کتاب الصلوۃ باب 27 حدیث نمبر 390
۲۷ – بَابٌ يُبْدِي ضَبْعَيْهِ وَيُجَافِي فِي السُّجُودِ
بغلوں کو ظاہر کرے اور بازوؤں کو سجدہ میں پہلوؤں سے دور کھے
اس سے پہلے باب میں طمانیت سے سجدہ کرنے کا ذکر تھا اور اس باب میں سجدہ میں بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھنے کا ذکر ہے اور ان دونوں چیزوں کا تعلق سجدہ کے احکام سے ہے۔
۳۹۰ – أخبرنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مضر، عن جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ مَالِكِ بن بحيْنَة أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صلی فَرَّجَ بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ وَقَالَ الليث حَدَثَنِى جَعْفَرُ مِنْ رَبيعَةَ نَحْوَهُ.
اطراف الحدیث: 807-3564
صحیح مسلم : 495 الرقم المسلسل : ۱۰۸۵ سنن نسائی: ۱۱۰۲ المعجم الاوسط :8670 مسند احمد ج ۵ ص ۳۴۵ طبع قدیم مسند احمد : ۲۲۹۲۳ – ج ۳۸ ص 11 مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں ہمیں یحیی بن بکیر نے خبر دی انہوں نے کہا : ہمیں بکر بن مضر نے حدیث بیان کی از جعفر از ابن هرمز از عبدالله بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو کشادہ رکھتے حتی کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ( کی جگہ ) ظاہر ہوتی اور لیث نے کہا: مجھے جعفر بن ربیعہ نے اس کی مثل حدیث بیان کی ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(1) یحیی بن بکیر
(۲) بکر بن مضر، ابو عبید نے کہا : مضر کا نام مضر بن نزار بن معد بن عدنان ہے
(۳) جعفر کا نام جعفر بن ربیعہ بن شرجیل المصری ہے یہ ۱۳۵ھ میں فوت ہوگئے تھے
(۴) ابن هرمز، ان کا نام عبد الرحمان الاعرج ہے یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں
(۵) عبد الله بن مالک ابن بحینہ رضی اللہ عنہ بحینہ عبداللہ کی ماں کا نام ہے یہ اپنے والدین کی طرف منسوب ہیں، یہ قدیم الاسلام ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں یہ بہت عبادت گزار اور فاضل تھے ہمیشہ روزے سے رہتے تھے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فوت ہوگئے تھے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۸۲)
ابن کے الف لکھنے اور نہ لکھنے کا قاعدہ
علامہ نووی نے کہا ہے کہ عبداللہ بن مالک میں مالک پر تنوین پڑھی جائے اور ابن بحینہ میں ابن کو الف کے ساتھ لکھا جائے کیونکہ ابن بحینہ مالک کی صفت نہیں ہے بلکہ عبداللہ کی صفت ہے، ان کے والد کا نام مالک ہے اور ان کی ماں کا نام بحینہ ہے، پس بحینہ مالک کی بیوی ہیں اور عبداللہ کی ماں ہیں، پس یہ ابن دو متناسل علموں ( ناموں) کے درمیان واقع نہیں ہے ابن کا الف اس وقت نہیں لکھا جاتا جب وہ دو متناسل علموں کے درمیان واقع ہو جیسے عبداللہ بن عمر بن الخطاب اور جب ایسا نہ ہوتو دوسرے ابن سے پہلے الف کو لکھا جاتا ہے، جیسے عبداللہ بن مالک ابن بحینہ یا عبداللہ بن ابی ابن سلول سلول عبداللہ کی ماں کا نام ہے۔
عمدة القاری ج 4 ص ۱۸۲)
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ عنوان میں سجدہ میں بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھنے کا ذکر ہے اور حدیث میں نماز میں بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھنے کا ذکر ہے اور اس حدیث میں نماز سے مراد سجدہ ہے اور کل کا اطلاق جز پر ہے۔
عورتوں اور مردوں کی نماز کے طریقہ کا فرق
اس حدیث میں مذکور ہے: جب آپ نماز پڑھتے تو دونوں بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھتے، یہ مردوں کے نماز پڑھنے کا طریقہ ہے اور عورتیں اور ہیجڑے اپنے بازوؤوں کو اپنے پہلوؤں سے ملا کر رکھیں کیونکہ ان کے حق میں ستر مطلوب ہے اور بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ان کے حق میں سنت چار زانو بیٹھنا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ان کو بازو کھلے رکھنے اور باز و ملاکر رکھنے کا اختیار ہے۔
یزید بن ابی حبیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں، آپ نے فرمایا: جب تم نماز پڑھا کرو تو اپنے جسم کے بعض حصے کو زمین سے لگایا کرو کیونکہ اس میں عورتیں مردوں کی طرح نہیں ہیں۔
مراسیل ابوداؤد ص ۸ مطبع مجتبائی پاکستان لاہور 1405ھ)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، جب عورت نماز میں بیٹھے تو اپنی ایک ران دوسری ران پر رکھ لے اور جب سجدہ کرے تو اپنے پیٹ کو رانوں کے ساتھ چمٹائے یہ اس کے لیے زیادہ ستر کی مثل ہے۔ (کنز العمال ج 7 ص 549، مؤسسة الرسالة بیروت 1405ھ )
باب مذکور کی حدیث، شرح صحیح مسلم: ۱۰۰۷ – ج ا ص ۱۳۰۴ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی۔