مذہب ، روایت اور کامریڈ ملالہ یوسف زئی
ملالہ یوسف زئی بلاشبہ عالمی سطح کی معروف شخصیت ہے کسی بھی خاتون کو کم عمری میں نوبیل پرائز ملنا کوئی عام بات نہیں ہے ، غالبا Albert Einstein کے بعد ملالہ وہ دوسری سوشلسٹ ہے کہ جسے اس ایوارڈ سے نوازا گیا ہے اور اگرآپ ہر دو شخصیات کے نظریات اس حوالے سے دیکھیں تو انتہائی حیران مماثلت نظر آتی ہے Albert Einstein ایک جگہ مقدمہ قائم کرتا ہے
“I am convinced there is only one way to eliminate these grave evils, namely through the establishment of a socialist economy, accompanied by an educational system which would be oriented toward social goals. In such an economy, the means of production are owned by society itself and are utilized in a planned fashion. A planned economy, which adjusts production to the needs of the community, would distribute the work to be done among all those able to work and would guarantee a livelihood to every man, woman, and child. The education of the individual, in addition to promoting his own innate abilities, would attempt to develop in him a sense of responsibility for his fellow-men in place of the glorification of power and success in our present society.”
Albert Einstein, Why Socialism? 1949
یہی بات ملالہ یوسف زئی نے ایک جگہ اس طرح کہی ہے
“I am convinced Socialism is the only answer and I urge all comrades to take this struggle to a victorious conclusion. Only this will free us from the chains of bigotry and exploitation.
Quoted on the website of the IMT: Statement to the 32nd congress of Pakistani Marxists۔
سوات کی گل مکئی ملالہ یوسفزئی پچھلے دس ایک سالوں میں شاید پاکستان کی سب سے زیادہ قابل گفتگو شخصیت رہی ہے ایک جانب تو وہ طبقہ کہ جو ملالہ کو ایک عالمی سطح کی شخصیت اور آزادی اظہار اور عزیمت کی علامت سجھتا ہے تو دوسری جانب وہ طبقہ ہے کہ جو ملالہ کو استعمار کا ہرکارہ اور دین دشمن گردانتا ہے۔
ملالہ یوسف زئی سے منسلک تازہ بیان میرے لیے کسی بھی طرح حیران کن نہیں ہے ملالہ کی تربیت اور اٹھان خاص اس طرز پر نہیں ہوئی کہ جس طرز پر برصغیر کے ایک عام فرد یا ایک سادہ لوح مسلم کی ہوتی ہے ایک پشتون معاشرے اور خانوادے سے تعلق رکھنے کے باوجود ملالہ نظریاتی اعتبار سے ایک دوسری دنیا سے تعلق رکھتی ہے تو ملالہ کا یہ بیان میرے لیے اپنے اندر کچھ بھی حیرت کا سامان نہیں رکھتا ، برطانوی جریدے ووگ کو انٹرویو دیتے ہوئی ملالہ کہتی ہے۔
In a post widely shared on social media, British Vogue purportedly quoted Malala as saying: “I still don’t understand why people have to get married. If you want to have a person in your life, why do you have to sign marriage papers, why can’t it just be a partnership?”
اب ہم اس امر پر تحقیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملالہ کی فکر اپچ کس انداز میں پروان چڑھی تاکہ ہمیں ملالہ کے اس بیان کا پس منظر معلوم ہو سکے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر چلنے والے نظریات اپنا رخ تبدیل کر رہے ہیں یا پھر عالمی سطح پر جو لوگ قابض ہیں انکا کوئی خاص نظریاتی رخ موجود ہی نہیں رہا ہے۔گزشتہ دنوں جب کچھ دوستوں کے سامنے ملالہ یوسفزئی کی یہ حیثیت رکھی تو انہوں نے اسلامی شدت پسندی کا طعنہ دے کر اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا چنا چہ دوستوں کی تسلی کیلئے یہ تحقیق پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
(International Marxist Tendency)
آئی ایم ٹی
“The International Marxist Tendency (IMT) is an international Trotskyist Tendency founded by Ted Grant and his followers following their break with the Committee for a Workers International in the early 1990s. Their website, marxist.com, is edited by Alan Woods. The site is multilingual, and publishes international current affairs articles written from a Marxist perspective, as well as a large number of historical and theoretical articles. The IMT is active in over 30 countries worldwide.
یہ عالمی سطح کی مارکسی انقلابی تنظیم ہے کہ جو دنیا بھر میں مارکسی نظریات کی ترویج کا فریضہ سر انجام دیتی ہے.
http://www.marxist.com/historic-32nd-congress-of-pakistani-imt-1.htm
پر تشریف لے جائیں ملالہ کا کہنا ہے۔
موصوفہ کے نزدیک دنیا کی نجات اب اگر کسی نظام میں ہے تو وہ صرف اور صرف سوشل ازم ہے اور وہ اپنے حواری کامریڈس کو ببانگ دھل پکار رہی ہیں۔
