زاویہ نظر
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن
شعارِ اختلاف
اہلسنت وجماعت کے حالات ان دنوںانتہائی تکلیف دہ ہیں ، ہم اپنے علمی اختلافات کوداخلی سطح پر طے کرنے کے بجائے عوام میں لے آتے ہیں، پھر سوشل میڈیا پر دین کو بازیچہ اطفال بنادیا جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا دو دھاری تلوار ہے اور اس آیت کا مصداق ہے:’’(اے رسولِ مکرّم !) لوگ آپ سے شراب اور جوئے کاحکم پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیجیے:ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن ان دونوں کا گناہ ان کے فائدے سے بڑا ہے ، (البقرہ:219)‘‘، یہاں آیت کا حوالہ محض مشابہت کو بیان کرنے کے لیے ہے کہ سوشل میڈیا کا نقصان اس کے نفع سے زیادہ ہے،ورنہ یہ آیت شراب کے بارے میں عبوری دور سے متعلق ہے ، بعد میں سورۃ المائدہ میں حرمتِ خمر کا قطعی حکم نازل ہوا‘‘ ۔
بعض علماء کو یہ شوق لاحق ہوگیا ہے کہ اُن کی ہر بات ، ہر ادا ، ہر قول وفعل بلاتاخیر سوشل میڈیا پر آجائے، یہ روش انتہائی حد تک نقصان دہ ہے ، سوشل میڈیا پر چیزوں کو ایڈٹ کر کے ڈالنا چاہیے اور فائدے کے حصول پر نقصان سے بچنے کوترجیح دینی چاہیے ۔ ہمارے ہاں ایک شعار یہ ہے کہ اگر کسی سے کسی مسئلے میں اختلافِ رائے ہوگیا ہے تو بلاسوچے سمجھے انتہائی درجے کاحکم لگادیا جاتا ہے اور پھر واپسی کا راستہ باقی نہیں رہتا،جبکہ افتاء کا اصول یہ ہے کہ جس درجے کی خطا یا لغزش ہو ، اُسی درجے کا حکم لگایا جائے اور اس میں بھی احتیاط برتی جائے،فقہائے کرام نے تو اس حد تک احتیاط کا حکم دیا ہے کہ اگر کسی کے کلام میں ننانوے وجوہ کفر کی ہوں اور ایک وجہ اسلام کی نکلتی ہو تو اُسے ترجیح دی جائے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے:اے کافر! تو بے شک دونوں میں سے ایک کفر کے ساتھ لوٹے گا، (بخاری:6103)‘‘، یعنی اگر مخاطَب درحقیقت کفر کامرتکب ہوچکا ہے ، تو اس پر کفر کا اطلاق درست ہوگاورنہ مسلمان کو کافر کہنے والے پر یہ کفر لوٹ جائے گا ،فتاویٰ عالمگیری میں ہے:’’یہ اس صورت میں ہے کہ وہ اسے اعتقاداً کافر سمجھ کر کہے اور اگر محض گالی کے طور پر کہے تو قائل کافر نہیں ہوگا(بلکہ گناہگار ہوگا) ‘‘۔
بعض لوگ اختلافِ رائے کے وقت ازخود کسی شخص کے ایمان ،اخلاص ،قلبی کیفیات ،نیت اورعمل کے محرّکات کے بارے میں گفتگو شروع کردیتے ہیں۔ اختلافِ رائے کے حوالے سے ایک بنیادی خرابی یہ ہے کہ اس نظریے سے بات کا آغازکیا جاتا ہے کہ وہ حق کے آخری درجے پر کھڑاہے اور سامنے والا مِنْ کُلِّ الْوُجُوْہ باطل ہے، لوگ دیانتداری کے ساتھ دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنا ہی نہیں چاہتے ، انانیت کا غلبہ ہوتا ہے ۔جو مراد آپ لے رہے ہیں ، سامنے والا اس کی نفی کر رہا ہے ، مگراصلِ مقصود معاملہ سلجھانا نہیں ہوتا، بلکہ اپنی فتح کو منوانا اور دوسرے کو بدنام کرنا مقصود ہوتا ہے۔ ان سب وجوہ سے ہم تہذیب وشائستگی سے دور چلے جاتے ہیں۔ پس اختلاف ِ رائے کا درست طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کے نقطہ ٔ نظر کو پوری طرح سے سمجھا جائے ،فریقِ مخالف کی وضاحت اگر قابلِ قبول ہے تو اُسے قبول کرلیا جائے ، اصلِ مقصود اصلاح ہونی چاہیے نہ کہ پندارِ فتح۔
علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں:
’’نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور مَلَک کا خاصہ ہے کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ اماموں کو انبیاء کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی وبددینی ہے ۔ عصمتِ انبیاء کے یہ معنی ہیں کہ اُن کے لیے حفظِ الٰہی کاوعدہ ہولیا، جس کے سبب اُن سے صدورِ گناہ شرعاً مُحال ہے، بخلاف ائمہ واکابر اولیا کہ اللہ عزوجل انہیں محفوظ رکھتا ہے ، اُن سے گناہ ہوتا نہیں، مگر ہو تو شرعاً مُحال بھی نہیں۔ انبیاء علیہم السلام شرک وکفر اور ہر ایسے امر سے جو خلق کے لیے باعثِ نفرت ہو، جیسے کذب وخیانت وجہل وغیرہا صفاتِ ذمیمہ ، نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مروّت کے خلاف ہیں، قبلِ نبوت اور بعدِ نبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ قصداً صغائر سے بھی قبلِ نبوت اور بعدِ نبوت معصوم ہیں، (بہارِشریعت، ج:1،ص:38-39)‘‘۔اس پر بھی اجماع ہے کہ امورِ تبلیغیہ میں نبی سے سہو ونسیان اور خطا کا صدور مُحال ہے ۔
علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:
’’خلاصہ‘‘ ودیگر کتبِ فتاویٰ میںہے :جب ایک مسئلے میں کئی وجوہِ کفر ہوں اور ایک وجہ ایسی ہو جو کفر کا اطلاق کرنے میں مانع ہوتو مفتی پر لازم ہے کہ مسلمان کے ساتھ حسنِ ظن رکھتے ہوئے اسی وجہ کی طرف مائل ہو جو کفر کے اطلاق میں مانع ہے ،سوائے اس کے کہ جب وہ کفر کا سبب بننے والی وجہ کی تصریح کرے توپھر تاویل اس کو فائدہ نہیں دے گی،(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج:6،ص:272)‘‘۔
علامہ ابن نجیم حنفی کفریہ کلمات لکھنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’اس حوالے سے ظاہر بات یہ ہے کہ جس مسلمان کے کلام کو کسی صحیح مفہوم پرمحمول کرنا ممکن ہو اس کی تکفیر نہ کی جائے یا جس کے کفر میں روایتِ ضعیفہ کی وجہ سے اختلاف ہو ، اس کی بھی تکفیر نہ کی جائے ، پس اس سبب اکثر کفریہ کلمات (جو ماقبل عبارت میں ) مذکور ہوئے ہیں، ان پر تکفیر نہ کی جائے اور میں نے اپنے آپ کو اس بات کا پابند کیا ہے کہ ان کے بارے میں کوئی فتویٰ نہ دوں، (البحر الرائق،ج:5،ص:210)‘‘۔
دانشمندی کا تقاضا ہے کہ آپس کے اختلافات کو بازاروں اور چوراہوں میں نہ لایا جائے، آج کل سوشل میڈیا کی مثال بازار اور چوراہے ہی کی ہے ، بلکہ اس سے بھی ہزاردرجے آگے ہے ۔نیز وہ امور جو اہلسنت وجماعت میں مسلّم ہیں ،عوام میں انہی کا ابلاغ کیا جائے ،اگر کسی مسئلے میں کسی کی رائے جمہور سے جدا ہے تو وہ اُسے کلاس روم تک محدود رکھیں ،عوام میں نہ لائیں، اس کا نقصان نفع سے زیادہ ہے ۔اس کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ انتہائی باصلاحیت شخص جومختلف شعبوں میں معرکہ آراء کام انجام دے سکتا ہے ، اس کی صلاحیتیں ان الزامات کے جواب اور جوابی الزامات پر صرف ہوتی ہیں اور بحیثیت مجموعی اہلسنت کے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں، مخالف حلقوں کویقینا اس سے تسکین ملتی ہوگی ،یہی وجہ ہے کہ وہ آگ کے شعلے بھڑکانے کے لیے جلتی پر تیل ڈالتے ہیں، علامہ اقبال نے کہا تھا:
تری دُعا ہے کہ ہو تیری آرزو پوری
مری دُعا ہے تری آرزو بدل جائے!
