شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت اسلام کی پہلی بادشاہت
شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت اسلام کی پہلی بادشاہت اور نبی ﷺ کے نور ہدایت پر مشتمل تھی!
بعض لوگ خلافت منہاج علی نبوہ جو کہ خلفائے راشدین کی بشمول امام حسن مجتبی کی ایسی فضیلت ہے کہ اسلام میں ان 5 اشخاص کی خلافت اسلامی قوانین کے تحت اہل حل و عقد کی رائے سے وجود میں آئی اور یہی خلافتیں اسلام کے لیے نمونہ تھیں۔
اسکے بعد حضرت معاویہ کی حکومت و بادشاہت کو اسلام و شریعت کے خلاف باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں
ایک ایسی خبر واحد کی بنیاد پر جسکی سند حسن درجہ سے زیادہ نہیں۔
اور اس میں بھی مذکورہ الفاظ جس میں ملوکیت کو کاٹ کھانے والا متن ہے وہ بھی منکر اور راوی کا وھم ہے۔
جبکہ اسکے مقابل متعدد اخبار صحیحیہ سے ملوکیت جسکی بنیاد شام میں رکھی گئی نبی اکرم نے اسکو اپنا نور اور اللہ کی کتاب میں اسکو اللہ کی حکومت بیان کیا گیا ہے۔
اس لیے اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
حضرت امیر معاویہ تو اول ملوك اسلام اور سلطنتِ محمدیہ کے پہلے بادشاہ ہیں اسی کی طرف تو راۃ مقدس میں اشارہ ہے کہ:
مولدہ بمّکۃ ومھاجرہ طیبۃ ومَلکہ بالشام۔
وہ نبی آخر الزماں صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوگا اور مدینہ کو ہجرت فرمائے گا اور اس کی سلطنت شام میں ہوگی۔
پھر اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
تو امیر معاویہ کی بادشاہی اگرچہ سلطنت ہے،مگر کس کی ؟ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی
[فتاوی رضویہ ج 29، ص 359]
اسی طرح امام ابن حجر مکی ہیثمی علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں:
ﻗﺎﻝ ﻛﻌﺐ اﻷﺣﺒﺎﺭ ﻟﻢ ﻳﻤﻠﻚ ﺃﺣﺪ ﻫﺬﻩ اﻷﻣﺔ ﻣﺎ ﻣﻠﻚ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ
کعب الاحبار نے فرمایا اس امت میں کسی نے اتنی حکمرانی نہیں جتنی (حضرت) معاویہؓ کی یے
اس روایت پر امام ذھبی کا تبصرہ نقل کرتے ہیں پھر:
ﻗﺎﻝ اﻟﺬﻫﺒﻲ ﺗﻮﻓﻲ ﻛﻌﺐ ﻗﺒﻞ ﺃﻥ ﻳﺴﺘﺨﻠﻒ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻭﺻﺪﻕ ﻛﻌﺐ ﻓﻴﻤﺎ ﻧﻘﻠﻪ ﻓﺈﻥ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺑﻘﻲ ﺧﻠﻴﻔﺔ ﻋﺸﺮﻳﻦ ﺳﻨﺔ ﻻ ﻳﻨﺎﺯﻋﻪ ﺃﺣﺪ اﻷﻣﺮ ﻓﻲ اﻷﺭﺽ ﺑﺨﻼﻑ ﻏﻴﺮﻩ ﻣﻤﻦ ﺑﻌﺪﻩ ﻓﺈﻧﻪ ﻛﺎﻥ ﻟﻬﻢ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﻭﺧﺮﺝ ﻋﻦ ﺃﻣﺮﻫﻢ ﺑﻌﺾ اﻟﻤﻤﺎﻟﻚ
اﻧﺘﻬﻰ
امام ذہبیؒ فرماتے ہیں کعب کا انتقال حضرت معاویہؓ کے خلیفہ بننے سے پہلے ہی ہو گیا تھا، اور کعب نے جو بات نقل کی وہ سچی ثابت ہوئی، کیونکہ حضرت معاویہؓ بیس سال تک اس شان سے خلیفہ رہے کہ زمین پر کوئی ان سے اقتدار کا جھگڑا کرنے والا نہ تھا (یعنی پوری مملکت پر ان کی مکمل گرفت تھی)۔ ان کے برعکس ان کے بعد آنے والے حکمرانوں کا معاملہ مختلف رہا، کیونکہ ان کے مخالفین موجود تھے اور کچھ علاقے ان کی قلمرو سے نکل گئے تھے۔
اسکے بعد امام ابن حجر مکی کعب الاحبار کے قول کے سچ ہونے کی خبر کی نسبت اللہ کی طرف فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
ﻭﻓﻲ ﺇﺧﺒﺎﺭ ﻛﻌﺐ ﺑﺬﻟﻚ ﻗﺒﻞ اﺳﺘﺨﻼﻑ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﺩﻟﻴﻞ ﻋﻠﻰ ﺃﻥ ﺧﻼﻓﺘﻪ ﻣﻨﺼﻮﺹ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻓﻲ ﺑﻌﺾ ﻛﺘﺐ اﻟﻠﻪ اﻟﻤﻨﺰﻟﺔ ﻓﺈﻥ ﻛﻌﺒﺎ ﻛﺎﻥ ﺣﺒﺮﻫﺎ ﻓﻠﻪ ﻣﻦ اﻻﻃﻼﻉ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻭاﻹﺣﺎﻃﺔ ﺑﺄﺣﻜﺎﻣﻬﺎ ﻣﺎ ﻓﺎﻕ ﺳﺎﺋﺮ ﺃﺣﺒﺎﺭ ﺃﻫﻞ اﻟﻜﺘﺎﺏ ﻭﻓﻲ ﻫﺬا ﻣﻦ اﻟﺘﻘﻮﻳﺔ ﻟﺸﺮﻑ ﻣﻌﺎﻭﻳﺔ ﻭﺣﻘﻴﺔ ﺧﻼﻓﺘﻪ ﺑﻌﺪ ﻧﺰﻭﻝ اﻟﺤﺴﻦ ﻟﻪ ﻣﺎ ﻻ ﻳﺨﻔﻰ ﻭﻛﺎﻥ ﻧﺰﻭﻟﻪ ﻟﻪ ﻋﻨﻬﺎ ﻭاﺳﺘﻘﺮاﺭﻩ ﻓﻴﻬﺎ ﻣﻦ ﺭﺑﻴﻊ اﻵﺧﺮ ﺃﻭﺟﻤﺎﺩﻯ اﻷﻭﻟﻰ ﺳﻨﺔ ﺇﺣﺪﻯ ﻭﺃﺭﺑﻌﻴﻦ ﻓﺴﻤﻲ ﻫﺬا اﻟﻌﺎﻡ ﻋﺎﻡ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻻﺟﺘﻤﺎﻉ اﻷﻣﺔ ﻓﻴﻪ ﻋﻠﻰ ﺧﻠﻴﻔﺔ ﻭاﺣﺪ
حضرت معاویہؓ کی خلافت سے پہلے کعب الاحبار کی اس پیشگوئی میں اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی خلافت کا تذکرہ اللہ کی نازل کردہ بعض سابقہ کتابوں میں موجود تھا۔ کیونکہ کعب ان کتابوں کے بڑے عالم (حبر) تھے اور انہیں ان کے احکامات اور مندرجات پر دیگر علمائے اہل کتاب کے مقابلے میں غیر معمولی دسترس حاصل تھی۔ اس بات میں حضرت معاویہؓ کی فضیلت اور حضرت حسنؓ کی دستبرداری کے بعد ان کی خلافت کے برحق ہونے کی ایسی تائید موجود ہے جو کسی سے چھپی نہیں ہے۔
حضرت حسنؓ کا ان کے حق میں خلافت سے دستبردار ہونا اور حضرت معاویہؓ کا اس منصب پر متمکن ہونا ربیع الآخر یا جمادی الاول ۴۱ ہجری میں ہوا، اور اسی وجہ سے اس سال کو “عام الجماعت” (اتحاد کا سال) کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں پوری امت ایک خلیفہ پر متحد ہو گئی تھی
[الصواعق المحرقة]
کعب الاحبار سے یہ روایت متعدد اسناد صحیحیہ سے آتی ہے:
أخبرنا الحسن بن الربيع، حدثنا أبو الأحوص، عن الأعمش، عن أبي صالح قال: قال كعب: ” نجده مكتوبا: محمد رسول الله صلى الله عليه وسلم لا فظا ولا غليظا، ولا صخابا بالأسواق، ولا يجزي بالسيئة السيئة، ولكن يعفو ويغفر، وأمته الحمادون يكبرون الله عز وجل على كل نجد، ويحمدونه في كل منزلة، يتأزرون على أنصافهم، ويتوضئون على أطرافهم، مناديهم ينادي في جو السماء، صفهم في القتال، وصفهم في الصلاة سواء، لهم بالليل دوي كدوي النحل
” مولده بمكة، ومهاجره بطيبة، وملكه بالشام “
امام ابو صالح کہتے ہیں کعب الاحبار نے کہا:
ہم یہ لکھا ہوا پاتے ہیں: محمد رسول اللہ ﷺ، نہ سخت کلام کرنے والے ہیں، نہ سخت دل، اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ معاف کرتے ہیں اور درگزر کرتے ہیں۔
ان کی امت بہت زیادہ اللہ کی حمد کرنے والی ہے، جو ہر بلند مقام پر اللہ عز وجل کی تکبیر کہتی ہے اور ہر منزل پر اس کی حمد کرتی ہے۔ وہ اپنی کمر کو نصف حصہ تک کپڑوں سے ڈھانپتے ہیں اور اپنے اعضائے وضو کو اچھی طرح دھوتے ہیں۔
ان کا مؤذن آسمان کی گہرائیوں میں آواز دیتا ہے۔ ان کی صفیں قتال میں اور نماز میں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ رات کے وقت ان کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی مانند ہوتی ہے۔
“ان کی پیدائش مکہ میں ہوگی، ہجرت مدینہ (طیبہ) کی طرف ہوگی، اور ان کی بادشاہت شام میں ہوگی۔”
[ : مسند الدارمي برقم: 5، وسندہ صحیح الی کعب]
نیز اسکی دوسری سند مروی ہے:
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺧﻠﻒ ﺑﻦ اﻟﻮﻟﻴﺪ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ ﺑﻦ ﺯﻛﺮﻳﺎ، ﻋﻦ اﻟﻌﻼء ﺑﻦ اﻟﻤﺴﻴﺐ، ﻭﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ ﺑﻦ ﻣﻴﻤﻮﻥ، ﻛﻼﻫﻤﺎ ﻋﻦ اﻟﻤﺴﻴﺐ ﺑﻦ ﺭاﻓﻊ، ﻋﻦ ﻛﻌﺐ ﻗﺎﻝ: ﻗﺎﻝ اﻟﻠﻪ: «ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﻱ اﻟﻤﺘﻮﻛﻞ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ، ﻟﻴﺲ ﺑﻔﻆ ﻭﻻ ﻏﻠﻴﻆ، ﻭﻻ ﺻﺨﺎﺏ ﻓﻲ اﻷﺳﻮاﻕ، ﻭﻻ ﻳﺠﺰﻱ ﺑﺎﻟﺴﻴﺌﺔ اﻟﺴﻴﺌﺔ، ﻭﻟﻜﻦ ﻳﻌﻔﻮ ﻭﻳﻐﻔﺮ، ﻣﻮﻟﺪﻩ ﻣﻜﺔ، ﻭﻫﺠﺮﺗﻪ ﻃﺎﺑﺔ، ﻭﻣﻠﻜﻪ ﺑﺎﻟﺸﺎﻡ، ﻭﺃﻣﺘﻪ اﻟﺤﻤﺎﺩﻭﻥ؛ ﻳﺤﻤﺪﻭﻥ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻰ ﻛﻞ ﻧﺠﺪ»
کعب الاحبار سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے (سابقہ کتب میں) فرمایا:
محمد ﷺ میرے بندے، توکل کرنے والے اور چنے ہوئے (برگزیدہ) ہیں۔ وہ نہ تو بد زبان ہیں اور نہ ہی سخت دل، اور نہ ہی بازاروں میں شور مچانے والے ہیں۔ وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے، بلکہ معاف کر دیتے اور درگزر فرماتے ہیں۔ ان کی جائے پیدائش مکہ ہے، ان کی ہجرت گاہ ‘طابہ’ (مدینہ منورہ) ہے، اور
ان کی سلطنت شام میں ہوگی۔
ان کی امت بہت زیادہ حمد کرنے والی ہوگی؛ جو ہر بلندی (اور ہر حال) میں اللہ کی حمد بیان کریں گے۔
[تاريخ المدينة لابن شبة وسندہ حسن]
نیز ایک مرفوع روایت اسکی شاھد کے طور پر بھی موجود یے:
ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻮ اﻟﻌﺒﺎﺱ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻳﻌﻘﻮﺏ، ﺛﻨﺎ ﺃﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﺠﺒﺎﺭ، ﺛﻨﺎ ﻳﻮﻧﺲ ﺑﻦ ﺑﻜﻴﺮ، ﻋﻦ اﺑﻦ ﺇﺳﺤﺎﻕ، ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﻲ ﺛﻮﺭ ﺑﻦ ﻳﺰﻳﺪ، ﻋﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪاﻥ، ﻋﻦ ﺃﺻﺤﺎﺏ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ، ﺃﻧﻬﻢ ﻗﺎﻟﻮا: ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ، ﺃﺧﺒﺮﻧﺎ ﻋﻦ ﻧﻔﺴﻚ، ﻓﻘﺎﻝ: «§ﺩﻋﻮﺓ ﺃﺑﻲ ﺇﺑﺮاﻫﻴﻢ، ﻭﺑﺸﺮﻯ ﻋﻴﺴﻰ، ﻭﺭﺃﺕ ﺃﻣﻲ ﺣﻴﻦ ﺣﻤﻠﺖ ﺑﻲ ﺃﻧﻪ ﺧﺮﺝ ﻣﻦﻫﺎ ﻧﻮﺭ ﺃﺿﺎءﺕ ﻟﻪ ﺑﺼﺮﻯ ﻭﺑﺼﺮﻯ ﻣﻦ ﺃﺭﺽ اﻟﺸﺎﻡ»
ﻗﺎﻝ اﻟﺤﺎﻛﻢ: «ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻣﻌﺪاﻥ ﻣﻦ ﺧﻴﺎﺭ اﻟﺘﺎﺑﻌﻴﻦ، ﺻﺤﺐ ﻣﻌﺎﺫ ﺑﻦ ﺟﺒﻞ ﻓﻣﻦ ﺑﻌﺪﻩ ﻣﻦ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻓﺈﺫا ﺃﺳﻨﺪ ﺣﺪﻳﺜﺎ ﺇﻟﻰ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ ﻓﺈﻧﻪ ﺻﺤﻴﺢ اﻹﺳﻨﺎﺩ ﻭﻟﻢ ﻳﺨﺮﺟﺎﻩ» – ﺻﺤﻴﺢ
خالد بن معدان سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرامؓ سے روایت کی کہ:
صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں اپنی ذاتِ مبارکہ کے بارے میں (کچھ) بتائیے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا میں اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا ہوں، عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت ہوں، اور میری والدہ نے میرے حمل کے دوران دیکھا تھا کہ ان سے ایک ایسا نور نکلا جس سے (شام کا شہر) بصریٰ روشن ہو گیا، اور بصریٰ ملکِ شام کی سرزمین میں واقع ہے
محدث حاکم کہتے ہیں:
خالد بن معدان بہترین تابعین میں سے ہیں، انہوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد دیگر صحابہ کرام کی صحبت اختیار کی۔ لہٰذا جب وہ کوئی حدیث (براہِ راست) صحابہ کرام کی طرف منسوب کر کے بیان کریں تو اس کی سند صحیح ہوتی ہے، اگرچہ اسے بخاری و مسلم (شیخین) نے اپنی کتب میں درج نہیں کیا۔
امام ذھبی نے بھی روایت کو صحیح قرار دیا تلخیص میں.
امام ابن کثیر اس روایت کے تعلق کہتے ہیں:: «هذا إسناد جيد قوي»
[البدائیہ]
امام ہیثمی اس روایت کے بارے کہتے ہیں:
«إسناده حسن وله شواهد تقويه»، فالصحيح لو قال: حديث حسن له شواهد تقويه.
[مجمع الزوائد]
نبی اکرمﷺ کا اپنے نور کی نسبت شام کی طرف فرمانا۔
اور
سابقہ کتب میں اللہ کا شام ہر حکومت کی نسبت کو حضور اکرمﷺ کی حکومت قرار دینا اس میں حضرت معاویہ کی فضیلت جزوی ہے
کما قال ابن حجر!
لیکن ایک منکر روایت کی بنیاد پر عظیم صلح کے احسن عمل پر جرح کرنا اور اس امن پر مشتمل طویل حکومت کو خلاف اسلام بنا کر بتانا اہلسنت کا شیوہ نہیں۔
تحریر: اسد الطحاوی ✍️