کئی حفاظ ایسے ہیں جنہیں قرآن بھول چکا ہے
کئی حفاظ ایسے ہیں جنہیں قرآن بھول چکا ہے، اس کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں مثلا تراویح میں سنانے کا سلسلہ منقطع ہو گیا، عصری تعلیم میں مصروف ہو گئے، ملازمت و کاروبار میں الجھ گئے یا پھر اہل خانہ کے معاملات و انتظامات میں ایسے الجھے کہ منزل یاد رکھنے کی توفیق ہی چھن گئی۔ اگر اللہ توفیق دے تو درجِ ذیل اقدامات آپ کے لیے پھر سے قرآن یاد کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں؛
۱۔ سب سے پہلے تو اپنی خلوت و جلوت دونوں گناہوں سے پاک کریں۔ مسلسل توبہ و استغفار کریں اور اللہ تعالٰی سے مدد طلب کریں کہ وہ آپ کا سینہ کھول دے اور پھر سے آپ کے قلب و ذہن میں قرآن داخل ہو جائے۔ اللہ کی مدد کی بغیر ممکن نہیں ہو گا۔
۲۔ جیسے طالب علمی کے ایام میں وقت مقرر تھا، ویسے ہی ایک وقت مقرر کریں اور روزانہ وقت مقرر پر منزل پڑھیں۔
۳۔ جیسے پہلی بار حفظ کیا تھا بالکل ویسے ہی روزانہ ایک رکوع، ایک صفحہ یا اس سے زیادہ جتنا ممکن ہو سکے یاد کریں، مکمل توجہ کے ساتھ، فون وغیرہ سے دور۔ ارتکاز حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
۴۔ جتنا یاد ہو، بطور سبق اپنی اولاد، بیوی یا گھر میں سے کسی کو سنائیں، یوں ہی سبقی و منزل بھی۔ ایک گھنٹہ صبح دیں اور ایک گھنٹہ شام۔ اگر دو گھنٹے دے کر یہ کلام اللہ واپس آپ کو قبول کر لے تو اس سے بڑی نعمت کون سی ہو گی؟
۵۔ پہلی بار آپ نے مار دھاڑ اور تشدد برداشت کر کے حفظ کیا ہو گا یا خواہش کے خلاف پڑھا ہو گا، اب آپ اللہ تعالٰی کی رضا، شوق و محبت کے ساتھ ایک بالغ و صالح فکر مسلمان بن کر کوشش کریں گے، اس کوشش پر آپ کو اجر عظیم عطا ہونے والا ہے، لہٰذا نقصان کی تو کوئی صورت ہی نہیں، فائدہ ہی فائدہ ہے۔
۶۔ ایک ایک، دو دو سطور یاد کریں، پھر انہیں دہرائیں، یوں رکوع مکمل کریں یا صفحہ آخر تک جائیں، پھر اسے دہرائیں۔ اگر یاد نہ ہو تو پھر کوشش کریں، کوشش کے باوجود یاد نہ ہو تو پھر کوشش کریں، اگر سب کوششیں ناکام ہو جائیں تو مزید کوشش کریں، واللہ واللہ واللہ اس کوشش میں جو لذت و برکت ہے وہ بے مثال ہے، اور اس دوران اگر کبھی اپنی غلطیاں کوتاہیاں یاد کرتے ہوئے، قرآن کی محبت اور رب کے خوف سے آنسو نکل آئیں تو وہی لمحہ آپ کی “لیلة القدر” ہے۔ اللہ کرے آپ میری بات سمجھ سکیں کیونکہ میں نے ذاتی طور پر اس کا تجربہ کر رکھا ہے۔
اگر اس طرح آپ کو سال دو سال بھی کوشش کرنی پڑے بلکہ ساری زندگی بھی یہ محنت کرنی پڑے تو جاری رکھیں۔ اللہ کریم آپ کی نیت سے واقف ہے۔
افتخار الحسن رضوی
۲۵ شعبان المعظم ۱۴۴۶