کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 7 سورہ البقرہ آیت نمبر60 تا 61

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَؕ-فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًاؕ-قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْؕ-كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۶۰)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اس پتھر پر اپنا عصا مارو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہہ نکلے (ف۹۹) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا کھاؤ اور پیو خدا کا دیا (ف۱۰۰) اور زمین میں فساد اٹھاتے نہ پھرو (ف۱۰۱)

(ف99)

جب بنی اسرائیل نے سفر میں پانی نہ پایا شدت پیاس کی شکایت کی تو حضرت موسٰی علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو آپ کے پاس ایک مربع پتھر تھا جب پانی کی ضرورت ہوتی آپ اس پر عصا مارتے اس سے بارہ چشمے جاری ہوجاتے اور سب سیراب ہوتے یہ بڑا معجزہ ہے لیکن سید انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے انگشت مبارک سے چشمے جاری فرما کر جماعت کثیرہ کو سیراب فرمانا اس سے بہت اعظم واعلیٰ ہے کیونکہ عضو انسانی سے چشمے جاری ہونا پتھر کی نسبت زیادہ اعجب ہے۔ (خازن ومدارک)

(ف100)

یعنی آسمانی طعام من و سلوٰی کھاؤ اور اس پتھر کے چشموں کا پانی پیو جو تمہیں فضل الٰہی سے بے محنت میسر ہے۔

(ف101)

نعمتوں کے ذکر کے بعد بنی اسرائیل کی نالیاقتی دوں ہمتی اور نافرمانی کے چند واقعات بیان فرمائے جاتے ہیں۔

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِ جْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآىٕهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَاؕ-قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌؕ-اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْؕ-وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُۗ-وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠(۶۱)

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ (ف۱۰۲) ہم سے تو ایک کھانے پر (ف۱۰۳) ہرگز صبر نہ ہوگا تو آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہمارے لیے نکالے کچھ ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز فرمایاکیا ادنیٰ چیزکو بہتر کے بدلے مانگتے ہو (ف۱۰۴) اچھا مصر (ف۱۰۵) یا کسی شہر میں اترو وہاں تمہیں ملے گا جو تم نے مانگا (ف۱۰۶) اور ان پر مقرر کردی گئی خواری اور ناداری (ف۱۰۷) اور خدا کے غضب میں لوٹے (ف۱۰۸) یہ بدلہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے (ف۱۰۹) یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا

(ف102)

بنی اسرائیل کی یہ ادا بھی نہایت بے ادبانہ تھی کہ پیغمبر اولوالعزم کو نام لے کر پکارا یا نبی اللہ یارسول اللہ یا اور کوئی تعظیم کا کلمہ نہ کہا( فتح العزیز) جب انبیاء کا خالی نام لینا بے ادبی ہے تو ان کو بشر اور ایلچی کہنا کس طرح گستاخی نہ ہوگا غرض انبیاء کے ذکر میں بے تعظیمی کا شائبہ بھی ٍناجائز ہے۔

(ف103)

( ایک کھانے ) سے ( ایک قسم کا کھانا) مراد ہے

(ف104)

جب وہ اس پر بھی نہ مانے تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے بارگاہِ الہی میں دعا کی ارشاد ہوا ”اِھۡبِطُوۡ ا”

(ف105)

مصر عربی میں شہر کو بھی کہتے ہیں کوئی شہر ہواور خاص شہر یعنی مصر موسٰی علیہ السلام کا نام بھی ہے یہاں دونوں میں سے ہر ایک مراد ہو سکتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہاں خاص شہر مصر مراد نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے لئے یہ لفظ غیر منصرف ہو کر مستعمل ہوتا ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہے ۔ ” اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ” اور ”اُدْخُلُوْا مِصْرَ ” مگر یہ خیال صحیح نہیں کیونکہ سکون اوسط کی وجہ سے لفظ ہند کی طرح اس کو منصرف پڑھنا درست ہے نحو میں اس کی تصریح موجود ہے علاوہ بریں حسن وغیرہ کی قرأت میں مصر بلا تنوین آیا ہے اور بعض مصاحف حضرت عثمان اور مصحف اُبَیّ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں بھی ایسا ہی ہے اسی لئے حضرت مترجم قدس سرہ نے ترجمہ میں دونوں احتمالوں کو اخذ فرمایا ہے اور شہر معین کے احتمال کو مقدم کیا۔

(ف106)

یعنی ساگ ککڑی وغیرہ کو ان چیزوں کی طلب گناہ نہ تھی لیکن ” مَنۡ وسَلوٰی” جیسی نعمت بے محنت چھوڑ کر ان کی طرف مائل ہونا پست خیالی ہے ہمیشہ ان لوگوں کا میلان طبع پستی ہی کی طرف رہا اور حضرت موسیٰ و ہارون وغیرہ جلیل القدر بلند ہمت انبیاء (علیہم السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی لئیمی و کم حوصلگی کا پورا ظہور ہوا اور تسلط جالوت و حادثہ بخت نصر کے بعد تو وہ بہت ہی ذلیل و خوار ہوگئے اس کا بیان ” ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ” میں ہے ۔

(ف107)

یہود کی ذلت تو یہ کہ دنیا میں کہیں نام کو ان کی سلطنت نہیں اور ناداری یہ کہ مال موجود ہوتے ہوئے بھی حرص سے محتاج ہی رہتے ہیں

(ف108)

انبیاء و صلحاء کی بدولت جو رتبے انہیں حاصل ہوئے تھے ان سے محروم ہوگئے اس غضب کا باعث صرف یہی نہیں کہ انہوں نے آسمانی غذاؤں کے بدلے ارضی پیداوار کی خواہش کی یا اُسی طرح کی اور خطائیں جو زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام میں صادر ہوئیں بلکہ عہد نبوت سے دور ہونے اور زمانہ دراز گزرنے سے ان کی استعدادِیں باطل ہوئیں اور نہایت قبیح افعال اور عظیم جرم ان سے سرزد ہوئے۔یہ ان کی اس ذلت و خواری کا باعث ہوئے ۔

(ف109)

جیسا کہ انہوں نے حضرت زکریا و یحیی و شعیا علیہم السلام کو شہید کیا اور یہ قتل ایسے ناحق تھے جن کی وجہ خود یہ قاتل بھی نہیں بتاسکتے۔

اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ۚ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡـكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 54

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ۚ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡـكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

یا یہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے، تو بیشک ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور ہم نے ان کو ملک عظیم عطا کیا تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یا یہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے، تو بیشک ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور ہم نے ان کو ملک عظیم عطا کیا تھا (النساء : ٥٤) 

یہود کے حسد کی مذمت : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے بخل کی مذمت کی تھی اور اس آیت میں ان کے حسد کی مذمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے فضل سے جو نعمت عطا فرمائی تھی یہود اس پر حسد کرتے تھے ‘ وہ کس نعمت پر حسد کرتے تھے اس میں اختلاف ہے ‘ قتادہ نے کہا ان کو یہ امید تھی کہ آخری نبی بنواسرائیل سے مبعوث ہوں گے اور جب اللہ تعالیٰ نے بنو اسماعیل سے آخری نبی مبعوث فرمایا تو وہ اس پر حسد کرنے لگے۔ اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ یہود نے کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قدر تواضع کا دعوی کرتے ہیں اور ان کے نکاح میں اتنی ازواج ہیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٨٨) لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس آیت کے دوسرے جملہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو بیشک ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور ہم نے انکو ملک عظیم عطا کیا تھا تو پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حسد کیوں کرتے ہیں یہ نعمت تو حضرت ابراہیم کی آل کو بھی ملی تھی اور ان کو بھی مل چکی ہے۔ 

اس آیت میں کتاب سے مراد جنس کتاب ہے اور وہ تورات ‘ انجیل اور زبور اور دیگر صحائف کو شامل ہے اور حکمت سے مراد نبوت ہے یا وہ اسرار ہیں جو اللہ کی کتاب میں ودیعت کیے گئے ہیں ‘ حضرت ابراہیم کی آل میں نبی اور رسول مبعوث کیے گئے جن کو یہ کتابیں اور حکمتیں دی گئیں اور وہ سب ان یہودیوں کے آباء اور اسلاف تھے ‘ اور ان کے آباء اور اسلاف کو ملک عظیم بھی دیا گیا جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) ‘ حضرت دادؤ (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ملک دیئے گئے ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے بہت زیادہ بیویاں حلال کی گئی تھیں۔ پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ کیوں اعتراض کرتے ہیں۔

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوداؤد نے سنن میں اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حسد کرنے سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑکیوں کو کھا جاتی ہے۔ 

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے اس آیت کی تفسیر میں سدی سے روایت کیا ہے کہ ملک عظیم سے مراد عورتوں سے نکاح ہے۔ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ننانوے بیویاں تھیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کثرت ازدواج کس طرح باعث اعتراض ہوگا ! 

اور حاکم نے مستدرک میں محمد بن کعب سے روایت کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو باندیاں تھیں۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٧٣‘ مطبوعہ ایران)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 54

اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ فَاِذًا لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 53

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ فَاِذًا لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا ۞

ترجمہ:

یا ان کا ملک میں کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو تل برابر بھی کوئی چیز نہ دیتے

تفسیر:

یہود کے بخل کی مذمت : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یا ان کا ملک میں کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو تل برابر بھی کوئی چیز نہ دیتے۔ (النساء : ٥٣) 

یہاں سے یہود کی برائیوں کا بیان شروع کیا گیا ہے ‘ اس آیت کا معنی ہے ان کا ملک میں کوئی حصہ نہیں ہے ‘ یہود کہتے تھے کہ آخر زمانہ میں ملک انکی طرف لوٹ آئے گا اس آیت میں ان کے اس دعوی کا رد ہے ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملک سے مراد نبوت ہو ‘ یعنی ان کے لیے نبوت سے کوئی حصہ نہیں ہے حتی کہ لوگوں پر ان کی اطاعت اور اتباع لازم ہو ‘ پہلی تفسیر زیادہ مناسب کیونکہ اس کا بعد کے جملہ کے ساتھ ربط ہے کیونکہ اگر ان کا ملک ہوتا یا اس میں ان کا کوئی حصہ ہوتا تو یہ لوگوں کو تل برابر بھی کوئی چیز نہ دیتے ‘ یعنی ضرورت مندوں کو کچھ نہ دیتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 53

مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـيًّۢا بِاَ لۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنًا فِىۡ الدِّيۡنِ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانْظُرۡنَا لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَ لٰـكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 46

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـيًّۢا بِاَ لۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنًا فِىۡ الدِّيۡنِ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانْظُرۡنَا لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَ لٰـكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نافرمانی کی (اور آپ سے کہتے ہیں) سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کردیں میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے لیے بہتر اور درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت فرمائی ہے سو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور آپ سے کہتے ہیں سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کردیں میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے لیے بہتر اور درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت فرمائی ہے سو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے (النساء : ٤٦) 

یہود کی تحریف کا بیان : 

کلبی اور مقاتل نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات ‘ آپ کی بعثت کے زمانے اور آپ کی نبوت کے متعلق یہود کی کتاب میں جو پیش گوئیاں تھیں وہ ان کو بدل دیتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ ہم نے آپ کی بات سنی اور اس کی نافرمانی کی ‘ اور اپنی زبان مروڑ کر آپ سے راعنا کہتے تھے اور یہ ان کی لغت میں گالی تھی۔ قبتی نے کہا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی حدیث فرماتے یا کوئی حکم دیتے تو وہ کہتے تھے ہم نے سن لیا اور دل میں کہتے تھے کہ ہم نے نافرمانی کرلی ‘ اور جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات کرنے کا ارادہ کرتے تو کہتے تھے اے ابوالقاسم سنیے اور اپنے دل میں کہتے تھے کہ آپ نہ سنیں ‘ اور وہ آپ سے راعنا کہتے تھے اور اس لفظ سے یہ معنی ظاہر کرتے تھے کہ آپ ان پر نظر رحمت فرمائیں اور زبان مروڑ کر اس سے اپنے دل میں رعونت کا معنی لیتے تھے اور اگر وہ سمعنا وعصینا کی بجائے سمعنا واطعنا کہتے اور ” واسمع غیر مسمع “ اور ” راعنا ‘ کی جگہ انظرنا کہتے ہیں تو یہ بہت بہتر او بہت درست ہوتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کردی ہے ‘ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس توہین کی سزا میں ان کو دنیا میں رسوا کردیا اور آخرت میں ان کو اپنی رحمت سے بالکلیہ دور کردیا ‘ سو ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائیں گے ‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب ہیں ‘۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جناب میں ایسا لفظ کہنا جس کا ظاہری معنی توہین کا موہم ہو کفر ہے ‘ اس کی پوری تفسیر ہم نے تبیان القرآن جلد اول البقرہ : ١٠٤ میں بیان کردی ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت فرمائی ہے اس لیے ہم یہاں کسی شخص پر لعنت کرنے کی تحقیق کررہے ہیں۔ 

لعنت کی اقسام اور کسی شخص پر لعنت کرنے کی تحقیق :

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

لعنت کا معنی ہے کسی شخص کو کرنا اور از روئے غضب کسی شخص کو دھتکارنا ‘ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا معنی ہے اس کو سزا اور عذاب دینا اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا معنی ہے اس پر رحمت نہ فرمانا ‘ اور اس کو نیکی کی توفیق نہ دینا ‘ اور جب انسان کسی پر لعنت کرے تو اس کا معنی ہے اس کو بددعا دینا۔ (المفردات ص ‘ ٤٥١‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

(١) فسق اور ظلم پر علی الاطلاق لعنت کرنا جائز ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ : (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الکاذبین “۔ (آل عمران : ٦١) (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الظالمین “۔ (الاعراف : ٤٤) 

(٢) کسی معین شخص پر لعنت کرنا جس کا معنی یہ ہو کہ وہ اللہ کی رحمت سے مطلقا مردود ہے یہ اس شخص کے سوا اور کسی پر جائز نہیں ہے جس کی کفر پر موت قطعی اور یقینی ہو جیسے ابو لہب اور ابوجہل اور دیگر مقتولین بدرواحد ‘ اور جس کی کفر پر موت قطعی اور یقینی نہ ہو اس پر یہ لعنت نہیں کی جائے گی خواہ وہ مشہور فاسق ہو جیسے یزید۔ 

(٣) علامہ قہستانی نے لکھا ہے کہ جب کفار پر لعنت کی جائے تو شرعا اس کو معنی ہے اللہ کی رحمت سے بالکلیہ دور کرنا ‘ اور جب مومنین پر لعنت کی جائے تو اس کا معنی ہے ان کو ابرار اور مقربین کے درجہ سے دور کرنا ‘ البرالرائق کی بحث لعان میں کیا معین کاذب پر لعنت کرنا جائز ہے ؟ میں کہتا ہوں کہ غایت البیان کے باب العدۃ میں مذکور ہے حضرت ابن مسعود نے فرمایا جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کا معنی کرلوں اور مباہلہ کا معنی ہے ایک دوسرے پر لعنت کرنا ‘ اور جب ان کا کسی چیز میں اختلاف ہوتا تو وہ کہتے تھے کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو ‘ اور فقہاء نے کہا یہ لعنت ہمارے زمانہ میں بھی مشروع ہے ‘ قرآن مجید میں مومن پر لعن معین کا ثبوت ہے جب لعان میں پانچوں دفعہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے والا مرد کہتا ہے : 

(آیت) ” والخامسۃ ان لعنت اللہ علیہ ان کان من الکاذبین “۔ (النور : ٧) 

ترجمہ : اور پانچویں گواہی یہ ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ 

اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ مومن پر لعنت کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کو مقربین اور ابرابر کے درجہ سے دور کیا جائے نہ کہ اللہ کی رحمت سے بالکلیہ دور کیا جائے۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ٥٤١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 46

وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاَعۡدَآٮِٕكُمۡ‌ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيۡرًا‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 45

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاَعۡدَآٮِٕكُمۡ‌ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيۡرًا‏

ترجمہ:

اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اور اللہ تمہارا کافی کارساز اور کافی مددگار ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے، اور اللہ تمہارا کافی کارساز اور کافی مددگار ہے (النساء : ٤٥) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمایت اور اس کی نصرت تم کو دوسروں سے مستغنی کر دے گی۔ خصوصا یہودیوں سے جن کی نصرت کی تم توقع رکھتے ہو ‘ زجاج نے کہا ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مسلمانوں کو یہ خبر دی ہے کہ یہود اور دوسرے کافروں کی دشمنی تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی جب کہ اللہ تعالیٰ کی حمایت اور نصرت تمہارے ساتھ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 45

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَةَ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِيۡلَ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 44

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يَشۡتَرُوۡنَ الضَّلٰلَةَ وَيُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَضِلُّوا السَّبِيۡلَ

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں آسمانی کتاب سے حصہ دیا گیا وہ (خود بھی) گمراہی خریدتے ہیں اور تم کو (بھی) راستہ سے گمراہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں آسمانی کتاب سے حصہ دیا گیا وہ (خود بھی) گمراہی خریدتے ہیں اور تم کو (بھی) راستہ سے گمراہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ (النساء : ٤٤) 

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد یہود ہیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٧٤) زجاج نے کہا وہ لوگوں سے رشوت لینے کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق پر ترجیح دیتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ مسلمان بھی اسلام کو چھوڑ کر گمراہ ہوجائیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 44

صحابہ نے عمل سے کتابت حدیث کا ثبوت دیا

صحابہ نے عمل سے کتابت حدیث کا ثبوت دیا

اولاً بعض صحابہ کرام کو کتابت حدیث میں تامل رہا ،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کتابت کی وجہ سے حفظ وضبط کا وہ اہتمام نہیں رہ سکے گا اور اسکی جانب وہ توجہ باقی نہ رہے گی ، اس طرح سفینوں کا علم سینوں کو خالی کردیگا ،آئندہ صرف تحریریں ہونگی جن پر اعتماد ہوگا اور انکے پیچھے حافظہ کی قوت نہ ہوگی کہ غلطیوں کی تصحیح ہوسکے ،لہذا حذف واضافہ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور تحریف کے دروازے کھل جائیں گے ، منافقین اور یہودونصاری کو روایات میں تغیروتبدل کا موقع مل جائے گا، اس طرح دین کی بنیادوں میں رخنہ اندازی شروع ہوسکتی ہے ،ان وجوہ کی بنا پر کچھ ایام بعض صحابہ کرام کو تذبذب رہا ،لیکن اسلام جب دور دور تک پھیل گیا ، اور خوب قوت حاصل ہوگئی تو مندرجہ بالا خدشات کی جانب سے اطمینان ہوگیا اورقرآن مجید کی طرح رفتہ رفتہ حدیث کی کتابت پر بھی سب متفق ہوگئے ۔ ہاں مگر ان حضرات صحابہ کے درمیان یہ طریقہ بھی رائج تھا کہ کتابیں دیکھ دیکھ کر احادیث بیان نہیں کی جاتی تھیں ، اسی وجہ سے ان تحریری مجموعوں کو کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوسکی پھر کافی تعداد میں صحابہ کرام نے اس فریضہ کو انجام دیا جس کی قدرے تفصیل اس طرح ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو پہلے کتابت حدیث کے سخت مخالف تھے لیکن بعد میں وہ عملی طور پر اس میدان میں اتر آئے اور آخر میں ان کی مجالس کا یہ طریقہ تھا ۔

حضرت سعید بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔

کنت اکتب عند ابن عباس فی صحیفۃ (السنن للدارمی، ۹۶)

میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں اوراق پر احادیث لکھتاتھا۔

حضرت موسی بن عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ۔

وضع عندنا کریب حمل بعیر اوعدل بعیر من کتب ابن عباس ،قال :

فکان علی بن عبداللہ بن عباس اذا اراد الکتاب کتب الیہ ابعث علی بصحیفۃ کذاکذا ،قال : ینسخھا فیبعث الیہ احداہما ( کتاب العلل للترمذی، الطبقات الکبری لا بن سعد، ۵/۲۱۶)

حضرت کریب نے ہمارے پاس ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی کتابیں رکھیں ۔حضرت علی بن عبداللہ بن عباس جب کوئی کتاب چاہتے تو انہیں لکھدیتے کہ مجھے فلا ں صحیفہ بھیجدو ،وہ اسے نقل کرتے اور ان میں سے ایک بھیج دیتے۔

انکی یہ تصانیف انکی زندگی ہی میں دوردور تک پھیل گئی تھیں ،اس سلسلہ میں امام طحاوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ان کا بیان نقل کیا ہے ۔

عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان ناسا من اہل الطائف اتوہ بصحیفۃ من صحفہ لیقرء ھا علیہم ،فلما اخذہالم ینطلق فقال : انی لما ذھب بصری بلھت فاقرأوھاعلی ،ولایکن فی انفسکم من ذلک حرج ،فان قرأ تکم علی کقرأنی علیکم۔ (شرح معانی الآثار، للطحاوی، ۲/۳۸۴)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ طائف کے کچھ لوگ انکے پاس انکی کتابوں سے ایک کتاب لیکر آئے تاکہ وہ انہیں پڑھکر سنائیں ،حضرت ابن عباس نے جب وہ کتابیں لیں تو پڑھ نہ سکے ،فرمایا: جب سے میری نگاہ جاتی رہی میں بیکار ہوگیا ہوں ،تم لوگ خود میرے سامنے پڑھو اوراس میں کچھ حرج نہ سمجھو ،میرے سامنے تمہارا پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے کہ میں تمہارے سامنے پڑھوں ۔

تصانیف کی اس کثرت سے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیئے ،کیونکہ آپ نے علم حدیث کی تحصیل میں غیر معمولی کوشش اور محنت سے کام لیاتھا ۔اسکی تفصیل آپ گذشتہ پیغامات میں پڑھ چکے ہیں ۔