Site icon اردو محفل

موت ایک نعمت ہے

موت ایک نعمت ہے
 اکبر بادشاہ نے بیربل سے کہا موت نہ ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا بیربل نے کہا جناب پھر آپ کیسے بنتے ؟ اگر کوئی نہ مرتا تو پھر آپ کی پردادی کی دادی آپ کو کہانی سنارہی ہوتی ۔ ایک دادی سے بیوی تنگ آجاتی ہے اتنی دادیاں   
  اگر موت نہ ہوتی سب زندہ ہوتے ، اناج کی قلت ہوتی اب تو غریب اور مظلوم اس آس پر جیتے ہیں اک روز موت آئے گی ، ہمیں مکتی دلائے گی ۔
۔ موت ظالموں سے نجات دلاتی ہے ۔ 
۔ ذکرِ موت نفس کی بیماریوں کا علاج ہے ۔
۔ بائرن کہتا ہے موت سے تمام مصائب کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ 
۔ سقراط سے پوچھا گیا، موت سے بھی کوئی سخت چیز ہے؟ جواب ملا زندگی کیونکہ ہر قسم کے رنج و غم زندگی میں برداشت کرنے پڑتے ہیں اور موت ان سے نجات دلاتی ہے ۔ 
۔ موت ، مومن کا تحفہ ہے کیونکہ دنیا مومن کا قید خانہ ہے اور موت اسے رہائی دلاتی ہے ۔ 
۔ افلاطون کہتا ہے سقراط نے کہا تھا :: ‌اگر موت ہمیشہ کے لئے شعور اور احساس کو ختم کردیتی ہے تو یہ ایک نعمت بے بہا ہے ۔ اللہ تعالٰی نے بھی موت کو نعمتوں‌میں شمار کیا ہے ۔
 کل من علیہا فان۔ ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والا کرام ۔ فبای آلا ء ربکما تکذبان ۔
 ہر شے فناہوگی صرف باقی تیرے رب جلال و اکرام والے کا چہرہ ۔ کس کس نعمت کو جھٹلائوگے ۔
 اجل کو دیکھ کر زیر فلک قرار آیا ۔
 مصائب کی بالآخر ایک انتہاتو ہے ۔
 چارلس فرومین کہتا ہے ۔
 موت سے کیوں ڈرتے ہو ؟ یہ زندگی میں بہت خوبصورت انڈونچر ہے ۔
 جب کوئی مرجائے تو یوں کہا کرو ۔
God,s finger touched him, and he slept. 

Exit mobile version