Site icon اردو محفل

شادی کے بعد گھر مدرسہ

شادی کے بعد گھر مدرسہ

شادی کے ذریعہ جس گھرکو آباد کرنے کا ارادہ کیا جا رہا ہے وہ شادی سے پہلے گھر ہوتا ہے مگر شادی کے بعد وہ مدرسہ میں تبدیل ہوتا ہے،اس لئے کہ شادی کے جہاں دوسرے مقاصد ہیں ایک مقصد عظیم یہ بھی ہے کہ اولاد صالح کا حصول ہو ،شادی کے بعد اولاد نہ ہو تو لوگ ہر طرح کا قیمتی سرمایہ اس کے علاج و معالجہ میں صرف کر دیتے ہیں،یہ واضح مطلب ہے کہ شادی کا عظیم مقصود اولاد کا حصول ہے،آنے والی اولاد کے لئے والدین کا گھر ہی پہلی درسگاہ ہے،بچے اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل میں جو کچھ سیکھتے ہیں اسی تربیتگاہ سے سیکھتے ہیں،وہی انکی ادبگاہ ہے،پہلے اداؤں سے پھر الفاظ سے تعلیم کا آغاز ہوتا ہے،جب اپنا گھر اولاد کا پہلا مدرسہ ہے تو شادی سے پہلے ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ ہم خواہشات کی تکمیل کا جائز دروازہ وا کرنے ہی نہیں جا رہے ہیں بلکہ ادبگاہ کی بنیاد ڈلالنے جارہے ہیں،نکاح سے اسکا سنگ بنیاد ہو رہا ہے،اور اس درسگاہ کے پہلے مدرس بھی ہم ہی بننے والے ہیں،کیا ہم نے نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی استعداد بھی پیدا کر لی یا نہیں؟

Exit mobile version