Site icon اردو محفل

ڈھیٹ، چالاک، اور سیانے تحریر چور

“ڈھیٹ، چالاک، اور سیانے تحریر چور”

تحریر : نثار مصباحی

روشن مستقبل، دہلی۔

فیسبُک پر کوئی تحریر نشر کی جاتی ہے تو کچھ لوگ کمنٹ باکس میں تحریر کاپی کرنے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ یقینا یہ طلب ان کے احتیاط، حسنِ نیت اور جذبۂ امانت کا مظہر ہوتی ہے۔ مگر کبھی کبھی اتنے لوگ اجازت طلب کرتے ہیں کہ فردا فردا سب کو اجازت دینا وقت کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس لیے ایسے تمام لوگوں کو اس پہلو پر ضرور توجہ دینا چاہیے کہ:

جو چیز فیسبک پر نشر کر دی جائے، پھر اسے نشر کرنے/کاپی کرنے کے لیے الگ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں رہ جاتی ہے۔ فیسبک پر نشر کرنے کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے کہ ناظرین کو کاپی کرنے کی عام اجازت ہے۔

البتہ کاپی کرنے میں دو چیزوں کا خیال رکھنا شرعاً اور اخلاقاً بےحد ضروری ہوتا ہے:

1- تحریر مِن و عن کاپی کی جائے۔ کوئی تبدیلی ہرگز نہ کی جائے۔

(البتہ ضرورت دیکھ کر حاشیہ آرائی، یا بریکٹ میں تسہیل و توضیح کرسکتے ہیں، یہ تبدیلی نہیں ہے۔)

2- جس کی تحریر ہو صراحت کے ساتھ اسی کی طرف منسوب کرتے ہوئے اس کا نام ضرور ذکر کیا جائے۔ اور اگر پہلے سے لکھا ہو تو باقی رکھا جائے۔

یہ گفتگو ضرورت سے زیادہ مثبت رویے پر ایک ضروری تنبیہ کے طور پر تھی۔ مگر ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ جہاں ایک طرف اس قدر مثبت اور محتاط فکر کے لوگ ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے بالکل الٹ “تحریر چور” بھی وافر مقدار میں گلی گلی گھوم رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے یہ چور مسلسل لوگوں کی دیواروں(وال) پر نظریں دوڑاتے رہتے ہیں تاکہ “مال” کہاں ہے یہ جلد سے جلد انھیں پتہ چل جائے۔

یہ “تحریر چور” متعدد قسم کے ہوتے ہیں:

ان چوروں کا خاتمہ یا ان کی عادتِ بد چھڑانا تو ہمارے اختیار میں نہیں۔ مگر ہم ایسے تمام لوگوں سے کہیں گے کہ دوسروں کی تحریروں کے دم پر تم نے جو بھرم بنایا ہے یہ زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتا۔ اس لیے بھرم ٹوٹنے سے پہلے خود ہی سدھر جاؤ ورنہ جس دن تمھارے قارئین کو پتہ چلا کہ تم ایک “چور” ہو تو تمھارا خیالی شیش محل چکناچور ہو جائے گا، اور بھری مجلس میں تمھارا رنگِ شرافت اتر جائے گا۔ جھوٹ کا لباس کوئی لباس نہیں ہوتا جس سے تم اپنی ستر پوشی کی کوشش کرتے ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

المُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ. (صحيح البخاري، حديث 5219)

“جو نہیں ملا ہے اس سے آسودگی اختیار کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔” !!!

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ “شرح صحیح مسلم” میں اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:

قال أبو عبيد وآخرون : هو الذي يلبس ثياب أهل الزهد والعبادة والورع ومقصوده أن يظهر الناس أنه متصف بتلك الصفة ويظهر من التخشع والزهد أكثر مما في قلبه فهذه ثياب زور ورياء۔

وقيل : هو كمن لبس ثوبين لغيره وأوهم أنهما لہ

“امام ابوعبید (٢٢٤ھ) اور دیگر حضرات کہتے ہیں: یہ وہ شخص ہے جو زاہدوں، عابدوں اور متقیوں کے (جیسے) کپڑے پہنتا ہے۔ اس کا مقصد لوگوں کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ وہ بھی اسی صفت سے متصف ہے۔ اور یہ شخص جتنا اس کے دل میں ہے اس سے زیادہ زہد و ورع اور بتکلف خشوع ظاہر کرتا ہے۔ یہی جھوٹ اور ریا کے کپڑے ہیں۔

اور (اس حدیث کی تشریح میں) ایک قول یہ ہے کہ: یہ اس شخص کی طرح ہے جو دوسرے کے دو کپڑے پہنے اور یہ دکھائے کہ یہ اس کے اپنے ہیں۔”

“تحریر چور” اس سے بھی بدتر ہیں۔ ہو سکتا ہے بلکہ عموماً ہوتا یہ ہے کہ دوسرے کے کپڑے پہننے والا آدمی، وہ کپڑے مانگ کر پہنتا ہے، اور اس کی خطا صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے اپنا باور کروا رہا ہوتا ہے۔ مگر “تحریر چور” تو مانگتا بھی نہیں ہے۔ وہ چوری کرتا ہے اور اوپر سے دنیا کو یہ دکھاتا ہے کہ یہ میری محنت کی کمائی ہے !!!! یہ دوہرا جرم ہے۔

اللہ عزوجل ہدایت اور توفیق سے نوازے۔

نثارمصباحی

2 اپریل 2021

Exit mobile version