کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 21 رکوع 13 سورہ لقمان آیت نمبر 31 تا 34
اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ(۳۱)
کیا تو نے نہ دیکھا کہ کُشتی دریا میں چلتی ہے اللہ کے فضل سے (ف۵۶) تاکہ تمہیں وہ اپنی (ف۵۷) کچھ نشانیاں دکھائے بےشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے شکرگزار کو (ف۵۸)
(ف56)
اس کی رحمت اور اس کے احسان سے ۔
(ف57)
عجائبِ قدرت کی ۔
(ف58)
جو بلاؤں پر صبر کرے اور اللہ تعالٰی کی نعمتو ں کا شکر گزار ہو ، صبر و شکر یہ دونوں صفتیں مومن کی ہیں ۔
وَ اِذَا غَشِیَهُمْ مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳛ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ فَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌؕ-وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا كُلُّ خَتَّارٍ كَفُوْرٍ(۳۲)
اور جب اُن پر (ف۵۹) آپڑتی ہے کوئی موج پہاڑوں کی طرح تو اللہ کو پکارتے ہیں نرے اسی پر عقیدہ رکھتے ہوئے (ف۶۰) پھر جب اُنہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو اُن میں کوئی اعتدال پر رہتا ہے (ف۶۱) اور ہماری آیتوں کا انکار نہ کرے گا مگر ہر بڑا بے وفا ناشکرا
(ف59)
یعنی کُفّار پر ۔
(ف60)
اور اس کے حضور تضرُّع اور زاری کرتے ہیں اور اسی سے دعا و التجاء ، اس وقت ماسوا کو بھول جاتے ہیں ۔
(ف61)
اپنے ایمان و اخلاص پر قائم رہتا کُفر کی طرف نہیں لوٹتا ۔
شانِ نُزول : کہا گیا ہے کہ یہ آیت عکرمہ بن ابی جہل کے حق میں نازل ہوئی جس سال مکّہ مکرّمہ کی فتح ہوئی تو وہ سمندر کی طرف بھاگ گئے ، وہاں بادِ مخالف نے گھیرا اور خطرے میں پڑ گئے تو عکرمہ نے کہا کہ اگر اللہ تعالٰی ہمیں اس خطرے سے نجات دے تو میں ضرور سیدِ عالَم محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا یعنی اطاعت کروں گا ، اللہ تعالٰی نے کرم کیا ہوا ٹھہر گئی اور عکرمہ مکّہ مکرّمہ کی طرف آ گئے اور اسلام لائے اور بڑا مخلصانہ اسلام لائے اور بعض ان میں ایسے تھے جنہوں نے عہدِ وفا نہ کیا ، ان کی نسبت اگلے جملہ میں ارشاد ہوتا ہے ۔
یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا یَوْمًا لَّا یَجْزِیْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖ٘-وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاٙ-وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ(۳۳)
اے لوگو (ف۶۲) اپنے رب سے ڈرو اور اس دن کا خوف کرو جس میں کوئی باپ اپنے بچہ کے کام نہ آئے گا اور نہ کوئی کامی بچہ اپنے باپ کو کچھ نفع دے (ف۶۳) بےشک اللہ کا وعدہ سچا ہے (ف۶۴) تو ہرگز تمہیں دھوکا نہ دے دنیا کی زندگی (ف۶۵) اور ہرگز تمہیں اللہ کے حلم پر دھوکہ نہ دے وہ بڑا فریبی (ف۶۶)
(ف62)
یعنی اے اہلِ مکّہ ۔
(ف63)
روزِ قیامت ہر انسان نفسی نفسی کہتا ہو گا اور باپ بیٹے کے اور بیٹا باپ کے کام نہ آ سکے گا ، نہ کافِروں کی مسلمان اولاد انہیں فائدہ پہنچا سکے گی نہ مسلمان ماں باپ کافِر اولاد کو ۔
(ف64)
ایسا دن ضرور آنا اور بَعث و حساب و جزا کا وعدہ ضرور پورا ہونا ہے ۔
(ف65)
جس کی تمام نعمتیں اور لذّتیں فانی کہ ان کے شیفتہ ہو کر نعمتِ ایمان سے محروم رہ جاؤ ۔
(ف66)
یعنی شیطان دور و دراز کی امیدوں میں ڈال کر معصیّتوں میں مبتلا نہ کر دے ۔
اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِۚ-وَ یُنَزِّلُ الْغَیْثَۚ-وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْاَرْحَامِؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًاؕ-وَ مَا تَدْرِیْ نَفْسٌۢ بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۠(۳۴)
بےشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم (ف۶۷) اور اُتارتا ہے مینہ اور جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹ میں ہے اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کل کیا کمائے گی اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی بےشک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے (ف۶۸)
(ف67)
شانِ نُزول : یہ آیت حارث بن عمرو کے حق میں نازل ہوئی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر قیامت کا وقت دریافت کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ میں نے کھیتی بوئی ہے خبر دیجئے مینہ کب آئے گا اور میری عورت حاملہ ہے مجھے بتائیے کہ اس کے پیٹ میں کیا ہے لڑکایا لڑکی ، یہ تو مجھے معلوم ہے کہ کل میں نے کیا کیا ، یہ مجھے بتائیے کہ آئیندہ کل کو کیا کروں گا ، یہ بھی جانتا ہوں کہ میں کہاں پیدا ہوا مجھے یہ بتائیے کہ کہاں مروں گا ۔ اس کے جواب میں یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔
(ف68)
جس کو چاہے اپنے اولیا اور اپنے محبوبوں میں سے انہیں خبردار کرے ۔ اس آیت میں جن پانچ چیزوں کے علم کی خصوصیّت اللہ تبارک و تعالٰی کے ساتھ بیان فرمائی گئی انہیں کی نسبت سورۂ جن میں ارشاد ہوا ”عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْھِرُ عَلٰی غَیْبِہٖ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ” غرض یہ کہ بغیر اللہ تعالٰی کے بتائے ان چیزوں کا علم کسی کو نہیں اور اللہ تعالٰی اپنے محبوبوں میں سے جسے چاہے بتائے اور اپنے پسندیدہ رسولوں کو بتانے کی خبر خود اس نے سورۂ جن میں دی ہے خلاصہ یہ کہ علمِ غیب اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے اور انبیاء و اولیاء کو غیب کا علم اللہ تعالٰی کی تعلیم سے بطریقِ معجِزہ و کرامت عطا ہوتا ہے ، یہ اس اختصاص کے منافی نہیں اور کثیر آیتیں اور حدیثیں اس پر دلالت کرتی ہیں ، بارش کا وقت اور حمل میں کیا ہے اور کل کو کیا کرے اور کہاں مَرے گا ان امور کی خبریں بکثرت اولیاء و انبیاء نے دی ہیں اور قرآن و حدیث سے ثابت ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرشتوں نے حضرت اسحٰق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی اور حضرت زکریا علیہ السلام کو حضرت یحیی علیہ السلام کے پیدا ہونے کی اور حضرت مریم کو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پیدا ہونے کی خبریں دیں تو ان فرشتوں کو بھی پہلے سے معلوم تھا کہ ان حملوں میں کیا ہے اور ان حضرات کو بھی جنہیں فرشتوں نے اطلاعیں دیں تھی اور ان سب کا جاننا قرآنِ کریم سے ثابت ہے تو آیت کے معنٰی قطعاً یہی ہیں کہ بغیر اللہ تعالٰی کے بتائے کوئی نہیں جانتا ۔ اس کے یہ معنٰی لینا کہ اللہ تعالٰی کے بتانے سے بھی کوئی نہیں جانتا مَحض باطل اور صدہا آیات و احادیث کے خلاف ہے ۔ (خازن ، بیضاوی ، احمدی ، روح البیان وغیرہ)