مسلمانوں پر جہاد کب فرض ہوتا ہے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارئینِ کرام : اسلامی تعلیمات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جہاد اسلام کا ایک اہم رکن ہے ، یہ محض قتال، جنگ یا دشمن کے ساتھ محاذ آرائی کا نام نہیں۔ یہ اس وقت ہر مومن پر فرض ہے جب کفار مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ پر اتر آئیں، اور ان پر ناحق ظلم و ستم کا بازار گرم کریں ۔ قرآنی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ جب ہجرت کا عمل پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اور مشرکین مکہ نے مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ کا فیصلہ کیا تو اس موقع پر اذنِ دفاع نازل ہوا : أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌO الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ ۔
ترجمہ : ان لوگوں کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے (ناحق) جنگ کی جا رہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک ﷲ ان (مظلوموں) کی مدد پر بڑا قادر ہےo (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب ﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا) ، اور اگر ﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جدو جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے ﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے ، اور جو شخص ﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقینًا ﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک ﷲ ضرور (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے (گویا حق اور باطل کے تضاد و تصادم کے انقلابی عمل سے ہی حق کی بقا ممکن ہے) ۔ (سورہ الحج، 22 : 39 – 40)
اس آیت کریمہ کے مطابق مسلمانوں کے لیے لڑنا اس لیے حلال کیا گیا کہ ان پر ظلم و ستم کیا گیا ، انہیں بے گھر اور بے وطن کیا گیا جبکہ ان کا کوئی قصور نہ تھا۔ اب ان پر جنگ مسلط ہو رہی تھی اور انہیں اپنا دفاع کرنا تھا ۔ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ میں حملہ آور ہو کر تلوار اٹھانے کا اذن نہیں بلکہ دفاع کی جدوجہد کا اذن ہے تاکہ عبادت گاہیں محفوظ رہیں اور ہر کوئی پر امن ماحول میں اپنے اپنے دین پر عمل جاری رکھ سکے ۔
مسلمان آخر تک اپنی بقاء کی جنگ لڑتے رہے ان کی تلوار ہمیشہ مظلوم کے دفاع میں اٹھتی جب انہیں غلبہ حاصل ہو جاتا تو پھر معاشرہ میں امن ہو جاتا ، نماز قائم کی جاتی ، زکوٰۃ دی جاتی ، نیکی کا حکم دیا جاتا، برائی سے روکا جاتا اور ظلم کے خلاف لڑا جاتا ۔
ضابطۂ جنگ بیان کرتے ہوئے قرآن حکیم فرماتا ہے : وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۔
ترجمہ : اور اللہ کی راہ میں ان سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں (ہاں) مگر حد سے نہ بڑھو ۔ (سورہ البقره، 2 : 190)
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے عمل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ چاہے جنگ کا میدان ہی کیوں نہ ہو پہلے صلح سے معاملہ حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے لیکن اگر دشمن صلح پر راضی نہ ہوں اور معاشرے کا مظلوم طبقہ ظلم و ستم کی چکی میں پس رہا ہو تو اس ظلم کو روکنے اور معاشرے میں امن و امان کی صورتِ حال پیدا کرنے کے لئے لازمی ہو جاتا ہے کہ ظلم کے خلاف تادیبی و انسدادی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلّهِ فَإِنِ انتَهَواْ فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَى الظَّالِمِينَ ۔
ترجمہ : اور ان سے جنگ کرتے رہو حتی کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور دین (یعنی زندگی اور بندگی کا نظام عملاً) اللہ ہی کے تابع ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر زیادتی روا نہیں ۔ (سورہ البقره، 2 : 193)
تمام مسلمانوں پر جہاد فرضِ عین ہو چکا ہے
اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں ارشاد مبارک ہے : وَمَا لَکُمْ لَا تُقٰتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدٰنِ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہۡلُہَا ۚ وَاجْعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۚۙ وَّاجْعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا ۔ (سورۃ النساء آیت نمبر 75)
ترجمہ : اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے جویہ دعا کر رہے ہیں کہ اے رب ہمارے ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے ۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی مزید ترغیب دی اور جہاد کے خلاف حیلوں اور بہانوں کو زائل فرمایا ہے ‘ اللہ کی راہ میں اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد سے تمہیں کیا چیز روکتی ہے ‘ جہاد کی وجہ سے شرک کے اندھیروں کی جگہ توحید کا نور پھیلتا ہے ‘ شر اور ظلم کے بجائے خیر اور عدل کا دور دورہ ہوتا ہے اور مکہ میں تمہارے جو مسلمان بھائی مرد ‘ عورتیں اور بچے کفار کے ظلم کا شکار ہیں ‘ کفار ان کو ہجرت کرنے نہیں دیتے اور اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ان کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچا رہے ہیں ‘ اور تم خود مکہ کی زندگی میں ان کے مظالم کا مشاہدہ اور تجربہ کرچکے ہو بلال ‘ صہیب اور عمار بن یاسر پر کس کس طرح مشق ستم کی جاتی تھی ‘ سو کفار کے خلاف جہاد کر کے تم اپنے مسلمان بھائیوں کو کفار کی دست برد سے بچا سکتے ہو ۔
وَمَا لَکُمْ لَا تُقٰتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ : اور تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ کے راستے میں نہ لڑو ۔ ارشاد فرمایا گیا کہ جہاد فرض ہے اور اس کے ترک کا تمہارے پاس کوئی عذر نہیں تو تمہیں کیا ہوگیا کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد نہ کرو حالانکہ دوسری طرف مسلمان مرد وعورت اور بچے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور اُن کا کوئی پُرسانِ حال نہیں اور وہ ربُّ العٰلَمین عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اس بستی کے ظالموں سے نجات عطا فرما اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار عطا فرما ۔ تو جب مسلمان مظلوم ہیں اور تم ان کو بچانے کی طاقت رکھتے ہو تو کیوں ان کی مدد کیلئے نہیں اٹھتے ۔ جیسا کہ آج مقبوضہ کشمیر میں ہندو بنیئے کے مظالم سے تنگ آکر مسلمان بہنیں ، بیٹیاں ، بچے اور بزرگ دعائیں مانگ رہے ہیں اور اہلِ اسلام کو مدد کےلیئے پکار رہے ہیں ۔
(1) جہاد فرض ہے ، بلاوجہ جہاد نہ کرنے والا ایسا ہی گنہگار ہوگا جیسے نماز چھوڑنے والا بلکہ کئی صورتوں میں اِس سے بھی بڑھ کر ہے۔ البتہ یہ خیا ل رہے کہ جہاد کی فرضیت کی کچھ شرائط ہیں جن میں ایک اہم شرط اِستِطاعت یعنی جنگ کی طاقت ہونا بھی ہے ۔ جہاد یہ نہیں ہے کہ طاقت ہو نہیں اور چند مسلمانوں کو لڑائی میں جھونک کر مروا دیا جائے۔ جہاد کبھی فرضِ عین ہوتا ہے اور کبھی فرضِ کِفایہ ۔
(2) آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دینے کیلئے مسلمانوں کی مَظلومِیَّت کا بیان کرنا بہت مفید ہے۔ آیت میں جن کمزوروں کا تذکرہ ہے اس سے مراد مکہ مکرمہ کے مسلمان ہیں ۔ اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ ان کمزور مسلمانوں کو کفار کے پنجۂ ظلم سے چھڑائیں جنہیں مکہ مکرمہ میں مشرکین نے قید کرلیا تھا اور طرح طرح کی ایذائیں دے رہے تھے اور اُن کی عورتوں اور بچوں تک پربے رحمانہ مظالم کرتے تھے اور وہ لوگ اُن کے ہاتھوں میں مجبور تھے اس حالت میں وہ اللہ تعالیٰ سے اپنی خلاصی اور مددِ الٰہی کی دعا ئیں کرتے تھے ۔ یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کو اُن کا ولی و ناصر کیا اور انہیں مشرکین کے ہاتھوں سے چھڑایا اور مکۂ مکرمہ فتح کرکے اُن کی زبردست مدد فرمائی ۔
(3) آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیرُاللہ کو ولی اور ناصر (یعنی مددگار) کہہ سکتے ہیں ۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا خُذُوۡا حِذْرَکُمْ فَانۡفِرُوۡا ثُبَاتٍ اَوِانۡفِرُوۡا جَمِیۡعًا ۔﴿سورۃ النساء آیت نمبر 71﴾
ترجمہ : اے ایمان والو ہوشیاری سے کام لوپھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو ۔
خُذُوۡا حِذْرَکُمْ : ہوشیاری سے کام لو ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کروڑ ہا کروڑ احسان ہے کہ اس نے ہمیں زندگی کے کسی بھی شعبے میں اپنے احکام سے محروم نہیں رکھا بلکہ ہر جگہ ہماری رہنمائی فرمائی۔ ماں باپ، بیوی بچے، رشتے دار، پڑوسی ، اپنے بیگانے سب کے متعلق واضح ہدایات عطا فرمائیں ۔ اسی سلسلے میں ہماری بھلائی کیلئے ہمیں ہوشیار رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ دنیا کے دیگر معاملات کی طرح دشمنوں کے مقابلے میں بھی ہوشیاری اور سمجھداری سے کام لو، دُشمن کی گھات سے بچو اور اُسے اپنے اوپر موقع نہ دو اور اپنی حفاظت کا سامان لے رکھو پھر موقع محل کی مناسبت سے دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہوکر نکلو یا اکٹھے چلو ۔ یعنی جہاں جو مناسب ہو امیر کی اطاعت میں رہتے ہوئے اور تجربات و عقل کی روشنی میں مفید تدبیریں اختیار کرو ۔ یہ آیت ِ مبارکہ جنگی تیاریوں ، جنگی چالوں ، دشمنوں کی حربی طاقت کے اندازے لگانے، معلومات رکھنے، ان کے مقابلے میں بھرپور تیاری اور بہترین جنگی حکمت ِ عملی کے جملہ اصولوں میں رہنمائی کرتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسباب کا اختیار کرنا بھی نہایت اہم ہے ۔ بغیر اسباب لڑنا مرنے کے مُتَرادِف ہے، تَوَکُّل ترک ِ اَسباب کا نام نہیں بلکہ اسباب اختیار کرکے امیدیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے وابستہ کرنے کا نام ہے ۔
جنگی تیاریوں سے متعلق ہدایات
جنگی تیاری کیلئے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ اور صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی ہدایا ت ملاحظہ فرمائیں ۔
(1) حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ( اس آیت) ’’ وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسْتَطَعْتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ‘‘ اور ان کے لئے تیار رکھو جو قوت تم سے بن پڑ ے ۔ (کی تفسیر میں ) فرمایا ’’خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے، خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے، خبردار وہ قوت تیر اندازی ہے ۔ (مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الرمی والحث علیہ۔۔۔ الخ، ص۱۰۶۱، الحدیث: ۱۶۷(۱۹۱۷))
(2) حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’مشرکین سے ،اپنے مال، ہاتھ اور زبان سے جہاد کرو ( یعنی دینِ حق کی اشاعت میں ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار ہو جاؤ)
(نسائی، کتاب الجہاد، باب وجوب الجہاد، ص۵۰۳، الحدیث: ۳۰۹۳،چشتی)
(3) حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے بدلے تین افراد کو جنت میں داخل فرمائے گا (1) ثواب کی نیت سے تیر بنانے والے کو (2) تیر پھینکنے والے کو (3) تیر پکڑوانے والے کو ۔ اور تیر اندازی اور گھڑ سواری میں مقابلہ کیا کرو، تمہارا تیر اندازی میں مقابلہ کرنا شَہسواری میں مقابلہ کرنے سے زیادہ مجھے پسند ہے اور جو تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے غفلت کرتے ہوئے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کو گنوا دیا ۔ (ابو داؤد، کتاب الجہاد، باب فی الرمی، ۳/۱۹، الحدیث: ۲۵۱۳)
(4) حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اہلِ شام کو خط لکھا کہ اپنی اولاد کو تیراکی اور گھڑ سواری سکھاؤ ۔ (تفسیر در منثور، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۰، ۴/۸۶)
حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا جذبۂ شہادت
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میرے چچا حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غزوۂ بدر میں نہ جا سکے ، انہوں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ سے عرض کی : آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے مشرکین سے جو پہلی جنگ کی تھی میں اس میں حاضر نہ ہو سکا۔ اگراب اللہ تعالیٰ نے مجھے کسی غزوہ میں شرکت کاموقع دیا تو اللہ تعالیٰ دکھا دے گا جو میں کروں گا، پھر جب غزوۂ اُحد کا موقع آیا توکچھ لوگ بھاگنے لگے ، حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! ان بھاگنے والوں میں جومسلمان ہیں ، میں ان کی طرف سے معذرت خواہ ہوں اور جو مشرک ہیں ، میں اُن سے بری ہوں ۔ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تلوار لے کر میدانِ جنگ کی طرف دیوانہ وار بڑھے۔ راستے میں حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملاقات ہوئی تو فرمایا ’’اے سعد ! رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ، جنت ۔ اس پاک پرورد گار عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں اُحد پہاڑ کے قریب جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں ۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُ فرماتے ہیں : جیسا کارنامہ انہوں نے سر انجام دیا ہم ایسا نہیں کر سکتے ۔ حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ہم نے انہیں شہیدوں میں اس حال میں پایا کہ ان کے جسم مبارک پر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے اسّی (80) سے زائد زخم تھے ، اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اعضاء جگہ جگہ سے کاٹ دیئے گئے تھے ، آپ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پہچاننابہت مشکل ہوچکاتھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہمشیرہ نے آپ کواُنگلیوں کے نشانات سے پہچانا ۔ (بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب قول اللہ تعالی: من المؤمنین رجال صدقوا۔۔۔ الخ، ۲/۲۵۵، الحدیث: ۲۸۰۵،چشتی)(عیون الحکایات، الحکایۃ العاشرۃ، ص۲۷)
ارشادِ باری تعالیٰ ہے : اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقٰتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۚ وَالَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُقٰتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ الطّٰغُوۡتِ فَقٰتِلُوۡۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیۡطٰنِ ۚ اِنَّ کَیۡدَ الشَّیۡطٰنِ کَانَ ضَعِیۡفًا ۔ ﴿سورۃ النساء آیت نمبر 76﴾
ترجمہ : ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور کفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے لڑو بے شک شیطان کا داؤ کمزور ہے ۔
اس آیتِ مبارکہ کا شانِ نزول یوں ہے کہ مشرکین مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کو بہت ایذائیں دیتے تھے ۔ ہجرت سے پہلے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی ایک جماعت نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ہمیں کافروں سے لڑنے کی اجازت دیجئے ، انہوں نے ہمیں بہت ستایا ہے اور بہت ایذائیں دی ہیں ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ اُن کے ساتھ جنگ کرنے سے ابھی ہاتھ روک کر رکھو اور ابھی صرف نماز اور زکوٰۃ ادا کرو ۔ اسی کے متعلق فرمایا کہ کیا تم نے ان لوگوں کونہ دیکھا جن سے شروعِ اسلام میں مکہ مکرمہ میں کہا گیا کہ ابھی جہاد سے اپنے ہاتھ روکے رکھو اور ابھی صرف نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو ۔ (تفسیر خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۷۷، ۱/۴۰۳)
لیکن پھر جب مدینہ منورہ میں ان پر جہاد فرض کیا گیا تو وہ اس وقت طبعی خوف کا شکار ہوگئے جو انسانی فطرت ہے اور حالت یہ تھی کہ ان میں ایک گروہ لوگوں سے ایسے ڈرنے لگا جیسے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنا ہوتا ہے یا اس سے بھی کچھ زیادہ ہی خوفزدہ تھا اور کہنے لگے: اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا ؟ اس کی حکمت کیا ہے ؟
یہ سوال حکمت دریافت کرنے کے لئے تھا، اعتراض کرنے کیلئے نہیں ۔ اسی لئے اُن کو اس سوال پر توبیخ وزجرنہ فرمایا گیا بلکہ تسلی بخش جواب عطا کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ، تم ان سے فرما دو کہ دنیا کا ساز و سامان تھوڑا ساہے، فنا ہونے والا ہے جبکہ پرہیز گاروں کے لئے آخرت تیار کی گئی ہے اور وہی ان کیلئے بہتر ہے ۔ لہٰذا جہاد میں خوشی سے شرکت کرو ۔
اس آیت میں یہ بتایا کہ جب مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس جنگ سے کافروں کی غرض کیا ہوتی ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے ‘ کافر مادی مقاصد کے حصول کے لیے جنگ کرتے ہیں اور بت پرستی کا بول بالا کرنے کے لیے اور اپنے وطن اور اپنی قوم کی حمایت میں لڑتے ہیں ‘ ان کے پیش نظر زمین اور مادی دولت ہوتی ہے ‘ نام ونمود اور اپنی بڑائی کے لیے اور دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے لیے لڑتے ہیں اور کمزور ملکوں کی زمین ‘ ان کی معدنی دولت اور ان کے ہتھیاروں کو لوٹنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ اس کے برعکس مسلمانوں کے سامنے اخروی مقاصد ہوتے ہیں ‘ وہ اللہ کی بڑائی اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتے ہیں ‘ وہ بت پرستی ‘ کفر ‘ شر اور ظلم کو مٹانے ‘ نظام اسلام کو قائم کرنے ‘ خیر کو پھیلانے اور عدل و انصاف کو نافذ کرنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ ان کا مقصد زمین کو حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے ‘ وہ اپنے استعمار اور آمریت قائم کرنے کے لیے اور دوسروں کی زمین اور دولت پر قبضہ کرنے اور لوگوں کو اپنا محکوم بنانے کے لیے نہیں لڑتے بلکہ انسانوں کو انسانوں کی بندگی سے آزاد کرا کر سب لوگوں کو خدائے واحد کے حضور سر بسجود کرانے کے لیے جہاد کرتے ہیں ۔ اپنے ملک کے دفاع اور کفار کے خلاف جہاد کے لیے اسلحہ کو حاصل کرنا توکل کیخلاف نہیں ہے ‘ کیونکہ توکل کا معنی ترک اسباب نہیں ہے بلکہ کسی مقصود کے حصول کے اسباب کو فراہم کرکے اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کرکے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا توکل ہے ۔ اسی طرح آلات حرب کو حاصل کرنا بھی تقدیر کے خلاف نہیں ہے بلکہ جہاد کی تیاری کرنا بھی تقدیر سے ہے ۔ اس رکوع کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ جہاد کیلیے پے درپے مجاہدوں کے دستے بھیجنا بھی جائز ہے اور یک بارگی مل کر حملہ کرنا بھی جائز ہے اور یہ کہ ہر دور میں کچھ لوگ اپنی بدنیتی یا بزدلی کی وجہ سے یا غداری اور منافقت کی وجہ سے جہاد سے منع کرنے والے بھی ہوتے ہیں ‘ لیکن مسلمان ان سے متاثر نہ ہوں بلکہ اخروی اجر وثواب کی وجہ سے جہاد کریں ‘ وہ جہاد میں غالب ہوں یا مغلوب ہر صورت میں ان کے لیے اجر ہے ‘ نیز یہ بتایا ہے کہ جہاد کا ایک داعیہ اور سب یہ ہے کہ جس خطہ زمین میں کافروں نے مسلمانوں کو غلام بنایا ہوا ہے یا انکے ملک پر قبضہ کر کے ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا ہوا ہے ‘ ان کو کافروں اور ظالموں سے آزاد کرانے کے لیے بھی جہاد کرنا چاہیے اور آخر میں یہ بتایا کہ کافروں کا جنگ میں کیا مطمح نظر ہوتا ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے ۔
فلسطین اور کشمیر میں جہاد فرض ہو چکا ہے اور یہ جہاد جہادِ اسلامی ہے
محترم قارئینِ کرام : اللہ تبارک وتعالى نے جہاد کے لیے کچھ وجوہات مقرر فرمائی ہیں جن کی بناء پر کسی بھی علاقہ میں جہاد کیا جاتا ہے ۔ (1) مسلمانوں پر حملہ اور کافروں کوپیچھے دھکیلنے کے لیے ارشاد ہوا : اور ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فتنہ نہ رہے اور ایک اللہ کی پوجا ہو پھر اگر وہ باز آئیں تو زیادتی نہیں مگر ظالموں پر ۔ (سورۃ البقرة : 193)
(2) اور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو ۔ (سورۃ البقرة : 190)
(3) مسلمانوں پر ہونے والے ظلم وستم کے خاتمہ کے لیے ارشاد ہوا : بیشک جو ایمان لائے اور اللہ کے لیے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے اور وہ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کی انہیں ان کا ترکہ کچھ نہیں پہنچتا جب تک ہجرت نہ کریں اور اگر وہ دین میں تم سے مدد چاہیں تو تم پر مدد دینا واجب ہے مگر ایسی قوم پر کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے ، اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے ۔ (الأنفال : 72)
(4) مسلم اراضی کفار سے چھڑانے کے لیے ارشاد ہوا : اور کافروں کو جہاں پاؤ مارو اور انہیں نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا اور ان کا فساد تو قتل سے بھی سخت ہے اور مسجد حرام کے پاس ان سے نہ لڑو جب تک وہ تم سے وہاں نہ لڑیں اور اگر تم سے لڑیں تو انہیں قتل کرو کافروں کی یہی سزا ہے ،
(192) پھر اگر وہ باز رہیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ (سورۃ البقرة : 191)
