کتاب الصلوۃ  باب 79  حدیث نمبر 465
sulemansubhani نے Wednesday، 5 August 2026 کو شائع کیا.

۷۹ – باب

باب

اس باب کا امام بخاری نے کوئی عنوان قائم نہیں کیا، عام طور پر امام بخاری جس باب کا عنوان قائم نہ کریں وہ ابواب سابقہ کے ساتھ ملحق ہوتا ہے اور اس میں مذکور حدیث، احادیث سابقہ کے مناسب ہوتی ہے، لیکن اس باب کے تحت جو امام بخاری نے حدیث ذکر کی ہے اس کی سابقہ ابواب اور ان کی احادیث کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے۔

٤٦٥ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاذ بنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا انَسٌ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْه وسلم، خَرَجَا مِنْ عِندِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فِي لَيْلَةٍ مُّظْلِمَةٍ وَمَعَهُمَا مِثْلُ الْمِصْبَاحَينِ، يُضِيْئانِ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا، فَلَمَّا افْتَرَقًا صَارَ مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُما وَاحِدٌ حَتَّى أتى أهله. ( اطراف الحديث : ۳۶۳۹-3805 السنن الكبرى للنسائی: ۸۲۴۵ الطبقات الکبری: ۸۲۴۵ مسند ابوداؤد الطیالسی: ۲۰۳۵ صحیح ابن حبان : ۲۰۳۲ دلائل النبوۃ لابی نعیم : 503، مسند احمد ج ۳ ص ۱۹۰ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۲۹۸۰ – ج ۲۰ ص ۲۹۵ مؤسسة الرسالة بيروت، جامع المسانيد لابن الجوزی : 450 مکتبة الرشد ریاض 1426ھ)

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن المثنی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی از قتادہ، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اندھیری رات میں نکلے اور ان کے ساتھ دو چراغوں کی مثل کوئی دو چیزیں تھیں جو ان کے آگے روشنی کر رہی تھیں، جب وہ جدا ہوئے تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ وہ چیز تھی، حتی کہ وہ اپنے اپنے گھر پہنچ گئے۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔

حدیث مذکور کی احادیث سابقہ کے ساتھ بعید مناسبت ہے

بہ ظاہر اس حدیث کی احادیث سابقہ کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں ہے لیکن یہ کہا جاسکتا ہے کہ احادیث سابقہ مسجد کے متعلق ہیں اور اس حدیث کا بھی یہ مآل ہے کہ یہ دو صحابی جن کے نام اسید بن حضیر اور عباد بن بشر تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیر تک عشاء کی نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھے رہے اور رات اندھیری تھی اور انہوں نے دور اپنے اپنے گھروں میں جانا تھا تو مسجد میں دیر تک ٹھہرنے کی وجہ سے ان کو یہ کرامت عطا کی گئی، اس وجہ سے اس حدیث کا مسجد کے ساتھ تعلق ہے اور احادیث سابقہ کا بھی مسجد کے ساتھ تعلق ہے۔

حضرت اسید بن حضیر اور عباد بن بشر کی کرامت اور اس کے صدور کی توجیہ

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :

امام بخاری نے اس حدیث کو احکام مسجد کے باب میں اس لیے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ دو صحابی عباد بن بشر اور اسید بن حضیر نماز میں مشغول تھے، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علم پر مشتمل احادیث کے سماع میں مشغول تھے،  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اور مسجد کی فضیلت اور مسجد میں ٹھہرنے کی سعادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں نور عطا کرکے عزت اور کرامت سے سرفراز فرمایا۔

المہلب نے کہا ہے کہ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے معجزات کے ساتھ ممتاز کیا ہے، جو آپ سے پہلے نبیوں کو عطا نہیں فرمائے اور آپ کے اصحاب کو دنیا میں ایسے نور کی کرامت عطا فرمائی ہے جس سے ضرورت کے وقت اندھیرے میں روشنی حاصل ہوگئی اور اس نور کا عطا کیا جانا خرق عادت اور خلاف معمول ہے۔

اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی مساجد میں اس کی تسبیح کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اور ان کے تمام اعضاء میں ان کے آگے اور ان کے پیچھے نور ڈال دیتا ہے اور ان کی دنیا اور آخرت کو منور کردیتا ہے اور جن کے لیے اللہ تعالی نور نہیں رکھتا، ان کے لیے کوئی نور نہیں ہوتا’ پس جب وہ دونوں صحابی اندھیری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے تو اللہ تعالٰی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے اور آپ کی کرامت سے ان کے لیے ایسا نور مہیا کردیا، جس کی وجہ سے وہ اپنے راستے کے اندھیرے میں روشنی حاصل کرتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے: جو لوگ اندھیروں میں چل کر مساجد میں(نماز پڑھنے جاتے ) ہیں، ان کو قیامت کے مکمل نور کی بشارت دے دو۔ (سنن ابوداؤد : ۵۶۱ سنن ترمذی: (۲۲۳) تو اللہ تعالٰی نے ان کو دنیا میں بھی نور عطا فرمایا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کا ایمان اور زیادہ ہوجائے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص 146 دار الکتب العلمیة بیروت (1424ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے علامہ ابن بطال کی شرح کا خلاصہ بیان کیا ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۱۰۹ دار المعرفہ  بیروت 1426ھ )

اولیاء اللہ کو نور عطا کیے جانے کی دیگر احادیث اور روایات

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث میں اولیاء اللہ کی کرامت کے ثبوت پر واضح دلیل ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے، اور اس میں کرامت کے منکرین کا رد ہے اور اس کی مثل متقدمین اور متاخرین کے زمانوں میں بہ کثرت ہوتی رہی ہے متقدمین کے زمانہ کی یہ مثالیں ہیں:

امام ابن عساکر وغیرہ نے حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکلے اور ان کے ہاتھ میں کھجور کی سوکھی ہوئی شاخ تھی، پس وہ روشن ہوگئی۔ ( تاریخ دمشق الکبیر ج ۵۲ ص ۱۸۱ دار احیاء التراث العربی بیروت 1421ھ )

امام بیہقی نے روایت کی ہے کہ حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے،  پھر بنو حارثہ کی طرف چلے جاتے، ایک رات اندھیری تھی اور بارش ہورہی تھی تو ان کی لاٹھی روشن ہوگئی، حتی کہ وہ بنو حارثہ کے گھر میں داخل ہوگئے۔دلائل النبوة ج 6 ص ۷۹ – ۷۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۳ھ )

محمد بن حمزہ بن عمرو الاسلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہماری جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اندھیری رات میں بیٹھی ہوئی تھی، پس اچانک میری انگلیاں روشن ہوگئیں حتی کہ سب نے میری انگلیوں کی طرف پیٹھ کی اور میری انگلیاں روشن تھیں ۔دلائل النبوۃ ج 6 ص ۷۹ ‘ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۳ھ)

تواتر سے ثابت ہے کہ طلباء علم کی جماعت اپنے شیخ امام علامہ حسان الدین الرھاوی کے ساتھ عینتاب کے شہر میں تھی اور سردی کی ایک اندھیری رات تھی، جب وہ منتشر ہوگئے تو ایک جماعت نے ارادہ کیا کہ شیخ کو ان کے گھر تک روشنی دکھائیں کیونکہ گھپ اندھیرا تھا، مگر شیخ اس پر راضی نہ ہوئے تو وہ لوٹ آئے، لوگ قسم کھا کر بتا رہے تھے کہ انہوں نے فانوسوں کی طرح دو عظیم نور دیکھے ایک شیخ کی دائیں جانب تھا اور دوسرا شیخ کی بائیں جانب تھا اور وہ نور شیخ کے ساتھ ساتھ رہے حتی کہ شیخ اپنے گھر کے دروازہ پر پہنچ گئے، پھر جب گھر کا دروازہ کھلا اور شیخ گھر کے اندر داخل ہوئے تو وہ دونوں نور غائب ہوگئے اور لوگوں نے اس کے علاوہ بھی شیخ کی اور کرامات بیان کی ہیں اور شیخ مذکور ان مشائخ میں سے ایک ہیں، جن سے علم حاصل کیا جاتا ہے اور ان کے علم سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۳۵۷-356 دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ)

اس حدیث اور ان آثار میں اولیاء اللہ کی کرامت کا ثبوت ہے اور یہ خرق عادت کی قسم ہے ہم اب خرق عادت کی اقسام بیان کررہے ہیں:

خرق عادت کی چھ قسمیں

(1) اعلانِ نبوت سے پہلے نبی کے لیے خرق عادت اور خلاف معمول کام ظاہر کیا جائے تو اس کو ارہاص کہتے ہیں، جیسے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعلان نبوت سے پہلے بادل کا سایا کرنا اور مکہ میں ایک پتھر کا آپ پر سلام پڑھنا اور درختوں اور پہاڑوں کا کہنا:السلام عليك يا رسول الله

(۲) اعلانِ نبوت کے بعد نبی کے دعوی نبوت کی تصدیق کے لیے کسی خلاف معمول کام کا ظاہر کیا جانا جیسے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ کرنے سے چاند کے دوٹکڑے کیے گئے اور آپ پر قرآن مجید کا نزول ہوا اور آپ نے بغیر کسی سے پڑھے ہوئے ایسا فصیح و بلیغ کلام پیش کیا، جس کی آج تک کوئی نظیر نہیں لاسکا حالانکہ مخالفین اسلام کی تعداد ہر دور میں بہت زیادہ رہی ہے اور دن بہ دن علوم میں ترقی ہورہی ہے اس کو معجزہ کہتے ہیں۔

(۳) جو شخص کافر ہو اور نبوت کا مدعی ہو اس کے لیے ایسا خلاف معمول کام ظاہر کیا جانا جو اس کے دعوے کا مکذب ہو، جیسے ایک کانے شخص نے مسیلمہ کذاب سے کہا: آپ دعا کریں میری کافی آنکھ ٹھیک ہوجائے اس نے دعا کی تو اس کی دوسری آنکھ جو صحیح تھی اس کی بینائی بھی جاتی رہی اور جیسے غلام احمد قادیانی نے دعوی کیا ہے کہ میری نبوت کی دلیل یہ ہے کہ محمدی بیگم سے میرا نکاح ہوگا اور محمدی بیگم کا نکاح دوسرے شخص سلطان محمد سے ہوگیا اور غلام احمد قادیانی اس سے نکاح کی حسرت میں ہی مرگئے حالانکہ انہوں نے دوسری پیش گوئی یہ کی تھی کہ سلطان محمد مرجائے گا اور محمدی بیگم میرے نکاح میں آجائے گی لیکن اس کے بالکل الٹ ہوا غلام احمد قادیانی مرگیا اور سلطان محمد تا دیر زندہ رہا اس کو اہانت کہتے ہیں۔

(۴) کافر جو مدعی نبوت نہ ہو ،اس کے لیے کسی خلاف عادت کو ظاہر کیا جائے، جیسے کوئی کافر دعا کرے اور اس کی دعا قبول ہوجائے جیسے بلعم باعور کی دعا قبول ہوجاتی تھی اس کو استدراج کہتے ہیں۔

(۵) کسی مومن کامل اور اللہ کے ولی کے لیے کوئی خلاف عادت کام ظاہر کیا جائے، جیسے آصف بن برخیا نے پلک جھپکنے سے پہلے تخت بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے لاکر حاضر کردیا اور جیسے حضرت اسید بن حضیر اور عباد بن بشر کی کرامت کا اس باب کی حدیث میں ذکر ہے اس کو کرامت کہتے ہیں۔

(۶) کسی عام مومن کے لیے کسی خلاف معمول کام کو ظاہر کیا جائے جیسے کوئی عام شخص بارش کی دعا کرے بارش کا موسم نہ ہو اور بارش ہوجائے اس کو معونت کہتے ہیں۔

سو یہ خرق عادت کی چھ اقسام ہیں: (۱) ارہاص (۲) معجزہ (۳) اہانت (۴) استدراج (۵) کرامت (۶) معونت۔


کتاب الصلوۃ  باب 78  حدیث نمبر 464
sulemansubhani نے Wednesday، 5 August 2026 کو شائع کیا.

۷۸ – بَابُ إِدْخَالِ الْبَعِيرِ فِي الْمَسْجِدِ لِلعِلَّة کسی ضرورت کی بناء پر اونٹ کو مسجد میں داخل کرنا بعض علماء نے اس باب کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ جب آدمی پر ضعف طاری ہو تو وہ مسجد میں اونٹ پر سوار ہو کر آجائے، مگر امام بخاری نے جو عنوان قائم کیا […]

مکمل تحریر پڑھیے »


کتاب الصلوۃ  باب 77  حدیث نمبر 463
sulemansubhani نے Wednesday، 5 August 2026 کو شائع کیا.

۷۷ – بَابُ الْخَيْمَةِ فِي الْمَسْجِدِ للْمَرْضَى وَغَيْرِهِمْ بیماروں اور دوسروں کے لیے مسجد میں خیمہ لگانا اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ بیماروں اور ان کے غیر کے لیے مسجد میں خیمہ لگانا جائز ہے۔ ٤٦٣ – حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُاللهِ بْنُ نُمَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ، […]

مکمل تحریر پڑھیے »


کتاب الصلوۃ  باب 76  حدیث نمبر 462
sulemansubhani نے Wednesday، 5 August 2026 کو شائع کیا.

٧٦ – بَابُ الْاِغْتِسَالِ إِذَا أَسْلَمَ، وَرَبط الْأَسِيرِ أَيْضًا فِي الْمَسْجِدِ جب کوئی شخص اسلام لائے تو غسل کرے نیز قیدی کو مسجد میں باندھنا اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی کافر اسلام لائے تو اس کے غسل کا کیا حکم ہے اور قیدی کو مسجد میں باندھنے کا کیا […]

مکمل تحریر پڑھیے »


کتاب الصلوۃ  باب 75  حدیث نمبر 461
sulemansubhani نے Wednesday، 5 August 2026 کو شائع کیا.

٧٥ – بَابُ الْأَسِيرِ أَوِ الْغَرِيمِ یرْبَطُ فِي الْمَسْجِدِ قیدی یا مقروض کو مسجد میں باندھنا اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ قیدی یا مقروض کو مسجد میں باندھنا جائز ہے اور قاضی شریح یہ حکم دیتے تھے کہ مقروض کومسجد کے ستوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جائے۔ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


Surah Al-A’raf Ayat No 026
sulemansubhani نے Sunday، 2 August 2026 کو شائع کیا.
Surah Al-A’raf Ayat No 024-025
sulemansubhani نے Sunday، 2 August 2026 کو شائع کیا.
Surah Al-A’raf Ayat No 023
sulemansubhani نے Sunday، 2 August 2026 کو شائع کیا.
کتاب الصلوۃ  باب 74  حدیث نمبر 460
sulemansubhani نے Sunday، 2 August 2026 کو شائع کیا.
کتاب الصلوۃ  باب 73  حدیث نمبر 459
sulemansubhani نے Sunday، 2 August 2026 کو شائع کیا.

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com