جامع ترمذی : ابواب الطہارت : باب 1 حدیث نمبر 1
-1 باب ما جاء لا تقبل صلوة بغير طهور
طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی
1– حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، ح وقَالَ و حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مَصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ((لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ)) قَالَ هَنَّادٌ فِي حَدِيثِهِ: ((إِلَّا بِطُهُورٍ)) قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ – وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ – وَأَبُو الْمَلِيحِ بْنُ أُسَامَةَ اسْمُهُ عَامِرٌ، وَيُقَالُ: زَيْدُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ الْهُذَلِيُّ.
تخریج حدیث:
(1)صحیح مسلم،كتاب الطهارة، باب وجوب الطهارة للصلوة، 1/204حدیث، 224دار احیاء التراث العربي، بيروت) (2سنن ابن ماجه،كتاب الطهارة وسننها،باب لايقبل الله صلاة بغير طهور، 1/100رقم،272دار احیاء الكتب العربيةفيصل ، عيسى البابي الحلبي ,السنن الصغير للبيهقى،كتاب الطهارة،جماع ابواب الطهارة،باب لاصلاة الا بطهور، 1/21حدیث، 19جامعات الدراسات الاسلامية،كراچي ,الطهور للقاسم بن سلام،باب الفضل في تسمية الله عزوجل،ص، 144حديث ،54 مكتبة الصحابة،جدة,المعجم الكبيرللطبراني،باب العين،مصعب بن سعد عن ابن عمر،12/331حدیث، 13266مكتبة ابن تيمية ،القاهرة, حلية الاولیاء، ذكر طوائف من جماهير النساك والعباد، شعبة بن الحجاج، ذكر من حدث وروى عن شعبة، 7/176،… دار الكتب العلمية ، بيروت, شعب الايمان، تعظيم القرآن، فصل في تنوير موضع القرآن، 4/237 حدیث، 2454مكتبة الرشد للنشر والتوزيع, صحيح ابن حبان، كتاب الزكاة ، باب صدقة التطوع، ذكر نفي قبول الصدقة، 8/152، … حديث، 3366مؤسسة الرسالة، بيروت, صحيح ابن خزيمة، كتاب الوضو، ذكر نفي قبول الصلاة، 1/8، … حديث ، 8 المكتب الاسلامي، بيروت مسند ابي يعلى ، مسند عبد الله بن عمر ، 9/466حديث، 5614دار المامون للتراث، دمشق, مسند أحمد بن حنبل، “ مسند المكثرين من الصحابة، مسند عبد الله بن عمر، 9/131حديث، 5213 مؤسسة الرسالة ، بيروت, مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الطهارات، من قال لاتقبل صلاة الا بطهور، 1/13حدیث، 26مكتبة الرشد ، الرياض
اردو ترجمہ:
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بغیر طہارت کے نماز اور مالِ حرام سے صدقہ قبول نہیں ہوتا۔“ ہناد نے اپنی حدیث میں (”بغیر طہور“ کی بجائے) ”الا بطہور“ کہا ہے۔ یہ حدیث اس باب میں دیگر روایات سے اصح اور احسن ہے۔ اس باب میں ابو الملیح سے بواسطہ ان کے والد اور حضرت ابوہریرہ اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین سے بھی روایات مروی ہیں۔ ابو الملیح کا نام عامر ہے اور کہا گیا ہے کہ اسامہ بن عمیر ہذلی ہے۔
شرح حدیث
ابن منظور افریقی اور مرتضی حسینی زبیدی ”ابن الاثیر“ کے حوالے سے لکھتے ہیں: ”لفظ ’طَهُور‘ طاء کے ضمہ کے ساتھ ہو تو اس کا مطلب ہے پاک ہونا، اور طاء کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد وہ پانی ہے جس سے طہارت حاصل کی جائے جیسے وَضُو اور وُضو، اور سیبویہ کہتے ہیں: طَہور طاء کے فتحہ کے ساتھ ہو تو اس سے مراد پانی اور مصدر دونوں ہوں گے۔“ (لسان العرب، حرف الراء، فصل الطاء المهملة، 4/505دار صادر، بیروت) (تاج العروس، فصل الطاء المهملة مع الراء، 12/447دار الهداية، ملتقطاً)
علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں: ”طہور“ طاء کے ضمہ کے ساتھ ہے اور اس سے مراد ہے فعل یعنی پاکی حاصل کرنا اور یہ اکثر کا قول ہے، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس میں فتحہ بھی جائز ہے۔ اور ”طہور“ اپنے عموم کے باعث پانی اور مٹی دونوں کو شامل ہے۔ (شرح سنن ابی داود للعینی،،کتاب الطهارة،باب فرض الوضو،1/180،مكتبة الرشد،الرياض)
اس حدیثِ پاک میں قبول سے مراد صحت ہے لہٰذا معنی یہ ہوگا کہ طہارت کے بغیر نماز صحیح نہیں۔ (فيض القدير شرح الجامع الصغير، حرف ”لا“،6/415، تحت حدیث)(13341،المكتبة التجارية الكبرى،مصر)
اور ((لا تقبل صلاة بغير طهور)) میں لفظ ”صلاة“ نکرہ ہے اور سیاق نفی میں واقع ہوا ہے لہٰذا فرض و نفل سب نمازوں کو شامل ہوگا اور کوئی بھی نماز بغیر طہارت کے درست نہیں ہوگی۔“ (شرح سنن ابی داود للعینی،،کتاب الطهارة، باب فرض الوضوء،1/180مكتبة الرشد،الرياض)
علامہ ابو زکریا یحییٰ بن شرف نووی علیہ رحمۃ اللہ القوی لکھتے ہیں: ”پانی یا مٹی سے طہارت حاصل کئے بغیر نماز پڑھنے کی حرمت پر امت کا اجماع ہے اور اس حوالے سے فرض و نفل ، سجدہ تلاوت و سجدۂ شکر اور نمازِ جنازہ میں کوئی فرق نہیں (سب کے لئے طہارت شرط ہے۔) اور شعبی و ابن جریر طبری سے جو حکایت کیا گیا کہ نمازِ جنازہ بغیر طہارت کے بھی جائز ہے یہ مذہب باطل ہے اور علماء کا اس کے خلاف پر اجماع ہے۔ (شرح النووى على مسلم،كتاب الطهارة،باب وجوب الطهارة للصلاة،1/103، دار احياء التراث العربي، بيروت)
حدیث میں مذکور لفظ ”غُلُولْ“ کا مطلب مالِ غنیمت میں خیانت اور مالِ غنیمت کی تقسیم کاری سے قبل اس میں سے چوری کرلینا ہے اور جو بھی شخص کسی چیز میں خفیہ طور پر خیانت کرے اُس کے اِس عمل کو غلول کہتے ہیں۔“ (شرح سنن ابی داود للعینی،،کتاب الطهارة، باب فرض الوضوء،1/ 179،مكتبة الرشد، الرياض)
لیکن اس حدیثِ پاک میں غلول سے مراد مطلقاً (مالِ) حرام ہے چاہے مالِ غنیمت سے ہو یا اس کے علاوہ سے۔“ (الإيجاز في شرح سنن ابي داود للنووى، باب فرض الوضوء، 1/254الدار الاثرية،اردن)
علامہ بدرالدین عینی حنفی (متوفی 855ھ) لکھتے ہیں: ”حاصل یہ ہے کہ جس مال کو انسان غیرِ حلال (حرام) طریقے سے حاصل کرے اور پھر اس میں سے صدقہ کرے تو ایسا صدقہ قبول نہیں کیا جائے گا اور یونہی اگر وہ صاحبِ مال کی جانب سے تصدق کی نیت کرے تب بھی یہی حکم ہے اور اس شخص سے کبھی بھی اس کا وبال ساقط نہیں ہوگا مگر یہ کہ صاحبِ مال اس تصدق سے راضی ہوجائے اور اسے حلال کر دے۔ اور عورت کا اپنے شوہر کی رضا مندی کے بغیر اس کا مال تصدق کرنا، غلام کا اپنے آقا کا مال خیرات کرنا، وکیل کا اپنے موکل کا مال صدقہ کرنا ، مضارب کا اپنے رب المال کا مال صدقہ کرنا اور شریک کا اپنے دوسرے شریک کا مالِ خیرات کرنا وغیرہ سب اسی حکم میں داخل ہے۔ نیز ایک شخص نے کسی کو وصیت کی کہ میرا بعض مال صدقہ کر دینا، اس نے وہ مال اپنے اوپر خرچ کرلیا یا غیر مصرف میں صرف کردیا اور اوقاف کے متولیوں کا بغیر استحقاق کے وقف کی آمدنی سے لینا اور پھر اسے صدقہ کرنا یا وقف کی آمدنی کو واقف کے متعین کردہ مصارف کے علاوہ میں خرچ کرنا بھی اسی حکم میں داخل ہے۔“ (شرح سنن ابی داود للعینی،،کتاب الطهارة، باب فرض الوضوء، 1/179مكتبة الرشد، الرياض)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور حدیث میں ناپاک و حرام مال سے صدقہ قبول نہ ہونے کو بڑے دل نشیں انداز میں ذکر کیا ہے، فرماتے ہیں: ((أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا)) ترجمہ: اے لوگو! اللہ تعالی پاک ہے اور پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ (صحيح مسلم،كتاب الزكاة، باب قبول الصدقة من كسب الطيب وترتيبها، 2/703حدیث،1015 دار احياء التراث العربي، بيروت)
علامہ نووی لکھتے ہیں: ”اس حدیثِ پاک میں مالِ حلال سے راہِ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب اور غیرِ حلال سے صدقہ کرنے کی ممانعت ہے۔“ (شرح النووی علی مسلم،كتاب الزكاة،باب قبول الصدقة من كسب الطيب…، 2/703تحت حدیث1015،داراحیاءالتراث العربی، بیروت)
سند میں مذکور لفظ ”ح“ کی تحقیق:
علامہ جلال الدین سیوطی (متوفی 911ھ) لکھتے ہیں: ”جب حدیث کی دو یا اس سے زائد اسناد ہوں اور محدثین انہیں ایک متن میں جمع کریں تو ایک اسناد سے دوسری کی جانب انتقال کے وقت حائے مفردہ مہملہ (ح) لکھتے ہیں۔
کہا گیا ہے کہ ”ح“ التحويل من اسناد الى اسناد (ایک سند سے دوسری کی جانب تحویل) سے ماخوذ ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ”حائل“ سے ماخوذ ہے کیونکہ یہ کلمہ (ح) دو سندوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔
اور کہا گیا ہے کہ حائے مہملہ ”الحدیث“ کا رمز ہے، اہل مغرب جب اس لفظ پر پہنچتے ہیں تو ”الحدیث“ پڑھتے ہیں لیکن مختار یہ ہے کہ جب یہاں پہنچے تو ”حا“ پڑھے اور گزر جائے۔“ (تدریب الراوی،النوع الخامس والعشرون،الثامنة: الاقتصاد فی الخط علی الرمز۔۔۔،1/520دارطیبه، ملتقطاً)
نماز کے لئے طہارت کی فرضیت:
نماز کے لئے طہارت کے فرض و شرط ہونے پر تمام امت کا اجماع ہے اور اس بارے کسی کا کوئی اختلاف منقول نہیں ،ترمذی شریف کی مذکورہ حدیثِ پاک بھی طہارت کی فرضیت کی ایک قوی دلیل ہے بلکہ یہ حدیث پاک ،سنت سے اس مسئلہ کے ثبوت میں اصل اور نص کا درجہ رکھتی ہے۔
علامہ نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اس بات پر امت کا اجماع ہے کہ نماز کی صحت کے لیے طہارت شرط ہے۔ (شرح النووی علی مسلم،كتاب الطهارة،باب وجوب الطهارة للصلاة، 1/102داراحیاءالتراث العربی، بیروت)
قاضی عیاض مالکی علیہ رحمۃ اللہ القوی (متوفی 544ھ) لکھتے ہیں:
یہ (مذکورہ بالا) حدیث سنت سے وجوب طہارت کے ثبوت میں اصل اور نص کا درجہ رکھتی ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جس حوالے سے امت میں کوئی اختلاف نہیں۔“(اكمال المعلم بفوائد المسلم،كتاب الطهارة،باب وجوب الطهارة للصلاة،تحت حديث) ،2/10( 224دارالوفاءللنشر والتوزيع،مصر)
علامہ بدر الدین عینی حنفی لکھتے ہیں:
اس حدیثِ پاک سے فرضیتِ طہارت پر استدلال ظاہر ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ بغیر طہارت کے نماز قبول نہیں کرتا تو نماز کی صحت وجودِ طہارت پر موقوف ہوئی اور موقوف (نماز) فرض ہے تو موقوف علیہ (طہارت) کا بھی یہی حکم ہوگا لہٰذا طہارت شرط ہوگی اور مشروط بغیر شرط کے موجود نہیں ہوتا۔ (شرح سنن ابی داود للعینی،، کتاب الطهارة، باب فرض الوضوء، 1/180 مكتبة الرشد، الرياض)
علامہ ابنِ رشد مالکی لکھتے ہیں :
طہارت کے ضروری ہونے پر دلیل قرآن و سنت اور اجماع ہے۔ قرآن سے دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے {يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ} الآية، اے ایمان والو جب نماز کو کھڑے ہونا چاہو تو اپنا منہ دھوؤ اور کہنیوں تک ہاتھ اور سروں کا مسح کرو اور گٹوں تک پاؤں دھوؤ۔ (المائدة، آیت 6 پارہ 6) مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جب نماز کا وقت داخل ہوجائے تو اس خطاب پر عمل کرنا ہر اس شخص پر ضروری ہے جس پر نماز لازم ہے۔ سنت سے دلیل نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے یہ فرامین ہیں : (1) ((لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُوْرٍ، وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُوْلٍ)) اللہ تعالیٰ بغیر طہارت کے نماز اور خیانت کے مال سے صدقہ قبول نہیں فرماتا۔ (2) ((لَا يَقْبَلُ اللهُ صَلَاةَ مَنْ أَحْدَثَ حَتّٰى يَتَوَضَّأَ)) محدث جب تک وضو کرکے نماز نہ پڑھے اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں فرماتا۔ یہ دونوں حدیثیں ائمۂ نقل کے نزدیک ثابت ہیں۔ جہاں تک اجماع کا تعلق ہے تو مسلمانوں میں سے کسی سے بھی اس کے خلاف منقول نہیں، اگر اختلاف ہوتا تو ضرور منقول ہوتا کیونکہ عادتیں اس کا تقاضا کرتی ہیں۔ (بداية المجتهد ونهاية المقتصد، كتاب الطهارة من الحدث، الباب الاول الدليل على وجوب الوضو، 1/14، دار الحديث، القاهرة)
علامہ مقدسی حنبلی (متوفی 968ھ) لکھتے ہیں :
جس پر مشروط کی صحت موقوف ہواسے شرط کہتے ہیں اور نماز کی نو شرائط ہیں: اسلام، عقل، تمیز اور طہارت عن الحدث وغیرہ۔ (الاقناع في فقه الامام احمد بن حنبل، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، مدخل، 1/81 دار المعرفة، بيروت)
نماز کے لئے طہارت کب فرض ہوئی؟
خاتم المحققین سید محمد امین ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
اہلِ سیر کا اس بات پر اجماع ہے مکہ المکرمہ میں نماز کے فرض ہونے کے ساتھ ہی حضرت جبریل علیہ السلام کی تعلیم سے وضو اور غسل بھی فرض ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کبھی بھی بے وضو نماز نہیں پڑھی ، بلکہ یہ تو ہم سے پہلوں کی شریعت میں بھی تھا ، اور اس پر دلیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے : (( ہٰذَا وُضُوئِیْ وَوُضُوْءُ الْأَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِیْ )) ترجمہ : یہ میرا اور مجھ سے پہلے انبیا کا وضو ہے۔ اور یہ بات اصول میں ثابت ہے کہ جب اللہ عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بغیر انکار کے ہم سے پہلی شریعت کا کوئی حکم بیان فرمائیں اور اس کا ناسخ ظاہر نہ ہوتو وہی حکم ہماری شریعت کا بھی ہوتا ہے، پس نزولِ آیت کا فائدہ ( پہلے سے ) ثابت حکم کو باقی رکھنا ہے۔‘‘ (درمختار مع ردالمحتار، كتاب الطهارة، ج1، ص90دار الفكر، بيروت)
قاضی عیاض مالکی علیہ رحمۃ اللہ القوی (متوفی 544ھ) لکھتے ہیں :
نماز کے لئے طہارت کب فرض ہوئی؟ اس میں اختلاف ہے؛ ابن الجہم کہتے ہیں: ابتداءً وضو سنت تھا اور اس کی فرضیت آیتِ تیمم میں نازل ہوئی، اور بعض کہتے ہیں کہ فرمانِ باری تعالی {لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ} میں طہارت شرط قرار نہیں دی گئی تھی اور آیت وضو اس کی ناسخ ہے (یعنی پہلے طہارت شرط نہیں تھی اور آیت وضو کے نزول سے فرض ہوئی ۔) اور جمہور کہتے ہیں کہ طہارت آیت وضو کے نزول سے قبل ہی فرض تھی ۔ (اكمال المعلم بفوائد المسلم، كتاب الطهارة، باب وجوب الطهارة للصلاة، تحت حديث(224) 2/10، دار الوفاء للنشر والتوزيع، مصر)
”فاقد الطهورین “ کی تعریف اور اس کے حکم میں مذاہبِ اربعہ:
فاقد الطہورین اس شخص کو کہتے ہیں کہ جسے وضو کے لئے پانی ملے نہ تیمم کے لئے مٹی مثلاً کسی شخص کو ایسے مکان میں محبوس کردیا جائے جہاں پانی اور مٹی دونوں نہ ہوں یا کسی شخص کو ایسی نجس جگہ قید کردیا جائے کہ وہاں تیمم کے لئے پاک مٹی میسر نہ ہو اور وہ پیاس کی وجہ سے اپنے پاس موجود پانی کی طرف محتاج ہو، یا کوئی شخص کشتی میں سوار ہو اور پانی حاصل نہ کرسکتا ہو یا کسی مرض کے باعث وضو اور تیمم پر قادر نہ ہو۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، حرف التاء، تیمم، حکم فاقد الطهورين، 14/273دار السلاسل، الكويت)
احناف کے مفتی بہ قول کے مطابق فاقد الطہورین پر واجب ہے کہ نمازیوں کی مشابہت کرے یعنی نمازیوں کے سے افعال بجالائے اور جب طہارت پر قادر ہو تو اس نماز کو ادا کرے، شوافع اور حنابلہ کا اس قدر پر تو اتفاق ہے کہ فاقد الطہورین فی الحال طہارت کے بغیر ہی نماز پڑھے لیکن شوافع کے نزدیک اس کا اعادہ لازم ہے اور حنابلہ کے نزدیک نہیں، جبکہ مالکیہ کے ہاں فاقد الطہورین سے نماز ہی ساقط ہے نہ اس پر ادا لازم نہ قضا، تفصیلی آراء درج ذیل ہیں:
علامہ علاؤ الدین حصکفی اور سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں: ”صاحبین علیہما الرحمۃ کے نزدیک فاقد الطہورین پر واجب ہے کہ وقتِ نماز کا احترام کرتے ہوئے نمازیوں کی مشابہت اختیار کرے (یعنی ان کے سے افعال بجالائے) اور بے وضو ہو یا جنبی بہر صورت قراءت نہ کرے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ نماز کی نیت بھی نہ کرے کیونکہ یہ حقیقی نماز نہیں، فقط تشبہ ہے پھر اگر وہ خشک جگہ پائے تو رکوع و سجود کرے ورنہ کھڑے ہوکر اشارے کرے اور پھر (جب طہارت کے اسباب پائے تو) اس نماز کو دوبارہ پڑھے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسی جانب رجوع کرلیا تھا اور اسی پر فتویٰ ہے۔ اور جس شخص کے ہاتھ پاؤں، کہنیوں اور ٹخنوں کے اوپر سے کٹے ہوں اور اس کے چہرے پہ زخم ہوں تو وہ بغیر وضو اور تیمم کے نماز پڑھے اور اصح قول کے مطابق اس پر اعادہ بھی نہیں۔“ (درمختار مع رد المحتار، کتاب الطہارۃ، 253-1/252، دار الفکر، بیروت)
علامہ نووی شافعی فرماتے ہیں: ”جو شخص وضو کے لئے پانی پائے نہ تیمم کے لئے مٹی تو اس پر واجب ہے کہ بغیر طہارت ہی کے نماز پڑھے، اس کی نماز مقبول ہے اور اسے اس پر ثواب ملے گا لیکن (اسبابِ طہارت میسر آنے پر) اس کا اعادہ لازم ہے۔‘ (الایجاز فی شرح سنن ابی داود للنووی، باب فرض الوضوء، 1/254 الدار الاثریۃ، اردن)
شیخ منصور بن یونس بہوتی حنبلی (متوفی 1051ھ) لکھتے ہیں: ”جس شخص کو نہ پانی ملے اور نہ مٹی یا کسی مانع کی وجہ سے ان کا استعمال اس کے لئے ممکن نہ ہو مثلاً زخم ہوں جس کی وجہ سے نہ وضو کے لئے جلد کو مس کرسکے نہ تیمم کے لئے تو اس پر واجب ہے کہ اپنی حسبِ حالت صرف فرض پڑھے اور اس کا اعادہ لازم نہیں نیز جس قدر قراءت وغیرہ سے نماز صحیح ہوجاتی ہے اس پر زیادتی نہ کرے پس فاتحہ سے زائد قراءت نہ کرے، ایک مرتبہ سے زائد تسبیح نہ پڑھے، رکوع و سجود اور دو سجدوں کے درمیان جلسوں میں ما بہ الکفایت طمأنینت (جس قدر اطمینان کافی ہے اس) پر زیادتی نہ کرے، فاتحہ کی قراءت سے فارغ ہو تو فوراً رکوع میں چلا جائے، پہلے تشہد میں مابہ الکفایت پڑھ چکے تو فوراً کھڑا ہوجائے اور آخری تشہد میں مابہ الکفایت پڑھتے ہی سلام پھیردے۔ اور فاقد الطہورین نفل وغیرہ نہ پڑھے کیونکہ بوجہ ضرورت اس کے لئے صرف فرض ہی کا بے طہارت پڑھنا جائز ہے۔“ (کشاف القناع عن متن الاقناع، کتاب الطهارۃ، باب التیمم، فصل عدم الماء وظن وجودہ، 1/71 دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
شیخ احمد دردیر مالکی (متوفی 1201ھ) اور علامہ احمد صاوی مالکی (متوفی 1241ھ) لکھتے ہیں: ”حدث سے طہارت حاصل کرنے پر قدرت ہونا صحت نماز کی شرط ہے پس جس طرح مانع کے قیام کی وجہ سے فاقد الطہورین اور شرعاً یا عادۃً پانی و مٹی کے استعمال سے عاجز شخص پر نماز واجب نہیں ہوتی یونہی (اگر وہ نماز پڑھے تو) اس کی نماز بھی صحیح نہیں ہوتی کیونکہ حدث سے طہارت پر قدرت ہونا وجوب اور صحت دونوں کی شرط ہے لہذا فاقد الطہورین پر نہ ادا لازم ہے اور نہ قضا جیسا کہ امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ (الشرح الصغير مع حاشية الصاوى، باب الصلاة، فصل فی شروط الصلاة، 1/266 دار المعارف)
سوال: ماقبل میں مذکور ہوا تھا نماز کی شرائط میں سے طہارت کو اس پر مقدم کرنے کا ایک سبب یہ ہے کہ ’طہارت شرائط نماز میں سب سے اہم ہے حتی کہ طہارت کسی عذر سے ساقط نہیں ہوتی۔‘ لیکن ابھی درمختار و رد المحتار کے حوالے سے گزرا کہ ’جس شخص کے ہاتھ پاؤں، کہنیوں اور ٹخنوں کے اوپر سے کٹے ہوں اور اس کے چہرے پہ زخم ہوں تو وہ بغیر وضو اور تیمم کے نماز پڑھے اور اصح قول کے مطابق اس پر اعادہ بھی نہیں۔‘ یعنی اس سے طہارت ساقط ہے تو ان دونوں میں تطبیق کی کیا صورت ہے؟
جواب: سید محمد امین ابن عابدین شامی (متوفی 1252ھ)، علامہ حموی سے نقل کرتے ہیں: ”فقہائے کرام نے جو یہ فرمایا ہے کہ ’طہارت کسی عذر سے ساقط نہیں ہوتی۔‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب فی الجملہ طہارت ممکن ہو تو کسی عذر سے ساقط نہیں ہوتی اور مذکورہ مسئلہ میں طہارت کا محل (ہاتھ، پاؤں) معدوم ہونے کی وجہ سے طہارت کی اہلیت ہی ختم ہو گئی یعنی طہارت ممکن ہی نہیں رہی لہٰذا اس مسئلہ میں طہارت کا ساقط ہونا فقہائے کرام کے قول ’طہارت کسی عذر سے ساقط نہیں ہوتی۔‘ کے منافی نہیں، نیز اصحاب روایت پر مخفی نہیں کہ قلیل الوقوع اور وہ بھی صرف ایک ہی صورت میں مختلف کسی قاعدہ کلیہ کے لئے مضر نہیں۔“ (درمختار مع رد المحتار، کتاب الطهارۃ، 80/1، دار الفکر، بیروت)
بلا عذر بغیر طہارت کے نماز کا حکم:
فتاویٰ امام قاضی خان میں ہے:
اگر کسی نے جان بوجھ کر بلا طہارت نماز پڑھی تو امام صدر شہید کہتے ہیں: یہ کفر ہے، شمس الائمہ سرخسی کہتے ہیں: کفر نہیں معصیت ہے اور شمس الائمہ حلوانی کہتے ہیں: اکثر مشائخ کے نزدیک یہ کفر ہے۔ فرمایا: نوادر میں امام اعظم ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف علیہما الرحمۃ سے یہی مروی ہے اور ظاہر الروایۃ میں یہ کفر نہیں نیز یہ اختلاف فقط اسی صورت میں ہے کہ یہ عمل استخفافِ دین کے طور پر نہ ہو اور اگر استخفاف دین کی نیت سے ہو تو یہ سب کے نزدیک کفر ہونا چاہیے۔ (فتاویٰ قاضی خان علی هامش الفتاوى الهندية ،كتاب السير، باب مايكون كفر ا من المسلم…،3/572 مکتبه حقانیه، پشاور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
نماز کے لیے طہارت ایسی ضروری چیز ہے کہ بے اس کے نماز ہوتی ہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر بے طہارت نماز ادا کرنے کو علما کفر لکھتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ اس بے وضو یا بے غسل نماز پڑھنے والے نے عبادت کی بے ادبی اور توہین کی ۔“ (بہارِ شریعت، حصہ 2،ص،282 مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
وجوبِ طہارت کا سبب:
علامہ بدر الدین عینی لکھتے ہیں:
حدث کی موجودگی اور ارادۂ نماز (دونوں ہی) وجوبِ طہارت کا سبب ہیں، نہ فقط ارادۂ نماز جیسا کہ اہل ظاہر کا مذہب ہے اور نہ فقط حدث جیسا کہ اہلِ طرد کا مذہب ہے، اور ان دونوں مذاہب کا فساد ظاہر ہے۔ (شرح سنن ابی داود للعینی ،كتاب الطهارة،باب فرض الوضوء، 1/180 مكتبة الرشد،الرياض، ملتقطاً)
اصحابِ شافعیہ کے ہاں وجوبِ طہارت کے سبب میں تین اقوال ہیں اور راجح یہ ہے کہ حدث اور ارادۂ نماز دونوں امور کا اجتماع موجبِ وضو ہے۔
(شرح النووی علی مسلم،کتاب الطهارة، باب وجوب الطهارة للصلاة،1/103، دار احیاء التراث العربي، بيروت، ملتقطاً)
مالِ حرام سے صدقہ کرنے اور اس پر ثواب چاہنے کا حکم:
خلاصة الفتاوی اور جامع الفصولین میں ہے: ”کسی شخص نے حرام مال سے صدقہ کیا اور اس پر ثواب کی امید رکھی تو کافر ہوگیا، اور فقیر اگر جانتا ہو کہ دینے والے نے حرام مال دیا ہے پھر اسے دعا دے اور دینے والا آمین کہے تو دونوں کافر ہوگئے۔“ (جامع الفصولین، الفصل الثامن والثلاثون فی مسائل کلمات الکفر، 2/225 امیر حمزہ کتب خانه ،کوئٹہ) (خلاصه الفتاوی،کتاب الکراهية،الجنس السابع،4/387 مکتبه رشیدیه ،کوئٹہ)
ملا علی قاری حنفی (متوفی 1014ھ) اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”علماء فرماتے ہیں جو حرام مال سے تصدق کرکے اس پر ثواب کی امید رکھے کافر ہوجائے ۔ (فتاویٰ رضویہ 21/110، رضا فاؤنڈیشن ،لاہور ،بلفظہ) (مرقاة المفاتیح،کتاب الطهارة،باب مایوجب الوضوء، 1/358تحت حدیث (103)، دار الفکر ،بیروت)
حرام مال سے خلاصی کا طریقہ:
حرام مال سے خلاصی کا طریقہ ارشاد فرماتے ہوئے علامہ عینی لکھتے ہیں: ’’اگر کسی کے پاس مالِ حرام ہو (تو اولاً صاحبِ مال کو لوٹائے) اور صاحبِ مال مرگیا ہو تو اس کے ورثہ کو دے، اور اگر اس کے ورثہ نہ ہوں تو مالک کی طرف سے تصدق کر دے، اس عمل سے روزِ قیامت خلاصی کی امید ہے، اور یونہی جب (باوجودِ تلاش) صاحبِ مال نہ ملے تو بھی یہی حکم ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کر دے۔‘‘ (شرح سنن ابی داود للعینی،،کتاب الطهارة،باب فرض الوضو، 1/179،مكتبة الرشد،الرياض)
اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان (متوفی 1340ھ) لکھتے ہیں: ’’جو مالِ رشوت یا تغنی (یعنی گانے) یا چوری سے حاصل کیا اس پر فرض ہے کہ جس جس سے لیا اُن پر واپس کردے، وہ نہ رہے ہوں اُن کے ورثہ کو دے، پتا نہ چلے تو فقیروں پر تصدق کرے، خرید وفروخت کسی کام میں اُس مال کا لگانا حرامِ قطعی ہے، بغیر صورتِ مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سبکدوشی کا نہیں۔ یہی حکم سود وغیرہ عقودِ فاسدہ کا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں جس سے لیا بالخصوص انہیں واپس کرنا فرض نہیں بلکہ اسے اختیار ہے کہ اسے واپس دے خواہ ابتداءً تصدق کردے۔’’وذلك لان الحرمة فى الرشوة وامثالها لعدم الملك اصلا فهو عنده كالـمغصوب فيجب الـرد على الـمالك او ورثته ما امـكن، اما فى الربوا واشـباهه فلفساد الـملك وخبثه واذا قد ملـكه بالقبض ملـكاً خبيثاً لـم يبق مملوكاً لـلمأخوذ منه لاستحالة اجتماع ملـكين على شيىء واحد فلم يجب الـرد وانما وجب الانخلاع عنه اما بالـرد واما بالتصدق كـما هو سبيل سائر الاملاك الخبيثة‘‘ ترجمہ: اور یہ اس لئے کہ رشوت اور اس جیسے مال میں ملکیت بالکل نہ ہونے کی وجہ سے حرمت ہے لہٰذا رشوت لینے والے کے پاس وہ مال، غصب شدہ مال کی طرح ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جس حد تک ممکن ہو وہ مال اس کے مالک یا اس کے ورثہ کو لوٹا دیا جائے پس ایسا کرنا واجب ہے،سود یا اس جیسی اشیاء میں فسادِ ملک اور خباثت کی بنا پر بوجہ قبضہ اس کا مالک بن گیا تو جس سے مال لیا گیا اب اس کی ملکیت باقی نہ رہی (بلکہ ختم ہوگئی) اس لئے کہ ایک چیز پر بیک وقت دو ملک جمع ہونے محال ہیں (کہ اصل شخص بھی مالک ہو اور سود خور بھی) لہٰذا مالِ ماخوذ کا واپس کرنا ضروری نہیں بلکہ اس سے علیحدگی واجب ہے خواہ بصورتِ رد (واپس لوٹا کر) ہو یا بصورتِ خیرات، جیسا کہ تمام املاکِ خبیثہ میں یہی طریقہ ہے۔
ہاں جس سے لیا انہیں یا ان کے ورثہ کو دینا یہاں بھی اولیٰ ہے، كـما نص عليه فى الغنية والخيريةوالهندية وغيرها (جیسا کہ غنیہ، خیریہ اور ہندیہ وغیرہ میں اس کی صراحت ہے۔) (فتاوی رضویہ،ج32،ص553-552، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اگر کسی کافر کا مسلمان پر کچھ بنتا ہو اور وہ کافر کوئی وارث چھوڑے بغیر مرجائے تو اب اس قدر رقم فقرا پر تصدق کرنا ہی لازم نہیں بلکہ مسجد یا دیگر مصارفِ دینیہ میں بھی صرف کی جا سکتی ہے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ ”کافر مرگیا اور کوئی وارث قریب و بعید نہ چھوڑا اور مسلمان اس کا مدیون قرض ادا کرنا چاہتا ہے اب وہ کس کو دے کیونکہ اگر اس کی طرف سے صدقہ کرتا ہے تو اس کو آخرت میں ملنے کی امید نہیں اور اگر اس کے مذہب کے مطابق مندر میں اس کی طرف سے صرف کر دے یا مندر کے پجاری کو دے دے تو کفر کی اعانت ہوتی ہے۔ تو اب اس قرض سے کیونکر سبکدوش ہو؟“ آپ نے فرمایا: ”جبکہ اس کی نیت ادا کی تھی اور اس نے اپنی طرف سے کوئی عذر نہ کیا اور اس مال کا کوئی مستحق نہ رہا تو فقراۓ مسلمین اس کے مستحق ہیں، اور یہ بایں معنی نہ ہوگا کہ کافر کی طرف سے تصدق کیا جائے یہ تو حرام ہے اور اگر اسے اجر و ثواب سمجھے تو کفر ہے بلکہ اس معنی پر زور دیا جائے گا کہ کافر مرگیا اور وارث کوئی نہیں اور موت قاطع ملک ہے اور خلافت نہیں کہ اس کی طرف منتقل ہو تو اب یہ محض لا وارثی مال رہ گیا جو خالص ملک خدا ہے لہذا فقرا کو دیا جائے یا مساجد یا مصارف دینیہ میں صرف کیا جائے اور اگر خود فقیر ہے تو اپنے مصرف میں بھی لا سکتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 165-19/164، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حرام مال سے خلاصی اور ثواب:
جن صورتوں میں مالِ حرام سے خلاصی کے لئے اسے تصدق کرنے کا حکم شریعت کی جانب سے ہے تو اس پر عمل کرکے ثواب چاہنے میں بھی کچھ حرج نہیں۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن رقم فرماتے ہیں:
”حرام مال کو صدقہ کر کے امیدِ ثواب رکھنی بھی مطلقاً کفر نہیں، اگر وہ چیز عینِ حرام نہ ہو بلکہ زرِ حرام کے معاوضہ میں خریدی جب تو ظاہر کہ اس کی حرمت مجمع علیہ بھی نہیں، اور اگر عینِ حرام ہے اور اسے مالک تک نہیں پہنچا سکتا خواہ اس وجہ سے کہ اسے مالک یاد نہ رہا یا سرے سے مالک کو جانتا ہی نہیں مثلاً اس کے مورث نے مال غصب کیا تھا، یہ عینِ مغصوب کو جانتا ہے۔ اور مغصوب منہ سے محض ناواقف، یا یوں کہ مالک مرگیا اور کوئی وارث نہ رہا، تو ان سب صورتوں میں شرع مطہر اسے تصدق کا حکم دیتی ہے۔ جب اس نے صدقہ کیا تو حکم بجالایا، اور فرمانبرداری پر امیدِ ثواب رکھنا محذور نہیں۔ شرح فقہ اکبر میں ہے: ’فی المحیط من تصدق علی فقیر بشیء من الحرام یرجو الثواب کفر، وفيه بحث لان من كان عنده مال حرام فهو مامور بالتصدق به علی الفقراء فينبغی ان يكون ماجورا بفعله حيث قام بطاعة الله وامره، فلعل المسئلة موضوعة فی مال حرام یعرف صاحبہ، ویعدل عنہ الى غیرہ فی عطائه لاجل سمعته وریائه كما كثر هذا فی ظلمة الزمان واسرائه۔ واللہ تعالیٰ اعلم “ ترجمہ: محیط میں ہے جس نے حرام مال سے صدقہ کرکے ثواب کی امید کی وہ کافر ہوا، اور اس میں بحث ہے کیونکہ جس کے پاس حرام مال ہو (اور مالک معلوم نہ ہو یا مر گیا اور اس کے ورثہ بھی نہیں تو) اس مال کو فقرا پر تصدق کا حکم ہے پس لازم ہے کہ تصدق کرنے پر اللہ کی اطاعت اور اس کا حکم ماننے کے سبب اس شخص کو اجر دیا جائے۔ اور شاید کہ مالِ حرام سے متعلق مذکورہ مسئلہ اس صورت میں ہو کہ مالک معلوم ہونے کے باوجود محض ریا کاری اور شہرت کی غرض سے یہ مال کسی اور کو دے دیا جائے جیسا کہ فی زمانہ ظالموں اور امرا میں یہ بات بکثرت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، 650-19/649 ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
حدیثِ پاک میں نماز اور صدقہ کو جمع کرنے کی حکمت:
اس حدیثِ پاک میں نماز اور صدقہ دونوں کو اس لئے جمع کیا کہ عبادات کی دو قسمیں ہیں:
(1) مالی، اور (2) بدنی، پس مالی سے صدقہ کو چنا کہ اس کا نفع کثیر اور فائدہ عام ہے اور بدنی سے نماز کو کہ قرآن وسنت میں اس کا ذکر ایمان کے بعد متصل کیا گیا ہے، یہ دین کا ستون اور اسلام و کفر میں فرق کرنے والی ہے نیز ان دونوں کو جمع کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دونوں کی قبولیت کے لئے طہارت ضروری ہے نماز کے لئے بدن کی طہارت اور صدقہ کے لئے مال کا پاک ہونا۔ (شرح سنن ابی داود للعینی، کتاب الطهارة، باب فرض الوضو، 1/181 ، مكتبة الرشد، الرياض)
”هٰذَا الْحَدِيْثُ أَصَحُّ شَىْءٍ فِى هٰذَا الْبَابِ وَأَحْسَنُ“ کا معنیٰ:
علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 911ھ) فرماتے ہیں:
یہ کلمہ بکثرت جامع ترمذی میں اور تاریخِ بخاری وغیرہ میں بھی مذکور ہے اور امام نووی نے اذکار میں فرمایا ہے کہ اس سے حدیث کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ محدثین حدیثِ ضعیف سے متعلق بھی ”هٰذَا أَصَحُّ مَا جَاءَ فِي الْبَابِ“ فرماتے ہیں اور اس سے ان کی مراد ”أَْرُجحہٍ“ یا ”أَقَلُّهُ ضَعْفًا“ ہوا کرتی ہے یعنی مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ حدیث اس باب میں مروی دیگر احادیث سے راجح ہے یا دیگر کی بنسبت کم درجہ ضعیف ہے۔ (تدريب الراوی، انواع الحديث، النوع الاول، اصح الاسانید مطلقا، 1/92 ، دار طیبه)
ابو الملیح بن اسامہ کا تعارف:
علامہ ابن حجر عسقلانی (متوفی 852ھ) فرماتے ہیں: ابو الملیح بن اسامہ بن عمیر یا عامر بن عمیر بن حنیف بن ناجیہ ہذلی ، آپ کا نام عامر ہے ، ایک قول کے مطابق زید اور ایک قول کے مطابق زیاد ہے ، طبقۂ ثالثہ کے ثقہ ہیں ، 98 ہجری میں وفات پائی اور کہا گیا ہے کہ 108 ہجری میں اور ایک قول کے مطابق اس سے بھی بعد میں فوت ہوئے۔ (تقریب التہذیب، باب الکنی، حرف المیم، 1/675 ، دار الرشید، سوريا)
صلاح الدین صفدی (متوفی 764ھ) لکھتے ہیں: ابو الملیح ہذلی بصری ، ثقہ ہیں اپنے والد ، سیدہ عائشہ ، بریدہ بن حصیب ، عوف بن مالک ، ابن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہیں 112 ہجری میں فوت ہوئے۔ (الوافی بالوفیات، ابو الملیح الهذلی، 16/339 ، دار احیاء التراث، بیروت)
ابن سعد (متوفی 230ھ) لکھتے ہیں: آپ کا نام عامر بن اسامہ بن عمیر ہے ، ثقہ ہیں ، آپ سے احادیث مروی ہیں اور ایوب وغیرہ نے آپ سے روایت کیا ہے 112 ہجری میں فوت ہوئے۔ آپ کے بیٹے سے مروی ہے کہ آپ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک سال یا اس کے قریب کچھ عرصہ قبل فوت ہوئے اور امام حسن آپ کے جنازے میں شریک تھے اور خود ابو الملیح سے مروی ہے کہ آپ ابلہ میں عامل تھے اور نماز جمعہ کے لئے بصرہ میں آیا کرتے تھے۔ (الطبقات الکبری، ومن طبقة الثانیة…، ابو الملیح الهذلی، 7/164 ، دار الکتب العلمیة، بیروت)