تعدد اور تفرد کے اعتبار سے حدیث کی تقسیم
sulemansubhani نے Tuesday، 6 October 2026 کو شائع کیا.

تعدد اور تفرد کے اعتبار سے حدیث کی تقسیم

ہم تک حدیث پہنچنے کے اعتبار سے حدیث کی دو قسمیں ہیں، خبر متواتر اور خبر واحد۔

خبر متواتر کی تعریف اور شرائط

تواتر کا لغوی معنی ہے کسی چیز کا یکے بعد دیگرے اور لگاتار آنا جب لگا تار بارش ہو تو عرب کہتے ہیں تواتر المطر، اور اصطلاحی معنی ہے:

ما رواہ عدد کثیر تحیل العادۃ تواطؤھم علی الکذب۔

کسی چیز کو اس قدر زیادہ لوگ بیان کرنے والے ہوں کہ عقل کے نزدیک ان کا جھوٹ پر متفق ہونا محال ہو۔

خبر متواتر کی حسب ذیل شرائط ہیں:

(الف)۔ خبر متواتر کو روایت کرنے والے عددِ کثیر ہوں۔

علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ علامہ اصطخری نے کہا ہے کہ مختار یہ ہے کہ کم از کم دس افراد ہوں کیونکہ یہ جمعِ کثرت ہے، بعض نے کہا چالیس ہوں، بعض نے کہا ستر ہوں، بعض نے کہا تین سو تیرہ ہوں۔ ⁽ علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۲ ص ۱۷۷، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ؛ الطبعة الثانية ۱۳۹۲ھ ⁾

حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ عددِ کثیر کو کسی خاص عدد میں منضبط کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ یہ اتنے لوگوں کا عدد ہونا چاہیے جن کا عادةً کذب پر متفق ہونا محال ہو۔ ⁽ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبة الفكر ص ۸، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی⁾

علامہ عبد اللہ بن حسین شارح لکھتے ہیں:

علامہ اصیلی نے لکھا ہے کہ تواتر کا مدار علم (یقین) کے حصول پر ہے، جب ایک جماعت کسی چیز کی خبر دے اور اس سے یقین حاصل ہوجائے تو وہ تواتر ہے، علامہ ابن حجر نے کہا کہ متواتر وہ خبر ہے جو بنفسہ مفیدِ علم ہو نہ کہ قرائن سے علم کا فائدہ پہنچائے۔ ⁽ حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، شرح نخبة الفكر ص ۸، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی⁾

(ب)۔ یہ کثرت سند کے تمام طبقات میں پائی جائے، یعنی ابتداء سے انتہاء تک راوی کثیر ہوں۔

(ج)۔ یہ کثرت اس درجہ کی ہو کہ ان کا عادةً کذب پر متفق ہونا محال ہو۔

(د)۔ اس خبر کی سند کی انتہاء احساس اور مشاہدہ پر ہو، مثلاً وہ کہیں ہم نے سنا، ہم نے دیکھا، ہم نے لمس کیا، یا ہم نے سونگھا، اور اگر ان کا استناد عقل پر ہو مثلاً حدوثِ عالم تو یہ خبر متواتر نہیں ہے۔

خبر متواتر کا حکم:

خبر متواتر علمِ ضروری (علمِ بدیہی) کا فائدہ دیتی ہے جس کی سننے والا غیر اختیاری طور پر تصدیق کرتا ہے گویا کہ اس نے اس کا خود مشاہدہ کرلیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ خبر متواتر کے تمام افراد مقبول ہیں۔

خبر متواتر کی اقسام:

خبر متواتر کی دو قسمیں ہیں: لفظی اور معنوی۔ متواتر لفظی وہ ہے جس کے الفاظ اور معانی دونوں متواتر ہوں، اور متواتر معنوی وہ ہے جس کے صرف معانی متواتر ہوں الفاظ متواتر نہ ہوں۔

خبر متواتر لفظی کی مثال صرف یہ ایک حدیث ہے جس کو بہت سے محدثین نے بہ کثرت صحابہ سے روایت کیا ہے ۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں:

عن انس ان النبي صلى الله عليه وسلم قال من تعمد علی کذبا فلیتبوا مقعدہ من النار۔ ⁽امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ۲۵۶ھ ، صحیح بخاری ج ۱ ص ۲۱، مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ، ۱۳۸۱ھ⁾

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے عمداً مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنے بیٹھنے کا ٹھکانا دوزخ میں بنائے۔

حافظ ابن الصلاح لکھتے ہیں:

اس حدیث کو صحابہ کرام کے ایک جمِ غفیر نے روایت کیا ہے ، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث صحابہ کی ایک جماعت سے مروی ہے ، حافظ ابوبکر بزار نے اپنی مسند میں لکھا ہے کہ اس حدیث کو چالیس صحابہ نے روایت کیا ہے ، اور بعض حفاظ نے لکھا ہے اس کو ستر سے زیادہ صحابہ نے روایت کیا ہے جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں اور اس حدیث کے علاوہ دنیا میں اور کوئی حدیث نہیں ہے جس کو تمام عشرہ مبشرہ نے روایت کیا ہو ، اور اس ایک حدیث کے علاوہ کوئی اور حدیث ایسی نہیں ہے جس کو ساٹھ صحابہ سے زیادہ نے روایت کیا ہو۔ (حافظ ابن صلاح لکھتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ بعض محدثین نے اس کا عدد اس سے بھی زیادہ بیان کیا ہے اور دن بہ دن اس کے راوی بڑھ رہے ہیں۔ (حافظ ابو عمرو عثمان بن عبد الرحمان شہر زوری المعروف بابن الصلاح متوفی ۶۴۳ھ ، علوم الحدیث ص ۲۴۳-۲۴۴، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۸۶ھ)

خبرِ متواتر کی دوسری قسم تواترِ معنوی ہے اس کے متعلق علامہ سیوطی لکھتے ہیں:

معنیً متواتر احادیث بہ کثرت ہیں ان میں سے حوض کے متعلق حدیث ہے جو پچاس سے زیادہ صحابہ سے مروی ہے، موزوں پر مسح کی حدیث ستر صحابہ سے مروی ہے، نماز میں رفع یدین کرنے کی حدیث پچاس صحابہ سے مروی ہے نضر اللہ امرا سمع مقالتی “اللہ اس کو ترو تازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی“ یہ تقریباً تیس صحابہ سے مروی ہے اور قرآنِ مجید سات حرفوں پر نازل ہوا “ یہ حدیث ستائیس صحابہ سے مروی ہے ، جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی ، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا، یہ حدیث بیس صحابہ سے مروی ہے ، اسی طرح ” ہر نشہ آور چیز حرام ہے “ ۳؎ ” اسلام ابتداء میں اجنبی تھا “ ” منکر ونکیر کا سوال “ اور بہت سی احادیث معنیً متواتر ہیں ۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۲ ص ۱۸۰ – ۱۷۹، مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۹۲ھ)

خبر الآحاد کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور اس کی اقسام

آحاد ، احد بمعنیٰ واحد کی جمع ہے ، از روئے لغت خبرِ واحد وہ حدیث ہے جس کو ایک شخص روایت کرے۔ خبرِ واحد کی اصطلاحی تعریف یہ ہے :

هو ما لم يجمع شروط المتواتر۔

جس حدیث میں خبرِ متواتر کی کوئی ایک شرط نہ ہو وہ خبرِ واحد ہے۔

خبرِ واحد کی تین قسمیں ہیں، مشہور ، عزیز اور غریب ۔

حدیث مشہور کی تعریف

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:

المشهور هو المستفيض على رأى ومنهم من غاير بين المستفيض والمشهور بان المستفيض يكون في ابتدائه و انتهائه سواء والمشهور اعم من ذلك۔ (حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ شرح نخبة الفكر ص ۱۱۳، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

حدیثِ مشہور ایک رائے کے مطابق حدیثِ مستفیض ہے اور بعض ائمہ نے فرق کیا ہے کہ مستفیض وہ حدیث ہے جس کی ابتداء اور انتہاء میں کثرتِ طرق برابر ہوں اور حدیثِ مشہور اس سے عام ہے۔

علامہ سیوطی لکھتے ہیں :

المشهور ما له طرق محصورة بأكثر من اثنتين ولم يبلغ حد التواتر ۔

مشهور وہ حدیث ہے جو دو سے زائد سندوں سے مروی ہو اور حد تواتر سے کم ہو۔

کبھی اس حدیث کو بھی مشہور کہا جاتا ہے جو لوگوں کی زبانوں پر مشہور ہو، خواہ اس کی ایک سند ہو یا ایک سند بھی نہ ہو۔ یہ لغوی مشہور ہے اور اصطلاحی حدیث مشہور کی مثال یہ ہے “اللہ تعالیٰ بندوں کے سینوں سے نکال کر علم کو نہیں اٹھائے گا” اور یہ حدیث: جو شخص جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے اور حاکم اور ابن صلاح نے اس کی یہ مثال دی ہے: “اعمال کا مدار نیات پر ہے۔” یہ تینوں صحیح حدیثیں ہیں، اور “علم کا طلب کرنا ہر مسلم پر فرض ہے” یہ حدیث حسن ہے اور “کان سر سے ہیں” یہ حدیث ضعیف ہے۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ : تدریب الراوی ج ۲ ص ۱۷۳ ،  مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ، ۱۳۹۲ھ)

حدیث عزیز کی تعریف

عزیز کا لغوی معنی ہے کمیاب، حدیث عزیز کو عزیز اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا وجود نادر ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے حدیث عزیز کی یہ تعریف کی ہے :

العزيز وهو ان لا يرويه اقل من اثنين عن اثنين ۔( حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، شرح نخبۃ الفکر ص ۱۴ ، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

حدیث عزیز وہ ہے جس میں سند کے کسی طبقہ میں دو سے کم راوی نہ ہوں ۔

اس کی مثال یہ حدیث ہے جس کو امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کے نزدیک میں اس کے والد اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ ہوں، اس حدیث کو حضرت انس سے قتادہ اور عبدالعزیز بن صہیب نے روایت کیا ہے اور قتادہ سے شعبہ اور سعید نے روایت کیا ہے اور عبدالعزیز سے اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث نے روایت کیا ہے اور اسی طرح ہر راوی سے ایک جماعت نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، شرح نخبۃ الفکر ص ۱۶ ، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

حدیث غریب کی تعریف اور اس کی اقسام

 غریب کا لغوی معنی ہے: منفرد، مسافر یا اجنبی۔ اور اس کا اصطلاحی معنی یہ ہے :

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

الغريب هو ما ينفرد بروايته شخص واحد فی ای موضع وقع التفرد به من السند – (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ ، شرح نخبۃ الفکر ص ۱۶ ، مطبوعہ رحیم اکیڈمی کراچی)

غریب اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند میں کسی جگہ بھی راوی اس روایت میں متنفرد ہو۔

ملا علی قاری لکھتے ہیں: غریب کی دو قسمیں ہیں فرد مطلق اور فرد نسبی، اگر اصل سند میں تفرد ہو تو اس کو فرد مطلق کہتے ہیں، اصل سند سے مراد یہ ہے کہ سند کے اول میں تفرد ہو، مثلاً صحابی سے صرف ایک تابعی روایت کرے، اس کی مثال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کی بیع اور ہبہ سے منع فرمایا ہے، اس کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے اور ان سے اس کی روایت میں عبداللہ بن دینار متفرد ہے، اور کبھی اس متفرد سے پھر ایک راوی متفرد ہوتا ہے مثلاً حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایمان کے ستر سے زیادہ حصے ہیں اور افضل حصہ لا الہ الا اللہ کہنا ہے الخ حدیث اس میں حضرت ابو ہریرہ سے ابو صالح تابعی متفرد ہے اور ابو صالح سے عبداللہ بن دینار متفرد ہے اور کبھی یہ تفرد تمام راویوں میں مستمر ہوتا ہے، مسند بزار اور طبرانی کے معجم اوسط میں اس کی بہت مثالیں ہیں۔

غریب کی دوسری قسم فرد نسبی ہے، اس میں اثناء سند میں تفرد ہوتا ہے، اس کو غریب نسبی اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں شخصِ واحد کے اعتبار سے تفرد ہوتا ہے اگرچہ وہ حدیث فی نفسہ مشہور ہوتی ہے مثلاً امام مالک از نافع از ابن عمر ایک حدیث روایت کرتے ہیں، پھر کوئی راوی امام مالک سے اس حدیث کو روایت کرتا ہے اور امام مالک سے روایت والے راوی کی کوئی اور راوی کی متابعت نہیں کرتا اور نافع سے راویوں کی ایک جماعت روایت کرتی ہے تو یہ حدیث امام مالک سے روایت کے اعتبار سے فرد ہے اگرچہ فی نفسہ مشہور ہے :

فرد کا اکثر اطلاق فرد مطلق پر ہوتا ہے اور غریب کا اکثر اطلاق فرد نسبی پر ہوتا ہے۔ (علامہ علی بن سلطان محمد قاری متوفی ۱۰۱۴ھ، شرح شرح نخبة الفکر ص ۵۰ – ۴۹، مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ، ۱۳۹۷ھ)


مقدمہ از شارح جامع ترمذی :   امام اعظم کے دلائل احادیث ضعیفہ پر مبنی نہیں
sulemansubhani نے Saturday، 3 October 2026 کو شائع کیا.

  امام اعظم کے دلائل احادیث ضعیفہ پر مبنی نہیں:   امام عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں: اگر یہ کہا جائے کہ تم کہتے ہو کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب کے دلائل میں کوئی حدیث ضعیف نہیں کیونکہ امام اعظم اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درمیان جو راوی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


محدث اور حافظ کی تعریف
sulemansubhani نے Saturday، 3 October 2026 کو شائع کیا.

محدث اور حافظ کی تعریف شیخ فتح الدین نے یہ کہا ہے کہ ہمارے زمانہ میں محدث وہ شخص ہے جو علم الحدیث روایۃ ودرایۃ کا ماہر ہو اور بہ کثرت راویوں اور مرویات پر مطلع ہو۔ حافظ الحدیث کو کس قدر احادیث یاد ہونی چاہئیں؟ اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


مقدمہ از شارح جامع ترمذی :  اصح الاسانید کون سی سند ہے؟
sulemansubhani نے Saturday، 3 October 2026 کو شائع کیا.

 اصح الاسانید کون سی سند ہے؟ امام حاکم فرماتے ہیں: قطعی طور پر کسی ایک صحابی کی سند کو اصح الاسانید کہنا ممکن نہیں، ہم اللہ تعالیٰ کی توفیق سے کہتے ہیں کہ اہل بیت کی اصح الاسانید یہ ہے: جعفر بن محمد عن ابيه عن جده عن علی، بشرطیکہ حضرت جعفر سے روایت کرنے […]

مکمل تحریر پڑھیے »


حدیث، متن اور سند کا معنی
sulemansubhani نے Saturday، 3 October 2026 کو شائع کیا.

حدیث، متن اور سند کا معنی متن کے طریق کی حکایت کو سند کہتے ہیں اور متن حدیث کے ان الفاظ کو کہتے ہیں جن کے ساتھ معانی قائم ہوں، حدیث کا معنی قدیم کی ضد ہے یعنی حادث، اور علامہ ابن حجر نے بیان کیا ہے کہ حدیث کا اصطلاحی معنی یہ ہے: ما […]

مکمل تحریر پڑھیے »


Surah Al-A’raf Ayat No 050
sulemansubhani نے Friday، 2 October 2026 کو شائع کیا.
Surah Al-A’raf Ayat No 049
sulemansubhani نے Friday، 2 October 2026 کو شائع کیا.
Surah Al-A’raf Ayat No 047 – 048
sulemansubhani نے Friday، 2 October 2026 کو شائع کیا.
Surah Al-A’raf Ayat No 046
sulemansubhani نے Friday، 2 October 2026 کو شائع کیا.
Surah Al-A’raf Ayat No 045
sulemansubhani نے Friday، 2 October 2026 کو شائع کیا.

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com