کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 5 سورہ البقرہ آیت نمبر40 تا 46

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْۚ-وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(۴۰)

اے یعقوب کی اولاد (ف۶۹) یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا (ف۷۰) اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا (ف۷۱) اور خاص میرا ہی ڈر رکھو (ف۷۲)

(ف69)

اسرائیل بمعنی عبداللہ عبری زبان کا لفظ ہے یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے۔(مدارک) کلبی مفسر نے کہا اللہ تعالیٰ نے ” یٰۤاَیُّھَاالنَّاسُ اعْبُدُوْا ” فرما کر پہلے تمام انسانوں کو عموماً دعوت دی پھر ” اِذْ قَالَ رَبُّکَ ” فرما کر انکے مبدء کا ذکر کیا اس کے بعد خصوصیت کے ساتھ بنی اسرائیل کو دعوت دی یہ لوگ یہودی ہیں اور یہاں سے سیقول تک ان سے کلام جاری ہے کبھی بملاطفت انعام یاد دلا کر دعوت کی جاتی ہے کبھی خوف دلا یا جاتا ہے کبھی حجت قائم کی جاتی ہے۔ کبھی ان کی بدعملی پر توبیخ ہوتی ہے کبھی گزشتہ عقوبات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

(ف70)

یہ احسان کہ تمہارے آباء کو فرعون سے نجات دلائی ، دریا کو پھاڑا ابر کو سائبان بنایا ان کے علاوہ اور احسانات جو آگے آتے ہیں ان سب کو یاد کرو اور یاد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کرکے شکر بجالاؤ کیونکہ کسی نعمت کا شکر نہ کرنا ہی اس کا بھلانا ہے۔

(ف71)

یعنی تم ایمان و اطاعت بجالا کر میرا عہد پورا کرو میں جزاء و ثواب دے کر تمہارا عہد پورا کروں گا اس عہد کا بیان آیہ ” وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہ ُ مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ ” میں ہے۔

(ف72)

مسئلہ : اس آیت میں شکر نعمت ووفاء عہد کے واجب ہونے کا بیان ہے اور یہ بھی کہ مومن کو چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے ۔

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ۪-وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا٘-وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ(۴۱)

اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے اتارا اس کی تصدیق کرتا ہوا جو تمہارے ساتھ ہے اور سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو (ف۷۳) اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو (ف۷۴) اور مجھی سے ڈرو

(ف73)

یعنی قرآن پاک توریت وانجیل پرجو تمہارے ساتھ ہیں ایمان لاؤاور اہلِ کتاب میں پہلے کافر نہ بنوکہ جو تمہارے اتباع میں کفر اختیار کرے اس کا وبال بھی تم پر ہو ۔

(ف74)

ان آیات سے توریت و انجیل کی وہ آیات مراد ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے مقصد یہ ہے کہ حضور کی نعت دولت دنیا کے لئے مت چھپاؤ کہ متاع دنیا ثمن قلیل اور نعمت آخرت کے مقابل بے حقیقت ہے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت کعب بن اشرف اور دوسرے رؤساء و علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کے جاہلوں اور کمینوں سے ٹکے وصول کرلیتے اور ان پر سالانے مقرر کرتے تھے اور انہوں نے پھلوں اور نقد مالوں میں اپنے حق معین کرلئے تھے انہیں اندیشہ ہوا کہ توریت میں جو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے اگر اس کو ظاہر کریں تو قوم حضور پر ایمان لے آئے گی اور ان کی کچھ پرسش نہ رہے گی۔ یہ تمام منافع جاتے رہیں گے اس لئے انہوں نے اپنی کتابوں میں تغییر کی اور حضور کی نعت کو بدل ڈالا جب ان سے لوگ دریافت کرتے کہ توریت میں حضور کے کیا اوصاف مذکور ہیں تو وہ چھپالیتے۔ اور ہر گز نہ بتاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن وغیرہ)

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲)

اور حق سے باطل کو نہ ملاؤ اور دیدہ و دانستہ حق نہ چھپاؤ

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳)

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو (ف۷۵)

(ف75)

اس آیت میں نمازو زکوٰۃ کی فرضیت کا بیان ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نمازوں کو ان کے حقوق کی رعایت اور ارکان کی حفاظت کے ساتھ ادا کرو مسئلہ : جماعت کی ترغیب بھی ہے حدیث شریف میں ہے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۴۴)

کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۷۶)

(ف76)

شان نُزول : عُلَماءِ یہود سے ان کے مسلمان رشتہ داروں نے دین اسلام کی نسبت دریافت کیا تو انہوں نے کہا تم اس دین پر قائم رہو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین حق اور کلام سچا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ایک قول یہ ہے کہ آیت ان یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے مشرکین عرب کو حضور کے مبعوث ہونے کی خبر دی تھی اور حضور کے اتباع کرنے کی ہدایت کی تھی پھر جب حضور مبعوث ہوئے تو یہ ہدایت کرنے والے حسد سے خود کافر ہوگئے اس پر انہیں توبیخ کی گئی ۔(خازن و مدارک)

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵)

اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں (ف۷۷)

(ف77)

یعنی اپنی حاجتوں میں صبر اور نماز سے مدد چاہو سبحان اللہ کیا پاکیزہ تعلیم ہے صبر مصیبتوں کا اخلاقی مقابلہ ہے انسان عدل و عزم حق پرستی پر بغیر اس کے قائم نہیں رہ سکتا صبر کی تین قسمیں ہیں۔(۱) شدت و مصیبت پر نفس کو روکنا (۲)طاعت و عبادت کی مشقتوں میں مستقل رہنا(۳)معصیت کی طرف مائل ہو نے سے طبیعت کو باز رکھنا ،بعض مفسرین نے یہاں صبر سے روزہ مراد لیا ہے وہ بھی صبر کا ایک فرد ہے اس آیت میں مصیبت کے وقت نما ز کے ساتھ استعانت کی تعلیم بھی فرمائی،کیونکہ وہ عبادتِ بدنیہ ونفسانیہ کی جامع ہے اور اس میں قربِ الہٰی حاصل ہو تا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہم امور کے پیش آنے پر مشغولِ نماز ہو جاتے تھے،اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ مومنین صادقین کے سوا اوروں پر نماز گرا ں ہے ۔

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)

جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا (ف۷۸)

(ف78)

اس میں بشارت ہے کہ آخرت میں مؤمنین کو دیدارالہی کی نعمت ملے گی

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 4 سورہ البقرہ آیت نمبر30 تا 39

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں (ف۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے (ف۵۴) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے (ف۵۵)

(ف53)

خلیفہ احکام واوامرکے اجراء و دیگر تصرفات میں اصل کا نائب ہوتا ہے یہاں خلیفہ سے حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں اگرچہ اور تمام انبیاء بھی اللہ تعالٰی کے خلیفہ ہیں حضرت داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا ” یَادَاو،دُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ ” فرشتوں کو خلافت آدم کی خبر اس لئے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کرکے معلوم کرلیں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے قبل ہی خلیفہ کا لقب عطا ہوا اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی

مسئلہ : اس میں بندوں کو تعلیم ہے کہ وہ کام سے پہلے مشورہ کیا کریں اور اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو مشورہ کی حاجت ہو ۔

(ف54)

ملائکہ کا مقصد اعتراض یا حضرت آدم پر طعن نہیں بلکہ حکمت خلافت دریافت کرنا ہے اور انسانوں کی طرف فساد انگیزی کی نسبت کرنا اس کا علم یا انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا ہو یا لوح محفوظ سے حاصل ہوا ہو یا خود انہوں نے جنات پر قیاس کیا ہو ۔

(ف55)

یعنی میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں بات یہ ہے کہ انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے اولیاء بھی علماء بھی اور وہ علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)

اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے (ف۵۶) پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)

(ف56)

اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر تمام اشیاء و جملہ مسمیات پیش فرما کر آپ کو ان کے اسماء و صفات و افعال و خواص و اصول علوم و صناعات سب کا علم بطریق الہام عطا فرمایا ۔

(ف57)

یعنی اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں گا اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام تصرف و تدبیراور عدل و انصاف ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اس کو متصرف فرمایا گیا اور جن کا اس کو فیصلہ کرنا ہے۔

مسئلہ : اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے ملائکہ پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ علمِ اسماء خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے

مسئلہ: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ سے افضل ہیں ۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲)

بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے (ف۵۸)

(ف58)

اس میں ملائکہ کی طرف سے اپنے عجزو قصور کا اعتراف اور اس امر کا اظہار ہے کہ اُن کا سوال استفساراً تھا۔ نہ کہ اعتراضاً اور اب انہیں انسان کی فضیلت اور اُس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے ۔

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(۳۳)

فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادئیے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو (ف۶۰)

(ف59)

یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے ہر چیز کا نام اور اس کی پیدائش کی حکمت بتادی۔

(ف60)

ملائکہ نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی و خوں ریزی کرے گا اور وجوہات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ مستحق خلافت وہ خود ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے افضل و اعلم کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا مسئلہ اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالٰی کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا، کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جملہ لغات اور کل زبانیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ ملائکہ کے علوم و کمالات میں زیادتی ہوتی ہے ۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴)

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۵)

(ف۶۱) اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف۶۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے (ف۶۳)

(ف61)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور ملائکہ کے لئے حصول کمالات کا وسیلہ کیا تو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں شکر گزاری اور حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اعتراف اور اپنے مقولہ کی معذرت کی شان پائی جاتی ہے بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا تھا ان کی سند یہ آیت ہے

” فَاِذَا اسَوَّیْتُہ’ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ’ سَاجِدِینَ ”(بیضاوی) سجدہ کا حکم تمام ملائکہ کو دیا گیا تھا یہی اصح ہے۔(خازن) مسئلہ : سجدہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک سجدۂ عبادت جو بقصد پر ستش کیا جاتا ہے دوسرا سجدۂ تحیت جس سے مسجود کی تعظیم منظور ہوتی ہے نہ کہ عبادت۔

مسئلہ : سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا نہ کسی شریعت میں کبھی جائز ہوا یہاں جو مفسرین سجدۂ عبادت مراد لیتے وہ فرماتے ہیں کہ سجدہ خاص اللہ تعالیٰ کے لئے تھا۔اور حضرت آدم علیہ السلام قبلہ بنائے گئے تھے تو وہ مسجود الیہ تھے نہ کہ مسجودلہ، مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سجدہ سے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا فضل و شرف ظاہر فرمانا مقصود تھا اور مسجود الیہ کا ساجد سے افضل ہونا کچھ ضرور نہیں جیسا کہ کعبہ معظمہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ و مسجود الیہ ہے باوجودیکہ حضور اس سے افضل ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں سجدۂ عبادت نہ تھا سجدۂ تحیت تھا اور خاص حضرت آدم علیہ السلام کے لئے تھا زمین پر پیشانی رکھ کر تھا نہ کہ صرف جھکنا یہی قول صحیح ہے اور اسی پر جمہور ہیں۔(مدارک)

مسئلہ سجدۂ تحیت پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ کیا گیا اب کسی کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ جب حضرت سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا کہ مخلوق کو نہ چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (مدارک) ملائکہ میں سب سے پہلا سجدہ کرنے والے حضرت جبریل ہیں پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر عزرائیل پھر اور ملائکہ مقربین یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زوال سے عصر تک کیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکہ مقربین سو برس اور ایک قول میں پانچ سو برس سجدہ میں رہے شیطان نے سجدہ نہ کیا اور براہ تکبر یہ اعتقاد کرتا رہا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے اس کے لئے سجدہ کا حکم معاذ اللہ تعالیٰ خلاف حکمت ہے اس اعتقاد باطل سے وہ کافر ہوگیا۔

مسئلہ : آیت میں دلالت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل ہیں کہ ان سے انہیں سجدہ کرایا گیا۔

مسئلہ : تکبر نہایت قبیح ہے اس سے کبھی متکبر کی نوبت کفر تک پہنچتی ہے۔ (بیضاوی و جمل)

(ف62)

اس سے گندم یا انگور وغیرہ مراد ہے (جلالین)

(ف63)

ظلم کے معنی ہیں کسی شے کو بے محل وضع کرنا یہ ممنوع ہے اور انبیاء معصوم ہیں ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا یہاں ظلم خلاف اولی کے معنی میں ہے۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام کو ظالم کہنا اہانت و کفر ہے جو کہے وہ کافر ہوجائے گا اللہ تعالیٰ مالک و مولیٰ ہے جو چاہے فرمائے اس میں ان کی عزت ہے دوسرے کی کیا مجال کہ خلاف ادب کلمہ زبان پر لائے اور خطاب حضرت حق کو اپنی جرأت کے لئے سند بنائے، ہمیں تعظیم و توقیر اور ادب و طاعت کا حکم فرمایا ہم پر یہی لازم ہے۔

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(۳۶)

تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف۶۴) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف۶۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے (ف۶۶)

(ف64)

شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا (علیہماالسلام) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجر خلد بتادوں، حضرت آدم علیہ السلام نے انکار فرمایا اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے بایں خیال حضرت حوّا نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا’ حضرت آدم کو خیال ہوا کہ ” لَاتَقْرَبَا ” کی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(ف65)

حضرت آدم و حوا اور ان کی ذریت کو جوان کے صلب میں تھی جنت سے زمین پر جانے کا حکم ہوا حضر ت آدم زمین ہند میں سراندیپ کے پہاڑوں پر اور حضرت حوا جدّے میں اتارے گئے۔ (خازن) حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے زمین کے اشجار میں پاکیزہ خوشبو پید اہوئی۔(روح البیان)

(ف66)

اس سے اختتام عمر یعنی موت کا وقت مراد ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے لئے بشارت ہے کہ وہ دنیا میں صرف اتنی مدت کے لئے ہیں اس کے بعد پھر انہیں جنت کی طرف رجوع فرمانا ہے اور آپ کی اولاد کے لئے معاد پر دلالت ہے کہ دنیا کی زندگی معین وقت تک ہے عمر تمام ہونے کے بعد انہیں آخرت کی طرف رجوع کرنا ہے۔

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷)

پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف۶۷) بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان

(ف67)

آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اورتمام اہلِ زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں ” رَبَّنَا ظَلَمْنَا ”الآیہ ‘ کے ساتھ یہ عرض کیا ” اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ” ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔

” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ ” یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندۂ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا ” مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللّٰہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ ”

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)

ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم(ف۶۸)

(ف68)

یہ مؤمنین صالحین کے لئے بشارت ہے کہ نہ انہیں فزع اکبر کے وقت خوف ہو نہ آخرت میں غم وہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹)

اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا

کنز الایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 2 سورہ البقرہ آیت نمبر8 تا 20

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ(۸)

اور کچھ لوگ کہتے ہیں (ف۱۲) کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں

(ف12)

اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کی راہیں ان کے لئے اول ہی سے بند نہ تھیں کہ جائے عذر ہوتی بلکہ ان کے کُفر و عناد اور سرکشی و بے دینی اور مخالفتِ حق و عداوتِ انبیاء علیہم السلام کا یہ انجام ہے جیسے کوئی شخص طبیب کی مخالفت کرے اور زہرِ قاتل کھا لے اور اس کے لئے دوا سے اِنتفاع کی صورت نہ رہے تو خود ہی مستحقِ ملامت ہے ۔

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹)

فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو (ف۱۳) اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں

(ف13)

شانِ نُزول : یہاں سے تیرہ آیتیں منافقین کی شان میں نازل ہوئیں جو باطن میں کافِر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے فرمایا ” مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ” وہ ایمان والے نہیں یعنی کلمہ پڑھنا ، اسلام کا مدعی ہونا ، نماز روزہ ادا کرنا ، مومن ہونے کے لئے کافی نہیں جب تک دل میں تصدیق نہ ہو ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جتنے فرقے ایمان کا دعوٰی کرتے ہیں اور کُفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب کا یہی حکم ہے کہ کافِر خارج از اسلام ہیں ، شرع میں ایسوں کو منافق کہتے ہیں ، ان کا ضرر کھلے کافِروں سے زیادہ ہے ۔

” مِنَ النَّاسِ ” فرمانے میں لطیف رَمْز یہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات و انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتا ، یوں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی آدمی ہیں ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے اِنکار کا پہلو نکلتا ہے اس لئے قرآنِ پاک میں جا بجا انبیاء کرام کے بشر کہنے والوں کو کافِر فرمایا گیا اور درحقیقت انبیاء کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کُفّار کا دستور ہے ۔

بعض مفسِّرین نے فرمایا ” مِنَ النَّاسِ ” سامعین کو تعجب دلانے کے لئے فرمایا گیا کہ ایسے فریبی مکار اور ایسے احمق بھی آدمیوں میں ہیں ۔

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ-فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ﳔ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۱۰)

ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۴) تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا (ف۱۵)

(ف14)

اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو کوئی دھوکا دے سکے ، وہ اسرار و مخفیات کا جاننے والا ہے ، مراد یہ ہے کہ منافق اپنے گمان میں خدا کو فریب دینا چاہتے ہیں یا یہ کہ خدا کو فریب دینا یہی ہے کہ رسول علیہ السلام کو دھوکا دینا چاہیں کیونکہ وہ اس کے خلیفہ ہیں اور اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب کو اَسرار کا علم عطا فرمایا ہے ، وہ ان منافقین کے چُھپے کُفر پر مطلع ہیں اور مسلمان ان کے اطلاع دینے سے باخبر تو ان بے دینوں کا فریب نہ خدا پر چلے ، نہ رسول پر ، نہ مؤمنین پر بلکہ درحقیقت وہ اپنی جانوں کو فریب دے رہے ہیں ۔

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقیہ بڑا عیب ہے جس مذہب کی بنا تقیہ پر ہو وہ باطل ہے ، تقیہ والے کا حال قابلِ اعتماد نہیں ہوتا ، توبہ ناقابلِ اطمینان ہوتی ہے اس لئے عُلَماء نے فرمایا ” لَاتُقْبَلُ تَوْبَۃُ الزِّنْدِیْقِ ”۔

(ف15)

بدعقیدگی کو قلبی مرض فرمایا گیا اس سے معلوم ہوا کہ بدعقیدگی روحانی زندگی کے لئے تباہ کُن ہے مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جھوٹ حرام ہے اس پر عذابِ اَلیم مرتب ہوتا ہے ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو (ف۱۶) تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں

(ف16)

مسئلہ : کُفّار سے میل جول ، ان کی خاطر دین میں مُداہنت اور اہلِ باطل کے ساتھ تَمَلّق و چاپلوسی اور ان کی خوشی کے لئے صُلحِ کُل بن جانا اور اظہارِ حق سے باز رہنا شانِ منافق اور حرام ہے ، اسی کو منافقین کا فساد فرمایا گیا ۔ آج کل بہت لوگوں نے یہ شیوہ کر لیا ہے کہ جس جلسہ میں گئے ویسے ہی ہو گئے ، اسلام میں اس کی ممانعت ہے ظاہر و باطن کا یکساں نہ ہونا بڑا عیب ہے ۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳)

اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤجیسے اور لوگ ایمان لا ئے ہیں (ف۱۷)تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایما ن لے آئیں (ف۱۸)سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں (ف۱۹)

(ف17)

یہاں ” اَلنَّاسُ ” سے یا صحابہ کرام مراد ہیں یا مومنین کیونکہ خدا شناسی ، فرمانبرداری و عاقبت اندیشی کی بدولت وہی انسان کہلانے کے مستحق ہیں ۔

مسئلہ : ” اٰمِنُوْا کَمَا اٰمَنَ ” سے ثابت ہوا کہ صالحین کا اِتبّاع محمود و مطلوب ہے ۔

مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ مذہبِ اہلِ سنّت حق ہے کیونکہ اس میں صالحین کا اِتّباع ہے ۔

مسئلہ : باقی تمام فرقے صالحین سے مُنحَرِف ہیں لہذا گمراہ ہیں ۔

مسئلہ : بعض عُلَماء نے اس آیت کو زندیق کی توبہ مقبول ہونے کی دلیل قرار دیا ہے ۔ (بیضاوی) زندیق وہ ہے جو نبوّت کا مُقِرّ ہو ، شعائرِ اسلام کا اظہار کرے اور باطن میں ایسے عقیدے رکھے جو بالاتفاق کُفر ہوں ، یہ بھی منافقوں میں داخل ہے ۔

(ف18)

اس سے معلوم ہوا کہ صالحین کو بُرا کہنا اہلِ باطل کا قدیم طریقہ ہے ، آج کل کے باطل فرقے بھی پچھلے بزرگوں کو بُرا کہتے ہیں ، روافض خلفائے راشدین اور بہت صحابہ کو خوارج ، حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے رُفقاء کو ، غیر مقلِّد ائمۂ مجتہدین بالخصوص امامِ اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو ، وہابیہ بکثرت اولیاء و مقبولانِ بارگاہ کو ، مرزائی انبیاءِ سابقین تک کو قرآنی (چکڑالی) صحابہ و محدثین کو ، نیچری تمام اکابرِ دین کو برا کہتے اور زبانِ طعن دراز کرتے ہیں ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ سب گمراہی میں ہیں ، اس میں دیندار عالِموں کے لئے تسلّی ہے کہ وہ گمراہوں کی بدزبانیوں سے بہت رنجیدہ نہ ہوں سمجھ لیں کہ یہ اہلِ باطل کا قدیم دستور ہے ۔ (مدارک)

(ف19)

منافقین کی یہ بدزبانی مسلمانوں کے سامنے نہ تھی ، ان سے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم باخلاص مومن ہیں جیسا کہ اگلی آیت میں ہے ” اِذَالَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَّا ” یہ تبرّا بازیاں اپنی خاص مجلسوں میں کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے ان کا پردہ فاش کر دیا ۔ (خازن) اسی طرح آج کل کے گمراہ فرقے مسلمانوں سے اپنے خیالاتِ فاسدہ کو چھپاتے ہیں مگر اللہ تعالٰی ان کی کتابوں اور تحریروں سے ان کے راز فاش کر دیتا ہے ۔ اس آیت سے مسلمانوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہیں دھوکا نہ کھائیں ۔

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّاۚۖ-وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْۙ-اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ(۱۴)

اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں (ف۲۰) تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں (ف۲۱)

(ف20)

یہاں شیاطین سے کُفّار کے وہ سردار مراد ہیں جو اغواء میں مصروف رہتے ہیں ۔ (خازن و بیضاوی) یہ منافق جب ان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے ملنا مَحض براہِ فریب و استہزاء اس لئے ہے کہ ان کے راز معلوم ہوں اور ان میں فساد انگیزی کے مواقع ملیں ۔ (خازن)

(ف21)

یعنی اظہارِ ایمان تمسخُر کے طور پر کیا یہ اسلام کا انکار ہوا ۔

مسئلہ : انبیاء علیہم السلام اور دین کے ساتھ استہزاء و تمسخُر کُفر ہے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت عبداللہ بن اُبَیْ وغیرہ منافقین کے حق میں نازل ہوئی ایک روز انہوں نے صحابۂ کرام کی ایک جماعت کو آتے دیکھا تو اِبْنِ اُبَی نے اپنے یاروں سے کہا دیکھو تو میں انہیں کیسا بناتا ہوں جب وہ حضرات قریب پہنچے تو اِبْنِ اُبَی نے پہلے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا دستِ مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر آپ کی تعریف کی پھر اسی طرح حضرت عمر اور حضرت علی کی تعریف کی (رضی اللہ تعالٰی عنہم) حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اے اِبْنِ اُبَی خدا سے ڈر ، نفاق سے باز آ کیونکہ منافقین بدترین خَلق ہیں ، اس پر وہ کہنے لگا کہ یہ باتیں نفاق سے نہیں کی گئیں بخدا ہم آپ کی طرح مومنِ صادق ہیں ، جب یہ حضرات تشریف لے گئے تو آپ اپنے یاروں میں اپنی چالبازی پر فخر کرنے لگا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ منافقین مؤمنین سے ملتے وقت اظہارِ ایمان و اخلاص کرتے ہیں اور ان سے علیحدہ ہو کر اپنی خاص مجلسوں میں ان کی ہنسی اڑاتے اور استہزاء کرتے ہیں ۔ (اخرجہ الثعلبی و الواحدی و ضعفہ ابن حجر و السیوطی فی لباب النقول)

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام و پیشوایانِ دین کا تمسخُر اُڑانا کُفر ہے ۔

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۱۵)

اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے (ف۲۲) ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

(ف22)

اللہ تعالٰی استہزاء اور تمام نقائص و عیوب سے منزّہ و پاک ہے ۔ یہاں جزاءِ استہزاء کو استہزاء فر مایا گیا تاکہ خوب دلنشین ہو جائے کہ یہ سزا اس ناکردنی فعل کی ہے ، ایسے موقع پر جزاء کو اسی فعل سے تعبیر کرنا آئینِ فصاحت ہے جیسے جَزَاءُ سَیِّئَۃ سَیِّئَۃ میں کمالِ حُسنِ بیان یہ ہے کہ اس جملہ کو جملۂ سابقہ پر معطوف نہ فرمایا کیونکہ وہاں استہزاء حقیقی معنی میں تھا ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى۪-فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ(۱۶)

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی (ف۲۳) تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے (ف۲۴)

(ف23)

ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنا یعنی بجائے ایمان کے کُفر اختیار کرنا نہایت خسارہ اور ٹَوٹے کی بات ہے

شانِ نُزول : یہ آیت یا ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو ایمان لانے کے بعد کافِر ہو گئے یا یہود کے حق میں جو پہلے سے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے تھے مگر جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو منکِر ہو گئے یا تمام کُفّار کے حق میں کہ اللہ تعالٰی نے انہیں فِطرتِ سلیمہ عطا فرمائی ، حق کے دلائل واضح کئے ، ہدایت کی راہیں کھولیں لیکن انہوں نے عقل و انصاف سے کام نہ لیا اور گمراہی اختیار کی ۔

مسئلہ : اس آیت سے بیع تعاطی کا جواز ثابت ہوا یعنی خرید و فروخت کے الفاظ کہے بغیر مَحض رضا مندی سے ایک چیز کے بدلے دوسری چیز لینا جائز ہے ۔

(ف24)

کیونکہ اگر تجارت کا طریقہ جانتے تو اصل پونجی (ہدایت) نہ کھو بیٹھتے ۔

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًاۚ-فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(۱۷)

ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا (ف۲۵)

(ف25)

یہ ان کی مثال ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے کچھ ہدایت دی یا اس پر قدرت بخشی پھر انہوں نے اس کو ضائع کر دیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا ان کا مال حسرت و افسوس اور حیرت و خوف ہے ۔ اس میں وہ منافق بھی داخل ہیں جنہوں نے اظہارِ ایمان کیا اور دل میں کُفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کر دیا اور وہ بھی جو مؤمن ہونے کے بعد مرتد ہو گئے اور وہ بھی جنہیں فِطرتِ سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی نے حق کو واضح کیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور گمراہی اختیار کی اور جب حق سننے ، ماننے ، کہنے ، راہِ حق دیکھنے سے محروم ہوئے تو کان ، زبان ، آنکھ سب بے کار ہیں ۔

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ(۱۸)

بہرے گونگے اندھے تو وہ پھر آنے والے نہیں

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌۚ-یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِؕ-وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ(۱۹)

یا جیسے آسمان سے اُترتا پانی کہ اس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (ف ۲۶) اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں کڑک کے سبب موت کے ڈر سے (ف ۲۷) اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے (ف۲۸)

(ف26)

ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والوں کی یہ دوسری تمثیل ہے کہ جیسے بارش زمین کی حیات کا سبب ہوتی ہے اور اس کے ساتھ خوفناک تاریکیاں اور مُہِیب گرج اور چمک ہوتی ہے اسی طرح قرآن و اسلام قلوب کی حیات کا سبب ہیں اور ذکرِ کُفر و شرک و نفاق ظلمت کے مشابہ جیسے تاریکی رَہْرَو کو منزل تک پہنچنے سے مانع ہوتی ہے ایسے ہی کُفر و نفاق راہ یابی سے مانع ہیں اور وعیدات گرج کے اور حُجَجِ بیِّنہ چمک کے مشابہ ہیں ۔

شانِ نُزول : منافقوں میں سے دو آدمی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے مشرکین کی طرف بھاگے ، راہ میں یہی بارش آئی جس کا آیت میں ذکر ہے اس میں شدت کی گرج کڑک اور چمک تھی ، جب گرج ہوتی تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں یہ کانوں کو پھاڑ کر مار نہ ڈالے ، جب چمک ہوتی چلنے لگتے ، جب اندھیری ہوتی اندھے رہ جاتے ، آپس میں کہنے لگے خدا خیر سے صبح کرے تو حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس میں دیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسلام پر ثابت قدم رہے ۔ ان کے حال کو اللہ تعالٰی نے منافقین کے لئے مثل (کہاوت) بنایا جو مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں حضور کا کلام ان میں اثر نہ کرجائے جس سے مر ہی جائیں اور جب ان کے مال و اولاد زیادہ ہوتے اور فتوح و غنیمت ملتی تو بجلی کی چمک والوں کی طرح چلتے اور کہتے کہ اب تو دینِ محمّدی سچا ہے اور جب مال و اولاد ہلاک ہوتے اور کوئی بلا آتی تو بارش کی اندھیریوں میں ٹھٹک رہنے والوں کی طرح کہتے کہ یہ مصیبتیں اسی دین کی وجہ سے ہیں او راسلام سے پلٹ جاتے ۔ (لباب النقول للسیوطی)

(ف27)

جیسے اندھیری رات میں کالی گھٹا چھائی ہو اور بجلی کی گرج و چمک جنگل میں مسافر کو حیران کرتی ہو اور وہ کڑک کی وحشت ناک آواز سے باندیشۂ ہلاک کانوں میں انگلیاں ٹھونستا ہو ، ایسے ہی کُفّار قرآنِ پاک کے سننے سے کان بند کرتے ہیں اور انہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کے دلنشین مضامین اسلام و ایمان کی طرف مائل کر کے باپ دادا کا کُفری دین ترک نہ کرا دیں جو ان کے نزدیک موت کے برابر ہے ۔

(ف28)

لہذا یہ گریز انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی کیونکہ وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر قہرِ الٰہی سے خلاص نہیں پا سکتے ۔

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْؕ-كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِۗۙ-وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْاؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠(۲۰)

بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اُچک لے جائے گی (ف۲۹) جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے(ف ۳۰) اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا (ف۳۱) بےشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۳۲)

(ف29)

جیسے بجلی کی چمک ، معلوم ہوتا ہے کہ بینائی کو زائل کر دے گی ایسے ہی دلائلِ باہرہ کے انوار ان کی بصر وبصیرت کو خیرہ کرتے ہیں ۔

(ف30)

جس طرح اندھیری رات اور ابر و بارش کی تاریکیوں میں مسافر مُتحیَّر ہوتا ہے ، جب بجلی چمکتی ہے توکچھ چل لیتا ہے جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے اسی طرح اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت منافق اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جب کوئی مشقت پیش آتی ہے تو کُفر کی تاریکی میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور اسلام سے ہٹنے لگتے ہیں ، اسی مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح ارشاد فرمایا ” اِذَا دُعُوْآ اِلیَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْنَ وَ اِنْ یَّکُنْ لَّھُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ” ۔ (خازن صاوی وغیرہ)

(ف31)

یعنی اگرچہ منافقین کا طرزِ عمل اس کا مقتضی تھا مگر اللہ تعالٰی نے ان کے سمع و بصر کو باطل نہ کیا ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اسباب کی تاثیر مشیت الٰہیہ کے ساتھ مشروط ہے بغیر مشیت تنہا اسباب کچھ نہیں کر سکتے ۔

مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشیت اسباب کی محتاج نہیں ، وہ بے سبب جو چاہے کر سکتا ہے ۔

(ف32)

شئی اسی کو کہتے ہیں جسے اللہ چاہے اور جو تحتِ مشیت آ سکے ، تمام ممکنات شئی میں داخل ہیں اس لئے وہ تحتِ قدرت ہیں اور جو ممکن نہیں واجب یا ممتنع ہے اس سے قدرت و ارادہ متعلق نہیں ہوتا جیسے اللہ تعالٰی کی ذات و صفات واجب ہیں اس لئے مقدور نہیں ۔

مسئلہ : باری تعالٰی کے لئے جھوٹ اور تمام عیوب محال ہیں اسی لئے قدرت کو ان سے کچھ واسطہ نہیں ۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 48

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اس کو جس کے لئے چاہیے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اس کو جس کے لئے چاہیے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا (النساء : ٤٨) 

شرک کی تعریف : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

شرک کا لغوی معنی ہے دو یا دو سے زیادہ لوگ کسی ایک معین چیز کے مالک ہوں تو وہ دونوں اس کی ملکیت میں شریک ہیں ‘ اور دین میں شرک یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کا شریک ٹھیرائے اور یہ سب سے بڑا کفر ہے اور شرک صغیر یہ کہ بعض کاموں میں اللہ کے ساتھ غیر اللہ کی بھی رعایت کرے جیسے ریاء اور نفاق۔ 

(المفردات ص ‘ ٢٦٠‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ٧٩١ ھ لکھتے ہیں : 

شرک کرنے کی تعریف یہ ہے : کسی شخص کو الوہیت میں شریک ماننا جیسے مجوس اللہ کے سوا واجب الوجود مانتے ہیں یا اللہ کے سوا کسی کو عبادت کا مستحق مانتے ہیں جیسا کہ بت پرست اپنے بتوں کو عبادت کا مستحق مانتے ہیں۔ (شرح عقائد نفسی ص ٦١‘ مطبوعہ مطبعہ یوسفیہ ہند) 

کیا چیزشرک ہے اور کیا چیز شرک نہیں ہے :

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو واجب بالذات یا قدیم بالذات ماننا ‘ یا اللہ کے سوا کسی کی کوئی صفت مستقل بالذات ماننا (مثلا یہ اعتقاء رکھنا کہ اس کو ازخود علم ہے یا از خود قدرت ہے) یا کسی کو اللہ کے سوا عبادت کا مستحق ماننا (مثلا اللہ کے ساتھ خاص ہیں ان کو غیر اللہ کے لیے بجا لانا ‘ مثلا کسی بزرگ کی نذر ماننا یا کسی کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ اپنی قدرتت سے رزق اور اولاد دیتا ہے ‘ بارش برساتا ہے ‘ بلاؤں کو ٹالتا ہے نفع پہنچانا اور ضرر دینا اس کی ذاتی قدرت میں ہے۔ حانث ہونے کے قصد سے کسی کے نام کی قسم کھانا یہ تمام امور شرک ہیں) 

مفتی محمد شفیع متوفی ١٣٩٦ ھ نے لکھا ہے کہ کسی کو دور سے پکارنا اور یہ سمجھنا کہ اس کو خبر ہوگئی یہ بھی شرک ہے۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ٤٣٠) 

یہ تعریف دو وجہ سے صحیح نہیں ہے کیونکہ شرک کا تعلق کسی چیز کو سمجھنے اور جاننے سے نہیں ہے ‘ ماننے اور اعتقاد کرنے سے ہے ‘ ثانیا ‘ اس وجہ سے کہ کوئی کسی شخص کو دور سے پکارے اور یہ اعتقاد رکھے کہ اس کو خبر ہوگئی۔ یہ اس وقت شرک ہوگا جب وہ یہ اعتقاد رکھے کہ وہ بےعطائے غیر مستقل سننے والا ہے ‘ شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ١٣٢٣ ھ کی اس سلسلہ میں بہت محتاط عبارت ہے وہ لکھتے ہیں : 

یہ خود معلوم آپ کو ہے کہ ندا غیر اللہ تعالیٰ کو کرنا شرک حقیقی جب ہوتا ہے کہ ان کو عالم سامع مستقل عقیدہ کرے ورنہ شرک نہیں ‘ مثلا یہ جانے کہ حق تعالیٰ ان کو مطلع فرما دیوے گا ‘ یا باذنہ تعالیٰ انکشاف ان کو ہوجائے گا یا باذنہ تعالیٰ ملائکہ پہنچا دیویں گے جیسا درود کی نسبت وارد ہے یا محض شوقیہ کہتا ہو محبت میں یا عرض حال محل تحسروحرمان میں کہ ایسے مواقع میں اگرچہ کلمات خطابیہ بولتے ہیں لیکن ہرگز نہ مقصود اسماع ہوتا ہے نہ عقیدہ ‘ پس ان ہی اقسام سے کلمات مناجات واشعار بزرگان کے ہوتے ہیں کہ فی حد ذاتہ نہ شرک نہ معصیت۔ (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ٦٨‘ مطبوعہ ناشران محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی) 

اسی طرح مفتی محمد شفیع نے کسی کو سجدہ کرنا بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ اس میں بھی تفصیل ہے ‘ سجدہ عبودیت شرک ہے اور سجدہ تعظیم ہماری شریعت میں حرام ہے سابقہ شریعتوں میں جائز تھا۔ 

کسی کی قبر یا مکان کا طواف کرنا بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ اس میں بھی تفصیل ہے اگر عبادت کی نیت سے قبر کا طواف کرے اور یہ مسلمان کے حال سے بہت بعید ہے تو یہ شرک ہے اور اگر تعظیم کی وجہ سے طواف کرے جیسا کہ اکثر جاہل مسلمان کرتے ہیں تو یہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ 

کسی کے روبرو رکوع کی طرح جھکنا ‘ اس کو بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ عبادت کی نیت سے شرک ہے خواہ حد رکوع تک ہو یا اس سے کم ہو اور تعظیم کی نیت سے حد رکوع تک جھکنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ 

دنیا کے کاروبار کو ستاروں کی تاثیر سے سمجھنا اس کو بھی شرک لکھا ہے حالانکہ ان کو صرف موثر حقیقی ماننا شرک ہے ‘ نیز ہم نے پہلے بھی لکھا ہے کہ کسی چیز کو جاننا اور سمجھنا شرک نہیں ہوتا اعتقاد اور ماننا شرک ہوتا ہے ‘ اور اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ ستارے نظام عالم میں اللہ کی قدرت کی علامات ہیں اور مثلا کہے کہ فلاں ستارہ کی وجہ سے بارش ہوئی تو یہ کفر نہیں ہے۔ البتہ مکروہ ہے۔ (شرح مسلم للنووی ج ١ ص ٥٩‘ مطبوعہ کراچی) 

اور کسی مہینہ کو منحوس سمجھنا اس کو بھی شرک لکھا ہے (معارف القرآن ج ٢ ص ٤٣٠) اس سے قطع نظر کرکے کہ سمجھنے کا شرک سے تعلق نہیں ہے ‘ نحوست کا اعتقاد شرک نہیں ہے بلکہ خلاف واقع اور خلاف شرع ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدشگونی لینے سے منع فرمایا ہے لیکن اگر کسی نے کسی چیز کو منحوس سمجھا تو وہ گنہ گار ہوگا مشرک نہیں ہوگا۔ 

زیر بحث آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شرک کے سوا ہر گناہ بخش دیا جائے گا خواہ صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ اس پر توبہ کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو ‘ اور اس آیت میں معتزلہ اور خوارج کا صراحۃ رد ہے۔ حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے رب کے پاس سے آنے والے نے مجھے بشارت دی کہ میری امت میں سے جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ میں نے کہا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٣٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٨٢) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔ (النساء : ٤٨) 

اس کا معنی ہے جس شخص نے ایسا گناہ کیا جس کی مغفرت نہیں کی جائے گی اور وہ شرک ہے ‘ اور اس کا دوسرا معنی ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔ افتری کا لفظ فری ہے ماخوذ ہے فری کا معنی ہے قطع کرنا اور جیسے کسی چیز کو کاٹا جائے تو وہ عموما فاسد ہوجاتی ہے اس لیے افتری کا معنی بہ طور غلبہ کے فساد ہوگیا اور قرآن مجید میں یہ لفظ ظلم ‘ کذب اور شرک کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 48

مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـيًّۢا بِاَ لۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنًا فِىۡ الدِّيۡنِ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانْظُرۡنَا لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَ لٰـكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 46

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـيًّۢا بِاَ لۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنًا فِىۡ الدِّيۡنِ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانْظُرۡنَا لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَ لٰـكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نافرمانی کی (اور آپ سے کہتے ہیں) سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کردیں میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے لیے بہتر اور درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت فرمائی ہے سو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور آپ سے کہتے ہیں سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کردیں میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے لیے بہتر اور درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت فرمائی ہے سو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے (النساء : ٤٦) 

یہود کی تحریف کا بیان : 

کلبی اور مقاتل نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات ‘ آپ کی بعثت کے زمانے اور آپ کی نبوت کے متعلق یہود کی کتاب میں جو پیش گوئیاں تھیں وہ ان کو بدل دیتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ ہم نے آپ کی بات سنی اور اس کی نافرمانی کی ‘ اور اپنی زبان مروڑ کر آپ سے راعنا کہتے تھے اور یہ ان کی لغت میں گالی تھی۔ قبتی نے کہا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی حدیث فرماتے یا کوئی حکم دیتے تو وہ کہتے تھے ہم نے سن لیا اور دل میں کہتے تھے کہ ہم نے نافرمانی کرلی ‘ اور جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات کرنے کا ارادہ کرتے تو کہتے تھے اے ابوالقاسم سنیے اور اپنے دل میں کہتے تھے کہ آپ نہ سنیں ‘ اور وہ آپ سے راعنا کہتے تھے اور اس لفظ سے یہ معنی ظاہر کرتے تھے کہ آپ ان پر نظر رحمت فرمائیں اور زبان مروڑ کر اس سے اپنے دل میں رعونت کا معنی لیتے تھے اور اگر وہ سمعنا وعصینا کی بجائے سمعنا واطعنا کہتے اور ” واسمع غیر مسمع “ اور ” راعنا ‘ کی جگہ انظرنا کہتے ہیں تو یہ بہت بہتر او بہت درست ہوتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کردی ہے ‘ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس توہین کی سزا میں ان کو دنیا میں رسوا کردیا اور آخرت میں ان کو اپنی رحمت سے بالکلیہ دور کردیا ‘ سو ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائیں گے ‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب ہیں ‘۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جناب میں ایسا لفظ کہنا جس کا ظاہری معنی توہین کا موہم ہو کفر ہے ‘ اس کی پوری تفسیر ہم نے تبیان القرآن جلد اول البقرہ : ١٠٤ میں بیان کردی ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت فرمائی ہے اس لیے ہم یہاں کسی شخص پر لعنت کرنے کی تحقیق کررہے ہیں۔ 

لعنت کی اقسام اور کسی شخص پر لعنت کرنے کی تحقیق :

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

لعنت کا معنی ہے کسی شخص کو کرنا اور از روئے غضب کسی شخص کو دھتکارنا ‘ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا معنی ہے اس کو سزا اور عذاب دینا اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا معنی ہے اس پر رحمت نہ فرمانا ‘ اور اس کو نیکی کی توفیق نہ دینا ‘ اور جب انسان کسی پر لعنت کرے تو اس کا معنی ہے اس کو بددعا دینا۔ (المفردات ص ‘ ٤٥١‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

(١) فسق اور ظلم پر علی الاطلاق لعنت کرنا جائز ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ : (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الکاذبین “۔ (آل عمران : ٦١) (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الظالمین “۔ (الاعراف : ٤٤) 

(٢) کسی معین شخص پر لعنت کرنا جس کا معنی یہ ہو کہ وہ اللہ کی رحمت سے مطلقا مردود ہے یہ اس شخص کے سوا اور کسی پر جائز نہیں ہے جس کی کفر پر موت قطعی اور یقینی ہو جیسے ابو لہب اور ابوجہل اور دیگر مقتولین بدرواحد ‘ اور جس کی کفر پر موت قطعی اور یقینی نہ ہو اس پر یہ لعنت نہیں کی جائے گی خواہ وہ مشہور فاسق ہو جیسے یزید۔ 

(٣) علامہ قہستانی نے لکھا ہے کہ جب کفار پر لعنت کی جائے تو شرعا اس کو معنی ہے اللہ کی رحمت سے بالکلیہ دور کرنا ‘ اور جب مومنین پر لعنت کی جائے تو اس کا معنی ہے ان کو ابرار اور مقربین کے درجہ سے دور کرنا ‘ البرالرائق کی بحث لعان میں کیا معین کاذب پر لعنت کرنا جائز ہے ؟ میں کہتا ہوں کہ غایت البیان کے باب العدۃ میں مذکور ہے حضرت ابن مسعود نے فرمایا جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کا معنی کرلوں اور مباہلہ کا معنی ہے ایک دوسرے پر لعنت کرنا ‘ اور جب ان کا کسی چیز میں اختلاف ہوتا تو وہ کہتے تھے کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو ‘ اور فقہاء نے کہا یہ لعنت ہمارے زمانہ میں بھی مشروع ہے ‘ قرآن مجید میں مومن پر لعن معین کا ثبوت ہے جب لعان میں پانچوں دفعہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے والا مرد کہتا ہے : 

(آیت) ” والخامسۃ ان لعنت اللہ علیہ ان کان من الکاذبین “۔ (النور : ٧) 

ترجمہ : اور پانچویں گواہی یہ ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ 

اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ مومن پر لعنت کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کو مقربین اور ابرابر کے درجہ سے دور کیا جائے نہ کہ اللہ کی رحمت سے بالکلیہ دور کیا جائے۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ٥٤١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 46

مُجدِّد ومُحَدَّث

اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو منصب قرآنِ کریم میں مذکور ہے ‘وہ ہے :”نبوت ورسالت‘‘۔اللہ تعالیٰ نے کئی انبیائے کرام کا ذکر فرمانے کے بعد فرمایا: ”بے شک وہ ہمارے نزدیک چنیدہ وپسندیدہ ہیں ‘(ص:47)‘‘۔قرآنِ کریم میں پچیس انبیائے کرام کے نام صراحت کے ساتھ آئے ہیں ‘اُن پر نام بنام ایمان لانا فرض ہے اور اُن میں سے کسی ایک کی نبوت کا انکار بھی کفر ہے ‘ اُن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

(1) حضرت آدمؑ (2) حضرت نوح ؑ(3) حضرت ابراہیمؑ(4) حضرت اسماعیلؑ (5) حضرت اسحاقؑ (6) حضرت یعقوبؑ (7) حضرت یوسفؑ (8) حضرت موسیٰؑ (9) حضرت ہارونؑ (10) حضرت شعیب ؑ(11) حضرت لوطؑ (12) حضرت ہودؑ (13) حضرت داؤدؑ(14) حضرت سلیمانؑ (15) حضرت ایوبؑ (16) حضرت زکریاؑ (17) حضرت یحییٰؑ (18) حضرت عیسیٰؑ (19) حضرت الیاسؑ (20) حضرت الیَسَعؑ (21) حضرت یونُسؑ (22) حضرت ادریسؑ (23) حضرت ذُوالکِفلؑ (24) حضرت صالحؑ (25)اورخاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ ‘صلوات اللّٰہ تعالیٰ وسلامہٗ علیہم اجمعین۔

حضرت عزیر علیہ السلام کا نام التوبہ:30میں صراحت کے ساتھ آیا ہے ‘اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اور یہود نے کہا: ”عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ نے کہا: مسیح اللہ کے بیٹے ہیں‘ یہ محض ان کے منہ سے کہی ہوئی (بے سروپا) باتیں ہیں‘‘۔ اسی طرح البقرہ : 258میں حیات بعد الموت کے حوالے سے ایک تجربہ اور مشاہدہ بیان ہوا ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”یا اس شخص کی طرح جو ایک بستی پر اس حال میں گزرا کہ وہ اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی تھی ‘ اس نے (تعجب سے) کہا: اللہ اس بستی والوں کو مرنے کے بعد کیسے زندہ کرے گاتو اللہ نے سو برس تک اس پر موت طاری کردی ‘ پھر اس کو زندہ کر کے اٹھایا ‘‘۔مفسرینِ کرام نے یہاں عزیر علیہ السلام مراد لیے ہیں ‘ بعض علما نے انہیں نبی کہا ہے لیکن ان کی نبوت قطعی نہیں ہے ‘ بلکہ ظنی ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام کا نام صراحت کے ساتھ قرآنِ کریم میں مذکور نہیں ہے ‘ اُن کی نبوت کے بارے میں بھی اختلاف ہے‘ تاہم جمہور علمائے امت کی رائے یہ ہے کہ وہ نبی تھے ‘ اُن کا ذکرالکہف:65 میں ان الفاظ میں ہے: ”تو اُن دونوں (حضراتِ موسیٰ ویوشع ) نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے ( خضر )کو پایا ‘جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت اورعلم عطا کیا تھا‘‘۔قرآنِ کریم نے اسے ”عِلمِ لَدُنِّی‘‘ سے تعبیر فرمایا ‘یعنی وہ علم جو کسی استاذ کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔الغرض تکوینی امور کے پیچھے جو اللہ تعالیٰ کے اسرار اور حکمتیں پوشیدہ ہیں ‘”عِلمِ لَدُنِّی‘‘سے اُن کا علم مراد ہے ۔اللہ تعالیٰ نے المؤمن:78میں فرمایا: ”اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے (بھی) رسول بھیجے‘ اُن میں سے بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان فرمادیا اور بعض کا حال ہم نے آپ پر بیان نہیں فرمایا ‘‘۔اس آیت میں اس بات کی صراحت ہے کہ سارے انبیائے کرام علیہم السلام کے احوال قرآنِ کریم میں بیان نہیں ہوئے‘اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور ہر امت میں( اللہ تعالیٰ کے عذاب سے) ڈرانے والاگزرا ہے‘ (فاطر:24)‘‘۔

لیکن اِجمالاً تمام انبیا پرایمان لانا ضروری ہے ‘ البقرہ:285میں فرمایا: ”رسول ایمان لائے اُس کلام پر جو اُن پر اُن کے رب کی جانب سے اتارا گیا اور سب مومن بھی ‘سب کے سب اللہ پر‘ اس کے فرشتوں پر‘ اُس کی کتابوں پر اور اُس کے (سب ) رسولوں پرایمان لائے‘‘۔ اسی آیۂ مبارکہ میں فرمایا :”ہم (ایمان لانے میں)اُس کے رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ‘‘۔ تاہم قرآنِ کریم نے یہ ضرور بتایا کہ انبیائے کرام کے مابین درجہ بندی موجود ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”یہ (سب) رسول ہیں‘ ہم نے ان میںسے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے‘ (البقرہ:253)‘‘۔انبیائے کرام کی قطعی تعداد قرآن کریم کی کسی آیت یا کسی حدیث صحیح میں مذکور نہیں ہے کہ اس کا انکار کفر وضلالت قرارپائے‘ البتہ بعض روایات میں انبیائے کرام کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا کم وبیش‘ رسولوں کی تعداد313اور صُحفِ سماوی کی تعداد110بتائی گئی ہے‘ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ اپنے اپنے زمانے میں جسے بھی اللہ تعالیٰ نے نبی اور رسول بناکر بھیجا‘ وہ سب کے سب برحق تھے اور ہم ان پر ایمان لاتے ہیں۔ 

خاتم المرسلین ﷺ نے خود بیان فرمایا: ”بنی اسرائیل کی سیاست کے امور انبیائے کرام انجام دیتے تھے ‘ جب ایک نبی کا وصال ہوجاتا تو دوسرا نبی اس کی جگہ لے لیتا ‘مگر اب میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا‘ بس خلفاہوں گے‘ (صحیح البخاری:3455)‘‘۔ سو آپ ﷺ کے بعد خلافت کا تصور موجود ہے ‘لیکن خلیفہ نبی اور رسول کی طرح منصوص نہیں ہوتاکہ اُس کی خلافت پر ایمان نہ لانے والے کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیا جائے ۔ اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں مُجَدِّد اور مُحَدَّث کے مناصب کا بھی ذکر آیا ہے ‘ لیکن مُجدِّد یا مُحَدَّث بھی نبی اور رسول کی طرح منصوص اور مُعیَّن نہیں ہوتا کہ اس کی اس حیثیت کا انکار کفر قرار پائے ۔ نبیﷺ نے فرمایا:”بے شک اللہ اِس امت کے لیے ہر صدی کے سرے پر ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اُس کے لیے اُس کے دین کی تجدید کا فریضہ انجام دے گا‘ (سنن ابودائود: 4291)‘‘۔ 

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب دین کی تعلیمات مٹ جاتی ہیں یا اُن میں باطل کی آمیزش کردی جاتی ہے یا دین کو اپنی خواہشات کے تابع بنادیا جاتا ہے ‘بدعات ومُنکَرات اہلِ دین میں نفوذ کرجاتی ہیںاور دین کا روشن چہرہ دھندلانے لگتا ہے ‘تو اللہ تعالیٰ پردۂ غیب سے ایسے اشخاص کو غیر معمولی علمی وفکری صلاحیتوں‘قوتِ عملی اور جذبۂ صادق سے فیض یاب کر کے ظاہر فرماتا ہے جو دین کی تعلیمات کو باطل کی ہر آمیزش سے پاک وصاف کر کے اپنی اصل پاکیزہ شکل میں دوبارہ پیش کرے ‘ اسی کو تجدید واِحیائے دین کہتے ہیں ‘ حدیث میں ایسی ہی عالی مرتبت شخصیات کی طرف اشارہ ہے ۔واضح رہے کہ تجدید اور تجدُّدْ میں زمین آسمان کا فرق ہے ‘ تجدید دین کو اپنی اصل شکل میں پیش کرنا ہے اور تَجدُّدْ سے مراد دین کو اپنے باطل افکار اور خواہشات کے تابع بنانا ہے۔مُجدِّد یقینا اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ظہور میں آتا ہے اور دین کے حوالے سے انقلابی کارنامہ انجام دیتا ہے ‘ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کا نام منصوص نہیں ہوتا‘ اس لیے کوئی کسی مجدِّد کا انکار کرے تو اس پر کوئی فتویٰ صادر نہیں کیا جائے گا۔ مختلف صدیوں میں روئے زمین کے مختلف خطوں میں اپنے اپنے زمینی حقائق اور تقاضوں کے مطابق لوگوں نے شخصیات کو مجدِّد قرار دیا ہے ‘اس لیے ایک وقت میں مختلف خطوں میں ایک سے زائد مجدِّدین کا ہونا بعید از امکان نہیں ہے‘ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کوئی شخص خود سے مجدِّد ہونے کا دعویٰ کرے ‘ اہلِ علم اُن کے تجدیدی کارناموں کے سبب انہیں جان لیتے ہیں ‘ علامہ علی القاری لکھتے ہیں: 

”مُجدِّد سنت کو بدعت سے ممتاز کرتا ہے‘ علم کو فروغ دیتا ہے‘ اہلِ علم کو عزت سے سرفراز کرتا ہے ‘ بدعت کو جڑ سے اکھیڑ کر اہلِ بدعت کی سازشوں کو توڑ دیتا ہے‘ علامہ ابن اثیر جذری نے ”جامع الاصول‘‘ میں لکھا ہے: ”علماء نے اس حدیث کی تاویل میں کلام کیا ہے اور ہر ایک نے اپنی سوچ کے مطابق کسی نہ کسی عالم کو مجدِّد اور اس حدیث کا مصداق قرار دیا ہے ‘ بہتر یہ ہے کہ اس حدیث کو عموم پر محمول کیا جائے ‘ کیونکہ لفظِ ”مَنْ‘‘ کا اطلاق واحد وجمع دونوں پر ہوتا ہے اور تجدید کا تعلق صرف فقہا کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے ‘ اگرچہ امت کو زیادہ فائدہ انہی سے پہنچاہے ‘ مجدِّد کسی عہد کا اولوالامر یا صاحبِ اقتدار بھی ہوسکتا ہے ‘ ہر شعبے کے لیے الگ الگ مجدِّد بھی ہوسکتے ہیں ‘کیونکہ دین اور مسلمانوں کے امورِ اجتماعی کی تدبیر اور عدل کا قیام صاحبانِ اقتدار کی ذمے داری ہے ‘ علومِ دینیہ کے مختلف شعبوں کے غیر معمولی ماہرکو بھی اپنے شعبے کا مجدِّد قرار دیا جاسکتا ہے ‘لیکن شرط یہ ہے کہ ان فنون میں مجدِّد اپنے عہد کے لوگوں میں ممتاز ہواور اُس کے نمایاں تجدیدی کارنامے سب پر عیاں ہوں۔مجدِّد کے لیے شخصِ واحد ہونا بھی ضروری نہیں ‘بلکہ ایک جماعت مل کر بھی تجدیدی کارنامہ انجام دے سکتی ہے۔ تجدید ایک اضافی امر ہے‘ کیونکہ علم روبہ زوال اور جہل مائل بہ ترقی ہے ‘ سو مجدِّد کا اپنے عہد کے لوگوں سے تقابل ہوگا نہ کہ قرنِ اول سے لے کر آخر تک ‘ کیونکہ متقدمین عہدِ نبوت سے قرب کے سبب علم ‘عمل ‘حلم‘ فضل اور تحقیق وتدقیق میں یقینا متاخِّرین پر فضیلت رکھتے ہیں ‘ کیونکہ جس کادور منبعِ نورِ ہدایت سے جتنا قریب رہا‘ اُس پر نور کا فیضان اتنا ہی زائد رہا‘(مرقاۃ المفاتیح‘ ج:1ص:322ملخصاً)‘‘۔ 

حدیث پاک میں ایک منصب ”مُحَدَّث‘‘ کا بھی آیا ہے ‘نبی کریم ﷺ نے فرمایا:” بے شک تم سے پہلی امتوں میں ”مُحَدَّث‘‘ گزرے ہیں اور اگر میری امت میں اس منصب کا حامل کوئی ہے تو وہ یقینا عمر بن خطاب ہیں‘ (بخاری:3469)‘‘۔ محدِّثینِ کرام نے اس حدیثِ مبارک کی شرح میں فرمایا: محدَّث سے مرادپاکیزہ قلب ‘نورانی ذہن‘علمِ نافع اور اعمالِ صالحہ کی حامل وہ شخصیت ہے‘ جس کے قلب وذہن پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِلقاوالہام ہوتا ہے ‘ یعنی اُس کا ظاہر اتنا پاکیزہ اور باطن اتنا نورانی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُن پرحق کاالقاہوتا ہے ‘اُن کا ذہن منشائے ربانی کے سانچے میں ڈھلا ہوتا ہے اور وہ وہی بات سوچتے ‘ وہی بات کہتے اور وہی بات کرتے ہیں جو رِضائے باری تعالیٰ کے عین مطابق ہوتی ہے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت ایسی ہی صفات کی حامل تھی ۔کئی مواقع پر انہوں نے نزولِ وحی سے پہلے ہی منشائے ربانی کو پالیا‘پھر وحیِ ربانی نے اُن کی تائید کی ‘ ایسی آیات کو ”مُوَفَّقَاتِ عُمَر‘‘سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اس کی مزید تائید ان احادیث سے ہوتی ہے (1):”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ حق کو عمر کی زبان اور قلب پر جاری فرماتا ہے‘ (ترمذی:3682)‘‘۔(2) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” بے شک اللہ حق کو عمر کی زبان پر رکھ دیتا ہے ‘ پھر وہ بیان کرتے ہیں‘ (ابن ماجہ:108)‘‘۔ یہاں ہم نے کالم کی محدودیت کے پیشِ نظر ہر صدی کے مجدِّدین کا ذکر نہیں کیا‘ کیونکہ ہر دور کے اکابر علما نے اپنے اپنے خطے کے اعتبار سے مجدِّدین کا ذکر کیا ہے ۔ 

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡـثًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 42

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡـثًا

ترجمہ:

جن لوگوں نے کفر کیا اور رسول اللہ کی نافرمانی کی ‘ اس دن وہ تمنا کریں گے کہ کاش (ان کو دفن کرکے) ان پر زمین برابر کردی جائے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہ سکیں گے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کافر اور رسول کی نافرمانی کرنے والے اس دن یہ تمنا کریں گے کہ کاش (ان کو دفن کرکے) ان پر زمین برابر کردی جائے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے۔ (النساء : ٤٢) 

قیامت کے دن کفار کے مختلف احوال :

اس آیت میں رسول اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کا کافروں پر عطف کیا گیا ہے اور عطف مغائرت کو چاہتا ہے ‘ اس سے یہ واضح ہوا کہ کفر الگ گناہ ہے اور رسول اللہ کی نافرمانی کرنا الگ گناہ ہے اور کافروں کو کفر کی وجہ سے بھی عذاب ہوگا ‘ اور کافروں کو رسول کی نافرمانی کی وجہ سے اسی وقت عذاب ہوگا جب یہ مانا جائے کہ کافر فروعی احکام کے بھی مخاطب ہیں۔ نیز اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اس روز کافر یہ تمنا کریں گے کہ ان پر زمین برابر کردی جائے اس کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ تمنا کریں گے کہ ان کو زمین میں دفن کردیا جائے ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کو دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا اور وہ اسی طرح زمین مدفون رہتے ‘ تیسرا معنی یہ ہے کہ جب وہ دیکھیں گے کہ جانوروں کو مٹی بنادیا گیا ہے تو وہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کو بھی مٹی بنادیا جائے۔ 

پھر فرمایا اور وہ اللہ سے کسی بات کو نہیں چھپا سکیں گے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن جب مشرکین دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما رہا ہے جنہوں نے شرک نہیں کیا تو وہ کہیں گے۔ (آیت) ” واللہ ربنا ماکنا مشرکین “۔ (الانعام : ٢٣) ” ہمیں اپنے پروردگار کی قسم ہم شرک کرنے والے نہیں تھے “ اس وقت ان کے منہ اور ہاتھ اور پیر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سورة الانعام میں یہ مذکور ہے کہ کفار یہ کہیں گے کہ ہم شرک کرنے والے نہیں تھے اور اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے اور یہ تعارض ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن مختلف احوال ہوں گے ‘ ایک وقت میں وہ کہیں گے کہ (آیت) ” ماکنا نعمل من سوء “۔ (النحل : ٢٨) ” ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے “ اور کہیں گے کہ ہم شرک کرنے والے نہیں تھے اور ایک وقت ہوگا کہ (آیت) ” شہد علیہم سمعھم وابصارھم وجلودھم بما کانوا یعملون “۔ (حم السجدہ : ٢٠) ” ان کے کان ‘ انکی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے “ اس وقت وہ کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان پر زمین برابر کردی جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 42