آج کل مائیں بیٹیوں سے گھر کے کام نہیں کرواتیں ، صرف پڑھائی پر زور دیتی ہیں ۔
بیٹیاں بیس بیس سال کی ہوجاتی ہیں ، لیکن اُنھیں ہاتھ سے روٹی تک بنانی نہیں آتی ؛ اس کے لیے بھی بیلن ڈھونڈتی رہتی ہیں ۔
پہلے کی مائیں چھوٹی سی عمر میں ہی بچیوں کو کھانا پکانا ، سینا پرونا ، جھاڑنا پونچھنا سکھا دیتی تھیں ۔
اللہ جنت نصیب کرے ، میری دادی جان کے پاس سیکڑوں بچیوں نے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کی اور امور خانہ داری سیکھے ۔
دادای جان رحمہااللہ انھیں سکھاتی تھیں کہ:
1: صاف ستھرے کام کیا کرو ، چاہے تھوڑے ہوں ۔
2: بسم اللہ شریف پڑھ کر آٹا گوندھا کرو اور دبا کر مُکی لگایا کرو ، تاکہ آٹا نرم و ملائم ہوجائے اور اس سے پکائی گئی روٹی بوڑھے بھی آسانی سے کھا سکیں ۔
3: کپڑے دھووو تو صَرف صابن کم استعمال کرو ، ہاتھوں سے زیادہ کام لو ۔
اگر تم صابن رگڑتی رہو گی ، کپڑے مَلو گی نہیں ، تو اُن میں تَند میل پڑ جائے گی ۔
بالخصوص پائنچے ، بازو ، کَف ، کالر ، اور نیفے وغیرہ کو اچھی طرح صاف کیا کرو ۔
4: جب کوئی گھر کا فرد گھر سے باہر جانے لگے تو اللہ کے سپرد کیا کرو ، جب گھر آئےتو بسم اللہ کہا کرو اور پانی پوچھا کرو ۔
5: اپنے کپڑے ، جوتے سنبھال کررکھا کرو ، تاکہ زیادہ دیر استعمال میں آ سکیں ۔
گھر والوں کے جو جُوتے کبھی کبھی استعمال ہوتے ہیں ، اُنھیں شاپر یا ڈبے میں ڈال کر رکھا کرو ، تاکہ گردو غبار سے بچے رہیں ۔
6: دودھ اللہ کی عظیم نعمت ہے ، اس کے لیے صاف ستھرے برتن استعمال کیا کرو ، اور اس کا کوئی قطرہ زمین پر نہ گرنے دیا کرو ۔
7: باجرے ، مکئی ، اور چاول کی روٹی بھی گندم کی روٹی کی طرح گول بنایا کرو ۔
نیز تندور میں روٹی ہاتھ سے لگایا کرو ، گَدی سے لگائی گئی روٹی جلدی سُوکھ جاتی ہے ۔
8: فالتو کاغذ اور گَتے ضائع کرنے کے بجائے ، اُنھیں مٹی کے برتن میں بھگو دیا کرو ، جب وہ بالکل نرم ہوجائیں تو ان میں میتھرے ڈال کر مختلف برتن بنالیا کرو ۔
( کاغذ سے بنائے گئے برتن میں گُڑ سال بھی پڑا رہے ، خراب نہیں ہوتا ؛ اور کاغذ کی مَٹی میں رکھے ہوئے آٹے کو کیڑا نہیں لگتا )
9: اپنے بچوں کو کبھی گالی اور بددعا نہ دینا ، وہ تنگ بھی کریں پھر بھی دعا ہی دینا ۔
10: گھر میں مَکڑی کے جالے نہ دیا کرو ، انھیں جتنا جلدی ہوسکے اُتار دیا کرو ؛ لیکن مَکڑی کو کبھی نہ مارنا اس نے غار کے آگے جالا تانا تھا ۔