تراویح میں ختم قرآن ۔۔۔
تراویح کی نماز میں نوجوان حافظِ قرآن نے دو رکعت پڑھانے کے بعد نمازیوں سے پوچھا:
“قرآن کی رفتار درست ہے یا تیز پڑھوں؟”
اگلی صفوں سے فوراً آواز آئی:”تیز پڑھا جائے!”
یہ جواب صرف ایک آواز نہیں تھا، بلکہ ہمارے اجتماعی رویے کا آئینہ تھا۔
سوال یہ ہے:قرآن تیز کیوں پڑھا جائے؟
کیا مقصد جلدی ختم کرنا ہے یا اللہ کا کلام سننا اور سمجھنا؟
قرآن کا حکم: ٹھہر کر پڑھو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا(المزمل: 4)
ترجمہ:
قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔
یعنی:
الفاظ واضح ہوں
معانی دل میں اتریں
خشوع پیدا ہو
دل پر اثر ہو
قرآن جلدی ختم کرنے کی کتاب نہیں، دل بدلنے کی کتاب ہے۔
اصل مقصد: قیام اللیل کا روحانی اثر قلب و ذہن پر ہونا چاہیے
تراویح یا قیام اللیل کا مقصد:
✔ قرآن سننا
✔ اللہ سے تعلق مضبوط کرنا
✔ خشوع پیدا کرنا
✔ دل کا زندہ ہونا
✔ گناہوں کی معافی
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
جو ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام رمضان کرے اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ (بخاری)
یہ فضیلت رفتار سے نہیں، کیفیت سے حاصل ہوتی ہے۔
آج کا المیہ: مقدار کو کیفیت پر ترجیح
روحانی محرومی کا عالم یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں:
تراویح جلدی ختم کرنے کو کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
کامیاب حافظ کی تعریف یوں کی جاتی ہے:
“ہماری مسجد میں تو آدھے گھنٹے میں تراویح ختم ہو جاتی ہے۔”
قرآن سننے کے بجائے نماز ختم ہونے کا انتظار ہوتا ہے۔
تدبر کے بجائے رفتار مطلوب ہے۔
یہ دینی شغف نہیں بلکہ روحانیت کی کمزوری کی علامت ہے۔
صحابہ کرام کا طریقہ
صحابہ کرام کا حال یہ تھا کہ:
لمبا قیام کرتے
آیات پر روتے
ایک آیت پر بار بار غور کرتے
قرآن دل میں اتارتے
ان کے لیے قرآن ختم کرنا مقصد نہیں تھا،
قرآن سے بدل جانا مقصد تھا۔
بہت تیز قراءت کے نتیجے میں:
الفاظ واضح نہیں رہتے
معانی سمجھ نہیں آتے
خشوع ختم ہو جاتا ہے
نماز رسمی بن جاتی ہے
قرآن کا اثر کم ہو جاتا ہے
یوں عبادت کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
ہونا کیا چاہیے؟
ہمارا رویہ یہ ہونا چاہیے:
✔ قیام اللیل کو محبت سے اختیار کریں
✔ قرآن کو توجہ سے سنیں
✔ سمجھنے اور محسوس کرنے کی کوشش کریں
✔ باکیفیت عبادت کو ترجیح دیں
✔ رفتار نہیں، اثر کو اہمیت دیں
اصلاحی پیغام
تراویح قرآن ختم کرنے کا پروگرام نہیں،قرآن سے جڑنے کا موقع ہے۔
ہمیں یہ فخر نہیں ہونا چاہیے کہ:
“ہماری مسجد میں جلدی نماز ختم ہو جاتی ہے”
بلکہ فخر یہ ہونا چاہیے کہ:
“ہماری مسجد میں قرآن دلوں میں اترتا ہے۔”
اسمعیل بدایونی
٢١ فروری ٢٠٢٦