فیضِ شبِ قدر
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئین : شب کا معنی رات ، قدر کا معنی قدرو منزلت ، اندازہ ، فیصلہ کرنا اور تنگی ہے ۔ اس میں سال بھر کے لئے فیصلے کئے جاتے ہیں اسی لئے اسی لیلۃ الحکم بھی کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس رات اتنی کثرت سے زمین پر فرشتے اترتے ہیں کہ زمین تنگ ہوجاتی ہے اسی لئے اسے شب قدر یعنی تنگی کی رات۔ قدر و منزلت مالی رات ا س لئے کہلاتی ہے کیونکہ جو بھی خوش بخت مومن اس رات کو عبادت کرتا ہے اللہ عزوجل کے ہاں اس کی قدرومنزلت بڑھ جاتی ہے ۔
سميت بها للعظمة والشرف، لان العمل فيه يکون ذا قدر عندالله ۔ (تفسير مظهری، حضرت علامه قاضی محمد ثناء الله عثمانی مجددی پانی پتی)
ترجمہ : اس رات کو شرف و عظمت والی شب اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس رات کو کیا جانے والا ہر عمل خیر اللہ تعالیٰ کے ہاں قدرو منزلت والا ہوجاتا ہے ۔
اسی طرح علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس رات کو لیلۃ القدر کہنے کی وجہ یوں بیان کی ہے ۔ سميت بذالک لانه انزل فيها کتابا ذا قدر علی رسول ذي قدر علی امة ذات قدر ۔ (تفسير قرطبی، حضرت امام ابو عبدالله محمد بن احمد بن ابوبکر قرطبی)
ترجمہ : اسے شب قدر اس لئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ایک بڑی قدرو منزلت والی کتاب، بڑی قدر و منزلت والے رسول پر اور بڑی قدرو منزلت والی امت پر نازل فرمائی ۔
نزول قرآن کی رات
قرآن مجید میں ارشاد ہوا : انا انزلناه فی ليلة القدر ۔ (القدر،97:1)
ترجمہ : ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے ۔
قرآن مجید ایک ہی مرتبہ نازل نہیں ہوا بلکہ اس کا نزول 23 برس پر محیط ہے۔ سب سے پہلے قرآن حکیم کا نزول شب قدر ماہ رمضان میں سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات سے ہوا ۔
شب قدر کی فضیلت
شب قدر وہ عظیم رات ہے جو نزول قرآن کی رات ہے اور یہی وہ رات ہے جس کی فضیلت میں رب العالمین نے پوری ایک سورت نازل کر دی ہے. جس کا مقام ایک ہزار مہینوں (تراسی سال چار مہینے) سے بہتر ہے : اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ.{1} وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ {2} لَيْلَةُ الْقَدْرِ ڏ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ {3} تَنَزَّلُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ۚ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ {4} سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ {5}
ترجمہ : یقیناً ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا ۔ تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے ؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔ اس (میں ہر کام) کے سر انجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل ) اترتے ہیں ۔ یہ رات سراسرسلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے) ۔ (القدر:5-1)
اس آيت کا شان نزول امام سيوطى نے نقل كيا کيا ہے کہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے ذکر فرمايا ايک مرد کا جو بنى اسرائيل کى قوم ميں سے تھا اور جس نے ہزار مہينے اللہ تعالى کے راستے يعنى جہاد ميں ہتھيار لگائے تھے پس تعجب کيا مسلمانوں نے اس بات سے اور افسوس کيا کہ ہم کو يہ نعمت کسى طرح ميسر ہو سکتى ہے سو نازل فرمائيں اللہ تعالى نے يہ آيتيں انا انزلناہ فى ليلة القدر وما ادرک ماليلة القدر ليلة القدر خير من الف شہر ۔ يعنى يہ شب قدر بہتر ہے ان ہزار مہينوں سے جن ميں اس مرد نے اللہ تعالى کے راستہ ميں ہتھيار لگائے تھے يعنى جہاد کيا تھا ۔ اور دوسرى روايت ميں ہے کہ بنى اسرائيل ميں ايک مرد تھا جو رات کو عبادت کرتا تھا صبح تک پھر جہاد کرتا تھا يعنى لڑتا تھا دشمن دين سے دن ميں شام تک سو عمل کيا اس نے ہزار مہينے يہى عمل کہ رات و عبادت کرتا تھا اور دن کو جہاد کرتا تھا پس نازل فرمائى اللہ تعالى نے آیة ليلة القدر خير من الف شہر۔ يعنى ان ہزار مہينوں سے جن ميں اس مرد نے عبادت و جہاد کيا تھا يہ رات بہتر ہے آھ اے بھائيو اور بہنو اس مبارک رات کى قدر کرو کہ تھوڑى سى محنت ميں کس قدر ثواب ميسر ہوتا ہے اور اس رات ميں خاص طور پر دعا قبول ہوتى ہے اگر تمام رات نہ جاگ سکو بابرکت هقدر بھى ہو سکے جاگو يہ نہ کرو کہ پست ہمتى سے بالکل ہى محروم رہو ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی ترغیب دلانے کے لئے اپنے اقوال و افعال سے اس بابرکت رات کی فضیلت کو واضح فرمایا تاکہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے سند بن جائے ۔
چنانچہ آئمہ و محدثین صحاح ستہ نے اپنی اپنی کتب میں لیلۃ القدر کی فضیلت پر باقاعدہ ابواب اور فصول قائم فرمائے ہیں ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چند اصحاب کو شب قدر خواب میں (رمضان کی) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : اری رؤياکم قد تواطأت فی السبع الاواخر، فمن کان متحريها فليتحرها فی السبع الاواخر.(صحيح بخاری، کتاب فضل ليلة القدر، رقم الحديث:1911،چشتی)
ترجمہ : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم سب کے خواب سات آخری تاریخوں پر متفق ہوگئے ہیں۔ اس لئے جسے اس کی تلاش ہو وہ اسی ہفتہ کی آخری (طاق) راتوں میں تلاش کرے ۔
اسی طرح ایک روایت جو کہ حضرت ابو سعید خدری سے مروی ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ رمضان کے دوسرے عشرے میں اعتکاف میں بیٹھے پھر بیس تاریخ کی صبح کو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم اعتکاف سے نکلے اور ہمیں خطبہ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : انی اريت ليلة القدر ثم انسيتها او نسيتها فالتمسوها فی العشر الاواخر فی الوتر وانی رايت انی اسجد فی ماء وطين فمن کان اعتکف مع رسول فليرجع ۔ (صحيح بخاری، کتاب فضل ليلة القدر، رقم الحديث:1912)
ترجمہ : مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی لیکن بھلادی گئی یا میں خود بھول گیا۔ اس لئے تم اسے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے (خواب میں) کہ گویا میں کیچڑ میں سجدہ کررہا ہوں ۔ اس لئے جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ پھر لوٹ آئے اور اعتکاف میں بیٹھے ۔
خیر ہم نے پھر اعتکاف کیا اس وقت آسمان پر بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بادل آیا اور بارش اتنی ہوئی کہ مسجد کی چھت سے پانی ٹپکنے لگا جو کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی۔ پھر نماز کی تکبیر ہوئی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیچڑ میں سجدہ کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ کیچڑ کا نشان میں نے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیشانی پر دیکھا۔
شب قدر کو تلاش کرو ۔
شریعت نے شبِ قدر کی تعیین نہیں فرمائی بلکہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں اسے رکھ دیا گیا۔ اس کی حکمتیں تو اللہ رب العزت ہی بہتر جانتا ہے ۔ تاہم علماء کرام نے اپنی بصیرت سے اس کی حکمتوں میں سے ایک حکمت یہ بیان فرمائی ہے کہ زیادہ عبادت کرسکے ۔ اگر اس کی تعیین فرمادی جاتی تو امت مسلمہ کا ہر فرد صرف اسی متعین شدہ ایک ہی رات شب بیداری کرتا اور عبادت کرتا۔ تاہم اس کی تعیین نہ ہونے سے مفاد یہ ہے کہ لوگ کم از کم اسے پانے کے لئے پانچ طاق راتیں جاگیں گے اور اپنے خدا کے حضور استغفار کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکار مدینہ، سرور قلب و سینہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بہت سی احادیث مبارکہ میں اسے تلاش کرنے کا حکم دیا ہے ۔
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں پورا ایک باب قائم فرمایا ہے: ’’باب تحری ليلة القدر فی الوتر من العشر الاواخر‘‘ یعنی عشرے کی طاق راتوں میں شب قدر کو تلاش کرنے کا باب۔ چنانچہ اس سلسلہ میں صدیقہ کائنات حضرت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : تحرواليلة القدر فی الوتر من العشر الآواخر ۔ (متفق عليه. صحيح البخاری، رقم الحديث:1913، صحيح المسلم، رقم الحديث: 1165،چشتی)
ترجمہ : شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو ۔
اسی طرح ایک روایت حضرت ابوسعید خدری سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: شب قدر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اسے اکیسویں ، تئیسویں اور پچیسویں رات میں ڈھونڈو۔ (راوی کہتا ہے) میں عرض گزار ہوا کہ اے حضرت ابو سعید! (رضی اللہ عنہ) آپ اس شمار کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: ہاں، میں نے نویں، ساتویں اور پانچویں کہا ہے یعنی جب اکیسویں رات گزر جائے تو اس کے ساتھ والی نویں ہے اور جب تیئسویں گزر جائے تو اس کے ساتھ والی ساتویں ہے اور جب پچیسویں گزر جائے تو اس کے ساتھ والی پانچویں ہے ۔ (سنن ابوداؤد، باب فی لیلۃ القدر، رقم الحدیث:1369)
شب قدر اور معمول مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم
اگر روایات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہوکر سامنے آتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم شب قدر کا خاص اہتمام فرماتے اور عبادت کرتے ۔ چنانچہ موضوع کی مناسبت سے چند روایات حوالہ قرطاس کی جاتی ہیں ۔
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا : جب رمضان کے (آخری عشرہ) کے دس دن باقی رہ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنا کمر بند کس لیتے اور اپنے اہل خانہ سے الگ ہوکر (عبادت و ریاضت) میں مشغول ہو جاتے ۔ (مسند احمد بن حنبل، رقم الحدیث:24422)
حضرت علی المرتضیٰ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں گھر والوں کو (عبادت کے لئے) جگاتے ۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء فی لیلۃ القدر، رقم الحدیث:774)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں (عبادت کی) جس قدر کوشش فرماتے اتنی دوسرے دنوں میں نہ فرماتے‘‘۔ (جامع ترمذی، باب ماجاء فی لیلۃ القدر، رقم الحدیث775،چشتی)
شب قدر کے وظائف
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کیا: شب قدر کا کیا وظیفہ ہونا چاہئے تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان الفاظ میں تلقین فرمائی ۔
اللهم انک عفو تحب العفو فاعف عنی ۔
ترجمہ : اے اللہ! بے شک تو معاف فرمانے والا ہے اور تو معاف کرنے کو پسند فرماتا ہے ۔ پس مجھے (بھی) معاف فرمادے ۔
