اِذۡ تَمۡشِىۡۤ اُخۡتُكَ فَتَقُوۡلُ هَلۡ اَدُلُّـكُمۡ عَلٰى مَنۡ يَّكۡفُلُهٗ‌ ؕ فَرَجَعۡنٰكَ اِلٰٓى اُمِّكَ كَىۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ  ؕ وَقَتَلۡتَ نَـفۡسًا فَنَجَّيۡنٰكَ مِنَ الۡغَمِّ وَفَتَـنّٰكَ فُتُوۡنًا ۚفَلَبِثۡتَ سِنِيۡنَ فِىۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ ۙ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوۡسٰى‏ ۞- سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 40
sulemansubhani نے جمعرات، 28 مئی 2020 کو شائع کیا.

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِذۡ تَمۡشِىۡۤ اُخۡتُكَ فَتَقُوۡلُ هَلۡ اَدُلُّـكُمۡ عَلٰى مَنۡ يَّكۡفُلُهٗ‌ ؕ فَرَجَعۡنٰكَ اِلٰٓى اُمِّكَ كَىۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ  ؕ وَقَتَلۡتَ نَـفۡسًا فَنَجَّيۡنٰكَ مِنَ الۡغَمِّ وَفَتَـنّٰكَ فُتُوۡنًا ۚفَلَبِثۡتَ سِنِيۡنَ فِىۡۤ اَهۡلِ مَدۡيَنَ ۙ ثُمَّ جِئۡتَ عَلٰى قَدَرٍ يّٰمُوۡسٰى‏ ۞

ترجمہ:

جب آپ کی بہن جا رہی تھی وہ (آل فرعون سے) کہہ رہی تھی کیا میں تمہاری اس کی طرف رہنمائی کروں جو اس بچہ کی پرورش کرے، پھر ہم نے آپ کو آپ کی ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کریں اور آپ نے ایک شخص کو قتل کردیا تو ہم نے آپ کو اس غم سے نجات دی اور ہم نے آپ کی کئی طرح آزمائش کی، سو آپ کئی سال اہل مدین میں رہے، پھر اے موسیٰ آپ اللہ کے مقرر کردہ وقت پر آگئے

حضرت موسیٰ کی ماں پر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا احسان (٥)

جب آپ کی بہن جا رہی تھی وہ (آل فرعون سے) کہہ رہی تھی کیا میں اس کی طرف رہنمائی کروں جو اس بچہ کی پر وشر کرے۔ ال آیتہ (طہ :40)

جب فرعون نے حضرت موسیٰ کو اپنی بیوی کے حوالے کردیا تو اس نے دودھ پلانے والویں کو طلب کیا، حضرت موسیٰ کسی عورت کا دودھ نہیں پی رہے تھے، حتیٰ کہ ان کی بہن آگے بڑھی اور حضرت موسیٰ کو اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا اور اپنا پستان ان کے منہ میں دے دیا حضرت موسیٰ نے اس کے پستان کو چوسنا شرع کردیا اور خوش ہوگئے، فرعون کے گھر والوں نے اس سے کہا تم ہمارے گھر میں رہو، اس نے کہا میرا دودھ نہیں اترا، لیکن میں اس عورت کی طرف تمہاری رہنمائی کروں گی جو اس کو دوھ پلائے گی وہ لوگ حضرت موسیٰ کے خیر خواہ تھے، انہوں نے پوچھا وہ عورت کون ہے ؟ اس نے کہا وہ میری ماں ہے، انہوں نے پوچھا اس کا دودھ اتر رہا ہے ؟ اس نے کہا میرا بھائی اس کا دودھ پی رہا ہے، حضرت ہارون (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ایک سال بڑے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ تین یا چار سال بڑے تھے کیونکہ فرعون نے اپنی قوم کی آسانی کے لئے بنی اسرائیل پر رحم کیا تھا اور چار سال تک ان کے قتل کو موقوف کردیا تھا اور اسی اثناء میں حضرت ہارون پیدا ہوئے تھے، پھر جب حضرت موسیٰ کی ماں آگئیں تو حضرت موسیٰ نے ان کا دودھ پی لیا اور یوں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کی آنکھیں ٹھنڈی کردیں۔

حضرت موسیٰ پر فرعون سے نجات دینے کا احسان (٦)

اس کے بعد فرمایا اور آپ نے ایک شخص کو قتل کردیا تو ہم نے آپ کو اس غم سے نجات دی۔

امام ابن جریر متوفی 310 ھ لکھتے ہیں :

جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کی عمر کو پہنچ گئے تو ایک دن وہ شہر کی طرف جا رہے تھے انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ان میں سے ایک بنو اسرائیلء میں سے تھا اور دوسرا آل فرعون سے تھا، اسرائیلی نے فرعونی کے خلاف حضرت موسیٰ سے مدد طلب کی، حضرت موسیٰ نے غضب میں آ کر فرعونی کے ایک گھونسا مارا جس سے وہ ہلاک ہوگیا، اس وقت سوا اس اسرائیلی کے ان کی اور کوئی دیکھنے والا نہیں تھا، جب حضرت موسیٰ نے گھونسا مار کر اس فرعونی کو قتل کردیا تو انہوں نے کہا :

ھذا من عمل الشیطن انہ عدو مضل مبین (القصص : ١٥) یہ کام شیطان کے بہکانے سے سر زد ہوا، بےشے وہہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا۔ پھر فرمایا :

قال رب انی ظلمت نفسی فاغفرلی فغفرلہ انہ ھو الغفور الرحیم (القصص :16) موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب بیشک میں نے اپنی جان پر زیادتی کی تو مجھے معاف فرما دے، تو اللہ نے انہیں معاف فرمادیا۔ بیشک وہی بہت مغفرت فرمانے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

اس کے بعد فرمایا : موسیٰ نے عرض کیا : اے میرے رب ! جس طرح تو نے اب مجھ پر احسان فرمایا ہے سو اب میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں بنوں گا پس اس شہر میں انہوں نے ڈرتے ہوئے صبح کی اور انتظار کرتے رہے کہ (اب کیا ہوگا) پس اچانک وہی شخص جس نے کل ان سے مدد مانگی تھیصآج پھر) انہیں مدد کے لئے پکار رہا تھا، موسیٰ نے اس سے کہا یقینا تو کھلا ہوا گمراہ ہے پھر جب موسیٰ نے ارادہ کیا کہ اس شخص کو پکڑ لیں جو ان دونوں کا دشمن تھا تو (فریاد کرنے والے اسرائیلی نے غلط فہمی سے) کہا : اے موسیٰ آپ مجھے (بھی) اسی طرح قتل کرنا چات ہے ہیں جیسے کل آپ نے ایک آدمی کو قتل کردیا تھا، آپ یہی چاہتے ہیں کہ آپ زمین میں زبردستی کرنے والے بن جائیں اور آپ یہ نہیں چاہتے کہ آپ اصلاح کرنے والوں میں سے ہوں اور ایک آدمی شہر کے پرلے کنارے سے دوڑتا ہوا آیا، اس نے کہا اے موسیٰ بیشک (فرعون کے) درباری آپ کو تل کرنے کے متعلق مشورہ کر رہے ہیں، سو آپ یہاں سے نکل جایئے، بیشک میں آپ کے خیر خواہوں میں سے ہوں سو موسیٰ اس شہر سے خوف زدہ ہو کر نکلے وہ انتظار کر رہے تھے (کہ اب کیا ہوگا) انہوں نے دعا کی اے میرے رب ! مجھے ظالم کو قوم سے نجانت دے دے۔ (القصص :17-21)

امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ اس اسرائیلی کو ڈاٹن رہے تھے اور وہ اسرائیلی غلط فہمی سے یہ سمجھتا تھا کہ حضرت موسیٰ اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں جس طرح انہوں نے کل ایک فرعونی کو قتل کردیا تھا تو وہ بھاگ کر فرعون کے دربار میں پہنچا اور وہاں جا کر فرعون کو بتایا کہ موسیٰ نے ایک فرعونی کو قتل کردیا اور جو کچھ دیکھا تھا اس کا ماجرا سنا دیا۔ تب فرعون نے ذبح کرنے والوں کو بلایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو گرفتار کرنے کے لئے کارندے بھیج دیے۔ ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک حمایتی آ کر ان سے ملا اور ان کو بتایا کہ ان کے خلاف کیا سازش ہو رہی ہے، تب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے بھاگ کر مدین کی طرف چلے گئے اور روہاں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے پاس ایک عرصہ گزارا جس کی تفصیل انشئا اللہ آگے آئے گی۔ (جامع البیان جز 16 ص 208-209 ملخصاً مطبوعہ دارالفکر بیروت -1415 ھ)

حضرت موسیٰ کو آزمائشوں سے گزارنا 

نیز طہ :40 میں فرمایا اور ہم نے آپ کی کئی طرح سے آزمئاش کی۔

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ فتون کا معنی ہے ایک آزمائش کے بعد دوسری آزمائش میں واقع ہونا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ان سے نجات دینا۔ پہلی آزمائش یہ تھی کہ آپ کی ماں کو آپ کا اس سال حمل ہوا جس سال فرعون نومولود بچوں کو ذبح کرتا تھا۔ پھر دوسری آزمائش وہ تھی جب آپ کو دریائے نیل میں ڈالا گیا، تیسری آزمائش وہ تھی جب آپ نے اپنی ماں کے علاوہ کسی عورت کا دودھ نہیں پیا، چوتھی آزمائش وہ تھی جب آپ نے بچپن میں فرعون کی داڑھی نوچ لی اور فرعون کے آپ کو قتل کنے کا ارادہ کرلیا، پھر آپ نے ایک قبطی کو تادیباً گھونسا مارا جس سے وہ ہلاک ہوگیا، پھر آپ خوف زدہ ہو کر مدین کی طرف بھاگ گئے۔ (زاد المسیرج ٥ ص 285-286 مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، 1407 ھ)

حضرت موسیٰ کو مدین میں پناہ دینے کا احسان (٧)

اس کے بعد فرمایا سو آپ کئی سال اہل مدین میں رہے، پھر آپ اے موسیٰ ! اللہ کے مقرر کردہ وقت پر آگئے۔ (طہ :40)

اس سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت شعیب کے شہر مدین میں گئے حضرت موسیٰ کی وہاں مدت قیام کے متعلق دو قول ہیں۔ حضرت ابن عباس اور مقاتل نے کہا آپ وہاں دس سال رہے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آپ وہاں اٹھائیس سال رہے تھے۔ اس سال اپنی بیوی صفورا کے مہر میں رہے اور اٹھارہ سال اس کے بعد رہے حتیٰ کہ آپ کا وھب نام کا بیٹا پیدا ہوا۔ (زاد المسیر ج ٥ ص 286)

وھب نے بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت عشیب (علیہ السلام) کے پاس بائیس سال رہے تھے۔ دس سال وہ اپنی بیوی صفورا بنت شعیب کے مہر کے عوض رہے اور بارہ سال اپنی بیوی کے پاس رہے حتیٰ کہ ان کا ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس کے بعد فرمایا، پھر آپ اے موسیٰ اللہ کے مقرر کردہ وقت پر آگئے۔ (طہ :40)

انبیاء (علیہم السلام) کو چالیس سال کی عمر میں مبعوث کیا جانا 

علامہ ابو عبداللہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ لکھتے ہیں : حضرت ابن عباس (رض) ، قتادہ اور عبدالرحمٰن بن کیسان نے کہا کہ آپ نبوت اور رسالت کی مدت کے موافق وہاں رہے، کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) چالیس سال کی عمر میں مبعوث کئے جاتے ہیں۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١١ ص 117) امام رازی شافعی متوفی 606 ھ نے اس آیت کے حسب ذیل محامل بیان کئے ہیں :

(١) میری لکھی ہوئی قضاء اور قدر میں یہ پہلے مقرر ہوچکا تھا کہ میں تم کو اس معین وقت میں رسول بنائوں گا جس کو میں پہلے تمہارے لئے معین کرچکا ہوں، سو تم اسی معین وقت پر آئے ہو نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

اناکل شی خلقنہ بقدر (القمر :49) بیشک ہم نے ہر چیز کو ایک ادنازے کے موافق پیدا کیا ہے۔ 

(٢) تم اس مقرر وقت آئے ہو جب وقت میں انبیاء (علیہم السلام) پر وحی کی ابتداء کی جاتی ہے۔

(٣) ہوسکتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے یا کسی اور نبی نے حضرت موسیٰ کے آنے کے لئے یہ وقت مقرر کردیا اور وہ حضرت موسیٰ اس وقت پر آئے ہوں، اور حضرت موسیٰ پر یہ اس لئے احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس وقت پر پہنچین کی توفیق دی۔ (تفسیر کبیرج ٨، ص 50 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت 1416 ھ)

علامہ ابولحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی 754 ھ لکھتے ہیں :

جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مدین کی طرف گئے تو ان کی عمر بارہ سال تھی۔ پھر دس سال وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریاں چراتے رہے۔ پھر اس کے بعد وہ اٹھارہ سال اپنی بیوی صفورا بنت شعیب کے ساتھ رہے اور ان سے ان کا ایک بیٹا ہوا پھر انکی عمر مکمل چالیس سال ہوگئی اور یہ وہ مدت ہے جس کے پورے ہونے پر انبیاء (علیہم السلام) کو مبعوث کرنے کی اللہ تعالیٰ کی عادت جاریہ ہے۔ (البحر المحیط ج ٧، ص ٣٣٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1412 ھ)

علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفاجی متوفی 1068 ھ لکھتے ہیں :

سن نبوت چالیس سال مکمل ہونے کے بعد ہے۔ (عنایتہ القاضی ج ٢، ص 349، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1417 ھ) 

قاضی ابو السعود محمد بن محمد عمادی حنفی متوفی 982 ھ لکھتے ہیں :

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مقرر وقت پر آئے جس وقت میں انبیاء (علیہم السلام) پر وحی کی جاتی ہے اور یہ وہ وقت ہے جب چالیس سال مکمل ہوجائیں۔ (تفسیر ابو السعود ج ٤ ص 281، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت 1419 ھ)

شیخ زادہ محمد بن مصلح الدین المصطفیٰ القوجوی المتوفی 951 ھ وھب کے حوکال ی سے لکھتے ہیں :

انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے لئے چالیس سال کی مدت مقرر ہے۔ (حاشیہ شیخ زادہ ج ٥ ص 281، مطبوعہ دارالکت العلیہ بیروت، 1419 ھ)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

ابنیاء (علیہم السلام) پر چالی ساسل پورے ہونے کے بعد وحی کی جاتی ہے۔ (روح المعانی جز ١٦ ص 282، مطبوعہ دا الفکربیروت، 1417 ھ) 

پھر تو ایک ٹھہرائے وعدہ پر حاضر ہوا اے موسیٰ ! یعنی اپنی عمر کے چالیسیویں سال اور یہ وہ سن ہے کہ انبیاء کی طرف اس سن میں وحی کی جاتی ہے۔ (کنز الایمان و خزائن العرفان ص 503 مطبوعہ تاج کمپنی لاہور)

علامہ قرطبی متوفی 668 ھ، امام رازی شافعی متوفی 606 ھ علامہ ابوالحیان اندلسی متوفی 754 ھ، علامہ خفا جی متوفی 1068 ھ، علامہ ابوالسعود تموفی 951 ھ علامہ آلوسی متوفی 1270 ھ اور صدر الافاضل مراد آبادی متوفی 1367 ھ سب نے یہ تصریح کی ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) جب چالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہیں تب ان پر وحی کی جاتی ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 40


اَنِ اقۡذِفِيۡهِ فِى التَّابُوۡتِ فَاقۡذِفِيۡهِ فِى الۡيَمِّ فَلۡيُلۡقِهِ الۡيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَاۡخُذۡهُ عَدُوٌّ لِّىۡ وَعَدُوٌّ لَّهٗ‌ ؕ وَاَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَـبَّةً مِّنِّىۡ وَلِتُصۡنَعَ عَلٰى عَيۡنِىۡ ۘ ۞- سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 39
sulemansubhani نے جمعرات، 28 مئی 2020 کو شائع کیا.

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَنِ اقۡذِفِيۡهِ فِى التَّابُوۡتِ فَاقۡذِفِيۡهِ فِى الۡيَمِّ فَلۡيُلۡقِهِ الۡيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَاۡخُذۡهُ عَدُوٌّ لِّىۡ وَعَدُوٌّ لَّهٗ‌ ؕ وَاَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَـبَّةً مِّنِّىۡ وَلِتُصۡنَعَ عَلٰى عَيۡنِىۡ ۘ ۞ ترجمہ: کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دو ، پھر دریا کو حکم دیا کہ وہ […]

مکمل تحریر پڑھیے »


اِذۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوۡحٰٓى ۞- سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 38
sulemansubhani نے جمعرات، 28 مئی 2020 کو شائع کیا.

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اِذۡ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰٓى اُمِّكَ مَا يُوۡحٰٓى ۞ ترجمہ: جب ہم نے آپ کی ماں کی طرف وہ وحی کی تھی جو وحی آپ کی طرف کی جا رہی ہے حضرت موسیٰ کی ماں پر وحی کرنے کا احسان اور عورت کے نبی نہ ہونے پر دلائل  […]

مکمل تحریر پڑھیے »


وَلَـقَدۡ مَنَـنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً اُخۡرٰٓىۙ‏ ۞- سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 37
sulemansubhani نے جمعرات، 28 مئی 2020 کو شائع کیا.

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَلَـقَدۡ مَنَـنَّا عَلَيۡكَ مَرَّةً اُخۡرٰٓىۙ‏ ۞ ترجمہ: بیشک (اس سے پہلے بھی ہم نے ایک بار اور آپ پر احسان فرمایا تھا القرآن – سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 37

مکمل تحریر پڑھیے »


قَالَ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَـكَ يٰمُوۡسٰى‏ ۞- سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 36
sulemansubhani نے جمعرات، 28 مئی 2020 کو شائع کیا.

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قَالَ قَدۡ اُوۡتِيۡتَ سُؤۡلَـكَ يٰمُوۡسٰى‏ ۞ ترجمہ: فرمایا اے موسیٰ ! تمہارا سوال پورا کردیا گیا حضرت موسیٰ کی دعائوں کو باریاب کرنے کی وجوہ  اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کہے ہوئے آٹھ سوالات کو پورا فرمایا اور ان کی دعائوں کو باریاب […]

مکمل تحریر پڑھیے »


اِنَّكَ كُنۡتَ بِنَا بَصِيۡرًا ۞- سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 35
sulemansubhani نے جمعرات، 28 مئی 2020 کو شائع کیا.
وَّنَذۡكُرَكَ كَثِيۡرًا ۞- سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 34
sulemansubhani نے جمعرات، 28 مئی 2020 کو شائع کیا.
كَىۡ نُسَبِّحَكَ كَثِيۡرًا ۞- سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 33
sulemansubhani نے جمعرات، 28 مئی 2020 کو شائع کیا.
وَاَشۡرِكۡهُ فِىۡۤ اَمۡرِىْ ۞- سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 32
sulemansubhani نے جمعرات، 28 مئی 2020 کو شائع کیا.
اشۡدُدۡ بِهٖۤ اَزۡرِىْ ۞- سورۃ نمبر 20 طه آیت نمبر 31
sulemansubhani نے جمعرات، 28 مئی 2020 کو شائع کیا.