درس 033: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 033: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مَطْلَبٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ

(وَمِنْهَا): الِاسْتِنْجَاءُ بِالْمَاءِ لِمَا رُوِيَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ عَلِيٌّ، وَمُعَاوِيَةُ، وَابْنُ عُمَرَ، وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ بَعْدَ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ، حَتَّى قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَعَلْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ دَوَاءً، وَطَهُورًا

استنجا کا بیان:

پانی سے استنجا کرنا( بھی) سنت ہے، اس لئے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت سے مروی ہے جن میں حضرت علی، حضرت معاویہ، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم شامل ہیں، یہ سب ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے بھی استنجا کیا کرتے تھے، حتی کہ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے ایسا کیا اور اس طریقہ کو دوا اور طہارت کا ذریعہ پایا۔

وَعَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ النَّاسَ بِالِاسْتِنْجَاءِ بالماءِ بَعْد الإستنجاءِ بِالْأَحْجَارِ، وَيَقُولُ: إنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ يَبْعَرُ بَعْرًا، وَأَنْتُمْ تَثْلِطُونَ ثَلْطًا فَأَتْبِعُوا الْحِجَارَةَ الْمَاءَوَهُوَ كَانَ مِنْ الْآدَابِ فِي عَصْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اور حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ لوگوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے بھی استنجا کیا کریں اور فرماتے تم سے پہلے کے لوگ مینگنیوں کی طرح (سخت) فضلہ خارج کرتے تھےاور تم لوگ پتلا فضلہ خارج کرتے ہو، تو ڈھیلوں کے بعد پانی سے استنجا کیا کرو۔

اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں یہ طریقہ آداب میں سے شمارہوتا تھا۔

وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، وَغَسَلَ مَقْعَدَهُ بِالْمَاءِ ثَلَاثًا»، وَلَمَّا نَزَلَ قَوْله تَعَالَى {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108] فِي أَهْلِ قِبَا سَأَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَأْنِهِمْ، فَقَالُوا: إنَّا نُتْبِعُ الْحِجَارَةَ الْمَاءَ.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اوراپنے مقعد شریف (بیٹھنے کی جگہ) کا پانی سے تین بار استنجافرمایا۔

پھر جب اہلِ قبا کے حق یہ آیت نازل ہوئی: "اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے” (التوبہ، 108) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا، تو انہوں نے کہا: ہم ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں۔

ثُمَّ صَارَ بَعْدَ عَصْرِهِ مِنْ السُّنَنِ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ كَالتَّرَاوِيحِ

پھررسول اللہ ﷺ کے بعد پانی سے استنجا کرنا صحابہ کرام کے اجماع کے سبب سنت قرار پایا، جیسے نمازِتروایح کی جماعت۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*پانی سے استنجا*

جیسا کہ ہم نے پچھلے دروس میں ذکر کیا کہ نجاست سے پاکیزگی حاصل کرنا اصل مقصد ہے، جس کا سب سے بہترین ذریعہ پانی ہے۔۔لیکن نجاست تھوڑی لگی ہو تو اس کے لئے ڈھیلے کو بھی روا رکھا گیا ہے تاکہ نجاست کو پونچھ کر طہارت حاصل کی جاسکے۔

*استنجا ڈھیلے سے یا پانی سے۔۔؟*

نبی کریمﷺسے دونوں طریقے ثابت ہیں، آپ نے ڈھیلوں سے بھی استنجا فرمایا ہے اور پانی سے بھی استنجا فرمایا ہے۔

مسند امام احمد، ترمذی، نسائی وغیرہم میں حدیث موجود ہے کہ حضرت عائشہ نے عورتوں کو فرمایا کہ اپنے خاوندوں کو کہو کہ وہ قضاء حاجت اور پیشاب کا اثر پانی سے دھولیا کریں کیونکہ نبی کریمﷺ بھی یونہی کرتے تھے۔

ابوداؤد اور ابن ماجہ کی حدیث ہے فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے لئے پانی لیکر کھڑے ہوگئے، بعد فراغت حضور ﷺ نے فرمایا: عمر یہ کس لئے؟ عرض کیا: تاکہ آپ اس سے طہارت حاصل کرسکیں، ارشادفرمایا: مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں تو پانی سے طہارت حاصل کروں۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طرزِعمل بھی مختلف تھا۔

*بعض صحابہ کرام ڈھیلے اور پانی دونوں کا استعمال فرماتے جیسے اہلِ قبا کے لوگ۔۔ علامہ عینی نے لکھا ہے کہ انصار صحابہ کرام ڈھیلوں اور پانی دونوں کا استعمال کیا کرتے تھے اور انہی کے حق میں سورہ توبہ کی آیت 108 نازل ہوئی۔

*بعض صرف ڈھیلوں کا استعمال فرماتے جیسے حضرت عمر فاروق۔

*بعض صرف پانی کا استعمال فرماتے جیسے حضرت عائشہ۔

رضی اللہ عنہم اجمعین۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ استنجا کے تین درجات ہیں:

*پہلادرجہ:* پہلے ڈھیلے سے استنجا کیا جائے پھر پانی سے استنجا کیا جائے، یعنی ڈھیلے اور پانی دونوں کوجمع کرلیا جائے، یہ طریقہ مسجدِ قبا کے نمازی صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طریقہ تھا جس کی اللہ تبارک و تعالی نے تعریف فرمائی اور ان کے حق میں آیت نازل فرمائی جو اوپر مذکور ہے۔ لہذا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح)

*دوسرا درجہ:* اس کے بعد پانی سے استنجا افضل ہے، اسلئے کہ اس سے بہت اچھے انداز پر طہارت حاصل ہوجاتی ہے۔ (الاختیارلتعلیل المختار)

*تیسرا درجہ:* سب سے آخری درجہ ڈھیلوں کا ہے، یہ رسول اللہ ﷺ سے منقول اور بہت سے صحابہ کرام کا اسی پر عمل تھا۔

*پانی سے استنجا سنت میں شامل ہے یا آداب میں۔۔؟*

مطالعہ کے دوران فقہاء کرام کی مختلف رائے میرے سامنے آئیں، بعض فقہاء نے ڈھیلے کو دائمی سنت (راتبہ) شمار کیا اور پانی کو ادب اور فضیلت والی چیز قراردیا ہے جیسے علامہ سرخسی نے المبسوط میں لکھا ہے۔

بعض نے مزید اضافہ کیا کہ صحابہ کرام کے زمانے میں ڈھیلوں سے استنجا سنت شمار کیا جاتا اور پانی آداب میں شمار کیا جاتا لیکن ہمارے زمانے میں پانی سے استنجا کرنا ہی سنت ہے، اسی کی طرف امام حسن بصری نے اشارہ کرتے ہوئے عقلی توجیہ بھی بیان کی کہ صحابہ کرام کے زمانے میں لوگوں کا فضلہ مینگنیوں کی طرح سخت ہوتا تھا لہذا انہیں پانی کی اتنی حاجت نہیں ہوتی اور کوئی کرلے تو آداب کا حصہ شمار ہوتی لیکن تم لوگوں کا فضلہ (غذا کی وجہ سے) پتلا ہوتا ہے لہذا پانی استعمال کرنا ہی سنت ہے۔۔ علامہ کاسانی نے اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کلام فرمایا ہے۔

لیکن صحیح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ پانی سے استنجا ہر زمانے میں سنت رہا ہے کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں۔ (رد المحتاروغیرہ)

نفسِ سنت پانی یا ڈھیلے کسی سے بھی ادا ہوجائے گی۔ (فتاوی رضویہ)

ہاں فضیلت کے درجات ہم نے دلائل کے ساتھ اوپر ذکر کردئے ہیں۔

علامہ کاسانی نے ایک اور عمدہ توضیح پیش کردی اور پانی کو آداب میں شمار کرنے والوں کو جواب بھی دے دیا کہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ڈھیلوں سے استنجا رائج تھا اور پانی سے استنجا آداب سے شمار ہوتا تھا مگر بعد میں صحابہ کرام علیہم الرضوان پانی کے ساتھ استنجا پر عمل پیرا ہوگئے تو ان کے اجماع کے سبب اسے بھی سنت کا درجہ حاصل ہوگیا، جیسے تراویح کی جماعت کا مسئلہ تھا۔

*ابو محمد عارفین القادری*

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 85

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞

ترجمہ:

جو اچھی شفاعت کرے گا اس کے لیے (بھی) اس میں سے حصہ ہے ‘ اور جو بری سفارش کرے گا اس کے لئے (بھی) اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جو اچھی شفاعت کرے گا اس کے لیے (بھی) اس میں سے حصہ ہے ‘ اور جو بری سفارش کرے گا اس کے لئے (بھی) اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (النساء : ٨٥) 

شفاعت کا معنی اور اس کی اقسام : 

شفاعت لفظ شفع سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے ایک انسان دوسرے ضرورت مند انسان کے ساتھ مل جائے اور دونوں مل کر اس ضرورت کے متعلق سوال کریں ‘ اور یہاں پر مراد ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں اور جو مسلمان آپ کی ترغیب سے جہاد کریں گے تو ان کی اس نیکی میں آپ کا بھی حصہ ہوگا ‘ یہ شفاعت حسنہ ہے ‘ اور شفاعت سیئہ یہ ہے کہ منافق اپنے بعض منافقوں کو جہاد میں شریک نہ کرنے کے لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شفاعت کرتے تھے کہ ان کو فلاں فلاں عذر ہے اور اس شفاعت سے جہاد میں شریک نہ ہونے کا گناہ دونوں کو ہوگا ان کو بھی جو شریک نہیں ہوئے اور ان کو بھی جنہوں نے ان کے لیے اس کی سفارش کی۔ 

اسی طرح کسی بھی نیک کام میں سفارش کرنا اچھی شفاعت ہے مثلا کسی طالب علم کو دینی مدرسہ میں داخل کرنے کے لیے سفارش کرنا ‘ کسی ضرورت مند عالم دین کے لیے کسی تونگر سے سفارش کرنا کہ ان کی ضرورت کی کتابیں ان کو خرید کردیں ‘ مسجد اور دینی مدرسہ بنوانے کے لیے سفارش کرنا ‘ کسی مجاہد کے لیے اسلحہ کے حصول میں سفارش کرنا ‘ کسی غریب لڑکی کی شادی کے لیے رشتہ یا جہیز کی سفارش کرنا ‘ کسی بےروزگار کے لیے ملازمت کی سفارش کرنا بہ شرطی کہ وہ وہ اس ملازمت کا اہل ہو ‘ اللہ کے حضور کسی مسلمان کے لیے دعا کرنا اس کی مغفرت چاہنا ‘ یہ سب اچھی سفارشیں ہیں ‘ اور بری سفارش یہ ہے کہ شراب خانہ کے پر مٹ کے لیے سفارش کی جائے ‘ سینما بنانے کے لیے کسی سے سفارش کی جائے ‘ آلات موسیقی کی دکان کے لیے کسی سے سفارش کی جائے ‘ بینک اور انشورنس کمپنی میں ملازمت کے لیے سفارش کی جائے یا کسی نااہل اور غیر مستحق کے لیے سفارش کی جائے۔ 

نیکی کے کاموں میں شفاعت کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب کوئی سائل آتا یا آپ سے کوئی شخص حاجت طلب کرتا تو آپ فرماتے تم شفاعت کرو تمہیں اجر دیا جائے گا ‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ فرمائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٤٣٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٦٢٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٢‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٥٦‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٨١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٤٠٠‘ ٤٠٣‘ ٤٠٩‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٧‘ صحیح ابن حبان ج ٢ ص ٥٣١) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص لایا گیا جو آپ سے سواری طلب کرتا تھا ‘ آپ کے پاس اس وقت کوئی سواری نہیں تھی۔ آپ نے اس کی کسی اور شخص کی طرف رہنمائی کی اس شخص نے اس کو سواری دے دی ‘ اس سائل نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر اس کی خبر دی ‘ آپ نے فرمایا نیکی کی رہنمائی کرنے والا بھی نیکی کرنے والے کی مثل ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٦٩‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٩٣‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٢٩‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ١٧٠٨٣‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ١٤٢) 

کسی برے کام کے حصول کے لیے شفاعت کی ممانعت پر اس آیت میں دلیل ہے : 

(آیت) ” ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان “۔ (المائدہ : ٢) 

ترجمہ : اور گناہ اور سرکشی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ‘۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 85

فَقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَـفۡسَكَ‌ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ عَسَے اللّٰهُ اَنۡ يَّكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّاَشَدُّ تَـنۡكِيۡلًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 84

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَـفۡسَكَ‌ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ عَسَے اللّٰهُ اَنۡ يَّكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّاَشَدُّ تَـنۡكِيۡلًا‏ ۞

ترجمہ:

سو آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے آپ کو صرف آپ کی ذات کا مکلف کیا جائے گا ‘ اور آپ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی ‘ عنقریب اللہ کافروں کے زور کو روک دے گا اور اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے اور اس کا عذاب بہت شدید ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : سو آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے آپ کو صرف آپ کی ذات کا مکلف کیا جائے گا۔ (النساء : ٨٤) 

شان نزول اور ربط آیات : 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی بہت زیادہ ترغیب دی تھی ‘ اور ان لوگوں کی مذمت کی تھی جو جہاد سے روکتے تھے اور منع کرتے تھے۔ اس آیت میں فرمایا آپ ان لوگوں کے منع کرنے کی طرف توجہ اور التفات نہ کیجئے بلکہ آپ خود اللہ کی راہ میں قتال کیجئے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ شجاع اور بہادر ہیں۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہاد کا حکم دیا ہے خواہ آپ کو تنہا کافروں سے جہاد کے لیے جانا پڑے ‘ ابو سفیان نے بدر الصغری میں آپ سے مقابلہ کا وعدہ کیا تھا ‘ بعض مسلمانوں نے وہاں جانا ناپسند کیا ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ آپ نے کسی کے منع کرنے کی طرف توجہ نہیں کی اور ستر مسلمانوں کے ساتھ آپ روانہ ہوئے اگر کوئی نہ جاتا تو آپ تنہا روانہ ہوجاتے۔ 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ شجاع اور دلیر تھے اور قتال کے احوال کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے ‘ کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتال کا مکلف کیا ہے۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیجئے ‘ سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو جہاد کی طرف راغب کرنے کے لیے بہت ارشادات فرمائے جن کو ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا عنقریب اللہ کافروں کے زور کو روک دے گا ‘ اللہ کے کلام میں جب بھی عسی (عنقریب) کا لفظ آئے تو وہ یقین کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں یہ پیش گوئی ہے کہ عنقریب کفار مغلوب ہوں گے اور مسلمان غالب ہوں گے ‘ سو بعد میں ایسا ہی ہوا اور تمام جزیر عرب مسلمانوں کے تسلط میں آگیا اور جب تک مسلمان احکام شرعیہ سے تغافل ‘ عیاشی اور باہمی تفرقہ میں مبتلا نہیں ہوئے اور تبلیغ اسلام کے لیے دنیا میں جہاد کرتے رہے تمام ممالک ان کے زیر تسلط آتے رہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 84

آپ استنجاء کرتے پھر ہاتھ شریف زمین پر رگڑتے

حدیث نمبر :344

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو میں آپ کی خدمت میں چھاگل یاپیالہ میں پانی لاتا ۱؎ آپ استنجاء کرتے پھر ہاتھ شریف زمین پر رگڑتے ۲؎ پھر میں دوسرا برتن لاتا تو وضو فرماتے۳؎ اسے ابوداؤد اور دارمی نے روایت کیا،نسائی نےبمعنی۔

شرح

۱؎ اس سےمعلوم ہوا کہ نبی امتی سے،پیرمرید سے،استاد شاگرد سے،باپ اپنے بیٹے سے خدمت لے سکتا ہے۔اور ان لوگوں کا رضاء کارانہ طور پر بزرگوں کی خدمت کرنا سعادت مندی ہے۔

۲؎ تاکہ مٹی سے ہاتھ مانجھ کر بو دفع کردی جائے لہذا استنجے کے بعدصابون وغیرہ سے ہاتھ دھونا سنت سے ثابت ہے۔خیال رہے کہ حضور کا یہ فعل شریف بھی امت کے لیے ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات میں بدبو نہ تھی حتی کہ ایک بی بی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب دھوکہ میں پی لیا جیسا کہ اس کے موقع پر ذکر کیا جائے گا۔ان شاءاﷲ!

۳؎ اکثر نہ کہ ہمیشہ،جیساکہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔چونکہ برتن چھوٹا تھا استنجے کے بعد وضو کے لائق پانی نہیں بچتا تھا،اس لیے دوسرے برتن سے وضو فرماتے تھے ورنہ استنجے کے بچے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے۔

وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ ۚ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 83

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا جَآءَهُمۡ اَمۡرٌ مِّنَ الۡاَمۡنِ اَوِ الۡخَـوۡفِ اَذَاعُوۡا بِهٖ‌ ۚ وَلَوۡ رَدُّوۡهُ اِلَى الرَّسُوۡلِ وَاِلٰٓى اُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡهُمۡ لَعَلِمَهُ الَّذِيۡنَ يَسۡتَنۡۢبِطُوۡنَهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَاتَّبَعۡتُمُ الشَّيۡطٰنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو یہ اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس خبر کو رسول یا اپنے صاحبان علم کی طرف پہنچا دیتے تو انمیں سے خبر کا تجزیہ کرنے والے ضرور اس کے (صحیح) نتیجہ تک پہنچ جاتے ‘ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو چند لوگوں کے سوا تم شیطان کی پیروی کرلیتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو یہ اس کو پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس خبر کو رسول یا اپنے صاحبان علم کی طرف پہنچا دیتے تو ان میں سے خبر کا تجزیہ کرنے والے ضرور اس کے (صحیح) نتیجہ تک پہنچ جاتے ‘ الخ۔ (النساء : ٨٣) 

اس آیت میں استنباط کا معنی ہے کسی چیز کو نکالنا ‘ اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ عالم اپنی عقل اور علم سے کسی خبر میں غور وفکر کرکے اس سے صحیح نتیجہ نکالے ‘ قرآن اور حدیث میں غور وفکر کرکے ان سے احکام شرعیہ اخذ کرنے کو بھی استنباط کہتے ہیں۔ 

شان نزول :

یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہوتے اور لشکر کو شکست ہوتی یا اس کو مال غنیمت حاصل ہوتا ‘ تو وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خبر دینے سے پہلے اس خبر کو اڑا دیتے تھے تاکہ مسلمانوں کے دل کمزور ہوں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت پہنچے ‘ اگر وہ یہ خبر نہ پھیلاتے حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا آپ کے معظم اصحاب میں سے مثلا حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) وغیرہ اس خبر کی خود تحقیق کرتے تو وہ اس خبر سے صحیح نتیجہ نکال لیتے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٨٧) 

امام ابن جریر نے لکھا ہے ان لوگوں سے مراد منافق ہیں یا ضعفاء مسلمین (جامع البیان ج ٥ ص ١١٤) 

اس آیت میں اولی الامر سے مراد یا تو ان لشکروں کے امیر ہیں یا اصحاب علم وفضل ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٧٢) 

قیاس اور تقلید کے حجت ہونے کا بیان :

اس آیت سے معلوم ہوا کہ شریعت میں قیاس بھی حجت اور دلیل ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ واجب کیا ہے کہ خبر کے ظاہر پر عمل نہ کیا جائے بلکہ غور و فکر کرکے اس خبر سے صحیح نتیجہ اخذ کیا جائے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ بعض احکام ظاہر نص سے معلوم نہیں ہوتے بلکہ ظاہر نص سے جو حکم مستنبط کیا جائے اس پر عمل کرنا واجب ہے ‘ اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو نئے نئے مسائل پیش آتے ہیں ان میں عوام پر واجب ہے کہ وہ علماء کی تقلید کریں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی مسائل شرعیہ میں استنباط کرتے تھے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد پیش آمدہ واقعات اور مسائل حاضرہ میں اصحاب علم کو قرآن اور احادیث سے استنباط اور اجتہاد کرنا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 83

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ‌ؕ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 82

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ‌ؕ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا ۞

ترجمہ:

وہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ! اگر یہ قرآن اللہ کے غیر کے پاس سے آیا ہوتا تو یہ اس میں بہت اختلاف پاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ! اگر یہ قرآن اللہ کے غیر کے پاس سے آیا ہوتا تو یہ اس میں بہت اختلاف پاتے۔ (النساء : ٨٢) 

قرآن مجید میں اختلاف نہ ہونے کا بیان : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ لوگ قرآن مجید کے معانی میں اور اس کے الفاظ بلیغہ میں غور کیوں نہیں کرتے ‘ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ قرآن مجید میں نہ کوئی اختلاف ہے نہ اضطراب ہے نہ تعارض اور تضاد ہے اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت اختلاف اور تعارض ہوتا ‘ اور جب ایسا نہیں ہے تو ثابت ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ 

غیر اللہ کے کلام میں اختلاف تین وجہ سے ہوسکتا ہے ‘ اس کے الفاظ میں اختلاف ہو یا معنی میں یا ترتیب میں ‘ الفاظ میں اختلاف اس طرح ہوسکتا تھا کہ بعض الفاظ تو فصاحت اور بلاغت میں حد اعجاز کو پہنچے ہوں اور بعض اس حد سے کم ہوں اور جب قرآن مجید کا تمام متن کلام معجز ہے اور اس کی ہر سورت اور ہر آیت حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے تو اس میں الفاظ کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہیں ہے ‘ اور اس میں معانی کے اعتبار سے اس طرح اختلاف ہوسکتا تھا کہ اس میں غیب کی خبریں جو بیان کی گئی ہیں ان میں سے بعض صحیح ہوتیں اور بعض غلط ہوتیں ‘ اسی طرح مبداء اور معاد کے جو تکوینی احکام بیان کیے گئے ہیں وہ غلط ثابت ہوتے حالانکہ ہر زمانہ میں قرآن مجید کی صداقت تسلیم کی جاتی رہی ہے ‘ اور قرآن مجید نے ماضی کی جو خبریں اور گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے جو احوال بیان کیے ہیں وہ حرف بہ حرف صادق ہوئے اسی طرح قرآن مجید نے جو عقائد اور احکام شرعیہ بیان کیے ان میں بھی کسی قسم کا کوئی تعارض اور تضاد نہیں ہے۔ 

قرآن مجید میں روز افزوں واقعات اور نئے نئے احوال کے مطابق آیات نازل ہوتی رہیں اور یہ یک وقت کئی کئی سورتوں کی آیات نازل ہوتی رہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر آیت کو اس سے متعلق سورت میں لکھواتے رہے اور کسی جگہ ترتیب میں کوئی خطایا کوئی غلطی واقع نہیں ہوئی۔ 

دنیا کی ہر کتاب میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی جگہ سے کوئی خطاء اور کوئی غلطی اور کوئی تعارض اور تضاد واقع ہوجاتا ہے صرف اللہ کی کتاب قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس میں کسی وجہ سے کہیں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہے اور یہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 82

مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ‌ۚ وَمَنۡ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 80

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ‌ۚ وَمَنۡ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ۞

ترجمہ:

جس نے رسول کی اطاعت کی تو بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کرلی ‘ اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جس نے رسول کی اطاعت کی تو بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کرلی ‘ اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا، وہ آپ سے کہتے ہیں ہم نے اطاعت کی اور جب وہ آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کو اس بات کے خلاف کہتا ہے جو وہ کہہ چکا تھا اور اللہ اس کو لکھتا ہے جو کچھ وہ رات کو کہتے ہیں تو آپ ان سے اعراض کیجئے اور اللہ پر توکل کیجئے اور اللہ (بطور) کارساز کافی ہے۔ (النساء : ٨١۔ ٨٠) 

منصب رسالت :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ‘  حسن بصری نے کہا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور رسول کی اطاعت حجت ہے ‘ امام شافعی نے الرسالہ میں ذکر کیا ہے کہ ہر وہ کام جس کو اللہ تعالیٰ کتاب میں فرض کیا ہے مثلا حج ‘ نماز اور زکوۃ ‘ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا بیان نہ فرماتے تو ہم ان کو کیسے ادا کرتے اور کسی بھی عبادت کو انجام دینا ہمارے لیے کس طرح ممکن ہوتا ‘ اور جب احکام شرعیہ کا آپ کے بیان کے بغیر ادا کرنا ممکن نہیں ہے تو پھر آپ کی اطاعت کرنا حقیقت میں اللہ عزوجل کی اطاعت ہے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری معصیت کی اس نے اللہ کی معصیت کی ‘ اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس امیر کی معصیت کی اس نے میری معصیت کی۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٣٥‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٧١٣٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٩‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٧١) 

قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ امیر کی اطاعت غیر معصیت میں واجب ہے اور معصیت میں اس کی اطاعت حرام ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم دینا اللہ کا حکم دینا ہے ‘ آپ کا منع کرنا اللہ کا منع کرنا ہے ‘ آپ کا وعدہ اللہ کا وعدہ ہے اور آپ کی وعید اللہ کی وعید ہے ‘ آپ کی رضا اللہ کی رضا ہے اور آپ کا غضب اللہ کا غضب ہے ‘ اور آپ کو ایذاء پہنچانا اللہ کو ایذا پہنچانا ہے۔ 

اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معصوم ہونے کی دلیل ہے ‘ کیونکہ آپ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور سورة آل عمران : ٣١‘ میں آپ کی اتباع کو واجب قرار دیا ہے ‘ اگر آپ کے قول یا عمل میں معصیت اور گناہ آسکے تو پھر معصیت اور گناہ میں بھی آپ کی اتباع واجب ہوگی اور یہ محال ہے۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا۔ اس آیت کی دو تفسیریں کی گئی ہیں : 

(١) اگر کوئی شخص زبان سے اسلام کو قبول کرلیتا ہے اور دل سے ایمان نہیں لاتا تو آپ اس نگران نہیں ہیں کیونکہ آپ کے احکام صرف ظاہر پر ہیں۔ 

(٢) اگر کوئی شخص آپ کی تبلیغ کے باوجود ظاہرا بھی اسلام نہیں لاتا تو آپ غم نہ کریں ‘ کیونکہ آپ کسی کو جبرا مسلمان بنانے والے نہیں ہیں اس کے بعد فرمایا : وہ آپ سے کہتے ہیں ہم نے اطاعت کی اور جب وہ آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو۔ الخ۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ منافقین موافقت اور اطاعت کو ظاہر کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو اس کے خلاف کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کہتے تھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے تاکہ اپنی جان اور مال کو محفوظ کرلیں ‘ اور جب آپ کے پاس سے چلے جاتے تو اس کے خلاف کہتے تھے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ١١٣) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو سرزنش فرمائی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اللہ اس کو لکھ لیتا ہے جو کچھ وہ رات کو کہتے ہیں ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے ساتھ جو کراما کاتبین مقرر کیے ہیں وہ انکی باتوں کو لکھ لیتے ہیں ‘ اس کے بعد فرمایا آپ ان اعراض کیجئے اور اللہ پر توکل کیجئے ‘ یعنی آپ ان سے درگزر فرمائیں اور ان کا مواخذہ نہ کریں اور نہ (ابھی) ان کے نفاق کو لوگوں کے سامنے ظاہر کریں اور اللہ پر توکل کریں اور تمام معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیں ‘ اللہ تعالیٰ ان کے شر کو آپ سے دور کرنے کے لیے کافی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 80