شرح جامع ترمذی :: تقاریظ
تقاریظ
استاذ الاساتذہ، شیخ الحدیث، بقیۃ السلف، جامع المنقول والمعقول
حافظ محمد عبد الستار سعیدی اطال اللہ عمرہ
ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری گیٹ، لاہور
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نحمده ونصلي ونسلم على رسوله الكريم
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ہاشم عطاری المدنی صاحب زید مجدہ و شرفہ کی تصنیف کردہ **”شرح جامع ترمذی“** بذریعہ صاحبزادہ مولانا محمد حسنین زید علمہ وعملہ باصرہ نواز ہوئی۔
اگرچہ راقم بوجه علالت و نقاہت اس کا مطالعہ کرنے سے قاصر ہے اس لئے اس پر **کما حقہ تبصرہ نہیں کر سکتا، تاہم ترمذی شریف کی اردو شرح میں جامع شرح کی بہت ضرورت تھی جس کو حضرت مفتی صاحب نے پورا کرنے کی سعی فرمائی۔
حضرت مفتی صاحب انتہائی فاضل، محنتی، تجربہ کار مدرس و محقق ہیں۔
اللہ تعالیٰ مولانا کی تدریسی و تصنیفی خدمات میں برکتیں عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلى آلہ واصحابہ اجمعین۔
حافظ محمد عبد الستار سعیدی
ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ اندرون لوہاری گیٹ لاہور
26 محرم الحرام 1437ھ / 9 نومبر 2015ء
رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان
مترجم و مصنف کتب کثیرہ شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا
محمد صدیق ہزاروی صاحب (اطال اللہ عمرہ)
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ تعالیٰ نے انسانی ہدایت کے لئے کتب و صحائف نازل فرمائے اور خاتم النبیین حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری آسمانی کتاب قرآنِ پاک کا نزول فرمایا۔
قرآنِ پاک {تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ} (ہر چیز کا بیان) اور سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو **{لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ}** (تاکہ آپ لوگوں کے لئے اس چیز کو واضح طور پر بیان کریں جو ان کی طرف نازل کی گئی) کے تحت قرآنِ پاک کا شارح اور دینِ حق کا شارع قرار دیا گیا لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ (قولی، فعلی اور تقریری) قرآنِ پاک کا بیان، توضیح اور تشریح ہے۔
صحابہ کرام علیہم الرضوان اپنے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ کو زبانی یاد کرتے اور بعض صحابہ کرام لکھتے بھی تھے، لیکن احادیث کو جمع کرنے کا باقاعدہ اہتمام حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں ہوا اور نہایت وقیع مجموعہ ہائے احادیث تیار ہوئے جن میں سے صحاحِ ستہ کو قبولِ عام کا درجہ حاصل ہوا۔
صحاحِ ستہ میں جامع ترمذی نہایت اہمیت کی حامل ہے، یہ کتاب بیک وقت جامع بھی ہے اور سنن میں بھی شامل ہے، کیونکہ اس میں احادیث کی ترتیب فقہی ابواب کے مطابق ہے اور وہ آٹھ عنوانات (جن پر مشتمل کتاب جامع کہلاتی ہے) بھی اس میں شامل ہیں۔
دینِ اسلام تمام انسانیت کے لئے ضابطۂ حیات ہے اور دینِ اسلام کے دو بنیادی مآخذ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ (یعنی سنتِ نبویہ) دونوں کی زبان عربی ہے کیونکہ وحیِ الٰہی کے اولین مخاطب اہل عرب تھے، اس لئے اس امر کی اشد ضرورت تھی کہ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کا دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا جائے تاکہ مختلف زبانوں سے وابستہ مسلمان بھی استفادہ کرسکیں، اس لئے جہاں محدثین کرام قابلِ صد تحسین ہیں جنہوں نے نہ صرف یہ کہ احادیث مبارکہ کو جمع کیا، ان کے لئے جرح و تعدیل کے قوانین بھی مرتب فرمائے تاکہ احادیث مبارکہ پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے، وہاں وہ علماء کرام بھی ہمارے محسن ہیں جنہوں نے کتبِ احادیث کو عربی سے اردو یا دوسری زبانوں میں منتقل کیا اور پھر وہ شارحین قابلِ صد ستائش ہیں جنہوں نے احادیث کی شرح کی، ان پر فنی اعتبار سے گفتگو کی اور ان سے اعتقادی اور فقہی مسائل کا استنباط کیا، یہ بھی بتایا کہ یہ حدیث کس فقہی امام کے موقف کی بیناد ہے اس مسئلہ میں فقہا کا موقف کیا ہے۔
جامع ترمذی کی ایک ایسی شرح کی اشد ضرورت تھی جس سے قاری کو اپنے ہر سوال کا جواب ملے اور اس کو علمی تشنگی باقی نہ رہے لیکن آج تک اس کی طرف کی کسی کی توجہ مبذول نہ ہوئی۔
اللہ تعالیٰ حضرت استاذ العلماء مفتی محمد ہاشم زید مجدہ کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے اس عظیم کام کا بیڑا اٹھایا۔
راقم نے آپ کی اس کاوش کا پہلا حصہ یعنی شرح جامع ترمذی کی پہلی جلد کو مختلف مقامات سے دیکھا تو اسے کئی خوبیوں کا حامل پایا:
پہلی بات: تو یہ کہ شرح زیادہ طویل نہیں جس کے باعث قاری ملال محسوس کرے اور اتنی مختصر بھی نہیں کہ علمی تشنگی کا ازالہ نہ ہو سکے۔
دوسری بات: یہ کہ آپ حدیث نقل کر کے اس کے ترجمہ اور مختصر تشریح کے بعد اس حدیث میں مندرج فقہی مسئلہ کے بارے میں چاروں ائمہ (حضرت امام ابو حنیفہ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کا موقف بحوالہ ذکر کرتے ہیں۔ اور اگر وہ حدیث احناف کے موقف کی تائید میں نہ ہو تو اس کی وضاحت بھی کرتے ہیں اور احناف کے موقف کو دیگر احادیث کے ذریعے واضح کرتے ہیں۔
تیسری بات: یہ کہ حدیث سے مستنبط مسائل کو اختصار مگر جامعیت کے ساتھ ذکر کرتے ہیں۔
چوتھی بات: اور اس شرح کی یہ اہم خوبی ہے کہ فقیہ اسلام حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمہ اللہ کے فتاویٰ رضویہ سے فقہی مسائل شامل فرماتے ہیں۔
پانچویں بات: علامہ مفتی محمد ہاشم زید مجدہ اپنی اس شرح میں فقہ کے علاوہ دیگر کئی علوم کی طرف اشارہ بھی فرماتے ہیں۔
چھٹی بات: یہ کہ دورِ حاضر کے مطابق آپ حوالہ جات کے انبار لگاتے ہیں۔
ساتویں بات: جہاں فنی بحث آتی ہے اسے بھی خوب آشکار کرتے ہیں مثلاً یہ سوال ہوتا ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ حدیث کی دو قسموں کو اکٹھا کرتے ہیں مثلاً ایک ہی حدیث حسن بھی اور صحیح بھی کہتے ہیں اسی طرح کسی حدیث کے بارے میں حسن اور غریب دونوں باتیں کرتے ہیں تو حضرت مفتی صاحب اس کی وضاحت بھی فرماتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک طالب علم یا عام قاری کو احادیثِ مبارکہ سمجھنے یا ان سے علمی، روحانی اور اصلاحی استفادہ کے لئے جن جن امور کی ضرورت پڑتی ہے وہ سب کچھ اس شرح میں موجود ہے۔
اور آخری بات یہ کہ ’’الفضل للمتقدم‘‘ کے تحت آپ مبارک باد کے مستحق ہیں کہ جامع ترمذی کی شرح کے لئے آپ نے سب سے پہلے قدم اٹھایا۔
اللہ تعالیٰ آپ کی اس کاوش کو شرفِ دوام اور مقبولیتِ عام عطا فرمائے۔
آمین بجاہ سید المرسلین علیہ التحية والتسليم
محمد صدیق ہزاروی سعیدی ازہری
خادم الحدیث جامعہ ہجویریہ مرکز معارف اولیاء، لاہور
24 صفر المظفر 1437ھ
استاذ الاساتذہ، فخر المدرسین
حضرت علامہ مولانا مفتی گل احمد خان عتیقی صاحب اطال الله عمرہ
شیخ الحدیث الشریف جامعہ ہجویریہ لاہور
باسمه سبحانه وتعالیٰ حامدا ومصلیا ومسلما
قرآن پاک اور حدیث مبارکہ سمجھنے سمجھانے کا دارو مدار علوم عربیہ اور علوم دینیہ میں مہارت تامہ حاصل کرنے پر ہے، جو لوگ بتوفیق الٰہی ان علوم میں مہارت تامہ رکھتے ہیں یہی لوگ درحقیقت قرآن پاک کے ترجمہ وتفسیر اور احادیث مبارکہ کی تشریح وتحقیق کے اہل اور حقدار ہیں اور جو لوگ ان علوم دینیہ وعربیہ کے ابجد سے بھی نابلد ہیں اخلاقاً اور شرعاً انہیں تفسیر وتشریح کا ہرگز کوئی حق نہیں، یہی وجہ ہے کہ آج سے چند سال پہلے علوم وفنون پڑھانے کے بعد کتب تفاسیر واحادیث پڑھائی جاتی تھیں مگر گردش ایام وزمانہ کی ستم ظریفی کہ اب ایسا نہیں ہو رہا، جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ان علوم سے نوازا ہے اور وہ احادیث مبارکہ پڑھ پڑھا رہے ہیں یا احادیث کی شروح لکھ رہے ہیں یا احادیث مبارکہ پر کوئی اور تحقیقی یا تصنیفی کام کر رہے ہیں یہ بڑے خوش قسمت اور سعادت مند لوگ ہیں اور بارگاہ رسالت میں ان کا بڑا مرتبہ اور مقام ہے، ان خوش قسمت لوگوں کو رحمت کائنات، باعث تخلیق کائنات، فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نائبین قرار دیا ہے چنانچہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جاں نثاروں کے جھرمٹ میں جلوہ افروز تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللهم اغفر خلفائي، قيل من خلفاءك يا رسول الله؟ قال الذين يروون احاديثي ويلغونها ويعملون بها “او كما قال
ترجمہ: کہ اے اللہ! میرے خلفاء کی بخشش فرما، عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے خلفاء کون ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میری احادیث روایت کرتے ہیں اور انہیں لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور ان پر عمل بھی کرتے ہیں۔
بہر حال ان سعادت مند اور خوش قسمت افراد میں سے ایک فرد، دعوت اسلامی کی ایک نامور شخصیت حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ہاشم صاحب بھی ہیں جو کئی سال تک مسلم شریف پڑھاتے رہے اور امسال بخاری شریف پڑھانے کے ساتھ ساتھ ترمذی شریف کی ایک ضخیم شرح بھی لکھ رہے ہیں جو تقریباً آٹھ مجلدات پر مشتمل ہوگی ان شاء الله عزوجل ،ترمذی شریف تراجم کے لحاظ سے آسان بھی ہے اور اس میں ائمہ کے مستدلات بھی ہیں، لیکن یہ اس لحاظ سے مشکل ترین بھی ہے کہ اس کی شرح کرتے ہوئے ائمہ کے نقلی دلائل کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل بھی ذکر کئے جاتے ہیں، پھر ائمہ ثلاثہ کے نقلی اور عقلی دلائل کے جوابات دیتے ہوئے مسلک حنفی کے ترجیحی دلائل بھی ذکر کرنے ہوتے ہیں۔
راقم نے بعض بعض مقامات سے مولانا کی شرح کو پڑھا، جس سے معلوم ہوا کہ شرح بڑی جامع اور بڑی مفصل بھی ہے جو علماء، طلبہ اور عوام تمام کے لئے مفید ہے، ابھی شرح کی پہلی جلد بے وضو قرآن چھونے (کتاب الطہارة کے آخر) تک پہنچی ہے، اور ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے، جو کہ
قیاس کن ز گلستان من بہار مرا
کی مصداق ہے۔
اس شرح میں راقم کی جو سب سے پسندیدہ چیز جس نے شارح کی شرح کو چار چاند لگا دیئے ہیں وہ یہ ہے کہ مولانا نے اپنی شرح کو امام اہلسنت مفتی اعظم عالم اسلام حضرت امام احمد رضا خان قادری کی تحقیقات سے بھی مزین فرمایا ہے، جس سے شارح کے عقائد کی پختگی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ، بفضله وبوسیله سید الانبیاء علیه التحية والثناء مولانا کے علم وعمل میں برکت عطا فرمائے اور مولانا کی اس کاوش کو ان کی نجات اور بلندی درجات کا ذریعہ بنائے۔
آمین یا رب العلمین بجاه سید المرسلین علیه التحية والتسلیم
حررہ محمد گل احمد خان عتیقی
خادم الحدیث الشریف جامعہ ہجویریہ داتا دربار، لاہور
بعد از نماز عشاء 08:20
08-12-2015
استاذ الاساتذہ حضرت علامہ ومولانا
ڈاکٹر فضل حنان سعیدی اطال اللہ عمرہ
استاذ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ، لاہور
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حافظ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورة ترمذی (متوفی 279ھ) کی ”الجامع الصحیح“ کا مرتبہ ترتیب صحاح کے اعتبار سے نسائی اور ابو داؤد کے بعد ہے، لیکن امام ترمذی نے اپنی ”الجامع الصحیح“ میں جس عمدہ ترتیب اور اسلوب کو اختیار کیا ہے اس کی وجہ سے اس ’ثالث الكتب الستة‘ شمار کیا جاتا ہے۔
ابن اثیر نے جامع ترمذی کو کتب صحاح میں سب سے احسن قرار دیا ہے کیونکہ اس کی ترتیب سب سے عمدہ اور تکرار سب سے کم ہے، بیانِ مذاہبِ ائمہ، ذکرِ وجوہِ استدلال، انواعِ حدیث اور احوالِ رواۃ میں جامع ترمذی کتبِ صحاح میں منفرد ہے۔
امام ترمذی کی ”الجامع الصحیح“ کی بعض عربی شروحات مارکیٹ میں دستیاب تھیں لیکن کوئی قابلِ ذکر اردو شرح مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھی، ایک عرصہ سے اس کی کمی کو محسوس کیا جا رہا تھا۔
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد ہاشم صاحب (جو خود بھی نوجوان ہیں اور ان کے جذبے بھی جواں ہیں خدمتِ دین کو انہوں نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے) نے اپنی ذمہ داری محسوس کی اور ”الجامع الصحیح“ کی اردو شرح ”شرح جامع ترمذی“ تصنیف کی۔
بندہ نے ”شرح جامع ترمذی“ کے چند مقامات کا مطالعہ کیا ہے، یہ شرح عوام و خواص کے لئے مفید ہے۔ شارح نے حدیث کی شرح محدثین کے کلام کی روشنی میں کی ہے، اور اختصار کے ساتھ حدیث سے ثابت ہونے والے فوائد کو بیان کیا ہے، اکثر احادیث کے تحت مسائل فقہیہ میں مذاہب اربعہ کو مع ادلہ بیان کیا ہے، مذاہبِ احناف کے دلائل کی وجوہِ ترجیح اور دیگر ائمہ کے دلائل کے جوابات بھی تحریر کئے ہیں، جدید فقہی مسائل اور عقائد اہل سنت و جماعت کو مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔
شرح کے شروع میں حضرت مفتی صاحب نے ایک علمی اور تحقیقی مقدمہ ترتیب دیا ہے جو حجیت حدیث، تدوین حدیث ، مصطلحات حدیث، تعارف جامع ترمذی اور تعریف امام ترمذی پر مشتمل ہے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں التجا ہے کہ وہ اس شرح کو ہر شخص کے لئے مفید بنائے اور حضرت مفتی محمد ہاشم صاحب کو اس شرح کو مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ڈاکٹر فضل حنان سعیدی
استاذ الحدیث جامعہ نظامیہ رضویہ
لاہور 2015-11-15