امت کی تلقی بالقبول سے حدیث ضعیف کی تقویت کی تحقیق
امت کی تلقی بالقبول سے حدیث ضعیف کی تقویت کی تحقیق
جس حدیث کو امت نے قبول کرلیا وہ بھی حجت ہے، خواہ اس کی سند ضعیف ہو۔
حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:
ہم نے اپنے شیخ علامہ ابن تیمیہ کی ایک عبارت دیکھی جس کا مضمون یہ ہے: جو حدیث جماعت ائمہ سے منقول ہو اور امت نے اسے قبول کرلیا ہو، وہ حدیث بھی قطعی ہے، ان ائمہ میں سے قاضی عبد الوہاب مالکی، شیخ ابو حامد اسفرائنی، قاضی ابو الطیب الطبری، شیخ ابو اسحاق شیرازی شافعی، ابن حامد، ابو یعلیٰ بن الفراء، ابو الخطاب، ابن الزاغونی، اور ان کی امثال حنابلہ میں سے اور شمس الائمہ سرخسی حنفی ہیں، علامہ ابن تیمیہ نے کہا امام اشعری، ابو اسحاق اسفرائنی اور ابن فورک وغیرہ اکثر اہل کلام کا یہی قول ہے اور یہی تمام محدثین کا مذہب ہے اور عامہ سلف کا بھی یہی مذہب ہے اور حافظ ابن الصلاح نے بھی استنباط کر کے یہی لکھا ہے۔ (حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر المعروف بابن کثیر متوفی ۷۷۴ھ اختصار علوم الحدیث مع الباعث الحثیث ص ۳۰، ۲۹، مطبوعہ دار التراث قاہرہ ۱۳۹۹ھ )
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
شیخ تقی الدین ابن تیمیہ متوفی ۷۲۸ھ کی اس عبارت پر بعض علماء نے یہ اعتراض کیا ہے کہ صرف خبر واحد علم قطعی کا فائدہ نہیں دیتی اور جب امت اس خبر پر عمل کرے گی تو وہ ظن کی بنیاد پر ہوگا اور اس سے اس خبر کے صدق پر امت کی قطعیت ممکن نہیں کیونکہ یہ جزم بلا علم ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ امت باطن میں خطاء سے معصوم ہے اور کسی خبر کی تصدیق پر ان کا اجماع اس طرح ہے جیسے کسی عمل کے وجوب پر ان کا اجماع ہو اور ہر چند کہ انفرادی طور پر ان میں سے کسی کا کاذب ہونا یا غلط ہونا ممکن ہے لیکن امت کا مجموعہ کذب اور غلطی سے معصوم ہے، جیسے اہل التواتر میں سے کسی ایک کا کذب یا خطا ممکن ہے لیکن تمام اہل تواتر سے کذب اور خطا منتفی ہے۔ (حافظ ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ، النکت علی کتاب ابن الصلاح، ج ۱، ص ۳۷۷، ۳۷۶، مطبوعہ احیاء التراث الاسلامی ۱۴۰۴ھ)
علامہ سخاوی لکھتے ہیں:
وکذا إذا تلقت الأمة الضعيف بالقبول يعمل به على الصحيح حتى إنه ينزل منزلة المتواتر في أنه ينسخ المقطوع به ولهذا قال الشافعي رحمه الله في حديث لا وصية لوارث إنه لا يثبته أهل الحديث ولكن العامة تلقته بالقبول وعملوا به حتى جعلوا ناسخاً لآية الوصية۔( امام ابو عبداللہ محمد بن عبد الرحمن سخاوی متوفی ۹۰۲ھ، فتح المغیث بشرح الفیة الحدیث، ج ۱، ص ۳۳۳، مطبوعہ دار الامام الطبری، ۱۴۱۴ھ)
جب امت کسی حدیث ضعیف کو قبول کرے تو صحیح مذہب کے مطابق اس پر عمل کیا جائے گا اور وہ حدیث بمنزلہ حدیث متواتر ہوگی، اور اس سے کسی قطعی حکم کو منسوخ کردیا جائے گا جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ جس حدیث میں ہے وارث کے لیے وصیت نہیں ہے یہ حدیث ائمہ حدیث کے نزدیک ثابت نہیں ہے، لیکن اس حدیث پر سب نے عمل کیا ہے حتیٰ کہ اس حدیث سے آیت وصیت کو منسوخ قرار دیا ہے۔
علامہ سخاوی نے امام شافعی کی جس عبارت کا حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے:۔
امام شافعی لکھتے ہیں:
قال وروى بعض الشاميين حديثاً ليس مما يثبته أهل الحديث فيه: أن بعض رجاله مجهولون فرويناه عن النبي صلى الله عليه وسلم منقطعاً وإنما قبلنا بما وصفت من نقل أهل المغازي وإجماع العامة عليه وإن كنا قد ذكرنا الحديث فيه واعتمدنا على حديث أهل المغازي عَامّاً وَاجْمَاعُ النَّاسِ اخبرنا سفیان عن سلیمان الاحول عن مجاهد ان رسول الله قال : لا وصیة لوارث فأستدللنا بما وصفت ، من نقل عامة اهل المغازی عن النبی (صلی الله علیہ وسلم) ان لاوصیة لوارث ، علی ان المواریث ناسخة للوصیة للوالدین والزوجة مع الخبر المنقطع عن النبی و اجماع العامة علی القول به ـ (امام محمد بن ادریس شافعی متوفی ۲۰۴ھ، الرسالة ص ۱۴۲ – ۱۳۹، مطبوعہ مکتبہ دار التراث قاهره، الطبعة الثانية ۱۳۹۹ھ)
بعض شامیوں نے ایک ایسی حدیث روایت کی ہے جو ائمہ حدیث کے نزدیک ثابت نہیں ہے اس کی سند میں بعض راوی مجهول ہیں، ہم نے اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقطعاً روایت کیا ہے (یعنی حجازیوں نے اس کو منقطعاً روایت کیا ہے، اور شامیوں نے اس کو متصلاً روایت کیا ہے مگر اس کی سند میں مجهول راوی ہیں) ہم نے اس صفت کے ساتھ اس حدیث کو قبول کرلیا ہے کیونکہ اس کو اہل مغازی نے نقل کیا ہے اور اس پر عام علماء کا اجماع ہے، بے شک ہم نے اس حدیث کی صفت (انقطاع اور جہل) کو بیان کردیا ہے اور ہم نے عام اہل مغازی اور لوگوں کے اجماع پر اعتماد کیا ہے: سفیان از سلیمان احول از مجاہد روایت ہے: بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وارث کے لیے وصیت (کرنا جائز) نہیں ہے، ہم نے عام مغازی کی اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے، علاوہ ازیں وراثت کی آیات بھی والدین اور زوجہ کے لیے وصیت کی ناسخ ہیں اور یہ حدیث منقطع بھی وصیت کے لیے ناسخ ہے اور عام علماء کا اس قول پر اجماع ہے۔