اگر کسی نان مسلم نے نازیبا حرکات کر دی تو کون سی بڑی بات ہے۔۔۔ ہمارے ہاں بھی تو
جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ ایپسٹین کے جزیرے میں اگر کسی نان مسلم نے یہ نازیبا حرکات کر دی تو کون سی بڑی بات ہے۔۔۔ہمارے ہاں مدارس میں بیٹھ کر مولوی بھی تو کم عمر بچوں کے ساتھ یہی کرتا ہے۔۔
وہ دراصل مغربی تہذیب کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے لانے سے خوفزدہ نظر اتے ہیں ۔
۔۔۔
ان لبرلز کیلئے کیا خوب جوابات لکھے گئے ہیں
آپ نے “تحقیق” تو بہت کی، مگر افسوس کہ “تشخیص” غلط کر بیٹھے۔
آپ نے تین دن لگا کر ایپسٹین فائلز کھنگالیں، یہ اچھی بات ہے۔ لیکن آپ نے ان فائلز سے جو نتیجہ نکالا، وہ آپ کی “فکری مایوسی” اور “مذہبی بیزاری” کا عکاس ہے۔ آپ نے بڑی ہوشیاری سے مغرب کے “ادارتی جرائم” کو “انفرادی گناہوں” کے پلڑے میں ڈال کر معاملہ برابر کرنے کی کوشش کی ہے۔
آئیے! آپ کے “منطقی مغالطوں” (Logical Fallacies) کا ذرا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں:
1. لادینیت کا اعتراف (The Self-Goal):
آپ نے خود تسلیم کیا کہ “ایپسٹین کے گاہک (ہاکنگ، ٹرمپ، مسک) لادین تھے، خدا سے نہیں ڈرتے تھے، اس لیے ان سے گلہ کیا؟”
جناب! آپ نے تو ہمارے مقدمے کے حق میں دلیل دے دی!
ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ “خدا کے خوف کے بغیر” (Without the fear of Divine Attributes) انسان جتنا بھی بڑا جینئس، سائنسدان یا حکمران بن جائے، وہ اندر سے “درندہ” ہی رہتا ہے۔
یہ مغرب کے “سیکولر اخلاقیات” (Secular Morality) کے منہ پر طمانچہ ہے جو دعویٰ کرتا تھا کہ مذہب کے بغیر بھی انسان اخلاقی ہو سکتا ہے۔ ایپسٹین لسٹ نے ثابت کر دیا کہ جب انسان اپنے خالق کے “تخلیقی دستخط” مٹا دیتا ہے، تو وہ اسٹیفن ہاکنگ ہو کر بھی اخلاقیات میں “زیرو” ہو جاتا ہے۔
2. مسجد بمقابلہ جزیرہ (System vs. Criminal):
آپ نے سوال کیا: “مسجد میں زیادتی کرنے والا مسلمان اور جزیرے پر زیادتی کرنے والا مائیکل جیکسن، کیا دونوں برابر ہیں؟”
جواب سنیں اور یاد رکھیں: جی نہیں! دونوں برابر نہیں ہیں۔
مسجد والا: وہ ایک “مجرم” (Criminal) ہے، وہ “منافق” ہے۔ اس کا مذہب (اسلام) اسے واجب القتل کہتا ہے، قانون اسے ڈھونڈتا ہے، اور معاشرہ اس پر لعنت بھیجتا ہے۔ وہ “سسٹم” کا حصہ نہیں، سسٹم کا “باغی” ہے۔
جزیرے والا (مغرب): وہاں زیادتی کرنے والے “مجرم” نہیں، “حکمران” تھے۔ وہاں کا سسٹم (CIA، موساد، صدور) ان کی حفاظت کر رہا تھا۔
فرق: ہمارے ہاں “فرد” گندا ہے، وہاں “پورا نظام” (System) گندا ہے۔ آپ انفرادی گندگی کا موازنہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی گندگی سے کر کے بددیانتی کر رہے ہیں۔
3. “لولیٹا” اور ذہنی گراوٹ:
آپ نے ناول “لولیٹا” کا ذکر کیا۔
یہی تو مغرب کا اصل روگ ہے! وہ اپنی غلاظت کو “ادب” (Literature) اور “آرٹ” کا نام دے کر بیچتے ہیں۔
ہمارے ہاں اگر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اسے “وحشی” کہا جاتا ہے۔
مغرب میں وہ اسے “لولیٹا” کا نام دے کر اس پر “فلسفیانہ بحث” کرتے ہیں۔
جب گناہ کو “ذہنی عیاشی” (Intellectual Fantasy) بنا لیا جائے، تو پھر ایپسٹین کا جہاز جنم لیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں تہذیب خودکشی کرتی ہے۔
4. فقہ اور نکاح پر حملہ (The Main Fallacy):
آپ نے کہا: “ہماری فقہ کی کتابیں نابالغ سے نکاح سے بھری پڑی ہیں۔”
یہ آپ کا سب سے بڑا “دھوکہ” ہے۔
خدارا! “نکاح” (ذمہ داری/Responsibility) کو “زنا/ریپ” (استحصال/Exploitation) کے ساتھ ملا کر بددیانتی نہ کریں۔
فقہ میں: اگر نابالغ کے نکاح کا ذکر ہے (جو کہ ایک تاریخی اور قانونی بحث ہے)، تو اس میں “ولی” (Guardian)، “ذمہ داری”، “نان نفقہ”، “نسب” اور “خاندان” شامل ہے۔ وہاں بچی کو “استعمال کر کے پھینکنے” کا تصور نہیں ہے۔
ایپسٹین کے جزیرے پر: وہاں نکاح نہیں، “گوشت کی منڈی” تھی۔ وہاں بچیاں “بیویاں” نہیں، “کھلونے” تھیں۔
آپ فقہ کے قانونی مسائل کا موازنہ ایک “سیکس ٹریفکنگ رنگ” سے کر رہے ہیں؟ یہ “سیب” کا موازنہ “زہر” سے کرنے کے مترادف ہے۔
5. موساد اور سازش:
آپ نے کہا کہ یہ اسرائیل اور موساد کا کام تھا۔
بالکل ہوگا! مگر یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مغرب کے حکمران کتنے “کھوکھلے” ہیں کہ وہ اپنی ہوس کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر پوری دنیا کو جنگوں میں جھونک دیتے ہیں۔
یہ آپ کے “آزاد خیال” لیڈروں کی حقیقت ہے کہ وہ اپنے “نفس” کے اتنے غلام ہیں کہ ایک خفیہ ایجنسی انہیں چند لڑکیوں کے ذریعے کنٹرول کر لیتی ہے۔ کیا ایسے لوگ دنیا کی قیادت کے لائق ہیں؟
حرفِ آخر:
محترم! آپ کا مسئلہ ایپسٹین نہیں، آپ کا مسئلہ “اسلام بیزاری” ہے۔
آپ کو مغرب کے بت ٹوٹتے ہوئے دیکھ کر تکلیف ہو رہی ہے، اس لیے آپ پاکستان کے گندے نالوں کی مثالیں دے کر مغرب کے “تعفن” کو چھپانا چاہتے ہیں۔
ہم اپنے مجرموں کو “مجرم” کہتے ہیں اور لٹکانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
مگر مغرب اپنے مجرموں کو “سائنسدان اور صدر” بنا کر سیلیبریٹ کرتا رہا۔
اپنے اندر کے “اصل مالک” (خدا) کو پہچانیں، یہ “ماکیاویلی” کی شاطرانہ چالیں آپ کو سکون نہیں دیں گی۔ سکون “سچ” ماننے میں ہے، اور سچ یہ ہے کہ “خدا کے بغیر تہذیب، درندگی کا دوسرا نام ہے۔”
والسلام!
محمد واثق پیر زادہ