Site icon اردو محفل

لطف ان کا عام ہو ہي جائے گا

نعت  شريف
لطف ان کا عام ہو ہي جائے گا
شاد ہر ناکام ہوہي جائے گا
جان دے دو وعدہ ديدار پر
نقد اپنا دام ہوہي جائے گا
ياد رہ جائيں گي يہ بے باکياں
نفس تو تو رام ہوہي جائے گا
بے نشانوں کا نشا مٹتا نہيں!
مٹتے مٹتے نام ہوہي جائے گا
ياد گيسو ذکر حق ہے آہ کر
دل ميں پيدا لام ہوہي جائے گا
ايک دن آواز بدليں گے يہ ساز
چہچہا کہرام ہوہي جائے گا
سائلو دامن سخي کا تھام لو
کچھ نہ کچھ انعام ہوہي جائے گا
ياد ابرو کر کے تڑپو بلبلو
ٹکڑے ٹکڑے دام ہوہي جائے گا
مفلسو ان کي گلي ميں جا پڑو
باغ خلد اکرام ہوہي جائے گا
گريوں ہي رحمت کي تاويليں رہيں
مدح ہرالزام ہوہي جائے گا
بادہ خواري کا سماں بندھنے تو دو
شيخ درد آشام ہوہي جائے گا
غم تو ان کو بھول کر لپٹا ہے يوں
جيسے اپنا کام ہوہي جائے گا
مٹ کہ گريوں ہي رہا قرض حيات
جان کا نيلام ہوہي جائے گا
عاقلو ان کي نظر سيدھي رہے
بوروں کا بھي کام ہوہي جائے گا
اب تو لائي شفاعت عفو پر
بڑھتے بڑھتے عام ہوہي جائے گا
اے رضا ہر کام کا اک وقت ہے
دل کو بھي آرام ہوہي جائے گا

Exit mobile version