بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی

علماء آسمان کے نیچے بدترین خلق

حدیث نمبر :266

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےعنقریب لوگوں پر وہ وقت آئے گا جب اسلام کا صرف نام ۱؎ اورقرآن کا صرف رواج ہی رہ جائے گا۲؎ ان کی مسجدیں آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی۳؎ ان کے علماءآسمان کے نیچے بدترین خلق ہوں گے ان سے فتنہ نکلے گا اور انہیں میں لوٹ جائے گا ۴؎ اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔

شرح

۱؎ اس طرح کہ مسلمانوں کے نام اسلامی ہوں گے اور اپنے کو مسلمان کہتے ہوں گے مگر رنگ ڈھنگ سب کافروں کے سے جیسا آج دیکھا جارہا ہے،یا ارکان اسلام کے نام و شکل تو باقی رہیں گے مگر مقصود فوت ہوجائے گا،نماز کا ڈھانچہ ہوگا خشوع خضوع نہیں،زکوۃ دیں گے مگر قوم پروری ختم ہوجائے گی،حج کریں گے مگر صرف سیر کے لیئے،جہاد ہوگا مگر صرف ملک گیری کے لیئے۔

۲؎ رسم نقش کو بھی کہتے ہیں اور طریقہ کو بھی،یہاں دونوں معنی درست ہیں،یعنی قران کے نقوش کاغذ میں اور الفاظ زبان پر ہوں گے مگر احترام قلب میں اور عمل قالب میں نہ ہوگا یا رسمًا قرآن پڑھایا رکھا جائے گا،کچہریوں میں جھوٹی قسمیں کھانے کے لیئے،اور گھروں میں میت پر پڑھنے کے لیئے،عمل کیلئے عیسائیوں کے قوانین ہوں گے۔

۳؎ یعنی مسجدوں کی عمارت عالی شان،درودیوار نقشیں ،بجلی کی فٹنگ خوب،مگر نمازی کوئی نہیں،ان کے امام بے دین،گویا مسجد میں بجائے ہدایت کے بے دینیوں کا سرچشمہ بن جائے گی،ہر مسجد سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ درس کی آوازیں آئیں گی مگر وہ درس زہر قاتل ہوں گے،جن میں قرآن کے نام پر کفر و طغیان پھیلایا جائے گا۔

۴؎ یعنی بے دین علماءسوء کی کثرت ہوگی جن کا فتنہ سارے مسلمانوں کوگھیرلے گا جیسے دائرے کا خط جہاں سے شروع ہوتا ہے وہیں پہنچ کر دائرہ کومکمل بنادیتا ہے اور ساری سطح کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے ایسے ہی ان کا فتنہ ہوگا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے عالم خراب ہوجائیں گے ورنہ دین مٹ جاتا۔اللہ اس دین اور صلحائے حق کو تاقیامت رکھے گا جو دین کو اصلی رنگ میں باقی رکھیں گے جیسا کہ آج بھی دیکھا جارہاہے۔

فَنَادَتۡهُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ وَهُوَ قَآٮِٕمٌ يُّصَلِّىۡ فِى الۡمِحۡرَابِۙ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوۡرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ- سورۃ 3 – آل عمران – آیت 39

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَنَادَتۡهُ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ وَهُوَ قَآٮِٕمٌ يُّصَلِّىۡ فِى الۡمِحۡرَابِۙ اَنَّ اللّٰهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوۡرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ

ترجمہ:

تو جس وقت وہ عبادت کے حجرے میں کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے فرشتوں نے انھیں پکار کر کہا کہ (اے زکریا) بیشک اللہ آپ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے ‘ جو (عیسی) کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘ سردار اور عورتوں سے بہت بچنے والے ہوں گے اور نبی ہوں گے اور ہمارے نیک بندوں پر میں سے ہوں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو جس وقت وہ عبادت کے حجرے میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے فرشتوں نے انہیں پکار کر کہا اے زکریا ! بیشک اللہ آپ کو یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے جو (عیسی) کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے ‘ سردار ‘ اور عورتوں سے بہت بچنے والے ہوں گے اور بنی ہوں گے اور نیک بندوں میں سے ہوں گے۔ (آل عمران : ٣٩)

ظاہر یہ ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت نے آکر حضرت زکریا (علیہ السلام) کو حضرت یحییٰ کی ولادت کی نوید سنائی اور جمہور نے یہ ذکر کیا ہے کہ یہ ندا کرنے والے حضرت جبرائیل تھے اور چونکہ حضرت جبرائیل جماعت ملائکہ کے رئیس ہیں اس لئے ان کو ملائکہ سے تعبیر فرمایا۔ یا اس وجہ سے کہ حضرت جبرائیل تمام ملائکہ کی صفات جمیلہ کے جمامع ہیں۔

نمازی کو ندا کرنے کی بحث :

بعض علماء نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ جو شخص نماز پڑھا رہا ہو اس کو ندا کرنا اور اس سے کلام کرنا جائز ہے ‘ لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ یہاں پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے یا حضرت جبریل (علیہ السلام) نے ندا کی اور ان سے کلام کیا اور اس پر عام آدمیوں کے کلام کو قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ علاوہ ازیں یہ شریعت سابقہ ہے ہماری شریعت میں نماز میں کلام کرنا ممنوع ہے امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت بن ارقم (رض) روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے باتیں کیا کرتے تھے ‘ ایک نمازی اپنے ساتھ کھڑے ہوئے شخص سے باتیں کرتارہتا تھا حتی کہ یہ آیت نازل ہوگئی : (آیت) ” وقوموا للہ قانتین “۔ (البقرہ : ٢٣٨) اور اللہ کے سامنے خاموشی اور ادب سے کھڑے رہو۔ پھر ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور باتیں کرنے سے منع کردیا گیا۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٨٥ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

دوسرا جواب یہ ہے کہ یہاں صلوۃ بمعنی دعا بھی ہوسکتی ہے یعنی حضرت زکریا اس وقت دعا کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ فرض نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا اور کسی کے بلانے پر جانا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ آپ کے بلانے پر جانے اور آپ سے باتیں کرنے سے نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ اور نفل نماز میں ماں کے بلانے پر چلا جائے اور اس نفل نماز کو دوبارہ پڑھ لے اور باپ کے بلانے پر نفل نماز میں بھی جانا جائز نہیں ہے اس کی تفصیل اور تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم سابع میں کی ہے۔

محراب میں نماز پر ھنے کی بحث 

اس آیت میں مذکور ہے حضرت زکریا محراب میں نماز پڑھ رہے تھے علامہ ابوالحیان اندلسی نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنا جائز ہے اور امام ابوحنیفہ اس سے منع کرتے ہیں۔ (البحر المحیط ج ٣ ص ١٢٩ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

علامہ ابوالحیان اندلسی کا استدلال کئی وجہ سے صحیح نہیں ہے اول اس لئے کہ امام ابوحنیفہ مطلقا محراب میں کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کو مکروہ نہیں کہتے بلکہ جماعت سے نماز پڑھاتے وقت امام کے محراب میں کھڑے ہونے کو مکروہ کہتے ہیں کیونکہ عبادت میں امام کی مخصوص جگہ نصاری کی عبادت کے مشابہ ہے ‘ اور وہ یہاں ثابت نہیں ہے کہ حضرت زکریا اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جبکہ یہاں صلوۃ بمعنی دعا کا بھی احتمال ہے ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہاں محراب کا معنی ہے عبادت کا حجرہ ‘ اور امام ابوحنیفہ نے اس معروف محراب میں کھڑے ہونے کو مکروہ کہا ہے جو مسجد کے وسط میں ایک مخصوص شکل سے بنائی جاتی ہے اور چوتھا جواب یہ ہے کہ یہ شریعت سابقہ ہے ہم پر حجت نہیں ہے ہماری دلیل یہ ہے کہ بکثرت احادیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبادات میں یہود و نصاری کی تشبیہ سے منع فرمایا ہے۔

حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی سوانح :

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

حضرت زکریا (علیہ السلام) دعا کی اور فرشتوں نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی بشارت دی ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے زکریا ! ہم تمہیں ایک لڑکے کی خوشخبری سناتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا۔ زکریا نے کہا : اے میرے رب میرا لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بڑھاپے کی وجہ سے سوکھ جانے کی حالت کو پہنچ گیا ہوں۔ فرمایا یوں ہی ہوگا ‘ آپ کے رب نے فرمایا وہ میرے لئے آسان ہے اور اس سے پہلے میں تم کو پیدا کرچکا ہوں جب تم کچھ بھی نہ تھے۔ زکریا نے کہا اے میرے رب ! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کر دے فرمایا تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین رات (دن) لوگوں سے بات نہ کر سکوگے حالانکہ تم تندرست ہوگئے۔ تو وہ اپنے (ماننے والوں) لوگوں کے سامنے عبادت کے حجرہ سے باہر نکلے سو ان کی طرف اشارہ کیا کہ صبح اور شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔ (مریم : ١١۔ ٧)

پھر حضرت یحییٰ کے پیدا ہونے کے بعد ان کی طرف یہ وحی کی :

(آیت) ” ییحی خذا الکتاب بقوۃ واتیناہ الحکم صبیا۔ وحنانا من لدنا وزکوۃ وکان تقیا۔ وبرا بوالدیہ ولم یکن جبارا عصیا۔ وسلم علیہ یوم ولد ویوم یموت ویوم یبعث حیا۔ (مریم : ١٥۔ ١٢)

ترجمہ : اے یحییٰ پوری قوت سے کتاب پکڑ لو اور ہم نے انہیں بچپن میں نبوت دی۔ اور اپنے پاس سے نرم دلی اور پاکیزگی عطا فرمائی اور وہ نہایت متقی تھے۔ اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنے والے تھے اور سرکش اور نافرمانی کرنے والے نہ تھے۔ اور ان پر سلام ہو ان کی پیدائش کے دن ان کی وفات کے دن اور جس دن وہ زندہ اٹھائے جائیں گے۔

ان تین اوقات میں سلام کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ ابن آدم پر یہ تین اوقات بہت سخت ہوتے ہیں ان اوقات میں وہ ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہوتا ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تھا :

(آیت) ” والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا (مریم : ٣٣)

ترجمہ : اور مجھ پر سلام ہو میری ولادت کے دن اور میری وفات کے دن اور جس دن میں اٹھایا جاؤں گا۔

قتادہ نے حسن سے روایت کیا ہے کہ حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ملاقات ہوئی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) سے فرمایا : آپ مجھ سے بہتر ہیں آپ میرے لئے استغفار کریں ‘ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ مجھ سے بہتر ہیں آپ میرے لئے استغفار کریں۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ مجھ سے بہتر ہیں کیونکہ میں نے اپنے اوپر خود سلام بھیجا ہے اور آپ پر اللہ نے سلام بھیجا ہے ‘ تو حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے جان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو ہی فضیلت دی ہے۔ امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر ابن آدم نے خطا کی ہے یاخطا کا ارادہ کیا ہے ماسوا یحییٰ بن زکریا کے ‘ اور کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے زیادہ افضل ہوں۔ اس حدیث کو امام ابن خزیمہ اور امام دار قطنی نے بھی روایت کیا ہے۔ ابن وہب نے ابن شہاب سے روایت کیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے پاس آئے تو وہ انبیاء (علیہم السلام) کی فضیلت کا ذکر کر رہے تھے کسی نے کہا موسیٰ کلیم اللہ ہیں۔ کسی نے کہا عیسیٰ روح اللہ ہیں ‘ کسی نے کہا ابراہیم خلیل اللہ ہیں۔ آپ نے فرمایا شہید کہاں ہے ؟ جو اون کے کپڑے پہنتے تھے اور درخت کے پتے کھاتے تھے اور گناہوں سے ڈرتے تھے ‘ اور حافظ ابن عساکر نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت کیا ہے کہ قیامت کے دن یحییٰ بن زکریا کے سوا ہر شخص اللہ تعالیٰ سے کسی نہ کسی (نوع کے) گناہ کے ساتھ ملاقات کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سید اور حصور فرمایا ہے پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز اٹھا کر کہا ان کے پاس بس اتنی تھی پھر ان کو ذبح کردیا گیا۔

امام احمد اپنی سند کے ساتھ حضرت حارث اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یحییٰ بن زکریا کو پانچ چیزوں پر عمل کرنے اور بنواسرائیل کو ان کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔ قریب تھا کہ حضرت یحییٰ اس میں تاخیر کرتے کہ ایک دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا آپ کو پانچ چیزوں پر عمل کرنے اور بنواسرائیل کو ان کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا تھا یا آپ انہیں تبلیغ کریں یا پھر میں تبلیغ کرتا ہوں۔ حضرت یحییٰ نے کہا اے بھائی ! مجھے ڈر ہے کہ اگر تم نے مجھ سے پہلے ان کلمات کی تبلیغ کردی تو مجھے عذاب ہوگا یا مجھ کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ پھر حضرت یحییٰ نے بیت المقدس میں بنو اسرائیل کو جمع کیا اور کہا مجھے اللہ تعالیٰ نے پانچ باتوں پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو بھی ان پانچ چیزوں کی تعلیم دوں۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ‘ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے خالص مال سے سونے یا چاندی کے بدلہ ایک غلام خریدے اور وہ غلام اپنے مالک کے سوا کسی اور کی خدمت کرے اور مالک کی آمدنی کسی اور شخص تک پہنچائے۔ تم میں سے کون شخص پسند کرے گا کہ اس کا غلام ایسا ہو۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور تم کو رزق دیا تو تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی اور کو بالکل شریک نہ کرو۔ جب تک بندہ اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے اللہ بھی اس کی طرف متوجہ رہتا ہے اس لیے جب تم نماز پڑھو تو ادھر ادھر توجہ نہ کرو ‘ اور اللہ نے تمہیں روزے رکھنے کا حکم دیا اس کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس لوگوں کی ایک جماعت میں مشک کی تھیلی ہو جس سے سب لوگوں کو مشک کی خوشبو آرہی ہو ‘ اور بیشک روزہ دار کے منہ کی خوشبو اللہ کو مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے ‘ اور اللہ نے تمہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کو اس کے دشمنوں نے قید کرلیا اور اس کی گردن کے ساتھ اس کے ہاتھ باندھ دیئے پھر وہ اس کی گردن اڑانے کے لئے آئے تو اس نے کہا تمہاری کیا رائے ہے میں تمہیں اپنی جان کا فدیہ دے دوں ! پھر وہ اپنا تھوڑا اور زیادہ مال انہیں دے کر اپنی جان چھڑا لیتا ہے ‘ اور میں تم کو اللہ کا بہ کثرت ذکر کرنے کا حکم دیتا ہوں اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کو پکڑے کے لئے اس کے پیچھے اس کا دشمن دوڑ رہا ہو تو وہ ایک مضبوط قلعے میں آکر قلعہ بن ہوجائے اور جب کوئی شخص اللہ عزوجل کا ذکر کرتا ہے تو وہ ایک مضبوط قلعہ میں شیطان سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ حضرت حارث اشعری نے کہا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اور میں بھی تم کو پانچ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے جماعت کے ساتھ رہنا ‘ حکم سننا اور اطاعت کرنا ‘ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ کیونکہ جو شخص ایک بالشت بھی جماعت سے نکالا اس نے اپنے گلے سے اسلام کا پٹہ اتار دیا الا یہ کہ وہ واپس آجائے ‘ اور جس نے زمانہ جاہلیت کی چیخ و پکار کی اس نے جہنم سے مٹی ڈال لی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! خواہ اس نے روزے رکھے ہوں اور نماز پڑھی ہو۔ آپ نے فرمایا خواہ اس نے روزے رکھے ہوں اور نماز پڑھی ہو اور مسلمان ہونے کا زعم کیا ہو۔ مسلمانوں کو مسلمان کہہ کر بلاؤ کیونکہ اللہ عزوجل نے اللہ کے بندوں کو مسلمان اور مومن کہا ہے۔ اس حدیث کو امام ابو یعلی ‘ امام ترمذی امام ابو داؤد طیالسی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام حاکم اور امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔

مورخین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت یحییٰ لوگوں سے الگ رہتے تھے۔ وہ جنگلوں سے مانوس تھے۔ درختوں کے پتے کھاتے۔ دریاؤں کا پانی پیتے۔ کبھی کبھی ٹڈیوں کو کھالیتے اور کہتے تھے اسے یحییٰ ! تم سے زیادہ انعام یافتہ کون ہوگا۔ امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے کہ ان کے ماں باپ انہیں ڈھونڈنے نکلے تو وہ دریا اردن کے پاس ملے ان کی عبادت اور ان میں اللہ کا خوف دیکھ کر وہ بہت روئے۔ مجاہد نے ذکر کیا ہے کہ یحییٰ بن زکریا ہری ہری گھاس کھاتے اور خوف خدا سے بہت روتے تھے۔ ذہیب بن ورد بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت زکریا (علیہ السلام) سے ان کے بیٹے یحییٰ گم ہوگئے وہ تین دن ان کو ڈھونڈتے پھرے بالاخر وہ کھودی ہوئی قبر میں ملے وہاں بیٹھے ہوئے خوف خدا سے رو رہے تھے ‘ انہوں نے کہا اے بیٹے ! میں تم کو تین دن سے ڈھونڈ رہا ہوں اور تم یہاں قبر میں بیٹھے ہوئے رو رہے ہو ! حضرت یحییٰ نے کہا اے میرے ابو ! کیا آپ ہی نے مجھے یہ خبر نہیں دی تھی کہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک جنگل ہے جس کو صرف رونے والوں کے آنسوؤں سے ہی طے کیا جاسکتا ہے۔ امام ابن عساکر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ حضرت یحییٰ نے کہا اہل جنت جنت کی نعمتوں کی لذت کی وجہ سے نہیں سوتے ‘ سو اسی طرح صدیقین کو چاہیے کہ ان کے دلوں میں جو اللہ کی محبت ہے اس کی وجہ سے نہ سوئیں پھر فرمایا ان دونوں نعمتوں میں کتنا فرق ہے۔ وہ بہت زیادہ روتے تھے حتی کہ مسلسل آنسو بہنے کی وجہ سے ان کے رخساروں میں نشان پڑگئے تھے۔

حضرت یحییٰ کے قتل کے کئی اسباب ذکر کئے گئے ہیں کہ اس زمانہ میں دمشق کا ایک حکمران اپنی کسی محرم سے نکاح کرنا چاہتا تھا حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اس بادشاہ کو اس کام سے منع کیا ‘ اس وجہ سے اس عورت کے دل میں حضرت یحییٰ کے خلاف بغض پیدا ہوگیا جب اس عورت اور بادشاہ کے درمیان شناسائی پیدا ہوگئی تو اس عورت نے بادشاہ سے حضرت یحییٰ کے قتل کا مطالبہ کیا۔ بادشاہ نے حضرت یحییٰ کو قتل کرکے ان کا سر اس عورت کے سامنے پیش کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ عورت بھی اسی ساعت مرگئی۔ ایک قول یہ ہے کہ اس بادشاہ کی عورت حضرت یحییٰ پر فریفتہ ہوگئی اس نے حضرت یحییٰ سے اپنی مقصد برآری چاہی ‘ حضرت یحییٰ نے انکار کیا جب وہ حضرت یحییٰ سے مایوس ہوگئی تو اس نے بادشاہ کو حضرت یحییٰ کے قتل پر تیار کیا اور بادشاہ نے کسی کو بھیج کر حضرت یحییٰ کو قتل کرایا اور ان کا سر مبارک کاٹ کر ایک طشت میں اس عورت کو پیش کردیا۔ (البدایہ والنہایہ ج ٢ ص ٥٤۔ ٤٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٣٩٣ ھ)

حضرت یحییٰ کے قتل کا جو پہلا سبب لکھا ہے موجودہ انجیل میں بھی اس کی تصدیق ہے : 

کیونکہ ہیرودیس نے آپ آدمی بھیج کر یوحنا کو پکڑوایا اور اپنے بھائی فلپس کی بیوی ہیرودیاس کے سبب سے اسے قید خانہ میں باندھ رکھا تھا کیونکہ ہیرودیس نے اس سے نکاح کرلیا تھا۔ اور یوحنا نے اس سے کہا تھا کہ اپنے بھائی کی بیوی رکھنا تجھے روا نہیں۔ پس ہیرودیاس اس سے دشمنی رکھتی اور چاہتی تھی کہ اسے قتل کرائے مگر نہ ہوسکا۔ کیونکہ ہر ودیس یوحنا کو راستباز اور مقدس آدمی جان کر اس سے ڈرتا اور اسے بچائے رکھتا تھا اور اس کی باتیں سن کر بہت حیران ہوجاتا تھا مگر سنتا خوشی سے تھا۔ اور موقع کے دن جب ہیرودیس نے اپنے امیروں اور فوجی سرداروں اور گلیل کے رئیسوں کی ضیافت کی۔ اور اسی ہیرودیاس کی بیٹی اندر آئی اور ناچ کر ہیرودیس اور اس کے مہمانوں کو خوش کیا تو بادشاہ نے اس لڑکی سے کہا جو چاہے مجھ سے مانگ میں تجھے دوں گا۔ اور اس سے قسم کھائی کہ جو تو مجھ سے مانگے گی اپنی آدھی سلطنت تک تجھے دوں گا۔ اور اس نے باہر جا کر اپنی ماں سے کہا کہ میں کیا مانگوں ؟ اس نے کہا یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر۔ وہ فی الفور بادشاہ کے پاس جلدی سے اندر آئی اور اس سے عرض کی کہ میں چاہتی ہوں کہ تو یوحنا بپتسمہ دینے والے کا سر ایک تھا میں ابھی مجھے منگوا دے۔ بادشاہ بہت غمگین ہوا مگر اپنی قسموں اور مہمانوں کے سبب اس سے انکار نہ کرنا چاہا۔ پس بادشاہ نے فی الفور ایک سپاہی کو حکم دے کر بھیجا کہ اس کا سر لائے۔ اس نے قید خانہ میں جا کر اس کا سر کاٹا۔ اور ایک تھال میں لا کر لڑکی کو دیا اور لڑکی نے اپنی کو دیا۔ پھر اس کے شاگرد سن کر آئے اور اس کی لاش اٹھا کر قبر میں رکھی۔ (مرقس : باب : ٦‘ آیت ٢٩۔ ١٨‘ نیاعہد نامہ ص ٤٠۔ ٣٩‘ مطبوعہ بائبل سوسائٹی لاہور)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ آپ کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے جو (عیسی) کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے، سردار اور عورتوں سے بہت بچنے والے ہوں گے اور نبی ہوں گے اور ہمارے نیک بندوں میں سے ہوں گے۔ (آل عمران : ٣٩)

حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنا :

یحیی کے معنی ہیں زندہ ہوتا ہے یا زندہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام یحییٰ رکھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کے ساتھ زندہ رکھا۔ یا وہ کلمہ حق کہنے کی باداش میں قتل کئے جانے کے بعد ہمیشہ کے لئے زندہ ہوگئے۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ لکھتے ہیں :

مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت زکریا کی بیوی نے حضرت مریم سے کہا میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ تمہارے پیٹ کے بچہ کے لئے حرکت کرتا ہے ‘ پھر حضرت زکریا کی بیوی کے ہاں حضرت یحییٰ پیدا ہوئے اور حضرت مریم کے ہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور حضرت یحییٰ حضرت عیسیٰ کے مصدق تھے اس لئے اس آیت میں فرمایا ہے جو کلمۃ اللہ کی تصدیق کرنے والے ہوں گے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ خالہ زاد بھائی تھے اور حضرت یحییٰ کی والدہ حضرت مریم سے کہتی تھیں کہ میں محسوس کرتی ہوں جو میرے پیٹ ہے وہ اس کو سجدہ کرتا ہے جو تمہارے پیٹ میں ہے حضرت یحییٰ نے اپنی ماں کے پیٹ میں حضرت عیسیٰ کو سجدہ کرکے ان کی تصدیق کی وہ سب سے پہلے حضرت عیسیٰ کی تصدیق کرنے والے تھے ‘ حضرت یحییٰ حضرت عیسیٰ سے عمر میں بڑے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو سید فرمایا ہے اس کا معنی ہے وہ علم اور عبادت میں سردار تھے قتادہ نے کہا وہ علم ‘ حلم اور تقوی میں سردار تھے۔ مجاہد نے کہا سید کا معنی ہے جو اللہ کے نزدیک کریم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کو حصور بھی فرمایا ہے، حصور کا معنی ہے جو عورتوں سے خواہش پوری نہ کرتا ہو۔ حضرت ابن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن یحییٰ بن زکریا کے سوا ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی گناہ ہوگا۔ الحدیث : (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٧٤۔ ١٧٢ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

حضرت یحییٰ کا عورتوں کی خواہش پوری نہ کرنا اپنی پاکبازی کی وجہ سے تھا کسی عجز کی وجہ سے نہ تھا ‘ انبیاء کرام ہر قسم کے عیب سے منزہ ہوتے ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 39

نیکی و گناہ کی دعوت

حدیث نمبر :156

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہدایت کی طرف بلائے اس کو تمام عالمین کی طرح ثواب ملے گا،اور اس سے ان کے اپنے ثوابوں سے کچھ کم نہ ہوگا ۱؎ اور جو گمراہی کی طرف بلائے تو اس پر تمام پیروی کرنے والے گمراہوں کے برابر گناہ ہوگا اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ یہ حکم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صدقہ سے تمام صحابہ،آئمہ مجتہدین،علماء متقدمین و متاخرین سب کو شامل ہے،مثلًا اگرکسی کی تبلیغ سے ایک لاکھ نمازی بنیں تو اس مبلغ کو ہر وقت ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہوگا۔اور ان نمازیوں کو اپنی اپنی نمازوں کا ثواب۔اس سےمعلوم ہوا کہ حضور کا ثواب مخلوق کے اندازے سے وراءہے،رب فرماتا ہے:”وَ اِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیۡرَ مَمْنُوۡنٍ”ایسے ہی وہ مصنفین جن کی کتابوں سے لوگ ہدایت پارہے ہیں قیامت تک لاکھوں کا ثواب انہیں پہنچتا رہے گا۔یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں” لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی”کیونکہ یہ ثوابوں کی زیادتی اس کے عملِ تبلیغ کا نتیجہ ہے۔

۲؎ اس میں گمراہیوں کے موجدین مبلغین سب شامل ہیں تاقیامت ان کو ہر وقت لاکھوں گناہ پہنچتے رہیں گے۔یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں”وَعَلَیۡہَامَااکْتَسَبَتْ”کیونکہ یہ اس کے اپنے فعل یعنی تبلیغِ شر کی سزاہے۔

زکوٰۃ کی ادائیگی اہل ثروت کے نزدیک

اللہ رب العزت نے کائنات کی ہر شئے میں تاثیر بخشی ہے۔ خواہ وہ شئے کیسی ہی کیوں نہ ہو، لہٰذا شئے کا جو اثر مرتب ہونا چاہئے اگر وہ اثر ظاہر نہ ہو تو اس بات کی فکر لاحق ہوجاتی ہے کہ آخر یہ شئے مؤثر کیوں نہیں؟ کیا اس شئے میں کوئی کمی یا خامی ہے جس پر اثر مرتب ہونا چاہئے؟ اس میں اثر قبول کرنے کی صلاحیت کا فقدار ہے۔ ایک دوا کے استعمال سے اگر مرض میں افاقہ نہ ہو تو دوا کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے اور مرض کی بھی تشخیص کی جاتی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ فائدہ ہو یا نہ ہو ایک ہی دوا مسلسل دی جائے۔ اسی طرح عبادات کے بھی اثرات ہوتے ہیں، جو عبادت گزار پر مرتب ہوتے ہیں۔ اگر عبادت گزار پر عبادت کا اثر ظاہر نہ ہو تو اس بات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ عبادت صحیح طریقہ پر ادا ہو رہی ہے یا نہیں۔ اس میں وہ کون سی خامی و کمی ہے جس کی وجہ سے اس کا اثر ظاہر نہیں ہو رہا ہے اور نہ ہی اس کا فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔

مثال کے طور پر نماز کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ان الصلوٰۃ تنہیٰ عن الفحشاء و المنکر‘‘ یعنی بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ (عنکبوت:آیت:۴۵)

روزہ کے بارے میں ارشاد ہوا ’’یٰایہا الذین اٰمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون‘‘ اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے ان لوگوں پر فرض تھا جو تم سے پہلے ہوئے تاکہ تم گناہوں سے بچو۔ (البقرہ:آیت:۱۸۳)

اب اگر کوئی برسہا برس کا نمازی، ہر سال رمضان المبارک کے روزے رکھنے والا بے حیائی اور برائی میں مبتلا ہو، گناہوں سے بچتا نہ ہو تو اسے ان اسباب و علل کا تلاش کرنا ہوگا اور ان کے وجوہات پر غور کرنا لازم و ضروری ہے جن کی وجہ سے نماز و روزہ کا اثر اس پر ظاہر نہیں ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اس امر پر ہمارا عقیدہ ہے کہ نماز بے حیائی اور بُرائی سے روکتی ہے، روزہ سےتقویٰ و پرہیزگاری حاصل ہوتی ہے۔ پھر بھی وہ برائیوں سے نہیں بچ پاتا۔ تو ضرور اس کی نماز اور روزے میں نقص و فساد ہے یا اس کے دل ہی میں کوئی کجی ہے ورنہ نماز و روزہ کا اثر ضرور ظاہر ہوتا۔

اسی طرح قرآنِ حکیم میں صدقات سے متعلق ارشاد ہوا ’’یمحق اللہ الربوٰا و یربی الصدقات‘‘ یعنی اللہ سود کو ہلاک فرماتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے۔

یعنی صدقہ و زکوٰۃ کی ادائیگی سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا ہے۔ سرکار دو عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ’’من ادی زکوٰۃ مالہ فقد اذہب اللہ شرہ‘‘ جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دی بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مال کا شر اس سے دور فرمادیا۔

(ابن خزیمہ و طبرانی)

نیز ارشاد ہوا ’’ما تلف مال فی بر و لا بحر الا بحبس الزکوٰۃ‘‘ خشکی و تری میں جو مال تلف ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے ہی سے تلف ہوتا ہے۔ (طبرانی)

حضور اقدس ﷺ زکوٰۃ کے ذریعہ مال کی حفاظت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ’’حصنوا اموالکم بالزکوٰۃ و داووا مرضاکم بالصدقۃ‘‘ زکوٰۃ دے کر اپنے مالوں کو مضبوط کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج خیرات سے کرو۔ (ابودائود، طبرانی، بیہقی)

ان نصوص سے بالکل ظاہر و واضح ہے کہ زکوٰۃ دینے سے مال زیادہ ہوتا ہے، اس میں برکت ہوتی ہے، ہلاک و تلف ہونے سے محفوظ ہوجاتا ہے، مال کا شر دور ہو جاتا ہے اور امراض و اسقام سے نجات ملتی ہے۔

اب اگر زکوٰۃ و صدقات کے یہ اثر ظاہر و مرتب نہ ہوں، زکوٰۃ کی ادائیگی کی ادائیگی کے باوجود مال میں برکت نہ ہو، کاروبار میں نقصان ہوتا ہو، مال ہلاک و برباد ہوتے ہوں، بیماریوں سے نجات نہ حاصل ہوتی ہو تو یہ فکر ضروری ہے کہ آخر زکوٰۃ و صدقہ کا اثر کیوں نہیں ظاہر ہوتا؟ وہ کون سے اسباب و عوارض ہیں جن کی بنا پر زکوٰۃ کے اثرات مرتب نہیں ہوتے؟ اور زکوٰۃ دینے والا ان فوائد سے محروم نظر آتا ہے جن کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ہم یہاں زکوٰۃ کے مؤثر نہ ہونے کے بنیادی اسباب و علل کا ذکر کرتے ہیں تاکہ اہل ثروت حضرات زکوٰۃ کی ادائیگی میں ان امور سے احتیاط و احتراز کر سکیں۔

(۱) خلوص و للّٰہیت کا فقدان: کسی بھی عبادت کی مقبولیت کے لئے اولین شرط خلوص نیت ہے۔ چنانچہ رب العزت جل جلالہ و عم نوالہ کا ارشادِ عالی ہے ’’و ما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین‘‘ انہیں تو یہی حکم ہوا کہ اللہ ہی کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص رکھتے ہوئے۔ (البینہ آیت:۵)

اور حدیث شریف میں ہے ’’انما الاعمال بالنیات و لکل امریٔ ما نویٰ‘‘ اعمال کا کا مدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے۔ (بخاری و مسلم)

لہٰذا کوئی عبادت بغیر اخلاص کے مقبول نہیں۔ اگر خلوص و رضائے الٰہی سے عبادت خالی ہو تو وہ بے فائدہ اور غیر مؤثر ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نہ قبول فرماتا ہے اور نہ ہی دنیا و آخرت میں اس کا بدلہ عطا فرماتا ہے۔ رسولِ کریم ا ارشاد فرماتے ہیں ’’اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے اموال کی طرف نظر نہیں فرماتا وہ تمہارے دل اور تمہارے اعمال کی طرف نظر کرتا ہے‘‘ (بخاری و مسلم)

بلکہ اگر عبادت محض دکھانے اور سُنانے کے لئے کی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کی جزا دینے کے بجائے سزا دے گا۔ حدیث شریف میں ہے ’’جو سُنانے کے لئے کام کرے گا اللہ اس کو سُنائے گا، یعنی سزا دے گا اور جو ریا کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ریا کی سزا دے گا‘‘ (بخاری و مسلم)

دیگر عبادات کی طرح زکوٰۃ و صدقہ کی ادائیگی میں بھی خلوص نیت ضروری ہے، بغیر اخلاص کے نہ تو زکوٰۃ قبول ہوگی اور نہ ہی زکوٰۃ دینے والے پر اس کا اثر ظاہر ہوگا۔ اس لئے کہ ارشادِ ربانی ہے ’’کالذی نفق مالہ ریاء الناس‘‘ یعنی (اپنے صدقے) اس شخص کی طرح باطل مت کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے۔ اس سے بالکل یہ امر واضح ہے کہ جو زکوٰۃ و صدقہ رضائے الٰہی کے لئے نہ ہو بلکہ وہ محض دکھاوے کے لئے ہو وہ باطل ہے۔ حتی کہ حدیث شریف میں اسے شرکِ (خفی) فرمایا ہے۔ چنانچہ حضور اقدس ا ارشاد فرماتے ہیں ’’جس نے ریا کے ساتھ نماز پڑھی اس نے شرک کیا اور جس نے ریا کے ساتھ روزہ رکھا اس نے شرک کیا اور جس نے ریا کے ساتھ صدقہ دیا اس نے شرک کیا‘‘ (امام احمد)

دکھاوے کے لئے صدقہ و دیگر عبادات کا وبال صرف دنیا ہی میں نہیں آخرت میں بھی اس کا سخت خسران ہے۔ یہاں ایک حدیث ہدیۂ قارئین ہے تاکہ ناظرین غور کریں کہ اخلاصِ نیت کے فقدان اور ریا و دکھاوے کی وجہ سے بڑے بڑا عمل کس طرح رائیگاں ہو جاتا ہے اور آخرت میں کتان عظیم خسران ہے۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے قیامت کے دن ایک شخص کا فیصلہ ہوگا جو شہید ہوا ہے وہ حاضر کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں دریافت کرے گا وہ نعمتوں کو پہچانے گا یعنی اقرار کرے گا۔ ارشاد فرمائے گا کہ ان نعمتوں کے مقابل تو نے کیا عمل کیا ہے؟ وہ کہے گا میں نے تیری راہ میں جہاد کیا ہے یہاں تک کہ شہید ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے۔ تو نے اس لئے قتال کیا تھا کہ لوگ تجھے بہادر کہیں۔ لہٰذا تو بہادر کہلایا گیا۔ حکم ہو گا اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

اور ایک وہ شخص جس نے علم پڑھا اور پڑھایا اور قرآن پڑھا وہ حاضر کیا جائے گا، اس سے نعمتوں کو دریافت کیا جائے گا، وہ نعمتوں کو پہچانے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ان نعمتوں کے مقابل تو نے کیا عمل کیا ہے؟ وہ کہے گا میں تیرے لئے علم سیکھا اور قرآن پڑھا۔ فرمائے گا تو جھوٹا ہے۔ تونے علم اس لئے پڑھا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تھا کہ تجھے قاری کہا جائے۔ لہٰذا تجھے قاری کہہ لیا گیا۔ حکم ہوگا منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک تیسرا شخص بلایا جائے گا جس کو خدا نے وسعت دی ہے اور ہر قسم کا مال دیا ہے، اس سے اپنی نعمتیں دریافت کرے گا وہ نعمتوں کو پہچانے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تونے اس کے مقابل میں کیا کیا؟ عرض کرے گا میں نے کوئی راستہ ایسا نہیں چھوڑا جس میں خرچ کرنا تجھے محبوب ہے مگر میں نے اس میں تیرے لئے خرچ کیا۔ فرمائے گا تو جھوٹا ہے، تو نے اس لئے خرچ کیا کہ تجھے سخی کہا جائے لہٰذا تو سخی کہہ لیا گیا۔ اس کے متعلق بھی حکم ہوگا۔ منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (احمد، مسلم، نسائی)

بڑے غور و فکر کا مقام ہے کہ شہید جس کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اسے بخش دیا جاتا ہے اور روح نکلتے وقت ہی اس کو جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، شہید عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے۔ اسے جہنم کے عذاب کا خوف نہیں رہتا۔ اس کے سر پر عزت و وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا بیش بہایا قوت دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوگا۔ اس کے نکاح میں بڑی بڑی آنکھوں والی بہتر حوریں دی جائیں گی، اس کے عزیزوں میں سے ستر آدمیوں کے لئے اس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ (ترمذی شریف)

مگر نام و نمود کے لئے جہاد کرنے والا شہید ہونے کے باوجود ان فضائل و مراتب سے محروم ہے۔ اور جہنم اس کا ٹھکانہ ہے، اسی طرح عالم دین جس کے بارے میں ارشاد ہوا کہ اس کے اور انبیائے کرام کے درمیان جنت میں ایک درجہ کا فرق ہوگا۔ (دارمی)

مزید ارشادِ گرامی ہوا کہ علما کے قلم کی سیاہی شہید کے خون سے تولی جائے گی اور اس پر غالب ہو جائے گی۔ عالم کے اور بھی بہت سارے فضائل و مناقب ہیں، قرآنِ حکیم کی تلاوت میں ہر ایک حرف کے بدلے دس نیکیاں ہیں مگر وہی عالم دین اور قرآن حکیم کی تلاوت کرنے والا اخلاص کے خالی ہو کر محض ریا و سمعہ کے لئے علم دین سیکھتا اور سکھاتا ہے، دکھاوے کے لئے قرآن پڑھتا ہے تو بجائے جنت میں اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ یوں ہی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا عظیم عبادت ہے، سات سو گنا زیادہ ثواب ہے، صدقہ دینے والا پاک و صاف ہو جاتا ہے۔ مگر وہی خرچ کرنا اگر اخلاص کے ساتھ نہ ہو بلکہ نام و نمود کے لئے ہو تو ایسا صدقہ کرنے والا ثوابِ عظیم پانے کے بجائے جہنم میں داخل کیا جائے گا۔ اسی لئے علمائے کرام فرماتے ہیں ’’عبادت کوئی بھی ہو اس میں اخلاص نہایت ضروری چیز ہے۔ یعنی محض رضائے الٰہی کے لئے عمل کرنا ضروری ہے، دکھاوے کے طور پر عمل کرنا بالاجماع حرام ہے۔ لہٰذا صدقہ و زکوٰۃ دینے والے اخلاص و رضائے الٰہی کے لئے مال خرچ کریں تاکہ آخرت میں اجرِ عظیم کے مستحق ہوں اور دنیا میں بھی ان پر اس کا اثر مرتب ہو۔

(۲) طعنہ و ایذا رسانی: بہت سے زکوٰۃ و صدقات ہیں، ذہنی یا جسمانی طور پر انہیں ٹارچر کرتے ہیں۔ حالاں کہ ان دونوں باتوں سے صدقہ باطل ہو جاتا ہے۔ قرآنِ حکیم میں ہے ’’یٰایہا الذین آمنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن و الاذیٰ کالذی ینفق مالہ ریاء الناس و لا یومن باللہ و الیوم الآخر‘‘ اے ایمان والو! اپنے صدقے باطل نہ کرو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کو دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے۔ (بقرہ:۲۶۴)

یعنی جس طرح منافق دکھاوے کے لئے اپنا مال خرچ کرتا ہے اور اسے اس کا کوئی فائدہ نہیں، اس کا یہ عمل باطل ہے۔ اسی طرح اگر ایمان والا بھی صدقہ دے کر احسان جتائے یا تکلیف پہنچائے تو اس کا بھی یہ عمل باطل ہے۔ اسی لئے حدیث شریف میں ہے کہ چند اشخاص جنت میں نہ جائیں گے۔ احسان جتانے والا، والدین کا نافرمان، شرابی، جادوگر، کاہن اور دیوث۔

اسی طرح مومن کی ایذا رسانی بھی حرام ہے۔ حضور اکرم ا فرماتے ہیں ’’من اذیٰ مسلما فقد اذٓنی و من اذانی فقد اذی اللہ‘‘ جس نے کسی مسلمان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی۔

صدقہ و زکوٰۃ و خیرات دے کر مسلمان کو ایذا پہنچانا اپنے صدقہ و خیرات کو تباہ و برباد اور رائیگاں کرنا اور خود کو حق العبد میں گرفتار کرنا ہے۔ لہٰذا جو لوگ زکوٰۃ و خیرات دے کر احسان رکھتے ہیں، طعنہ و تشنیع کرتے یا ذہنی یا جسمانی تکلیف پہنچاتے ہیں ان کے صدقے کا اجر ان کے لئے آخرت میں کچھ بھی نہیں اور نہ انہیں دنیا میں اس کا کوئی فائدہ ہوگا۔ اسی لئے ایسے لوگوں پر زکوٰۃ کا اثر مرتب نہیں ہوتا۔ لہٰذا زکوٰۃ دہندگان کو چاہئے کہ وہ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں ، نرم خوئی سے پیش آئیں، احسان نہ جتائیں، طعنہ و تشنیع نہ کریں، اپنے اقوال و افعال نیز کردار سے ایذا نہ پہنچائیں تاکہ زکوٰۃ و صدقات کے فوائد انہیں حاصل ہو سکیں۔

(۳) پورے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرنا: جن چیزوں میں جتنی زکوٰۃ فرض ہے اس کا صحیح حساب کر کے ہر سال بہ تمام و کمال زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہے۔ کچھ لوگ زکوٰۃ تو دیتے ہیں مگر صحیح حساب کر کے زکوٰۃ نہیں نکالتے، بس جتنا جی میں آیا نکال دیا۔ کبھی کوئی زکوٰۃ و غیرہ کی وصولی کے لئے آگیا تو کچھ دے دیا ورنہ یوں ہی زکوٰۃ کی ادائیگی سے بے توجہی برتتے رہتے ہیں۔ حولانِ حول ہوتا رہتا ہے، اموالِ زکوٰۃ میں اضافہ ہوتا رہتا ہے مگر صحیح حساب کر کے ہر سال زکوٰۃ نکالنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ یہ بھی مال کی ہلاکت کا ایک سبب ہے۔

حضور پُر نور سید عالمﷺ فرماتے ہیں ’’ما خالطت الصدقۃ او مال الزکوٰۃ مالا الا فسدتہ‘‘ یعنی صدقہ اور زکوٰۃ کا مال جس مال میں بھی ملا ہوگا اسے تباہ و برباد کر دے گا۔ (بیہقی)

بعض ائمۂ کرام نے اس حدیث کا یہ معنی بیان فرمایا ہے کہ زکوٰۃ واجب ہوئی اور ادا نہ کی اور اپنے مال میں ملائے رہا تو یہ حرام اس حلال کو بھی ہلاک کر دے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کچھ مال کی زکوٰۃ ادا کی اور کچھ مال کی زکوٰۃ ادا نہ کی اور اس کا مال ہلاک ہوا یا تجارت وغیرہ میں نقصان تو اسی بعض کی وجہ سے ایسا ہوا ہے جس کی زکوٰۃ اس نے نہیں نکالی تھی۔ اسی طرح سال تمام وہنے کے بعد زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر بھی نہ کرے کہ یہ بھی گناہ ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے ’’یجب علی الفور عن تمام الحول حتی یاثم بتاخیرہا من غیر عذر‘‘ یعنی سال پورا ہوتے ہی فوراً زکوٰۃ دینا واجب ہے یہاں تک کہ بلا عذر تاخیر سے گنہ گار ہوگا۔

(۴) غیر مستحق کو زکوٰۃ دینا: زکوٰۃ و دیگر صدقاتِ واجبہ کی ادائیگی کے لئے تملیک فقیر شرط ہے، جسے زکوٰۃ دی جائے شرعاً اس کا فقیر ہونا ضروری ہے۔

فقیر: وہ شخص ہے جس کے پاس حاجت اصلیہ کے سوا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت یا اس قیمت کے برابر سامان نہ ہو۔ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ یونی چھ سو بارہ(۶۱۲) گرام چاندی یا اس کی قیمت یا اس قیمت کے برابر حاجتِ اصلیہ کے علاوہ سامان ہو وہ فقیر نہیں بلکہ غنی ہے۔ آج کل جس کے پاس پانچ ہزار ایک سو روپئے ہوں یا اتنے کا سامان موجود ہو اور حاجتِ اصلیہ اور دین وغیرہ سے فارغ ہوتو وہ فقیر نہیں، اسے زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ اگر ایسے کو دی جائے تو ادا نہ ہوگی۔

آج کل دس گرام سونے کی قیمت ساڑھے پانچ ہزار روپئے سے زائد ہے اس حساب سے جس کے پاس دس گرام یا اس سے زیادہ سونا، زیور یا کسی بھی شکل میں ہو وہ غنی ہے فقیر نہیں۔ اسی طرح ٹی وی، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر، کیمرہ، وغیرہ کا شمار حاجت اصلیہ میں نہیں ہے اگر یہ سب یا ان میں سے بعض کسی کے پاس ہو اور اس کی قیمت پانچ ہزار ایک روپئے یا اس سے زائد ہو اور اس پر دین وغیرہ نہ ہو تو وہ زکوٰۃ وغیرہ صدقاتِ واجبہ کا مستحق نہیں۔

کتنے اہلِ ثروت جو زکوٰۃ تو نکالتے ہیں لیکن دیتے وقت اس امر کا لحاظ نہیں رکھتے کہ شرعاً کون مستحق ہے اور کون نہیں ہے، انہیں صرف زکوٰۃ دینے سے غرض ہوتی ہے، بسا اوقات صرف اس بات کا خیال کر لیتے ہیں کہ یہ بیوہ ہے اور یتیم ہے، یہ نابینا ہے اور یہ اپاہج ہے، شرعی اعتبار سے غنی ہی کیوں نہ ہو پھر بھی بیوگی، یتیمی یا معذوری دیکھ کر زکوٰۃ کی رقم دیتے ہیں اس صورت میں نہ تو زکوٰۃ ادا ہوتی ہے اور نہ ہی دینے والا اپنے فرض سے سبکدوش ہوپاتا ہے۔

اسی طرح بہت سے زکوٰۃ دینے والے مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کا مالک نہیں بناتے بلکہ اسے بطور خود مستحقین کو ضرورت کے لئے خرچ کر دیتے ہیں۔ مثلاً کسی مستحق کے علاج میں زکوٰۃ کی رقم سے ہاسپیٹل کا بِل، ڈاکٹر کی فیس، گاڑی وغیرہ کا کرایہ ادا کرتے ہیں، مدرسہ وغیرہا کے لئے زمین کی خریداری، اس کی عمارت کی تعمیر، مدرسین و ملازمین وغیرہ کی تنخواہ میں زکوٰۃ کی رقم خرچ ہیں، ان صورتوں میںچوں کہ تملیک فقیر پانی نہ گئی تو پھر زکوٰۃ کس طرح ادا ہوگی؟ لہٰذا مذکورہ بالا امور میں اگر زکوٰۃ کی رقم خرچ کرنا ہو تو ان کے لئے حیلہ شرعی ضروری ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ زکوٰۃ کی رقم کا کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک بنا کر اسے اس پر قبضہ دے دیا جائے پھر وہ تعمیر مدرسہ، خرادیِ زمین، اجرت ملازمین یا علاج و معالجہ میں صرف کرنے کے لئے اپنی طرف سے ہبہ کرے تو اس صورت میں اس کا خرچ کرنا درست و صحیح ہوگا اور زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی۔ غیر مسلم، بد عقیدہ، بدمذہب خصوصاً وہابی، رافضی، دیوبندی، ملحد وغیرہ کو زکوٰہ دینا حرام اور اگر دے دی تو ہرگز ادا نہ ہوگی۔

(۵) مستحق اعزہ کو چھوڑ کر دوسروں کو دینا: جن کے اعزہ و رشتہ دار زکوٰۃ و غیرہ کے شرعاً مستحق ہوں وہ انہیں نہ دے اور دوسروں کو دیتا پھرے تو اس کا صدقہ قبول نہیں۔ حضور اقدس ا فرماتے ہیں ’’یا امۃ محمد والذی بعثنی بالحق لا یقبل اللہ صدقۃ من رجل و لہ قرابۃ محتاجون الی صلتہ و یصرفہا الی غیرہم والذی نفسی بیدہ لا ینظر اللہ الیہ یوم القیامۃ‘‘

یعنی اے امت محمد (ﷺ) قسم اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا، اللہ تعالیٰ اس کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے رشتہ دار اس کے سلوک کے محتاج ہوں اور وہ انہیں چھوڑ کر اوروں پر تصدق کرے۔ قسم اس کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، اللہ تعالیٰ بروزِ قیامت ا س پر نظر نہ فرمائے گا۔

اپنے رشتہ داروں کو دینا باعثِ انگشت نمائی نہیں بلکہ اس میں دونا ثواب ہے۔ خود سرورِ کائنات ا رشتہ داروں کو صدقہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں ’’لہما اجران اجر القرابۃ و اجر الصدقۃ‘‘ ان کے لئے دو ثواب ہوں گے، ایک ثواب قرابت دوسرا تصدق کا ثواب۔ (بخاری و مسلم)

نیز حضور اقدس ا فرماتے ہیں ’’الصدقۃ علی المسکین صدقۃ و علی ذی الرحم ثنتان صدقۃ و صلۃ‘‘

مسکین کو دینا اکہرا صدقہ ہے اور رشتہ دار کو دینا دوہرا۔ ایک تصدق اور ایک صلہ رحم۔ (نسائی و ترمذی)

لہٰذا وہ رشتہ دار جنہیں صدقات واجبہ زکوٰۃ و غیرہ دینا جائز ہے، اگر وہ واقعی مستحق ہوں تو پہلے انہیں زکوٰۃ دی جائے بعد میں دوسروں کو۔

اپنی اصل یعنی ماں، باپ، دادی، دادا، نانی، نانا وغیرہم اور اپنی اولاد یعنی بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ نواسی وغیرہم کو زکوٰۃ و غیرہ صدقاتِ واجبہ نہیں دے سکتے۔ یوں ہی عورت اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا۔ ان کے علاوہ رشتہ دار مثلاً بھائی، بہن، بھتیجہ، بھانجہ، خالہ، ماموں، چچا، پھوپھی، چچی، خالہ زاد، ماموں زاد بھائی بہن وغیرہ اگر مستحق زکوٰۃ ہیں تو انہیں دینا افضل ہے۔ ان کو اگر نہ دیا جائے تو اللہ تعالیٰ صدقہ قبول نہ فرمائے گا۔

اہلِ ثروت حضرات اگر مذکورہ بالا امور پر توجہ دیں، محض اللہ و رسول کی رضا کے لئے صدقہ و خیرات کریں، احسان جتانے اور ایذا پہنچانے سے باز رہیں، صحیح حساب کر کے زکوٰۃ نکالیں، مستحقین ہی کو زکوٰۃ وغیرہ دیں اور صلہ رحمہ کا خیال رکھیں تو زکوٰۃ کی ادائیگی ان کے حق میں انشاء اللہ المولیٰ تعالیٰ ضرور مؤثر ہوگی۔ ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین۔ رب کریم ہم سب کو اخلاص کی توفیق سے نوازے۔

آمین بجاہ سید المرسلین و صلی اللہ تعالیٰ علی سیدنا محمد و آلہ و صحبہ اجمعین و بارک و سلم

مفتی محمود اختر قادری