Site icon اردو محفل

اگر کوئی غصے میں اپنی بیوی کو والدین یا کسی اور عزیز کے ہاں جانے سے منع کردے اور کہے اگر فلاں کے گھر گئی تو تجھے تین طلاق ۔لیکن بعد میں اس پرپچھتائے اور والدین سے ملنے کی اجازت بھی دینا چاہے تو کیا کرے جس سے عورت والدین کے گھر جا بھی سکے اور تین طلاق بھی نہ ہوں؟

سوال نمبر ۱۶:-اگر کوئی غصے میں اپنی بیوی کو والدین یا کسی اور عزیز کے ہاں جانے سے منع کردے اور کہے اگر فلاں کے گھر گئی تو تجھے تین طلاق ۔لیکن بعد میں اس پرپچھتائے اور والدین سے ملنے کی اجازت بھی دینا چاہے تو کیا کرے جس سے عورت والدین کے گھر جا بھی سکے اور تین طلاق بھی نہ ہوں؟

جواب :-شوہر کو چاہیے کہ عورت کو ایک طلاق دیدے پھر عدت گزرنے کے بعد عورت والدین وغیرہ کے گھر جائے پھر شوہر ا س سے نئے سِرے سے نکاح کرلے اب اگر عورت اس سابقہ ممنوعہ گھر جائے گی تو کوئی طلاق نہ ہوگی ۔ لیکن یہ طریقہ اسی وقت کارآمد ہے۔ جب شوہر پہلے زندگی میں دو طلاقیں نہ دے چکا ہو اگر پہلے دو طلاقیں دے چکا تھا تو اب ہر گز طلاق نہ دے کہ اس صورت میں تیسری طلاق بھی واقع ہوجائے گی ۔ تو جس شے سے چھٹکارے کا ارادہ تھا اُسی میں پھنس جائے گا ۔ اور تین طلاق کی صورت میں حلالہ کے بغیر رجوع نہ ہوسکے گا ۔(بہار شریعت ۸/۴۴)

Exit mobile version