باغِ فدک پر حضرت سیّدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد بہتر تھا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : استاذی المکرّم آلِ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اولادِ علی رضی اللہ عنہ غزالی زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ‘مشکلات الحدیث ‘ میں فرماتے ہیں کہ : باغ فدک کے معاملے میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔ (مشکلات الحدیث مسلہ فَدَک صفحہ نمبر 207 مطبوعہ ورلڈ ویو پبلیشرز اردو بازار لاہور،چشتی)
اس سے واضح طور پر یہ سمجھ میں آیا کہ مسلہ فَدَک اجتہادی معاملہ تھا ۔ لہٰذا جو اس معاملے میں اجتہاد نہیں مانتے ان کی تردید غزالی زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کی زبانِ مبارک سے ہو گئی ۔ یاد رہے جب دو شخصیات کے درمیان اجتہاد ہوتا ہے تو اہل سنت کا نظریہ ہے کہ ایک شخص صواب پر ہوتا ہے اور ایک خطا (اجتہادی) پر ۔ دونوں کو صواب پر ماننا یہ معتزلہ کا نظریہ ہے ۔ لہٰذا مذکورہ حوالے سے اجتہاد ثابت ہوا اور جب اجتہاد ثابت ہو گیا تو ایک کا اجتہادی خطا پر ہونا لازم آئے گا ۔ اور اس اجتہادی خطا پر اجر ہے نہ کہ گناہ فافہم ۔ اور اس معاملے میں کون اجتہادی خطا پر ہے یہ مذکورہ عبارت کے اس جملے سے واضح ہے “سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد , سیدہ طیّبہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا ۔
درج ذیل چند سوالات کا علمی اور بحوالہ جواب درکار ہے
سوال نمبر 1 : کیا صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کو معصوم عنِ الخطا ہیں ؟ اگر معصوم عنِ الخطا ہیں تو دلائل سے واضح کریں ۔
سوال نمبر 2 : کیا خطائے اجتہادی صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم سے ممکن نہیں ؟ عدم امکان پر دلائل پیش کریں ۔
سوال نمبر 3 : جو خطائے اجتہادی کی نسبت صحابہ کرام و اہلبیتِ اطہار رضی اللہ عنہم طرف کرے ، ان پر کیا حکم لگتا ہے ؟ ۔ دلیل سے واضح کریں ۔
سوال نمبر 4 : اگر آیت تطہیر سے عصمت ثابت ہے تو کیا خطائے اجتہادی ، عصمت کے متضاد ہے ؟ ۔ اگر متضاد ہے تو جن محدثین و مفسرین نے انبیائے کرام علیہم السّلام کی طرف یہ نسبت کی اب پر کیا حکم لگتا ہے ؟ ۔ جو کہ بالاتفاق معصوم ہیں ۔
سوال نمبر 5 : محفوظ عن الخطا کا یہ مطلب کہ ان سے خطا ہو ہی نہیں سکتی ۔
یہ دلائل سے ثابت کریں ؟
