حجاج کرام کو مبارک باد دینا
*حجاج کرام کو مبارک باد دینا*
حج اسلام کے عظیم ترین ارکان میں سے ایک ہے۔ جب کوئی مسلمان اس مبارک فریضے کی ادائیگی کے بعد واپس لوٹتا ہے تو اس کی خوشی میں شریک ہونا، اسے مبارک باد دینا اور اس کے لیے قبولیتِ حج و مغفرت کی دعا کرنا امتِ مسلمہ کے ہاں قدیم اور پسندیدہ عمل رہا ہے۔ درحقیقت یہ مبارک باد محض رسمی اظہار نہیں بلکہ دعا، خیرخواہی اور محبتِ ایمانی کا مظہر ہے۔
*امام طحاوی علیہ الرحمہ* (متوفی 321ھ) فرماتے ہیں: لا يختلفون فى انه جائز ان يقول للقادم من الحج قبل الله حجك.
مفہوم: اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ حج سے واپس آنے والے سے یہ کہنا جائز ہے: قبل الله حجك (اللہ تعالیٰ آپ کا حج قبول فرمائے)۔
(مختصر اختلاف العلماء للجصاص، 4/385)
امام طحاوی رحمہ اللہ کے اس تصریحی بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجی کو واپسی پر قبولیتِ حج کی دعا دینا ایک قدیم، متوارث اور مشروع عمل ہے، جس کے جواز پر اہلِ علم کا اتفاق نقل کیا گیا ہے۔ نیز یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حجاجِ کرام کو مبارک باد دینا اور ان کے لیے دعا کرنا امتِ مسلمہ کے ہاں صدیوں سے رائج اور معمول بہ عمل ہے، جس پر اہلِ علم کی جانب سے کوئی نکیر منقول نہیں۔
*امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ* نے اپنی کتاب “وصول الأماني بأصول التهاني” میں باقاعدہ ایک عنوان قائم کیا ہے:
*التهنئة بالقدوم من الحج*
’’حج سے واپسی پر مبارک باد دینا۔‘‘
اس عنوان کے تحت امام سیوطی علیہ الرحمہ نے ایک مرفوع اور ایک موقوف روایت نقل کی ہے۔ کسی عمل کے متعلق مستقل عنوان قائم کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اہلِ علم کے نزدیک یہ ایک معروف، مشروع اور قابلِ استدلال مسئلہ تھا، نہ کہ کوئی نیا یا غیر معروف عمل۔
*پہلی روایت (مرفوع)*
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
أخرج ابن السني والطبراني عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: جاء غلامٌ إلى النبي ﷺ فقال: إني أحج، فمشى معه النبي ﷺ فقال: يا غلام، زوَّدك الله التقوى، ووجَّهك الخير، وكفاك الهم.
فقال: رجع الغلام، وسلَّم على النبي ﷺ فقال: يا غلام، قبل الله حجك، وغفر ذنبك، وأخلف نفقتك.
ترجمہ: ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں حج کے لیے جا رہا ہوں۔ آپ ﷺ اس کے ساتھ کچھ دور تشریف لے گئے اور دعا فرمائی:
“يا غلام، زوَّدك الله التقوى، ووجَّهك الخير، وكفاك الهم”
مفہوم: اے نوجوان! اللہ تعالیٰ تمہیں تقویٰ کا زادِ راہ عطا فرمائے، تمہیں خیر و بھلائی کی طرف رہنمائی دے اور تمہیں ہر قسم کی فکر و پریشانی سے محفوظ رکھے۔جب وہ حج سے واپس آیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“يا غلام، قبل الله حجك، وغفر ذنبك، وأخلف نفقتك”
’’اے نوجوان! اللہ تعالیٰ تمہارا حج قبول فرمائے، تمہارے گناہوں کو بخش دے اور تمہارے خرچ کا بہترین بدل عطا فرمائے۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حج سے واپسی پر حاجی کے لیے قبولیتِ حج، مغفرتِ ذنوب اور خرچ کے بہترین بدل کی دعا کرنا سنتِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے، اور یہی مبارک باد کا حقیقی مفہوم ہے۔
*دوسری روایت (موقوف)*
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں منقول ہے:
وأخرج سعيد بن منصور في “سننه” عن ابن عمر: أنه كان يقول للحاج إذا قدم: تقبَّل الله نسكك، وأعظم أجرك، وأخلف نفقتك.
مفہوم: امام سعید بن منصور نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی حاجی کو حج سے واپس آتا دیکھتے تو اس کے لیے یہ دعا فرماتے:
“تقبَّل الله نسكك، وأعظم أجرك، وأخلف نفقتك”
’’اللہ تعالیٰ آپ کی عبادت و حج قبول فرمائے، آپ کے اجر کو عظیم بنائے اور آپ کے خرچ کا بہترین بدل عطا فرمائے۔
یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول تھا، جو اس عمل کے استحباب اور مشروعیت پر مزید روشنی ڈالتا ہے۔
مذکورہ مرفوع و موقوف روایات، ائمۂ امت کے اقوال اور امتِ مسلمہ کے متوارث تعامل سے واضح ہوتا ہے کہ حج سے واپس آنے والے حاجی کو مبارک باد دینا اور اس کے لیے قبولیتِ حج، مغفرت اور اجر و برکت کی دعا کرنا ایک مستحب اور مسنون عمل ہے۔ اس مبارک باد کا اصل مقصد دعا، خیرخواہی اور دینی محبت کا اظہار ہے، جسے امتِ مسلمہ نے ہر دور میں اپنائے رکھا ہے۔
امام طحاوی کی تصریح کے مطابق اس عمل کے جواز میں اہلِ علم کے درمیان کوئی اختلاف منقول نہیں، جبکہ نبی کریم ﷺ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی اصل بھی ثابت ہے۔ لہٰذا حجاجِ کرام کو واپسی پر مبارک باد دینا نہ صرف جائز بلکہ ایک مبارک، پسندیدہ اور سلفِ امت سے ثابت شدہ عمل ہے، اور اسے بدعت یا ناجائز قرار دینا درست نہیں۔
ابو الحسن محمد شعیب خان
4 جون 2024ء