کتاب الصلوۃ باب 106 حدیث نمبر 516
١٠٦ – بَابُ مَنْ حَمَلَ جَارِيَةً صَغِيرَةً عَلَى عُنُقِهِ فِي الصَّلوةِ
جس شخص نے نماز میں اپنی گردن پر چھوٹی بچی کو اٹھایا
اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ نماز میں چھوٹی بچی کو اپنی گردن پر اٹھانے سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور اس باب کی ابواب سابقہ کے ساتھ یہ مناسبت ہے کہ نماز میں بچی کو اپنی گردن پر اٹھانا نمازی کے آگے سے گزرنے سے زیادہ شدید ہے، جب اس سے نماز میں ضرر نہیں ہوتا تو نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہ طریق اولی نمازی کی نماز میں ضرر نہیں ہوگا۔
٥١٦ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بن سليم الزُّرَقِي عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِي أَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي وَهُو حَامِل أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ الله صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَابِي الْعَاصِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدشَمْسٍ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَهَا ، وَإِذَا قَامَ حَمَلَهَا۔طرف الحديث : 5996
( صحیح مسلم : 543، الرقم السلسل : ۱۱۹۲ سنن ابوداؤد : ۹۲۰_۹۱۹- ۹۱۸ – ۹۱۷ سنن نسائی: 711، ‘السنن الکبری : ۷ ۱۱۴ صحیح ابن حبان : ۱۱۰۹ المعجم الكبير : ۱۰۶۷ – ج ۲۲ ، سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۶۳ – ۲۶۲ شرح السنة : ۷۴۱ ، مسند الشامیین : ۱۸۲۹ موطا امام مالک۔ جامع الصلوۃ: ۸۱ تنویر الحوالک ص ۱۸۷ مسند احمد ج ۵ ص ۲۹۶ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۲۵۲۴ – ج ۳۷ ص ۲۰۴ مؤسسة الرسالة بيروت، جامع المسانيد اابن الجوزي:1349، مكتبة الرشد ریاض (1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از عامر بن عبدالله بن الزبير از عمرو بن سلیم الزرقی از ابوقتاده الانصاری رضی اللہ عنہ که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ زینب بنت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی امامہ کو اٹھائے ہوئے تھے جو ابو العاص بن ربیعہ بن عبد شمس کی بیٹی تھیں، جب آپ سجدہ کرتے تو ان کو نیچے رکھ دیتے اور جب آپ کھڑے ہوتے تو ان کو اٹھالیتے۔
حدیث مذکور کے رجال
(۱) عبد اللہ بن یوسف التنيسی
(۲) امام مالک بن انس اصحبی
(۳) عامر بن عبدالله بن الزبیر بن العوام
(۴) عمر و بن سلیم الزرقی، ان کا تعلق انصار سے تھا یہ زریق بن عامر بن زریق بن عبد حارثہ بن مالک بن عصب بن جشم بن الخزرج ہیں
(۵) حضرت ابو قتادہ الانصاری رضی اللہ عنہ ان کا نام الحارث بن ربعی اسلمی ہے، ابن الکلمی اور ابن اسحاق نے کہا: ان کا نام النعمان ہے الہیثمی بن عدی نے کہا:بحضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ۳۸ھ میں ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۴۰)
حضرت امامہ رضی اللہ عنہا کو اٹھا کر نماز پڑھانے کی کیفیت کے متعلق احادیث
اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچی کو اٹھایا ہوا تھا، لیکن یہ مذکور نہیں ہے کہ آپ نے اٹھا کر کہاں رکھا ہوا تھا
دوسری احادیث میں اس کا ذکر ہے:
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے حضرت امامہ بنت ابی العاص بن الربیع کو اٹھایا ہوا تھا، ان کی والدہ حضرت زینب بنت رسول اللہ للہ صلی اللہ علیہ وسلم تھیں اور حضرت امامہ بچی تھیں’ آپ نے ان کو اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے اور وہ آپ کے کندھے پر تھیں جب آپ رکوع میں جاتے تو ان کو زمین پر رکھ دیتے اور جب آپ کھڑے ہوتے تو پھر ان کو اٹھا لیتے حتی کہ آپ نے اسی طرح نماز پوری کرلی۔ (سنن ابودائود : ۹۱۸)
حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور امامہ بنت ابی العاص آپ کی گردن پر تھیں، جب آپ سجدہ کرتے تو ان کو زمین پر رکھ دیتے ۔ (سنن ابودائود ۹۱۹)
حضرت ابوقتادہ رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی بیان کرتے ہیں: ہم ظہر یا عصر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا’ آپ تشریف لائے اور حضرت امامہ بنت ابی العاص آپ کی صاحب زادی رضی اللہ عنہا کی بیٹی آپ کی گردن پر تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جانماز پر کھڑے ہوئے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور حضرت ابو امامہ آپ کی گردن پر ہی تھیں، آپ نے اللہ اکبر پھر ہم نے اللہ اکبر کہا حتی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو ان کو پکڑ کر زمین پر رکھ دیا، پھر آپ نے رکوع کیا اور سجدہ کیا حتی کہ جب آپ سجدہ سے فارغ ہوکر کھڑے ہوئے تو پھر آپ نے ان کو پکڑکر اپنی گردن پر رکھ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رکعت اسی طرح پڑھاتے رہے حتی کہ آپ اپنی نماز سے فارغ ہوگئے۔( سنن ابوداود : ۹۲۰)
بچی کو اٹھا کر نماز پڑھنے میں مذاہب فقہاء اس عمل کثیر کی متعدد علماء سے توجیہات اور عمل کثیر کی تعریف
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
یہ حدیث امام شافعی اور ان کے موافقین کے مذہب پر دلالت کرتی ہے کہ بچے یا بچی کونفل نماز میں اٹھانا جائز ہے خواہ وہ امام ہو یا تنہا نماز پڑھ رہا ہو۔
علامہ عینی فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں کہ اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے، جیسا کہ علامہ ابو بکر بن مسعود کاسانی حنفی متوفی 587ھ نے بیان کیا ہے کہ عمل کثیر نماز کو فاسد کردیتا ہے اور عمل قلیل نماز کو فاسد نہیں کرتا اور عمل کثیر وہ ہے جس میں دونوں ہاتھوں کو استعمال کرنے کی ضرورت ہو اور عمل قلیل وہ ہے جس میں دونوں ہاتھوں کو استعمال کرنے کی ضرورت نہ ہو اور اس کی کئی صورتیں ہیں:
(۱) جب کسی شخص نے کمان اٹھا کر تیر چلایا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی
(۲) اسی طرح اگر عورت نے اپنے بچے کو اٹھا کر دودھ پلایا کیونکہ اس میں بھی عمل کثیر ہے جو نماز کو فاسد کردیتا ہے لیکن بچہ کو دودھ پلائے بغیر اٹھایا تو وہ نماز کے فساد کو واجب نہیں کرتا پھر علامہ کاسانی نے اس حدیث کا ذکر کرکے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل مکروہ نہیں تھا کیونکہ آپ کو اس کی احتیاج تھی وہاں پر اس بچی کی حفاظت کرنے والا اور کوئی نہیں تھا یا آپ اپنے اس فعل سے اس کا حکم شرعی اور جواز بیان کرنا چاہتے تھے، اور یہ فساد نماز کا موجب نہیں ہے، اس طرح ہمارے زمانہ میں بھی ہم میں سے کسی کے لیے یہ عمل مکروہ نہیں ہے اور بغیر ضرورت کے نماز میں بچی کو اٹھانا مکروہ ہے۔ (بدائع الصنائع ج ۲ ص ۱۴۶ دار الکتب العلمیہ، بیروت (1418ھ)
اشہب نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بچی کو اٹھانے کا یہ واقعہ نفل نماز میں تھا اور اس قسم کا فعل فرض نماز میں جائز نہیں ہے اور ابو عمر نے کہا ہے: تمہارے لیے امام مالک کی تفسیر کافی ہے کیونکہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ اس قسم کا فضل نماز میں مکروہ ہے۔
علامہ یحیی بن شرف نووی شافعی متوفی 686ھ نے کہا ہے کہ یہ تاویل فاسد ہے کیونکہ حدیث میں یہ تصریح ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھارہے تھے ۔ (سنن ابوداؤ د ۹۱۹) اور اس میں یہ تصریح ہے کہ یہ فرض نماز تھی۔
علامہ نووی نے یہ لکھا ہے کہ بعض مالکیہ نے یہ کہا ہے کہ یہ عمل منسوخ ہو گیا ہے ابو عمر نے کہا ہے کہ اس کی ناسخ یہ حدیث ہے:
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں سلام کرتے تھے اور آپ ہم کو جواب دیتے تھے، پھر جب ہم نجاشی کے پاس سے لوٹ کر آئے تو ہم نے آپ کو سلام کیا، آپ نے ہمیں جواب نہیں دیا اور (بعد میں ) فرمایا : نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔(صحیح البخاری : 3875 صحیح مسلم : ۵۳۸ سنن ابن ماجہ : ۱۰۱۹ مسند الامام الطحاوی: ۵۰۴۳ مکتبۃ الحرمین’ دینی ۱۴۲۶ھ )
اس حدیث سے نماز میں بچی اٹھانے پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جس وقت حضرت عبداللہ بن مسعود حبشہ سے آئے تھے، اسی وقت حضرت زینب اور ان کی بچی رضی اللہ عنہما بھی حبشہ سے آئے تھے اور اس کے بعد آپ نے ان کی بچی کو نماز میں اٹھایا تھا’ ابن شہاب اور ابن نافع نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت کی وجہ سے نماز میں بچی کو اٹھایا تھا’ دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے، یہ جوابات قاضی عیاض مالکی نے ذکر کیے ہیں ۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۲ ص 473)
علامہ نووی نے کہا ہے: یہ تمام دعاوی باطل اور مردود ہیں کیونکہ ان کے اوپر کوئی دلیل نہیں ہے اور نہ ان کی ضرورت ہے، بلکہ حدیث صریح اس کے جواز میں موجود ہے اور اس میں کوئی چیز قواعد شرع کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ آدمی طاہر ہے اور اس کے پیٹ میں جو نجاست ہے وہ معاف ہے کیونکہ وہ اپنے معدن میں ہے اور بچوں کے کپڑے اور ان کے اجسام طاہر ہیں اور دلائل شرع سے یہ ثابت ہے کہ اس قسم کے افعال نماز کو باطل نہیں کرتے جب وہ افعال کم ہوں یا متفرق ہوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل جواز بتانے کے لیے ہے۔ ( صحیح مسلم بشرح النووی ج ۳ ص ۱۸۱۹ – ۱۸۱۸ مکتبه نزار مصطفی، مکه مکرمه 1417ھ)
علامہ عینی فرماتے ہیں : بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص اس قسم کا فعل کرے تو میرے نزدیک اس حدیث کی وجہ سے نماز کا اعادہ نہیں ہے ہر چند کہ میں کسی کے لیے اس فعل کو پسند نہیں کرتا، امام احمد بن حنبل اس فعل کو جائز قرار دیتے تھے، اثرم بیان کرتے ہیں: امام احمد سے سوال کیا گیا: ایک شخص نماز پڑھتے ہوئے اپنے بیٹے کو پکڑسکتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! اور اس حدیث سے استدلال کیا۔
علامہ حمد بن محمد خطابی متوفی ۳۸۸ھ نے کہا ہے کہ حق کے قریب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فعل نماز میں عمدا دانستہ نہیں کیا اور وہ بچی غیرنماز میں آپ کے ساتھ رہنے کی عادی تھی، سو وہ نماز میں بھی آپ کے ساتھ لپٹ گئی اور آپ اس کو اپنے سے دور نہیں کرسکے وہ آپ کے کندھے پر تھی اور جب آپ سجدہ میں گئے تو آپ نے اس کو کندھے سے اتار کر زمین پر رکھ دیا حتیٰ کہ آپ سجدہ سے فارغ ہوگئے اور جب آپ نے قیام کا ارادہ کیا تو بچی پھر آپ کے ساتھ لپٹ گئی اور آپ اس کو اپنے سے دور نہ کرسکے اور نہ منع کرسکے حتی کہ جب آپ کھڑے ہوئے تو وہ اسی طرح آپ کے کندھے پر تھی میرے نزدیک اس حدیث کی یہی توجیہ ہے۔
اس پر یہ وہم ہوسکتا ہے کہ بچی کو بار بار کندھے پر بٹھانے اور کندھے سے اتارنے میں عمل کثیر ہے اور یہ نمازی کو اس کی نماز میں مشغولیت سے باز رکھتا ہے اور جب چادر کے نقش و نگار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے خشوع میں خلل انداز ہوتے تھے حتیٰ کہ آپ نے حضرت ابوجہم رضی اللہ عنہ کو وہ چادر واپس کرکے ان سے ان کی سادہ چادر منگوائی تو یہ عمل کثیر تو اس سے زیادہ نماز کے خشوع میں باعث خلل ہے؟ اس کا یہی جواب ہے کہ آپ نے یہ عمل قصدا اور دانستہ نہیں کیا تھا اور ایسی صورت میں عام مسلمانوں کے لیے بھی اس طرح کرتا جائز ہے۔ (معالم السنن وابی سلیمان الخطابی الشافعی ج ۱ص۴۳۱ دار المعرفة بیروت)
علامہ یحیی بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ ھ نے علامہ خطابی کے کلام کا خلاصہ نقل کرنے کے بعد یہ کہا ہے کہ علامہ خطابی نے جو کہا ہے وہ باطل ہے کیونکہ وہ خالی زبانی دعوی ہے اور علامہ خطابی کے جواب کو یہ بات رد کرتی ہے کہ جب آپ کھڑے ہوتے تو بچی کو اٹھالیتے اور جب آپ سجدہ سے اٹھتے تو بچی کو اٹھالیتے اور ایک حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بچی کو اٹھائے ہوئے ہمارے پاس آئے۔ (سنن ابوداؤد: ۹۱۸)
اور باقی رہا نقش و نگار والی چادر کا قصہ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دل کو بے فائدہ نماز کے خشوع سے روکتی ہے اور حضرت امامہ کو اٹھانے سے دل کے خشوع میں فرق نہیں آتا اور اگر اس سے فرق بھی آتا ہو تو اس میں یہ فائدہ ہے کہ امت کو یہ تعلیم دینا مقصود تھا کہ بچوں کا جسم اور ان کے کپڑے پاک ہوتے ہیں اور جب افعال متعدد اور متفرق ہوں تو وہ نماز کو باطل نہیں کرتے، پس صحیح بات یہ ہے کہ اس حدیث سے عدول کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور یہ حدیث بیان جواز کے لیے ہے اور اس میں ان فوائد پر تنبیہ ہے پس یہ عمل ہمارے لیے بھی جائز ہے اور قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے شریعت مستمرہ ہے۔ صحیح مسلم بشرح النووی ج ۳ ص ۱۸۲۰ – ۱۸۱۸ مکتبہ نزار مصطفی الباز مکه مکرمه (1417ھ)
علامہ عینی فرماتے ہیں کہ علامہ خطابی کی تقریر کو رد کرنے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ حدیث میں ہے: آپ نے اس بچی کو پکڑکر پھر اس کی جگہ (یعنی کندھے پر) رکھ دیا، اس میں یہ دلیل ہے کہ بچی کو اٹھانے اور رکھنے کا عمل آپ نے کیا تھا اس بچی یعنی حضرت امامہ نے نہیں کیا تھا، بعض اصحاب مالک نے یہ کہا ہے کہ اگر آپ بچی کو چھوڑ دیتے تو وہ روتی اور آپ کی توجہ نماز سے ہٹتی اور نماز میں خلل پڑتا اور یہ خلل بچی کو اٹھانے کے خلل سے زیادہ تھا اور امام مالک کے بعض اصحاب نے فرض نماز اور نفل نماز میں فرق کیا ہے۔ علامہ ابوالولید سلیمان بن خلف باجی مالکی متوفی ۴۹۴ھ نے یہ کہا ہے: اگر کوئی شخص بچی کی حفاظت کرنے والا ہو تو پھر بھی یہ عمل نفل نماز میں جائز ہے فرض نماز میں جائز نہیں ہے اور اگر کوئی حفاظت کرنے والا نہ ہو تو پھر یہ عمل فرض اور نفل دونوں میں جائز ہے۔ المنتقی ج ا ص ۳۰۴ دار الكتاب العربی بیروت
اکثر اہل علم نے یہ کہا ہے کہ یہ ایسا عمل ہے جو بار بار نہیں ہوا کیونکہ نماز کے ارکان میں طمانیت حاصل تھی۔
علامہ فاکہانی نے کہا ہے : نماز میں حضرت امامہ کے اٹھانے میں یہ نکتہ ہے کہ عرب والے بچیوں کو بُرا جانتے تھے اور ان سے نفرت کرتے تھے تو آپ نے بچیوں سے محبت کرنے کی تلقین کرنے کے لیے نماز میں حضرت امامہ کو بار بار اٹھایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ اس بات کو زبانی بھی بتاسکتے تھے لیکن عمل کر کے دکھانا تبلیغ کی تاثیر میں زیادہ قوت رکھتا ہے۔(عمدۃ القاری ج 4 ص ۴۴۴ – ۴۴۲ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )