یہ شان علی ہے ذرا سنبھل کر
حضرت سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میرے بارے میں دو طرح کے آدمی ہلاک ہو جائیں گے؛ ایک حد سے زیادہ محبت کرنے والا جو میری ایسی شان بیان کرے گا جس کا میں حق دار نہیں اور دوسرا مجھ سے بغض رکھنے والا جسے میری دشمنی مجھ پر بہتان لگانے پر آمادہ کرے گی-
(مسند احمد، مشکوٰۃ، مرقات و مرآۃ المناجیح)
رافضی اور ان کے چھوٹے بھائی تفضیلی تو اس مرض میں مبتلا ہیں ہی لیکن آج کل خود کو اہل سنت کہنے والے کچھ حضرات بھی اس وائرس کی زد میں ہیں- خود کو محب علی و اہل بیت ثابت کرنے کے چکر میں اہل سنت کے موقف پر ہی فتوے جاری فرما رہے ہیں- تفضیلیت سے بیزاری اور نفرت کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن ان کی خود کی باتوں سے تفضیلیت کی بو آتی ہے-
ابھی مولود کعبہ کے مسئلے پر ہی خود کو “معتبر علماے اہل سنت” کہلانے والے چند حضرات نے یہ زہر اگلا ہے کہ جو حضرت مولا علی کی ولادت خانہ کعبہ میں ہونے کا انکار کرے وہ بغض علی و بغض اہل بیت میں مبتلا ہے اور خاندان رسول کی تنقیص کا پہلو تلاش کر رہا ہے!
ان “معتبر علما” (جو کہ اصل میں ایک مقرر سے زیادہ نہیں) کو چاہیے تھا کہ شاخ کاٹنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ خود کی تشریف کس شاخ پر جمی ہوئی ہے لیکن آؤ دیکھا نہ تاؤ فائرنگ شروع کر دی اور انجام یہ ہوا کہ سرین زمین پر آ گری- انھیں چاہیے تھا کہ اس تحقیقی مسئلے میں ٹانگ نہ اڑائیں کیوں کہ کہتے ہیں “جس کا کام اسی کو ساجے” لیکن دل ہے کہ کبھی کبھی ذلیل کروا کر ہی چھوڑتا ہے-
