نحوست گناہ اور توبہ نہ کرنے کی وعید

نحوست گناہ اور توبہ نہ کرنے کی وعید:

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

"مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے پھر اگر وہ توبہ کرے اور بخشش چاہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو وہ نکتہ پھیلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو گھیر لیتا ہے۔”

[الزواجر عن اقتراف الکبائر للھیتمی (مترجم) ج 1 ص 60]

اس حدیث کو امام ابن ماجہ علیہ الرحمہ نے اپنی سنن [ج2 ص1418 رقم الحدیث 4244] میں روایت کیا ہے۔ اور امام احمد علیہ الرحمہ نے اپنی مسند [مسند احمد (ت شاکر) ج 8 ص 71 رقم الحدیث 7939] [مسند احمد (ط الرسالۃ) ج13 ص 333 رقم الحدیث 7952] میں روایت کیا ہے۔

امام حاکم نے اس حدیث کو امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے اس کی موافقت اختیار کی ہے۔ [المستدرك للحاکم ج 2 ص 562 رقم الحدیث 3908]

احمد شاکر صاحب نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دے دیا ہے۔ [حاشیہ مسند احمد (ت شاکر) ج 8 ص 71 رقم الحدیث 7939]

شعیب الارنوؤط صاحب نے اس حدیث کی سند کو قوی قرار دے دیا ہے۔ [ حاشیہ مسند احمد (ط الرسالۃ ) ج 13 ص 334 رقم الحدیث 7952] [حاشیہ سنن ابن ماجہ (ت الارنوؤط) ج 5 ص 317 رقم الحدیث 4244]

اور البانی صاحب نے اس حدیث کی سند کو حسن قرار دے دیا ہے۔[حاشیہ سنن ابن ماجہ ج 2 ص 1418 رقم الحدیث 4244]

میری تحقیق کے مطابق اس حدیث کی سند حسن ہے کیونکہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی محمد بن عجلان ہے اس پر کچھ ائمہ کا کلام ہے اس لیے امام ذہبی نے اسے حسن الحدیث قرار دے دیا ہے۔[سیر اعلام النبلاء الجزء السادس (الطبقۃ الخامسۃ) ص 321] اور باقی رجال ثقہ ہیں۔

واللہ اعلم

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

22 فروری 2019ء

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 6 سورہ البقرہ آیت نمبر47 تا 59

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ(۴۷)

اے اولادِ یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ اس سارے زمانہ پر تمہیں بڑائی دی (ف۷۹)

(ف79)

” اَلْعٰلَمِیْنَ” کا استغراق حقیقی نہیں مراد یہ ہے کہ میں نے تمہارے آباء کو ان کے زمانہ والوں پر فضیلت دی یا فضل جزئی مراد ہے جو اور کسی امت کی فضیلت کا نافی نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے امت محمدیہ کے حق میں ارشاد ہوا ” کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ” (روح البیان جمل وغیرہ)

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْــٴًـا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ(۴۸)

اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی (ف۸۰) اور نہ کافر کے لیے کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر اس کی جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد ہو (ف۸۱)

(ف80)

وہ روز قیامت ہے آیت میں نفس دو مرتبہ آیا ہے پہلے سے نفس مؤمن دوسرے سے نفس کافر مراد ہے (مدارک)

(ف81)

یہاں سے رکوع کے آخر تک دس نعمتوں کا بیان ہے جو ان بنی اسرائیل کے آباء کو ملیں۔

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ(۴۹)

اور یاد کروجب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی (ف۸۲) کہ تم پر بُرا عذاب کرتے تھے (ف۸۳) تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے (ف۸۴) اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی یا بڑا انعام (ف۸۵)

(ف82)

قوم قبط و عمالیق سے جو مصر کا بادشاہ ہوا اس کو فرعون کہتے ہیں حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانہ کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان ہے یہاں اسی کا ذکر ہے اس کی عمر چار سو برس سے زیادہ ہوئی آل فرعون سے اس کے متبعین مراد ہیں۔ (جمل وغیرہ)

(ف83)

عذاب سب برے ہوتے ہیں۔ ” سُوْۤءَ الْعَذَابِ ” وہ کہلائے گا جو اور عذابوں سے شدید ہو اس لئے حضرت مترجم قُدِّ سَ سِرُّ ہ، نے ( برا عذاب) ترجمہ کیا ( کما فی الجلالین وغیرہ) فرعون نے بنی اسرائیل پر نہایت بے دردی سے محنت و مشقت کے دشوار کام لازم کیے تھے پتھروں کی چٹانیں کاٹ کر ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمریں گردنیں زخمی ہوگئیں تھیں غریبوں پر ٹیکس مقرر کیے تھے جو غروب آفتاب سے قبل بجبر وصول کیے جاتے تھے جو نادار کسی دن ٹیکس ادا نہ کرسکا اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ ملا کر باندھ دیئے جاتے تھے اور مہینہ بھر تک اسی مصیبت میں رکھا جاتا تھا اور طرح طرح کی بے رحمانہ سختیاں تھیں۔(خازن وغیرہ)

(ف84)

فرعون نے خواب دیکھا کہ بَیْتُ الْمَقْدِسْ کی طرف سے آگ آئی اس نے مصر کو گھیر کر تمام قبطیوں کو جلا ڈالا بنی اسرائیل کو کچھ ضرر نہ پہنچایا اس سے اس کو بہت وحشت ہوئی کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ہلاک اور زوال سلطنت کا باعث ہوگا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو قتل کردیا جائے دائیاں تفتیش کے لئے مقرر ہوئیں بارہ ہزار وبروایتے ستر ہزار لڑکے قتل کر ڈالے گئے اور نوّے ہز ار حمل گرادیئے گئے اور مشیتِ الہٰی سے اس قوم کے بوڑھے جلد جلد مرنے لگے قوم قبط کے رؤسانے گھبرا کر فرعون سے شکایت کی کہ بنی اسرائیل میں موت کی گرم بازاری ہے اس پر ان کے بچے بھی قتل کیے جاتے ہیں تو ہمیں خدمت گار کہاں سے میسر آئیں گے فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کیے جائیں اور ایک سال چھوڑے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون پیدا ہوئے اور قتل کے سال حضرت موسٰی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔

(ف85)

بلا امتحان و آزمائش کو کہتے ہیں آزمائش نعمت سے بھی ہوتی ہے اور شدت و محنت سے بھی نعمت سے بندہ کی شکر گزاری اور محنت سے اس کے صبر کا حال ظاہر ہوتا ہے اگر ” ذَالِکُمْ” کا اشارہ فرعون کے مظالم کی طرف ہو تو بلا سے محنت و مصیبت مراد ہوگی اور اگر ان مظالم سے نجات دینے کی طرف ہو تو نعمت

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ(۵۰)

اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا پھاڑ دیا تو تمہیں بچالیا اور فرعون والوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا (ف۸۶)

(ف86)

یہ دوسری نعمت کا بیان ہے جو بنی اسرائیل پر فرمائی کہ انہیں فرعونیوں کے ظلم و ستم سے نجات دی اور فرعون کو مع اس کی قوم کے ان کے سامنے غرق کیا یہاں آل فرعون سے فرعون مع اپنی قوم کے مراد ہے جیسے کہ ” کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ” میں حضرت آدم و اولاد آدم دونوں داخل ہیں۔ (جمل) مختصر واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام والسلام بحکم الہٰی شب میں بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر روانہ ہوئے صبح کو فرعون ان کی جستجو میں لشکر گراں لے کر چلا اور انہیں دریا کے کنارے جا پایا بنی اسرائیل نے لشکر فرعون دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام سے فریاد کی آپ نے بحکم الہٰی دریا میں اپنا عصا (لاٹھی) مارااس کی برکت سے عین دریا میں بارہ خشک رستے پیدا ہوگئے پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہوگیا ان آبی دیواروں میں جالی کی مثل روشندان بن گئے بنی اسرائیل کی ہر جماعت ان راستوں میں ایک دوسری کو دیکھتی اور باہم باتیں کرتی گزر گئی فرعون دریائی رستے دیکھ کر ان میں چل پڑا جب اس کا تمام لشکر دریا کے اندر آگیا تو دریا حالت اصلی پر آیا اور تمام فرعونی اس میں غرق ہوگئے دریا کا عرض چار فرسنگ تھا یہ واقعہ بحرِ قُلْز م کا ہے جو بحر فارس کے کنارہ پر ہے یا بحر ماورائے مصر کا جس کو اساف کہتے ہیں بنی اسرائیل لب دریافرعونیوں کے غرق کا منظر دیکھ رہے تھے یہ غرق محرم کی دسویں تاریخ ہوا حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس دن شکر کا روزہ رکھا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے زمانہ تک بھی یہود اس دن کا روزہ رکھتے تھے حضور نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی فتح کی خوشی منانے اور اس کی شکر گزاری کرنے کے ہم یہود سے زیادہ حق دار ہیں ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ عا شورہ کا روزہ سنّت ہے ۔مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء کرام پرجوانعامِ الٰہی ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور شکر بجا لانا مسنون ہے اگر کفار بھی قائم کرتے ہوں جب بھی اس کو چھوڑا نہ جائے گا ۔

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ(۵۱)

اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ فرمایا پھر اس کے پیچھے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم ظالم تھے (ف۸۷)

(ف87)

فرعون اور فرعونیوں کے ہلاک کے بعد جب حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر کی طرف لوٹے اور ان کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے عطائے توریت کا وعدہ فرمایا اور اس کے لئے میقات معین کیا جس کی مدت معہ اضافہ ایک ماہ دس روز تھی مہینہ ذوالقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے حضرت موسٰی علیہ السلام قوم میں اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ و جانشین بنا کر توریت حاصل کرنے کے لئے کوہ طور پر تشریف لے گئے چالیس شب وہاں ٹہرے اس عرصہ میں کسی سے بات نہ کی اللہ تعالیٰ نے زبر جدی الواح میں توریت آپ پر نازل فرمائی یہاں سامری نے سونے کا جواہرات سے مرصع بچھڑا بنا کر قوم سے کہا کہ یہ تمہارا معبود ہے وہ لوگ ایک ماہ حضرت کا انتظار کرکے سامری کے بہکانے سے بچھڑا پوجنے لگے سوائے حضرت ہارون علیہ السلام اور آپ کے بارہ ہزار ہمراہیوں کے تمام بنی اسرائیل نے گوسالہ کو پوجا (خازن)

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۵۲)

پھر اس کے بعد ہم نے تمہیں معافی دی (ف۸۸) کہ کہیں تم احسان مانو (ف۸۹)

(ف88)

عفو کی کیفیت یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ توبہ کی صورت یہ ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی ہے وہ پرستش کرنے والوں کو قتل کریں اور مجرم برضاو تسلیم سکون کے ساتھ قتل ہوجائیں وہ اس پر راضی ہوگئے صبح سے شام تک ستر ہزار قتل ہوگئے تب حضرت موسٰی و ہارون علیہما السلام بتضرع و زاری بارگاہِ حق کی طرف ملتجی ہوئے وحی آئی کہ جو قتل ہوچکے شہید ہوئے باقی مغفور فرمائے گئے۔

ان میں کے قاتل و مقتول سب جنتی ہیں مسئلہ: شرک سے مسلمان مرتد ہوجاتا ہے مسئلہ : مرتد کی سزا قتل ہے کیونکہ اللہ تعالٰی سے بغاوت قتل و خونریزی سے سخت ترجرم ہے فائدہ گوسالہ بنا کر پوجنے میں بنی اسرائیل کے کئی جرم تھے ایک تصویر سازی جو حرام ہے دوسرے حضرت ہارون علیہ السلام کی نافرمانی تیسرے گوسالہ پوج کر مشرک ہوجانا یہ ظلم آل فرعون کے مظالم سے بھی زیادہ شدید ہیں کیونکہ یہ افعال ان سے بعد ایمان سرزد ہوئے اس لئے مستحق تو اس کے تھے کہ عذاب الٰہی انہیں مہلت نہ دے اور فی الفور ہلاکت سے کفر پر ان کا خاتمہ ہوجائے لیکن حضرت موسٰی وہارون علیہما السلام کی بدولت انہیں توبہ کا موقع دیا گیا یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔

(ف89)

اس میں اشارہ ہے کہ بنی اسرائیل کی استعداد فرعونیوں کی طرح باطل نہ ہوئی تھی اور اس کی نسل سے صالحین پیدا ہونے والے تھے چنانچہ ان میں ہزارہا نبی و صالح پیدا ہوئے

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۵۳)

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور حق و باطل میں تمیز کردینا کہ کہیں تم راہ پر آؤ

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِىٕكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىٕكُمْؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۵۴)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو (ف۹۰) یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان (ف ۹۱)

(ف90)

یہ قتل ان کے لئے کفارہ تھا۔

(ف91)

جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور کفارہ میں اپنی جانیں دے دیں تو اللہ تعالٰٰی نے حکم فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام انہیں گو سالہ پرستی کی عذر خواہی کے لئے حاضر لائیں حضرت ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے طور پر لے گئے وہاں وہ کہنے لگے اے موسٰی ہم آپ کا یقین نہ کریں گے جب تک خدا کو علانیہ نہ دیکھ لیں اس پر آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی جس کی ہیبت سے وہ مر گئے حضرت موسٰی علیہ السلام نے بتضرع عرض کی کہ میں بنی اسرائیل کو کیا جواب دوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں یکے بعد دیگرے زندہ فرمادیا مسئلہ: اس سے شان انبیاء معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام سے ” لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ ” کہنے کی شامت میں بنی اسرائیل ہلاک کیے گئے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد والوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ انبیاء کی جناب میں ترک ادب غضب الٰہی کا باعث ہوتا ہے اس سے ڈرتے رہیں مسئلہ: یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولان بارگاہ کی دعا سے مردے زندہ فرماتا ہے۔

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ(۵۵)

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک علانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۵۶)

پھر مرے پیچھے ہم نے تمہیں زندہ کیا کہ کہیں تم احسان مانو

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰىؕ-كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْؕ-وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۵۷)

اور ہم نے ابر کو تمہارا سائبان کیا (ف۹۲) اور تم پرمنْ اور َسلْویٰ اتارا کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں (ف۹۳) اور انہوں نے کچھ ہمارا نہ بگاڑا ہاں اپنی ہی جانوں کا بگاڑ کرتے تھے

(ف92)

جب حضرت موسٰی علیہ السلام فارغ ہو کر لشکر بنی اسرائیل میں پہنچے اور آپ نے انہیں حکم الہی سنایا کہ ملک شام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کا مدفن ہے اسی میں بیت المقدس ہے اس کو عمالقہ سے آزاد کرانے کے لئے جہاد کرو اور مصر چھوڑ کر وہیں وطن بناؤ مصر کا چھوڑنا بنی اسرائیل پر نہایت شاق تھا اول تو انہوں نے اس میں پس و پیش کیا اور جب بجبرو اکراہ حضرت موسٰی و حضرت ہارون علیہما السلام کی رکاب سعادت میں روانہ ہوئے توراہ میں جو کوئی سختی و دشواری پیش آتی حضرت موسٰی علیہ السلام سے شکایتیں کرتے جب اس صحرا میں پہنچے جہاں نہ سبزہ تھا نہ سایہ نہ غلہ ہمراہ تھا وہاں دھوپ کی گرمی اور بھوک کی شکایت کی اللہ تعالٰی نے بدعائے حضرت موسیٰ علیہ السلام ابر سفید کو انکا سائبان بنایا جو رات دن انکے ساتھ چلتا شب کو ان کے لئے نوری ستون اترتا جس کی روشنی میں کام کرتے انکے کپڑے میلے اور پرانے نہ ہوتے ناخن اور بال نہ بڑھتے اس سفر میں جولڑکا پیدا ہوتا اس کا لباس اس کے ساتھ پیدا ہوتا جتنا وہ بڑھتا لباس بھی بڑھتا۔

(ف93)

مَنۡ ترنجبین کی طرح ایک شیریں چیزتھی روزانہ صبح صادق سےطلوع آفتاب تک ہرشخص کے لئےایک صاع کی قدرآسمان سے نازل ہوتی لوگ اس کو چادروں میں لے کر دن بھر کھاتے رہتے سلوٰی ایک چھوٹا پرند ہوتا ہے اس کو ہوا لاتی یہ شکار کرکے کھاتے دونوں چیزیں شنبہ کو تو مطلق نہ آتیں باقی ہر روز پہنچتیں۔ جمعہ کو اور دنوں سے دونی آتیں حکم یہ تھا کہ جمعہ کو شنبہ کے لئے بھی حسب ضرورت جمع کرلو مگر ایک دن سے زیادہ کا جمع نہ کرو بنی اسرائیل نے ان نعمتوں کی ناشکری کی ذخیرے جمع کیے وہ سڑ گئے اور ان کی آمد بند کردی گئی۔ یہ انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا کہ دنیا میں نعمت سے محروم اور آخرت میں سزاوار عذاب کے ہوئے۔

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْؕ-وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۸)

اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جاؤ (۹۴) پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو (ف۹۵) اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں (ف۹۶)

(ف94)

اس بستی سے بیتُ المقدِس مراد ہے یا اریحا جو بیت المقدس کے قریب ہے جس میں عمالقہ آباد تھے اور اس کو خالی کر گئے وہاں غلے میوے بکثرت تھے ۔

(ف95)

یہ دروازہ ان کے لئے بمنزلہ کعبہ کے تھا کہ اس میں داخل ہونا اور اس کی طرف سجدہ کرنا سبب کفارہ ذنوب قرار دیا گیا ۔

(ف96)

مسئلہ :اس آیت سے معلوم ہوا کہ زبان سے استغفار کرنا اور بدنی عبادت سجدہ وغیرہ بجالانا توبہ کا متمم ہے مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشہور گناہ کی توبہ باعلان ہونی چاہئے مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مقامات متبرکہ جو رحمت الہی کے مورد ہوں وہاں توبہ کرنا اور طاعت بجالانا ثمرات نیک اور سرعت قبول کا سبب ہوتا ہے۔ (فتح العزیز) اسی لئے صالحین کا دستور رہا ہے کہ انبیاء و اولیاء کے موالد ومزارات پر حاضر ہو کر استغفار و اطاعت بجالاتے ہیں عرس و زیارت میں بھی یہ فائدہ متصور ہے۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠(۵۹)

تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا (ف۹۷) تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا (ف۹۸) بدلہ ان کی بے حُکمی کا

(ف97)

بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں اور زبان سے ( حِطّۃٌ) کلمۂ توبہ و استغفار کہتے جائیں انہوں نے دونوں حکموں کی مخالفت کی داخل تو ہوئے سرینوں کے بل گھسیٹتے اور بجائے کلمۂ توبہ کے تمسخر سے حَبَّۃٌ فِیۡ شَعۡرَۃٍ کہا جس کے معنی ہیں( بال میں دانہ)

(ف98)

یہ عذاب طاعون تھا جس سے ایک ساعت میں چوبیس ہزار ہلاک ہوگئے ۔

مسئلہ : صحاح کی حدیث میں ہے کہ طاعون پچھلی امتوں کے عذاب کا بقیہ ہے جب تمہارے شہر میں واقع ہو وہاں سے نہ بھاگو دوسرے شہر میں ہو تو وہاں نہ جاؤ

مسئلہ: صحیح حدیث میں ہے کہ جو لوگ مقام وباء میں رضائے الہی پر صابر رہیں اگر وہ وباء سے محفوظ رہیں جب بھی انہیں شہادت کا ثواب ملے گا۔

ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ان دنوں مِن حَیثُ القوم ہم ایک دوسرے کی قبریں کھودنے ‘ چیتھڑے اڑانے ‘ طعنہ زنی ‘عیب جوئی اور تذلیل وتحقیر میں مصروف رہتے ہیں اور اس میں ہمیں بڑا لطف آتا ہے‘ جبکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں ان عادات واقدار کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے ‘اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

(1)”ہلاکت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو منہ پر طعنے دیتا ہے اور پسِ پشت عیب جوئی کرتا ہے‘جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کر رکھا ‘وہ گمان کرتا ہے کہ اُس کا مال اُسے حیاتِ جاودانی عطا کرے گا‘ہرگز نہیں!وہ ”حُطَمَۃ‘‘ میں ضرور پھینک دیا جائے گا اور آپ کو کیامعلوم ”حُطَمَۃ‘‘کیا ہے ‘وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے (جس کے شعلے ) سینوں تک بلند ہوں گے ‘بے شک وہ آگ ان پر ہر طرف سے لمبے لمبے ستونوں میںبند کی ہوئی ہوگی ‘(الہُمَزہ:1-9)‘‘۔ 

تفسیر کبیر میں ہے:”ھُمَزَہ‘‘ سے مراد غیبت کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد عیب جوئی کرنا ‘ ابوزید نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد ہاتھ یا اشاروں سے اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد زبان سے عیب جوئی کرنا ‘ ابوالعالیہ نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد سامنے طعن کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد پیٹھ پیچھے غیبت کرنا‘ ایک معنی یہ بیان کیا ہے کہ ھُمَزَہ سے مراد ظاہراً اور لُمَزَہ سے مراد آنکھ یا ابروکے اشارے سے طعن کرنا ‘ ولید بن مغیرہ ایسے ہی کرتا تھا ۔

اللہ تعالیٰ نے نہایت نفیس انداز میں فرمایا:”اپنے عیب نہ نکالواور(ایک دوسرے کو)برے ناموں سے نہ پکارو‘‘ (الحجرات:11)۔ اس میں نفسیاتی انداز میں بتایا گیا کہ تم جس کے عیب نکالتے ہو‘ وہ تمہارا ہی بھائی ہے ‘ تمہاری ملّت کا ایک فرد ہے‘ کوئی غیر تو نہیں ہے ‘ یعنی اس کی توہین کر کے تم اپنی توہین کر رہے ہو‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(1) ”اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو‘ بے شک بعض گمان گناہ ہیں اور نہ تم دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگائو اور نہ تم ایک دوسرے کی غیبت کرو‘ کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ سو تم اس کو ناپسند کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے‘‘(الحجرات: 12)۔(2) ”اور(اے مخاطَب!) جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کی ٹوہ میں نہ لگ جائو‘ بے شک کان ‘ آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں (روزِ قیامت) باز پرس ہوگی‘‘ (الاسرائ: 36)۔اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگانے سے منع فرمایا ‘ حدیث پاک میں اسے ”تجسُّس‘‘اور ”تَحَسُّس‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے:

” رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے اور بلند آواز سے پکارا: اے لوگو! جو اپنی زبان سے ایمان لائے ہو اور (ابھی) ایمان تمہارے دلوں میں جاگزیں نہیں ہوا‘ مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچائو‘ انہیں عار نہ دلائو‘ ان کی پوشیدہ باتوں کے درپے نہ ہوجائو‘ پس بے شک جو اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ راز کے درپے ہوگا‘اللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرمائے گااور جس کے عیوب کو اللہ ظاہر کر دے ‘وہ رسوا ہوجائے گاخواہ وہ کجاوے میں بیٹھا ہو‘نافع بیان کرتے ہیں: ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرکی نظر بیت اللہ پر پڑی تو انہوں نے کہا: (اے بیت اللہ!)تیری عظمت بے پایاں ہے ‘ تیری حرمت عظیم ہے لیکن ایک (بے قصور)مسلمان (کے خونِ ناحق) کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے‘‘ (سنن ترمذی:2032)۔

(2)”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان‘ مسلمان کا بھائی ہے‘ وہ نہ اس پر خود ظلم کرے اور نہ کسی اور کو اس پر ظلم کرنے دے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مشغول رہتا ہے‘اللہ تعالیٰ اس کی حاجت براری فرماتا ہے اور جس نے کسی مسلمان سے کوئی مصیبت دور کی تو اللہ قیامت کی مصیبتوں میں سے اس کی کوئی مصیبت دور فرمادے گا اور جس نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا‘ اللہ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا‘‘ (صحیح البخاری:2442)۔

اسلام نے ایک دوسرے کی پردہ دری اور عیب جوئی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ اپنے دین کے دشمنوں کو اپنا رازدار نہیں بنانا چاہیے ‘ اس کا انجام نقصان ہی نقصان ہے ‘ فرمایا:”اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بنائو‘ وہ تمہاری بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے‘ انہیں وہی چیز پسند ہے ‘جس سے تمہیں تکلیف پہنچے ‘ان کی باتوں سے تودشمنی عیاں ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے‘ وہ اس سے بھی زیادہ بڑا ہے‘ اگر تم عقل سے کام لیتے ہو تو ہم نے تمہارے لیے نشانیوں کو بیان کردیا ہے‘‘(آل عمران:118)۔بہت سے حضرات اپنا راز دوسروں پر افشا کرتے ہیں اور پھر اُن سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اُس پر پردہ ڈالے رہیں ‘ جب ایک شخص خود اپنے رازوں کی حفاظت نہیں کرسکتا تو کسی دوسرے سے توقع رکھنا عبث ہے۔رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے مفاسد کا منبع زبان ہے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا: (1)”جو مجھے اس چیز کی (شریعت کے تابع رکھنے کی )ضمانت دے گا جو دو داڑھوں اور دو ٹانگوں کے درمیان ہے(یعنی زبان اور شرمگاہ) ‘ تو میں اُسے جنت کی ضمانت دوں گا‘‘ (بخاری: 6474)۔(2)”جو خاموش رہا‘ اس نے نجات پائی‘‘ (سنن ترمذی:2501)۔(3)”جب بنی آدم صبح کرتا ہے تو اُس کے تمام اعضازبان کے تابع ہوتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں: ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہ ‘ کیونکہ ہمارے حقوق کی حفاظت تمہارے ذریعے ہے‘ اگر تو صحیح رہے گی تو ہم بھی صحیح رہیں گے اور اگر تو کجی اختیار کرلے گی تو ہم میں بھی کجی آجائے گی‘‘ (ترمذی:2407)۔(4)سفیان بن عبداللہ ثقفی نے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے وہ چیز بتائیے‘ جسے میں مضبوطی سے تھام لوں‘ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو:میرا رب اللہ ہے ‘ پھر اس پر ثابت قدم رہو ‘ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے‘ جس سے مجھے سب سے زیادہ خوفزدہ رہنا چاہیے ‘ تو آپ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک کو پکڑ کر فرمایا: یہ(یعنی زبان)‘‘ (ترمذی: 2410)۔(5)”نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کو چھپایا‘اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے عیب پر پردہ ڈالے گااور جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کی پردہ دری کی تو قیامت میں اللہ تعالیٰ اُس کے عیب کو فاش کردے گایہاں تک کہ اُسے اپنے گھر میں رسواکرے گا‘ ‘(سنن ابن ماجہ:2546)۔

اب حکومتِ وقت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے اور اس پر کریک ڈائون کی بات کر رہی ہے ‘ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے منفی استعمال کا شعار بھی ہماری آج کی حکمراں جماعت نے حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے رائج کیا اور اب اُسی کاہتھیار اس کے خلاف استعمال ہورہا ہے اور وہ اس سے بچائو کی تدبیر اختیار کرنے پر مجبور ہے‘ ماضی کی حکومت نے جب سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی تھی تو جنابِ عمران خان نے اس کی شدیدمخالفت کی تھی ‘لیکن : دیر آید درست آید‘ موجودہ حزبِ اختلاف یقینااس کی مخالفت کرے گی ۔ ہمارے سیاسی رہنماہرچیز کے حُسن وقبُح کے بارے میں وقتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آج سوشل میڈیا موجودہ حکومت کے لیے دردِ سر بنا تو اس کے خلاف کریک ڈائون کرنے کی تدبیر کی جارہی ہے ‘ اس اقدام کانیک نیتی پر مبنی ہوناصرف اُس صورت میں سمجھا جائے گاکہ حکومت خود بھی اپنے ماضی کے رویے پراظہارِ ندامت کرے اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم کرے تو یہ اقدام قابلِ ستائش ہے ‘ لیکن اگر اپنے خلاف موادپر مواخذہ کرے اور دوسروں کی بدستور تضحیک کرے ‘تو اسی کو چنیدہ انصاف کہتے ہیں؛البتہ جو لوگ اسلام دشمن عناصر بالخصوص قادیانی‘ سیکولرز لبرلز کامہذب انداز میں ردّاور اسلام کا دفاع کرتے ہیں‘ توان پرپابندی کا کوئی جواز نہیں ہے ‘ ہمیشہ دائمی مفاد پیشِ نظر رہنا چاہیے ۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی بابت ایک عالم نے کہا: ” فوائد ونقصانات دونوں کے حامل جدید آلات کوان کے مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں کا موازنہ کیے بغیراستعمال نہ کریں ‘ انسان جلد باز ہے‘ وہ مثبت پہلوئوں سے جلد متاثر ہوتا ہے اور منفی گوشوں سے غفلت برتتا ہے۔ ذرائع ابلاغ واشتہارات کے ذریعے جب کسی نئی چیز کا فائدہ اس کے علم میں آتا ہے‘ تو وہ فوراً اس کی طرف لپکتا ہے اور اس کے منفی پہلوئوں اور نقصانات پر غور نہیں کرتا؛ چنانچہ وہ نتائج سے بے خبر رہ کربتدریج ان کے نقصانات کاشکار ہوجاتا ہے‘‘۔اسلام نے شراب کی قطعی حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے شراب اور جوئے سے اجتناب کے بارے میں یہی اصول تعلیم فرمایا: ”(اے رسول !)وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں‘ آپ کہیے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیںاور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ‘‘ (البقرہ:219)۔اسی کو فقہ کی اصطلاح میں ”سدِّ ذرائع‘‘ کہتے ہیں ‘یعنی دفعِ شر کوحصولِ منفعت پر مقدم رکھنا۔ اس آفت میں بعض دین دار لوگ بھی مبتلا ہوگئے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی فہم میں شر کو خیر کے حصول کا ذریعہ بنارہے ہیں ‘ کیونکہ اُن کے نزدیک اپنے مخالف کا رَد یا اہانت خیر ہے ۔

سوشل میڈیا کے غیر دانشمندانہ استعمال کا نقصان شعارِدین کو بھی ہورہا ہے‘ بعض ایسے لوگ جو اہلیت نہیں رکھتے‘جہاد باللسان یا جہاد بالقلم سمجھ کر اپنے اپنے فتوے صادر کردیتے ہیں اور ردعمل میں لبرل طبقہ چاہتا ہے کہ صریح کفر کے سدِّباب کے لیے جہاں فتویٰ ضروری ہے ‘وہاں بھی پابندی لگا دی جائے‘ تاکہ کفروضلالت کے آگے کوئی شرعی رکاوٹ ہی نہ رہے اور دین بازیچۂ اطفال بن جائے۔ یہ لوگ کچھ حساس و اہم اسلامی قوانین کوبے اثر بنانے کیلئے شہادتِ مردودہ کوبہانہ بنا کرشعوری طور پراسی حربے کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ماضی میں ”اِنِ الْحُکمُ اِلَّا لِلّٰہ‘‘ (یعنی حکم اور فیصلہ تو اللہ ہی کا نافذہو گا)کا نعرہ لگا کر خوارج نے فتنہ برپا کیا‘ جو مختلف صورتوں میں آج بھی جاری ہے ‘ اسی حربے کی فتنہ سامانی پرحضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”یہ کلمۂ حق ہے ‘جسے باطل مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ‘‘۔ الغرض باطل کو حق کے لیے یا حق کو باطل کے لیے حربے کے طور پر استعمال کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

 

درس 031: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 031: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَيَسْتَنْجِي بِيَسَارِهِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِيَمِينِهِ، وَيَسْتَجْمِرُ بِيَسَارِهِ، وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِيَمِينِهِ، وَيَسْتَنْجِي بِيَسَارِهِ، وَلِأَنَّ الْيَسَارَ لِلْأَقْذَارِ.

اوراستنجا بائیں ہاتھ سے کرنا چاہئے، اس لئے کہ روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدھے ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے اور بائیں ہاتھ سے استنجا فرمایا کرتے تھے۔ چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ دائیں ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے تھے اور بائیں ہاتھ سے استنجا کیا کرتے تھے۔اور اسلئے بھی کہ بایاں ہاتھ گندگی کے لئے ہے۔

وَهَذَا إذَا كَانَتْ النَّجَاسَةُ الَّتِي عَلَى الْمَخْرَجِ قَدْرَ الدِّرْهَمِ، أَوْ أَقَلَّ مِنْهُ

استنجاکا حکم اس وقت تک ہے جب تک نجاست *مَخْرَج* پر *درہم* کے برابر یا اس سے کم ہو۔

فَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَمْ يُذْكَرْ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَزُولُ إلَّا بِالْغَسْلِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَزُولُ بِالْأَحْجَارِ، وَبِهِ أَخَذَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ وَهُوَ الصَّحِيحُ، لِأَنَّ الشَّرْعَ وَرَدَ بِالِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ مُطْلَقًا مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ

اور اگر *مَخْرَج* پر درہم سے زائد نجاست لگی ہے تو *ظاہر الروایۃ* میں اس حوالے سے حکم مذکور نہیں ہے، لہذا علماء احناف میں اس سلسلے میں اختلاف واقع ہوا، بعض علماء فرماتے ہیں: مخرج پر لگی نجاست درہم سے زائد ہو تو پانی سے دھونا ضروری ہے، اور بعض علماء فرماتے ہیں: ڈھیلوں کے ذریعے بھی نجاست دور کی جاسکتی ہے، اور اسی دوسرے قول کو فقیہ ابو اللیث سمرقندی نے اختیار کیا ہےاور یہی قول صحیح ہے، اس لئے کہ شریعتِ مطہرہ میں ڈھیلوں سے استنجا کا حکم بغیر کسی امتیاز کے مطلق (Without Condition) بیان ہوا ہے۔

وَهَذَا كُلُّهُ إذَا لَمْ يَتَعَدَّ النَّجَسُ الْمَخْرَجَ

یہ تمام احکام اس وقت ہیں جب نجاست *مَخْرَج* کے اردگرد نہ پھیلے۔

فَإِنْ تَعَدَّاهُ يُنْظَرُ إنْ كَانَ الْمُتَعَدِّي أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ يَجِبُ غَسْلُهُ بِالْإِجْمَاعِ

اگر نجاست مَخْرَجَ کے ارد گرد پھیل جائے، تو دیکھا جائے گا، اگر وہ درہم کی مقدار سے زیادہ ہے تو بالاجماع (یعنی تمام علماء کا متفق ہونا) اس جگہ کا پانی سے دھونا واجب ہے۔

وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَا يَجِبُ غَسْلُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَأَبِي يُوسُفَ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يَجِبُ.

اگر نجاست درہم کی مقدار سے کم ہے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا دھونا واجب نہیں ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک اس کا دھونا واجب ہے۔

وَذَكَرَ الْقُدُورِيُّ فِي شَرْحِهِ مُخْتَصَرَ الْكَرْخِيِّ أَنَّ النَّجَاسَةَ إذَا تَجَاوَزَتْ مَخْرَجَهَا وَجَبَ غَسْلُهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ خِلَافَ أَصْحَابِنَا

امام قدوری نے مختصر الکرخی کی شرح کرتے ہوئےذکر کیا ہے کہ نجاست اگر مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا دھونا واجب ہے ، انہوں نے ہمارے ائمہ کے مذکورہ اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔

لِمُحَمَّدٍ أَنَّ الْكَثِيرَ مِنْ النَّجَاسَةِ لَيْسَ بِعَفْوٍ، وَهَذَا كَثِيرٌ

امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ *کثیر نجاست* معاف نہیں ہوتی، اور مخرج کے ارد گرد پھیلنے والی نجاست (مخرج کو ملاکر) کثیر شمار ہوگی۔

وَلَهُمَا أَنَّ الْقَدْرَ الَّذِي عَلَى الْمَخْرَجِ قَلِيلٌ، وَإِنَّمَا يَصِيرُ كَثِيرًا بِضَمِّ الْمُتَعَدِّي إلَيْهِ

اور شیخین یعنی امام اعظم اور امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ *مخرج* پر لگنے والی نجاست قلیل ہوتی ہے، اور یہ کثیر اس وقت شمار ہوگی جب اسے ارد گرد پھیلنے والی نجاست سے ملاکر شمار کیا جائے۔

وَهُمَا نَجَاسَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ فِي الْحُكْمِ، فَلَا يَجْتَمِعَانِ

اور *مخرج پر لگنے والی نجاست* اور *ارد گرد پھیلنے والی نجاست* حکم کے سلسلے میں مختلف ہیں، تو انہیں جمع نہیں کیا جائے گا۔

أَلَا يُرَى أَنَّ إحْدَاهُمَا تَزُولُ بِالْأَحْجَارِ، وَالْأُخْرَى لَا تَزُولُ إلَّا بِالْمَاءِ، وَإِذَا اخْتَلَفَتَا فِي الْحُكْمِ يُعْطَى لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُكْمُ نَفْسِهَا، وَهِيَ فِي نَفْسِهَا قَلِيلَةٌ فَكَانَتْ عَفْوًا.

کیا دیکھا نہیں کہ ایک نجاست تو ڈھیلوں کے استعمال سے زائل ہوجاتی ہے جبکہ دوسری نجاست سوائے پانی کے کسی سے زائل نہیں ہوتی، اور جب یہ دونوں حکم میں مختلف ہیں تو دونوں کے موجود ہونے کے وقت ان کے لئے الگ الگ حکم نافذ ہوگا۔ اور ارد گرد پھیلنے والی نجاست چونکہ قلیل ہے اسلئے قابلِ عفو ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*استنجا بائیں ہاتھ سے کیا جائے*

استنجا بائیں ہاتھ سے کرنا سنت ہے، دائیں ہاتھ سے کرنا ممنوع اور گناہ ہے ۔(فتاوی رضویہ04) اسی طرح دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو پکڑنا بھی مکروہ ہے۔

متعدد کتبِ حدیث میں بکثرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونے اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے ممانعت آئی ہے۔ علامہ کاسانی نے جو حدیث شریف ذکر کی ہے وہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں مروی ہے۔

علامہ کاسانی نے بائیں ہاتھ سے استنجا کی ممانعت پر دو دلیلیں دی ہیں:

ایک تویہی کہ حدیث شریف میں ممانعت ہے۔

دوسری یہ کہ بایاں ہاتھ کا استعمال عموما گندگی کے لئے ہوتا ہے۔ "أَنَّ الْيَسَارَ لِلْأَقْذَارِ”

یہ بات مزاجِ شریعت سے معلوم ہوئی کہ گندگی، برائی یا کم بھلائی کے کاموں کو بائیں جانب شمار کیا جاتا ہے، اسی لئے بائیں ہاتھ سے کھانا مکروہ ہے، ناک پونچھنے کے لئے بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے، ناپسندیدہ خواب دیکھے تو بائیں جانب تھتکارنے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے، قرآن مجید نے جہنمیوں کو اصحاب الشمال یعنی بائیں طرف کے لوگ فرمایا۔۔ وغیرہ وغیرہ

یاد رکھیں یہ ضروری نہیں کہ آپ کو ہر جگہ ہر کام کا واضح حکم ملے، کچھ چیزیں مزاجِ شریعت سے سمجھی جاتی ہیں جس طرح گندگی کے کاموں کے لئے بائیں ہاتھ کا استعمال رکھا ہے اسی طرح اچھے اور پاکیزہ کاموں کے لئے دائیں ہاتھ کا استعمال مطلوب اور محبوب ہوتا ہے۔ اور ان تمام چیزوں کے روحانی اثرات آپ کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔

*استنجا۔۔اور۔۔ نجاست کی جگہ کے احکام*

یہ بحث ذرا سمجھئے گا۔۔

انسان کے اگلے یا پچھلے مقام سے نجاست خارج ہوتی ہے۔ جس جگہ سے نجاست خارج ہوتی ہے اسے *مَخْرَج* کہتے ہیں۔ لہذا مخرَج دو (2) ہیں:

1- مخرَج البول: پیشاب خارج ہونے کی جگہ۔

2- مخرج الغائط: پاخانہ خارج ہونے کی جگہ، اسے حَلْقَةُ الدُّبُر بھی کہتے ہیں۔

*مخرج البول:* پیشاب خارج ہونے کی جگہ مرد کی تنگ اور عورت کی کشادہ ہوتی ہےاسلئے عورت کے مسئلہ میں پیشاب کا درہم سے زیادہ جگہ تک پھیل جانا ممکن ہے، لہذا اگر مخرج کے علاوہ پیشاب اتنا پھیل جائے کہ درہم سے زیادہ جگہ گھیر لے تو اس جگہ کا پانی سے دھونا فرض ہے۔

*مخرج الغائط:* پاخانہ خارج ہونے کی جگہ پر نجاست کم لگی ہو یا زیادہ لگی ہو تو ڈھیلے سے استنجا کافی ہے لیکن مخرج کے علاوہ ارد گرد جگہ پر بھی نجاست پھیل گئی تو دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت: اگر مخرج کے اردگرد نجاست درہم سے کم پھیلی ہے تو پانی سے دھونا فرض نہیں ہے کیونکہ *مخرج* کا الگ حکم ہے اور *حولِ مخرج* یعنی ارد گرد پھیلنے والی نجاست الگ حکم رکھتی ہے۔ لہذا قلیل ہونے کی وجہ سے دونوں کا دھونا فرض نہیں ہے، ڈھیلوں سے استنجا کافی ہے۔

دوسری صورت: اگر اردگرد نجاست درہم سے زیادہ پھیلی ہے تو بالاتفاق دھونا فرض ہے، ڈھیلوں سے استنجا کافی نہیں ہے۔

علامہ کاسانی نے جو اختلاف ذکر کیا ہے اس میں مفتی بہ قول شیخین کا ہے، یعنی امام اعظم اور امام ابویوسف کے قول پر عمل کیا جاتا ہے۔ دیگر کتبِ فقہ سمیت فتاوی رضویہ اور بہارِ شریعت میں اسی قول پر فتوی دیا گیا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِـيُـطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ‌ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اِذْ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ جَآءُوۡكَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰهَ وَاسۡتَغۡفَرَ لَـهُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 64

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِـيُـطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰهِ ‌ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اِذْ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ جَآءُوۡكَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰهَ وَاسۡتَغۡفَرَ لَـهُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ہر رسول کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے اور جب یہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو یہ آپ کے پاس آجاتے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو یہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، بےحد رحم فرمانیوالا پاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور ہم نے ہر رسول کو صرف اس لیے بھیجا ہے کہ اللہ کے اذن سے اس کی اطاعت کی جائے اور جب یہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھے تھے تو یہ آپ کے پاس آجاتے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتے اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو یہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا، بےحد رحم فرمانیوالا پاتے۔ (النساء : ٦٤) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کو سرزنش کی ہے جو دعوی یہ کرتے تھے کہ وہ رسول اللہ پر نازل والی کتاب پر ایمان لائے ہیں اپنے مقدمہ کا فیصلہ یہودی عالم کے پاس لے جاتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے کیلیے جب انہیں بلایا جاتا تو وہ منہ موڑ کر کترا کر نکل جاتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس نے ہر رسول کو اس لیے بھیجا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ‘ مجاہد نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اسی کو نصیب ہوتی ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ازل میں یہ نعمت مقدر کردی ہے۔ 

پھر فرمایا جب ان منافقوں نے کعب بن اشرف کے پاس اپنا مقدمہ پیش کرکے اپنی جانوں پر ظلم کر ہی لیا تھا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ آپ کے پاس آکر معذرت کرتے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی معافی چاہتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے لیے استغفار کرتے تو وہ ضرور اللہ کو بہت بخشنے والا اور مہربان پاتے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ پر حاضر ہو کر شفاعت طلب کرنے کا جواز : 

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عاصیوں اور گنہ گاروں کو یہ ہدایت دی ہے کہ جب ان سے خطا اور گناہ ہوجائے تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں اور آپ کے پاس آکر استغفار کریں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ درخواست کریں کہ آپ بھی ان کے لیے اللہ سے درخواست کریں اور جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا اور بہت مہربان پائیں گے ‘ مفسرین کی ایک جماعت نے ذکر کیا ہے ان میں الشیخ ابو منصور الصباغ بھی ہیں ‘ انہوں نے اپنی کتاب الشامل میں عبتی کی یہ مشہور حکایت لکھی ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر پر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی نے آکر کہا السلام علیک یا رسول اللہ ! میں نے اللہ عزوجل کا یہ ارشاد سنا ہے۔ (آیت) ” ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک “۔ الآیہ، اور میں آپ کے پاس آگیا ہوں اور اپنے گناہ پر اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اپنے رب کی بارگاہ میں آپ سے شفاعت طلب کرنے والا ہوں ‘ پھر اس نے دو شعر پڑھے : 

اے وہ جو زمین کے مدفونین میں سب سے بہتر ہیں جن کی خوشبو سے زمین اور ٹیلے خوشبودار ہوگئے۔ 

میری جان اس قبر پر فدا ہو جس میں آپ ساکن ہیں اس میں عفو ہے اس میں سخاوت ہے اور لطف و کرم ہے۔ 

پھر وہ اعرابی چلا گیا ‘ عبتی بیان کرتے ہیں کہ مجھ پر نیند غالب آگئی میں نے خواب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کی اور آپ نے فرمایا اے عتبی ! اس اعرابی کے پاس جا کر اس کو خوشخبری دو کہ اللہ نے اس کی مغفرت کردی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ٣٢٩۔ ٣٢٨‘ الجامع لاحکام القرآن ج ٥ ص ٢٦٥‘ البحرالمحیط ج ٣ ص ٦٩٤‘ مدارک التنزیل علی ہامش الخازن ج ١ ص ٣٩٩) 

مفتی محمد شفیع متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں : 

یہ آیت اگرچہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور آپ اس کے لیے دعاء مغفرت کردیں اس کی مغفرت ضرور ہوجائے گی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیاوی حیات کے زمانہ میں ہوسکتی تھی اسی طرح آج بھی روضہ اقدس پر حاضری اسی حکم میں ہے ‘ اس کے بعد مفتی صاحب نے بھی عتبی کی مذکور الصدر حکایت بیان کی ہے۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ٤٦٠ ‘۔ ٤٥٩ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی) 

معروف دیوبندی عالم شیخ محمد سرفراز گکھڑوی لکھتے ہیں : 

عتبی کی حکایت اس میں مشہور ہے اور تمام مذاہب کے مصنفین نے مناسک کی کتابوں میں اور مورخین نے اس کا ذکر کیا ہے اور سب نے اس کو مستحسن قرار دیا ہے اسی طرح دیگر متعدد علماء کرام نے قدیما وحدیثا اس کو نقل کیا ہے اور حضرت تھانوی لکھتے ہیں کہ مواہب میں بہ سند امام ابو منصور صباغ اور ابن النجار اور ابن عساکر اور ابن الجوزی رحہم اللہ تعالیٰ نے محمد بن حرب ہلالی سے روایت کیا ہے کہ میں قبر مبارک کی زیارت کر کے سامنے بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور زیارت کرکے عرض کیا کہ یا خیر الرسل ‘ اللہ تعالیٰ آپ پر ایک سچی کتاب نازل فرمائی جس میں ارشاد ہے 

(آیت) ” ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروا اللہ واستغفرلھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما “۔ اور میں آپ کے پاس اپنے گناہوں سے استغفار کرتا ہوا اور اپنے رب کے حضور میں آپ کے وسیلہ سے شفاعت چاہتا ہوا آیا ہوں پھر دو شعر پڑھے۔ اور اس محمد بن حرب کی وفات ٢٢٨ ھ میں ہوئی ہے ‘ غرض زمانہ خیرالقرون کا تھا اور کسی سے اس وقت نکیر منقول نہیں ‘ پس حجت ہوگیا (نشر الطیب ص ٢٥٤) اور حضرت مولانا نانوتوی یہ آیت کریمہ لکھ کر فرماتے ہیں : ” کیونکہ اس میں کسی کی تخصیص نہیں آپ کے ہم عصر ہوں یا بعد کے امتی ہوں ‘ اور تخصیص ہو تو کیونکر ہو آپ کا وجود تربیت تمام امت کے لیے یکساں رحمت ہے کہ پچھلے امتیوں کا آپ کی خدمت میں آنا اور استغفار کرنا اور کرانا جب ہی متصور ہے کہ قبر میں زندہ ہوں ( آب حیات ص ٤٠) اور حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی یہ سابق واقعہ ذکر کرکے آخر میں لکھتے ہیں : پس ثابت ہوا کہ اس آیت کریمہ کا حکم آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد بھی باقی ہے۔ (اعلاء السنن ج ١٠ ص ٣٣٠) 

ان اکابر کے بیان سے معلوم ہوا کہ قبر پر حاضر ہو کر شفاعت مغفرت کی درخواست کرنا قرآن کریم کی آیت کے عموم سے ثابت ہے ‘ بلکہ امام سبکی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس معنی میں صریح ہے (شفاء السقام ص ١٢٨) 

اور خیرالقرون میں یہ کاروائی ہوئی مگر کسی نے انکار نہیں کیا جو اس کے صحیح ہونے کی واضح دلیل ہے (تسکین الصدور ص ٣٦٦۔ ٣٦٥‘ ملخصا ‘ مطبوعہ ادارہ نصرت العلوم گوجرانوالہ) 

گنبد خضراء کی زیارت کے لیے سفر کا جواز :

قرآن مجید کی اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر انور کے لیے سفر کرنا مستحسن اور مستحب ہے ‘ شیخ ابن تیمیہ نے اس سفر کو سفر معصیت اور سفر حرام کہا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ اس سفر میں قصر کرنا جائز نہیں ہے ان کا استدلال اس حدیث سے ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین مسجدوں کے علاوہ اور کسی مسجد کی طرف کجاوے نہ کسے جائیں (سفر نہ کیا جائے) مسجد حرام ‘ مسجد الرسول ‘ اور مسجد اقصی۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١١٨٩‘ صحیح مسلم الحج : ٥١١ ‘(١٣٩٧) ٣٣٢٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٠٣٣‘ سنن الترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٥‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٧٠٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٩‘ مسند الحمیدی ‘ رقم الحدیث : ٩٤٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٤‘ ٢٣٨‘ ٢٧٢‘ السنن الکبری اللنسائی ‘ رقم الحدیث : جامع الاصول ج ٩‘ رقم الحدیث : ٦٨٩٤) 

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ نے اس حدیث کے جواب میں فرمایا ہے : اس حدیث میں ان تین مساجد کے علاوہ مطلقا سفر سے منع نہیں فرمایا بلکہ ان تین مسجدوں کے علاوہ اور کسی مسجد کے لیے سفر کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ مستثنی منہ مستثنی کی جنس سے ہوتا ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٦٥‘ مطبوعہ لاہور) 

اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے ‘ امام احمد بن حنبل روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے کسی سواری کا کجاوہ نہ کسا جائے سوائے مسجد حرام ‘ مسجد اقصی اور میری اس مسجد کے۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٦٤‘ طبع قدیم دارالفکر ‘ مسند احمد ج ١ رقم الحدیث : ١١٥٥٢‘ طبع دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤١٦ ھ) 

شیخ عبدالرحمان مبارک پوری متوفی ١٣٥٢ ھ نے اس حدیث پر یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ حدیث شہر بن حوشب سے مروی ہے اور وہ کثیر الادھام ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے التقریب میں لکھا ہے۔ (تحفۃ الاحوذی ج ١ ص ٢٧١‘ طبع ملتان) 

میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر عسقلانی نے التقریب میں لکھا ہے کہ شہر بن حوشب ‘ بہت صادق ہے اور یہ بہت ارسال کرتا ہے اور اس کے بہت وہم ہیں۔ (تقریب التہذیب ج ١ ص ٤٢٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

اور حافظ ابن حجر عسقلانی شہر بن حوشب کے متعلق تہذیب التہذیب میں لکھتے ہیں : 

امام احمد نے اس کے متعلق کہا اس کی حدیث کتنی حسین ہے اور اس کی توثیق کی ‘ اور کہا کہ عبدالحمید بن بھرام کی وہ احادیث صحت کے قریب ہیں جو شہر بن حوشب سے مروی ہیں ‘ دارمی نے کہا احمد شہر بن حوشب کی تعریف کرتے تھے امام ترمذی نے کہا امام بخاری نے فرمایا شہر حسن الحدیث ہے اور اس کا امر قوی ہے ‘ ابن معین نے کہا یہ ثقہ ہے ‘ ان کے علاوہ اور بہت ناقدین فن نے شہر کی توثیق کی ہے (تہذیب التہذیب ج ٤ ص ٣٣٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

حافظ جمال الدین مزنی متوفی ٧٤٢ ھ ‘ اور علامہ شمس الدین ذہبی متوفی ٧٤٨ ھ نے بھی شہر بن حوشب کی تعدیل میں یہ اور بہت ائمہ کے اقوال نقل کیے ہیں۔ (تہذیب الکمال ج ٨ ص ٤٠٩‘ میزان الاعتدال ج ٣ ص ٣٩٠‘ طبع بیروت) 

علاوہ ازیں حافظ ابن حجر عسقلانی نے خصوصیت سے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے ‘ (فتح الباری ج ٣ ص ٦٦) اور شیخ احمد شاکر متوفی ١٣٧٣ ھ نے بھی اس حدیث کے متعلق لکھا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے ‘ کیونکہ امام احمد اور امام ابن معین نے شہر بن حوشب کی توثیق کی ہے۔ (مسند احمد ج ١٠‘ ص ٢٠١‘ طبع قاہرہ) 

اس حدیث کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اگر اس حدیث میں مستثنی منہ مسجد کو نہ مانا جائے ‘ بلکہ عام مانا جائے اور یہ معنی کیا جائے کہ ان تین مساجد کے سوا کسی جگہ کا بھی سفر کا قصد نہ کیا جائے تو پھر نیک لوگوں کی زیارت ‘ رشتہ داروں سے ملنے ‘ دوستوں سے ملنے ‘ علوم مروجہ کو حاصل کرنے ‘ تلاش معاش ‘ حصول ملازمت ‘ سیر و تفریح ‘ سیاحت اور سفارت کے لیے سفر کرنا بھی ناجائز ‘ حرام اور سفر معصیت ہوگا۔ 

شیخ مبارک پوری نے اس جواب پر یہ اعتراض کیا ہے رہا تجارت یا طلب علم یا کسی اور غرض صحیح کے لیے سفر کرنا تو ان کا جواز دوسرے دلائل سے ثابت ہے (اس لیے یہ ممانعت عموم پر محمول ہے) (تحفۃ الاحوذی ج ١ ص ٢٧١‘ مطبوعہ نشرالسنہ ملتان) 

میں کہتا ہوں کہ ہم نے جو سفر کی انواع ذکر کی ہیں وہ سب غرض صحیح پر مبنی ہیں اور ان کے جواز پر کون سے دلائل ہیں جو صحاح ستہ کی اس حدیث کی ممانعت کے عموم کے مقابلہ میں راجح ہوں ؟ خصوصا نیک لوگوں ‘ رشتہ داروں ‘ دوستوں کی زیارت اور ان سے ملاقات کے لیے سفر کرنے ‘ اسی طرح سائنسی علوم کے حصول ‘ تلاش معاش ‘ حصول ملازمت اور سیرو تفریح کے لئے سفر کرنے کے جواز پر اور بھی بہت دلائل ہیں اور ممانعت کی اس حدیث کی ممانعت پر راجح یا اس کے لیے ناسخ ہوں ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے سفر کرنیکے جواز پر اور بھی بہت دلائل ہیں اور مانعت کی اس حدیث کی ہم نے ان مذکور توجیہات کے علاوہ اور بھی کئی توجیہات ذکر کی ہیں اس کے لیے شرح صحیح مسلم ج ٣ ص ٧٦٤۔ ٧٦٣ ملاحظہ فرمائیں ‘ شیخ ابن تیمیہ نے جو اس سفر کو حرام کہا ہے ‘ حافظ ابن حجر نے فرمایا یہ ان کا انتہائی مکروہ قول ہے۔ 

اور ملا علی بن سلطان محمد القاری المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں۔ 

ابن تیمیہ حنبلی نے اس مسئلہ میں بہت تفریط کی ہے ‘ کیونکہ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے سفر کو حرام کہا ہے ‘ اور بعض علماء نے اس مسئلہ میں افراط کیا ہے اور اس سفر کے منکر کو کافر کہا ہے اور یہ دوسرا قول صحت اور صواب کے زیادہ قریب ہے کیونکہ جس چیز کی اباحت پر اتفاق ہو اس کا انکار کفر ہے تو جس چیز کے استحباب پر علماء پر کا اتفاق ہو اس کو حرام قرار دینا بہ طریق اولی کفر ہوگا۔ (شرح الشفاء علی ھامش نسیم الریاض ج ٣ ص ٥١٤‘ مطبوعہ بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 64

شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے

حدیث نمبر :336

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سرمہ لگائے وہ طاق بار لگائے ۱؎ کرے تو اچھا ہے نہ کرے تو گناہ نہیں۲؎ اور جو استنجا کرے تو طاق سے کرے جو کرے تو اچھا اور نہ کرے تو گناہ نہیں۳؎ اور جو کھائے تو جو خلال سے نکالے وہ تھوک دے اور جوزبان سے نکالے وہ نگل لے۴؎ جو کرے تو اچھا ہے جو نہ کرے تو گناہ نہیں۵؎ اور جو پاخانہ جائے تو آڑ کرے اگر آڑ نہ پائے یا بجز اس کے کہ ریت کا ڈھیر جمع کرے تو اس ڈھیر کی طرف پیٹھ کرے ۶؎ کیونکہ شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے جو یہ کرے تو اچھا ہےجو نہ کرے تو گناہ نہیں ۷؎(أبوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح

۱؎ ہر آنکھ میں تین سلائیاں اس طرح کہ پہلے داہنی آنکھ میں تین۔بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ پہلے دہانی میں دو،پھربائیں میں تین،پھر دائیں میں ایک،تاکہ داہنی پر اتبداءاورانتہاء ہو،اس میں بھی حرج نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے وقت تین تین سلائیاں لگایا کرتے تھے،اس پر پابندی کرنے والا ان شاءاﷲ اندھا نہ ہوگا۔

۲؎ یعنی یہ امروجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مطلق امرو جوب کے لیے ہوتا ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو امر کے بعد اس فرمان کی ضرورت نہ ہوتی۔

۳؎ یعنی بڑے استنجے کے لیے تین،یاپانچ،یاسات حسب ضرورت ڈھیلے لے۔اگر چار یا چھ لئے جب بھی مضائقہ نہیں کیونکہ مقصود صفائی ہے۔خیال رہے کہ سرمے کی تین ہی سلائیاں لگائے پانچ یاسات نہیں کہ یہی سنت ہے۔

۴؎ کیونکہ خلال سے نکالے ہوئے میں خون سے مخلوط ہونے کا احتمال ہے،لہذا احتیاطًا نہ کھائے اور زبان سے نکالے ہوئے میں یہ احتمال نہیں وہاں اس احتیاط کی ضرورت نہیں۔

۵؎ یہ اس صورت میں ہے کہ خون سے مخلوط ہونے کا صرف احتما ل ہو یقین نہ ہو،اگر یقین ہوتو نگلنا حرام ہےکیونکہ بہتا خون حرام بھی ہے اورنجس بھی،خواہ دوسرے کا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ بہتا خون جسم میں داخل کرنا ناجائز ہے جیسے پیشاب پاخانہ داخل کرنا کہ یہ سب نجس ہیں۔

۶؎ لوگوں کے سامنے تو آڑ کرنا فرض ہے،تنہائی میں آڑ مستحب،کیونکہ یہ حیا کا ایک شعبہ ہے اسی لیے تنہائی میں بھی ننگا رہنا ممنوع ہے۔ڈھیر کی طرف پیٹھ کرنااس واسطے ہے کہ آگے تو کپڑے وغیرہ سے بھی آڑ کی جاسکتی ہے ورنہ دونوں طرفیں ستر کے لائق ہیں۔

۷؎ یعنی تنہائی میں یہ پردہ مستحب ہے واجب نہیں۔شیطان کے کھیلنے سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو ننگا دیکھ کر ہنستا ہے،وسوسے ڈالتا ہے وغیرہ۔

اُنْظُرۡ كَيۡفَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡـكَذِبَ‌ؕ وَكَفٰى بِهٖۤ اِثۡمًا مُّبِيۡنًا  ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 50

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُنْظُرۡ كَيۡفَ يَفۡتَرُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡـكَذِبَ‌ؕ وَكَفٰى بِهٖۤ اِثۡمًا مُّبِيۡنًا  ۞

ترجمہ:

دیکھئے یہ لوگ کس طرح اللہ پر عمدا جھوٹ باندھ رہے ہیں اور ان کے لئے یہی علی الاعلان گناہ کافی ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی پاکیزگی بیان کرتے ہیں بلکہ اللہ ہی جس کو چاہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (النساء : ٥٠) 

اپنی پاکیزگی اور فضلیت بیان کرنے کی ممانعت : 

تزکیہ کا معنی ہے صفاء باطن اور اس آیت میں جو اپنے تزکیہ سے منع فرمایا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اپنے متعلق یہ نہ کہو کہ ہم گناہوں سے پاک ہیں اور اپنی تعریف اور ستائش نہ کرو۔ امام ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ یہود یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور ہمارا کوئی گناہ نہیں ہے ‘ ضحاک نے بیان کیا ہے کہ یہود یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور ہمارا کوئی گناہ نہیں ہے ‘ ضحاک نے بیان کیا ہے کہ یہود یہ کہتے تھے کہ ہمارے گناہ صرف اتنے ہیں جتنے ہمارے نوزائیدہ بچوں کے گناہ ہوتے ہیں جس دن وہ پیدا ہوئے ہوں اگر ان کے گناہ ہیں تو ہمارے بھی گناہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیکھو یہ کس طرح اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کے لئے یہی کھلا گناہ کافی ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٨١) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے نام رکھنے سے بھی منع فرمایا ہے جن سے اپنی پاکیزگی اور اپنی تعریف کا اظہار ہوتا ہو۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ زینب کا نام برہ (نیکی کرنے والی) تھا ان سے کہا گیا کہ تم اپنی پارسائی بیان کرتی ہو ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام زینب رکھ دیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٤١) 

محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنی بیٹی کا نام برہ رکھا ‘ تو مجھ سے زینب بنت ابی سلمہ نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نام سے منع کیا ہے میرا نام برہ رکھا گیا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنی پارسائی نہ بیان کرو اللہ ہی جانتا ہے کہ تم میں سے کون نیکی کرنے والا ہے ‘ مسلمانوں نے کہا پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں ؟ آپ نے فرمایا اس کا نام زینب رکھو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٢‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦١٩٢) 

حضرت سمرہ بن جندب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ چار نام اپنے بیٹوں کے نہ رکھو افلح (بہت فلاح پانے والا) رباح (نفع حاصل کرنے والا) یسار (آسانی کرنے والا) نافع (نفع پہنچانے والا) (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٣٦) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

مقدام بن شریح اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب وہ اپنی قوم کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گئے تو آپ نے سنا کہ لوگ ان کو ابوالحکم کی کنیت کے ساتھ پکار رہے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلا کر فرمایا : اللہ تعالیٰ ہی حکم (فیصلہ کرنے والا) ہے اور اسی کی طرف حکم راجع ہوتا ہے۔ تم نے اپنی کنیت ابوالحکم کیوں رکھی ہے ‘ انہوں نے کہا جب میری قوم کا آپس میں کسی معاملہ میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ان کے درمیان فیصلہ کرتا ہوں ‘ اور دونوں فریق راضی ہوجاتے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ بہت اچھی بات ہے تمہاری اولاد بھی ہے ؟ اس نے کہا میرے تین بیٹے ہیں شریح ‘ مسلم اور عبداللہ ‘ آپ نے فرمایا ان میں سے بڑا کون ہے ؟ میں نے کہا شریح ‘ آپ نے فرمایا تم تو ابو الشریح ہو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٤٩٥٥‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٤٠٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٨١٣‘ المستدرک ج ١ ص ٢٤) 

جس شخص کا کسی شخص یا کسی چیز کے ساتھ زیادہ اشتغال ہو وہ اس کے ساتھ کنیت رکھ لیتا ہے ‘ مثلا حضرت ابوہریرہ (رض) کا بلی سے زیادہ اشتغال تھا تو ان کی کنیت ابوہریرہ رکھ دی ‘ ابو کا معنی والا یا صاحب ہے اور ابوہریرہ کا معنی بلی والا ہے ‘ ابو الشریح کا معنی شریح والا ہے ‘ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کی صفات کے ساتھ کنیت نہیں رکھنی چاہیے اس اعتبار سے ابوالاعلی کنیت بھی صحیح نہیں ہے۔ 

غرض صحیح کی بناء پر اپنی پاکیزگی اور اپنی فضیلت بیان کرنے کا جواز :

قرآن مجید اور ان احادیث میں اپنی پارسائی اور بڑائی بیان کرنے سے منع فرمایا ہے یہ اس وقت ہے جب انسان کسی پر اپنا تفوق اور برتری ظاہر کرنے کے لئے اپنی بڑائی بیان کرے ‘ لیکن جب اس سے اللہ کی نعمت کا اظہار مقصود ہو یا جب کسی جگہ اپنی پاک دامنی کا اظہار کرنا مقصود ہو یا کسی عیب اور الزام سے اپنی برات بیان کرنا مطلوب ہو یا اپنا حق اور اپنا مقام حاصل کرنے کے لیے اپنے محامد بیان کرنے مقصود ہو تو پھر اپنے محامد اور اپنے فضائل اور اپنی براءت اور پاکیزگی کو بیان کرنا جائز ہے۔

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور فخر نہیں ہے ‘ اور حمد کا جھنڈا میرے ہی ہاتھ میں ہوگا اور فخر نہیں ہے ‘ اور تمام بنی آدم ہوں یا ان کے غیر سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی اور فخر نہیں ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣١٤٨‘ ٣٦١٥‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٣٠٨‘ مسند احمد ج ٣ ص ٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے پوچھا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے لئے نبوت کب واجب ہوئی ؟ آپ نے فرمایا اس وقت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٦٠٩‘ المستدرک ج ٢ ص ٦٠٩‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٢ ص ١٣٠) 

ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ جب باغیوں نے حضرت عثمان کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ اس وقت میں ان کے سامنے حاضر تھا ‘ حضرت عثمان (رض) نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں تمہیں اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو وہاں چاہ رومہ کے سوا اور کوئی میٹھے پانی کا کنواں نہیں تھا ‘ آپ نے فرمایا چاہ رومہ کو خرید کر مسلمانوں کے لیے کون وقف کرے گا ؟ اور اس کے بدلہ میں جنت میں اس سے بہتر چیز لے گا ! تو اس کنویں کو میں نے اپنے ذاتی مال سے خریدا تھا اور آج تم نے مجھ پر اس کنویں کا پانی بند کردیا ہے اور میں سمندر کا کھاری پانی پی رہا ہوں ‘ لوگوں نے کہا اے اللہ ! ہاں حضرت عثمان (رض) نے کہا میں تمہیں اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کہ جب مسجد نمازیوں سے تنگ ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فلاں شخص کی زمین کو خرید کر مسجد کے ساتھ کون لاحق کرے گا ؟ اور اس کے بدلہ میں جنت میں اس کو اس سے بہتر چیز مل جائے گی ! تو میں نے اپنے ذاتی مال سے زمین کو خریدا اور آج تم مجھ کو اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے سے بھی منع کرتے ہو ! انہوں نے کہا : اے اللہ ہاں ! آپ نے فرمایا میں تم کو اللہ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ میں نے جیش العسرۃ (غزوہ تبوک کے لشکر) کیلیے مدد فراہم کی تھی ‘ انہوں نے کہا اے اللہ ! ہاں ‘ حضرت عثمان (رض) نے کہا میں تم کو اللہ کی اور اسلام کی قسم دیتا ہوں کیا تم کو علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے ایک پہاڑ ثبیر پر تشریف فرما تھے آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) اور میں تھا ‘ پہاڑ ہلنے لگا ‘ حتی کہ اس کے پتھر نشیب میں گرنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر اپنا پیر مارا اور فرمایا۔ اے ثبیر ساکن ہوجا تجھ پر صرف نبی ہے ‘ صدیق ہے اور دو شہید ہیں ‘ انہوں نے کہا اے اللہ ہاں ! حضرت عثمان (رض) نے کہا اللہ اکبر ! انہوں نے میرے حق میں گواہی دی ہے اور تین بار کہا رب کعبہ کی قسم میں شہید ہوں۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٣‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٦٠٥‘ سنن دارقطنی ج ٤ ص ١٩٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٦ ص ١٦٨‘ کنزالعمال ‘ رقم الحدیث : ٣٦٢٨) 

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ کسی غرض صحیح کی بناء پر اپنے فضائل بیان کرنا جائز ہے ‘ نیز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن مجید میں جو اپنی پاکیزگی اور تعریف کرنے سے منع فرمایا ہے اس کا محمل یہ ہے کہ کوئی شخص یہ نہ بیان کرے کہ آخرت میں اللہ کے نزدیک اس کا یہ درجہ ہے اور جنت میں یہ مقام ہے اور وہ آخری عذاب سے بری ہے اور یہود یہی کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور ان کو عذاب نہیں ہوگا اور اگر ہوا بھی تو صرف چالیس دن ہوگا ‘ اور اس سے اس لئے منع فرمایا کہ آخرتت کا حال غیب ہے اور غیب کا علم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خبر دیئے بغیر کسی کو نہیں ہوسکتا ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ براہ راست مطلع فرماتا ہے ‘ یا فرشتہ کی وساطت سے آپ کو مطلع فرماتا ہے ‘ اور جو دنیاوی فضائل ہیں یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتلانے سے جن درجات کا علم ہوا ان کا ضرورت کے وقت بیان کرنا جائز ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : دیکھئے یہ لوگ کس طرح اللہ پر عمدا جھوٹ باندھ رہے ہیں اور ان کے لئے یہی علی الاعلان گناہ کافی ہے۔ (النساء : ٥٠) 

اللہ پر عمدا جھوٹ باندھنے سے مراد ان کا یہ دعوی ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک گناہوں سے پاک ہیں ‘ حالانکہ وہ نہ اللہ کے بیٹے ہیں نہ اس کے محبوب ہیں نہ گناہوں سے پاک ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 50