کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 21 رکوع 10 سورہ لقمان آیت نمبر 1 تا 11
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)
(ف1)سورۂ لقمان مکّیہ ہے سوائے دو آیتوں کے جو ” وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَ رْضِ” سے شروع ہوتی ہیں ، اس سورت میں چار ۴رکوع ، چونتیس ۳۴ آیتیں ، پانچ سو اڑتالیس کلمے ، دو ہزار ایک سو دس حرف ہیں ۔
الٓمّٓۚ(۱)
تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِۙ(۲)
یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں
هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّلْمُحْسِنِیْنَۙ(۳)
ہدایت اور رحمت ہیں نیکوں کے لیے
الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴)
وہ جو نماز قائم رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور آخرت پر یقین لائیں
اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)
وہی اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور انہیں کا کام بنا
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ﳓ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ(۶)
اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں (ف۲) کہ اللہ کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے (ف۳) اور اُسے ہنسی بنالیں اُن کے لیے ذلت کا عذاب ہے
(ف2)
لہو یعنی کھیل ہر اس باطل کو کہتے ہیں جو آدمی کو نیکی سے اور کام کی باتوں سے غفلت میں ڈالے ، کہانیاں افسانے اسی میں داخل ہیں ۔
شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث بن کلدہ کے حق میں نازل ہوئی جو تجارت کے سلسلہ میں دوسرے مُلکوں میں سفر کیا کرتا تھا ، اس نے عجمیوں کی کتابیں خریدیں جن میں قصّے کہانیاں تھیں وہ قریش کو سناتا اور کہتا کہ سیدِ کائنات (محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) تمہیں عاد و ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں رستم و اسفند یار اور شاہانِ فارس کی کہانیاں سناتا ہوں ، کچھ لوگ ان کہانیوں میں مشغول ہو گئے اور قرانِ پاک سننے سے رہ گئے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
(ف3)
یعنی براہِ جہالت لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے اور قرآنِ کریم سننے سے روکیں اور آیاتِ الٰہیہ کے ساتھ تمسخُر کریں ۔
وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِیْۤ اُذُنَیْهِ وَقْرًاۚ-فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(۷)
اور جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں تو تکبر کرتا ہوا پھرے (ف۴) جیسے انہیں سنا ہی نہیں جیسے اس کے کانوں میں ٹینٹ(روئی) ہے (ف۵) تو اُسے دردناک عذاب کا مژدہ دو
(ف4)
اور ان کی طرف التفات نہ کرے ۔
(ف5)
اور وہ بہرا ہے ۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِۙ(۸)
بےشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اُن کے لیے چین کے باغ ہیں
خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۹)
ہمیشہ اُن میں رہیں گے اللہ کا وعدہ ہے سچا اور وہی عزت و حکمت والا ہے
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا وَ اَلْقٰى فِی الْاَرْضِ رَوَاسِیَ اَنْ تَمِیْدَ بِكُمْ وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍؕ-وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِیْمٍ(۱۰)
اُس نے آسمان بنائے بے ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں (ف۶) اور زمین میں ڈالے لنگر (ف۷) کہ تمہیں لے کر نہ کانپے اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلائے اور ہم نے آسمان سے پانی اُتارا (ف۸) تو زمین میں ہر نفیس جوڑا اُگایا (ف۹)
(ف6)
یعنی کوئی ستون نہیں ہے تمہاری نظر خود اس کی شاہد ہے ۔
(ف7)
بلند پہاڑوں کے ۔
(ف8)
اپنے فضل سے بارش کی ۔
(ف9)
عمدہ اقسام کے نباتات پیدا کئے ۔
هٰذَا خَلْقُ اللّٰهِ فَاَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖؕ-بَلِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ۠(۱۱)
یہ تو اللہ کا بنایا ہوا ہے (ف۱۰) مجھے وہ دکھاؤ (ف۱۱) جو اس کے سوا اوروں نے بنایا (ف۱۲) بلکہ ظالم کُھلی گمراہی میں ہیں
(ف10)
جو تم دیکھ رہے ہو ۔
(ف11)
اے مشرکو ۔
(ف12)
یعنی بُتوں نے جنہیں تم مستحقِ عبادت قرار دیتے ہو ۔