تضمین “باغ جنت کے ہیں بہر مدح خوان اہل بیت”
تضمین بر کلام استاذ زمن علامہ حسن رضی اللہ عنہ ذو المنن
“باغ جنت کے ہیں بہر مدح خوان اہل بیت”
°°°°°
صاحبِ قدر و کرامت قدْردان اہل بیت
کیوں مسرت سے نہ مچلیں عاشقان اہل بیت
یہ ملا ان کو نبی سے ارمغان اہل بیت
باغ جنت کے ہیں بہر مدح خوان اہل بیت
تم کو مژدہ نار کا اے دشمنان اہل بیت
عقل انساں سے ورا ہے آن بانِ اہل بیت
عرش اعظم سے فزوں تر ہے مکان اہل بیت
ہم کہاں ہیں اور کہاں ہے خاندان اہل بیت
کس زباں سے ہو بیانِ عز و شان اہل بیت
مدح گوئے مصطفی ہے مدح خوان اہل بیت
جن کو شاہ طیبہ نے فرمایا سردار جناں
ہے سرِ تسلیم خم جن کے لیے دونوں جہاں
جن کی ہیں ساری ادائیں عکس سلطان زماں
ان کی پاکی کا خدائے پاک کرتا ہے بیاں
آیۂ تطہر سے ظاہر ہے شان اہل بیت
صبرِ اسمٰعیل دیں جذباتِ ابراہیم دیں
بادشاہی دو جہاں کی، کوثر و تسنیم دیں
خود کھڑے ہو کر سبھی کے سامنے تکریم دیں
مصطفی عزت بڑھانے کے لیے تعظیم دیں
ہے بلند اقبال تیرا دودمان اہل بیت
ان کے آگے حور و غلماں شوخ اتراتے نہیں
با ادب رہتے کھڑے بے بات مسکاتے نہیں
برتری آواز میں بھی قدسیاں لاتے نہیں
ان کے گھر میں بے اجازت جبرئیل آتے نہیں
قدر والے جانتے ہیں قدر و شان اہل بیت
رشک میں ہیں حور و غلمانِ بہشتانِ خدا
آسماں میں درمیانِ قدسیاں ہے غلغلہ
کیا مقدر پایا اس نے دیکھو ہر اک جان کا
مصطفی بائع خریدار اس کا اللہ اشترٰی
خوب چاندی کر رہا ہے کاروان اہل بیت
آزمائش میں گھرا ہے سربراہِ حسن و عشق
ہو رہا ہے اب گہن آلود ماہِ حسن و عشق
عرش سے ٹکرا رہی ہے آج آہِ حسن و عشق
رزم کا میداں بنا ہے جلوہ گاہِ حسن و عشق
کربلا میں ہو رہا ہے امتحان اہل بیت
جو کیے وعدے سبھی اپنے نبھائے دوست نے
جنگ کرنے کے سلیقے سب سکھائے دوست نے
کیا حسیں منظر دکھائے ہیں رضائے دوست نے
پھول زخموں سے کھلائے ہیں ہوائے دوست نے
خون سے سینچا گیا ہے گلستان اہل بیت
قاسم و عباس اور حر بن ریاحی ذی وقار
سالم و عامر ہو یا قیس و سعیدِ دل فگار
اصغر و اکبر حسینِ مصطفائے کردگار
حوریں کرتی ہے عروسان شہادت کا سنگار
خوبرو دولہا بنا ہے ہر جوانِ اہل بیت
زندگی کی ہو رہی تجدید آب تیغ سے
پل میں بر آئی ہے سب امّید آب تیغ سے
مل گئی حلقوم کو تبرید آب تیغ سے
ہو گئی تحقیق عید دید آب تیغ سے
اپنے روزے کھولتے ہیں صائمان اہل بیت
حفظ دیں کے واسطے یہ کر رہے ہیں احتجاج
چھوڑ کر دنیا کی ساری بادشاہی اور راج
دس محرم یوم عاشورا لٹا کے تخت و تاج
جمعہ کا دن ہے کتابیں زیست کی طے کر کے آج
کھیلتے ہیں جان پر شہزادگان اہل بیت
اے نسیم صبح یہ کیا حال ہے کچھ تو بتا
جو ابھی کھِلنے کو تھا وہ پھول ہے ٹوٹا پڑا
لگ گئی کس کی نظر تجھ کو بہارِ کربلا
اے شباب فصل گل یہ چل گئی کیسی ہوا
کٹ رہا ہے لہلہاتا بوستان اہل بیت
دیکھ تو نظریں اٹھا کر سامنے ہے کس کی ذات
کیا نہیں تو جانتا اس ذات کی اعلی صفات
بہہ رہا ہے کس لیے کس کے لیے اے بے ثبات
خشک ہو جا خاک ہو کر خاک میں مل جا فرات
خاک تجھ پر دیکھ تو سوکھی زبان اہل بیت
کربلا میں ہر طرف سے ظالموں کا گھیر ہے
ہاتھوں میں تلوار خنجر اور دلوں میں بیر ہے
سینکڑوں کتوں کی جھرمٹ میں اکیلا شیر ہے
کس شقی کی ہے حکومت ہائے کیا اندھیر ہے
دن دہاڑے لٹ رہا ہے کاروان اہل بیت
چار جانب سے ہزاروں گھات میں خونخوار ہیں
تیغ و شمشیر و سناں کے زخم سے دو چار ہیں
خون سے رنگین کپڑے خوبرو رخسار ہیں
خاک پر عباس و عثمانِ علمبردار ہیں
بے کسی اب کون اٹھائے گا نشان اہل بیت
حامیان شمر و خولی کے لیے آداب ہوں
ہوں یزیدی بھیڑیے یا پھر ترے احباب ہوں
پیڑ پودے کشت ویراں جھاڑیاں شاداب ہوں
تیری قدرت جانور تک آب سے سیراب ہوں
پیاس کی شدت میں تڑپے بے زبان اہل بیت
رزم گاہ کربلا میں لڑتے لڑتے بے خطر
فی سبیل اللہ لٹا کے مال و جاں قلب و جگر
تیر کھا کر سر کٹا کر خوں سے ہو کر تر بتر
قافلہ سالار منزل کو چلے ہیں سونپ کر
وارث بے وارثاں کو کاروان اہل بیت
بہر استقبال آئی حورِ جنت زار ہے
منتظر کوثر پہ نانا احمدِ مختار ہے
روح اب تن سے نکل کر جانے کو تیار ہے
فاطمہ کے لاڈلے کا آخری دیدار ہے
حشر کا ہنگامہ برپا ہے میان اہل بیت
جا رہا ہے چھوڑ کر بے آب و دانہ ہی سُبھاگ
بج رہا ہے آسماں میں رنجش و کلفت کا راگ
یہ نظارہ دیکھ کر غم کو لگی ہے غم کی آگ
وقت رخصت کہہ رہا ہے خاک میں ملتا سہاگ
لو سلام آخری اے بیوگان اہل بیت
خط پہ خط لکھ کر جسے ارضِ مدینہ سے بلائے
جس کی کرنوں سے بھٹکتے لوگ اپنی راہ پائے
یہ کبھی سوچا نہ تھا شامِ سیہ سے قبل ہائے
ابر فوج دشمناں میں اے فلک یوں ڈوب جائے
فاطمہ کا چاند مِہر آسمان اہل بیت
پینے کو تیار ہیں سب جذبۂ ایثار میں
کیا نشہ رکھا ہے جام خنجر و تلوار میں
اک عجب سی ہے حلاوت ملتی ہر ہر وار میں
کس مزے کی لذتیں ہیں آب تیغ یار میں
خاک و خوں میں لوٹتے ہیں تشنگان اہل بیت
دیکھ کر خونریز عالم آسماں ہے رو رہا
یوم عاشورا کو یہ کیسا ہوا ہے معرکہ
جمْع کرنے قطرۂ خوں سر زمینِ کربلا
باغ جنت چھوڑ کر آئے ہیں محبوب خدا
اے زہے قسمت تمہاری کشتگان اہل بیت
سر زمینِ کربلا میں مرحبا بولے ہوئے
شربتِ دیدار اپنی آنکھوں میں گھولے ہوئے
بار تکلیف و مصائب پیٹھ پر تولے ہوئے
حوریں بے پردہ نکل آئیں ہیں سر کھولے ہوئے
آج کیسا حشر برپا ہے میان اہل بیت
بے وطن بے آب و دانہ ہائے کیسی بے بسی
شہر بانو حضرت زینب سکینہ ہیں دکھی
سانس چلتی رک رہی ہے عابد بیمار کی
کوئی کیوں پوچھے کسی کو کیا غرض اے بیکسی
آج کیسا ہے مریضِ نیم جانِ اہل بیت
اس وفا کی داستاں کی کیا کوئی تمثیل لائے
سہ گیا جور و جفا سب کیسے کیسے ہائے ہائے
تین دن تک بھوکا پیاسا رہ کے تیرِ ظلم کھائے
گھر لٹانا جان دینا کوئی تجھ سے سیکھ جائے
جان عالم ہو فدا اے خاندان اہل بیت
توڑ کر زنجیر زنداں اور سارے قید و بند
لگ رہا ہے آسماں پر ڈال رکھے ہیں کمند
دیکھ کر حیرت میں ہے اعزاز ان کا شر پسند
سر شہیدان محبت کے ہیں نیزوں پر بلند
اور اونچی کی خدا نے قدر و شان اہل بیت
اے یزیدی در حقیقت ہے یہی فتح و ظفر
مرد حق آگاہ شیرِ مرتضی شیر ببر
دولتیں ساری لٹا کر راہِ شاہِ دین پر
دولت دیدار پائی پاک جانیں بیچ کر
کربلا میں خوب ہی چمکی دوکان اہل بیت
جو کوئی بھی کر نہ پایا آج تم نے وہ کیا
دیکھ کر افلاک پر شمس و قمر شرما گیا
لا کے دسترخوان پر سیف و سناں خنجر رکھا
زخم کھانے کو تو آب تیغ پینے کو دیا
خوب دعوت کی بلا کر دشمنان اہل بیت
ان کو اپنے ساتھ لے کر حضرت شبَّر گئے
کونسے وہ راستے ہیں کونسا وہ در گئے
کوئی پوچھے کیا بتائیں کس طرف بے گھر گئے
اپنا سودا بیچ کر بازار سونا کر گئے
کون سی بستی بسائی تاجرانِ اہل بیت
کیا بگاڑی ہیں تمہارا نیک سیرت ہستیاں
کیا نہیں سنتے ہو ان کی سرد آہیں، سسکیاں
ڈالتے ہو کس طرح سے ان کے ہاتھوں بیڑیاں
اہل بیت پاک سے گستاخیاں بے باکیاں
لعنۃ اللہ علیکم دشمنان اہل بیت
چار دن کی چاندنی ہے اور یہ رعنائیاں
پھر تمہارے واسطے ہیں نار کی تاریکیاں
حشر میں ہوگی تمہاری ہر طرف رسوائیاں
اہل بیت پاک سے گستاخیاں بے باکیاں
لعنۃ اللہ علیکم دشمنان اہل بیت
با ادب، دم بستہ، ہو کے محوِ عشقِ پنجتن
بے سند کوئی روایت اور نہ آثار و سنن
اے جسیم قادری اے واصف شاہ زمن
بے ادب گستاخ فرقے کو سنا دے اے حسن
یوں کہا کرتے ہیں سنی داستان اہل بیت
از: محمد جسیم اکرم مرکزی
رابطہ:9523788434