امام بخاریؒ کی وفات کیسے ہوئی
امام بخاریؒ کی وفات کیسے ہوئی؟
امام بخاریؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں مشرقی اسلامی دنیا کے بعض حکمرانوں کی طرف سے شدید آزمائشوں اور مخالفت کا سامنا کیا، خاص طور پر نیشاپور، بخارا اور سمرقند میں۔
اس کی چند اہم وجوہات یہ تھیں:
انہوں نے حکمرانوں کے بچوں کو محلات میں جا کر تعلیم دینے سے انکار کیا۔
آپ فرماتے تھے: “علم کے پاس آیا جاتا ہے، اسے دروازوں تک نہیں لے جایا جاتا۔”
بعض لوگوں کو آپ کی شہرت اور مقام سے حسد تھا۔
اس کے علاوہ بھی کئی اسباب تھے۔
جب امام بخاریؒ کی عمر 62 سال کو پہنچی تو نیشاپور کے حاکم کی طرف سے حکم آیا کہ وہ شہر چھوڑ دیں، کیونکہ اب وہ وہاں مطلوب نہیں رہے۔
چنانچہ آپ وہاں سے نکل کر اپنے آبائی شہر بخارا پہنچے۔ وہاں لوگوں نے آپ کا شاندار استقبال کیا، دروازوں پر جمع ہوئے، آپ پر سکے اور مٹھائیاں نچھاور کیں، اور طلبہ و محدثین آپ کے گرد جمع ہوگئے۔ اس کی وجہ سے دوسرے علماء کی مجالس سنسان ہونے لگیں، جس سے بعض لوگوں کے دلوں میں مزید حسد پیدا ہوا۔
جلد ہی بخارا کے حاکم کو بھی آپ کی مقبولیت ناگوار گزری، اور نیشاپور کے حاکم کی طرف سے بھی دباؤ آیا کہ امام کو بخارا سے بھی نکال دیا جائے۔
چنانچہ حاکم کا نمائندہ امام بخاریؒ کے گھر آیا اور فوراً شہر چھوڑنے کا حکم دیا۔
یہاں تک کہ آپ کو اپنی کتابیں جمع کرنے اور ترتیب دینے کی مہلت بھی نہ دی گئی۔
آپ شہر سے باہر نکل کر تین دن تک ایک خیمے میں رہے، اپنی کتابوں کو سنبھالتے رہے، اور سوچتے رہے کہ اب کہاں جائیں۔
پھر آپ سمرقند کی طرف روانہ ہوئے، مگر شہر میں داخل نہ ہوئے بلکہ ایک قریبی گاؤں “خرتنگ” میں اپنے رشتہ داروں کے پاس ٹھہر گئے، آپ کے ساتھ ابراہیم بن معقل بھی تھے۔
کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ سمرقند کے حاکم کے سپاہی وہاں بھی پہنچ گئے اور حکم دیا کہ امام فوراً اس علاقے کو بھی چھوڑ دیں — یہ رات عید الفطر کی تھی۔
لیکن حکم تھا کہ “ابھی” نکلیں، عید کے بعد نہیں۔
امام بخاریؒ نے یہ سوچ کر کہ کہیں ان کے میزبان رشتہ داروں کو نقصان نہ پہنچے، فوراً جانے کا فیصلہ کیا۔
ابراہیم بن معقل نے ایک جانور پر آپ کی کتابیں رکھیں اور دوسرے کو سواری کے لیے تیار کیا۔ پھر وہ امام بخاریؒ کو سہارا دے کر باہر لانے لگے۔
جب وہ تقریباً 20 قدم چلے تو امام بخاریؒ کو شدید تھکن محسوس ہوئی۔ آپ نے کہا کہ کچھ دیر آرام کرنا چاہتے ہیں۔
آپ راستے کے کنارے بیٹھ گئے… پھر لیٹ گئے… اور آنکھ لگ گئی۔
چند ہی لمحوں بعد جب ابراہیم بن معقل نے جگانے کی کوشش کی تو دیکھا کہ امام بخاریؒ کی روح اپنے رب کے پاس جا چکی ہے۔
یوں امام بخاریؒ نے 1 شوال 256 ہجری، عید الفطر کی رات، 62 سال کی عمر میں اس حال میں وفات پائی کہ وہ ایک شہر سے دوسرے اور پھر تیسرے شہر سے نکالے جا چکے تھے۔
آج لوگ ان حکمرانوں کے نام نہیں جانتے، مگر امام بخاریؒ کا نام پوری دنیا جانتی ہے۔
اللہ تعالیٰ امام بخاریؒ پر رحم فرمائے اور انہیں انبیاء، شہداء اور صالحین کے ساتھ بلند درجات عطا فرمائے۔ آمین۔
📖 حوالہ: سیر اعلام النبلاء، جلد 12، صفحہ 468
💚 اگر آپ نے یہ تحریر مکمل پڑھی ہے تو درود شریف ضرور پڑھیں:
اللهم صلِّ على محمد وعلى آل محمد