حضرت علامہ مفتی محمد ہاشم خان العطاری المدنی
کچھ شارح کے بارے میں
حضرت علامہ مفتی محمد ہاشم خان العطاری المدنی (افادنا اللہ بطالۃ عمرہ)
از قلم: مولانا احمد رضا عطاری المدنی
مدرس: جامعۃ المدینہ گلزار حبیب، لاہور
شہرِ علم و ادب لاہور کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس کے مدارس اور جامعات سے وقت کے بڑے بڑے ماہرینِ علوم و فنون کی مہک آتی ہے، زمانہ جن کی خاکِ قدم کا ایک ذرہ مٹھی میں لینے کی آرزو کرتا ہے ان نفوسِ قدسی صفات نے شہرِ لاہور کی درسگاہوں کو اپنے ورودِ مسعود اور تعلیمی سرگرمیوں سے مشرف کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب اس شہر کی علمی فضائوں میں اپنا نام اور پہچان بنانا قدرے مشکل کام ہے۔ علمی رسوخ اور جانفشاں محنت کے ساتھ ساتھ اخلاص اور کام کرنے کا درست اور تعمیری طریقہ کار جیسی خصوصیات کے حصول کے بغیر علمی حلقوں میں مقبولیت حاصل کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ہاشم خان عطاری کو ایسی بہت سی خصوصیات عطا فرمائی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے بہت کم عرصے میں لاہور کے علمی و تحقیقی تدریسی و تصنیفی اور بطورِ خاص فقہی منظرنامے پر اپنا نقش ثبت کیا ہے وہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ مفتی صاحب کو لاہور میں تشریف لائے ہوئے اگرچہ بہت زیادہ عرصہ نہیں ہوا ہے مگر انہوں نے یہاں آمد کے بعد کچھ ہی عرصے میں اپنی جہدِ مسلسل اور خلوص و للہیت کی بدولت عوام و خواص کے دلوں میں جو مقام بنایا ہے اس سے ہمیں ان کی خداداد صلاحیتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ علمی حلقوں میں ان کا نام خوشبو کی طرح بہت جلد پھیل گیا، علماء کی مجالس میں ان کا نام احترام سے لیا جانے لگا اور طلبہ ان کی خدمت میں زانوئے تلمذ طے کرنے کی آرزو میں جوق در جوق آنے لگے۔ اس وقت لاہور میں مفتی صاحب فقہ کے واحد استاذ ہیں جن کی خدمت میں تمام بڑے مدارسِ اہلسنت کے طلبہ درسیات کی تکمیل کے بعد **تخصص فی الفقہ** کرنے کے لئے سب سے زیادہ تعداد میں آتے ہیں اور علم وفضل سے اپنا دامن بھر کے جاتے ہیں ۔ یقیناً یہ مقبولیتِ عامہ مفتی صاحب پر فضلِ خدا اور رسول عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور بزرگانِ دین کی نظرِ عنایت کا مظہر ہے وہی اس میں ان کی محنتِ شاقہ کا بھی بہت عمل دخل ہے ۔ سطورِ ذیل میں آپ کا مختصر تعارف اور دینی خدمات کا اجمالی ذکر پیش کیا جا رہا ہے ۔
ابتدائی حالات
مفتی محمد ہاشم خان عطاری ۷ جون ۱۹۷۹ء کو پاکستان کے شہر پنڈی گھیپ میں پیدا ہوئے جو کہ راولپنڈی ڈویژن کے ضلع اٹک کی ایک تحصیل ہے ۔ والدِ ماجد کا نام گل محمد اور جدِ امجد کا نام شیر محمد ہے ۔ بہت سے لوگوں کو مفتی صاحب کے نام کے ساتھ ”خان“ کا لاحقہ دیکھ کر ان کی قومیت کے بارے میں غلط فہمی ہو جاتی ہے ، حالانکہ ان کا تعلق اعوان برادری سے ہے ، مگر چونکہ ان کے والدِ ماجد کا کاروباری تعلق پشاور سے رہا ہے اور پشاور میں ان کا قیام بھی رہا ہے اس لئے انہوں نے لفظ ”خان“ کو اپنے بیٹوں کے ناموں کا حصہ بنا دیا ۔
مفتی صاحب کے دورِ طالب علمی کے حالات بہت سبق آموز ہیں ۔ ان سے جہاں ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جب انہوں نے علم کی شاہراہ پر قدم رکھا تو ان کو کیسی کیسی صعوبتیں سہنا پڑیں وہیں اس المناک حقیقت کا نقشہ بھی ذہن میں گھوم جاتا ہے کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ایک طالبِ علم کو اپنی تعلیم کی خاطر کیسے کیسے کشٹ اٹھانا پڑتے ہیں اور وہ کیسی کیسی انجانی راہوں سے گزرتا ہوا اور پاؤں سے آلام کے کانٹے نکالتا ہوا اپنی منزل تک پہنچتا ہے ۔
مفتی صاحب بتاتے ہیں کہ ان کی ابتدائی تعلیم کا آغاز محلے کے قریبی اسکول سے ہوا جس کا نام عابد ماڈل اسکول تھا ، وہاں سے ایک دو سال کے بعد گورنمنٹ پرائمری اسکول پنڈی گھیپ میں داخل ہوئے ، پرائمری کے بعد مڈل اور پھر ہائی اسکول سے تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوئے پنڈی گھیپ کے گورنمنٹ کالج میں داخل ہوئے اور انجینئرنگ کی کلاس پڑھنا شروع کردی مگر کالج میں تعلیم کا باقاعدہ مربوط نظام نہیں تھا لہذا انہوں نے کالج چھوڑ دیا اور بعد ازاں درسِ نظامی کے دوران ایف اے کا امتحان پرائیویٹ طالب علم کی حیثیت سے پاس کیا۔ کالج چھوڑنے کے بعد گھر والے اور خود مفتی صاحب بھی نوکری کی تلاش میں تھے بلکہ آپ نے گھریلو ضروریات کی بنا پر کالج کے زمانے سے ہی کام کرنا بھی شروع کر دیا تھا ۔ سات مہینے کپڑے کی دوکان پر کام کیا، ایک فیکٹری میں پتھر کوٹنے کی مشقت کی ، بازار میں سبزی بیچی ، قلفیاں لگائیں ، مزدوری کی مگر
وہ عجب گھڑی تھی کہ جس گھڑی لیا درسِ نسخہء عشق کا
مفتی صاحب نے دعوت اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستگی کی وجہ سے گھر سے اجازت مانگی کہ کچھ وقت علم دین کی راہ میں صرف کرنا چاہتا ہوں اس کے بعد کام کرنے کو ایک عمر پڑی ہے۔ اجازت مل گئی اور مفتی صاحب دعوت اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں مدرس کورس کرنے کے لئے حاضر ہو گئے ، یہاں داخلی کی رسمی کاروائی مکمل ہونے کے بعد آپ کو گودرہ کالونی کراچی کے مدرسۃ المدینہ میں بھیج دیا گیا جہاں آپ نے مدرس کورس کی تکمیل کی۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ جب آپ کا کورس مکمل ہوا تو وہیں آپ کو مدرس کورس کے استاذ کی ذمہ داری سونپ دی گئی اور یوں کچھ نہ کچھ روزی روٹی کا سلسلہ بھی چل نکلا اور گھر والے بھی اس بات سے مطمئن ہو گئے کہ نوکری مل گئی ہے۔
تاریخ کے بڑے لوگوں کی ایک خصوصیت یہ بھی رہی ہے کہ وہ ایک منزل پر پہنچ کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کی صفت سے آشنا نہیں ہوتے۔ مفتی صاحب نے بھی یہ کیا کہ دن کے وقت صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک مدرس کورس کی کلاس پڑھانے کے ساتھ ساتھ شام کے وقت درسِ نظامی کی کلاس پڑھنا شروع کر دی۔ ملازم پیشہ حضرات جانتے ہیں کہ دن بھر نوکری کرنے کے بعد باقی اوقات میں کام کرنے کے لئے انسان میں کیا باقی رہ جاتا ہے اور وہ بھی طلبِ علم جیسا عرق ریزی کا کام ، مگر مفتی صاحب اس دریا کو بھی عبور کر گئے اور خدا و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فضل و عنایت سے امتیازی حیثیت سے تعلیم مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے
طالب علمی کے اس سارے دور میں مفتی صاحب کو جن اساتذہ سے اکتسابِ علم کا شرف حاصل ہوا ان کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ناظرہ قرآن اپنی پھوپھی جان اور محلے کی مسجد کے امام، قاری اللہ دتہ صاحب سے پڑھا، جب کراچی میں مدرس کورس کرنے گئے تو وہاں قاری نیاز احمد سیالوی صاحب اور قاری فیصل صاحب آپ کے استاذ ہوئے ، چند دن قاری بغداد رضا صاحب بھی پڑھاتے رہے ۔ اور جب یہ مرحلہ مکمل کر کے آپ خود مدرس کورس کے استاذ بن گئے اور شام کے وقت درسِ نظامی کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا تو اس دوران آپ کو مفتی نعیم صاحب اور حضرت مولانا عبدالقادر صاحب کی خدمت میں زانوئے تلمذ طے کرنے کا موقع ملا اور آپ نے درسِ نظامی کی اکثر کتب انہی سے پڑھیں ۔ ابتدا میں کچھ عرصہ مولانا محمد صادق صاحب اور مولانا عرفان صاحب سے بھی پڑھتے رہے اور تفسیر بیضاوی شریف ، مولانا عبد الواحد صاحب سے پڑھی اور ابو البیان مولانا محمد حسان صاحب اور مفتی محمد نعیم صاحب سے دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کرنے کا شرف حاصل کیا۔ فتویٰ نویسی میں آپ کے استاذ اور مربی شیخ الحدیث والتفسیر مفتی محمد قاسم قادری عطاری مدظلہ العالی ہیں جو تفسیر صراط الجنان کے مصنف اور دعوتِ اسلامی کے دار الافتاء اہلسنت کے رئیس ہیں، قبلہ مفتی صاحب کا کہنا ہے کہ مجھے فقہ کے جو دو حرف آتے ہیں یہ سب مفتی محمد قاسم صاحب کی شفقتوں اور عنایتوں کا نتیجہ ہے۔
یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ مفتی صاحب کا یہ سارا سفر عیش وعشرت اور فراخ دستی کے بجائے تنگی وعسرت میں گزرا ظاہر ہے کہ وہ محنت مزدوری کا کام موقوف کر کے والدین کی اجازت سے پڑھنے کے لئے گئے تھے اس لئے ایک سال مدرس کورس کے بعد جب استاذ ہوئے اور تنخواہ کی صورت میں آمدن کا سلسلہ چل نکلا تو اس کا تقریباً تین چوتھائی حصہ گھر بھیجتے رہے اور خود فقط ایک چوتھائی میں اپنے تعلیمی و ذاتی اخراجات پورے کرتے رہے۔ اس وقت ان کی تنخواہ 2100 روپے ماہانہ تھی ، اس میں سے ہر دو ماہ بعد 3000 روپے والدین کو کراچی سے پنڈی گھیپ بھیجتے رہے، ظاہر ہے کہ باقی بچ جانے والی 1200 روپے کی قلیل رقم میں دو ماہ کے لئے اپنے اخراجات پورے کرنا بہت مشکل امر ہے۔ مفتی صاحب اس زمانے میں گھر پر زیادہ عرصے بعد آتے تھے ٹرین کی اکانومی کلاس کا ٹکٹ لیتے تھے مگر سیٹ بک نہیں کرواتے تھے، برتھ نہیں لیتے تھے کہ ان کے پاس ان کاموں کے لئے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ کراچی سے لے کر راولپنڈی تک کا سفر اس حالت میں ہوتا تھا کہ اگر کبھی سوءِ اتفاق سے راستے میں ٹکٹ گم ہو گیا یا ضرورتاً پلیٹ فارم پر اترے اور ٹرین چھوٹ گئی تو نیا ٹکٹ خریدنے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپ کا جوتا ٹوٹ چکا ہے، گم ہو چکا ہے اور آپ کئی کئی دن ننگے پاؤں گھوم رہے ہیں مگر جیب میں اتنے پیسے نہیں ہیں کہ نیا جوتا خرید سکیں۔ ایسے کٹھن حالات میں مفتی صاحب نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ کر اگلی منزلوں کے لئے رختِ سفر باندھ لیا۔
عملی زندگی:
مفتی صاحب کی عملی زندگی کا آغاز دینی تعلیم کے آغاز سے بھی پہلے ہو چکا تھا جس میں وہ مزدوری کی مشقت سے لے کر تجارت تک مختلف کام کرتے رہے اس کے بعد کراچی میں مدرس کورس کے استاذ مقرر ہوئے پھر درسِ نظامی کے بعد جامعۃ المدینہ کے استاذ مقرر ہو گئے اور ساتھ ہی ساتھ افتا کا کام بھی شروع کر دیا۔
آپ کی عملی زندگی کے پہلو تین یا چار شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں تدریس، تصنیف، افتاء اور خطابت چار ایسے شعبہ جات ہیں جن میں آپ بیک وقت خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ افتاء کے علاوہ باقی تمام شعبہ جات ایسے ہیں جن کے ساتھ آپ دورِ طالب علمی میں وابستہ ہو گئے تھے اور اسی دوران محنت اور لگن کے ساتھ اس نہج پر تعلیم حاصل کی کہ بعد از تکمیل آپ کو دعوتِ اسلامی کے شعبہ افتاء میں بھی شامل کر لیا گیا۔ ذیل میں آپ کی زندگی کے ان چار اہم مشاغل پر گفتگو کی جاتی ہے۔
تدریس:
مفتی صاحب تدریسی شعبے میں ایک ماہر تجربہ کار اور محنتی استاذ کی حیثیت سے معروف ہیں۔ آپ نے تدریس کا آغاز مدرس کورس سے کیا اور پھر جب درسِ نظامی کے کچھ ابتدائی درجات پڑھ لئے تو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ابتدائی درجات کے طلبہ کو پڑھانا شروع کر دیا۔ اس طرح یہ اعزاز بھی آپ کے حصے میں آیا کے جس وقت آپ درسِ نظامی کی تکمیل سے فارغ ہوئے تو اس وقت تک بہت سی چھوٹی بڑی کتابیں پڑھا چکے تھے جن میں علمِ نحو کی شرح ملا جامی، منطق کی کتاب قطبی اور بلاغت میں اسی پائے کی کتاب مختصر المعانی جیسی کتابیں شامل ہیں۔ بعد از فراغت دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں قائم جامعۃ المدینہ میں تدریسی خدمات سر انجام دیتے رہے اور پھر سن 2005ء میں راولپنڈی تشریف لے آئے اور وہاں پر دعوتِ اسلامی کے مدنی مرکز میں قائم جامعۃ المدینہ میں تدریسی خدمات سر انجام دینا شروع کر دیں اور کم و بیش تین برس تک اہم کتب کی تدریس فرمائی۔ بعد ازاں سن 2008ء میں آپ کی آمد لاہور میں ہوئی اور آپ علمائے امت کے اس قافلے میں شامل ہو گئے جن کو اس شہر میں قال اللہ اور قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی صدائیں بلند کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس وقت آپ کو درسِ نظامی کی تدریس فرماتے ہوئے سترہ برس ہو چکے ہیں اور اب تک آپ درسِ نظامی کے مروجہ نصاب کی تقریباً تمام کتابیں پڑھا چکے ہیں بلکہ درسِ نظامی اور تخصص فی الفقہ کی بعض اہم کتب متعدد مرتبہ پڑھانے کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔
گزشتہ کئی برسوں سے آپ دورۂ حدیث شریف میں بھی اسباق پڑھا رہے ہیں عرصہ دراز تک فیضانِ مدینہ کاہنہ نو لاہور اور فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور میں مسلم شریف پڑھاتے رہے اور فی الوقت فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن میں حدیث کی سب سے معتبر اور مستند کتاب بخاری شریف کی تدریس فرما رہے ہیں۔
آپ کی خدمت میں زانوئے تلمذ طے کر کے اکتسابِ علم کرنے والے طلبہ پاکستان کے کئی شہروں میں افتا و تصنیف اور تبلیغ و تدریس کے شعبہ جات میں اہم مناصب پر فائز ہیں۔ اس وقت پاکستان میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ جامعۃ المدینہ کی تقریباً دو سو شاخیں ہیں جن میں سے شاید ہی کوئی جامعہ ایسا ہو جس کے اساتذہ میں آپ کا کوئی شاگرد شامل نہ ہو، جبکہ پاکستان کے علاوہ بھی ایشیا، یورپ، افریقہ اور عرب دنیا کے کئی ممالک میں آپ کے تلامذہ مختلف النوع دینی خدمات میں مصروفِ عمل ہیں۔
لاہور آمد کا ذکر:
جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ کاہنہ نو لاہور میں مفتی صاحب کی تشریف آوری تازہ ہوا کا جھونکا تھی۔ اُن کے علمی فیوض وبرکات جب طلبہ تک پہنچنے لگے تو طلبہ و اساتذہ سب آپ کے گرویدہ ہو گئے۔ اس وقت یہ منظر اکثر نظر آتا کہ آپ ایک پیریڈ پڑھا کر کلاس سے باہر آ گئے ہیں مگر طلبہ اپنے سوالات لے کر آپ کے ساتھ ساتھ چلتے جا رہے ہیں، آپ نماز ادا کر کے مسجد سے اپنے کمرے کا رخ کرتے ہیں تو آپ کے ساتھ چلتے چلتے علمی استفادہ کرتے جا رہے ہیں۔ ادھر آپ کے ارد گرد سوال پوچھنے والے طلبہ کا ہجوم رہنے لگا اور ادھر شام کے اوقات میں جامعۃ المدینہ کے قابلِ قدر اساتذہ آپ سے رسمِ افتاء کا درس لینے لگے۔ اُس وقت فیضانِ مدینہ کی ہر کلاس کی ہی خواہش ہوتی تھی کہ مفتی صاحب سے کوئی کتاب پڑھنے کا شرف حاصل کیا جائے۔
پھر یہ خوشبو لاہور اور بیرونِ لاہور کے جامعات تک بھی پہنچ گئی۔ طلبہ درسیات کی اعلیٰ کتابیں بالخصوص **تخصص فی الفقہ** کے لیے آپ کی خدمات میں جوق در جوق آنے لگے۔ اس مقبولیت کا سبب مفتی صاحب کا وہ اندازِ تدریس ہے جو ان کے پاس پڑھنے والوں کے دل میں گھر کر جاتا ہے۔ وہ تدریس کے لیے باقاعدگی سے مطالعہ کرتے ہیں اور باقاعدگی سے پڑھاتے ہیں۔ شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو کہ وہ مطالعہ کر کے نہ آئیں اور پڑھائے بغیر چلے جائیں۔ اندازِ تفہیم ایسا عمدہ ہے کہ مشکل سے مشکل بحث بھی ان کے ہاتھ میں پانی ہو جاتی ہے۔ درس کے دوران طلبہ کو اپنی طرف متوجہ رکھنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ کلاس کے ماحول کو ہمہ وقت ترو تازہ رکھتے ہیں اور یہ بھی ان کی خصوصیت ہے کہ طلبہ کی عزتِ نفس کا بہت خیال رکھتے ہیں اور نالائق سے نالائق طالبِ علم کی بھی عزتِ نفس مجروح نہیں ہونے دیتے، یہی وجہ ہے کہ آپ نے قیامِ لاہور کے آٹھ برسوں میں ایسی مقبولیت اور مرجعیت حاصل کر لی ہے کہ جس کے لیے لوگوں کی عمریں گزر جاتی ہیں۔
فتوی نویسی
تدریس کے علاوہ افتاء ایسا شعبہ ہے جس میں مفتی صاحب کا اکثر وقت صرف ہوتا ہے۔ یہ بات بہت اہم اور قابلِ ذکر ہے کہ آپ کا دورِ طالبِ علمی کچھ ایسا شاندار گزرا ہے کہ عام طور پر درسیات مکمل کرنے کے بعد طلبہ کو فقہ حنفی کا جو خصوصی مطالعہ کروایا جاتا ہے جس کو تخصص فی الفقہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے مفتی صاحب کو اس کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ درسِ نظامی کی تکمیل کے بعد جب آپ کی دستار بندی ہوئی تو اسی وقت آپ کو دارالافتاء اہلسنت میں شامل کر لیا گیا۔
گو کہ آج کل کسی بھی فارغ التحصیل کے نام کے ساتھ دیگر بھاری بھرکم القابات کے ساتھ ساتھ مفتی جیسا قابلِ توقیر لقب بھی لکھ دیا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ کوئی بچوں کا کھیل نہیں، اور پھر دعوتِ اسلامی کے ماحول میں مفتی کے منصب تک پہنچنے کے لئے ذہانت و فطانت، ذاتی دلچسپی اور فقہ حنفی اور اس کے متعلقات کے کثیر مطالعہ کی مدد سے تخصص فی الفقہ سے لے کر معاون مفتی، متخصص، سینیئر متخصص، اور نائب مفتی کے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس لئے دعوتِ اسلامی میں تنظیمی اصطلاح کے اعتبار سے جن حضرات پر بالاہتمام لفظ مفتی کا اطلاق ہوتا ہے اور ان کی تصدیق سے فتاویٰ جاری ہوتے ہیں وہ فقط چار ہیں جن میں سے ایک نام محترم مفتی محمد ہاشم خان عطاری المدنی مدظلہ العالی کا بھی ہے۔ مفتی صاحب نے کراچی میں ایک سال اور راولپنڈی میں تین سال فتوی نویسی کی خدمت انجام دی اور اس کے بعد سے لاہور میں تقریباً آٹھ برس سے افتاء کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یوں آپ کی فتوی نویسی کے 11 سال مکمل ہو چکے ہیں اور بارہواں سال جاری ہے، اس دوران آپ کے قلم سے بلا مبالغہ ہزاروں فتاوے جاری ہو چکے ہیں۔ مفتی صاحب نے اتنے قلیل وقت میں شعبہ افتاء میں جو مقام و مرتبہ حاصل کیا ہے وہ اس قسم کی محنت و مشقت کے بغیر ممکن نہیں جو مفتی صاحب کی فطرتِ ثانیہ بن چکی ہے۔
تصنیف و تالیف
بچپن کے کسی بابرکت لمحے میں ان کا تعلق کتاب سے قائم ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا۔ اسکول کے زمانے میں محلے کی لائبریری سے اور دوستوں سے کتابیں اور رسالے بالخصوص امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ کی کتب و رسائل لے کر پڑھتے رہے اور جب دینی تعلیم کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا اور ابتدائی درجات میں ہی پڑھانا شروع کر دیا تو اس زمانے میں ان کی نظر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کتاب پر ٹکی رہنے لگی جس پر وہ اب بھی خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ کتاب کے ساتھ اس تعلق خاطر اور قلم وقرطاس کی اہمیت کے پیش نظر تحریر وتصنیف بھی مفتی صاحب کا ایک باقاعدہ مشغلہ ہے۔ یہ بات بہت حیرت انگیز ہے کہ آپ نے درسِ نظامی کے پہلے سال کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے علم التجوید کے موضوع پر نصاب التجوید نامی ایک مختصر وجامع اور آسان فہم کتاب لکھی جو آج بھی درسِ نظامی کے اُسی سال کے نصاب میں شامل ہے جس میں پڑھتے ہوئے آپ نے یہ کتاب لکھی تھی۔
مفتی صاحب لاہور آمد سے پہلے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمة کے علمی شاہکار فتاویٰ رضویہ کی ہر جلد کی تلخیص کا کام شروع کر چکے تھے اور آپ کی لاہور آمد کے بعد چند جلدوں کی تلخیص کے بعد دیگرے منظرِ عام پر آئی بھی تھی، اور پھر اسی تلخیص کی چند قسطیں پیرزادہ اقبال احمد فاروقی کے زیرِ ادارت شائع ہونے والے ماہنامہ جہانِ رضا میں بھی شائع ہوئیں، پیرزادہ صاحب نے اس سلسلے کا نام رکھا’یسئلون: اعلیٰ حضرت جواب دیتے ہیں۔‘ اس کے بعد دیگر موضوعات پر سنجیدہ اور علمی کتابیں لکھنے کا ایسا شاندار سلسلہ شروع ہوا کہ کیا کہنے۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے مفتی صاحب کے وقت میں بڑی برکت رکھی ہے۔ بعض اوقات ان کو ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب کی اشاعت میں قصداً تاخیر کرنی پڑتی ہے وگرنہ وہ علمی معیار قائم رکھتے ہوئے اس قدر اہم کتب اتنے کم وقت میں لکھ لیتے ہیں کہ دیکھنے والوں کو حیرت ہوتی ہے۔ اب تک آپ کے قلم سے ڈیڑھ درجن سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں:
**قرآن وحدیث اور عقائد اہل سنت**
**فیضان فرض علوم**
حضور غوثِ اعظم اور عقائد ونظریات
خطباتِ ربیع النور
احکامِ تعویذات مع تعویذات کا ثبوت
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور سنتِ ابراہیمی
حکومتِ رسول اللہ کی
احکامِ عمامہ مع سبز عمامہ کا ثبوت
محرم الحرام اور عقائد ونظریات
معراجِ مصطفیٰ اور معمولات ونظریات
احکامِ لقمہ مع لقمہ کا احادیث سے ثبوت
احکامِ تراویح واعتکاف مع بیس تراویح کا ثبوت
تلخیص فتاویٰ رضویہ (جلد 5 تا 9)
احکامِ داڑھی مع وجوبِ داڑھی کے دلائل
ان کتابوں کے علاوہ مفتی صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کی ایک اہم کتاب **”مطلع القمرین فی ابانۃ سبقة العمرین“** کے مخطوط پر بہت شاندار کام کیا۔ جن حضرات کو مخطوط پر کام کرنے کا تجربہ ہے یا اس عمل کی نزاکتوں سے واقف ہیں وہ اس ضمن میں پیش آنے والی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ مفتی صاحب کو بھی مخطوطے کی برقی کتابت سے لے کر عبارات کی تصحیح و تکمیل اور تخریج و ترجمہ کے دوران کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور بعض مواقع پر آپ قدرے دل برداشتہ بھی ہو گئے مگر پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے کام جاری رکھا اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی **”مطلع القمرین“** پہلی بار اس قدر جامع خصوصیات کے ساتھ منظر عام پر آ گئی جس پر محبانِ اعلیٰ حضرت عوام و خواص میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ خدا تعالیٰ آپ کی اس خدمت کو بھی قبول فرمائے اور اس نوع کی مزید خدمات انجام دینے کی توفیق مرحمت فرمائے۔
خطابت:
ان ذرائع کے ساتھ ساتھ مفتی صاحب وعظ و خطابت کے ذریعے بھی خدمتِ دین کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ اس وقت لاہور کے علاقے شاہدرہ میں دو مسجدوں میں جمعۃ المبارک کا بیان فرماتے ہیں اور وقتاً فوقتاً پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی بیان کے لئے تشریف لے جاتے ہیں۔ وہ عام مقررین کی لچھے دار تقریروں اور غیر سنجیدہ اندازِ خطابت سے قطعیً گریز کرتے ہوئے اپنے مخصوص علمی اور سنجیدہ انداز میں بیان فرماتے ہیں اور اس مصروفیت کو کبھی بھی اپنی دیگر مصروفیات مثلاً تدریس، تصنیف اور افتاء پر اثر انداز نہیں ہونے دیتے۔
عادات و خصائل:
علمی و تحقیقی دنیا میں متنوع صلاحیتوں اور دینی خدمات کے وسیع دائرہ کار کے ساتھ ساتھ قبلہ مفتی صاحب ذاتی اوصاف کے اعتبار سے بھی متعدد محاسن و محامد کا مرقع ہیں۔ سادگی کا یہ عالم ہے جس وقت وہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور میں استاذ الحدیث کی حیثیت سے صحیح مسلم کا درس دیتے تھے اور تخصص فی الفقہ کی کلاس پڑھاتے تھے اس وقت بھی دیکھا گیا کہ وہ پیوند لگا ہوا جوتا استعمال فرماتے تھے۔ ان دنوں آپ کا یہ معمول تھا جامعۃ المدینہ میں روزانہ پانچ پیریڈ پڑھا کر دار الافتاء تشریف لے جاتے تھے جامعۃ المدینہ کاہنہ نو سے دار الافتاء کا سفر تقریباً ۲۵ کلومیٹر پر مشتمل ہوتا تھا اور مفتی صاحب کئی برسوں تک ایک اسلامی بھائی کی معیت میں یہ سفر موٹر سائیکل پر طے کرتے رہے، اس بات کی پروا کئے بغیر کہ سورج شہر کی سڑکوں پر آگ برسا رہا ہے یا سخت سردی کی وجہ سے ہاتھ پاؤں منجمد ہوئے جا رہے ہیں۔
اس زمانے میں آپ کا ایک اور معمول بھی دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈالتا تھا کہ مفتی صاحب کلاس پڑھا کر فارغ ہوتے تو دوپہر کا کھانا اپنے کمرے میں منگوانے کے بجائے خود باورچی خانے میں تشریف لے جاتے اور باورچیوں کی رہائش کے ایک سادہ سے کمرے میں بیٹھ کر ظہرانہ تناول فرماتے، ظاہر ہے کہ اس سے آپ کا مقصد وقت کی بچت اور عملے پر تخفیف کرنا ہی ہوتا ہو گا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج کل ہمارے علمی حلقوں میں ایسے سادہ اور منکسر المزاج لوگ کتنے ہیں۔۔۔۔؟
جب لوگ مفتی صاحب سے پوچھتے ہیں کہ آپ اتنے سارے فرائض کس طرح انجام دیتے ہیں تو وہ بڑی سادگی سے جواب دیتے ہیں کہ اس میں کونسی مشکل ہے، ہر کام کا وقت مقرر کیا ہوا ہے، میں ایک کام کے وقت میں دوسرے کام کو ہاتھ نہیں لگاتا اور وقت پورا ہونے پر بلا تاخیر اگلا کام شروع کر دیتا ہوں اور یوں ہر کام اپنے وقت پر پورا ہوتا رہتا ہے اور مجھے اس میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ خود راقم الحروف نے ایک بار دیکھا کہ مفتی صاحب ایک گرم دوپہر میں فیضانِ مدینہ سے دربار مارکیٹ دارالافتاء میں تشریف لائے اور پسینہ پونچھنے اور پانی کا گھونٹ حلق میں اتارنے سے بھی پہلے اپنے کام کا آغاز کر دیا اس سے آپ کی احتیاط اور پابندیِ وقت کا بھی بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
وقت کی پابندی کے ضمن میں یہ بات بھی بیان کرنے کے لائق اور لائقِ تقلید ہے کہ مفتی صاحب کو اگر کہیں بیان کے لئے جانا ہو تو بیان کا وقت اور گھر سے روانگی کا وقت بھی طے ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ آپ کو گھر سے لے جانے کی ذمہ داری صاحبِ تقریب نے خود اٹھالی اور اس کا وقت مقرر ہو گیا مگر وہ مقررہ وقت پر آپ کو لینے کے لئے نہ آئے تو آپ اپنی اگلی مصروفیت میں مشغول ہو گئے اور یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ اس کا وقت گزر چکا ہے۔
ان اوصاف کے ساتھ ساتھ مفتی صاحب کی شخصیت میں ظرافت کا پہلو بھی موجود ہے وہ دن بھر مختلف النوع علمی و تحقیقی سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں مگر کام میں جھنجھلاہٹ اور بیزاری کا اظہار نہیں کرتے بلکہ ہر موقع کو اپنی پُر لطف باتوں اور زعفرانی جملوں سے خوشگوار بنا دیتے ہیں۔ کلاس میں سبق پڑھاتے ہوئے جب آپ دیکھتے ہیں کہ پیچیدہ اور علمی ابحاث کی وجہ سے طلبہ پر پژمردگی چھا رہی ہے تو اس وقت حسبِ حال کوئی ایسی لطیف بات یا شعر سناتے ہیں کہ ساری کلاس میں نشاط کی لہر پیدا ہو جاتی ہے اور سب طلبہ آپ کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جاتے ہیں۔ بعض خوش طبع حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جو عام طور پر تو تہذیب کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر جب مزاح کی طرف مائل ہوتے ہیں تو بعض اوقات اس میں گنوار پن بھی شامل ہو جاتا ہے، مگر مفتی صاحب کے مزاح کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ دورانِ مزاح بھی عامیانہ سطح پر نہیں آتے اور نہ ہی شرعی حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔
قبلہ مفتی صاحب اپنی تمام تر دینی وعلمی خدمات کو بلکہ علمِ دین کے حصول کو اپنے مرشدِ ارشد شیخِ طریقت امیر اہلسنّت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ کی نظرِ کرم کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ آپ اسکول کے زمانے میں ہی دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں مثلاً درس دینا، مدنی قافلے میں سفر کرنا، علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت کرنا وغیرہ میں حصہ لیتے تھے۔ کالج کے دور میں اپنے علاقے پنڈی گھیپ میں مدنی قافلے کے ذمہ دار مقرر ہو گئے تھے۔ ان کو یاد ہے کہ ان کی کاوشوں سے قریبی علاقے اخلاص سے دعوت اسلامی کے ہفتہ وار اجتماع کے لیے ہر جمعرات گاڑیاں جانے لگی۔ یہی محرکات یہی زمانہ اور یہی شب و روز تھے۔ جب مفتی صاحب کے دل میں شاہراہِ علم کا مسافر بننے کی تمنا پیدا ہوئی اور وہ بے سرو سامانی کے عالم میں ذوق وشوق کے ساتھ اپنے مرشدِ کریم امیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے درِ دولت پر حاضر ہوئے اور انہی کے قائم کردہ فیضانِ مدینہ میں تعلیم کے مراحل طے کرتے ہوئے آج علمی دنیا میں اپنی منفرد پہچان بنا چکے ہیں۔ ربِ لم یزل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ آپ کو درازیِ عمر بالخیر عطا فرمائے اور مزید وسیع پیمانے پر دینی خدمات انجام دینے کی توفیق مرحمت فرمائے۔