ایپسٹن فائلز ایک نظریاتی تجزیہ
sulemansubhani نے Saturday، 14 February 2026 کو شائع کیا.

ایپسٹن فائلز ایک نظریاتی تجزیہ

✍️ پٹیل عبد الرحمٰن مصباحی، گجرات (انڈیا)

ہمارا زمانہ چوں کہ آثار قیامت کے ظہور میں تیزی کا زمانہ ہے لہٰذا ہر چند دنوں میں کوئی ایسا ناقابل یقین حادثہ رونما ہونا؛ جو مجموعی طور پر تمام بنو نوع آدم کو حیرت میں ڈال دے؛ کوئی بعید از قیاس بات نہیں. ایسے واقعات اپنے گھناؤنے پن کی وجہ سے حیرت انگیز ضرور ہوتے ہیں مگر اس پر ظاہر کیا جانے والا سطحی رد عمل اس سے بھی زیادہ تعجب خیز ہوتا ہے. ایپسٹن فائلز کا قضیہ اسی طرح کی تازہ مگر بوسیدہ واردات میں سے ایک ہے. لوگ دنگ ہیں اور اپنے ما فی الضمیر کے اظہار میں بوکھلائے ہوئے ہیں کہ انسان ایسا اور اتنا گھناؤنا کیسے ہو سکتا ہے؟ اتنے بڑے کہے جانے والے لوگ اور ایسے کالے کرتوت؟ مگر اہل نظر جو “جدید دنیا” کے بنیادی نظریات اور عملی ڈھانچے کو خوب کرید کر دیکھ چکے ہیں اور مغربیت کو بہت گہرائی سے جانتے ہیں وہ بس لمبی سانس لے کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو ہونا ہی تھا! بلکہ زیر لب یہ بھی بول دیتے ہیں کہ آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا.

ایپسٹن فائل کا عنوان چوں کہ بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے، اتنا کہ درجن بھر جہات سے اس سلسلے میں بات ہو سکتی ہے، لہٰذا ہمیں اپنے اسلوب سے ہٹ کر اسے چند الگ الگ ذیلی عناوین کے تحت زیر بحث لانا ہوگا تاکہ فہم میں قدرے سہولت پیدا ہو جائے. ہم مان کر چل رہے ہیں کہ فائلز یا اس میں درج ناموں اور کرتوتوں کی قدرے تفصیل سے قارئین واقف ہیں، ویسے بھی ہمیں اس کی تفصیلات سے زیادہ غرض نہیں اس لیے کہ حادثہ کی بنیاد میں پیوست نظریاتی مواد کو زیر بحث لانا ہماری نظر میں زیادہ اہم ہے. ہم نے چار سوالات کی شکل میں موضوع کو ترتیب دینے کی کوشش کی ہے جو آگے چل کر جوابات میں زیادہ واضح اور قابل فہم ہوتا جائے گا. مفصلہ ذیل کے مطابق عنوان کی تقسیم چار حصوں میں ہوگی.

ایک: ایسی فائلز کو منظر عام پر لایا جانا اپنے آپ میں ایک سوال طلب امر ہے. اس کے نشر کا جواز؛ نظریۂ شفافیت کے تحت بیان کیا جاتا ہے، مگر نظریۂ شفافیت خود کسی ٹیڑھی کھیر سے کم نہیں، لہٰذا نظریہ شفافیت کو باریکی سے سمجھنا پہلا مرحلہ ہے. ویسے تو اِن فائلز کو نشر کرنے کے خاص وقت پر بھی سوالات ہو سکتے ہیں مگر ہم اسے قاری کی قیاس آرائی پر چھوڑتے ہیں.

دو: لبرل اندازِ فکر کو جاننا یعنی ایک لبرل ذہن کا بندہ اپنے تئیں ایسی واقعات کو کس طور پر دیکھتا ہے؟ کیا اس کے لیے ایسے واقعات اتنے ہی تشویش ناک ہیں جتنے کہ ایک عام انسان کے لیے یا ایک مذہبی ذہن کے لیے ہوتے ہیں؟ اس ضمن میں ٹھیٹھ لبرل ذہن کے لوگ بھی شامل ہیں اور وہ لوگ بھی جو کسی حد تک عملاً مذہبی رسومات ادا کرتے رہتے ہیں مگر ذہن؛ شعوری یا غیر شعوری طور پر لبرل والا رکھتے ہیں.

تین: کیا یہ محض مغرب کے بڑے بڑوں کا اخلاقی زوال ہے یا پھر بات اس سے آگے کی ہے جسے بہت گہرائی کے ساتھ دھیان سے سمجھنے کی ضرورت ہے؟ یعنی ایک گِرے ہوئے کردار کا آدمی کہیں کا بھی ہو سکتا ہے مشرق یا مغرب اور کیسا بھی ہو سکتا ہے امیر یا غریب، کیا بات اتنی سادہ سی ہے؟

چار: سیکولر جمہوریت یا جدید ریاست کے ڈھانچے میں ایسے مجرمانہ کردار کے لوگوں کے لیے کس حد تک پذیرائی ہے؟ کیا جدید ریاست میں یہ سب کچھ ناقابل قبول حرکت ہے یا پھر ایک اتفاقاً پیش آنی والی صورتحال جس کا تب تک دفاع کیا جائے گا جب تک براہ راست کوئی قانون اس ہر لاگو نہیں ہوتا یا لوگ انقلابی نعروں کے ساتھ تختہ پلٹ کے لیے نکل نہیں پڑتے؟

اِن سوالات کے جوابات جوں جوں کھلتے جائیں گے ویسے ویسے ایپسٹن فائلز کے حقائق بھی کھلتے جائیں گے. چوں کہ موضوع کافی گھناؤنے واقعہ سے متعلق ہے اور تھوڑا سا ٹیڑھا ہے سو ہم چاہیں گے کہ تحقیق کی گنگا الٹی ہی بہے. جواب دینے میں ہم چوتھے سوال سے شروع کر کے پہلے تک جائیں گے اور پھر ایک خاتمہ ایڈ کر کے ختم کر دیں گے. چار مرحلوں میں بہت سے جملے ہوں گے جہاں رک کر مزید غور کرنے کے اپنے فائدے ہوں گے، اُس علم دوست شخص کے لیے جو حقائق تک پہنچنے کا وافر جذبہ رکھتا ہو. یہ بھی کوشش رہے گی کہ بات زیادہ پیچیدہ نہ ہونے پائے مگر مفہوم کی وسعت اگر کہیں تعبیر میں لپٹ کر اسے گنجلک کر دے تو بصیرت والا قاری خود اپنے حسنِ نظر سے اس کی پرتیں کھول لے گا ایسا ہماری چھَٹی حسّ کہتی ہے.
بہرحال چلیں! الٹی گنتی شروع کرتے ہیں، بہت سنجیدگی سے ملاحظہ کریں. ہم سوال نہیں دہرا رہے، سیدھے جواب لا رہے ہیں، قارئین ہر جواب سے پہلے ربط کے لیے دو بارہ سوال پر نظر ڈال سکتے ہیں.

چار= سیکولر جمہوریت یا جدید ریاست میں حکومت اخلاقیات یا ذمہ داری کے احساس سے نہیں چلتی، بلکہ بس چلتی ہے اور جب تک وہ چلتی رہتی ہے تب تک کسی کو نہیں پرواہ کہ چلانے والے نے کیا کیا، کیوں کیا، کس حد تک گھٹیا کیا. اگر صبح مارکیٹ کھلے ہیں، کچہریاں انصاف ناپ تول کر دے رہی ہیں، سڑکیں اپنی ناکہ بندیوں کے ساتھ کھلی ہیں، اسکولوں میں تعلیم کا کاروبار جنسی آزادی کے ساتھ جاری ہے اور اسپتال موت و حیات کی کشمکش میں بہتر موت پر بدتر حیات کو ترجیح دے رہے ہیں، تب تک سب کچھ نارمل ہے.
مغربی جمہوریت میں تو دہائیوں سے یہ بالکل معمول کی بات رہی ہے مگر اب مشرق میں بھی تقریباً وہی ماحول پیدا ہو چکا ہے، یا یوں کہیں کہ مشرق اِس معاملے میں بھی مغرب سے پچاس سال پیچھے ہی رہا.
بہرحال جدید ریاست میں تعلیمی اداروں اور سیاسی حد بندیوں کے ذریعے شہریوں کی ایسی تربیت کر دی گئی ہے کہ جب تک سب معمول کے مطابق یا کچھ اونچ نیچ کے ساتھ چل رہا ہے تب تک کسی کو کوئی فکر نہیں ہے. آج کی دنیا میں جمہوری بادشاہ کی بد چلنی کو حکومت کے چلن سے جدا کر لیا گیا ہے بالکل ایسے ہی جیسے ماضی قریب میں بدچلن حکومتوں کو سدھارنے کے نام پر مذہب کو حکومت سے جدا کر دیا گیا تھا.
گویا چوتھے سوال کے جواب میں ہم بہت اختصار کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں! سیکولر جمہوریت کا ڈھانچہ کھڑا ہی اس طرح کیا جاتا ہے کہ بد کردار لوگوں کی پذیرائی و پشت پناہی ہو سکے. پھر چوں کہ ووٹنگ کے نام پر ایوان ایسے سینکڑوں نمائندوں سے بھرا ہوا ہے جو بد کرداری میں ایک دوسرے پر واضح سبقت لے جانے والے ہیں، لہٰذا اگر کسی دن عوام کا غصہ کسی ایک بد کردار پر پھوٹ پڑے اور نوبت انقلاب اور تختہ پلٹ تک آ بھی جائے تو زیادہ حرج نہیں، اس لیے کہ ریاست عوام کی وقتی خوشی کے لیے ایک کو برطرف کرے گی اور مسکرا کر کہہ دے گی، یہ نہیں اور سہی اور نہیں اور سہی. یوں آج کی دنیا میں ہر مرتبہ جدید سیکولر ریاست ہی ایمان داری اور بد عنوانی کے دو متضاد میدان ایک ساتھ مارنے میں کامیاب رہتی ہے.

تین= کچھ لوگ بس یہ گمان کر کے مطمئن ہیں کہ یہ اخلاقی زوال ہے، کوئی عام شخص یا کوئی خاص سیاست دان یا کوئی سائنس دان، کیا فرق پڑتا ہے جب وہ اخلاقی طور پر گر جائے تو کسے باشد، وہ کچھ بھی کر سکتا ہے. گویا یہ فائلز ایسے ہی چند سرپھروں کی داستان ہے اور بس. ہم کہتے ہیں اخلاقی تنزل یا اخلاقی جرائم کا پایا جانا کسی بھی انسانی معاشرے کا ایک حصہ ہے، مگر یہاں بات صرف اخلاقی گھناؤنے پن کی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ فرد کے انفرادی نظریہ کا ہے جو کہ در حقیقت اُس معاشرتی کُل کا متفقہ عقیدہ ہے جس کا وہ محض ایک فرد ہے.
ہمارے یہاں اب تک مغرب کو محض اشیاء کی ترقی کے ضمن میں دیکھا گیا ہے، عموماً لوگ تہذیبِ مغرب کی نظریاتی بنیادوں سے صَرفِ نظر کر کے صِرف مغرب کی ترقی کو سامنے رکھتے ہوئے عروج و زوال کی داستانیں ترتیب دے ڈالتے ہیں، مگر نہیں سمجھتے کہ جب “ترقی” ہی کسی معاشرتی کُل کی کُل ذمہ داری ٹھہرا دی گئی ہو تو ترقی کے نام پر برہنہ گھومنے سے لے کر بے تحاشا جنسی تسکین کا سامان کرنے تک سب کچھ صرف اس لیے جائز ٹھہرتا ہے کہ ہم ترقی یافتہ ہیں.
ایک معاشرہ اگر “آزادی” اور “ترقی” کے ایسے نعروں پر اپنی بنیاد رکھتا ہے جہاں انفرادی لذت اور مفاد کے لیے سارے اخلاقی دائرے توڑے جا سکتے ہیں اور تمام معاشرتی یا خاندانی اقدار کو رد کیا جا سکتا ہے یہ کہہ کر کہ ایک آزاد معاشرے میں ہر فرد اپنی مرضی کا مالک ہے جب تک کہ وہ کسی دوسرے کی آزادی میں خلل نہ ڈالے، تو ایسے معاشرے میں چند افراد کی جانب سے؛ اپنی آزادی کے ساتھ لذت کی انتہا تک پہنچنے کے لیے؛ انتہائی گھناؤنا راستہ اپنانے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا جاتا.
اگر مغربی معاشرے کی سائنسی بنیادوں کو کھود کر تجزیہ کیا جائے تو “نظریۂ ترقی” کا سڑا گَلا فکری مواد ہاتھ لگے گا. مغربی تہذیب کے پس منظر میں ترقی یافتہ ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اپنی ٹیکنالوجی کی طاقت سے ایسے گھناؤنے افعال کر سکتے ہیں، پھر ان کی وجہ سے ممکنہ طور پر ہونے والی جسمانی تباہی سے بچ بھی سکتے ہیں، سیاسی پاور کے ذریعے اِن کاموں کی معاشرتی سزا بھی رکوا سکتے ہیں اور میڈیا چوں کہ ہمارے کنٹرول میں ہے لہذا میڈیا کی ستر پوشی مزید ہمیں اپنے ہمہ جہت ننگے پن کے باوجود مظلومیت کے لبادے میں ڈھانپ کر رکھ سکتی ہے، سو ہم اپنی ترقی کی اعلیٰ منزل پر خواہش کی بے تحاشا تکمیل بلا تأمل کر سکتے ہیں.
گویا فائلز میں موجود اخلاقی تنزل کے یہ نمونے در اصل وہ نتائج ہیں جو کسی معاشرے میں “نظریہ ترقی” کے اپنے عروج پر پہنچنے پر برآمد ہونے کا قوی امکان بلکہ غالب گمان موجود ہوتا ہے. یہ محض اخلاقی زوال نہیں ہے بلکہ نظریہ ترقی کا کھوکھلا پن ہے جو کسی بھی معاشرے کو سڑا گلا کر ناقابل زیست بنا دیتا ہے.

دو= اب یہ سوال آتا ہے کہ کیا لبرل ذہن جو چیزیں سامنے آئی ہیں ان کو اتنا ہی برا سمجھتا ہے؟ اس کے جواب میں سادہ سی بات یہ ہے کہ لبرل ذہن کا سوچا سمجھا رسپانس ایسے معاملات میں یہ ہوتا ہے کہ “ایک حد تک تو ٹھیک تھا، اتنا زیادہ نہیں ہونا چاہیے تھا.” لبرل ذہن کو پہلے ہی آزادیٔ افکار و اظہار کا چسکا لگا ہوتا ہے، وہ حقوق کے روا ناروا نعروں میں ایک خاص نہج پر پروان چڑھا ہوتا ہے. لبرل سوچ کی بنیاد یہ ہوتی ہے کہ ہم اگر چہ نیک ہیں مگر برائی اختیار کرنا کسی اور کی پسند ہو سکتی ہے، لہٰذا ہمیں ان کے گناہوں پر برداشت کا رویہ اپنانا چاہیے، جیسے ہمیں نیکی کرنے کی آزادی ہے ویسے ہی انہیں گناہ کرنے کی آزادی ہے، اور ہمارے گرد دنیا میں ہر کوئی اپنی آزادی برت رہا ہے. یہی وجہ ہے کہ لبرل اقدار پر چلنے والے معاشروں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مشکل سے مشکل تر ہوتا جاتا ہے.
لبرل شخص اپنے گرد کی دنیا کو کچھ اس طرح دیکھتا ہے کہ اختلاط مرد و زن کو روکنا تنگ نظری ہے،؛ یوں ہی اگر زنا بالرضا ہو رہا ہے تو یہ مرد عورت کی اپنی آزادی ہے، ہمیں اس میں دخل نہیں دینا چاہیے. بلکہ ہم جنس پرستی کا جذبہ بھی اگر کہیں زور مار رہا ہے تو یہ ان کا حق ہے کہ اپنی انفرادی آزادی کے طور پر وہ ایسا کریں. یہاں تک تو سارے لبرل متفق ہوتے ہیں، پھر کچھ ذہنی مریض جانوروں اور بچوں سے تسکین کا خبیث نعرہ لگاتے ہیں، یہاں پہنچ کر باقی لبرل معاشرہ تھوڑے سے تذبذب کے ساتھ دانستہ نظریں چرا لیتا ہے اور جیسے اُن درندوں پر تنقید کرنے والوں کو ٹال نہیں پاتا ویسے ہی ان کی تحسین کرنے والے لبرل افراد کو روکتا بھی نہیں ہے.
حاصل یہ کہ لبرل معاشرہ ایسے کرتوت دیکھتا تو ہے مگر اپنے اصولوں کے مطابق اس پر آواز بلند نہیں کر سکتا. گویا ہم جن افعال کو گھناؤنا سمجھ رہے ہیں؛ اس لیے کہ ہم اب تک ایسے معاشرے میں ہیں جہاں اسلامی اقدار بہت حد تک رائج ہیں؛ وہ افعال لبرل معاشرے یا لبرل ذہن کے لیے کسی حد تک ناپسندیدہ تو ہیں مگر گھناؤنے نہیں، شاید ان کے لیے یہ اتنا ہی برا ہو جتنا کسی مرد کا سر راہ لوگوں کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنا.

ایک= نظریہ شفافیت کے باطن کُش ہونے کو ہم کسی اور تحریر میں کھولیں گے، فی الحال کے لیے اس کی اتنی معرفت کافی ہے جس سے متعلقہ موضوع کی قباحت واضح ہو جائے.
نظریہ شفافیت Transparency کا موٹا موٹی مفہوم یہ ہے کہ معلومات سیدھی اور آسان زبان میں ہونی چاہئیں، عوام کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہونی چاہئیں، پھر وہ جیسی ہیں ویسی ہی آگے بڑھا دی جائیں بغیر کسی وضاحت یا نتیجے کے، نیز جو ادارے معلومات کو لیے ہوئے ہوتے ہیں وہ صرف انفارمیشن کو ظاہر کر دینے کے ذمہ دار ہیں، اس کے آگے کسی ایکشن کے ذمہ دار نہیں.
یہ بظاہر بڑا خوبصورت نظریہ معلوم ہوتا ہے کہ بھئی! جب ہم انسان ایک ساتھ ایک معاشرے میں رہتے ہیں تو ہم میں سے ہر ایک کو نہایت شفاف انداز میں مربوط ہونا چاہیے. کسی کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہ ہو یا دوسرے لفظوں میں کسی کے پاس کچھ ایسا چھپا ہوا نہ ہو جس سے دوسروں کو دھچکا لگ سکتا ہو. مگر اِس شفافیت کے نام پر سوائے اعلانِ جرائم کے اور کچھ سامنے نہیں آتا. بات یہ نہیں کہ اُن درندوں کی تنہائیاں کتنی گھناؤنی ہیں، بات یہ ہے کہ ان تنہائیوں کو ظاہر کر کے آپ کی میری ہم سب کی تنہائی میں خلل ڈالا جا رہا ہے. مسئلہ یہ نہیں کہ وہ بد باطن لوگ ہیں مسئلہ یہ ہے کہ ان کے باطن کی خباثت کو ہمارے درمیان علی الاعلان ظاہر کر کے ایسے متعارف کرایا جا رہا ہے جو ہمارے باطن کو بری طرح ڈیمج کرنے کے لیے کافی ہے.
مزید یہ کہ ایسی شفافیت کے ذریعے نیکی اور بدی کو ہمسر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے. گویا یہ جتلایا جاتا ہے کہ نیکی کی ترغیب اور برائی پر ترہیب کوئی چیز نہیں. بد ترین جرائم کو بھی اُسی لب و لہجے اور سادگی کے ساتھ عوام میں رکھا جائے جس میں اچھے کاموں یا چھوٹی موٹی کوتاہیوں کو بیان کیا جاتا ہے. کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مجموعی طور پر ہم پورے معاشرے کو خیر کی ترغیب دلائیں گے یا شر سے نفرت کی طرف لے جائیں گے، بس ہم کسی صحافی کے خبر سنانے کی طرح برائیوں بلکہ شدید ترین جرائم کو سنا کر فارغ ہو جائیں گے. یہ ہے نظریہ شفافیت کا وہ پوشیدہ شر جو جرائم کو ایکسپوز کرنے کے نام پر ان کو نارملائز کوتا ہے. جدید مغرب ایسی بہت سی اصطلاحات سے بھڑا پڑا ہے جن کا ظاہر خوش نما اور باطن نہ صرف یہ کہ شر آمیز ہوتا ہے بلکہ اکثر عذاب آلود بھی ہوتا ہے.

اختتامیہ = طویل کافی طویل ہو جانے کے باوجود وعدے کے مطابق اختتام بھی جوڑ لیتے ہیں جو کہ قیمتی نکات سے خالی نہ ہوگا. اگر چہ محررہ بالا مواد ایپسٹن فائلز کے ڈسٹ بین سے متعلق تھا مگر کوڑے دان سے اتنا سبق تو لیا جا سکتا ہے کہ فلاں فلاں چیز گندگی ہے جسے کسی صالح ماحول یا جگہ پر نہیں آنے دینا چاہیے، آ جائے تو پھیلنے نہیں دینا چاہیے. یہاں ہم بغیر کسی پیچیدگی کے چار خباثتوں کا ذکر کر دیتے ہیں. جدید سیکولر ریاست، لبرل انداز فکر، نظریہ شفافیت اور نظریہ ترقی. اس تناظر میں ہم اہل اسلام پر اپنے اسلامی معاشرے کے لیے چند اقدامات کرنا لازم ہو جاتا ہے.
١…اپنے سیاسی شعور کو سیکولر جمہوریت کی طرف مائل ہونے سے بچانا، یعنی بوجہِ اضطرار اس کی کم ترین شکل کو اپنانے پر اکتفا کرنا، اسے کوئی مستقل نافع نظام نہ سمجھنا. کم نصیبی سے پچھلی نصف صدی میں ایسا ہو چکا ہے اور اب تدارک کی سخت ضرورت ہے.
٢…اپنی معاشرتی فضا کو لبرل ڈھانچے پر ڈھلنے سے بچانا، یعنی یہ سمجھنا کہ جدید تعلیم کے نام پر ساری ذہنی لبرل خرافات پال لینے کے بعد ظاہری اعمال کے اسلامی ڈھنگ پر ہونے کی کوئی زیادہ اہمیت نہیں رہ جاتی ہے، لہٰذا بطور مسلمان لبرل نظریات کی بد عقیدگی سے بچنا ہماری اولین ذمہ داری ہے.
٣…بے تحاشا ترقی کے نعرے میں بہنے کی بجائے دنیا و آخرت کی فلاح کا متوازن طرز زندگی لے کر چلنا، بلکہ دنیا کی فلاح اس میں سمجھنا کہ جس دنیا کے ذریعے آخرت کما لی جائے وہ دنیا اچھی ہے، باقی محض متاع اور مچھر کے پر سے بھی گئی گزری.
٤…خارجی مادہ پرستی سے اپنے داخل کو محفوظ رکھ کر اپنی روحانیت کو زندہ رکھنا، یعنی شفافیت کے اس بہاؤ سے اپنے آپ کو باہر رکھنا جو اٹھتا تو ظاہر سے ہے مگر باطن کو بھی ساتھ بہا لے جاتا ہے. شفافیت کے نام پر اپنے معاشرے میں افشائے شر کا ماحول نہ بننے پائے یہ نگرانی رکھنا ضروری ہے.

یہ کرنا لازم ہے، ورنہ کیا فرق پڑتا ہے کسی شخص کا نام یہودی طرز کا ہو یا اسلامی طرز کا، وہ مشرقی ہو یا مغربی، بہرحال اگر اس کے سوچنے سمجھنے کے سارے تناظر خالص لبرل سیکولر ترقی پسند ہوں تو معاشرے اور فرد کا نام تو جدا جدا ہو سکتا ہے مگر نتیجہ اُس سے کم گھناؤنا نہیں آ سکتا جتنا گھناؤنا ابھی فائلز کے انکشاف میں نظر آ رہا ہے. وقت رہتے اپنے معاشرے کی فکری بیماریوں کو پہچان کر اس کا علاج کیجیے اور اپنے گرد کے ماحول کو جہنم بننے سے، نیز اپنے قرابت داروں کو جہنم کا ایندھن بننے سے بچا لیجیے.
26.08.1447
14.02.2026

#EpsteinFiles


جہلم کا منی دجال کہتا ہے کہ یہ میرے ڈر سے انکار کرتے ہیں کلمہ چشتی کا
sulemansubhani نے Thursday، 12 February 2026 کو شائع کیا.

آج سے 665 سال قبل حضرت مخدومِ جہاں شیخ شرف الدین یحییٰ منیری علیہ الرحمہ چشتی کلمے والے واقعے کو افتراء یعنی جھوٹ قرار قرار دے چکے ہیں جہلم کا منی د-جا-ل کہتا ہے کہ یہ میرے ڈر سے انکار کرتے ہیں حالانکہ اس وقت مرزا منی د-جا-ل کے خاندان کا نام و نشان تک […]

مکمل تحریر پڑھیے »


سعودی عرب میں ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ اور اقامہ کے حقائق
sulemansubhani نے Wednesday، 11 February 2026 کو شائع کیا.

سعودی عرب میں ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ اور اقامہ کے حقائقاز: افتخار الحسن رضوی آج کل سوشل میڈیا (بالخصوص ٹک ٹاک) پر ایسے ایجنٹس کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جو سادہ لوح لوگوں کو یہ کہہ کر ورغلا رہے ہیں کہ سعودی عرب میں کچھ  سرمایہ کاری کر کے آپ جائیداد کے مالک بن سکتے […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
ایپسٹین فائلز : آنکھیں کھلی رکھیں
sulemansubhani نے Monday، 9 February 2026 کو شائع کیا.

______ایپسٹین فائلز : آنکھیں کھلی رکھیں !! غلام مصطفےٰ نعیمی ہاشمیروشن مستقبل دہلی ایپسٹین فائلز کے صفحات نے سیاست، تجارت، سائنس اور آرٹ سے وابستہ بڑے بڑے ناموں کو بے نقاب کر دیا ہے۔جیسے جیسے فائلز کھل رہی ہیں، ویسے ویسے شریفوں کی شرافت بھی سامنے آتی جا رہی ہے۔امریکہ کے محکمہ انصاف(DOJ) کے مطابق […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
اگر کسی نان مسلم نے نازیبا حرکات کر دی تو کون سی بڑی بات ہے۔۔۔ ہمارے ہاں بھی تو
sulemansubhani نے Saturday، 7 February 2026 کو شائع کیا.

جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایپسٹین کے جزیرے میں اگر کسی نان مسلم نے یہ نازیبا حرکات کر دی تو کون سی بڑی بات ہے۔۔۔ہمارے ہاں مدارس میں بیٹھ کر مولوی بھی تو کم عمر بچوں کے ساتھ یہی کرتا ہے۔۔وہ دراصل مغربی تہذیب کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے لانے سے خوفزدہ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


ٹیگز:-
علامہ محمد عبدالمصطفی الازہری رحمۃ اللہ علیہ
sulemansubhani نے Friday، 6 February 2026 کو شائع کیا.
حزب الشیطان کا نیٹ ورک
sulemansubhani نے Wednesday، 4 February 2026 کو شائع کیا.
جیفری ایپسٹن کی سیاہ کاریاں اور تصاویر کے مختلف رُخ
sulemansubhani نے Wednesday، 4 February 2026 کو شائع کیا.
جیفری ایپسٹین کون تھا
sulemansubhani نے Wednesday، 4 February 2026 کو شائع کیا.
ایپسٹین فائلز اور الحاد
sulemansubhani نے Wednesday، 4 February 2026 کو شائع کیا.

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com