حدیث ضعیف کی تعریف
حدیث ضعیف کی تعریف
لغت کے اعتبار سے ضعیف قوی کی ضد ہے، اور ضعف حسی بھی ہوتا ہے اور معنوی بھی، حسی بھی ہوتا ہے اور یہاں ضعف سے مراد معنوی ہے ۔ اور حدیثِ ضعیف کی اصطلاحی تعریف یہ ہے:
حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:
ہر وہ حدیث جس میں حدیثِ صحیح اور حدیثِ حسن کی ایک یا ایک سے زائد صفات نہ ہوں وہ حدیثِ ضعیف ہے، علامہ ابو حاتم بن حبان بستی نے اس کی انچاس اقسام بیان کی ہیں ۔ (الی قولہ) حدیثِ ضعیف کی اقسام میں سے جو مشہور ہیں اور ان کا معروف نام ہے وہ یہ ہیں: موضوع، مقلوب، شاذ، معلل، مضطرب، مرسل، منقطع اور معضل۔ )حافظ ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمن شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ علوم الحدیث ص ۳۸۔۳۷ ، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ)
حدیثِ ضعیف کی مثال یہ حدیث ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَتَى حَائِضًا أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا أَوْ كَاهِنًا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ۔( امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ۲۷۹ھ، جامع ترمذی ص ۴۶، مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارتِ کتب کراچی)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں: جس شخص نے حائضہ سے وطی کی، یا کسی عورت کی دبر میں وطی کی یا جو شخص کسی کاہن کے پاس گیا اس نے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل شدہ (دین) کا انکار کیا۔
امام ترمذی اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
«وَضَعَّفَ مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ»
امام بخاری نے سند کے اعتبار سے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
پہلے ہم حدیث ضعیف کی وہ اقسام بیان کریں گے جو سند میں راوی کے سقوط کے اعتبار سے ہیں، پھر وہ اقسام بیان کریں گے جو راوی میں طعن کے اعتبار سے ہیں۔
سقوطِ راوی کے اعتبار سے حدیثِ ضعیف کی اقسام
> اس سے مراد یہ ہے کہ راوی نے سلسلہ سند میں سے ایک یا ایک سے زیادہ راویوں کو عمداً یا غیر عمداً ساقط کردیا ہو، سند کے اول سے، آخر سے یا اثناء سند سے خواہ یہ سقوط ظاہر ہو یا خفی۔ ظہور اور خفاء کے اعتبار سے سلسلہ سند سے راویوں کے سقوط کی دو قسمیں ہیں:
(۱)۔ سقوطِ ظاہر: سقوط کی اس قسم کی معرفت میں ائمہ حدیث اور عام علماءِ حدیث دونوں مشترک ہیں، یہ سقوط راوی اور اس کے شیخ کے درمیان ملاقات نہ ہونے سے پہچانا جاتا ہے، اس کا ایک سبب یہ ہے کہ راوی نے اپنے شیخ کا زمانہ نہیں پایا، دوسرا سبب یہ ہے کہ راوی نے اپنے شیخ کا زمانہ تو پایا لیکن اس سے ملاقات نہیں کی( اور نہ راوی کو شیخ سے اجازت حاصل ہے)، بایں طور کہ شیخ نے کہا ہو کہ میں نے اپنی روایات کی اپنے زمانہ والوں کو روایت کرنے کی اجازت دی، اور نہ اس کو شیخ سے دجاءت حاصل ہو، بایں طور کہ راوی اپنے شیخ کے خط کو پہچانتا ہو اور اسے اس خط میں شیخ کی مرویات مل گئی ہوں، اس کو جاننے کے لیے راوی کی تاریخ جاننے کی ضرورت پیش آئے گی، جس سے اس کے پیدا ہونے، فوت ہونے، طلبِ علم کے اوقات اور سفرِ طلبِ علم کے اوقات کا پتا چلے گا۔
علماءِ حدیث نے سقوطِ ظاہر کے اعتبار سے حدیث کی چار قسمیں کی ہیں: (۱) معلق (۲) مرسل (۳) معضل (۴) منقطع۔
(ب) سقوطِ خفی: یہ وہ قسم ہے کہ سوائے ان ماہر ائمہ کے جو طرقِ حدیث اور عللِ حدیث پر مطلع ہوتے ہیں اور کوئی ان کی معرفت حاصل نہیں کر سکتا، اس کی دو قسمیں ہیں: مدلس اور مرسلِ خفی۔