حضرت مولا علی کی طرف منسوب صدیق اکبر لقب کی روایات کی حقیقت
حضرت مولا علی کی طرف منسوب صدیق اکبر لقب کی روایات کی حقیقت!
تمہید:
حضرت مولا علی رضی اللہ جنکی شان ایسی ہے کہ وہ ہستی اس بات کی محتاج نہیں کہ دیگر صحابہ کے فضائل و کمالات حضرت علی رضی اللہ کے لیے گھڑے جائیں!
لیکن کوفیوں نے اسکے باوجود حضرت مولا علی رضی اللہ کے لیے ایسے ایسے فضائل گھڑے اور انکی شان میں وہ وہ غلو کیاکہ وہ روایات بجائے حضرت مولا علی رضی اللہ کی فضیلت کی بجائے انکے شخصیت و تقویٰ کے برخلاف ہوتی تھیں۔ کیونکہ روافض واھی متن پرمشتمل ایسی ایسی روایات گھڑتے تھے جنکو محدثین متن کے ساتھ پہچان جاتے تھے ۔ تو محدثین نے ان روایات کے کذب کو واضح کیا اور جھوٹے بدعتی رواتہ کی نشاندہی بھی کی!!!
اس لیے امام ابن الجوزی فرماتے ہیں :
فضائل علي الصحيحة كثيرة غير أن الرافضة لم تقنع فوضعت له ما يضع لا ما يرفع وحوشيت حاشيته من الاحتياج إلى الباطل
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صحیح فضائل بہت زیادہ ہیں، مگر روافض اس پر مطمئن نہ ہوئے، تو انہوں نے ان کے لیے ایسی چیزیں وضع کیں جو ان کی شان کو گرانے والی بن گئیں، نہ کہ بلند کرنے والی۔ حالانکہ ان کی ذات ہر قسم کے باطل (من گھڑت قصوں) کی محتاجی سے پاک و بے نیاز تھی
[الموضوعات ابن الجوزی ص 338]
اور آج اہلسنت جب ایسی روایات کی حقیقت بیان کرتی ہے تو اہلسنت پر بدعتی ٹولہ بغض اہلبیت کا الزام دھر دیتے ہیں۔ یعنی یہ مولا علی رضی اللہ کی طرف جھوٹ منسوب کرتے جائیں وہ گستاخی نہیں لیکن اس جھوٹ کو دلائل سے اہلسنت ثابت کر دے تو وہ ناسبیت بن جاتی ہے۔۔
اب ہم پیش کرینگے کہ ائمہ اہلسنت و سلف کا ایسی روایات کے تعلق سے کیا رویہ تھا؟
کوفہ میں جب حضرت مولا علی رضی اللہ کے تعلق سے روایات کو گھڑنے کا بازار سرگرم تھا
تو ہمارے اقابرین کا عمل درج ذیل تھا۔
امیر المومنین امام سفیان الثوری علیہ الرحمہ کا عمل اس پر معروف ہے۔
چناچہ امام ذھبی علیہ الرحمہ انکا ایک قول نقل کرتے ہیں۔:
ﻣﺆﻣﻞ ﺑﻦ ﺇﺳﻤﺎﻋﻴﻞ: ﻋﻦ ﺳﻔﻴﺎﻥ، ﻗﺎﻝ:
ﺗﺮﻛﺘﻨﻲ اﻟﺮﻭاﻓﺾ ﻭﺃﻧﺎ ﺃﺑﻐﺾ ﺃﻥ ﺃﺫﻛﺮ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﻋﻠﻲ
ﻣﻨﻌﺘﻨﺎ اﻟﺸﻴﻌﺔ ﺃﻥ ﻧﺬﻛﺮ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﻋﻠﻲ “.
مؤمل بن اسماعیل، سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:
روافض (اہلِ تشیع کے ایک گروہ) نے مجھے اس حال میں چھوڑا ہے کہ اب میں علی رضی اللہ عنہ کے فضائل بیان کرنا ناپسند کرتا ہوں۔ شیعوں نے (کثرت سے جھوٹ روایت کرنے کے سبب) ہمیں حضرت علی کے فضائل ذکر کرنے سے روک دیا ہے۔
[سیر اعلام النبلاء]
سید التابعین امام ابن سیرین کا عمل!!!
امام شعبہ علیہ الرحمہ بیان کرتے ہیں:
حدثنا عبد الله حدثنا علي حدثنا شعبة عن أيوب، قال: كان ابن سيرين يرى أن عامة ما يروون عن علي باطل…
:
امام ابن سيرين فرماتے ہیں کہ عمومی طور پر جو حضرت على سے منسوب کرده بیان کیا جاتا ہے وہ سب باطل ہے
[الكامل في ضعفاء الرجال جلد ۲، ص ۴۵۱ وسند صحیح]
نوٹ:
امت رسولﷺ میں سب سے بہترین دور صحابہ اور پھر تابعین کا شمار ہوتا ہے۔ لیکن رفض کا فتنہ ایسا تھا کہ اس نے صحابہ کے آخری ادوار میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔
اور خیر القرون میں جب کچھ صحابہ کرام زندہ تھے اور کبیر تابعین کا اول دور تھا ۔ انکے زمانے میں حضرت علی رضی اللہ پر اتنا جھوٹ پھیلاجا چکا تھا۔
تو اندازہ لگائیں کہ اسکے بعد کے دور میں حضرت علی رضی اللہ کی شان میں کتنا کچھ گڑھا گیا ہے ۔
کبیر تابعی 500 صحابہ کے شاگرد رشید امام شعبی :
أنا عبد الرحمن بن أحمد، قال: أنا محمد بن جعفر، قال: نا علي بن حرب، قال: نا أبو معاوية، قال: نا مالك بن مغول، عن الشعبي، قال: لو شئت أن يملأوا هذا البيت ذهبا وفضة على أن أكذب لهم على علي لفعلوا , وكان يقول: لو كانت الشيعة من الطير لكانوا رخما، ولو كانوا من الدواب لكانوا حمرا
امام شعبی فرماتے: اگر میں چاہتا تو وہ (روافض ) میرے اس گھر کو سونے اور چاندی سے بھر دیتے، اس شرط پر کہ میں ان کے لیے حضرت علی پر جھوٹ باندھوں، لیکن میں نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ (یعنی جھوٹے فضائل گڑھوں)
اور وہ کہا کرتے تھے اگر شیعہ پرندوں میں سے ہوتے تو رخم (بدبودار گدھ) ہوتے، اور اگر چوپایوں میں سے ہوتے تو گدھے ہوتے۔
[شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة، سند ہ حسن]
حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز البغوي، حدثنا علي بن الجعد أخبرني أبو يوسف القاضي عن حصين عن الشعبي قال: ما كذب على أحد من هذه الأمة ما كذب على علي
امام شعبی فرماتے ہیں
اس امت میں کسی ایک پر بھی اتنا جھوٹ نہیں گھڑ ا گیا جتنا حضرت علی ؓ پر گھڑا گیا ہے
[الکامل سند صحیح]
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اہلسنت کے نزدیک مولا علی رضی اللہ کے فضائل جزویات تو سب سے زیادہ ہیں۔
لیکن پھر بھی رفض و غالی لوگوں کو کیا ضرورت پیش آئی کہ وہ مولا علی رضی اللہ کے جھوٹے فضائل گڑھیں؟
یہاں یہ نکتہ زہن نشین رہے کہ حضرت علی رضی اللہ ہی واحد صحابی ہیں جنکی طرف منسوب جھوٹی روایات بھی سب سے زیادہ ہیں اسکا سبب انکی ذات کے حوالے سے رفض کا غلو تھا۔
جیسا کہ امام علقمہ جو کوفہ کی مشہور علمی ہستی تھے اور حضرت ابن مسعود کے تلامذہ میں سے ہیں انکی گواہی اہمیت کی حامل ہے ۔
مجتہد فقیہ تابعی حضرت علقمہ رضی اللہ کا کوفیوں کے حوالے سے حضرت علی رضی اللہ کے غلو کے بارے فرمان!
جیسا کہ آپ سے امام شعبی کبیر تابعی روایت کرتےہیں:
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعِ بْنِ رَاشِدٍ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ: «لَقَدْ صَنَعَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ فِي عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَمَا صَنَعَتِ النَّصَارَى فِي عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ»
امام شعبی روایت کرتے ہیں امام علقمہ سے وہ کہتے ہیں:
اس امت نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہی کیا جو نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کیا۔ (غلو پر مبنی جھوٹی روایات کے زریعہ)
[کتاب السنہ وسند صحیح ]
نوٹ: سند میں ہشیم معنن روایت کر رہا ہے کثیر التدلیس ہے ۔ اس نے سماع کی تصریح پیش کی ہوئی ہے
حَدَّثَنا عَبْد الله بن مطيع، قال: حدثنا هُشَيْم، قال: أخبرنا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيّ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَة: لَقَدْ صَنَعَتْ هَذِهِ الأُمَّةُ فِي عليٍّ كَمَا صنعت النصار
[کتاب التاریخ ابن ابی خیثمہ وسندہ صحیح]
معلوم ہوا کہ یہ اسلاف کا طریقہ شروع سے چلا آرہا ہے کہ ائمہ اہلسنت نہ صرف یہ تصریح کی ہے کہ مولا علی رضی اللہ پر نا صرف کثرت سے جھوٹ گھڑا گیا۔ بلکہ اسکی حقیقت بتانا بھی واجب تھا انکے نزدیک
یہی وجہ ہے کہ امام خلیلی فرماتے ہیں:
ﻗﺎﻝ ﺑﻌﺾ اﻟﺤﻔﺎﻅ: ﺗﺄﻣﻠﺖ ﻣﺎ ﻭﺿﻌﻪ ﺃﻫﻞ اﻟﻜﻮﻓﺔ ﻓﻲ ﻓﻀﺎﺋﻞ ﻋﻠﻲ ﻭﺃﻫﻞ ﺑﻴﺘﻪ ﻓﺰاﺩ ﻋﻠﻰ ﺛﻼﺛﻤﺎﺋﺔ ﺃﻟﻒ
بعض حفاظِ حدیث نے فرمایا ہے میں نے ان روایات کا جائزہ لیا جو کوفیوں (روافض) نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل بیت کے فضائل میں گھڑی ہیں تو وہ تین لاکھ (300,000) سے بھی تجاوز کر گئیں۔’
[الارشاد خلیلی]
یعنی امام خلیلی کے دور تک مولا علی کی شان میں جھوٹی روایات تین لاکھ تھیں اتنی تو نبی اکرمﷺ کی مطلقا روایات کا مجموعہ نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک غلط فہمی کا اضالہ
چونکہ مخالفین جانتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ کی طرف منسوب انکا صدیق اکبر کا یہ قول کسی بھی صحیح کیا حسن لغیرہ کی شرائط پر بھی ثابت نہیں۔
اور نہ ہی اس قول کی کوئی سند ضعیف کثیر سے خالی ہے ۔ بلکہ تمام روایات شدید ضعف اور متروک درجہ کی ہیں کہ ان روایات کا موضوع ہونا معلوم ہے !
اور اسی وجہ سے یہ قول اعلی حضرت کے اصول بھی موضوع ہے ۔
جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:
جو (سند) کذب اور تہمت کی وجہ سے شدید ضعف والی ہوتو بیشمار کثرتِ کے باوجود وہ مقبولیت کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتی اور نہ ہی فضائل میں قابلِ عمل ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے ہر طریق میں کوئی نہ کوئی کذاب اور مہتم ضرور ہوتا ہے۔
[فتاویٰ رضویہ]
ضعیف روایات کو قبول کرنے کا راجح موقف:
ائمہ اہلسنت نے یہ بات واضح کی ہے کہ ایسی ضعیف روایات جو ضعف کثیر پر مشتمل ہوں وہ ایک دوسرے کو تقویت نہیں دے سکتی ہیں
یعنی
ضعیف جدا راوی یا ایسے رواتہ پر مشتمل سند تقویت دینے کے قابل نہیں ہوتی ہے ۔
اور اسی طرح کثیر ضعف والی روایات ایک متن پر جمع ہو جاتی جائیں تو وہ روایت کو تقویت نہیں بلکہ روایت کے ضعف میں شدید اضافہ کا سبب بنتی ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب آتے ہیں مولا علی رضی اللہ کی طرف اس جھوٹ منسوب کرنے کی طرف جس میں حضرت علی طرف انکی زبانی صدیق اکبر و فاروق کی نسبت کا جھوٹ گھڑا گیا۔ یہ کلام نہ ہی مولا علی رضی اللہ جیسی تقوی و پرہیزگار شخصیت کے نہ شان لائق ہے۔ اور نہ ہی انکی طرف اس جھوٹ کی نسبت کی کوئی گنجائش ہے!
سب سے پہلے روایات کا تحقیقی جائزہ پیش کرونگا پھر ائمہ کی تصریحات نقل کرونگا۔
پہلی روایت جو معجم الکبیر سے نقل کی گئی ہے درج ذیل ہے :
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ الْوَزِيرُ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ أَبِي سُخَيْلَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَا: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: «إِنَّ هَذَا أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِي، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ يُصافِحُنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهَذَا الصِّدِّيقُ الْأَكْبَرُ، وَهَذَا فارُوقُ هَذِهِ الْأُمَّةِ، يُفَرَّقُ بَيْنَ الْحَقِّ وَالْبَاطِلِ، وَهَذَا يَعْسُوبُ الْمُؤْمِنِينَ، وَالْمَالُ يَعْسُوبُ
[معجم الکبیر للطبرانی]
سند کا تحقیقی جائزہ!
سند میں پہلا ضعف:
اسماعیل بن موسی سدی باوجود صدوق یخطی ہونے کے اس متن کو بیان کرنے میں منفرد ہے ۔
اور کٹر رافضی ہے اور صحابہ کو گالیاں دینے والا ہے ۔
سند کا دوسرا ضعف:
عمر بن سعید المصری و البصری یہ مجہول العین ہے ۔ اس طبقہ میں کوئی راوی نہیں جو فضیل کے تلامذہ کے طبقہ میں آتا ہو۔
سند کا تیسرا ضعف:
أَبُو سُخَيْلَةَ
یہ راوی بھی مجہول ہے ۔ امام ابن حجر نے اسکو مجہول قرار دیا ہے ۔ اسکا کوئی اتہ پتہ نہیں کہ اس نے یہ روایت کس سے اخذ کی اور یہ خود کس عقیدے کا تھا۔
سند کا چوتھا ضعف :
سند میں انقطاع ہے ۔
چونکہ یہ راوی أَبُو سُخَيْلَةَ فضیل بن مرزوق کا شیخ ہے ۔
اور فضیل بن مرزوق کی وفات 160ھ میں ہوئی تھی۔
تو أَبُو سُخَيْلَةَ 28ھ میں فوت ہونے والے صحابی سے کیسے سماع کر سکتا ہے ؟
خلاصۃ
ایک راوی کٹر رافضی
ایک راوی مجہول العین
(معلوم نہیں رافضی تھا یا کون اور اس نے یہ روایت اگلے راوی سے سنی تھی یا کسی اور سے اخذ کی تھی )
ایک راوی مجہول
(اسکا بھی معلوم نہیں کس عقیدے کا تھا)
اور سند میں انقطاع
(متعدد مجہولین کے بعد اگر روایت میں انقطاع بھی آجائے تو روایت منکر ہونے کے ساتھ موضوع ہونا اور مضبوط ہو جاتا ہے )
اتنے کثیر ضعف کے سبب یہ روایت تقویت حاصل نہیں کرسکتی ہے ۔ خاص طور جب یہ روایت اس متن و سند کے ساتھ ایک کٹر رافضی کے پاس ہو۔
اور سند میں دو مجہولین کے متابع چاہیے ہونگے
اور
دوسری سند میں انقطاع بھی نہ ہو اور وہ روایت اتصال پر بھی مبنی ہونی چاہیے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری روایت :
عن خالدِ بن الحارثِ، عن عوفٍ، عن الحسنِ، عن أبي ليلى (٢) الغِفارِيِّ، قال: سمِعتُ رسولَ اللهِ ﷺ يقول: “ستكونُ بَعْدِي فتنةٌ، فإذا كان ذلك فالْزَمُوا عليَّ بنَ أبي طالبٍ؛ فإنَّه أَوَّلُ مَن يَرَانِي، وأَوَّلُ مَن يُصَافِحُني يومَ القيامةِ، وهو الصِّدِّيقُ الأكبرُ، وهو فاروقُ هذه الأُمَّةِ، يُفَرِّقُ بينَ الحَقِّ والباطلِ، وهو يَعْسُوبُ المؤمنين، والمالُ يَعْسُوبُ المنافقين”
میرے بعد ایک فتنہ برپا ہوگا، پس جب ایسا ہو تو علی بن ابی طالب کو لازم پکڑنا؛ کیونکہ وہ سب سے پہلے مجھے دیکھنے والے ہوں گے اور قیامت کے دن سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کرنے والے ہوں گے۔ وہ صدیقِ اکبر ہیں، اور وہ اس امت کے فاروق ہیں جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ وہ مؤمنوں کے سردار (یعسوب المؤمنین) ہیں، جبکہ مال منافقوں کا سردار (یعسوب المنافقین) ہے۔
سند کا تحقیقی جائزہ!
امام ابن عبدالبر نے اسکی سند درج ذیل نقل کی ہے :
رواه إسحاق بن بشر، عن خالد بن الحارث، عن عوف، عن الحسن، عن أبي ليلى الغفاري،
اسکے بعد امام ابن عبدالبر خود اسحاق بن بشر پر جرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وإسحاق بن بشر ممن لا يحتج بنقله إذا انفرد لضعفه ونكارة حديثه
اسحاق بن بشر ایسا راوی ہے کہ اگر وہ کسی حدیث کو بیان کرنے میں منفرد ہو تو اس سے احتجاج نہیں کیا جائے گا، کیونکہ وہ خود ضعیف ہے اور اسکی بیان کردہ حدیثیں منکر ہوتی ہیں۔
[الاستیعاب فی معرفة الاصحاب]
اور یہ راوی کذاب اور حدیث گھڑنے والا تھا ۔ ائمہ کا کلام اس پر درج ذیل ہے :
صاحب كتاب المبتدأ.
تركوه وكذبه علي بن المديني.
وقال ابن حبان: لا يحل كتب حديثه إلا على جهة التعجب.
وقال الدارقطني: كذاب متروك.
وقال مسلم بن الحجاج: أبو حذيفة ترك الناس حديثه.
وقال أبو بكر بن أبي شيبة: كذاب.
وقال النقاش: يضع الحديث.
وقال ابن الجوزي في الموضوعات: أجمعوا على أنه كذاب.
وقال الخليلي في الإرشاد: اتهم بوضع الحديث.
وقال ابن عَدِي: أحاديثه منكرة إما إسنادا وإما متنا لا يتابعه عليها أحد.
وقال الخطيب: كان غير ثقة.
وقال العقيلي: مجهول، حدَّث بمناكير ليس لها أصل.
وذكره النجاشي في رجال الصادق وقال: كان عاميا يعني من أهل السنة.
وقال الأزدي: متروك الحديث ساقط رمي بالكذب.
اس پر مزید لکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
۔…………………………
تیسری ایک روایت پیش کی جاتی ہے :
حدثنا علي، حدثنا عبد الله، حدثنا أبي، عن الأعمش عن عباية، عن ابن عباس قال ستكون فتنة فإن أدركها أحد منكم فعليه بخصلتين كتاب الله، وعلي بن أبي طالب فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول، وهو آخذ بيد علي هذا أول من آمن بي وأول من يصافحني، وهو فاروق هذه الأمة يفرق بين الحق والباطل، وهو يعسوب المؤمنين والمال يعسوب الظلمة، وهو الصديق الأكبر، وهو بابي الذي أوتي منه، وهو خليفتي من بعدي.
[الکامل فی ضعفاء]
اس روایت کا مرکزی راوی عبد الله بن داهر بن يحيى بن داهر الرازي ہے ۔
اور یہ متہم مکذوب راوی ہے ۔
امام ابن عدی کہتے ہیں:
وعامة ما يرويه في فضائل علي، وهو فيه متهم.
عام طور پر یہ حضرت علی کے فضائل پر مبنی روایات بیان کرتا ہے اور متہم بالکذب ہے ۔
[الکامل فی ضعفاء]
………………………..
ایک روایت مسند البزار سے پیش کی جاتی ہے جو کہ درج ذیل ہے :
حدثنا عباد بن يعقوب العرزمي، قال: نا علي بن هاشم، قال: نا محمد بن عبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه، عن جده أبي رافع، عن أبي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه، قال لعلي بن أبي طالب: «أنت أول من آمن بي، وأنت أول من يصافحني يوم القيامة، وأنت الصديق الأكبر، وأنت الفاروق تفرق بين الحق والباطل، وأنت يعسوب المؤمنين، والمال يعسوب الكفار» وهذا الحديث لا نعلمه يروى عن أبي ذر إلا من هذا الوجه، ولا روى أبو رافع، عن أبي ذر إلا هذا الحديث
[مسند البزار]
جبکہ سند کا بنیادی راوی محمد بن عبید اللہ متروک درجہ کا راوی ہے ۔
ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَغَيْرُهُ.
قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: هُوَ فِي عِدَادِ شِيعَةِ الْكُوفَةِ يَرْوِي أَشْيَاءَ مِنَ الْفَضَائِلِ لا يُتَابَعُ عَلَيْهَا.
وقَالَ الْبُخَارِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
وقَالَ ابْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ بِشَيْءٍ
ابو حاتم نے اسکی تضعیف کی ہے ۔
ابن عدی کہتے ہیں کہ یہ کوفہ کے شیعوں میں سے ایک تھا اور (اہلبیت) کے فضائل میں ایسی روایات بیان کرتا تھا جو اسکے علاوہ کوئی بیان نہ کرتا۔
اور امام بخاری کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے ۔ (یہ جرح متروک راوی پرکرتے ہیں )
ابن معین کہتے ہیں یہ کوئی شہ نہیں ہے ۔
[تاریخ الاسلام]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری روایت جو سنن ابن ماجہ سے بطور دلیل پیش کی جاتی ہے ۔ جسکی سند درج ذیل ہے :
حدثنا محمد بن إسماعيل الرازي قال: حدثنا عبيد الله بن موسى قال: أنبأنا العلاء بن صالح، عن المنهال، عن عباد بن عبد الله، قال: قال علي: «أنا عبد الله وأخو رسوله صلى الله عليه وسلم، وأنا الصديق الأكبر، لا يقولها بعدي إلا كذاب، صليت قبل الناس لسبع سنين
[سنن ابن ماجہ]
پہلی علت:
سند میں علاء بن صالح کٹر شیعہ راوی ہے ۔ اور ابن مدینی کہتے ہیں اس سے مناکیر مروی ہیں ۔
وقال أبو حاتم: كان من عتق الشيعة.
وقال ابن المديني:
روى أحاديث مناكير
اور بقیہ ائمہ نے اسکو ثقہ قراور دیا ہے ۔
دوسری علت:
عباد بن عبداللہ متروک درجہ کا راوی ہے ۔ اور اس روایت پر وبال اس راوی کی وجہ سے ہے ۔
جیسا کہ امام احمد بن حنبل نے اس روایت کو کاٹنے کا حکم دیا اور منکر قرار دیا ۔
جیسا کہ امام اثرم روایت کرتے ہیں :
قال الأثرم: سألت أبا عبد الله، عن حديث علي “أنا عبد الله وأخو رسوله وأنا الصِّدِّيقُ الأكبر”
فقال: اضرب عليه؛ فإنه حديث منكر.
اثرم کہتے ہیں میں نے امام احمد سے حدیث علی کا پوچھا جس میں ہے کہ میں اللہ کا بندہ رسولﷺ کا بھائی اور میں صدیق اکبر ہوں ۔
تو امام احمد نے کہا اس روایت کو (مٹا) کاٹ دو یہ منکر روایت ہے ۔
[المنتخب من علل الخلال]
یعنی امام احمد نے اس راوی کو اس حدیث میں متہم قرار دیا ۔
جیسا کہ امام مغلطائی الحنفی امام ابن جوزی کے حوالے سے اس راوی کے تعلق سے نقل کرتے ہیں :
وفي كتاب أبي الفرج البغدادي: روى عن علي أحاديث لا يتابع عليها، وقال علي بن المديني: ضعيف الحديث.
وفي كتاب ’’ الموضوعات ’’: كان متهما وضرب الإمام أحمد على حديثه عن علي ’’ أنا الصديق الأكبر ’’ وقال: هو منكر.
اور ابو الفرج البغدادی کی کتاب میں ہے کہ انہوں نے علی سے ایسی احادیث روایت کی ہیں جن پر ان کی متابعت نہیں کی جاتی، اور علی بن المدینی نے کہا کہ وہ ضعیف الحدیث ہیں۔
اور کتاب الموضوعات میں ہے کہ وہ متہم تھے اور امام احمد نے حضرت علی سے مروی ان کی حدیث ‘میں صدیق اکبر ہوں’ پر لکیر پھیر دی اور کہا کہ یہ منکر ہے۔
وذكره ابن الجارود في جملة الضعفاء.
وكذلك أبو جعفر العقيلي.
ابن جارود نے اس راوی کو ضعفاء میں شمار کیا اور ایسے ہی امام عقیلی نے ۔
[اکمال تہزیب الکمال]
نیز امام بخاری نے اس پر فیہ نظر جیسی شدید جرح کی ہے جو انکے نزدیک متروک ہوتا ہے ۔
اور جیسا کہ امام احمد نے اس راوی کی یہ منکر روایت کا وبال اس پر ڈالا۔ اور بقول ابن الجوزی امام احمد نے اسکو متہم کیا اس روایت میں ۔
ایسے ہی امام ذھبی نے بھی اس روایت کا وبال اسی راوی پر ڈالا ہے اور کہتے ہیں :
قلت: روى العلاء بن صالح، حدثنا المنهال، عن عباد بن عبد الله، عن علي، قال: أنا عبد الله، وأخو رسول الله، وأنا صديق الأكبر، وما قالها أحد قبلي، ولا يقولها إلا كاذب مفتر، ولقد أسلمت وصليت قبل الناس بسبع سنين.
قلت: هذا كذب على علي.
میں کہتا ہوں یہ حضرت علی رضی الل ہپر جھوٹ ہے ۔
[میزان الاعتدال]
انکے علاوہ دیگر محدثین کا اس روایت کے باطل ہونے پر تصریحات
امام الجورقاني (المتوفى: 543هـ)
هذا حديث باطل
[الأباطيل والمناكير والصحاح والمشاهير]
امام سیوطی ان تمام روایات کو موضوعات میں شامل کرکے دفاع نہیں کیا۔
نیز امام محمد طاہر پٹنی ہندی علیہ الرحمہ نے بھی اس روایت کو موضوعات میں شامل کرتے ہوئے عباد پر اس کا وبال ڈالا ہے ۔
آفته عباد قلت أخرجه النَّسَائِيّ فِي الخصائص
[تذكرة الموضوعات]
پس ان دلائل سے ثابت ہوا کہ یہ لقب مولا علی رضی اللہ یا حضور اکرمﷺ کی طرف منسوب کرنا باطل امر ہے ۔
باقی حضرت ابو بکر کو یہ لقب بھی اہلسنت انکے تصدیق میں پہل کرنے کے سبب کہتی ہے ۔
اس پر اہل باطل کا یہ کہنا کہ حضرت ابو بکر کے لیے تو کسی حدیث میں لقب نہیں آیا لیکن حضرت علی کے لیے آیا تو ہے ۔
یہ ایسے ہے کہ حضرت علی کے لیے تو کم سے کم کوفی روافض نے یہ بات گھڑی ہے ۔
حضرت ابو بکر کے لیے نہیں گھڑی گئ۔۔۔۔
تحقیق: اسد الطحاوی