شب برات قریب آ رہی ہے تو سوچا یہ پوسٹ کر دوں۔
کچھ سلفی وہابی اجکل شب برات کی فضیلت کا انکار کرتے ہیں۔ آیے ہم مستند احادیث اور اقوال علماء دیکھتے ہیں۔ سلفیوں کے محدث اعظم ناصر الدین الالبانی کہتے ہیں:
يطلع الله تبارك و تعالى إلى خلقه ليلة النصف من شعبان , فيغفر لجميع خلقه إلا لمشرك أو مشاحن ” .
قال الألباني في ” السلسلة الصحيحة ” 3 / 135 :
حديث صحيح , روي عن جماعة من الصحابة من طرق مختلفة يشد بعضها بعضا و هم # معاذ ابن جبل و أبو ثعلبة الخشني و عبد الله بن عمرو و أبي موسى الأشعري و أبي هريرة و أبي بكر الصديق و عوف ابن مالك و عائشة # .
1 – أما حديث معاذ فيرويه مكحول عن مالك بن يخامر عنه مرفوعا به . أخرجه ابن
أبي عاصم في ” السنة ” رقم ( 512 – بتحقيقي )
ترجمہ: اللہ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے شعبان کی نصف رات کو اور سب کی مغفرت کر دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے
البانی صاحب نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کو صحابہ کی ایک جماعت نے مختلف طرق سے نقل کیا ہے خو ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں۔ جیسے کے معاذ بن جبل رض، ابو ثلبہ رض، عبد اللہ بن عمرو، ابو موسی الاشعری رض، ابو ہریرہ رض، ابو بکر صدیق رض، اوف بن مالک رض، اور سیدہ عائشہ رض۔ معاذ بن جبل والی حدیث مکحول کے طریق سے مالک بن یخامر سے آتی ہے۔ اور یہ مرفوع ہے۔۔۔
السلسلة الصحيحة 3/135 #1144
البانی صاحب مزید 2 احادیث کو حسن اور ایک کو مرسل جید قرار دیتے ہیں
امام نور الدین الھیثمی مجمع الزاوئد میں فرماتے ہیں:
وعن معاذ بن جبل عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:
“يطلع الله إلى جميع خلقه ليلة النصف من شعبان، فيغفر لجميع خلقه، إلا لمشرك، أو مشاحن”.
رواه الطبراني في الكبير والأوسط ورجالهما ثقات.
ترجمہ: معاذ بن جبل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ: اللہ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے شعبان کی نصف رات کو اور سب کی مغفرت کر دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے
امام الھیثمی اس حدیث کے بعد فرماتے ہیں: اسے امام طبرانی نے الکبیر اور الاوسط میں نقل کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
(مجمع الزوائد، ج 8، ص 126، # 12960۔ دار الفکر بیروت لبنان)
امام ابن حبان نے بھی اس کو اپنی صحیح ابن حبان میں نقل کیا ہے اور پورا باب باندھا ہے کہ “سعبان کی نصف رات میں اللہ کی مغفرت”
(صحیح ابن حبان ج 12، ص 481)
اب دیکھیے ایک اور حدیث مختلف طریق سے:
حدّثنا عبد الله ، حدَّثني أبي، ثنا حسن ، ثنا ابن لهيعة ، ثنا حيـي بن عبد الله ، عن أبي عبد الرحمن الحبلي ، عن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلّم قال: «يطلع الله عزّ وجلّ إلى خلقه ليلة النصف من شعبان، فيغفر لعباده إلا لاثنين، مشاحن، وقاتل نفس».
ترجمہ: عبد اللہ بن عمرو رض روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اپنی مخلوق کی طرف متوجہ ہوتا ہے شعبان کی نصف رات کو اور سب کی مغفرت کر دیتا ہے سوائے دو کے یعنی کینہ رکھنے والا اور قاتل
(مسند احمد 2/176 # 6642)
اس حدیث کے بعد شیخ شعیب الارناووط فرماتے ہیں:
صحيح بشواهده
یہ شواہد کی وجہ سے صحیح ہے
امام المنذری رحمہ اللہ نے نصف شعبان کے بارے ایک حدیث نقل کرنے کے بعد فرمایا:
رواه الطبراني في الأوسط وابن حبان في صحيحه والبيهقي، ورواه ابن ماجه بلفظه من حديث أبي موسى الأشعري، والبزار والبيهقي من حديث أبي بكر الصديق رضي الله عنه بنحوه بإسناد لا بأس به
ترجمہ: اسے طبرانی نے الاوسط میں نقل کیا، ابن حبان نے صحیحہ میں، امام البیھقی، ابن ماجہ نے اس لفظ کے ساتھ ابو موسی الاشعری رض سے نقل کیا۔ امام البزار اور امام البیھقی نے بھی اسے سیدنا ابو بکر صدیق رض سے نقل کیا اور اس کی سند میں کوئی حرج نہیں
(ترغیب والترہیب ج 3، ص 307)
