال کی ادائیگی میں محصور ہے،بلکہ تصوف دین خالص اور اللہ کے لئے نیت کو خالص کرنے کا نام ہے ،جو معبود برحق کی توحید ،معرفت الٰہی ،اسرار دین سے آگاہی ،صبر ورجا ،توکل اور استغنا اور اخلاص کے ذریعہ باطن کو آباد کرنے اور ظاہر کو عبادت وریاضت ،ورع وتقویٰ،اور تمام اقوال وافعال میں رسول اللہا کی پیروی کے ذریعہ آراستہ کرنے کے اصول پر قائم ہے،یہ وہی طریقہ ہے جس پر نبیٔ کریم ا اور آپ کے صحابہ قائم تھے ،اور جس کی تعبیر حدیث پاک میں اسلام ،ایمان،اور احسان سے کی گئی ہے،گویا یہ دین کے تین شعبے ہیں۔

چنانچہ ضروری ہے کہ انسان کا ظاہر شریعت کے مطابق ہو اور باطن طریقت سے ہم آہنگ اور صوفی ہونے کی دعوے داری کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ شب تاریک کی زلف سیاہ دراز ہونے اور خلق خدا کے آغوش خواب میں چلی جانے کے بعد اپنے رب سے مناجات ، نفس کے ساتھ جہاد،ایمان ومعرفت کاملہ کے حصول کی راہ میں جہد مسلسل،اور ظاہر وباطن کی صفائی میں کوشش کرنے والا ہو،نہ کہ شب دیجور زلف دراز لہرانے کے بعد عیش وعشرت اندوزی اور خواہشات وشہوات کے سمندر میں ڈوب جانے والا ہو،کیوں کہ جو شخص صرف باطنی خوبی کا مالک ہو وہ زندیق ہے ،وہ شریعت وحکمت کو چھوڑنے والا ہے اور جو شخص صرف ظاہری ہو وہ فاسق ہے،اس کے لئے ایسی صورت میں اس کی عبادتیں سچائی اور خلوص سے خالی ہوںگی،اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’وذرواظاھرالاثم وباطنہ‘‘اور تم ظاہری گناہ چھوڑ دو اور باطنی کو بھی ،یعنی ہر گناہ کو چھوڑ دو خواہ وہ جلی ہو یا خفی ،دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’وقلیل من عبادی الشکور‘‘اور میرے بندوں میں سے بہت کم بندے شکر گزار ہیں،کچھ ہی لوگ ایسے ہیں جو مکمل تقویٰ کے ساتھ ظاہری وباطنی گناہ سے دور رہتے ہوئے تمام گناہوں سے مکمل احتراز کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں منہمک رہتے ہیں،اپنے ظاہری حواس اور معنوی قوتوں کے ساتھ رسول اللہا کی پیروی کے حریص ہوتے ہیں ،یہی وہ لوگ ہیں جن کو صوفیہ کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے،جن کے لئے ان کے رب کے پاس اونچا مقام ہے ،اور ایسے صوفیہ کی جماعت قرن اول سے لیکر آج تک چلی آئی ہے ، یہ الگ بات ہے کہ کسی دور میں اس جماعت کا اظہار ہوا اور کبھی پردئہ خفا میں رہی ،اور ایسا امت کی رشد وہدایت کی ضرورتوں کے لحاظ سے ہوا ، یہ جماعت آج بھی موجود ہے،اور قیامت تک کوئی بھی عہد اس سے خالی نہیں رہے گا ۔اسی کی طرف ڈاکٹر اقبال نے اشارہ کرتے ہوئے کہاہے ؎

اٹھانہ پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

وہی آب وہی گل ایران وہی تبریز ہے ساقی

مگر افسوس عوام تو عوام خواص میں سے اکثر یہ گمان کر بیٹھے ہیں کہ ایسی جماعت تاریخ کا حصہ بن چکی ہے ،اور مستقبل میں ان کے پائے جانے کی کوئی امید نہیں ہے ،شاید انہوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ رحمت الٰہی کے دروازے اب بند ہوچکے ہیں ،بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ تبریز سے آج کا دور بھی خالی نہیں ہے،یہ الگ بات ہے کہ رومی اور شبلی وعطار کوئی بننا نہیں چاہتا ہے،فقط ظاہر کو سرمایۂ افتخار اور مایۂ حیات سمجھ لیا گیا ہے،ہاں اتنا ضرور ہے کہ جس طرح فقہا ومحدثین کی جماعتوں میں جادئہ حق سے منحرف حضرات بھی رہے ہیں ،اور آج کے اس پر آشوب دور میں انہی لوگوں کی کثرت بھی ہے ،لیکن اس سے یہ مطلب نکالنا بالکل درست نہیں کہ سرے سے کوئی صاحب کمال موجود ہی نہیں ہے۔

یہ بات شروع میں کہی گئی تھی کہ تاریخ ہمیشہ اپنے آپ کو دہراتی ہے ،چنانچہ ایک بار پھر دنیا کو صوفیائے کرام کی تربیت کی ضرورت ہے ،اور صحیح سمت میں تیزی کے ساتھ پیش قدمی کی گئی تو آنے والا دور تصوف کا ہی ہوگا ،جس کے عالمی سطح پر آثار بھی نظر آرہے ہیں ؎

رنگ گردوں کا ذرادیکھ تو عنابی ہے

یہ نکلتے ہوئے سورج کی افق تابی ہے

ایسے حالات میں خانقاہ ومدارس دونوں کی ذمہ داریاں بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہیں،پیران کرام کے لئے ضروری ہے کہ وہ شمس تبریز بن کر آسمان رشد وہدایت پر چمکیں اور علماء ظواہر کے لئے ضروری ہے کہ وہ رومی بن کرکراہتی انسانیت کے لئے چین وقرار کا سامان بن جائیں اور اندھیریوں میں بھٹکتی انسانیت کو نورانی ڈگر پر ڈال کر اپنے رب کی بارگاہ میں اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے یوںگویا ہوں ؎

میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی

اور اس موڑ پر اگر کسی سستی وکاہلی سے کام لیا گیا تو تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ ہمیں شرمندگی کا سامنا ہوگا اور تصوف کی تاریخ کا ہر قاری ہماری غلطیوں کا احساس کرکے پکار اٹھے گا ؎

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِيۡعُوۡا فَرِيۡقًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ يَرُدُّوۡكُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ كٰفِرِيۡنَ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 100

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِيۡعُوۡا فَرِيۡقًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ يَرُدُّوۡكُمۡ بَعۡدَ اِيۡمَانِكُمۡ كٰفِرِيۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں گے۔ (آل عمران ١٠٠)

شاس بن قیس کا مسلمانوں میں عداوت کی آگ بھڑکانے کی ناکام سعی کرنا : 

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کے شان نزول کے متعلق اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں کہ شاس بن قیس ایک بوڑھا یہودی تھا اور کٹر کافر تھا ‘ مسلمانوں سے سخت بغض رکھتا تھا ‘ ایک دن اس نے دیکھا کہ اوس اور خزرج کے کچھ لوگ آپس میں بیٹھے ہوئے الفت اور محبت سے باتیں کر رہے ہیں ‘ وہ ان کی الفت اور محبت کو دیکھ کر غصہ سے جل بھن گیا ‘ اس نے ایک یہودی کو وہاں بٹھا لیا اور اس کے سامنے پرانے قصے چھیڑدیئے اور جنگ بعاث کے متعلق اشعار پڑھنے لگا ‘ اس اوس اور خزرج میں زبردست جنگ ہوئی تھی ‘ اور اوس فتحیاب ہوئے تھے ‘ اس نے اس راکھ میں سے چنگاریاں نکال آگ بھڑکا دی اور اوس اور خزرج ایک دوسرے خلاف باتیں کرنے لگے اور ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار نکل آئے قریب تھا کہ خون کی ندیاں بہہ جاتیں ‘ دونوں فریق اپنے اپنے حمایتیوں کو بلا چکے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر پہنچ گئی آپ چند مہاجرین صحابہ کے ساتھ آئے آپ نے فرمایا : اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرو ! کیا تم زمانہ جاہلیت کی طرف چیخ و پکار کر رہے ہو ! حالانکہ تمہارے پاس اللہ کی ہدایت آچکی ہے اور اللہ تمہیں دولت اسلام سے مشرف کرچکا ہے اور تمہاری گردنوں سے جاہلیت کا جوا اتارپھینکا ہے ‘ اور تم کو کفر سے نجات دے دی ہے اور تم کو ایک دوسرے کا بھائی بنادیا ہے ‘ کیا تم پچھلی جاہلیت اور کفر کی طرف لوٹ رہے ہو ؟ تب مسلمانوں کو احساس ہوا کہ یہ شیطان کا وسوسہ تھا ‘ اور ان کے دشمنوں کا مکر تھا ‘ انہوں نے ہتھیار پھینک دیئے اور رونے لگے ‘ اوس اور خزرج نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ساتھ اطاعت اور موافقت کرتے ہوئے چلے گئے اور اللہ کے دشمن شاس بن قیس نے جو ان کے دلوں میں عداوت کی آگ بھڑکائی تھی اس کو اللہ تعالیٰ نے بجھا دیا تب اللہ تعالیٰ نے شاس بن قیس کی اس ناکام سعی کے متعلق یہ آیت نازل کی ‘ اے ایمان والو ! اگر تم اہل کتاب کے ایک گروہ کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں تمہارے ایمان لانے کے بعد کفر کی طرف لوٹا دیں گے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ١٦‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

صحابہ کرام اور بعد کے مسلمانوں کے لیے دین پر استقامت کے ذرائع : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو مسلمانوں کے گمراہ کرنے سے منع فرمایا تھا اور اس پر عذاب کی وعیدسنائی تھی ‘ اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اہل کتاب کے بہکانے ‘ ورغلانے اور ان کے گمراہ کرنے خبردار رہیں اور ان کے بھڑکانے میں نہ آجائیں ورنہ وہ ان کو کفر کی طرف لوٹا دیں گے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 100