خواتین سمجھتیں کیوں نہیں کہ مرد کی فطرت الاسٹک ربڑ کی طرح ہے!
عورتوں میں یہ جملہ بہت عام پایا جاتا ہے میرا شوہر پہلے جیسا نہیں رہا، وہ بدل گیا ہے اس کی محبت ختم ہو گئی ہے، پہلے ساتھ چمٹا رہتا تھا ،سب کچھ اکٹھے ہوتا،اب سب بدل گیا وغیرہ وغیرہ
یاد رکھیے محبت کرنے والے مرد کی محبت نہیں بلکہ اندازِ محبت بدل جاتا ہے کیونکہ محبت پر قائم ہونے والے رشتے کی؛ زمانے کے بدلنے کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بدل جاتی ہیں، خاندان بنانے اور بسانے کے لیے دماغی، جسمانی یا روحانی طور پر مرد کا خاندان سے کبھی کبھار عارضی دوری کی چاہت رکھنا فطری عمل ہے.
مرد کو قرآن نے حاکم بنایا وہی گھر کا کرتا دھرتا ہے، بوجھ یکسوئی کے بغیر اٹھانا ممکن نہیں یہی وجہ ہوتی ہے کہ مرد محبت کی بنیادوں پر قائم ہونے والی عمارت کے لیے دور دراز کا نہ صرف سفر کرتا بلکہ بعض اوقات پاس ہو کر بھی تنہائی کی تمنا کرتا ہے.
یہ تنہائی، خاندان سے کچھ لمحے دور چلے جانا یا دوستوں سے ملنا جلنا اس کی جسمانی، دماغی، روحانی قوت کو تروتازہ کرتا اور رشتے کو مضبوط کرتا ہے.
مرد کی اسی عادت کو ماہرین نفسیات نے الاسٹک سے تعبیر کیا ہے کہ مرد ایک ربڑ کی طرح ہے.
الاسٹک ربڑ کھینچ کر دوسرے کنارے سے دور چلا جاتا لیکن یہ دوری عارضی ہوتی ہے کہ جونہی اس کو چھوڑا جائے تو جلد تیزی سے واپس پلٹ آتا ہے.
لاکھوں کی تعداد میں بکنے والی اور بہت سے جھگڑالو میاں بیوی کی زندگیوں میں سکون لانے والی کتاب
man are from mars and woman are from venus
