Site icon اردو محفل

بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا

نعت  شريف
بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا
لمعہ باطن ميں گمنے جلوہ  ظاہر گيا
تيري مرضي پاگيا سورج پھرا  الٹے  قدم
تيري انگلي اٹھ گئي مہ کاکليجا چر گيا
بڑھ چلي تيري ضياء اندھير عالم سے گھٹا
کھل گيا گيسو ترا رحمت کا بادل گھر گيا
بندھ گئي تيري ہوا ساوہ ميں خاک اڑنے لگي
بڑھ چلي تيري ضيا آتش پہ پاني پھر گيا
تيري رحمت سے صفي الله کا بيڑا پار تھا
تيرے صدقہ سے نجي الله کا بجرا تر گيا
تيري آمد تھي کہ بيت الله مجرے کو جھکا
تيري ہيبت تھي کہ ہر بت تھر تھرا کر گر گيا
مومن ان کا کيا ہوا الله اس کا ہوگيا
کافر ان سے کيا پھرا الله ہي سے پھر گيا
وہ کہ اس در کا ہوا خلق خدا اس کي ہوئي
وہ کہ اس در سے پھر الله اس سے پھر گيا
مجھ کو ديوانہ بتاتے ہو ميں وہ ہشيار ہوں
پاؤں جب طوف حرم ميں تھک گئے سر پھر گيا
رحمت للعالمين آفت ميں ہوں کيسي کروں
ميرے مولٰی ميں تو اس دل سے بلا ميں گھر گيا
ميں ترے ہاتھوں کے صدقے کيسي کنکرياں تھي وہ
جن سے اتنے کافروں کا دفعتاً منہ پھر گيا
کيوں جناب بوہريرہ تھا وہ کيسا جام شير
جس سے ستر صاحبوں کا دودھ سے منہ پھر گيا
واسطہ پيارے کا ايسا ہو کہ جو سني مرے
يوں نہ فرمائيں ترے شاہد کہ وہ فاجر گيا
عرش پہ دھوميں مچيں وہ مومن صالح ملا
فرش سے ماتم اٹھے وہ طيب و طاہر گيا
الله الله يہ علو خاص عبديت رضا
بندہ ملنے کو قريب حضرت قادر گيا
ٹھوکريں کھاتے پھرو گے ان کے در پر پڑ رہو
قافلہ تو اے رضا اول گيا آخر گيا

Exit mobile version