مَا كَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰى ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 11
sulemansubhani نے Wednesday، 1 December 2021 کو شائع کیا.

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا كَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰى ۞

ترجمہ:

( آپ کے) قلب نے اس کی تکذیب نہ کی جو آپ کی آنکھوں نے دیکھا

شب معراج آپ نے اپنے رب کو سر کی آنکھوں سے دیکھا یا قلب سے ؟ اس مسئلہ میں۔۔۔۔۔ متعدد اقوال اور قول مختار

النجم : ١١ میں فرمایا : آپ کے قلب نے اس کی تکذیب نہ کی جو آپ کی آنکھوں نے دیکھا۔

علامہ ابو الحسن علی ابن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت میں ” الفواد “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : دل اور دل کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(١) دل سے مراد ہے، صاحب دل، دل والا اور جہنم کو دل سے اس لیے تعبیر فرمایا ہے کہ دل جسم کا قطب ہے اور اسی پر مدار حیات ہے۔

(٢) اس سے مراد تو دل ہے ( یعنی ذہن اور دماغ) کیونکہ وہی تمام افکار، نظریات اور معتقدات کا محل ہے۔

اور قلب کی تکذیب نہ کرنے کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(١) آنکھوں نے جو کچھ دیکھادماغ نے اس کے خلاف وہم پیدا نہیں کیا، جیسا کہ انسان دور سے ریگستان میں دوپہر کو چمکتی ہوئی ریت کو دیکھتا ہے تو دماغ میں یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ یہ پانی ہے، حالانکہ وہ محض سراب ہے۔

(٢) آنکھوں نے جو کچھ دیکھا دماغ نے اس کا انکار نہیں کیا۔ اور آنکھوں نے جو کچھ دیکھا اس کی تفسیر میں پانچ قول ہیں :

(١) حضرت ابن عباس نے فرمایا : سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شب معراج کو بیداری میں اپنے رب کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا۔

(٢) سدی نے کہا : آپ نے خواب میں اپنے رب کو دیکھا جیسا کہ ’ ’ سنن ترمذی “ میں یہ حدیث ہے :

” الی نعست فاستقلت نوما قرایت ربی فی احسن صورۃ۔ الحدیث “ مجھے نیند آئی، پھر گہری نیند آگئی، پھر میں نے اپنے رب کو بہت حسین صورت میں دیکھا۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٣٤۔ ٣٢٣٣، مسند احمد ج ١ ص ٣٦٨ )

(٣) محمد بن کعب نے کہا : ہم نے سوال کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! میں نے اپنے رب کو اپنے سر کی آنکھوں سے دو مرتبہ دیکھا ہے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :” ما کذاب الفواد ماری۔ “ ( النجم : ١١)

حضرت ابن عباض (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کو اپنے دل سے دیکھا۔

( جامع البیان جز ٢٧ ص ٦٥، دارالفکر، بیرو ت، ١٤١٥ ھ)

(٤) حسن بصری نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کے جلال کو دیکھا اور ابو العالیہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : میں نے دریا کو دیکھا اور میں نے دریا کو پار حجاب کو دیکھا اور میں نے حجاب کے پار نور کو دیکھا، میں نے اس کے سوا نہیں دیکھا۔

(٥) حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : آپ نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دوباردیکھا۔

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس حضرت جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے اور ان کے پر سے جواہر، موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔

(جامع البیان رقم الحدیث : ٢٥١٣٤، مسند احمد رقم الحدیث : ٣٧٤٨، الدار المنثور ج ٧ ص ٥٦٥ )

علامہ ابن الجوزی متوفی ٥٩٧ ھ نے اس کی تفسیر میں صرف پہلا اور پانچواں قول نقل کیا ہے۔ ( زاد المسیر ج ٨ ص ٦٨ )

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

آپ نے جو دیکھا اس کی تفسیر میں تین قول ہیں : (١) آپ نے اپنے رب کو دیکھا (٣) آپ نے حضرت جبریل کو دیکھا (٣) آپ نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں۔

امام رازی اس آیت کی تفسیر کے آخر میں لکھتے ہیں :

پھر نصوص اس پروارد ہیں کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کو اپنے دل سے دیکھا ہے، پس آپ کی بصر آپ کے دل میں رکھ دی گئی تھی یا آپ نے اپنے رب کو اپنی بصر سے دیکھا اور آپ کا دل آپ کی بصر میں رکھ دیا گیا تھا اور یہ کیوں نہیں ہوسکتا کیونکہ اہل سنت کا مذہب ہے کہ بندہ کا دیکھنا اللہ کے ارادہ سے ہوتا ہے، بندہ کی قدرت سے نہیں ہوتا، پس جب اللہ تعالیٰ بصر کے ذریعہ سے کسی چیز کا علم پیدا کرتا ہے تو اس کو رئویت کہتے ہیں اور جب وہ کسی چیز کا علم دل کے ذریعہ سے پیدا کرتا ہے تو اس کو معرفت کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ وہ کسی چیز کے علم کے لیے بصر میں مدرک پیدا کر دے جیسے وہ اس پر قادر ہے کہ کسی چیز کے علم کے لیے وہ قلب میں مدرک پیدا کر دے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کو سر کی آنکھوں سے دیکھا تھا یا نہیں ؟ اس مسئلہ میں صحابہ کا اختلاف ہے اور انکا اختلاف اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کا اس پر اتفاق ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنے رب کو سر کی آنکھوں سے دیکھنا ممکن ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٢٤٢۔ ٢٤١، ملخصاً و موضحا ً ، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے آپ کو بصر کو آپ کے قلب میں رکھ دیا، حتیٰ کہ آپ نے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھ لیا اور اس کی رئویت قرار دیا اور ایک قول یہ ہے کہ یہ رئویت بصر سے حاصل ہوئی اور پہلا قول حضرت ابن عباس (رض) کا ہے اور ” صحیح مسلم “ میں ہے کہ آپ نے اپنے رب کو اپنے قلب سے دیکھا۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٥) اور حضرت ابوذر (رض) اور صحابہ کی ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے اور دوسرا قول حضرت انس (رض) اور صحابہ کی ایک اور جماعت کا ہے۔

نیز حضرت ابن عباض (رض) فرماتے ہیں : کیا تم اس پر تعجب کرتے ہو کہ حضرت ابراہیم خلیل ہوں، حضرت موسیٰ کلیم ہوں اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ کی رئویت حاصل ہو ؟ اور حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ہم بنو ہاشم یہ کہتے ہیں کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٧٨)

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ نور ہے میں نے اس کو جہاں سے بھی دیکھا، وہ نور ہی نور ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٨)

اور دوسری روایت میں ہے : میں نے نور کو دیکھا۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٨)

( الجامع الاحکام القرآن جز ١٧ ص ٨٧۔ ٨٦، دارالفکر، بیروت، ٤١٥ ھ)

اس مسئلہ میں ہمارا مختار یہ ہے کہ آپ نے شب معراج اپنے رب کو اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا اور آپ کے دل نے آپ کی آنکھوں سے دیکھنے کی تکذیب نہیں کی بلکہ تصدیق کی۔ اس پر دلائل ہم انشاء اللہ اس بحث کے آخر میں النجم : ١٨ کی تفسیر میں بیان کریں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 11


فَاَوۡحٰۤى الٰى عَبۡدِهٖ مَاۤ اَوۡحٰىؕ ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 10
sulemansubhani نے Wednesday، 1 December 2021 کو شائع کیا.

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ فَاَوۡحٰۤى الٰى عَبۡدِهٖ مَاۤ اَوۡحٰىؕ ۞ ترجمہ: پھر اللہ نے اپنے مقدس بندے کی طرف رحی فرمائی جو بھی وحی فرمائی ” فاوحیٰ الی عبدہ ما اوحی “ کی تفسیر میں مفسرین کے اقوال النجم : ١٠ میں فرمایا : پھر اللہ نے اپنے مقدس بندے […]

مکمل تحریر پڑھیے »


فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ اَوۡ اَدۡنٰى‌ۚ ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 9
sulemansubhani نے Wednesday، 1 December 2021 کو شائع کیا.

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ اَوۡ اَدۡنٰى‌ۚ ۞ ترجمہ: تو وہ ( نبی، اللہ سے) دو کمانوں کی مقدار قریب ہوگئے یا اس سے بھی زیادہ ” فکان قاب قوسین “ کا معنی اور قریب ہونے والے کے مصداق میں مفسرین کا اختلاف اور قول مختار کا تعین […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ‏ ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 8
sulemansubhani نے Wednesday، 1 December 2021 کو شائع کیا.

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ‏ ۞ ترجمہ: پھر وہ (اللہ، نبی سے) زیادہ قریب ہوا، پھر زیادہ قریب ہوا ” دنا فتدلی “ کی ضمیروں کے مرجع کے مفسرین کے اقوال النجم : 8 میں فرمایا : پھر وہ ( اللہ، نبی سے) قریب ہوا، پھر زیادہ قریب […]

مکمل تحریر پڑھیے »


وَهُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰى ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Wednesday، 1 December 2021 کو شائع کیا.

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَهُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰى ۞ ترجمہ: اس وقت وہ ( نبی یا جبریل) آسمان کے سب سے اونچے کنارے پر تھے النجم : ٧ میں فرمایا : اس وقت وہ ( نبی یا جبریل) آسمان کے سب سے اونچے کنارے پر تھے۔ علامہ علی بن حبیب ماوردی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ذُوۡ مِرَّةٍؕ فَاسۡتَوٰىۙ ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 6
sulemansubhani نے Wednesday، 1 December 2021 کو شائع کیا.
عَلَّمَهٗ شَدِيۡدُ الۡقُوٰىۙ ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 5
sulemansubhani نے Wednesday، 1 December 2021 کو شائع کیا.
اِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡىٌ يُّوۡحٰىۙ‏ ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Wednesday، 1 December 2021 کو شائع کیا.
وَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰىؕ ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 3
sulemansubhani نے Wednesday، 1 December 2021 کو شائع کیا.
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمۡ وَمَا غَوٰى‌ۚ ۞- سورۃ نمبر 53 النجم آیت نمبر 2
sulemansubhani نے Wednesday، 1 December 2021 کو شائع کیا.