فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اس وقت کیا حال ہوگا جب ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑے تو پھر یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آئیں کہ ہمارا تو ماسوا نیکی اور باہمی موافقت کے اور کوئی ارادہ نہ تھا

القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ‌ ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 40

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ‌ ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا

ترجمہ:

بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عطا فرماتا ہے۔ (النساء : ٤٠) 

اللہ کے ظلم نہ کرنے کا معنی :

ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کے مخصوص محمل کے سوا ‘ کمی یا زیادتی کرکے کسی اور جگہ رکھنا سو اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ کسی کی نیکیوں کے ثواب میں کمی کرتا ہے نہ کسی کی برائیوں کے عذاب میں کمی کرتا ہے ‘ اس لئے بندوں کو چاہیے کہ انکو جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور جس کام سے منع کیا ہے اس سے رک جائیں۔ 

ظلم کا یہ معنی بھی ہے : غیر کی ملک میں تصرف کرنا ‘ اللہ کے سوا جو کچھ ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور مالک اپنی ملک میں جو تصرف بھی کرے وہ ظلم نہیں ہے۔ اگرچہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرے گا لیکن پھر بھی بفرض محال اگر وہ تمام مخلوق کو دوزخ میں ڈال دے تو یہ ظلم نہیں ہوگا کیونکہ سب اس کے مملوک ہیں اور وہ مالک علی الاطلاق ہے ہم نے بفرض محال اس لیے کہا ہے کہ وہ نیکی کرنے والوں کو اجر وثواب دینے کا وعدہ فرما چکا ہے اور اپنے وعدے کے خلاف کرنا اس کے حق میں محال ہے کیونکہ انعام کا وعدہ کرکے انعام نہ دینا عیب ہے اور عیب اللہ کے لیے محال ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کے اجروثواب بڑھانے کا معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر کوئی نیکی ہو تو وہ اس کو دگنا کردیتا ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ بندہ ایک نیکی پر دس گنے اجر کا مستحق ہے تو اللہ اس کو بیس گنا اجر عطا فرمائے گا یا تیس گنا اجر عطا فرمائے گا یا اس سے بھی زیادہ عطا فرمائیگا۔ 

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

زازان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس گیا انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اولین اور آخرین کو جمع فرمائیگا ‘ پھر اللہ کی طرف سے ایک منادی یہ ندا کرے گا کہ جس شخص نے اپنا حق لینا ہو آئے اور اپنا حق لے لے ‘ بخدا اگر بچے کا اپنے باپ پر یا کسی کا اپنے بیٹے پر یا اپنی بیوی پر جو بھی حق ہوگا وہ لے لے گا ‘ خواہ وہ چھوٹا حق ہو ‘ اور اس کا مصداق کتاب اللہ میں یہ آیت ہے : 

(آیت) ” فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسآء لون “۔ (المؤمنون : ١٠١) 

ترجمہ : پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان اس دن رشتے (باقی) نہیں رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھیں گے۔ 

ایک شخص سے کہا جائیگا ان لوگوں کے حقوق ادا کرو وہ شخص کہے گا اے رب ! دنیا تو گذر چکی ہے میں ان کے حقوق کہاں سے ادا کروں ؟ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیگا اس شخص نے نیک اعمال کو دیکھو ‘ اور مستحقین کو اس کی نیکیاں دید و ‘ پھر جب اس کی ایک ذرہ کے برابر نیکی رہ جائے گی تو فرشتے کہیں گے ‘ (حالانکہ اللہ کو خوب علم ہے) اے ہمارے رب ہم نے ہر حقدار کو اس کی نیکی دیدی اب اس کی صرف ایک نیکی رہ گئی ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیگا میرے اس بندہ کی نیکی کو دگنا چوگنا کردو ‘ اور اس کو میرے فضل اور رحمت سے جنت میں داخل کردو ‘ اور اس کا مصداق یہ آیت ہے ‘ اور اگر وہ بندہ شقی ہو اور اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں تو فرشتے عرض کریں گے کہ اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور اس کی صرف برائیاں رہ گئی ہیں اور لوگوں کے حقوق باقی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیگا حقداروں کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈال دو اور اس کے لئے جہنم کا پروانہ لکھ دو ۔ (نعوذ باللہ منہ) 

ابوعثمان النھدی بیان کرتے ہیں کہ میری حضرت ابوھریرہ (رض) سے ملاقات ہوئی میں نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ ایک نیکی کا اجر بڑھا کر ایک بڑھا کر ایک کروڑ درجہ کردیا جاتا ہے ‘ انہوں نے کہا تم کو اس پر کیوں تعجب ہے بہ خدا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو ہزار ضرب ہزار (ایک کروڑ) درجہ تک پہنچا دے گا۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٥٨۔ ٥٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے ‘ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ بندہ کا عمل اتنے اجر کا مقتضی نہیں ہے یہ اجر اللہ اپنے پاس سے عطا فرماتا ہے ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں کا اجر وثواب بڑھاتا ہے جس سے بندہ کو جنت میں جسمانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے جس سے بندہ کو روحانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور یہ روحانی لذتیں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے حاصل ہوتی ہے اور یہ جنت میں حاصل ہونے والی سب سے عظیم نعمت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 40

وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 36

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا

ترجمہ:

اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلاموں کے ساتھ (نیکی کرو) بیشک اللہ مغرور متکبر کو پسند نہیں کرتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ (نیکی کرو) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر کے ساتھ نیکی کرو۔ (النساء : ٣٦) 

اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے ساتھ شریک نہ کرنے کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں دراز گوش پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا : اے معاذ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں ‘ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کرے وہ اس کو عذاب نہ دے ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دوں ؟ آپ نے فرمایا ان کو خوش خبری نہ دو ورنہ وہ اسی پر توکل کرکے بیٹھ جائیں گے (عمل نہیں کریں گے) (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٠‘ سنن ترمذی : ٢٦٥٢‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٢٩٦‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٢١٠‘ مسند ابوعوانہ : ج ١ ص ١٧) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو اللہ پر بندوں کے حق کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل اور کرم سے شرک نہ کرنے والوں کے لئے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے ورنہ عمل کی وجہ سے کسی بندہ کا اللہ پر کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یہ حدیث بیان کرنے سے منع فرمایا تھا لیکن بعد میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بشارت دے دی تو حضرت معاذ (رض) نے موت سے پہلے اس حدیث کو بیان فرمادیا تاکہ علم کو چھپانے پر جو وعید ہے اس میں داخل نہ ہوں۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا اس نے کہا اے اللہ کے نبی مجھ کو وصیت کیجئے آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا جلا دیا جائے اور کسی وقت کی نماز ترک نہ کرو اور شراب نہ پیو کیونکہ وہ برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٠٣٤‘ الترغیب والترہیب ج ١ ص ١٩٥‘ مجمع الزوائد : ج ٤ ص ٢١٧۔ ٢١٦) 

ماں باپ کے حقوق اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

(آیت) ” ووصیناالانسان بوالدیہ، حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عامین ان ش کرلی ولوالدیک الی المصیر “۔ (لقمان : ١٤) 

ترجمہ : ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں اٹھایا اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے (اور ہم نے یہ حکم دیا کہ) میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو میری طرف لوٹنا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کون لوگ میرے اچھے سلوک کے مستحق ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا پھر تمہاری ماں ‘ کہا پھر فرمایا تمہارا باپ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٩‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٠٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٠٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٥٤١‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٥٩٧١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ٢ شرح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٣٤١٦) 

قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور اپنے شکر کے بعد ماں باپ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ انسان کے حق میں سب سے بڑی نعمت اس کا وجود اور اس کی تربیتت اور پرورش ہے اور اس کے وجود کا سبب حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہری سبب اس کے والدین ہیں ‘ اسی طرح اس کی تربیت اور پرورش میں حقیقی سبب اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہری سبب اس کے والدین ہیں۔ نیز جس طرح اللہ بندے کو نعمتیں دے کر اس سے اس کا عوض نہیں چاہتا اسی طرح ماں باپ بھی اولاد کو بلاعوض نعمتیں دے دیتے ہیں ‘ اور جس طرح اللہ بندہ کو نعمتیں دینے سے تھکتا اور اکتاتا نہیں والدین بھی اولاد کو نعمتیں دینے سے تھکتے اور اکتاتے نہیں ‘ اور جس طرح بندے گنہ گار ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کا دروازہ بند نہیں کرتا ‘ اسی طرح اگر اولاد نالائق ہو پھر بھی ماں باپ اس کو اپنی شفقت سے محروم نہیں کرتے ‘ اور جس طرح اللہ اپنے بندوں کو دائمی ضرر اور عذاب سے بچانے کے لئے ہدایت فراہم کرتا ہے ماں باپ بھی اپنی اولاد کو ضرر سے بچانے کے لئے نصیحت کرتے رہتے ہیں۔ 

ماں باپ کے ساتھ اہم نیکیاں یہ ہیں کہ انسان ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہے ‘ ان کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے ‘ ان کے ساتھ سختی سے بات نہ کرے ‘ ان کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کرے ‘ اپنی حیثیت اور وسعت کے مطابق ان پر اپنا مال خرچ کرے ‘ ان کے ساتھ عاجزی اور تواضع کے ساتھ رہے ‘ ان کی اطاعت کرے اور ان کو راضی رکھنے کی کوشش کرے خواہ اس کے خیال میں وہ اس پر ظلم کر رہے ہوں ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دے ‘ ماں کے بلانے پر نفل نماز توڑ دے البتہ فرض نماز کسی کے بلانے پر نہ توڑے اگر اس کا باپ یہ کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو اس کو طلاق دے دے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا اور حضرت عمر (رض) اس کو ناپسند کرتے تھے انہوں نے مجھ سے کہا اس کو طلاق دے دو ۔ میں نے انکار کیا پھر حضرت عمر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو طلاق دے دو ۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٨‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣، سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٠٨٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥٣‘ ٤٢‘ ٢٠) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک شخص نے کہ میری ایک بیوی ہے اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے۔ حضرت ابودرداء (رض) نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے کہ والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے ‘ تم چاہو تو اس کو ضائع کردو اور تم چاہو تو اس کی حفاظت کرو ‘ سفیان کی ایک روایت میں ماں کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں باپ کا ذکر ہے ‘ یہ حدیث صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٠٦) 

حافظ عبدالعظیم بن عبد القوی لکھتے ہیں : 

سب سے پہلے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دیا تھا اور بیٹے کی باپ کے ساتھ نیکی یہی ہے کہ جس کو باپ ناپسند کرے اس کو بیٹا بھی ناپسند کرے اور جس سے اس کا باپ محبت کرتا ہو اس سے محبت کرے خواہ اس کو وہ ناپسند ہو ‘ یہ اس وقت واجب ہے جب اس کا باپ مسلمان ہو ‘ ورنہ مستحب ہے۔ (مختصر سنن ابو داؤد ج ٨ ص ٣٥) 

نیز باپ کے ساتھ یہ بھی نیکی ہے کہ باپ کے دوستوں کے ساتھ نیکی کرے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ (رض) کی سہیلیوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے اور ان کو تحائف بھیجتے تھے ‘ جب بیویوں کی سہیلیوں کا یہ درجہ ہے تو باپ کے دوستوں کا مقام اس سے زیادہ بلند ہے ‘ نیز ماں باپ کی وفات کے بعد ان کے لئے استغفار کرنا بھی ان کے ساتھ نیکی ہے ‘ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور پوچھا ماں باپ کے فوت ہونیکے بعد میں ان کے ساتھ کس طرح نیکی کروں ؟ آپ نے فرمایا انکی نماز جنازہ پڑھو ‘ ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو ‘ انہوں نے لوگوں سے جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کرو ‘ انکے دوستوں کی عزت کرو اور جن کے ساتھ وہ صلہ رحم کرتے تھے انکے ساتھ صلہ رحم کرو۔ (عارضۃ الاحوذی ج ٨ ص ٩٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) 

پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

جو پڑوسی رشتہ دار ہو اس کا ایک حق اسلام ہے اور ایک رشتہ داری کا حق ہے اور ایک پڑوسی کا حق ہے ‘ اور جو پڑوسی اجنبی ہو اس کے ساتھ اسلام اور پڑوسی کا حق ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے گھر ایک بکری ذبح کی گئی تو انہوں نے دوبارہ پوچھا تم نے ہمارے یہودی پڑوسی کے لئے ہدیہ بھیجا یا نہیں ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جبرائیل مجھ کو ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے حتی کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو میرا وارث کر دے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٩‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠١٤‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٦٢٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧٣) 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے دوستوں کے نزدیک اچھا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے ‘ اور جو شخص اپنے پڑوسیوں کے نزدیک اچھا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥١‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ١١٥‘ سنن دارمی ‘ ج ٢ ص ٢١٥) 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں ‘ میں ان میں سے کس کے ساتھ ابتداء کروں ‘ فرمایا جس کا دروازہ تمہارے دروازہ کے زیادہ قریب ہو۔ اس حدیث کو امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ (الوسیط ج ٤ ص ٥٠‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠٢٠) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاویہ بن حیدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر وہ بیمار ہو تو تم اس کی عیادت کرو ‘ اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ‘ اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو ‘ اگر وہ بدحال ہو تو اس پر ستر کرو ‘ اگر اس کو کوئی اچھائی پہنچے تو اس کو مبارک باد دو ‘ اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کرو ‘ اپنے گھر کی عمارت اس کی عمارت سے بلند نہ کرو کہ اس کی ہوا رک جائے۔ (المعجم الکبیر : ج ١٩ ص ٤١٩) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سالن پکائے تو اس میں شوربا زیادہ کرے۔ پھر اپنے پڑوسی کو بھی اس میں سے دے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٣٦١٥‘ کشف الاستار عن زوائد ‘ رقم الحدیث : ١٩٠١‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ١٣٦٨) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص پیٹ بھر کر رات گذارے اور اس کو علم ہو کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہے اس کا مجھ پر ایمان نہیں ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٧٥١‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١١٩) 

علامہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ نے لکھا ہے کہ جس شخص کا گھر یا دکان تمہارے گھر یا دکان سے متصل ہو وہ تمہارا پڑوسی ہے ‘ بعض علماء نے چالیس گھروں تک اتصال کا اندازہ کیا ہے۔ (اکمال اکمال المعلم) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنے غلاموں کے ساتھ نیکی کرو۔ 

غلاموں اور خادموں کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (یہ) تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کردیا ہے۔ سو جو تم کھاتے ہو وہ ان کو کھلاؤ اور جو تم پہنتے ہو وہ ان کو پہناؤ اور ان کے ذمہ ایسا کام نہ لگاؤ جو ان پر بھاری ہو اور اگر تم ان کے ذمہ ایسا کام لگاؤ تو تم ان کی مدد کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٤٣٨٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٠)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم نبی التوبہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے غلام کو تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر حد قائم کرے گا ‘ سوا اس کے کہ وہ بات صحیح ہو ‘ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

(سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٤‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٨٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٠‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٦٥) 

حضرت ابو مسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا میں نے سنا کوئی شخص میرے پیچھے کھڑا یہ کہہ رہا تھا ابو مسعود تحمل کرو ‘ ابو مسعود تحمل کرو ‘ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے ‘ آپ نے فرمایا جتنا تم اس پر قادر ہو اللہ تم پر اس سے زیادہ قادر ہے۔ سنن ابوداؤد میں یہ اضافہ ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ اللہ کے لئے آزاد ہے ‘ آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتے تو دوزخ میں جاتے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦٥٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥٩) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنے خادم کو دن میں کتنی بار معاف کروں ‘ آپ نے فرمایا ہر دن میں ستر بار۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٦) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے خادم کو مارے اور اس کو خدا یاد آجائے تو اس کو مارنا چھوڑ دے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٧ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے ایک غلام کو آزاد کردیا وہ ایک تنکے سے زمین کرید رہے تھے انہوں نے کہا اس عمل میں ایک تنکے کے برابر بھی اجر نہیں ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا یا پیٹا اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کردے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٦٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے غلام آزاد کیا اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلہ میں اس کو عضو دوزخ سے آزاد کر دے گا حتی کہ اس کی فرج کے بدلہ میں اس کی فرج آزاد کردے گا۔ 

اسلام میں غلامی کو ختم کرنے کے لئے بہت سے طریقے مقرر کیے گئے قتل خطا کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ‘ قسم توڑنے کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ظہار کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے ‘ عمدا روزہ توڑنے کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے اور جس کے پاس غلام نہ ہوں تو وہ کفارہ قسم میں تین دن روزے رکھے گا ‘ اور باقی صورتوں میں دو ماہ کے روزے رکھے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 36

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 188

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ يَفۡرَحُوۡنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّيُحِبُّوۡنَ اَنۡ يُّحۡمَدُوۡا بِمَا لَمۡ يَفۡعَلُوۡا فَلَا تَحۡسَبَنَّهُمۡ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الۡعَذَابِ‌ۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ

ترجمہ:

ان کے متعلق ہرگز نہ سمجھنا جو اپنے کاموں پر خوش ہوتے ہیں اور جو یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کاموں پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیے ان لوگوں کے متعلق ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ وہ عذاب سے نجات پاجائیں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کے متعلق ہرگز نہ سمجھنا جو اپنے کاموں پر خوش ہوتے ہیں اور جو یہ پسند کرتے ہیں کہ ان کاموں پر ان کی تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیے ‘ ان لوگوں کے متعلق ہرگز یہ گمان نہ کرنا کہ وہ عذاب سے نجات پاجائیں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے، اور اللہ ہی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ،

بعض آیات میں عموم الفاظ کی بجائے خصوصیت مورد کا اعتبار :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ آپ کو یہود اور مشرکین کی طرف اذیتیں نہیں لاحق ہوں گی اللہ تعالیٰ نے ان ہی ایذاؤں میں سے یہ بیان فرمایا ہے کہ ان کی ایک ایذاء بھی ہے کہ وہ کمزور مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف شبہات ڈالتے ہیں ‘ اور وہ اس پر یہ چاہتے ہیں کہ ان کی یہ تعریف کی جائے کہ وہ صالح ‘ متقی ‘ متدین اور صادق القول ہیں ‘ اور ظاہر ہے کہ اس صورتحال میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کو اذیت پہنچتی تھی۔ 

دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق تورات کی آیات چھپاتے تھے اور اس کے بدلہ میں اپنے ارادت مندوں سے نذرانے وصول کرتے تھے ‘ اور ان پر یہ ظاہر کرتے تھے کہ وہ بہت بڑے عالم اور دیندار ہیں اور وہی مقتداء بننے کے لائق ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے اس فعل کی سزا بیان فرمائی ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوسعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی غزوہ میں تشریف لے جاتے تو بعض منافقین پیچھے رہ جاتے اور آپ کے ساتھ نہ جاتے اور اپنے فعل پر خوش ہوتے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے ‘ اور جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس آتے تو مختلف حیلے بہانے بناتے قسمیں کھاتے اور اس پر قسمیں کھاتے کہ جو کام انہوں نے کہا ہے (جہاد میں آپ کے ساتھ جو نہیں گئے) ان پر ان کی تعریف کی جائے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا “۔ علقمہ بن وقاص بیان کرتے ہیں کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا اے رافع ! حضرت ابن عباس (رض) کے پاس جاؤ اور پوچھو کہ ہر شخص اپنے فعل پر خوش ہوتا ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام اس نے کیا ہے اس پر اس کی تعریف کی جائے تو اگر عذاب دیا جائے تا تو ہم سب کو عذاب دیا جائے گا ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تمہارا اس آیت سے کیا تعلق ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہود کو بلایا اور ان سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اسل چیز کو چھپالیا اور آپ کو کچھ اور بتادیا اور وہ یہ چاہتے تھے کہ انہوں نے آپ کو جس چیز کی (جھوٹی) خبر دی ہے اور انہوں نے آپ کے سوال کے جواب میں جو اصل چیز نہیں بتائی اس پر ان کی تعریب کی جائے ‘ اور پھر حضرت ابن عباس نے یہ دو آیتیں پڑھیں۔ (آیت) ” واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوالکتاب “ اور ” یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا “۔ (صحیح بخاری ج ٥ ص ٢٠٩‘ رقم الحدیث ٤٥٦٨‘ مطبوعہ مکتبہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ صحیح مسلم ج ٤ ص ٢١٤٣‘ ٢١٤٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ سنن کبری للنسائی ج ٦ ص ٣١٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١١ ھ ‘ الجامع الصحیح للترمذی ج ٥ ص ٢٣‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت) 

ہرچند کہ قرآن مجید کی آیات میں عموم الفاظ کا اعتبار ہوتا ہے اور خصوصیت مورد کا اعتبار نہیں ہوتا لیکن ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض آیات میں خصوصیت مورد ہی کا اعتبار ہوتا ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) کی اس تفسیر سے معلوم ہوتا ہے۔ 

نیکی کی تعریف چاہنے پر عذاب کی وعید :

مسلمانوں کو چاہیے کہ اس آیت کی وعید سے ڈریں اور یہ نہ چاہیں کہ جو کام انہوں نے نہ کیا ہو اس پر ان کی تعریف کی جائے ‘ جیسا کہ بعض لوگ اپنے آپ کو عالم ‘ علامہ ‘ مفتی اور شیخ الحدیث بلکہ حافظ الحدیث کہلاتے ہیں اور وہ اس کے اہل نہیں ہوتے ‘ اور اگر کوئی مسلمان کسی نیک کام کے کرنے پر خوش ہو یا برا کام نہ کرنے پر خوش ہو تو یہ ایمان کی علامت ہے۔

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کو اپنی نیکی سے خوشی ہو اور برائی پر افسوس ہو وہ مومن (کامل) ہے امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

(الجامع الصحیح ج ٤ ص ٤٦٦‘ رقم الحدیث ٢١٦٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ مسند احمد ج ١ ص ٢٦‘ ١٨‘ ج ٣ ص ٤٤٦‘ ج ٥ ص ٢٥٦‘ ٢٥٢‘ ٢٥١ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

البتہ کوئی نیک کام کرکے یہ خواہش رکھنا کہ اس پر اس کی دنیا میں تعریف کی جائے اخلاص کے منافی ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کی طرف متوجہ ہوگا تاکہ ان کا فیصلہ فرمائے ‘ اس وقت ہر امت دو زانو بیٹھی ہوگی ‘ سب سے پہلے قرآن کے حافظ کو بلایا جائے گا اور اس شخص کو جو اللہ راہ میں شہید ہوا اور مالدار شخص کو ‘ اللہ تعالیٰ قرآن کے قاری سے فرمائے گا کیا میں نے تجھے اس چیز کا علم نہیں دیا تھا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کی تھی ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائئے گا تو تو اپنے علم کے مطابق کیا عمل کیا ؟ وہ شخص کہے گا میں رات دن قرآن پڑھتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ‘ فرشتے بھی کہیں گے تو جھوٹ بولتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تو نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے سو یہ کہا گیا پھر مالدار شخص کو بلایا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو مالی وسعت نہیں دی تھی حتی کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں رکھا ! وہ شخص کہے گا اے میرے رب ! کیوں نہیں ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر تو نے میرے دیئے ہوئے مال میں کیا عمل کیا ؟ وہ شخص کہے گا میں صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ کرتا تھا ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ‘ فرشتے بھی کہیں گے کہ تو جھوٹ بولتا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ یہ کہا جائے گا کہ فلاں شخص جواد ہے سو یہ کہا گیا پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو کس وجہ سے قلت کیا گیا تھا ؟ وہ شخص کہے گا مجھے تیری راہ میں جہاد کا حکم دیا گیا تھا سو میں نے قتال کیا حتی کہ میں قتل کردیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ‘ فرشتے بھی کہیں گے کہ تو جھوٹ بولتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تیرا ارادہ یہ تھا کہ کہا جائے کہ فلاں شخص بہادر ہے سو یہ کہا گیا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھٹنے پر ہاتھ مار کر فرمایا : اے ابوہریرہ ! یہ پہلے وہ تین شخص ہیں جن سے دوزخ کی آگ کو بھڑکایا جائے گا۔ (الجامع الصحیح ج ٤ ص ٥٩٣۔ ٥٩٢‘ رقم الحدیث ٢٣٨٢‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ صحیح مسلم ج ٣ ص ١٥١٤۔ ١٥١٣ رقم الحدیث ١٩٠٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ سنن نسائی ج ٢ ص ٥٧‘ مطبوعہ کراچی ‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٢٢) 

قرآن مجید کی زیر بحث آیت اور اس حدیث میں نیکیوں پر اپنی تعریف کی خواہش رکھنے پر سخت وعید ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 188

اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ‌ؕ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِىۡ بِالۡبَيِّنٰتِ وَبِالَّذِىۡ قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 183

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ‌ؕ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِىۡ بِالۡبَيِّنٰتِ وَبِالَّذِىۡ قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

ترجمہ:

جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں حتی کہ وہ ایسی قربانی پیش کرے جس کو آگ کھاجائے آپ کہیے کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس کئی رسول بہت سی واضح نشانیاں لے کر آئے اور تمہاری کہی ہوئی نشانی (بھی) لے کر آئے تھے تو اگر تم سچے ہو تو تم ان کو پھر کیوں قتل کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں حتی کہ وہ ایسی قربانی پیش کرے جس کو آگ کھاجائے۔ (آل عمران : ١٨٣) 

پچھلی امتوں میں قربانی ‘ صدقات اور مال غنیمت کو آسمانی آگ کا کھا جانا : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں یہ یہودیوں کا دوسرا طعن ہے وہ کہتے تھے کہ پہلے نبیوں کی شریعت میں قربانی ‘ صدقات اور مال غنیمت کے مقبول ہونے کہ علامت یہ تھی کہ ان کو ایک آگ آکر کر کھا جاتی تھی اگر آپ سچے نبی ہوتے تو آپ کی قربانی کو بھی آگ کھا جاتی ! 

قربان اس نیکی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جائے ‘ اس کا مصدر قرب ہے ‘ اور قرب سے قربان اسی طرح بنا ہے جس طرح کفران اسی طرح رجحان اور خسران : 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

عطا بیان کرتے ہیں کہ بنو اسرائیل اللہ کے لیے جانور ذبح کرتے اور اس میں سے عمدہ گوشت نکال کر گھر کے وسط میں رکھ دیتے ‘ گھر کی چھت کھلی ہوئی ہوتی تھی، پھر ان کے نبی کریم کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کرتے اور بنو اسرائیل گھر کے گرد کھڑے ہوتے تھے ‘ پھر آسمان سے بغیر دھوئیں کے صاف آگ اترتی اور اس قربانی کو کھا جاتی تھی۔ (الوسیط ج ١ ص ٥٢٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ (پچھلی امتوں میں) ایک شخص صدقہ کرتا تھا اگر وہ صدقہ قبول ہوجاتا تو آسمان سے آگ اتر کر اس کو کھا جاتی تھی (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٣١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ، درالمنثور ج ٢ ص ٤٠٦ مطبوعہ ایران) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن المنذر نے ابن جریرج سے روایت کیا ہے کہ ہم سے پہلی امتوں میں کوئی شخص قربانی سے تقرب حاصل کرتا تو لوگ نکل کر دیکھتے کہ اس کی قربانی قبول ہوئی ہے یا نہیں اگر اس کی قربانی قبول ہوتی تو آسمان سے ایک سفید آگ آکر اس کو کھا لیتی ‘ اگر اس کی قربانی قبول نہ ہوتی تو آگ آکر نہیں کھاتی تھی۔ 

حافظ جلال الدین نے ابن ابی حاتم سے روایت کیا ہے کہ پچھلی امتوں میں رسول دلائل لے کر آتے اور ان کی نبوت کی علامت یہ تھی کہ وہ گائے کے گوشت کو اپنے ہاتھ پر رکھتے پر آسمان سے آگ آکر اس کو کھالیتی (الدرالمنثور ج ٢ ص ٤٠٥‘ مبطوعہ ایران)

پچھلی امتوں پر مال غنیمت کا کھانا بھی حلال نہیں تھا اور آسمانی آگ آکر کر غنیمت کو کھا جاتی تھی البتہ اگر کوئی شخص خیانت کرکے مال غنیمت سے کوئی چیز نکال لیتا تو پھر آسمانی آگ نہیں آتی تھی۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انبیاء سابقین میں سے کسی نبی نے جہاد کیا اور اپنی امت سے فرمایا جس شخص نے نکاح کیا ہو اور وہ اپنی بیوی سے عمل ازواج کرنا چاہتا ہوں ‘ جب کہ ابھی تک اس نے یہ عمل نہ کیا ہو اور جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ ڈالی ہو ‘ اور جس شخص نے بکریاں یا اونٹیناں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچوں کی پیدائش کا انتظار کررہا ہو ‘ یہ سب لوگ ہمارے ساتھ نہ جائیں ‘ اس نبی نے عصر کی نماز یا اس کے قریب وقت تک جہاد کیا ‘ پھر اس نے سورج سے کہا تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں ‘ اے اللہ ! اس کو ہم پر روک دے ‘ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو فتح عطا فرمائی ‘ پھر تمام مال غنیمت جمع کیا گیا ‘ آگ آئی اور اس نے مال کو نہیں کھایا اس نبی نے فرمایا تم میں کوئی خیانت کرنے والا ہے ‘ ہر قبیلہ کا ایک شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے ‘ ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گیا ‘ انہوں نے کہا تم میں کوئی شخص خیانت کرنے والا ہے ‘ تمہارے قبیلے کا ہر شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے ‘ پھر اس قبیلہ کے دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گیا ‘ انہوں نے فرمایا تم میں خیانت ہے ‘ تب وہ سونے کی بنی ہوئی گائے کا سر لائے ‘ انہوں نے مال غنیمت میں سونے کا وہ سر رکھا نے اس کو کھالیا پھر اللہ نے ہمارے لیے مال غنیمت کو حلال کردیا ‘ اللہ نے ہمارے ضعف اور عجز کو دیکھ کر اس کو حلال کیا۔ (صحیح البخاری ج ٣ ص ٣٨٢‘ رقم الحدیث، ٣١٢٤ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ صحیح مسلم ج ٣ ص ١٣٦٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم سے پہلے بنو آدم میں سے کسی کے لیے مال غنیمت حلال نہیں ہوا ‘ آسمان سے آیک آگ آکر اس کو کھا لیتی تھی۔ (صحیح البخاری ج ٥ ص ٢٧٢‘ رقم الحدیث، ٣٠٩٥ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ سنن کبری للنسائی ج ٥ ص ٣٥٢ طبع بیروت) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں یہ دیکھا ہے کہ ایک امت اپنے صدقات کو خود کھائے گی اور ان سے پہلے جب کوئی اپنا صدقہ نکالتا تھا تو اللہ تعالیٰ ایک آگ بھیجتا تھا وہ اس کو کھا لیتی تھی ‘ اگر وہ صدقہ قبول نہیں ہوتا تھا تو وہ آگ اس کے قریب نہیں جاتی تھی ‘ اے اللہ اس امت کو میری امت بنا دے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ امت احمد ہے۔ (دلائل النبوۃ ج ١ ص ٣٧٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ مختصر تاریخ دمشق ج ٢ ص ‘ ٤٤ مطبوعہ دارالفکر ‘ البدایہ والنہایہ ج ٦ ص ٦٢ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت الوفا لابن الجوزی ج ١ ص ٣٩‘ طبع فیصل آباد پاکستان ‘ دلائل النبوۃ لابی نعیم ج ١ ص ٦٨‘ سبل الھدی والرشاد ج ١٠ ص ٣٦٦) 

تورات میں لکھا ہے : 

اور خداوند کے حضور سے آگ نکلی اور سو ختنی قربانی اور چربی کو مذبح کے اوپر بھسم کردیا۔ (احبار : باب ‘ ٩‘ آیت : ٢٤‘ تورات ص ١٠٢‘ مطبوعہ بائبل سوسائٹی لاہور) 

یہود کے دوسرے اعتراض کا جواب : 

یہود کا یہ کہنا کہ سچے نبی کی صرف یہ علامت ہے کہ اس کی پیش کی ہوئی قربانی کو آسمانی آگ کھاجائے ‘ صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نبوت کے ثبوت میں یدبیضا اور اژدھے کا معجزہ پیش کیا تھا ‘ نیز قربانی کو آسمانی آگ کا کھا جانا اس لیے نبوت پر دلیل ہے کہ وہ ایک امر خلاف عادت ہے اور معجزہ ہے سو جو امر خلاف عادت پیش کیے تو ان پر اس کی تصدیق کرنا واجب ہے ‘ نیز اس سے پہلے بہت سے نبیوں نے ان کا مطلوبہ معجزہ بھی پیش کیا تھا اور ان کی قربانی کو آسمانی آگ کھا گئی تھی۔ اس کے باوجود یہود ان پر ایمان نہیں لائے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہود کا رد کرتے ہوئے فرمایا : آپ کہئے کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس کئی رسول بہت سی واضح نشانیاں لے کر اور تمہاری کہی ہوئی نشانی (بھی) لے کر آئے اگر تم سچے ہو تو تم ان کو پھر کیوں قتل کرتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 183

اَلَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الۡقَرۡحُ  ۛؕ لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡهُمۡ وَاتَّقَوۡا اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ‌ۚ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 172

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِلّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الۡقَرۡحُ  ۛؕ لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا مِنۡهُمۡ وَاتَّقَوۡا اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ‌ۚ

ترجمہ:

جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہا ان میں سے نیکی کرنے والوں اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے بڑا اجر ہے

تفسیر:

آیات مذکورہ کے شان نزول میں دو روایتیں : 

ان آیات کے شان نزول کے متعلق دو روایتیں بیان کی گئی ہیں ‘ ایک روایت یہ ہے :

امام محمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

سدی بیان کرتے ہیں کہ جب ابو سفیان احد سے واپس ہوا تو وہ راستہ میں ایک جگہ اپنے واپس ہونے پر پچھتایا اور اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم نے اچھا نہیں کیا تم نے بہت سے مسلمانوں کو قتل کردیا تھا اور جب ان میں سے تھوڑے رہ گئے تو تم واپس آگئے ‘ واپس چلو اور انکی بنیاد ختم کردو اور ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکو ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ارادہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطلع کردیا ‘ آپ نے مسلمانوں سے فرمایا ان کافروں کا تعاقب کرو ‘ مسلمان اگرچہ جنگ احد میں زخمی اور دل شکستہ تھے لیکن انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر لبیک کہی اور دشمن کے مقابلہ کے لیے روانہ ہوگئے ‘ ابوسفیان کو جب یہ خبر ملی کہ مسلمان ان کا پیچھا کر رہے ہیں تو وہ خوف زدہ ہو کر مکہ روانہ ہوگئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمراء الاسد (ایک مقام ہے) تک ان کا پیچھا کیا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١١٧ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اس کی تائید میں امام بخاری کی یہ روایت ہے : 

حضرت عائشہ (رض) (آیت) ” الذین استجابوا اللہ والرسول “۔ الخ کی تفسیر میں عروۃ بن الزبیر سے فرمایا : اے میری بہن کے بیٹے ان مسلمانوں میں تمہارے باپ حضرت زبیر اور حضرت ابوبکر (رض) شامل تھے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ احد میں زخمی ہوگئے اور مشرکین واپس چلے گئے تو آپ کو یہ اندیشہ ہوا کہ مشرکین لوٹ آئیں گے آپ نے فرمایا ان کا پیچھا کون کرے گا َ ؟ تو ستر مسلمانوں نے لبیک کہا ان میں حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت زبیر (رض) بھی تھے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٥٨٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

دوسری روایت یہ ہے : 

امام علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ بیان کرتے ہیں 

مجاہد ‘ مقاتل ‘ واقدی ‘ اور کلبی نے بیان کیا ہے کہ جنگ احد کے دن جب ابوسفیان نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو اس نے اعلان کیا : 

اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے اور تمہارے درمیان آئندہ سال بدر صغری کے موسم میں جنگ ہوگی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ ہمارے درمیان ہے انشاء اللہ ! جب اگلا سال آیا تو ابوسفیان اہل مکہ میں نکلا اور مقام مجنہ پر ٹھیرا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں رعب طاری کردیا اور اس نے واپس جانے کا ارادہ کیا ‘ پھر اس کی نعیم بن مسعود اشجعی سے ملاقات ہوئی ‘ اس نے نعیم کو مدینہ بھیجا اور کہا وہاں جا کر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روک دینا اور مسلمانوں کو ڈرانا حتی کہ وہ بدر صغری میں ہمارے مقابلے کے لیے نہ آئیں ‘ کیونکہ اگر ان کی جانب سے اس میعاد کی مخالفت ہو تو وہ مجھے زیادہ پسند ہے ‘ نعیم مسلمانوں کے پاس گیا تو وہ اس میعاد پر پہنچنے کے لیے تیاریاں کر رہے تھے ‘ اس نے مسلمانوں سے کہا اہل مکہ تمہارے گھر پر آکر تم پر حملہ کرچکے ہیں اور اس جنگ میں تم کو نقصان پہنچا چکے ہیں تو جب تم ان کے شہر پر جا کر حملہ کرو گے حالانکہ تم تعداد میں کم ہو گے اور وہ زیادہ ہوں گے تو پھر تم کو کسی قدر نقصان اٹھانا پڑے گا ‘ اسی طرح منافقوں نے بھی مسلمانوں کو ڈرایا کہ ابوسفیان اور اس کے اصحاب ایک بڑا لشکر تیار کرچکے ہیں سو تم ان سے ڈرو ‘ مسلمانوں نے کہا ہمیں اللہ کافی ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ روانہ ہوئے اور بدر صغری پر پہنچ گئے ‘ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر آٹھ دن بازار لگتا تھا ‘ جب مسلمان وہاں پہنچے تو وہاں ان سے مقابلہ کرنے کے لیے کوئی مشرک موجود نہیں تھا مسلمانوں نے اس بازار میں کافی تجارت اور خریدو فروخت کی اور بہت نفع لے کر کامیابی اور کامرانی کے ساتھ واپس آئے۔ (الوسیط ج ١ ص ٥٢٣۔ ٥٢٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

ان آیتوں کے شان نزول میں اختلاف ہے ‘ امام واقدی کی تحقیق یہ ہے کہ پہلی آیت : جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہی ‘ یہ آیت غزوہ حمراء الاسد کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ “ اور دوسری آیت ” ان لوگوں سے بعض لوگوں نے کہا تھا کہ تمہارے مقابلہ کے لیے بہت بڑا لشکر جمع ہوچکا ہے۔ سو تم ان سے ڈرو “۔ یہ آیت بدر صغری کے متعلق نازل ہوئی ہے اور بعض ائمہ تفسیر نے کہا یہ دونوں آیتیں بدر صغری کے متعلق نازل ہوئی ہیں ‘ لیکن امام واقدی کی تحقیق زیادہ قرین قیاس ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں کی اس بات پر مدح فرمائی ہے کہ انہوں نے زخمی ہونیکے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہی اور یہ مدح اسی وقت لائق ہے جب وہ غزوہ احد کے فورا بعد غزوہ حمراء الاسد کے لیے روانہ ہوں ‘ کیونکہ اس وقت وہ تازہ تازہ زخمی ہوئے تھے اور غزوہ بدر صغری تو ایک سال بعد واقع ہوا تھا اس وقت ان کے زخم مندمل ہوچکے تھے۔ اور دوسری آیت جس میں مسلمانوں کو شیطان کے ڈرانے کا ذکر ہے وہ غزوہ بدر صغری کے مناسب ہے کیونکہ اسی موقع پر نعیم بن مسعود ‘ ابوسفیان کے کہنے سے مسلمانوں کو ڈرانے مدینہ گیا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 172

فَاٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنۡيَا وَحُسۡنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَةِ‌ ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 148

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنۡيَا وَحُسۡنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَةِ‌ ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

ترجمہ:

تو اللہ نے ان کو دنیا کی نعمت (بھی) دی اور آخرت میں بھی نیک اجر عطا فرمایا اور اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے

القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 148