کیا ایران یہ جنگ جیت رہا ہے؟
کیا ایران یہ جنگ جیت رہا ہے؟
کالم آصف محمود مارچ 3, 2026
ایران کی مزاحمت حیران کن ہے ۔ یہی عالم رہا تو اس جنگ کے نتائج اس سے زیادہ حیران کن ہو سکتے ہیں۔
آپ یقینا اسے ایک جذباتی موقف قرار دیں گے اور شاید طنز بھرا قہقہہ لگا کر کہیں کہ اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی لیکن مجھے اپنی اس رائے پر اصرار ہے کہ اس جنگ نے نتائج حملہ آوروں کی توقع کے بالکل برعکس بھی ہو سکتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اس جنگ کے اختتام پر دنیا ایک بالکل مخلتف ایران دیکھ رہی ہو اور خطے کا توازن وہ نہ ہو جو اس وقت ہے۔
آج تک امریکہ کو ہم نے جتنی بھی جنگیں بھی لڑتے دیکھا ہے وہ یک طرفہ تھیں ۔ کم از کم ہماری نسل پہلی بار دیکھ رہی ہے کہ امریکہ کسی پر حملہ آور ہوا اور اسے جواب میں جنگ کا حقیقی ذائقہ چکھنا پڑ رہا ہے ۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ اس کے جنگی جہاز گر رہے ہیں ۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ اس کے فوجی اڈوں پر میزائل برس رہے ہیں ۔ ایسا نہیں کہ ایک یا دو اڈوں پر کوئی بھولا بھٹکا میزائل جا گرا ہو ، ایران نے اس سارے خطے میں امریکہ کے کم و بیش تمام اڈوں کو ہٹ کیا ہے ۔ بتا کر کیا ہے اور اعلانیہ ہے اور ٹھونک بجا کر کیا ہے۔ یہ پون صدی کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ پرل ہاربر کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ یہ معمولی بات نہیں ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنا لیا تو ایران کی مزاحمت دم توڑ دے گی ۔ ایران کی مرکزی شخصیت نہیں رہے گی تو ایران کی قوت بکھر جائے گی ۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایران نے جتنا بھی جواب دیا ہے ، سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد دیا ہے ۔ یہ صلاحیت حیران کن ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ٹرمپ کے لہجے کا طنطنہ ہی کچھ اور تھا ۔ ان کا خیال تھا کہ ایران اب گرتی ہوئی دیوار ہے ۔ چنانچہ فاتحانہ تمکنت سے اعلان ہوا کہ انقلابی گارڈز ، فوج اور پولیس ہتھیار ڈال دیں اور سرنڈر کر دیں ورنہ سب قتل کر دیے جائیں گے ۔ دو چار ویڈیوز شیئر کر کے یہ تاثر دیا گیا کہ ایران میں لوگ سپریم لیڈر کے مارے جانے پر خوش ہیں اور عوامی بغاوت ہونے ہی والی ہے ۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ سامے کی حقیقت یہ ہے کہ سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایرانی قوم میں یک جہتی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔
اس کی وجہ قابل فہم ہے۔ یہ نفسیاتی اور فکری وجہ ہے۔ ایران کی تعبیر حیات سے کسی کو ایک سو اختلاف ہو سکتے ہیں ، لیکن س سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا کہ ایران کی فکر کا مرکز کربلا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ صدیوں کربلا کو محور بنانے والے اپنی کربلا میں کھڑے کیے جائیں تو سرنڈر کر دیں۔ یہ بھی کوئی جذباتی بات نہیں ، انسانی نفسیات کی حقیقتوں سے آگہی رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہ فطرت کا تقاضا ہے ۔ جو چیز ان کی بنیادی طاقت ہے ، وہ ان کی کمزوری نہیں بن سکتی۔ مقتل ، لہو ، لاشے دیکھ کر یہ سرنڈر نہیں کریں گے۔ نظر آ رہا ہے کہ آخری دم تک مزاحمت ہو گی ۔ ایسا نہیں ہو گا کہ مرکزی قیادت ہٹ ہو گئی تو مزاحمت ختم ۔