Site icon اردو محفل

نہ آسمان کو يوں سر کشيدہ ہونا تھا

نعت  شريف
نہ آسمان کو يوں سر کشيدہ ہونا تھا
حضور خاک مدينہ خميدہ ہونا تھا
حضور ان کے خلاف ادب تھي بيتابي
کنار خار مدينہ دميدہ ہونا تھا
نظارہ خاک  مدينہ کا اور تيري آنکھ
نہ اس قدر بھي قمر شوخ ديدہ ہونا تھا
کنار خاک مدينہ ميں راحتيں ملتيں
دل حزيں تجھے اشک چکيدہ ہونا تھا
پناہ دامن دشت حرم ميں چين آتا
نہ صبر دل کو غزال رميدہ ہونا تھا
يہ کيسے کھلتا کہ ان کے سوا شفيع نہيں
عبث نہ اوروں کے آگے تپيدہ ہونا تھا
ہلال کيسے نہ بنتا کہ ماہ کامل کو
سلام ابروئے شہ ميں خميدہ ہونا تھا
لاملئن جہنم تھا وعدہ ازلي
نہ منکروں کا عبث بد عقيدہ ہونا تھا
نسيم کيوں نہ شميم ان کي طيبہ سے لاتي
کہ صبح گل کو گريباں دريدہ ہونا تھا
ٹپکتا رنگ جنوں عشق شہ ميں ہر گل سے
رگ بہار کو نشتر رسيدہ ہونا تھا
بجا تھا عرش پہ خاک مزار پاک کو ناز
کہ تجھ ساعرش نشيں آفريدہ ہونا تھا
گزرتے جان سے اک شور يا حبيب کے ساتھ
فغاں کو نالہ? حلق بريدہ ہونا تھا
مرے کريم گنہ زہر ہے مگر آخر
کوئي تو شہد شفاعت چشيدہ ہونا تھا
جو سنگ در پہ جبيں سائيوں سے تھا مٹنا
تو ميري جان شرار جہيدہ ہونا تھا
تري قبا کے نہ کيوں نيچے نيچے دامن ہوں
کہ خاکساروں سے ياں کب کشيدہ ہونا تھا
رضا جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہ حبيب
تو پيارے قيد خودي سے رہيدہ ہونا تھا

Exit mobile version