حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے نزدیک انکے والد ابوطالب کا ایمان ثابت نہیں۔۔
امام ابوداؤد سلیمان بن الاشعث السجستانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی275ھ) اپنی سند سے روایت کرتے ہیں
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، قَالَ: «اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ، ثُمَّ لَا تُحْدِثَنَّ شَيْئًا، حَتَّى تَأْتِيَنِي» فَذَهَبْتُ فَوَارَيْتُهُ وَجِئْتُهُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی
“یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپکا گمراہ بوڑھا چچا مرگیا ہے”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
“جاؤ اپنے باپ کو فورا ہھینک کر آجاؤ میرے پاس آنے تک کسی سے کوئی بات نہ کرنا”
پھر میں گیا اور پھینک کر آگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کرنے کا حکم دیا میں نے غسل کیا اور پھر میرے لیے دعا فرمائی
