بدمذہبوں سے ملاقات اور نشست و برخاست
sulemansubhani نے Sunday، 29 March 2026 کو شائع کیا.

29 مئی 2024ء کی تحریر کچھ ترمیم کے ساتھ
29 مارچ 2026ء
ابو محمد عارفین القادری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدمذہبوں سے ملاقات اور نشست و برخاست عام حالات میں ناجائز و حرام ہے اور شرعی ضرورت کے تحت جائز ہے۔
فقہی قاعدہ ہے ضرورت ممنوعات کو مباح کردیتی ہے۔
یہ تمام مسائل ہمارے اکابر بالخصوص سیدی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتابوں میں واضح طور پر بیان کرچکے ہیں۔

اگر کوئی سنی عالمِ دین بدمذہبوں (مثلا دیوبندی، وہابی، رافضی، غامدی وغیرھم) سے نشست و برخاست رکھتا ہے تو ہم حسنِ ظن رکھیں گے کہ انکے پاس کوئی نہ کوئی عذرِ شرعی ہوگا الا یہ کہ واضح قرائن اسکے خلاف نہ ہوں۔
سوشل میڈیا کے جذباتی نوجوان محض تصاویر کی بنیاد پر حکم لگانا شروع کردیتے ہیں، یہ طریقہ غلط ہے۔

اگر کوئی سنی عالمِ دین شرعی ضرورت کے بغیر رواداری، اتحاد بین المسالک، اعتدال، نرمی وغیرھم کے نام پر نشست و برخاست کا قائل ہے تو وہ اسکا ذاتی عمل ہے، ہمارے اکابر کا یہ طریقہ نہیں رہا، وہ انتہائی متصلب تھے، جس طرح عوام کے ایمان کا تحفظ انہیں عزیز تھا اپنے ایمان کی بھی فکر ہوتی تھی کہ مبادا کسی بدمذہب کی محبت دل میں گھر نہ کر جائے۔

جو ہمارے مقتدا ہیں خصوصا مفتی منیب الرحمن صاحب دام ظلہ، انکی بدمذہبوں سے ملاقات کی تصاویر شائع ہوتی رہتی ہیں۔

اولا۔۔۔۔ تو اسے شائع نہیں کرنا چاہیے تاکہ عوام غلط تاثر نہ لیں اور جواز کے قائل نہ ہوں۔

ثانیا۔۔۔۔ اگر شائع کرنا ضروری ہو یا مختلف مواقع کی تصویریں اور ویڈیوز شائع ہوجائیں تو۔۔۔
ہمارے علمائے کرام عوام کو یہ مسئلہ باور کرادیں کہ مفتی صاحب جس منصب پر ہیں انہیں مختلف عالمی و قومی ضروریات کے پیشِ نظر اسکی ضرورت رہتی ہے، مثلا:
1۔ کسی معاملے پر اہلسنت بریلوی مکتبہ فکر کی ترجمانی
2۔ مغرب کے اشارے پر بلاتفریق تمام مدارسِ دینیہ پر پابندیوں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل
3۔ حدود اللہ و مسلمہ شرعی قوانین کے خلاف اسمبلیوں کی قانون سازی و اعلی عدالتی فیصلے جیسے بڑے مسائل
وغیرھم

عام حالات میں بدمذہبوں سے نشست و برخاست ناجائز ہی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین موجود ہیں بدمذہبوں سے ملنا جلنا، ان کے پیچھے نمازیں پڑھنا، رشتہ داریاں رکھنا وغیرھم سب ناجائز و گناہ اور ایمان کی بربادی کا سبب ہے۔

البتہ وہ معاملات جن کا کوئی معقول عذر نظر نہیں آتا ان کو مفتی صاحب کا ذاتی فعل قرار دیا جائے، یقینا بشری تقاضوں کے مطابق ہر انسان میں کچھ نہ کچھ کمزوریاں موجود ہوسکتی ہیں ایسے میں ہمیں شریعت کی طرف رجوع کا حکم ہے، کیونکہ شریعت سب پر حاکم ہے شریعت پر کوئی حاکم نہیں۔
بالفرض اگر مفتی صاحب یا کسی سنی عالم کے پاس اپنے عمل کا کوئی جواز موجود نہ ہو تو وہ ان کا اور رب کا معاملہ ہے، ہم اُسے خطا پر محمول کرکے چھوڑ دیں گے اور ان کی اتباع نہیں کریں گے، دیگر اچھی باتوں میں اُن کی اتباع کریں گے، اس لئے کہ شریعت کے مقابل کسی کا فعل حجت نہیں ہے، حجت صرف شریعت ہے۔

ثالثا۔۔۔۔ ہر عالم خود کیلئے ضرورت ثابت کرکے بدمذہبوں سے میل ملاپ کا جواز پیدا نہ کرے، جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ یومِ ختم نبوت میں بریلوی دیوبندی مل کر سڑک کے چوک پر ایک ساتھ جھنڈا لگارہے ہیں، جھنڈا لگانا کوئی شرعی ضرورت نہیں ہے البتہ عوام کو بدمذہبوں سے دور رکھنا عالم کی ذمہ داری ہے۔
ایک سنی عالم سٹی آف نالج میں بدمذہبوں کو ملاکر چھوٹی چھوٹی ڈائیلاگ نشستیں کرتے رہے ہیں، ہمارے نزدیک یہ ضرورتِ شرعی نہیں ہے، بلکہ نوجوان سنی علما کے ذہن کو خراب کرنے، ان کو بدمذہبوں سے رواداری کا ذہن دینے اور تصلب کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
ضرورت کی تعریف اور اسکا دائرہ کار کتابوں میں لکھا ہے، پہلے اسے پڑھ لیا جائے۔
(دیکھیے: فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول، مفتی نظام الدین رضوی دام ظلہ)

رابعا۔۔۔۔ دو انتہائی رویے ایسے ہیں جو خلافِ شرع بھی ہیں اور عوامِ اہلسنت کیلئے کنفیوژن کا باعث بھی ہیں
(1) مفتی صاحب یا کسی سنی عالم کے فعل کو عذر پر محمول کیے بغیر انکی تحقیر و تذلیل کرنا
(2) مفتی صاحب کے فعل کا بہانہ بناکر بدمذہبوں سے میل جول، محبت کے رشتے قائم کرنے کی ترغیب دینا اور اعلی حضرت سمیت سینکڑوں اکابر سے بدظن کرانا اور انکی تعلیمات کو تشدد قرار دینا

علمائے کرام پر لازم ہے کہ دونوں انتہائی رویوں کی مذمت کریں، کسی سنی عالم کی تذلیل حرام ہے، ان کے فعل کو کسی عذر پر محمول کریں اور عوام میں استثنائی و جوازی صورت بیان کرکے شکوک و شبہات دور کریں تاکہ وہ 150 سال سے بیان ہونے والے مسائل کی بنیاد پر اکابرِ دین سے بدظن نہ ہوں۔
جو متساہلین استثنائی صورتوں کا بہانہ بناکر، خلط مبحث پیدا کرکے عوام میں یہ تاثر پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ لوگو! بدمذہبوں سے ملنا جلنا، نمازیں پڑھنا، شادیاں کرنا، دوستیاں رکھنا سب جائز ہے، یہ پرانے وقتوں کی تشدد پسند سوچ ہے دیکھو فلاں عالم کرتے ہیں تم بھی کرو۔۔۔۔۔ اس فکر کا رد بھی ضروری ہے۔ بدمذہبوں سے متعلق احکام کل بھی وہی تھے آج بھی وہی ہیں۔

ابو محمد عارفین القادری
29 مئی 2024 ء
عروس البلاد کراچی

#عارفین #arfeenqadri #اتحاد #تصلب #رواداری #تساہل


ٹیگز:-
ایمان ابو طالب
sulemansubhani نے Sunday، 29 March 2026 کو شائع کیا.

ایمان ابو طالب کم و بیش 124000 صحابہ  کرام اور اہلبیت کا دین ایک ہے جو قیصر و کسری تک پہنچا۔ چچا ابوطالب نے حضور ﷺ سے بہت پیار کیا لیکن قرآنی آیات اور صحیح احادیث کی رو سے اہلسنت علماء کا اجماع ہے کہ چچا ابوطالب نے کلمہ نہیں پڑھا۔ چچا ابو طالب کے […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
بدھ کے دن جمعہ پڑھانا
sulemansubhani نے Thursday، 26 March 2026 کو شائع کیا.

بدھ کے دن جمعہ پڑھانا یہ واقعہ کتب احادیث میں نہیں بلکہ چوتھی صدی ہجری کے شیعہ مورخ علی بن حسین مسعودی (متوفی 346ھ) کی عربی زبان میں لکھی تاریخ کی  کتاب “مُروجُ الذَّہَب و مَعادنُ الجَوہَر” میں بغیر سند کے (جھوٹا) لکھا ہے جیسا کہ اہلتشیع ایک جھوٹا دین ہے جن کی بنیاد ہی […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت اسلام کی پہلی بادشاہت
sulemansubhani نے Tuesday، 24 March 2026 کو شائع کیا.

شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت اسلام کی پہلی بادشاہت  اور نبی ﷺ کے نور ہدایت پر مشتمل تھی! بعض لوگ خلافت منہاج علی نبوہ جو کہ خلفائے راشدین کی بشمول امام حسن مجتبی کی ایسی فضیلت ہے کہ اسلام میں ان 5 اشخاص کی خلافت اسلامی قوانین کے تحت اہل حل […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ہمیشہ کی طرح اہلسنت کی تقسیم میں مصروف ۔۔۔
sulemansubhani نے Monday، 23 March 2026 کو شائع کیا.

یہ پہلی بار نہیں کہ طاہر القادری صاحب نے اہلسنت کو تقسیم کرنے میں کوئی کسر چھوڑی ہو۔ اب چاہے شاہ احمد نورانی صاحب کے مقابلے میں سیاست میں آ کر اہلسنت کو تقسیم کرنا ہو یا پھر دیت المراۃ کے مسئلے میں لبرل صحافیات کی طرف داری کرتے ہوئے خرق اجماع ہو، امام بارگاہوں […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
کیا ایران یہ جنگ جیت رہا ہے؟
sulemansubhani نے Wednesday، 4 March 2026 کو شائع کیا.
برطانوی مسلمانو، آپ کے صدقات کہاں جا رہے ہیں
sulemansubhani نے Wednesday، 25 February 2026 کو شائع کیا.
کئی حفاظ ایسے ہیں جنہیں قرآن بھول چکا ہے
sulemansubhani نے Wednesday، 25 February 2026 کو شائع کیا.
حضرت قبلہ طاغوت ساحل عدیم
sulemansubhani نے Monday، 23 February 2026 کو شائع کیا.
تراویح میں ختم قرآن ۔۔۔
sulemansubhani نے Sunday، 22 February 2026 کو شائع کیا.

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com