برطانوی مسلمانو، آپ کے صدقات کہاں جا رہے ہیں
برطانوی مسلمانو، آپ کے صدقات کہاں جا رہے ہیں؟
افتخار الحسن رضوی
صدقاتِ واجبہ (زکوٰۃ اور صدقۂ فطر) فقراء و مساکین کا حق ہیں۔ لہٰذا انہیں ایسے مستحق افراد تک پہنچایا جائے، مثلاً آپ کے غریب، بھوکے، یتیم یا ضرورت مند رشتہ دار، اہلِ محلہ یا دیگر مستحق مسلمان۔ اسی طرح ایسے مستند ادارے یا اسپتال بھی اس کے مستحق ہیں جہاں غریبوں کے علاج، رہائش اور کھانے پینے کا باقاعدہ انتظام کیا جاتا ہو۔
ایسی تنظیموں کو اپنے واجب صدقات نہ دیں جو چندوں کی بنیاد پر ٹی وی چینلز، تشہیری مہمات، چیریٹی شوز یا پرتعیش چیریٹی ڈنرز کا انعقاد کرتی ہوں، اور جن کے اخراجات کا بڑا حصہ انتظامی یا نمائشی سرگرمیوں پر صرف ہوتا ہو۔
بالخصوص ان اداروں سے احتیاط برتیں جن کے ذمہ داران صدقات کی رقوم کو ذاتی آسائشوں، پسندیدہ افراد کی سہولتوں، فضائی سفر، پرتعیش رہائش گاہوں یا غیر ضروری انتظامی اخراجات پر خرچ کرتے ہوں، یا رفاہی کاموں کے نام پر اسراف اور نمود و نمائش کو فروغ دیتے ہوں۔ بڑی تنظیموں کے پھیلاؤ کے بعد یہ شکایات آئے روز سامنے آتی ہیں کہ زکوٰۃ اپنے اصل مستحقین تک نہیں پہنچ پاتی، جس کے نتیجے میں حقیقی ضرورت مند محروم رہ جاتے ہیں۔
اسی طرح برطانیہ میں کام کرنے والی بعض تنظیمیں مقامی مسلمانوں سے زکوٰۃ جمع کرنے کے بعد افریقہ کے دور دراز علاقوں میں محدود پیمانے پر کام کرتی ہیں اور چند تصاویر یا تشہیری مواد کے ذریعے اسے بڑے منصوبوں کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ ایسے تمام اداروں کو اللہ تعالیٰ کا خوف کرنا چاہیے اور شفافیت، امانت اور درست ترجیحات کو یقینی بنانا چاہیے۔ خصوصا ایسی تنظیمات کے مالکان، ٹرسٹیز کو اپنے اکاؤنٹس پبلک کرنے چاہئیں۔
چونکہ برطانیہ میں پاکستانی نژاد مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے، اس لیے یہاں جمع ہونے والی زکوٰۃ کا ایک معقول حصہ پاکستان کے مستحقین پر خرچ کیا جانا چاہیے، جیسے غریب خاندان، یتیم، مساکین، بیوائیں اور ایسے قیدی جو مالی مجبوری کے باعث طویل عرصے سے جیلوں میں ہیں۔ کوٹ لکھپت، اڈیالہ، فیصل آباد، گجرانوالہ اور اٹک جیل کے اندر کئی ایسے قیدی موجود ہیں جو برسوں سے جیلوں میں سڑ رہے ہیں اور وجہ صرف جرمانے کی عدم ادائیگی ہے۔ ایسے ہی کئی ایسے افراد ہیں جو اکیلے اپنے گھر کے لیے کمانے والے ہیں، لیکن وکیلوں کی فیسیں ادا کرنے کے قابل نہیں، اسی وجہ سے ان کے کیسز نہیں لگتے۔
اسی طرح برطانیہ سے جمع ہونے والے نفلی صدقات کا ایک اہم حصہ خود برطانیہ کے اندر بھی خرچ ہونا چاہیے۔ یہاں معیاری دینی و تعلیمی اداروں کی ضرورت موجود ہے جو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے تقاضوں کو بھی پورا کریں۔ بریلوی مذہب کے پاس پورے برطانیہ میں ایک بھی مثالی دینی تعلیمی ادارہ نہیں، جب کہ بریڈفورڈ، برمنگھم، لنڈن اور مانچسٹر میں مولویوں، خطیبوں، اور پیروں کے محلات ہیں۔ کئی ایسے پیر بھی ہیں جن کی دینی خدمات صفر لیکن ایک ہی شہر میں ان کے دس دس گھر ہیں، جن سے ماہوار کرائے وصول کرتے ہیں اور یہ سب سادہ لوح مسلمانوں کی صدقات اور نذرانوں کا خمیازہ ہے۔ وسائل کو ترجیحی بنیادوں پر تعلیم، تربیت اور اجتماعی فلاح کے منصوبوں پر صرف کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس لیے عامۃ الناس ایسے تنظیموں اور افراد سے سخت سوال کریں اور ان کا احتساب وقت کی ضرورت ہے۔ ورنہ آپ کا پیسہ ایسے کاموں میں لگتا رہے گا جن کا دین و دنیا میں ہمیں کوئی فائدہ نہیں۔
افتخار الحسن رضوی
25 فروری 2026
#Sadaqat #Zakat #charity #donation #IHRizvi