عقیدہ اورعقیدت : چند غور طلب پہلو
غلام مصطفےٰ نعیمی
مدیراعلیٰ سواداعظم دہلی
gmnaimi@gmail.com
عقیدہ اور عقیدت دو ایسے لفظ ہیں جن کی درست معلومات اور صحیح تعین بے حد ضروری ہے۔ذراسی بے توجہی سے معاملہ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے اس لئے مکمل معلومات اوردرست مقامات کی تعین ازحد ضروری ہے۔ہم اسی موضوع پر چند اہم نکات پیش کریں گے۔
عقیدہ: عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے جس کا مادہ عقد ہے۔جیسا کہ لغت میں ہے:
العقيدة لغة أصل اشتقاق كلمة العقيدة من (عقد)۔ یعنی لغوی اعتبار سےعقیدہ عقد سے مشتق ہے۔لغوی اعتبار سے عقیدہ تین معانی پر مشتمل ہے:
1-لزوم (لازم ہونا،واجب ہونا،)۔2-تاکید(تقاضا،زور دینے کا عمل)۔
3 استیثاق (مضبوط،پکا ،مستحکم،مستقل)۔
اللہ تعالیٰ قرآن عظیم میں ارشاد فرماتاہے:
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ۔(سورہ مائدہ:آیت۸۹)
اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمیوں کی قَسموں پر۔ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا۔اس آیت کریمہ میں لفظ عقد [عقدتم الایمان]مضبوطی اور لازم کرنےکے معانی میں استعمال ہواہے۔یعنی وہ قسمیں جنہیں تم نے اپنے لئے لازم کیااور اسے مضبوط بنایا۔ اسی طرح لفظ عقد واثق کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ رب تعالیٰ کا فرمان ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ۔(سورہ مائدہ:آیت ۱) اے ایمان والو!اپنے قول پورے کرو۔
اس آیت کریمہ میں عقود سے وہ ’’پکے معاہدہ ‘‘ مراد ہیں جو مخاطبین سے کئے گئے ہیں۔یہاں لفظ عقد’’واثق‘‘کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
عقیدہ کے متعلق چنداہل لغت ایک معنی یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ عقیدہ عقد سےبناہے اور عقدکے ایک معنی گرہ [گانٹھ]کے بھی آتے ہیں ۔ چونکہ ہر انسان اپنے فکرو خیال کا دھاگہ رکھتا ہے جب اسے کسی بات سے مضبوط تعلق ہوجاتا ہے تو وہ اسی بات پر گرہ لگا لیتا ہے،گانٹھ باندھ لیتا ہے جس کو ہم عقیدہ بنالینا کہتے ہیں۔اصطلاح میں عقیدہ اس دلی بھروسے کا نام ہے جو کسی امر یاشخص کو درست یاحق سمجھنے سے پیدا ہوا ہو۔اور یہ بھروسہ اس درجہ مضبوط ہوکہ کسی بھی قسم کے شک،گمان سے متزلزل نہ ہو۔جیسا کہ کہا گیا ہے:
العقيدة في الاصطلاح هي اعتقادٌ جازمٌ مُطابقٌ للواقع لا يقبل الشك أو الظن،
اگر انسان کو کوئی علم درجہ یقین تک نہ پہنچا سکے تو اس علم کو ہرگز عقیدہ نہیں کہا جاسکتا کہ عقیدہ اسی علم وبھروسہ کا نام ہے جس میں کسی قسم کا شک وگمان نہ ہو۔اسی طرح اگر کوئی اعتقاد حق اور واقع کے مطابق نہ ہو ؛ نہ اس اعتقادپرکوئی دلیل ہو تو وہ عقیدہ صحیحہ نہیں ہوسکتابلکہ وہ عقیدہ فاسدہ ہے جیسے نصاری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت اور تثلیث کا عقیدہ رکھتے ہیں۔یہ ایسا اعتقاد ہے جو واقع کے خلاف اور دلیل سے خالی ہے۔اس لئے ایسے اعتقاد کو درجہ قبولیت حاصل نہیں ہوسکتا۔جیسا کہ کہا گیاہے:
فالعلم الذي لم يَصل بالشيء إلى درجة اليقين الجازم لا يُسمّى عقيدة، وإذا كان الاعتقاد غير مُطابق للواقع والحق الثابت ولا يقوم على دليل فهو ليس عقيدةٌ صحيحة سليمة، وإنّما هو عقيدة فاسدة كاعتقاد النصارى بألوهيّة عيسى وبالتثليث.
[مدخل لدراسۃ العقیدۃ الاسلامیہ:ص۱۲۲]
اصطلاح شرع میں عقیدہ اس اعتقاد(قلبی یقین)کا نام ہےجو اللہ کی الوہیت ،وجود ملائکہ،کتب الہیہ،انبیا ورسل،روز قیامت ، تقدیر خیروشر اور بعث بعد الموت پر مشتمل ہے۔انہیں ارکان ایمان بھی کہا جاتا ہے۔قرآن عظیم میں مختلف مقامات پر ان ارکان ایمان کا بیان کیا گیا ہے:
لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ(البقرة:177)
کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو۔ہاں اصل نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر۔(کنزالایمان)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَى رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا (النساء:136)
اے ایمان والو ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو پہلے اتار دی اور جو نہ مانے اللہ اور اس کے فرشتوں اور کتابوں اور رسولوں اور قیامت کو ،تو وہ ضرور دور کی گمراہی میں پڑا۔(کنزالایمان)
أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (الحج:70(
کیا تونے نہ جانا کہ اللہ جانتاہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے،بے شک یہ سب ایک کتاب میں ہے۔بے شک یہ اللہ پر آسان ہے۔(کنزالایمان)
درج بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان ارکان کا بیان کیا ہے جنہیں اسلام میں عقیدہ کا درجہ حاصل ہے۔جیسے ایمان باللہ، ایمان بالرسل، ایمان بالکتب وغیرہ۔
یہ بات بھی خوب ذین نشین رہے کہ عقیدے میں کسی طرح کا کوئی شک نہ ہوورنہ ایسا عقیدہ، عقیدہ فاسد کہلاتاہے۔جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ عقیدہ اس قلبی کیفیت کا نام ہے جو کسی طرح کے شک وگمان کو قبول نہ کرے اگر کوئی شخص اپنے ذہن میں ایساعقیدہ رکھے جس پر اسے یقین کامل نہ ہو،شکوک وشبہات ہوں تو ایسا اعتقاد فاسد کہلاتاہے۔صحیح عقیدہ وہ ہے جو سالمۃ من الشک(شک سے پاک)ہو۔
اسلام میں عقیدہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔یوں تواسلام عقیدہ وعمل سے عبارت ہے لیکن چونکہ عمل بغیر درست عقیدہ کے قابل قبول نہیں اس لئے عقیدہ کی حیثیت مزید بڑھ جاتی ہے۔عقیدہ مثل بیج کے ہے اور عمل مانند پھل۔جب تک بیج نہ ہو پھل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔اسی لئے عبادت اور اعمال صالحہ سے پہلے عقیدہ صحیحہ کی معرفت لازم ہے، بغیردرستی عقیدہ عمل کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔اسی لئے جب کوئی انسان داخل اسلام ہوتاہے تو عبادات سے قبل اسے توحید ورسالت اور عقائدکی معرفت لازم ہے اسی لئے آقائے کریم ﷺنے اہل مکہ کو سب سے پہلے توحید ورسالت جیسے عقائد کی دعوت دی ، عبادت ومعاملات کی نہیں ، کیوں کہ جب ایک بار بندے کا عقیدہ اسلام کے تابع ہوجاتا ہے تو عبادات ومعاملات میں بھی اسلام کی پیروی آسان ہوجاتی ہے۔
عقیدت: لغوی اعتبار سے عقیدت کے معنی ہیں ؛گرویدگی۔(فرہنگ عامرہ:ص۴۲۶)کسی بات کو ٹھیک اوردرست جان کر اس پر دل جمانا،کسی بات کی دل میں گرہ باندھنا۔(فرہنگ آصفیہ:ص۲۷۸ج:۳)
جبکہ اصطلاحاً عقیدت اس دلی کیفیت کا نام ہے جو کسی شخصیت ،چیز، علاقہ سے گرویدگی کی حد تک وابستہ ہو۔شخصیت کی محبت وارادت دل میں راسخ ہو اور اس سے دل کی ڈور مضبوطی سے بندھی ہو۔
جس طرح عقیدہ کا تعلق دل سے جڑا ہوتا ہے ویسے ہی عقیدت کا محور ومرکز بھی دل ہی ہوتاہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ جس طرح انسان کسی چیز پر عقیدہ جماتاہے اسی سے جو نسبت بنتی ہے اسے عقیدت کہتے ہیں۔ہاں اتنا فرق ہے کہ لفظ’’ عقیدہ‘‘ بہت خاص اور اہم مقامات پر استعمال کیا جاتا ہے اور ’’عقیدت‘‘ کا اطلاق کسی بھی شخصیت یا علاقے سے وابستگی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
*عقیدت مندی اور شخصیت پرستی:*
عقیدت مندی اور شخصیت پرستی قلبی محبت اور دلی وابستگی کی بنیاد پر ایک جیسی ہی ہیں۔یعنی دونوں ہی صورتوں میں انسان اپنے ممدوح سے اعلیٰ درجے کی ارادت ومحبت رکھتا ہے۔ہاں! دونوں میں تعلق کی نوعیت اور قلبی جذبات کے اظہار واعتراف میں خاصا فرق آ جاتا ہے اور یہیں سے دونوں کی سمت جدا ہوجاتی ہے۔
عقیدت مندی میں اتباع علی وجہ البصیرت ہوتی ہے،جبکہ شخصیت پرستی میں کورانہ تقلید کا جذبہ موجود ہوتاہے۔آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ عقیدت مندی میں محبت درجہ اعتدال میں ہوتی ہے جبکہ شخصیت پرستی میں غلو کی آمیزش ہوتی ہے۔
عقیدت مندی اور شخصیت پرستی کو اس پیرایہ میں سمجھنے کی کوشش کریں کہ عقیدت میں انسان اپنے ممدوح سے محبت رکھتے ہوئے بھی اختلاف رائے کر سکتا ہے ۔اختلاف رائے سے نہ تو اس کی عقیدت مجروح ہوتی ہے نہ اس کی محبت!
کیوں کہ کسی بھی معاملے میں صحت رائے کے لئےاختلاف رائے ضروری ہے۔ اختلاف رائے ہے تبھی صحت رائے پائی جائے گی بصورت دیگر انسان ایک مخصوص حصار میں قید ہوکر رہ جائے گا۔اختلاف رائے کو برداشت کرناکشادہ قلبی اور وسعت نظری کی دلیل ہے۔اور یہ مقام انہیں کو ملتا ہے جو علم وعمل اور تزکیہ نفس کی دولت سے مالامال ہوتے ہیں۔ہمارے ظرف کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہم اپنی رائے سے اختلاف کرنے والے کو کتنا برداشت کر پاتے ہیں۔یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اختلاف رائے کے لئے بھی حدود قیوداور آداب ہیں ،اگر ان کاپاس ولحاظ رکھتے ہوئے اختلاف رائے ہے تو محمود ورنہ مذموم ہے۔
*اختلاف کے اصول و آداب:*
1-💡اختلاف رائےقرآن وسنت کی بنیاد پرخلوص و للّٰہیت کے ساتھ ہو اور اختلاف کرنے والوں میں وہ اہلیت بھی موجود ہو جو اس کے لئے ضروری ہے ، تو ایسا اختلاف ممنوع نہیں،بلکہ امت کے لئے رحمت ہے ،اسی کے بارے میں فرمان رسالت ہے:اختلاف امتی رحمۃ۔
2- 💡 اختلاف ایسے مسائل میں ہو جن میں قرآن و سنت نے کوئی واضح فیصلہ نہ کیا ہو، ایسے مسائل جن میں اجتہاد کی گنجائش ہوتی ہے ، یعنی ایک سے زیادہ آراء کا احتمال ہوتا ہے۔ایسے مسائل میں جو فریق بھی کوئی رائے دلائل کی بنیاد پر قائم کر لے وہ ناجائز اور ناپسندیدہ نہیں ہوتی۔
3-💡 دلائل کی روشنی میں اپنی جو بات بھی راجح معلوم ہو اسے صواب، محتمل خطا اور فریق مخالف کی رائے کو خطا، محتمل صواب سمجھاجائے، اس سے اختلاف اپنے دائرے میں رہے گا اور عناد و شقاق کی نوبت نہیں آئے گی ورنہ اپنی رائے پر اصرار تفرقہ اور انتشارکا سبب ہوسکتاہے !!!
آج کل کچھ لوگ اختلاف برائے اختلاف کرتے ہیں ۔ ان کاطرزِ عمل یہ ہے کہ ایک بات اپنے ذہن و خیال میں صحیح سمجھ لی،بھلے ہی کتنی معمولی بات کیوں نہ ہو۔پھر کسی کاکوئی مضمون یا تقریر اس کے موافق دیکھ سُن لی تو اب اس کی تعریفوں کے پُل باندھنا شروع ۔ زبان جب کھلے گی اس کی مدح سرائی میں ہی کھلے گی۔ ہر مقام پر اس کی جا بیجا حمایت کی جائے گی، بھلے ہی اس بات میں کتنی ہی سطحیت ہو۔ اس کے ممدوح میں کتنی ہی خلافِ شرع باتیں ہوں، لیکن چونکہ وہ بات ہمیں اچھی لگی ہے اور فلاں شخصیت نے اس کی تائید کی ہے، اس لیے ساری باتوں کو بہت معمولی سمجھا جاتا ہے اور اسی کا نام ’’روشن خیال تحقیق‘‘اور ’’غیر جانب دارانہ تجزیہ‘‘ رکھ کراپنے بے لگام نفس کی تسکین کا سامان فراہم کیا جاتا ہے۔ اور جن اکابر کے ارشادات اپنی ’’فکرِ عالی‘‘ سے متصادم معلوم ہوتے ہیں انھیں ان کے قرار واقعی مقام سے نیچے لانے کی شعوری و لاشعوری کوشش ہوتی ہے۔ معرفت اہلِ زمانہ کے نام پر ان کی فہم و فراست کو ایک طرح سے چیلنج کیا جاتا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
انْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَھُمْ۔ (مسلم، ابو داؤد)
ترجمہ: لوگوں کو ان کے مرتبے میں رکھا کرو۔
اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤمِن فَاِنَّہٗ یَنْظُرْ بِنُوْرِ اللّٰہ۔
(کتاب التاریخ، امام بخاری) ترجمہ: مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔
لیکن لوگوں کا عجیب حال ہے۔ ہر طرف افراط و تفریط ہے، اعتدال کہیں نظر نہیں آتا ہے۔عصر حاضرمیں اختلاف رائے رکھنے والے مختلف قسم کےافراد ہیں:
💠 بعض کم فہم،احساس کمتری کے شکار،دین بیزار، ان پڑھ اور میڈیائی پروپیگنڈے کے شکار افراد؛ جو انتہائی ڈھٹائی ،بے ادبی کے ساتھ کسی بھی رائے کا اظہار واشتہار کرتے پھرتے ہیں۔حالانکہ تونہ ان کے پاس اپنی رائے سے متعلق معقول دلائل ہوتے ہیں، نہ انہیں نتائج کا ادراک ہوتا ہےاور نہ ہی وہ کسی کی بات کو سمجھنے اور ماننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسابھی ہوتا ہے کہ چند ٹوٹے پھوٹے دلائل تو رکھتے ہیں لیکن انہیں صرف جان چھڑانے کے لئے استعمال میں لایا جاتا ہے ،حقیقتاً وہ دلائل انتہائی لچر اور کمزور ہوتے ہیں جس سے ان کا اپنا ضمیر بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتا۔
ٍکچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی ناقص معلومات، مفروضوں، پروپیگنڈوں اور افواہوں کے زیر اثر عجیب وغریب رائے کا اظہار کرکے اپنی عقلمندی کا پردہ چاک کرتےہیں؛ لیکن جب انہیں اصل حقائق کا علم ہوتا ہے تو خاکساری اور حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی سابقہ رائے سے دستبردار ہوجاتے ہیں !!!
فی زماننا بہت سارے کم فہم اور بے ادب افراد اپنے آپ کو اختلاف کا اہل سمجھتے ہیں ،ہر معاملے میں اپنی مستقل رائے رکھنے کو بڑائی تصور کرتےہیں ،بالخصوص سوشل میڈیا کی اس برق رفتاری میں معمولی سے معمولی مسئلہ پر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد کی بنیاد رکھنا، لایعنی بحث و مباحثہ، لفظی تکرارو جنگ ، سب وشتم کرنا کچھ لوگوں کا محبوب مشغلہ ہے ۔واٹس ایپ اور فیس بک کے بے شمار مفتی ومحقق وہ ہیں جو نہ مسئلہ سے متعلق احکام کا علم رکھتے ہیں نہ کسی شخصیت کے مقام و مرتبے سے واقف ہیں محض سنی سنائی باتوں پر اکابرین کے علم وفضل پر نقد بیجا اور توہین وتضحیک کرتے ہیں اور اسی کو قرین انصاف وتحقیق سمجھتے ہیں ۔ دو چار اخبار پڑھ لیے یا دس پانچ مضمون اخبار و رسائل میں لکھ دیے اور بس چل دئیے ان لوگوں پر تنقید کرنے جنہوں نے برسہا برس محنت کرکے علوم کے جام پیے ہیں۔ جن کی درس گاہوں سے کتنے ہی لعل و گہر پیدا ہوئے ہیں۔ اس لیے یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ کسی پر تنقید کرنے، اس کی بات رَد کرنے سے پہلے اس کی بات کی حقیقت، دلائل کی قوت معلوم ہونا ضروری ہے۔ یہ انتہائی نادانی کی بات ہے کہ بغیر بات کو سمجھے ہی اناپ شناپ ہانکنا شروع کردے۔ یہ تو ایسی بات ہوئی کہ ایک بندر کو کہیں سے ادرک کا ٹکڑا ملےاور وہ خود کو پنساری سمجھنے لگے۔
آقا علیہ السلام نے علاماتِ قیامت میں اس نشانی کا بھی بیان کیا ہے:
اعجابُ کُلِّ ذِی رَأیٍ بِرَأءِہٖ۔(شعب الایمان، ۶/ ۸۳)
ترجمہ: ہر انسان کا اپنی رائے کو سب سے بہتر سمجھنا۔
سوئے اتفاق! کہ یہ بیماری آج کل بڑی تیزی سے پیر پسار رہی ہی اور ہر شخص یہی گمان کرتا ہے ؛ہمچو من دیگرے نیست۔ یعنی جو میری سمجھ میں آگیا وہی حق ہے، چاہے وقت کا بڑا عالم کچھ کہے یا اکابر علما کی رائے اس سے مختلف ہو۔ یہ چیز بڑی خطرناک ہے اور اس کی فوری روک تھام بڑی ضروری ہے۔
