بدھ کے دن جمعہ پڑھانا
بدھ کے دن جمعہ پڑھانا
یہ واقعہ کتب احادیث میں نہیں بلکہ چوتھی صدی ہجری کے شیعہ مورخ علی بن حسین مسعودی (متوفی 346ھ) کی عربی زبان میں لکھی تاریخ کی کتاب “مُروجُ الذَّہَب و مَعادنُ الجَوہَر” میں بغیر سند کے (جھوٹا) لکھا ہے جیسا کہ اہلتشیع ایک جھوٹا دین ہے جن کی بنیاد ہی قرآن و سنت نہیں ہے:
مؤرخ کی کہانی شریف
إن رجلاً من أهل الكوفة دخل على بعير له إلى دمشق في حال منصرفهم عن صفين… فأقام الدمشقي خمسين رجلاً بيّنة يشهدون أنها ناقته… فقال الكوفي: أصلحك الله إنه جمل وليس بناقة… فقال معاوية: هذا حكم قد مضى… ثم دس إلى الكوفي بعد تفرقهم… فقال له: أبلغ علياً أني أقابله بمائة ألف ما فيهم من يفرق بين الناقة والجمل ولقد بلغ من أمرهم في طاعتهم له أنه صلى بهم عند مسيرهم إلى صفين الجمعة في يوم الأربعاء
ترجمہ: صفین سے واپسی پر کوفہ کا ایک شخص اونٹ پر دمشق میں داخل ہوا تو دمشق کا ایک آدمی اس سے کہنے لگا کہ یہ میری اونٹنی ہے جو صفین میں مجھ سے چھین لی گئی تھی ان دونوں کا واقعہ سیدنا امیر معاویہ تک پہنچ گیا دمشقی آدمی نے پچاس آدمی بطورِ گواہ پیش کیے جنہوں نے گواہی دی کہ یہ اسی شخص کی اونٹنی ہے تو سیدنا امیر معاویہؓ نے کوفی کے خلاف فیصلہ دیا اور کہا کہ یہ اونٹنی دمشقی آدمی کو دے دے کوفی نے کہا اللہ آپ کو خوش رکھے یہ اونٹی تو نہیں اونٹ ہے سیدنا امیر معاویہ نے کہا جو حکم دیا جاچکا ہے وہ نافذ ہوگیا ہے اور لوگوں کے چلے جانے کے بعد آپ نے خفیہ طور پر کوفی آدمی کو اپنے پاس بلایا اور اس سے اونٹ کی قیمت دریافت کی اور اس کو دگنی قیمت دی اور اس کو کہا سیدنا علی تک یہ بات پہنچا دو میں ایسے ایک لاکھ آدمیوں کے ساتھ ان سے جنگ کر رہا ہوں جو اونٹ اور اونٹنی میں تمیز نہیں کرتے۔ اور ان کی اطاعت کا یہ حال تھا کہ اس نے صفین کے سفر کے دوران انہیں بدھ کے دن جمعہ کی نماز پڑھائی۔” (مروج الذہب للمسعودی (عربی) جلد 3 صفحہ 32’33)
نتیجہ: اہلسنت سکالرز تو اسکو منگھڑت کہانی قرار دیتے ہیں اور اہلتشیع میراثی ذاکرین عوام کو ہنسانے کے لئے اسکو سناتے ہیں۔
مسعودی چوتھی صدی ہجری کا مؤرخ ہے تو اس نے تین سو سال پہلے کا واقعہ کہاں سے نقل کرلیا؟
عوام عقلمند ہو تو اسکو اپنے ذاکرین سے پوچھنا چاہئے کہ ہمیں کب تک ایسے لطیفے اور کہانیاں سناتے رہو گئے؟
اب تو لوگ AI سے ہی سب کچھ تلاش کر لیں گے کہ اہلتشیع جماعت منکر قرآن و سنت ہے جیسے
کتب اربعہ کی چند روایات قرآن کے متعلق:
1۔ اصول کافی – جلد ۲، کتاب فضل القرآن، باب النوادر روایت ۱ (صفحہ ۶۷۱): عربی متن: “عن هشام بن سالم، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن القرآن الذي جاء به جبريل عليه السلام إلى محمد صلى الله عليه وسلم سبعة عشر ألف آية” اردو ترجمہ: “ہشام بن سالم، حضرت ابو عبداللہ (امام جعفر صادق) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام جو قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لے کر آئے تھے وہ سترہ ہزار آیات پر مشتمل تھا”
2۔ روایت ۲ (صفحہ ۶۷۲): عربی متن:”عن محمد بن علي، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن عندنا لمصحف فاطمة عليها السلام، وما يدريهم ما مصحف فاطمة؟ مصحف فيه مثل قرآنكم هذا ثلاث مرات، والله ما فيه من قرآنكم حرف واحد” اردو ترجمہ:”محمد بن علی، حضرت ابو عبداللہ (امام جعفر صادق) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بے شک ہمارے پاس مصحف فاطمہ ہے، اور انہیں کیا معلوم کہ مصحف فاطمہ کیا ہے؟ وہ مصحف جس میں تمہارے اس قرآن جتنا تین گنا ہے، اور اللہ کی قسم اس میں تمہارے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں ہے”
3۔ روایت ۳ (صفحہ ۶۷۳): عربی متن: “عن أبي بصير، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن القرآن الذي جاء به جبريل عليه السلام إلى محمد صلى الله عليه وسلم سبعة عشر ألف آية، فإذا قرأتموه فلاتستعجلوا بما لم ينزل” اردو ترجمہ: “ابی بصیر، حضرت ابو عبداللہ (امام جعفر صادق) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: بے شک جبرائیل علیہ السلام جو قرآن محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لے کر آئے تھے وہ سترہ ہزار آیات تھا، پس جب تم اسے پڑھو تو اس چیز کے ساتھ جلدی نہ کرو جو نازل نہیں ہوئی”
4۔ روایت ۴ (صفحہ ۶۷۴): عربی متن: “عن عبد الله بن سنان، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: نزل القرآن أربعة أرباع: ربع فينا، وربع في عدونا، وربع سنن وأمثال، وربع فرائض وأحكام” اردو ترجمہ: “عبداللہ بن سنان، حضرت ابو عبداللہ (امام جعفر صادق) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قرآن چار چوتھائی پر نازل ہوا: ایک چوتھائی ہمارے بارے میں، ایک چوتھائی ہمارے دشمن کے بارے میں، ایک چوتھائی سنتیں اور مثالیں، اور ایک چوتھائی فرائض اور احکام”
5۔ روایت ۵ (صفحہ ۶۷۵): عربی متن: “عن محمد بن مسلم، عن أبي جعفر عليه السلام قال: كان من دعاء أمير المؤمنين عليه السلام: اللهم إني أسألك بمصاحف أنزلتها” اردو ترجمہ: “محمد بن مسلم، حضرت ابو جعفر (امام محمد باقر) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: امیرالمومنین کی دعاؤں میں سے تھی: اے اللہ! میں تجھ سے ان مصاحف کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے نازل کیے ہیں”
6۔ باب أن القرآن يحدثه الله باللیل (جلد ۲، صفحہ ۵۹۷) روایت ۶: عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن القرآن نزل من عند الله عز وجل على سبعة أحرف، ليس منها حرف إلا وله ظهر وبطن” اردو ترجمہ: “حضرت ابو عبداللہ (امام جعفر صادق) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: بے شک قرآن اللہ عزوجل کی طرف سے سات حروف پر نازل ہوا، ان میں سے ہر حرف کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے”
تحقیق: اگر اہلتشیع جماعت تحقیق کی بجائے یہ کہے گی کہ تمہارا قرآن بکری کھا گئی یا حضرت عثمان نے جلا دیا تو تب بھی بتانا پڑے گا کہ موجودہ قرآن مکمل ہے یا نہیں، اگر مکمل ہے تو کس نے مکمل کر کے امت کو دیا، اس کا نام اپنی کتب اربعہ سے بتا دیں۔