Site icon اردو محفل

شریعت اور فطرت

شریعت اور فطرت

ممکن ہے شریعت آپ کو معاف کر دے مگر فطرت کبھی بھی معاف نہیں کرتی

کیونکہ شریعت سو سالہ گناہ کرنے کے بعد بھی ایک لمحے کی معافی سے نجات کا رستہ نکال لیتی ہے

مگر فطرت اس ربڑ کے گیند کی طرح ہے کہ گیند کو جتنی زور سے پھینکو گے پلٹ کر اتنی ہی طاقت سے واپس آئے گا…

اسی طرح فطرت کہتی ہے

آپ جو کچھ معاشرے کو دو گے پلٹ کر آپ کی طرف ہی لوٹ آئے گا

گالی دو گے تو اُسی دن یا کسی دن پلٹ کر ضرور آئے گی.

اگر صلح کرواؤ گے؛صلح پلٹ کر تمہارے پاس اس طرح آئے گی کہ تمہارے گھر کو کبھی بھی بکھرنے نہیں دے گی……

ایک بات یاد رہے شریعت اور فطرت دو متضاد چیزیں نہیں ہیں..

ہم کو سب کچھ شریعت نے ہی سکھایا ہے مگر ہم بات کو سمجھنے کے لئے اس کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں….

معاشرے میں انسان دو طرح کی خطائیں کرتا ہے..

ایک شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی

دوسری خطا فطرت کی خلاف ورزی

مثلاً

اگر کوئی کسی کی انگلی کاٹ ڈالے اور پھر اللہ سے اور اس بندے سے معافی مانگے؛ اور معافی مل جانے پر شریعت تو اس کو معاف کردے گی….

لیکن کیا فطرت بھی اسے معاف کر دے گی؟ یعنی کیا انگلی دوبارہ جُڑ جائے گی….. نہیں

روڈ پر غیر ارادی طور پر ایکسیڈنٹ ہو جائے شاید قانون اور شریعت معاف کر دے

لیکن فطرت اس کو کبھی میں معاف نہیں کرے گی کیونکہ ایک یا زائد گاڑیاں قابل مرمت پڑی ہیں اور اس کا ازالہ ان کی مرمت کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے

پھر علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور بات کہی

فرماتے ہیں

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے

نہیں کرتی کبھی ملت کے گناہوں کو معاف

( اغماض ؛ یعنی چشم پوشی )

یعنی ایک فرد کی غلطی کو فطرت کبھی کبھی معاف کر دیتی ہے

مگر اجتماعی بے حسی؛ فتنہ پروری؛ ظلم و زیادتی؛ کسی بستی؛ قبیلہ؛ قوم یا امت کو تباہ کر دیتی ہے….

آخری گزارش

آپ کے قرب و جوار میں محلہ و بستی میں ایسا کچھ ہو رہا ہے جو آپ کی نظر میں غلط ہے تو اس کی درستگی کے لیے اپنا کردار ضرور ادا کیجئے..

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

30/05/2021

Exit mobile version