عالم کی توہین کب کفر ہے اور کب نہیں ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارٸینِ کرام : عالم کی توہین کی تین صورتیں اور ان کے بارے میں شرعی حکم بیان کرتے ہوئے سیدی اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
(1) اگر عالمِ (دین) کو اس لئے بُرا کہتا ہے کہ وہ عالم ہے جب تو صریح کافر ہے
(2) اور بوجہِ علم اس کی تعظیم فرض جانتا ہے مگر اپنی کسی دُنْیَوی خُصومت (دشمنی) کے باعث برا کہتا ہے گالی دیتا (ہے اور) تحقیر کرتا ہے تو سخت فاجر ہے
(3) اور اگر بے سبب (بلا وجہ) رنج (بغض) رکھتا ہے تو مَرِیْضُ الْقَلْب وَخَبِیْثُ الْبَاطِن (دل کا مریض اور ناپاک باطن والا ہے) اور اس (خواہ مخواہ بغض رکھنے والے) کے کفر کا اندیشہ ہے ۔ خلاصہ (کتاب) میں ہے : مَنْ اَبْغَضَ عَالِماً مِنْ غَیْرِ سَبَبٍ ظَاھِرٍخِیْفَ عَلَیْهِ الْکُفْر ۔
ترجمہ : جو بلا کسی ظاہری وجہ کے عالمِ دین سے بغض رکھے اس پر کفر کا خوف ہے ۔
(خلاصۃ الفتاویٰ، جلد 4، صفحہ 388 مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )( فتاویٰ رضویہ، جلد 21، صفحہ 129، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور۔چشتی )
یہاں پر بین الطرفین اہلسنت عوام کو عبرت حاصل کرنی چاہیئے کہ کوئی کسی سنی عالمِ دین پر اعتراضات و بکواسات کر رہا ہے تو کوئی کسی کے خلاف باتیں کر رہا ہے بہر کیف ان لوگوں کو سوچ لینا چاہیئے کہ اگر علمِ دین کی توہین کہ نیت سے کچھ کہا تو کافر ہو جائے گا ۔
اگر علمِ دین کی توہین تو مقصود نہیں مگر تحریکی اختلاف کی بنا پر برا کہتا ہے گالی دیتا ہے تحقیر کرتا ہے تو بھی فاسق و فاجر ہے ۔
اگر بلا وجہ بُغض رکھتا ہے تو ایمان کی خیر منائے کہ فقھاء نے لکھا کہ صحیح العقیدہ عالمِ دین سے بغض رکھنے والے کا کفر پر خاتمے کا اندیشہ ہے ۔
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ عُلَمائے دین کی توہین کرنے سے متعلق مزید فرماتے ہیں کہ علماء کی توھین سخت حرام ، سخت گُناہ ، اَشَدّ کبیرہ ۔ عالمِ دین سُنّی صحیح العقیدہ کہ لوگوں کو حق کی طرف بلائے اور حق بات بتائے محمّد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نائِب ہے۔ اس کی تحقیر (توہین) مَعَاذَ اللہ محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی توہین ہے اور محمّد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کی جناب میں گستاخی مُوجِبِ لعنتِ الٰہی و عذابِ الیم ہے ۔
(فتاویٰ رضویہ، جلد 23، صفحہ 649، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور۔چشتی)
