مقدمہ از شارح صحیح مسلم : ضرورت حدیث ، حجیت حدیث ، تدوین حدیث
sulemansubhani نے Friday، 24 July 2026 کو شائع کیا.

مقدمہ از شارح صحیح مسلم

مسلمانوں کے دین کا سرمایہ اور اُن کی شریعیت کی متابع کل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ حیات ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال واحوال اور آپ کے شب وروز کے معمولات ہی ان کے لیے سر چشمہ ہدایت ہیں، صحابہ کرام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب زندگی کے ایک ایک ورق کو حفظ کیا، خلوت و جلوت ، سفر و حضر اور نجی حالات سے لے کر عام سیاسی معاملا ت تک رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی زندگی کاکوئی واقعہ ہے مگر اس کو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ  عنہم نے محفوظ کر لیا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا تزکار کرتے اور سینوں سے لے کر صحیفوں تک انھیں محفوظ رکھتے ۔ان کے بعد تابعین اور تبع تابعین نے حفظ اور کتابت کے اس عمل کو جاری رکھا یہاں تک کہ دوسری صدی ہجری کے بعد حدیث کی باقاعدہ تدوین شروع ہوئی ، ، اور ابواب و کتب کی ترتیب سے حدیث کی کتابیں مدون ہو حدیث کی کتابیں مدون ہوئیں یوں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جامع سیرت اور دین کی مکمل تصویر پہنچ سکی۔

اکابر علماء ملت اور ماہرین شریعت نے علم حدیث کی تحصیل کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں، انھوں نے نے بار ہا صرف ایک حدیث کی خاطر سینکڑوں میل کا سفر کیا۔ طلب حدیث میں کوئی چیز ان کی راہ میں  رکاوٹ نہیں بنتی تھی ، وہ اپنے شاگردوں سے بھی احادیث روایت کر لیتے تھے۔ انھوں نے احادیث کو اپنے سینوں میں اور پھر نوشتوں میں محفوظ کیا، ناقلین حدیث کے حدیث کو پرکھنے کے لیے علم رجال ایجاد کیا اور اس میدان میں حیرت انگیز کارنامے  سر انجام دیے مگر حدیث کے ان عظیم کارناموں کی صحیح  قدرو قیمت کا اندازہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہم کو یہ معلوم ہو کہ علم حدیث کی دین میں کیا اہمیت ہے اور اگر امت کے پاس آج احادیث کا یہ سرمایہ نہ ہوتا  تو دین کی کیا شکل و وصورت ہوتی ۔ 

صحیح مسلم کی شرح شروع کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ علم حدیث کے اہم موضوعات پر اجمالا گفتگو کر لی  جائے تا کہ قارئین کو حدیث شریف کی علی وجہ البصیرت مو وجہ البصیرت معرفت حاصل  ہو سکے ، اس سلسلہ میں ہم حدیث کی ضرورت، حجیت اور تدوین پرمختصر اگفتگو کریں گے اور اس  کے بعد  حدیث کی تعریف ،  اقسام اور اور کتب حدیث کی انواع اور بعض دیگر اصطلاحات کا مختصراً بیان کریں گے ۔

ضرورت حدیث

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے انسانی معیشت کے اصول اور مبادی اجمالاً بیان فرماتے ہیں جن کی تعبیر ضرورت حدیث و تشریح بغیر احادیث نبویہ کے ممکن نہیں ہے نیز احکام کی عملی صورت بیان کرنے کے لیے اسوہ رسول کی ضرورت ہے۔ احادیث رسول ہمیں قرآنی احکام کی عملی تصویر مہیا کر تی ہے، علاوہ ازیں، مثلا صلاة، زکواة،تیمم ، اور عمرہ  یہ محض الفاظ ہیں لغت عربی ہمیں ان الفاظ کے وہ معانی نہیں بتاتی جو شرع میں مطلوب ہیں، پس اگر احادیث رسول موجود  نہ ہوں تو ہمارے پاس قرآن کریم کے معانی شرعیہ متعین کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہے گا۔

حجیت حدیث

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور افعال کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ  الله تعالی ارشاد فرماتا ہے:    

واطيعوا الله واطيعوا الرسول ال عمران : ۱۳۲

اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔

وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا – (حشر:۷) 

 اور رسول تم کو جو( احکام) ، دیں وہ لے لو اور جس چیز سے روکیں اس سے رک جاؤ ۔

 قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني  (ال عمران:۳۱)

آپ فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرد .

لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة .  ( احزاب : ۲۱)

تمہارے اعمال کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔

ان آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت اور آپ کے افعال کی اتباع قیامت تک کے مسلمانوں پر واجب ہے، اب سوال یہ ہے کہ بعد کے لوگوں کو رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام اور آپ کے افعال کا کس ذریعہ سے علم ہوگا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو  ہمارے لیے نمونہ بنایا ہے ۔ یہی جب تک حضور کی زندگی ہمارے سامنے نہ ہو ہم اپنی زندگی کو حضور کے اسوہ میں کیسے ڈھال سکیں گے۔ اور جب کہ ہمیں اسوہ رسول پر اطلاع صرف احادیث سے ہی ممکن ہے تو معلوم ہوا کہ ہے تو ہوا  کہ اللہ تعالیٰ کے نز دیک جس طرح صحابہ کے لیے بہ نفس نفیس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہدایت تھی ۔  اسی طرح ہمارے لیے حضور کی احادیث ہدایت ہیں اور اگر احادیث رسول کو حضور کی دی ہوئی ہدایت اور اور آپ کے نمونہ کے لیے معتبر ماخذ  نہ مانا جائے تواللہ تعالی کی حجت بندوں پر نا تمام رہے گی اللہ تعالٰی نے رشد و ہدایت کے لیے صرف قرآن کو کافی قرار نہیں دیا بلکہ قرآن کے احکام کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت اور اس کے افعال کی اتباع کو بھی لازم  قرار دیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور افعال کو جاننے کے لیے احادیث کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے ۔

احادیث  شریف کو اگرمعتبر نہ مانا جائے  تو نہ صرف یہ کہ ر سول للہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی دی ہوئی ہدایات سے ہم محروم ہوں گے ،  بلکہ قرآن کریم کی وہی ہوئی ہدایات سے بھی ہم مکمل طور پر مستفید نہیں ہوسکیں گے کیونکہ اللہ تعالی نے ہدایت کے لیے قرآن نازک فرمایا لیکن اس کے معانی کا بیان اور  اس کے احکام کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کردی ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا :

وانزلنا اليك الذكر لتبين للناس ما نزل اليهم (نحل: ۴۴)

ہم نے آپ کی طرف ذکر (قرآن کریم ) نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں گوں کو بیان کریں کہ ان کیطرف کیا احکام نازل کئے گئے ہیں ۔

ويعلمهم الكتاب والحكمة – (بقره: ۴۴)

اور رسول مسلمانوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔

ممکن ہے کوئی شخص یہ کہہ دے کہ آیات کے معانی کا بیان  اور کتاب  و حکمت کی تعلیم صرف صحابہ کے لیے تھی تو میں اولا یہ کہوں گا کہ اسلام  صرف صحابہ کا نہیں بلکہ قیامت تک کے  مسلمانوں کا دین ہے اس لیے جس  ہدایت کی انہیں ضرورت تھی ہمیں بھی ضرورت ہے۔

ثانیا .. صحابہ کرام جب اپنے بلند مقام اور جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے قرب کے با وجود قرآن مجید کے احکام کو سمجھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان اور آپ کی تعلیم کے محتاج تھے تو بعد کے لوگ تو بدرجہ اولی  اس بیان اور تعلیم کی طرف محتاج ہوں گے۔

ثالثا ۔۔۔قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتا ہے :

هو الذي بعث في الاميين رسولا عنهم يتلوا عليهم اياته ويزكيهم ويعلمهم  الكتاب والحكمة وان كانوا من قبل لفی  ضلال مبين و آخرين منهم لما يلحقوا  بهم  جمعه : ۳-۲

 وہ ذات جس نے ان پڑھ لوگوں میں انھی میں سے  ایک بہت  بڑا  رسول بھیجا جوان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا  ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم  دیتا ہے جب کہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے اور بعد کے لوگوں کو جو ابھی پہلوں کے ساتھ لاحق نہیں ہوئے

قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی جو تعلیم دی۔  وہ صحابہ کے لیے بھی ہے اور بعد کے لوگوں کے لیے بھی، پس ثابت ہوا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرآن کریم کی تعلیم دینا اور آیات کے معانی بیان کرنا جس طرح صحابہ کے لیے تھا۔  اسی طرح قیامت تک مسلمانوں کے لیے بھی ہے اور اگر  احادیث کو کو معتبر نہ مانا جائے تو بعد کے لوگوں کے کیسے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی تعلیم  اور تزکیہ کا کس طرح ثبوت ہوگا اور اس آیت  کا صدق کیسے ظاہر ہو گا ۔

آپ ہی سوچیے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ بتلاتے تو ہمیں کیسے معلوم ہوتا کہ  لفظ صلواۃ سے قیام ، رکوع اور سجود کی ہیئت مخصوصہ مراد ہے موذن کی اذان سے لیکر امام کے سلام پھیرنے تک نماز اور جماعت کی تفصیل ہمیں  کیوں کر معلوم ہوتی  اسی طرح حج اور عمرہ کا بیان احرام کہاں سے  اور کسی دن باندھنا ہے وقوف عرفہ ، طواف زیارت ، طواف وداع اور ان تمام  احکام کی تفصیل اور تعیین قرآن میں نہیں ملتی ، حد یہ ہے کہ صد یہ ہے کہ قرآن میں یہ بھی مذکور نہیں کہ حج کسی دن ادا کیا جائے زکوتہ  کا صرف لفظ قرآن میں ذکر ہے لیکن عشر اور زکوتہ  کی تفصل کا قرآن میں  بیان نہیں پھران کی شرعی  ہیئت کذائی جس سے فرائض، واجبات اور آداب کی تمیز ہو قرآن میں کہیں نہیں ملتی ۔

قرآن کریم کے بیان کردہ ان تمام احکام تمام احکام کی تفصیل اور تعیین صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے ملتی ہے، عہد رسالت میں صحابہ کو یہ بیان زبان رسالت سے حاصل ہوا   اور بعد کے لوگوں کو یہی بیان احادیث نبویہ سے حاصل ہوگا اور جو شخص ان احادیث کو معتبر نہیں مانتا، اس کے پاس قرآن کریم کے مجمل اور مبہم احکام کی تفصیل اور تعیین جاننے کے لیے کوئی ذریعہ نہیں ہو گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح معانی قرآن کے مبین اور معلم ہیں اسی طرح آپ بعض احکام کے شارع بھی ہیں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ آپ کی اس حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:

يحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث . (اعراف: ۱۵۷) 

 رسول اللہ ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام کرتے ہیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چیزوں کو حلال اور حرام کیا قرآن میں کہیں ان کا ذکر نہیں ہے ،ان کا ذکر صرف احادیث رسول سے ہی ممکن ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکار کرنے والے درندوں اور رپرندوں کو  حرام کیا۔  دراز گوش اور حشرات الارض کو حرام کیا اور ہمارے لیے   ان احکام کا علم صرف احادیث رسول سے ہی ممکن ہے ، اور اگر احادیث رسو ل کو حجت نہ مانا جائے تو حلت و حرمت کے تمام احکام کے لیے شریعت اسلامی متکفل نہیں ہوگی ۔

قرآن کریم کے نفس مضمون کو سمجھنے کے لیے بھی ہمیں احادیث کی ضرورت پڑتی ہے، کیونکہ قرآن مجید کی بعض آیات کا نزول کسی خاص واقعہ سے متعلق ہوتا ہے بعض دفعہ کسی خاص سوال کے سبب سے کوئی آیت نازل ہوتی ہے اور بعض مرتبہ مشرکین یا منافقین کی کسی بات کے رد میں کوئی آیت نازل ہوتی ہے کبھی کسی آیت میں عہد رسالت میں ہونے والے کسی واقعہ کی طرف  اشارہ ہوتا ہے اور کبھی صحابہ کے کسی عمل پر تنبیہ یا اس کی تائید میں کوئی آیت نازل ہوتی ہے لہذا جب تک اس قسم کی تمام آیات کے پس منظر اور اسباب اندل کاعلم نہ ہوان کاکوئی واضح معنی سمجھ میں نہیں آتا اور اگر فہم قرآن کے لیے احادیث نبویہ  کو ایک معتبر ماخذ اور حجت نہ مانا جائے تو قرآن مجید کی بعض آیات ایک چیستان اور معمہ بن کر رہ جائیں گی ۔

تدوین حدیث

 عام طور پر منکرین حدیث یہ کہتے ہیں  کہ احادیث کی تدوین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ڈھائی سو سال بعد کی گئی ہے، اس لیے کتب احادیث قابل اعتبار نہیں ہیں لیکن ان کا یہ قول سخت مغالطہ آفرینی پر مبنی ہے کیونکہ احادیث رسول کی حفاظت اور کتابت کے سلسلہ میں عہد رسالت سے لے کر اتباع تبع تا بین تک پورے تسلسل اور تواتر سے کام ہوتا رہا ہے اور ڈھائی سو سال کے اس طویل عرصہ کے کسی  وقفہ میں بھی اس کام کا انقطاع نہیں ہوا ۔

حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں میں متعدد  صحابہ کرام نے احادیث کو قلم بند کرنا شروع کر دیاتھا، امام بخاری اپنی صحیح میں روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے طویل خطبہ دیا۔ یمن کے ایک شخص (ابو شاہ) نے آکر عرض کیا ۔

اكتب لى يا رسول الله – میرے لیے یہ خطبہ لکھ دیجیے

آپ نے حکم دیا : اكتبوا لأبي فلان -اس شخص کے لیے خطبہ لکھ دو (امام ابو عبد الله محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ ھ صحیح بخاری  ج اص ۲۲، مطبوعہ نور محمد اصبح المطابع کراچی ، ۱۳۸۱ھ)

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کو احادیث لکھنے کی عام اجازت تھی۔

امام ابوداؤ د روایت کرتے ہیں :

عن عبد الله بن عمر و قال كنت  کہ اكتب كل شيء اسمعه من رسول الله صلی  اللہ علیہ وسلم اريد حفظه فنهتنی و قالوا  ا تكتب كل شيء تسمعه ورسول الله صلى الله  عليه وسلم بشر يتكلم فى الغضب والرضاءفامسكت عن الكتابة فذكرت ذلك الى رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فا و ما باصبعہ  الى فيه فقال اكتب فوالدی نفسی بیده  ما يخرج منه الاحق ۔( امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متو فی ۲۷۵ھ، سنن ابی داؤد  ۵۱۴ – ۵۱۳، مطبوعہ مطیع ولی محمد اینڈ سنز کراچی )

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں میں یاد کرنے کے خیال سے رسول اللہ صلی علیہ وسلم  سے سن کر ہر بات لکھ لیتا تھا۔ بعض لوگوں نے مجھے منع کیا اور  کہا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ہر بات کچھ لیتے ہوحالانکہ رسول اللہ صلی الله اللہ علیہ وسلم بھی ایک بشر ہیں آپ   کبھی خوش ہوتے ہیں اور کبھی ناراض ، یہ سن کر میں نے کی لکھنا  چھوڑ دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس  واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے اپنی انگلی سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا لکھا کرو، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس منہ سے حق کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عہنما کے احادیث لکھنے کا تذکرہ کیا ہے فرماتے ہیں :

ما من اصحاب النبی صلی اللہ  علیہ وسلم  احد اکثر حديثا عنه منى الاما كان من عبد الله بن عمروفانه كان يكتب ولا اكتب ( امام محمد بن اسماعیل البخاری المتوفی ھ۲۵۶ ، صحیح بخاری ج ۱ص ۲۲ مطبوعہ نور محمد اصبح المطابع کراچی ۱۳۸۱ھ)

 صحابہ میں مجھ سے زیادہ کسی کے پاس رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث محفوظ نہ تھیں سوا عبداللہ  بن عمر رضی اللہ عنہ کے کیونکہ وہ احادیث لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔

امام ابو دائود اور امام بخاری کی ان روایتوں سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر احادیث قلمبند کیا کرتے تھے ۔ رہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ سے سے ان کا حافظہ بہت  تیز ہو گیا۔  اس وجہ سے وہ احادیث نہیں لکھتے تھے تاہم ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کتب اور صحائف کی شکل میں بھی محفوظ تھیں۔ چنانچہ عمرو بن امیہ بیان کرتے ہیں : تحدث عند ابى هريرة بحديث فأخذ بيدي     فارانا كتبا من حديث النبي صلى الله عليه وسلم وقال هذا  هو مكتوب عندی ۔( حافظ شهاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ، مقدمہ فتح الباری ج اص ۲۱۷ ، مطبوعہ مصر)

حضرت ابوہریرہ کے سامنے ایک حدیث پر گفتگو ہوئی تو وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور ہمیں احادیث کی کتابیں دکھائیں اور کہا دیکھو وہ حدیث میرے پاس لکھی ہوئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس انکی تمام مرویات لکھی ہوئی محفوظ تھیں ، حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ  ابتدا ز مانہ رسالت میں احادیث نہیں لکھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد انھوں نے احادیث کو لکھ لیا اسی زمانہ میں وہ کسی اور شخص سے سے ان احادیث کو لکھواتے رہے ہوں گے۔

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص اور حضرت ابوہریرہ کے بارے میں آپ کی نظر سے مستحکم حوالے گزر چکے ہیں کہ یہ حضرات عہد رسالت میں احادیث صحائف میں لکھ کر محفوظ کر لیا کرتے تھے۔ اب ہم آپ کے مطالعہ میں ایک ایسا حوالہ پیش کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوگا کہ سرکار کے زمانہ اقدس میں بالعموم صحابہ کرام احادیث لکھ کر محفوظ کر لیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں،

 كان عند رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم  ناس من أصحابه وانا معهم وانا اصغر القوم  فقال النبي صلى الله عليه وسلم من کذب على  صتعمدا فليتبوا مقعده من النار فلما خرج  القوم قلت كيف تحدثون عن رسول الله  صلی اللہ علیہ وسلم وقد سمعتم ما قال و  انتم تنهمكون في الحديث عن رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم فضحكوا وقالوا يا ابن اخينا  ان كل ما سمعنا منه عندنا في كتاب ۔ (حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی متوفی ۸۰۷ ھ مجمع الزوائد ج ۱ ص ۱۵۱-۱۵۲ مطبوعہ دارلکتب العربی بیروت ۱۴۲۰ ھ ۔)

میں دوسرے صحابہ کرام کے ساتھ بارگاہ رسالت میں حاضر  تھا اور میں ان سب سے عمر میں کم تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وسلم لم نے فرمایا جوشخص  میری طرف جھوٹ نے منسوب کرے وہ اپنا ٹھکانا  جہنم میں بنالے، جب  لوگ باہر نکلے تو میں نے ان سے   کہا کہ  رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث کے معامہ میں  کتنی شدید وعید فرمائی ہے اور آپ لوگ اس کے باوجو د بکثرت  احادیث بیان کرتے ہیں۔ یہ سن کر وہ لوگ ہنسے اور کہنے لگے  اے بھتیجے ہم لوگ جوکچھ بیان کرتے ہیں وہ سب ہمارے پاس لکھا ہوا محفوظ ہے۔

ان احادیث سے یہ یہ ظاہر ہو گیا کہ احادیث کو لکھنے اور محفوظ کر نے نے کا  کام کام عہد رسالت  میں شروع ہو چکا تھا اور صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ کے افعال اور احوال  کو لکھ کر قلمبند کر لیا کرتے تھے اور اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ بعض احادیث میں لکھنے کی جو ممانعت آئی ہے وہ بعض مواقع کے ساتھ مخصوص ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ان صورتوں میں لکھنے سے منع سے فرمایا تھا  جن میں قرآن اور حدیث کے اشتباہ کا احتمال تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد دور صحابہ میں تابعین نے صحابہ کی مرویات کو لکھ کر محفوظ کرنا شروع کیا۔ حضرت ابو ہر یرہ جن سے پانچ ہزار تین سو چو ہتر (5374) احادیث مردی ہیں انھوں نے بے شمار شاگرد پیدا کیے اور ان  لوگوں نے ان احادیث کو لکھ کر محفوظ کیا اور یہ سلسلہ  روایت آگے بڑھایا ۔ چنانچہ مسند دارمی میں ہے کہ آپ کے شا گر دوں میں سے بشیر بن نہیک نے آپ کی روایات کو لکھ کر محفوظ کر لیا تھا ، حضرت عبد اللہ بن عباس سے دو ہزار چھ سو سا ٹھ (۲۶۶۰) احادیث مروی ہیں ، ان کی روایات کو دوسرے شاگردوں کے علاوہ کریب نے محفوظ کر لیا تھا۔ ( حافظ ابو بكبر احمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی متوفی ۴۶۳ ، الكلفا به في علم الرواية ص ۲۲۹ مکتب علمیه مدینه منوره ) اور حضرت انس جو کہ دو ہزار دو سو چھیاسی (۲۲۸۶) احادیث کے راوی میں ان کے بارے میںمسند دارمی میں ہے کہ ان کی مرویات کو ابان نے لکھ کر محفوظ کر لیا تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  جو دو ہزار دو سو دس (۲۲۱۰) احادیث کی روایت کرتی ہیں ان کی احادیث کو عروة بن زبیر نے لکھ کر محفوظ کر لیا تھا۔ (  محمد بن سعد کاتب واقدی متوفی ۲۳۰ ھ، طبقات ابن سعد جلد ۷، ص ،۷۲ مطبوعہ دارصا در بیروت ، ھ۱۳۸۸) حضرت عبداللہ بن عمرجوایک ہزار چھ سو تیس (۱۶۳۰) احادیث کی  روایت کرتے ہیں طبقات ابن سعد اور دارمی میں ہے کہ ان کی روایات کو نافع نے لکھ کر محفوظ کر لیا تھا، اور حضرت جابرجو ایک ہزار پا نچ سو چالیس (۱۵۴۰) احادیث کے راوی ہیں ان کی مرویات کو قتادہ بن دعامہ سروسی نے لکھ کر محفوظ کرلیا تھا۔( علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ،۹۱۱ھ  تدریب الراوی مطبوعہ بوعہ مکتبه علمیه مدینه منوره ، ۱۳۹۲ھ)

مذکور الصدر سطور میں ہم نے چند مثالیں پیش کی ہیں ، ورنہ  صحابہ کرام سے احادیث کا سماع اور روایت کرنے والے تمام حضرات احادیث کو ضبط تحریر میں لے آتے تھے، پہلی صدی ہجری کے اخیر تک اسی طرح متفرق طور پر کتابت کے سہارے تدوین احادیث کا کام آگے بڑھتا رہا ،احادیث کے یہ صحائف اور نوشتے کسی نقطہ پرمشترک اور کسی جہت سے مجتمع نہ تھے، بغیر کسی ترتیب کے تابعین کرام نے اپنی اپنی مرویات کو اپنے سینوں اور صحیفوں میں محفوظ کر رکھا تھا یہاں تک کہ عمربن عبد العزیز کا زمانہ خلافت آیا اور انھوں نے احادیث کو یکجا کرنے کا ارادہ کیا چنانچہ اس کام کے لیے انھوں نے معتمد  اور مستند علما کی ایک کمیٹی مقر کی جن میں ابوبکر بن محمدبن عمروبن حزم ،  قاسم بن محمد بن ابی بکر اور ابوبکر محمد بن مسلم بن  عبید اللہ بن شہاب زہری کے اسماء خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔

عمر بن عبد العزیز نے مختلف علاقوں سے احادیث کا لکھا ہوا ذخیرہ جمع کیا اور ابن شہاب زہری نے ان احادیث کو ترتیب دی اور تہذیب سے منظم اور منضبط کیا ۔ احادیث کو جمع اور منظم کرنے کے ساتھ ساتھ حدیث کو سند کے ساتھ بیان کرنے کی ابتداء بھی ابن شہاب زہری نے ہی کی ہے اسی وجہ سے ان کو علم اسناد کا واضع کہا جاتا ہے ۔ 

احادیث کی ترتیب اور تہذیب کا جو کام ابن شہاب زہری نے شروع کیا تھا ، اس کام کو ان کے مایہ ناز تلامذہ برابرآگے بڑھاتے رہے، یہاں تک کہ دوسری صدی کے اخیر میں ان کے ایک نامور شاگرد امام مالک بن انس اصبحی نے احادیث کو باب دار ترتیب دے کہ پہلا مجموعہ حدیث ، موطا کے نام سے پیش ماکے نام سے پیش کیا ۔

موطا امام مالک کے علاوہ امام اعظم نے اپنی مرویات کو کتاب الاثار کے نام سے پیش کیا جس کو ان کے لائق اور قابل صد فخر تلامذہ نے الگ الگ روایت کیا ہے ، ان حضرات کے علاوہ دوسری صدی کے جن دوسرے متعدد بزرگ مصنفین نے فن حدیث میں کتابیں تصنیف کی ہیں ان میں سے بعض کی کتابیں یہ ہیں: سنن ابو الولید ر۱۵۱ھ  جامع سفیان ثوری۱۶۱ھ مصنف ابی سلمہ (۱۶۷ھ ) مصنف ابی سفیان ۱۹۷ھ، جامع سفیان بن عیینہ (۱۹۸ھ) اور تیسری صدی کے جن مصنفین نے حدیث کی کتابیں  تصنیف کی ہیں ان میں سے بعض حضرات کی کتابیں یہ ہیں۔ کتاب لام اللشافی (۲۰۴ھ ) مسند احمد بن حنبل (۲۴۱ھ  الحجامع الصحیح البخاری (۲۵۶ھ  الجامع الصحیح المسلم (۲۶۱ ) سنن ابو ابو داؤد ۲۷۵ھ  المجامع الترمذی ۲۷۹ھ  سنن ابن ماجہ  (۲۷۳ھ) ۔

مضبوط  اور مستحکم حوالہ جات کی روشنی ہم نے آپ کے سامنے عہد رسالت سے لے کر صحاح ستہ کے مصنفین تک تدوین حدیث کا ایک مربوط جائزہ پیش کر دیا ہے جس سے ظاہر ہوتاہے کہ زمانہ رسالت سے لے کہ اتباع تبع تابعین تک ہر دور میں احادیث کو قلمبند کیا جاتا رہا اور سینوں سے لے کر صحیفوں تک ہر طرح سے حدیث کی حفاظت کی جاتی رہی، نیز ہر دور میں لوگوں نے اپنے زمانہ کے مخصوص تقاضوں اور تصنیف و تالیف کے رجحانات کو سامنے رکھ کہ احادیث کی تدوین کی، یہاں تک کہ تیسری صدی میں مصنفین صحاح ستہ نے پہلے لوگوں کی خوبیوں کو نئے اضافوں کے ساتھ ساتھ ضم کر کے ایک جامع اسلوب کے ساتھ اپنی تصانیف کو پیش کیا۔

کتب احادیث کے ان ادوار کو پیش کرنے کے بعد منا سب معلوم ہوتا ہے کہ چند مشہور کتب احادیث کا اجمالی تعارف ذکر کر دیا جائے ۔


کتاب الصلوۃ  باب 46  حدیث نمبر 425
sulemansubhani نے Friday، 24 July 2026 کو شائع کیا.

٤٦ – بَابُ الْمَسَاجِدِ فِي الْبُيُوتِ گھروں میں مساجد اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ گھروں میں مساجد کا بنانا جائز ہے اس سلسلہ میں یہ تعلیق ہے: وصلَّى الْبَرَاءُ بَنْ عَازِبٍ فِي مَسْجِدِهِ فِي دَارِهِ جَمَاعَةٌ۔ اور حضرت البراء بن عازب نے اپنے گھر کی مسجد میں جماعت کرائی۔ مصنف ابن […]

مکمل تحریر پڑھیے »


کتاب الصلوۃ  باب 45  حدیث نمبر 424
sulemansubhani نے Friday، 24 July 2026 کو شائع کیا.

٤٥ – بَابٌ إِذَا دَخَلَ بَيْتًا يُصَلِّى حَيْثُ شَاءَ ، أَوْ حيْثُ أُمِرَ وَلَا يَتَجَسَّسُ جب کوئی شخص کسی کے گھر میں داخل ہو تو جہاں چاہے نماز پڑھے، یا جہاں اسے حکم دیا جائے اور وہ تجسس نہ کرے ٤٢٤ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْد،ِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


کتاب الصلوۃ  باب 44  حدیث نمبر 423
sulemansubhani نے Friday، 24 July 2026 کو شائع کیا.

٤٤ – بَابُ الْقَضَاءِ وَاللعَانِ فِي الْمَسْجِد ِبَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ مردوں اور عورتوں کے درمیان مسجد میں فیصلہ کرنا اور لعان کرنا  اس باب میں مسجد میں فیصلہ کرنے کا حکم بیان کیا گیا ہے اور لعان کرنے کا حکم بیان کیا گیا ہے فیصلہ کرنا عام ہے خواہ وہ لعان کا فیصلہ ہو یا […]

مکمل تحریر پڑھیے »


کتاب الصلوۃ  باب 43  حدیث نمبر 422
sulemansubhani نے Friday، 24 July 2026 کو شائع کیا.

٤٣ – بَابُ مَنْ دَعَا لِطَعَامٍ فِي الْمَسْجِدِ وَمَنْ أَجَابَ مِنْهُ    جس نے کسی شخص کو مسجد میں کھانے کے لیے بلایا اور جس نے اس کو قبول کیا اس باب سے امام بخاری کا یہ مقصود ہے کہ مسجد میں کسی کو کھانے کی دعوت دینا اور کسی کا اس دعوت کو قبول […]

مکمل تحریر پڑھیے »


کتاب الصلوۃ  باب 42  حدیث نمبر 421
sulemansubhani نے Friday، 24 July 2026 کو شائع کیا.
شیخ اسرار رشید حفظہ اللہ تعالیٰ کی ڈیبیٹس اردو سب ٹائٹل کے ساتھ
sulemansubhani نے Thursday، 23 July 2026 کو شائع کیا.
کتاب الصلوۃ  باب 41  حدیث نمبر 420
sulemansubhani نے Wednesday، 22 July 2026 کو شائع کیا.
کتاب الصلوۃ  باب 40  حدیث نمبر 419
sulemansubhani نے Wednesday، 22 July 2026 کو شائع کیا.
کتاب الصلوۃ  باب 40  حدیث نمبر 418
sulemansubhani نے Wednesday، 22 July 2026 کو شائع کیا.

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com