سعودی عرب میں ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ اور اقامہ کے حقائق
سعودی عرب میں ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ اور اقامہ کے حقائق
از: افتخار الحسن رضوی
آج کل سوشل میڈیا (بالخصوص ٹک ٹاک) پر ایسے ایجنٹس کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جو سادہ لوح لوگوں کو یہ کہہ کر ورغلا رہے ہیں کہ سعودی عرب میں کچھ سرمایہ کاری کر کے آپ جائیداد کے مالک بن سکتے ہیں اور آپ کو فوری طور پر “پریمیم ریزیڈنسی” یا طویل مدتی اقامہ مل جائے گا۔
کسی بھی ایجنٹ کے جھانسے میں آنے سے پہلے درج ذیل حقائق اچھی طرح سمجھ لیں:
1. جائیداد کی خریداری اور اقامہ کا تعلق
صرف پراپرٹی خریدنے سے آپ کو “آٹومیٹک” اقامہ نہیں ملتا۔ عام حالات میں اقامہ حاصل کرنے کے لیے کسی سعودی کفیل یا کمپنی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اقامہ یا قانونی حیثیت حاصل کرنے کے بعد ہی آپ کو مخصوص شرائط کے ساتھ پراپرٹی خریدنے کی اجازت ملتی ہے۔
2. پریمیم ریزیڈنسی (Real Estate Owner) کی اصل شرط
اگر آپ جائیداد کی بنیاد پر پریمیم ریزیڈنسی لینا چاہتے ہیں، تو اس کی سرکاری شرائط یہ ہیں:
ریئل اسٹیٹ کی مالیت کم از کم 4 ملین (40 لاکھ) سعودی ریال ہونی چاہیے۔
پراپرٹی کسی بھی قسم کے قرض (Mortgage) پر نہ ہو بلکہ اس کی پوری رقم ادا شدہ ہو۔
یہ جائیداد کمرشل نہیں بلکہ رہائشی (Residential) ہونی چاہیے۔ کمرشل جائیداد کے لیے آپ اپنے نام پر نہیں بلکہ کسی کمپنی کے نام پر ہی خرید سکتے ہیں۔
جائیداد کی باقاعدہ سرکاری جانچ (Evaluation) ضروری ہے۔
3. انویسٹر اقامہ کی شرط
اگر آپ بطور “سرمایہ کار” (Investor) پریمیم ریزیڈنسی حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو اس کے لیے براہِ راست سرمایہ کاری کی حد 7 ملین (70 لاکھ) سعودی ریال تک جا سکتی ہے، جس میں تجارتی لائسنس اور دیگر قانونی تقاضے شامل ہیں۔
4. مخصوص زونز کی پابندی
غیر ملکیوں کے لیے ہر جگہ جائیداد خریدنا ممکن نہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مخصوص علاقوں میں غیر ملکیوں کے لیے جائیداد کی ملکیت کے قوانین بہت سخت اور مختلف ہیں۔
📢 ہماری گزارش:
ٹک ٹاک ویڈیوز کی چکا چوند ، ویڈیوز بنانے والوں کی چِکنی چُپڑی باتوں اور ان کے تقابل وغیرہ کا اعتبار نہ کریں۔ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر نہ لگائیں۔ ایجنٹس کے بجائے صرف سعودی حکومت کے آفیشل پورٹلز سے معلومات لیں۔ پریمئم ریزیڈنسی کا سرکاری پورٹل پہلے کمنٹ میں موجود ہے۔
افتخار الحسن رضوی