نماز کے لیئے وضو جنابت کے لئے غسل اور پانی سے استنجاء

حدیث نمبر :353

روایت ہے حضرت ابوایوب و جابر و انس سے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک ہونا پسند کرتے ہیں اور اﷲ ستھروں کو پسند فرماتاہے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے انصار کے گروہ اﷲ نے تمہاری پاکی کی بہت تعریف کی ہے تمہاری کیسی پاکی ہے۲؎ وہ بولے کہ ہم نماز کے لیئے وضو جنابت کے لئے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجاء ۳؎ تو فرمایا کہ وہ یہ ہی پاکی ہے اسے لازم کرلو ۴؎(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ اس آیت میں مسجد قباء کی تعریف فرمائی گئی ہے،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے،یعنی چونکہ مسجد کے آس پاس انصار رہتے ہیں،اور اس میں وہی نماز پڑھتے ہیں،یہ بڑے پاک لوگ ہیں،آپ بھی وہاں نماز پڑھاکریں۔اس سے معلوم ہوا کہ جس مسجد کو بزرگوں نے بنایا ہو،یا بزرگوں نے وہاں نمازیں پڑھی ہوں،یا اس کے قریب بزرگ رہتے ہوں،یا دفن ہوں وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے اور ارادۃً وہاں جا کر نماز پڑھنا رب کو پسند ہے۔اس سے شریعت اورتصوف کے بہت سے مسائل حاصل ہوسکتے ہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری تفسیر”نورالعرفان”میں دیکھو۔

۲؎ یہ سوال و جواب لوگوں کو سنانے کے لیے ہے،ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر ایک کے عمل سے واقف ہیں،فرماتے ہیں”لَایُخْفٰی عَلیَّ صَلوٰتُکُمْ”الخ۔

۳؎ ڈھیلوں کے بعد پانی سےبھی استنجاء کرلیتے ہیں،یاصرف پانی سے ہی استنجاءکرتے ہیں نہ کہ ڈھیلوں سے،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں،جیسا کہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے۔دوسرے لوگ صرف ڈھیلوں پر کفایت کرتے ہیں مگر یہ کفایت خشک پاخانے میں ہوسکتی ہے،دست کی صورت میں دھونا فرض ہے جب کہ روپے سے زیادہ جگہ لتھڑ جائے۔

۴؎ یعنی پانی سے استنجاء لازم کرلو۔نماز کے لیئے وضوءاور جنابت سے غسل تو سب حضرات ہی کرتے تھے۔

آپ کو وضو و نماز سکھائی

حدیث نمبر :350

روایت ہے حضرت زید ابن حارثہ سے ۱؎ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی کہ حضرت جبریل پہلی وحی میں آپ کے پاس آئے ۲؎ تو آپ کو وضو و نماز سکھائی ۳؎ پھر جب وضو سے فارغ ہوئے تو پانی کا چلو لیا اورشرمگاہ پر چھڑکا ۴؎(احمدودارقطنی)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابواسامہ ہے،آپ کی والدہ سعد بنت ثعلبہ ہیں،آپ کو آٹھ سال کی عمر میں قبیلہ بنی معن نے پکڑلیا،اور بازار عکاظ میں حکیم ابن خویلد کے ہاتھ چارسو درہم کے عوض فروخت کیا،حکیم نے آپ کو اپنی پھوپھی خدیجۃ الکبریٰ کے واسطے خریدا،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بی بی خدیجہ رضی اللہ عنھا سے نکاح کیا تو انہوں نے حضرت زیدکوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نذرکردیا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزادکرکے اپنا بیٹا بنالیا اور اپنی لونڈی ام ایمن سے نکاح کردیا،جس سے اسامہ ابن زید پیدا ہوئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نکاح زینب بنت جحش سے کردیا جو بعد میں حضور کے نکاح میں آئیں۔آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑے پیارےتھےحتی کہ آپ کا شمار اہل بیت پاک میں ہوتا ہے اور لوگ آپ کو زید ابن محمد کہا کرتے تھے۔تب یہ آیت اتری”اُدْعُوۡہُمْ لِاٰبَآئِہِمْ”تمام صحابہ رضی اللہ عنھم میں صرف آپ کا ہی نام قرآن پاک میں آیا ہے”فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا” آپ کی عمرپچپن سال ہوئی،جمادی الاولٰی ۸ھ ؁غزوۂ موتیٰ میں شہید ہوئے۔

۲؎ پہلی وحی سے مراد فرضیت نمازیعنی شبِ معراج کے بعد کی پہلی وحی ہے جو نبوت کے تیرھویں سال ہوئی،کیونکہ اس سے پہلے نہ نماز آئی تھی نہ وضو۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اجتہاد سے یہ سب کچھ کیا کرتے تھے۔لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ پہلی وحی”اِقْرَاۡ بِاسْمِ رَبِّکَ”ہے۔

۳؎ امت کی تعلیم کے لیئے ورنہ حضور خود تو پہلے ہی سب کچھ جانتے تھے،نبوت سے پہلے غارثور میں اعتکاف اور عبادت کرتے تھے،مگر اب یہ احکام شرعیہٍ بنے،لہذا جبرئیل امین نے سکھایا نہیں،بلکہ رب کی طرف سے پہنچایا،لہذا جبرائیل امین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں،استاد نہیں،سکھانے والا رب ہے۔

۴؎ تاکہ حضور اپنی امت کو یہ سکھائیں۔اس کی شرح پہلے گزر چکی کہ یہ وسوسہ کا علاج ہے۔

جھوٹ کی کچھ مروَّجہ صورتیں

جھوٹ کی کچھ مروَّجہ صورتیں

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

تحریر : سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی

صدر المدرسین : دارالعلوم محبوبِ سبحانی، کُرلا ویسٹ، ممبئی

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اؤتُمِنَ خَانَ [الصحیح للامام البخاری ، کتاب الایمان ، باب علامۃ المنافق ، رقم الحدیث: ۳۳]ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں ہیں [۱] جب بات کرے تو جھوٹ بولے [۲] جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے[۳] جب اُس کے پاس کوئی امانت رکھی جاے تو اُس میں خیانت کرے ۔یعنی مسلمان کی شان سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ جھوٹ بولے ، وعدہ خلافی کرے اور امانتوں میں خیانت کرے ۔ ایسا کرنا تو منافقوں کا کام ہے جو کہ اللہ و رسول پر ایمان نہیں رکھتے ؛لیکن جو لوگ اللہ و رسول پر یقینِ کامل رکھتے ہیں وہ صداقت کے پیکر ہوتے ہیں ، کیے ہوے وعدہ کو پورا کرنا اُن کی فطرت ہوتی ہے اور وہ خیانت سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔حدیثِ پاک میں آقاے دو عالَم ﷺنے اسلام کے بنیادی اوصاف بیان فرماے ہیں ، اِسی لیے بعض روایتوں میں یہ آیا کہ جو لوگ اِن اوصاف سے عاری ہوں وہ مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں ، اگرچہ وہ نمازی ، روزے دار اور مدعیٔ ایمان ہوں ۔

کچھ نادانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دین صرف چند فرائض و واجبات پر عمل کر لینے کا نام ہے ۔ نماز پڑھ لی ، روزے رکھ لیے ، حجِّ بیت اللہ کے ساتھ ہر سال ایک عمرہ کر لیا اور زکوٰۃ کے نام پر کچھ رقم غریبوں اور مسکینوں کو دے کر فارغ ہو گیے۔ایسے جاہلوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اِن باتوں کے علاوہ ہم سے کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں ہوگا ۔ اِسی لیے بہت سے نمازیوں اور روزے داروں بلکہ حاجی صاحبان کو جھوٹ بولتے ، مکاری کرتے ، ناجائز طریقے سے تجارت کرتے ، امانت میں خیانت کرتے ، گالی گلوج کرتے ، سودی کاروبار کرتے ، رشوت خوری کرتے ،ناپ تول میں کمی کرتے اور بہت سے ایسے کاموں میں مبتلا دیکھا جاتا ہے جن کی مذہبِ اسلام میں ایک ذرّے کے برابر ایک لمحہ بھر کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ایسے لوگ نماز ، روزہ اور حج و زکوۃ کا اہتمام کرکے ، سر پر ٹوپی رکھ کر یا عِمامہ باندھ کراور چہرے پر ڈاڑھی سجا کرخود کو بہت بڑا متقی وپارسا خیال کرتے ہیں حالانکہ دیگر ناجائز کاموں اور حرام کاریوں میں مبتلا ہونے کے سبب یہ لوگ بد ترین فاسق و فاجر ہوتے ہیں ۔

جو چیزیں مومن کو فاسق و فاجر بنا کر کمالِ ایمان سے بہت دور کر دیتی ہیں ،اُن میں سے تین اہم چیزوں کا ذکر حدیثِ مذکور میں کیا گیا ہے ، جن کے اندر یہ تینوں باتیں ہو ں وہ منافقوں جیسے کام کر رہے ہیں ، ایسے لوگ صحیح معنوں میں مومن کہلانے کا حق نہیں رکھتے ۔عام مسلمان کے ذہنوں میں حدیثِ پاک میں مذکور تینوں عیبوں کا تصور بہت ہی محدود ہے ، حالاں کہ اِن کے مفہوم میں بہت زیادہ وسعت ہے ، اتنی وسعت کہ اگر کوئی انسان زندگی کے تمام شعبوں میں اِن تینوں برائیوں سے بچتا رہے تویقینا وہ اللہ رب العزت کا صالح بندہ اور حضور ﷺ کا سچا غلام ہوگا ۔

نفاق کی سب سی پہلی علامت ’’جھوٹ بولنا‘‘ ہے ۔ جھوٹ بولنا حرام و ناجائز ہے ۔ایسا حرام و ناجائز کہ آج تک کسی بھی قابلِ شمار مذہب و مسلک میں اِسے جائز و درست قرار نہیں دیا گیا ، حتی کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ بھی اِسے بہت برا سمجھتے تھے۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے کفار و مشرکین سیکڑوں قسم کی برائیوں میں مبتلا ہونے کے باوجود جھوٹ جیسی بیماری سے بدرجۂ غایت نفرت کیا کرتے تھے ۔ گناہوں کا پلندہ ہونے اور رب تعالیٰ کی توحید کے انکاری ہونے باوجود کذب بیانی سے کوسوں دور رہا کرتے تھے ؛ کیوں کہ خلافِ واقعہ بات کرنا اُن کی غیرت کے خلاف تھی ۔

مگر افسوس صد افسوس!کہ دیگر مہلک امراض کی طرح ’’کذب بیانی ‘‘کے خطرناک جراثیم بھی امتِ مسلمہ کی رگوں میں داخل ہو چکے ہیں ۔ عجیب تماشا ہے ! لوگ اِس دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہیں کہ گویا یہ گناہ ہے ہی نہیں ۔ اکثر مسلم آبادی جھوٹ میں اِس قدر گرفتار ہے کہ اگر سروے کرکے کذب بیانی کا فی صد نکالا جاے تو تقریباً مسلمانوں کی ۲۰ پرسنٹ سے زائد باتیں جھوٹی اور خلافِ واقعہ نکلیں گی۔ حد تو یہ ہے کہ چھوٹے بڑوں سے ، بڑے چھوٹوں سے ،بچے ماں باپ سے ، والدین اپنے بچوں سے ،طلبہ اساتذہ سے اور اساتذہ اپنے طلبہ سے ،تاجر گاہکوں سے اور گاہک اپنے تاجروں سے ،دوست دوست سے اور پڑوسی اپنے پڑوسی سے جھوٹ بولنے میں نہ عار محسوس کرتے ہیں نہ کسی قسم کی جھجھک ۔ یہ جھوٹ اِس قدر تیزی کے ساتھ مسلم معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے کہ اب وہ لوگ جو با قاعدہ حلال و حرام کی تمیز کرتے ہیں ، جائز و نا جائز پر نگاہیں رکھتے ہیں اور شریعت پر چلنے کا اہتمام کرتے ہیں ، اُنھوں سے بھی جھوٹ کی بہت سی قسموں کو حرام و ناجائز ہونے سے خارج سمجھ لیا ہے ؛ کیوں کہ اُن کے گمانِ باطل کے مطابق وہ چیزیں جھوٹ میں داخل ہی نہیں ہیں ۔ اِس لیے ہر صاحبِ ایمان پر لازم و ضروری ہے کہ جھوٹ کی تمام صورتوں کو جانے ، پہچانے اور پھر اُن سے بچنے کی کامیاب کوشش کرے ۔ ورنہ بروزِ قیامت یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں مل سکے گا کہ ہمیں کچھ پتا نہ تھا ، ہماری زبان سے لا علمی میں جھوٹ صادر ہو گیا یا ہم سے نادانی میں جھوٹ سرز د ہو گیا ۔

اب ذیل میں کذب بیانی [جھوٹ] کی وہ مروَّجہ صورتیں بیان کی جا رہی ہیں جو بد قسمتی سے مسلم معاشرے میں اِس قدر رواج پا چکی ہیں کہ بالعموم لوگ اُنھیں غلط اور نا جائز نہیں سمجھتے ، بلکہ فخریہ علی الاعلان سر انجام دیتے ہیں ۔حالاں کہ وہ نا جائز و حرام ہیں ۔

جھوٹا میڈیکل سرٹیفکٹ بنوانا :

جھوٹا میڈیکل سرٹیفکٹ بنانا یا بنوانا جھوٹ میں شامل ہے ، لہذا جھوٹ کی دوسری صورتوں کی طرح یہ بھی نا جائز و حرام ہے ۔جھوٹے سر ٹیفکٹ کے فاسد جراثیم مسلم معاشرے میں اِس طرح داخل ہو چکے ہیں کہ اچھے خاصے حاجی و نمازی صاحبان بھی اِس میں اِس طرح ملوث ہیں کہ اِ س کے جھوٹ ، غلط اور فراڈ ہونے کا تصور بھی اُن کے دماغ میں نہیں آتا ۔کمپنی سے بلا رخصت غائب ہونے والے ملازمین ، اسکول و کالجز سے بلا اجازت غیر حاضر رہنے والے طلبہ و معلمین جھوٹا سرٹیفکٹ بنوا کر اپنی کمپنی یا کالج میں اِس لیے جمع کرتے ہیں کہ مواخذہ[پوچھ تاچھ] یا تنخواہ کٹنے سے بچ جائیں، یا پھرمزید چھٹیاں حاصل کرنے کے لیے اِسے بنوا کر بھجوا دیتے ہیں ۔ بعض حضرات تواپنے دوست و احباب سے ایسے جھوٹے سرٹیفکٹ بنوانے کا ذکر اِس انداز سے کرتے ہیں جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو اوراس کے جواز میں کوئی شبہ نہ ہو ، حالاں کہ اِس کا جھوٹ ہونا مسلَّمات میں سے ہے ۔ لہذا مسلمانوں کو اِس طرح کے فراڈ اور ایسی کذب بیانی سے بچنا چاہیے !

جھوٹی سفارش کرنا :

جھوٹی سفارش کرنا بھی جھوٹ کی مروجہ شکلوں میں سے ایک نا جائز شکل ہے ۔ مگر صد افسوس! کہ اِسے بھی بہت سے مسلمانوں نے جھوٹ ہونے سے خارج کر دیا ہے ۔ اِس روحانی مرض میں لوگوں کا ایسا ابتلاے عام ہے کہ الامان والحفیظ ۔جاہل تو جاہل اچھے خاصے پڑھے لکھے دین دار لوگ بھی اِس میں گرفتار نظر آتے ہیں ۔ نوکری دلانے ، اسکول یا مدرسے میں داخلہ کرانے ، پاسپورٹ وغیرہ سرکاری کاغذات بنوانے اور زمین و جائداد کی خریداری کے لیے دھڑلِّے سے جھوٹی سفارشیں کی جا رہی ہیں ۔ لا علمی میں کسی کی جھوٹی سفارش ہو جاے توخیر شرعاً جرم نہیں ، مگر قصداً جان بوجھ کر جھوٹی سفارش کرنا یقیناً نا جائز و حرام ہے ، شریعتِ اسلامیہ میں اِس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ایسے لوگوں کو خدا کا خوف کرنا چاہیے اور آخرت کے سخت محاسبہ سے ڈرنا چاہیے ۔ اللہ ربُّ العزت قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے : مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ [سورۂ ق ، آیت نمبر : ۱۸]ترجمہ: وہ جو بات بھی کرتا ہے اس کو لکھنے کے لیے اس کا محافظ فرشتہ منتظر رہتا ہے ۔مفہوم ِ آیت : تمھاری زبان سے نکلنے والا ہر لفظ تمھارے نامۂ اعمال میں رکارڈ ہو رہا ہے ۔لہذا ہم سب کو اِس خوش نما جھوٹ سے بھی لازماً پرہیز کرنا چاہیے !

مذاق میں جھوٹ بولنا :

مذاق و تفریح میں بولا جانے والا جھوٹ بھی جھوٹ ہی ہوتا ہے ، مگر بہت سے مسلمان مذاق میں جھوت بولنے کو برا نہیں سمجھتے ، بلکہ بعض نادان تو اِسے اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے تفریح میں بھی زبان سے جھوٹ نکالنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے ۔چنانچہ آقاے دو عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :وَیْلٌ لِّلَّذِیْ یُحَدِّثُ فَیَکْذِبُ لِیُضْحِکَ بِہٖ الْقَوْمَ وَیْلٌ لَّہٗ وَیْلٌ لَّہٗ ۔[السنن لابی داؤد ، کتاب الادب ، باب التشدید فی الکذب ، رقم الحدیث: ۴۹۹۲ ] ترجمہ:جو شخص جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساے اُس پر افسوس ہے ، افسوس ہے ، افسوس ہے ۔یہ ترجمہ میں نے بڑی احتیاط سے کیا ہے ۔ورنہ سخت لب و لہجہ میں اس کا ترجمہ کیا جاے تو یوں ہوگا ’’تباہی و بربادی یا دردناک عذاب ہے اُس کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے کذب بیانی سے کام لے ‘‘ ایسا بھی نہیں کہ مذہبِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تفریح و مذاق سے یکسر محروم کر رکھا ہے ، بلکہ اس نے تفریحِ طبع کے لیے پاکیزہ اور صاف ستھرے مذاق کی اجازت دی ہے ۔ہمارے نبی آقاے دو عالم ﷺ نے بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے خوش طبعی اور مذاق کی باتیں ارشاد فرمائی ہیں ۔ کتبِ احادیث میں کثیر روایتیں موجود ہیں ، لیکن آپ ﷺ نے مذاق میں بھی کبھی کذب بیانی سے کام نہیں لیا ،بلکہ ہمیشہ آپ کی زبانِ اقدس سے حق ہی جاری ہوا ۔

شمائلِ ترمذی کے اندر یہ روایت موجود ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں ایک خاتون نے آکر عرض کیا :حضور ! دعا فرما دیں کہ اللہ عز وجل مجھے جنت میں پہنچا دے ! حضور ﷺ نے[از راہِ مزاح] فرمایا: کوئی بھی بڑھیا جنت میں نہیں جاے گی ۔یہ سن وہ بوڑھی خاتون زار و قطار رونے لگیں ۔ حضور ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ کوئی عورت اِس حالت میں جنت میں نہیں جاے گی کہ وہ بوڑھی ہو ، بلکہ جوان ہو کر جاے گی ۔[شمائل الترمذی ، باب ما جاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ ﷺ ]آپ غور فرمائیں کہ : آقا ﷺ نے مذاق میں کوئی ایسی بات نہیں فرمائی جو خلافِ واقعہ ہو ۔ حضور ﷺ کی پر لطف مذاق کی ایسی متعدد روایتیں موجود ہیں۔

شمائلِ ترمذی کی یہ روایت بھی دیکھیں ! کہ:ایک دیہاتی صحابی آپ ﷺ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں آکر عرض گزار ہوے ، یا رسول اللہ !مجھے ایک اونٹنی عنایت فرما دیجیے !اُن کی فریاد سن کرحضور ﷺ نے[از راہِ مذاق]ارشاد فرمایا : ہم تمھیں ایک اونٹنی کا بچہ دیں گے ۔اُنھوں نے کہا: حضور ! مجھے سواری کا جانور چاہیے ! اونٹنی کا بچہ میرے کس کام کا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ارے [نادان]تمھیں جو دیا جاے گا وہ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوگا ۔[شمائل الترمذی ، باب ما جاء فی مزاح النبی ﷺ ]

لہذا ہمیں اپنی زبان سنبھال کر استعمال کرنی چاہیے ، بطورِ تفریح و مذاق کہی جانے والی باتیں بھی فحش و عریانیت اور کذب بیابی سے پاک ہونی چاہئیں اور مذاق کے معاملات میں بھی اپنے حبیب ،کائنات کی طبیب حضور سرورِ عالم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کرنا چاہیے !

بچوں سے جھوٹ بولنا کیسا ؟: بعض والدین اپنے بچوں کو بہلانے یا ٹرخانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں ، مثلاً چاکلیٹ یا کھلونا دلانے کا یاباہر لے جانے کا جھوٹا وعدہ کرتے ہیں اور اُس وقت اُن کے حاشیۂ ذہن میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ اُنھوں نے جھوٹ بول کر اپنے نامۂ اعمال میں ایک گناہ کا اضافہ کر لیا ہے ۔ صحابۂ رسول حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ :

دَعَتْنِیْ اُمِّیْ یَوْماً وَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ قَاعِدٌ فِیْ بَیْتِنَا فَقَالَتْ ھَا تَعَالَ اُعْطِکَ ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ وَمَا اَرَدْتِّ اَنْ تُعْطِیہِ ، قَالَتْ: اُعْطِیْہِ تَمْرًا ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اَمَا اِنَّکِ لَوْ لَمْ تُعْطیِہِ شَیْئًا کُتِبَتْ عَلَیْکِ کِذْبَۃٌ ۔[السنن لابی داؤد ، کتاب الادب ، باب التشدید فی الکذب ، رقم الحدیث : ۴۹۹۳]

ترجمہ: ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور کہا : اِدھر آ !میں تجھے کچھ دوں گی ۔اس وقت رسول اللہ ﷺ میرے غریب خانہ پر جلوہ بار تھے ۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے میری ماں سے فرمایا :تونے اِسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : میں اِسے کھجور دوں گی ۔ یہ سن حضور ﷺ نے ماں سے فرمایا: اگر تو اِسے کچھ نہ دیتی تو تیرے نامۂ اعمال میں ایک گناہ لکھا جاتا ۔

اِس حدیثِ پاک سے ہمیں یہ سبق ملا کہ والدین پر واجب ہے کہ محض بہلانے کے لیے اپنے بچوں سے جھوٹ نہ بولیں ، اُن سے وعدہ خلافی نہ کریں ،بلکہ اُن سے ہمیشہ سچ بولیں ، تاکہ بچوں کی دلوں میں سچائی سے الفت ومحبت اور کذب بیانی سے نفرت و بیزاری پیدا ہو ۔ آج مسلم معاشرے میں پروان چڑھنے والے بہت سے بچوں کے سینوں سے جھوٹ کی برائی اِس لیے نکل چکی ہے کہ اُن کی پرورش جھوٹ اور وعدہ خلافی جیسے گندے ماحول میں ہوئی ہے ۔اگر بچوں کو امانت و صداقت کا پیکر بنانا ہے تو گھروں میں دینی ماحول بپا کرنا ہوگا۔

جھوٹے کیریکٹر سر ٹیفکٹ کی حیثیت :

آج کل جھوٹا کیریکٹر سرٹیفکٹ بنانے یا بنوانے کا بھی کا فی رواج ہو چکا ہے ۔عوام تو خیر عوام ہے بہت سے خواص کہلوانے بھی اِس مرض میں مبتلا ہیں ۔شاید ہی کسی کے دل و دماغ میں اِس کی حرمت کا خیال آتا ہو ۔حالاں کہ جھوٹا سرٹیفکٹ حاصل کرنا یا دوسروں کے لیے جاری کرنا ’’کذب و دغا بازی‘‘ کے زمرے میں آنے کی وجہ سے نا جائز ہے ۔کیوں کہ اِس طرح کے سرٹیفکٹ کو جاری کرنے والا کذب بیانی کرتے ہوے اُس میں یہ لکھتا ہے کہ : مثلاً میں اِنھیں پانچ سال سے جانتا ہوں ، اِنھیں پانچ سال کا تجربہ ہے ، اِ ن کااخلاق و کردار بہت اچھا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔تعجب و افسوس اُس وقت زیادہ ہوتا ہے جب مدارسِ اسلامیہ میں داخلہ لینے یا تقرری کرانے کے لیے پڑھے لکھے لوگ اِس قسم کا فراڈ کرتے نظر آتے ہیں ۔بلکہ بعض نادان تو اِس قسم کی حرکت کو نہ صرف یہ کہ درست بلکہ کارِ ثواب سمجھتے ہیں ۔لا حولَ ولا قوۃَ الا باللّٰہ العلیِّ العظیمِ ۔

ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے ! کہ سرٹیفکٹ جاری کرنا یا اس پر دست خط کرنا ایک قسم کی گواہی ہے، سرٹیفکٹ یا تصدیق نامہ جاری کرنے والا در اصل ’’گواہ‘‘ ہوتا ہے ۔ کسی کے بارے میں گواہی اُس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک اس کے بارے میں یقین سے معلوم نہ ہو ۔اور یہ ایسی معروف و مشہور بات ہے جسے ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے، لہذا بغیر علم کے کسی کے کیریکٹر و کردار کی گواہی دینا درست نہیں ہے ۔ بلکہ اگر غور کیا جاے تو معلوم ہوگا کہ یہ عمل ’’گناہِ کبیرہ‘‘ ہے ۔ کیوں کہ حدیثِ پاک میں’’ شھادۃ زُور‘‘ یعنی جھوٹی گواہی کو نہ صرف بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے بلکہ آقاے دو عالم ﷺ نے اِسے شرک کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا ہے ۔چنانچہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : :

کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَآئِرِ ۔ ثَلَاثاً ۔اَلاِشْرَاکُ بِاللہِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ اَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ ۔ وَ کَانَ رَسُوْ لُ اللہِ ﷺ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا لَیْتَہٗ سَکَتَ ۔ [ الصحیح للامام مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان الکبائر و اکبرھا ۔ رقم الحدیث : ۲۶۹]

ترجمہ: ہم غلامانِ مصطفی اپنے آقا ﷺ کی بارگاہ میں بیٹھے ہوے تھے ۔ تبھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمھیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ حضور ﷺ نے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ عز وجل کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ۔ والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا۔آقاے کریم ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوے تھے ،جب’’ جھوٹی گواہی‘‘ کا ذکر آیا تو آپ وﷺ بالکل سیدھے بیٹھ گیے اور بار بار’’شھادۃ الزور ‘‘ کے الفاظ دہراتے رہے ، یہاں تک کہ ہماری تمنا ہوئی کہ حضو ر ﷺ خاموش ہو جائیں ۔

جھوٹی گواہی کی شناعت و خباثت کا اندازہ اس بات لگائیں کہ آقاے دو عالم ﷺ نے صرف یہی نہیں کہ گناہِ کبیرہ شمار کراتے وقت اِس کا ذکر ’’شرک‘‘ کے ساتھ کیا ، بلکہ اِس کے ذکر کے وقت سیدھے بیٹھ کر اِس کی شدتِ حرمت پر تنبیہ بھی فرمائی ۔

در اصل اِس حدیثِ پاک میں آقاے دو عالم ﷺ نے سنتِ اِلٰہیہ پر عمل کیا ہے ؛ کیوں کہ خود پروردگارِ عالَم نے جھوٹی گواہی کو شرکِ اکبر اور بت پرستی کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے اور اپنے بندوں کو اِن دونوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہے ، فرماتا ہے :

فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔[سورۃ الحج ، رقم الآیت : ۳۰]ترجمہ: اے میرے بندو! تم بت پرستی کی غلاظت اور ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی بچو !

اِ س آیتِ کریمہ اور حدیثِ نبوی سے اُنھیں عبرت حاصل کرنی چاہیے جو جھوٹے تصدیق نامے اور کیریکٹر سر ٹیفکٹ بناتے یا بنواتے پھر رہے ہیںاور اللہ کے بندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بلکہ غور کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ جھوٹی گواہی دینا جھوٹ بولنے سے زیادہ نقصان دن اور خطرناک ہے ،اس لیے کہ جھوٹی گواہی میں ’’کذب بیانی‘‘ کے ساتھ دوسروں کو ’’گمراہ کرنے‘‘ کے عناصر بھی پاے جاتے ہیں، کیوں کہ جھوٹا سرٹیفکٹ جس کے پاس پہنچے گا بادی النظر میں وہ یہی سمجھے گا کہ یہ صاحب بڑے نیک ہیں اور پھر اس پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ معاملات کرے گا ، جس کے نتیجے میں اُسے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ۔لہذا جھوٹے تصدیق نامے بنانے اور بنوانے سے پرہیز کرنا لازم وضروری ہے ۔

بلا تحقیق کسی مدرسے کی تصدیق کرنا :

بعض لوگ علما یا اربابِ اقتدار یا کسی صاحبِ رسوخ کے پاس آکر اپنے ادارے کے کاغذات دکھا کر ’’تصدیق نامہ ‘‘ لکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور تصدیق کرنے والا بلا تحقیق و تفتیش اپنے لیٹر پیڈ پر یہ لکھ دیتا ہے کہ ’’ میں اِس ادارے کو جانتا ہوں ، یہاں شاندار دینی تعلیم ہوتی ہے ، دارالاقامہ میں کافی تعداد میں طلبہ بھی رہتے ہیں ،نظم ونسق ماشاء اللہ کافی بہتر چل رہا ہے ، آپ حضرات ادارے کی تعمیر و ترقی کے لیے تعاون فرمائیں ‘‘حالاں کہ تصدیق کرانے والوں میں بہت سے حضرات اعلیٰ درجے کے مکار اور فراڈی ہوتے ہیں ، محض اپنی چالاکی اور چرب زبانی سے لوگوں سے اپنے فرضی مدرسوں کے لیے تصدیق نامے حاصل کر لیتے ہیںاور پھر دھڑلِّے سے چندہ کرتے اور خوب دادِ عیش دیتے ہیں ۔ اِس لیے بلا تحقیق و معلومات کیے کسی بھی نامعلوم شخص کے کہنے پر تصدیق نامہ دینے سے گریز کیا جاے ، کیوں کہ یہ بھی جھوٹی گواہی دینے کی زمرے میں داخل ہونے کے سبب ممنوع ہے ۔

خود ساختہ مولانا یا مفتی بننا کیسا ؟:

بعض لوگ عالم یا مفتی نہیں ہوتے یعنی با ضابطہ کسی ادارے کے فارغ التحصیل نہیں ہوتے ،مگر بڑے ناز و فخر سے خود کو عالم ،مولانا یا مفتی کہلواتے ہیں ، بلکہ اگر اُن کے نام کے آگے اِس قسم کے القاب و آداب مذکور نہ ہوں تو بڑی برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے حضرات بھی کذب بیان کے جرم میں مبتلا ہیں ۔ بعض شہروں میں مثلاً ممبئی میں القاب و آداب کی ایسی درگت بنی ہوئی ہے کہ الامان و الحفیظ ۔ یہاں ہر عالمانہ وضع قطع رکھنے والا کسی جید عالم یا تجربہ کار مفتی سے کم نہیں ہے ، بلکہ اب حالات یہ ہیں کہ جسے بھی عالم ، فاضل یامفت کا مفتی بننا ہوتا ہے وہ بڑے شہروں کو رخ کرلیتاہے۔بعض پوسٹروں میں تو صرف مفتیانِ کرام اور مفکرانِ عظام ہی جلوہ بار نظر آتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ بعض نا ہنجار قسم کے لوگ اپنے جلسوں کی جھوٹی شان پڑھانے کے لیے بعض حفاظ و قراء بلکہ بعض طلبہ کو بھی بھاری بھرکم القاب سے نواز دیتے ہیں ۔

یہ تمام صورتیں کذب بیانی کے زمرے میں شامل ہیں ، لہذا نا جائز ہیں ۔ بعض حضرات اپنے بھولے پن کے سبب ہر ڈاڑھی ٹوپے اور ہر جبے قبے والے کو عالمِ دین سمجھ لیتے ہیں بلکہ انھیں ’’ عالم یا مفتی صاحب‘‘ کہہ کر پکارتے بھی ہیں ۔ ایسے لوگوں کی اصلاح کی جاے اور بتایا جاے کہ اسلامی وضع رکھنے والا ہر شخص مفتی نہیں ہوتا ۔ بلکہ جس غیرِ عالم کو عالم کہہ کر پکارا جاے ،اُس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ فوراًپکارنے والی کی اصلاح کرے اور آئندہ اِس قسم کے القاب کے ساتھ پکارنے سے گریز کرنے کی تلقین کرے ۔اگر ایسا ہو گیا تو ان شاء اللہ تعالی بہت جلد اِس قسم کی برائیاں دم توڑ دیں گی ۔

عیب دار کو بے عیب اور نقلی کو اصلی بتانا کیسا ؟:

بازار و مارکیٹ میں ہر قسم کی چیزیں بیچی جاتی ہیں ،بعض چیزیں عیب دار اور بعض بے عیب ہوتی ہیں ، اِسی طرح بعض چیزیں اصلی جب کہ بعض چیزیں نقلی ہوا کرتی ہیں ، مگر ہوتا یہ ہے کہ ہر تاجر اپنے مال کو اچھا اور ہر دکان دار اپنے سامان کو بے عیب بتاتا ہے ۔ یہ بھی دھوکہ ، فریب اور کذب بیانی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے حرام و ناجائز ہے ، بلکہ اِس کا غلط اور فراڈ ہونا ایسا واضح ہے کہ خود بیچنے والوں کو بھی اس کا اعتراف ہوتا ہے ۔لہذا دکان دار پر واجب و ضروری ہے کہ گاہک سے جھوٹ نہ بولے ،بلکہ اُسے حقیقتِ حال سے آگاہ کرے ۔ ہاں اگر کسی مال کا نقلی ہونا یا کسی سامان کا عیب دار ہونا گاہک کو معلوم ہے تو اب اسے بتانے کی حاجت نہیں ۔ یہ ایسا ابتلاے عام ہے کہ شاید ہی کوئی تاجر یا دکان دار اِس سے محفوظ و مامون ہو ۔

دیکھیے ! یہ ہمارے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے امام، حضرت سیدنا امام اعظم نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ، جوکہ بہت بڑے فقیہ و محدث اور جلیل القدر تابعی ہونے کے ساتھ ایک بہت بڑے تاجر بھی تھے ۔آپ کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے ۔ مگر آپ کی دین داری ملاحظہ فرمائیں ! کہ : ایک مرتبہ آپ کے پاس کپڑے کا ایسا تھان آیا جس میں کوئی عیب تھا ۔آپ نے دکان پر کام کرنے والے ملازموں کو حکم دیا کہ گاہک کو بتا دیا جاے کہ اِس کپڑے میں فلاں عیب ہے ۔ چند دنوں کے بعد اُس ملازم نے بغیر عیب بتاے اُس کپڑے کو بیچ دیا ۔ جب منافع کی رقم سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ کو دی تو

آپ نے پوچھا کہ تم نے اُس گاہک کو عیب بتا دیا تھا ؟ ملازم نے کہا : حضور ! میں بھول گیا تھا ۔ یہ سن کر آپ کو بڑا رنج لاحق ہوا ، فوراًا ُس گاہک کی تلاش و جستجو شروع کی اور پورے شہر میں اُسے ڈھنڈھوایا ، جب وہ گاہک مل گیا تو آپ نے اُس سے کہا : آپ نے جو مال میری دکان سے خریدا ہے ، وہ عیب دار ہے ، آپ چاہیں تو اُسے واپس کر دیں اور قیمت لے لیں اور چاہیں تو اُسی عیب کے ساتھ اُسے رکھ لیں ۔

بعض روایتوں میں آیا کہ تلاشِ بسیار کے باوجود جب آپ اُسے نہ پا سکے تو اُس تھان کی پوری رقم آپ نے راہِ خدا میں صدقہ کر دی ۔ سبحان اللہ ! یہ تھا ہمارے امام کا زہد و تقویٰ ۔آج ہم میں سے کوئی ہوتا تو شاید اُس ملازم کو شاباشی دیتا کہ تو نے عیب دار سامان بیچ کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ، مگر ہمارے امام نے نقصان برداشت کر لینا تو گوارا کر لیا مگر یہ گوارا نہ کیا کہ کسی گاہک کو دھوکہ دیا جاے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سب کچھ اِس لیے کیا کہ ہمارے نبی حضور سیدنا محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا :

مَنْ بَاعَ عَیْبًا لَمْ یُبَیِّنْہُ لَمْ یَزَلْ فِیْ مَقْتِ اللہِ وَ لَمْ تَزَلِ الْمَلٰئِکَۃُ تَلْعَنُہُ ۔[السنن للامام ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، باب من باع عیبا و لم یبینہ ، رقم الحدیث : ۲۳۳۲]

ترجمہ: جو شخص عید دار چیز بیچے اور اس عیب کے بارے میں وہ خریدار کو نہ بتاے [کہ اِس کے اندر یہ خرابی ہے ]تو ایسا شخص مسلسل اللہ رب العزت کے غضب میں رہتا ہے اور اللہ کے فرشتے ایسے آدمی پر لگاتار لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔

ہمارے امام کو اِسی امانت وصداقت کا صلہ ملا کہ آج دنیا کے اکثر مسلمان آپ ہی کے مقلد ہیں ، بلکہ آپ کی تقلید کو باعث فخر یقین کرتے ہیں ۔جب کہ آج کل کے تاجروں کا حال یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ، عیب دار کو عمدہ بتاتے ہیں ، نقلی سامان کو اصلی بتاتے ہیں ، بلکہ قسمیں کھا کھاکر معیوب سامانوں کو فروخت کرتے ہیں ۔ مصائب و آلام کی شکل میں جو ہم پر عذابِ خدا نازل ہو چکا ہے ،وہ اِسی کذب بیان اور اِسی دھوکہ دھڑی کی دین ہے ۔

اِس قسم کے اور بھی بہت سے جھوٹ ہمارے معاشرے میں بولے جاتے ہیں جن کی نشان دہی ان شاء اللہ تعالیٰ کسی اور موقع پر کی جاے گی ۔ دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہمارے معاشرے کو پر قسم کی کذب بیان سے محفوظ و مامون فرماے ۔ آمین !

نماز میں دل لگانے کی تدبیر

نماز میں دل لگانے کی تدبیر:

نمازمیں غفلت دو وجہ سے ہوتی ہے،ایک سبب ظاہری جبکہ دوسرا باطنی ہے ۔

ظاہری سبب ایسی جگہ نمازپڑھنا ہے ،جہاں توجہ ادھر اُدھر متوجہ ہوجاتی ہے ،اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ ایسی جگہ نماز پڑھی جائے ،جہاں کوئی چیز سنائی اور دکھا ئی نہ دے ،بہتر ہے ،انسان دوران نماز اپنی آنکھیں بھی بند کر لے ،کیونکہ دل، آنکھ اور کان کے تابع ہے۔

باطنی سبب خیالات اور وساوس کا آنا ہے ،اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے ،پہلے ضروری کام کاج کرلے ،پھر نماز پڑھے،دوسرا طریقہ یہ ہے کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے ،اس کے معانی میں غور و فکر کرے ،تیسرا طریقہ یہ ہے کہ جس چیزکے باکثرت خیال آتے ہیں ،اس سے جان چھڑانے کی صورت نکالے ،جیسے ایک مرتبہ دوران نماز حضور کا دہیان کپڑے کی کڑھائی کی طرف گیا ،تو آپ نے وہ قمیص دوبارہ نہیں پہنی، اسی وجہ سے حضرت طلحہ نے اپنا پوراباغ صدقہ کر دیا تھا۔

(ملخص ازکیمیائے سعادت ،امام غزالی )

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً‌ ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ‌ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 77

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً‌ ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ‌ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جس سے کیا گیا تھا کہ (ابھی جنگ سے) اپنے ہاتھ روکے رکھو ‘ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ‘ پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگا جس طرح اللہ کا ڈر ہوتا ہے یا اس سے بھی زیادہ اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ کیوں نہ تو نے ہمیں کچھ اور مہلت دی ہوتی ‘ آپ کہیے کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے ‘ اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جس سے کیا گیا تھا کہ (ابھی جنگ سے) اپنے ہاتھ روکے رکھو ‘ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ‘ پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگا جس طرح اللہ کا ڈر ہوتا ہے یا اس سے بھی زیادہ اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ کیوں نہ تو نے ہمیں کچھ اور مہلت دی ہوتی ‘ آپ کہیے کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے ‘ اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (النساء : ٧٧) 

شان نزول اور ربط آیات :

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ مکہ میں ہجرت سے پہلے بعض صحابہ کفار سے جلد جنگ کرنا چاہتے تھے ‘ انہوں نے کہا آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم مشرکین سے مکہ میں قتال کریں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس سے منع کیا اور فرمایا ابھی مجھے کفار سے قتال کرنے کی اجازت نہیں ملی اور جب ہجرت ہوگئی اور مسلمانوں کو مشرکین سے قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو بعض لوگوں نے اس کو مکروہ جانا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان سے کہئے کہ دنیا کا سامان تھوڑا ہے اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ١٠٨) امام نسائی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وق اس اور بعض دیگر صحابہ نے ایسا کہا تھا۔ (سنن کبری ج ٦ ص ٣٢٥) واللہ اعلم بالصواب۔ 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ملک کے دفاع اور کفار کے خلاف جہاد کی تیاری کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ لوگ موت کے ڈر سے جہاد کرنے سے گھبراتے ہیں ‘ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جہاد سے منع کرنے والے کچھ ضعیف مسلمان اور منافقین تھے۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ تم پر فتیل کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا ‘ فتیل کا معنی باریک دھاگا بھی ہے ‘ اور کھجور کی گٹھلی پر جو باریک سا چھلکا ہوتا ہے اس کو بھی فتیل کہتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 77

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 5 سورہ البقرہ آیت نمبر40 تا 46

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْۚ-وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(۴۰)

اے یعقوب کی اولاد (ف۶۹) یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا (ف۷۰) اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا (ف۷۱) اور خاص میرا ہی ڈر رکھو (ف۷۲)

(ف69)

اسرائیل بمعنی عبداللہ عبری زبان کا لفظ ہے یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے۔(مدارک) کلبی مفسر نے کہا اللہ تعالیٰ نے ” یٰۤاَیُّھَاالنَّاسُ اعْبُدُوْا ” فرما کر پہلے تمام انسانوں کو عموماً دعوت دی پھر ” اِذْ قَالَ رَبُّکَ ” فرما کر انکے مبدء کا ذکر کیا اس کے بعد خصوصیت کے ساتھ بنی اسرائیل کو دعوت دی یہ لوگ یہودی ہیں اور یہاں سے سیقول تک ان سے کلام جاری ہے کبھی بملاطفت انعام یاد دلا کر دعوت کی جاتی ہے کبھی خوف دلا یا جاتا ہے کبھی حجت قائم کی جاتی ہے۔ کبھی ان کی بدعملی پر توبیخ ہوتی ہے کبھی گزشتہ عقوبات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

(ف70)

یہ احسان کہ تمہارے آباء کو فرعون سے نجات دلائی ، دریا کو پھاڑا ابر کو سائبان بنایا ان کے علاوہ اور احسانات جو آگے آتے ہیں ان سب کو یاد کرو اور یاد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کرکے شکر بجالاؤ کیونکہ کسی نعمت کا شکر نہ کرنا ہی اس کا بھلانا ہے۔

(ف71)

یعنی تم ایمان و اطاعت بجالا کر میرا عہد پورا کرو میں جزاء و ثواب دے کر تمہارا عہد پورا کروں گا اس عہد کا بیان آیہ ” وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہ ُ مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ ” میں ہے۔

(ف72)

مسئلہ : اس آیت میں شکر نعمت ووفاء عہد کے واجب ہونے کا بیان ہے اور یہ بھی کہ مومن کو چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے ۔

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ۪-وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا٘-وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ(۴۱)

اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے اتارا اس کی تصدیق کرتا ہوا جو تمہارے ساتھ ہے اور سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو (ف۷۳) اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو (ف۷۴) اور مجھی سے ڈرو

(ف73)

یعنی قرآن پاک توریت وانجیل پرجو تمہارے ساتھ ہیں ایمان لاؤاور اہلِ کتاب میں پہلے کافر نہ بنوکہ جو تمہارے اتباع میں کفر اختیار کرے اس کا وبال بھی تم پر ہو ۔

(ف74)

ان آیات سے توریت و انجیل کی وہ آیات مراد ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے مقصد یہ ہے کہ حضور کی نعت دولت دنیا کے لئے مت چھپاؤ کہ متاع دنیا ثمن قلیل اور نعمت آخرت کے مقابل بے حقیقت ہے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت کعب بن اشرف اور دوسرے رؤساء و علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کے جاہلوں اور کمینوں سے ٹکے وصول کرلیتے اور ان پر سالانے مقرر کرتے تھے اور انہوں نے پھلوں اور نقد مالوں میں اپنے حق معین کرلئے تھے انہیں اندیشہ ہوا کہ توریت میں جو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے اگر اس کو ظاہر کریں تو قوم حضور پر ایمان لے آئے گی اور ان کی کچھ پرسش نہ رہے گی۔ یہ تمام منافع جاتے رہیں گے اس لئے انہوں نے اپنی کتابوں میں تغییر کی اور حضور کی نعت کو بدل ڈالا جب ان سے لوگ دریافت کرتے کہ توریت میں حضور کے کیا اوصاف مذکور ہیں تو وہ چھپالیتے۔ اور ہر گز نہ بتاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن وغیرہ)

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲)

اور حق سے باطل کو نہ ملاؤ اور دیدہ و دانستہ حق نہ چھپاؤ

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳)

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو (ف۷۵)

(ف75)

اس آیت میں نمازو زکوٰۃ کی فرضیت کا بیان ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نمازوں کو ان کے حقوق کی رعایت اور ارکان کی حفاظت کے ساتھ ادا کرو مسئلہ : جماعت کی ترغیب بھی ہے حدیث شریف میں ہے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۴۴)

کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۷۶)

(ف76)

شان نُزول : عُلَماءِ یہود سے ان کے مسلمان رشتہ داروں نے دین اسلام کی نسبت دریافت کیا تو انہوں نے کہا تم اس دین پر قائم رہو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین حق اور کلام سچا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ایک قول یہ ہے کہ آیت ان یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے مشرکین عرب کو حضور کے مبعوث ہونے کی خبر دی تھی اور حضور کے اتباع کرنے کی ہدایت کی تھی پھر جب حضور مبعوث ہوئے تو یہ ہدایت کرنے والے حسد سے خود کافر ہوگئے اس پر انہیں توبیخ کی گئی ۔(خازن و مدارک)

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵)

اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں (ف۷۷)

(ف77)

یعنی اپنی حاجتوں میں صبر اور نماز سے مدد چاہو سبحان اللہ کیا پاکیزہ تعلیم ہے صبر مصیبتوں کا اخلاقی مقابلہ ہے انسان عدل و عزم حق پرستی پر بغیر اس کے قائم نہیں رہ سکتا صبر کی تین قسمیں ہیں۔(۱) شدت و مصیبت پر نفس کو روکنا (۲)طاعت و عبادت کی مشقتوں میں مستقل رہنا(۳)معصیت کی طرف مائل ہو نے سے طبیعت کو باز رکھنا ،بعض مفسرین نے یہاں صبر سے روزہ مراد لیا ہے وہ بھی صبر کا ایک فرد ہے اس آیت میں مصیبت کے وقت نما ز کے ساتھ استعانت کی تعلیم بھی فرمائی،کیونکہ وہ عبادتِ بدنیہ ونفسانیہ کی جامع ہے اور اس میں قربِ الہٰی حاصل ہو تا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہم امور کے پیش آنے پر مشغولِ نماز ہو جاتے تھے،اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ مومنین صادقین کے سوا اوروں پر نماز گرا ں ہے ۔

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)

جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا (ف۷۸)

(ف78)

اس میں بشارت ہے کہ آخرت میں مؤمنین کو دیدارالہی کی نعمت ملے گی

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فضل ہے اور اللہ کافی ہے جاننے والا۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے صحابہ کا اضطراب : 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں غمزدہ حالت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا کیا ہوا میں تم کو غمزدہ کیوں دیکھ رہا ہوں ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی میں اس چیز پر غور کر رہا ہوں کہ ہم ہر صبح وشام آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں ‘ کل جب آپ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ جنت کے بلند درجہ میں ہوں گے ‘ اور ہم آپ کے درجہ تک نہ پہنچ سکیں تو ہمارا کیا حال ہوگا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابھی اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔ الآیہ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ١٠٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اہل جنت کا ایک دوسرے کے ساتھ ہونا ان کے درجوں میں مساوات کو مستلزم نہیں : 

اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والے اور انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین سب جنت کے ایک درجہ میں ہوں گے ‘ کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ فاضل اور مفضول کا ایک درجہ ہوجائے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جنت میں رہنے والے سب ایک دوسرے کی زیارت کرنے پر قادر ہوں گے اور ان کے درجات کا فاصلہ ایک دوسرے کی زیارت اور مشاہدہ کیلیے حجاب نہیں ہوگا۔ 

اس آیت میں انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کا ذکر کیا گیا ہے ہم سطور ذیل میں انکی تعریفات ذکر کر رہے ہیں۔ 

نبی ‘ صدیق ‘ شہید اور صالح کی تعریفات : 

(١) نبی وہ انسان ہے جس پر وحی نازل ہو اور جس کو اللہ نے مخلوق تک اپنے احکام پہنچانے کے لیے بھیجا ہو۔ 

(٢) صدیق وہ شخص ہے جو اپنے قول اور اعتقاد میں صادق ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور دیگر فاضل صحابہ ‘ اور انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے اصحاب کیونکہ وہ صدق اور تصدیق میں دوسروں پر فائق اور غالب ہوتے ہیں ‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو دین کے تمام احکام کی بغیر کسی شک اور شبہ کے تصدیق کرے وہ صدیق ہے۔ 

(٣) شہید وہ شخص ہے جو دلائل اور براہین کے ساتھ دین کی صداقت پر شہادت دے اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہوا مارا جائے جو مسلمان ظلما قتل کیا جائے وہ بھی شہید ہے۔ 

(٤) صالح نیک مسلمان کو کہتے ہیں ‘ جس کی نیکیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوں۔ 

اس آیت میں چونکہ صدیقین کا ذکر آیا ہے اس لیے ہم ابوبکر صدیق (رض) کے بعض فضائل ذکر رہے ہیں۔ 

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بعض خصوصیات اور فضائل : 

(١) امام بخاری حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا ‘ تم لوگوں نے کہا آپ جھوٹے ہیں (العیاذ باللہ) اور ابوبکر (رض) نے تصدیق کی اور اپنی جان اور اپنے مال سے میری غم خواری کی۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦٦١) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر (رض) نبی کریم (رض) کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے تھے جب اور لوگ آپ کی تکذیب کر رہے تھے۔ 

(٢) حضرت ابوبکر (رض) نے امت میں سب سے پہلے تبلیغ اسلام کی اور ان کی تبلیغ سے حضرت عثمان ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عثمان بن مظعون (رض) ایسے اکابر صحابہ اسلام لائے۔ 

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر ہجرت میں اپنی رفاقت کے لیے تمام صحابہ میں سے حضرت ابوبکر (رض) کو منتخب کیا۔

(٤) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حج میں مسلمانوں کا امیر بنایا۔ 

(٥) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتب حضرت ابوبکر (رض) کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ 

(٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایام علالت میں حضرت ابوبکر (رض) کو امام بنایا اور حضرت ابوبکر (رض) نے سترہ نمازیں پڑھائیں۔ 

(٧) واقعہ معراج کی جب کافروں نے تکذیب کی تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کی سب سے پہلے تصدیق کی اور یہیں سے آپ کا لقب صدیق ہوا۔ 

(٨) غزوہ تبوک میں گھر کا سارا سامان اور مال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ 

(٩) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد احادیث میں آپ کو صدیق فرمایا۔ 

(١٠) قرآن مجید میں نبوت کے بعد جس مرتبہ کا ذکر ہے وہ صدیقیت ہے اور متعدد آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ذکر کی طرف اشارہ ہے حضرت ابوبکر کے صدیق ہونے پر امت کا اجماع ہے اور چونکہ نبی کے بعد صدیق کا ذکر اور مقام ہے سو معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) خلیفہ ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69