کلام: استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی
❤️
مر گیا بیمارِ فرقت مختصر قصہ ہوا
روز کا جھگڑا مٹا بہتر ہوا اچھا ہوا
❤️
مرگِ عاشق پر یہ رہ رہ کر تأسف کس لیے
خاک ڈالو ذکر بھی چھوڑو جو ہونا تھا ہوا
❤️
آپ ہی قصداً بلانا مجھ کو جاتا دیکھ کر
آپ ہی پھر چھیڑ سے کہنا مجھے دھوکا ہوا
❤️
آپ کی تو میری بدنامی سے بدنامی نہیں
آپ تو رُسوا نہ ہوں گے میں اگر رُسوا ہوا
❤️
الفتِ گیسوے جاناں عمر ہو تیری دراز
دل بَلاؤں میں پھنسا کر مفت میں سودا ہوا
❤️
آنکھوں آنکھوں میں مرے دل کو چُرانا آپ ہی
آپ ہی پھر میری حیرت پر یہ کہنا کیا ہوا
❤️
آپ سچے ہیں گیا تھا میں ہی بزمِ غیر میں
سر جھکائے مَیں ہی تو بیٹھا ہوں شرمایا ہوا
❤️
میں یہ کہتا ہی رہا دیکھو دلِ بے کس نہ لو
وہ یہ سنتا ہی رہا دل چھین کر چلتا ہوا
❤️
کلمۂ بے جا نہ کہنا تم حسنؔ کی شان میں
زاہدو تم اُس کو کیا جانو وہ ہے پہنچا ہوا
❤️