حضرت علی کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کی طرف منسوب ایک باطل روایت
تحقیق : اسد الطحاوی الحنفی البریلوی
امام نسائی ایک روایت بیان کرتے ہیں الخصائص علی میں :
-
أَخْبرنِي زَكَرِيَّا بن يحيى قَالَ حَدثنَا الْحسن بن حَمَّاد قَالَ حَدثنَا مسْهر ابْن عبد الملک عَن عِيسَى بن عمر عَن السّديّ عَن أنس بن مَالك أَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم كَانَ عِنْده طَائِر فَقَالَ اللَّهُمَّ ائْتِنِي بِأحب خلقك إِلَيْك يَأْكُل معي من هَذَا الطير فجَاء أَبُو بكر فَرده وَجَاء عمر فَرده وَجَاء عَليّ فَأذن لَهُ
سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک پرندہ پکایا ہوا تھا سرکارﷺ نے دعا فرمائی اے اللہ اس بندے کو بھیج دے جو تجھے تیری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہے وہ میرے ساتھ آکر اس پرندے کو کھا لے تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے تو آپ علیہ السلام نے انہیں واپس بھیج دیا پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے ان کو بھی آپ علیہ السلام نے واپس بھیج دیا پھ حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ آئے تو ان کو اندر آنے کی اجازت دی
(خصائص أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، برقم: 10)
اس روایت کا جو مرکزی راوی ہے وہ صدوق درجے کا وھمی راوی ہے لیکن شیعت کی طرف مائل تھا اور اسکا تفرد بھی ہے
جیسا کہ امام ذھبی اس پر جرح و تعدیل بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
ورمى السدي بالتشيع.
اسکو شیعت کی طرف منسوب کیاگیا ہے
[میزان الاعتدال برقم : 907]
اور ایسے ہی امام ابن حجر عسقلانی تقریب میں اسکے بارے فیصلہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
الكوفي: صدوق يهم ورمي بالتشيع،
یہ کوفی ہے صدوق ہے اور وھم بھی کا جاتا تھا اور شیعت کی طرف منسوب کیا گیا ہے اسکو
[تقریب التہذیب برقم : 463]
اس روایت کی سند میں جو شدید ضعف ہے وہ مسھر بن عبدالملک کی وجہ سے ہے
جیسا کہ امام بخاری اسکے بارے کہتے ہیں :
-
كنية مسْهر بن عبد الْملك بن سلع الْهَمدَانِي الْكُوفِي أَبُو مُحَمَّد فِيهِ بعض النّظر
امام بخاری کہتے ہیں کہ اسکی بعض روایات میں نظر ہے
[التاريخ الأوسط برقم: 2578]
اور فیہ نظر جرح امام بخاری کی خطرناک ہوتی ہے اور بعض روایات پر جرح کا مطلب یہی ہے کہ وہ روایات ضعیف جدا ہیں اور یہ روایت متن سے بھی ثابت ہو رہی ہے کہ یہ آفت اس راوی کی وجہ سے ہے کیونکہ اسکی وجہ سے روای میں اضطراب واقع ہوا ہے
اسی طرح امام ابن عدی نے اس روایت کو منکر بیان کیا ہے اس سے اور امام ابن عدی کی بیان کردہ روایت کے متن میں خلفاء کے نام کی جگہ میں رجل مجہول ہیں یعنی متن میں اضطراب
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الطَّيِّبِ بْنِ الشُّجَاعِ، حَدَّثَنا الحسن بن حماد الضبي، حَدَّثَنا مسهر بْن عَبد الملك بْن سَلْعٍ عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَر الْقَارِي عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبد الرَّحْمَنِ السُّدِّيِّ، عَن أَنَس بْنِ مَالِكٍ، أَن النَّبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ كَانَ عِنْدَهُ طَائِرٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ آتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِكَ إِلَيْكَ يَأْكُلُ مَعِي هَذَا الطَّائِرُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَرَدَّهُ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ فَرَدَّهُ ثُمَّ جَاءَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَأَذِنَ لَهُ فَأَكَلَ مَعَهُ
امام ابن عدی نے جو بیان کیا ہے اس میں رجال کا نام نہیں ہے یعنی مسھر بعض اوقات مجہول رجال کا ذکر کرتا ہے اور بعض اوقات وہاں خلفاء ثلاثہ کا نام ڈال دیتا ہے
(جسکی وجہ سے متن میں اضطراب ہے)
یہی وجہ ہے امام ابن عدی نے اس روایت کو منکر قرار دیا ہے الکامل میں لکھ کر
اور فرماتے ہیں :
قال الشَّيْخ: وهذا من هذا الطريق ما أعلم رواه غير مسهر
ابن عدی کہتے ہیں یہ روایت اس طریق کے علاوہ میرے علم میں نہیں جو مسھر کے علاوہ کوئی روایت کرتا ہو
