حدیث مدلس کی تعریف اور اس کا حکم:
حدیث مدلس کی تعریف اور اس کا حکم:
مدلس، تدلیس کا اسم مفعول ہے اور تدلیس کا لغوی معنی ہے گاہک سے سودے کے عیب کو چھپانا، یہ لفظ اصل میں دلس سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے اندھیرے کا اجالے سے مختلط اور مشتبہ ہونا، اور مدلس حدیث کی واقفیت حاصل کرنے والے پر پردہ ڈال دیتا ہے اس لیے اس کی روایت مدلس کہلاتی ہے۔ اس کا اصطلاحی معنی یہ ہے:
اخفاء عیب فی الاسناد وتحسین لظاهره –
سند میں کسی عیب کو چھپانا اور اس کے ظاہر کو تحسین کرنا۔
علامہ نوویؒ لکھتے ہیں:
التدلیس هو قسمان الأول تدلیس الاسناد بأن يروي عمن عاصره مالم يسمعه منه موهماً سماعه قائلاً قال فلان او عن فلان ونحوه وربما لم يسقطْ شیخہ او اسقط غیرہ ضعیفا او صغیرا تحسینا للحدیث، الثانی تدلیس الشیوخ بان یسمی شیخہ او یکنیہ او ینسبہ او یصفہ بما لا یعرف اما الاول فمکروہ جدا و اما الثاني فکراہتہ اخف۔ (علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ھ، تقریب النواوی مع التدریب ج ۱ ص ۲۳۰، ۲۲۳ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ ۱۳۶۲ھ)
تدلیس کی دو قسمیں ہیں، پہلی قسم تدلیس الاسناد ہے اس کی تعریف یہ ہے کہ راوی اپنے معاصر سے ایسی حدیث کو روایت کرے جس کو اس سے سنا نہ ہو، اور اس سے سماع کا وہم ڈالے اور یہ کہے کہ فلان نے کہا، یا فلان سے روایت ہے اور بعض اوقات وہ تحسینِ حدیث کے لیے اپنے شیخ کو ساقط نہیں کرتا بلکہ شیخ الشیخ یا اس سے اوپر کے شیخ کو ساقط کردیتا ہے کیونکہ وہ شیخ الشیخ ضعیف یا کم عمر ہوتا ہے اور تدلیس کی دوسری قسم تدلیس الشیوخ ہے اور اس کی تعریف یہ ہے کہ وہ اپنے شیخ کا ایسا نام یا صفت یا کنیت یا نسبت بیان کرے جو غیر معروف ہے، تدلیس کی پہلی قسم بہت زیادہ مکروہ ہے اور دوسری اس سے کم درجہ کی مکروہ ہے۔
حافظ صلاح الدین علائی لکھتے ہیں:
تدلیس الاسناد کو تدلیس السماع بھی کہتے ہیں مثلاً ایک راوی اپنے شیخ سے ایسی حدیث کو روایت کرے جس کو اس سے سنا نہ ہو اور یوں کہے اس نے کہا ہے یا اس سے روایت ہے جس سے اتصال کا وہم ہو اور حدثنا، اخبرنا یا سمعت کی تصریح نہ کرے، اس کی مثال یہ ہے: ابن خشرم سے روایت ہے کہ ہم سفیان بن عیینہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو زہری نے کہا…. اس سے پوچھا گیا کیا تم کو زہری نے خود یہ حدیث بیان کی تھی؟ اس نے کہا میں نے اس کو زہری سے نہیں سنا، اور نہ اس سے سنا ہے جس نے زہری سے سنا تھا، مجھے عبدالرزاق نے از معمر از زہری یہ حدیث بیان کی ہے۔ (حافظ صلاح الدین ابو سعید بن خلیل علائی متوفی ۷۶۱ھ، جامع التحصیل فی احکام المراسيل ص ۹۸-۹۷، مطبوعہ عالم الکتب بیروت)
تدلیس کی قسم ثانی تدلیس الشیوخ کے متعلق علامہ سیوطی لکھتے ہیں:
تدلیس الشیوخ کا سبب، اس شیخ کی معرفت کو مشکل بنانا ہے، جیسے ابو بکر بن مجاہد نے کہا ہم سے عبداللہ بن ابی عبیداللہ نے حدیث بیان کی، اس سے ان کی مراد ابوبکر بن ابی داؤد سجستانی ہے اور ابوبکر بن مجاہد نے ان کا غیر معروف نام ذکر کیا، اس کی کراہت راوی کی اغراض کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے، اگر وہ شیخ کے ضعیف ہونے کی وجہ سے اس کا نام بدلتا ہے تو یہ بدترین قسم ہے، ابن الصباغ نے کہا جس راوی نے یہ اس لیے کیا کہ اس کا شیخ لوگوں کے نزدیک غیر ثقہ تھا اور اس نے اس کا نام بدل دیا تاکہ اس کی حدیث قبول کر لی جائے تو اس کی حدیث کو قبول نہ کرنا واجب ہے خواہ راوی اس شیخ کو ثقہ اعتقاد کرتا ہو کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ دوسروں کو اس کے متعلق ایسی جرح کا علم ہو جس کا اسے علم نہ ہو، آمدی نے کہا اگر راوی نے یہ فعل اپنے شیخ کے ضعف کی وجہ سے کیا ہے تو وہ حدیث مجروح ہے یا اس وجہ سے کہ اس کی نسبت ضعیف ہے یا اس کی روایت قبول کرنے میں اختلاف ہے تو پھر اس کی حدیث مجروح نہیں ہے ابن سمعانی نے کہا اگر وہ راوی ایسا ہے کہ اس سے اس کے شیخ کے متعلق سوال کیا جائے اور وہ پھر بھی اس کا اصل نام بیان نہ کرے تو اس کی روایت مجروح ہے ورنہ نہیں، امام بیہقی نے محمد بن رافع سے نقل کیا ہے کہ جب کوئی شخص نام سے معروف ہوا اور اس کی کنیت ذکر کی جائے، یا وہ کنیت سے مشہور ہوا اور اس کا نام ذکر کیا جائے تو یہ تزیین ہے تدلیس نہیں ۔ اور اگر اس کا شیخ کم عمر ہو یا بعد میں فوت ہوا ہو اور اس سے کم عمر کے لوگ اس روایت میں شریک ہوں، تو اس میں معاملہ آسان ہے، یا اس نے اس شیخ سے متعدد حدیثیں سنی ہوں اور وہ بار بار ایک ہی نام کے تکرار کو ناپسند کرتا ہوا اور اس کا نام اس لیے بدلے کہ لوگوں کو اس کے کثرتِ شیوخ کا وہم ہو، یا عبارت میں تفنن کے لیے ایسا کرے تو اس میں بھی معاملہ سہل ہے۔ (علامہ جلال الدین سیوطی متوفی ۹۱۱ھ، تدریب الراوی ج ۲ ص ۲۳۱-۲۳۰ مطبوعہ مکتبہ علمیہ مدینہ منورہ، ۱۳۹۲ھ)