📱 انٹرنیٹ کی دنیا اور ہمارے معاشرے پر اسکا اثر ..؟؟
گوگل، فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ اور باہمی رابطوں کے دیگر تمام ذرائع درحقیقت ایک گہرا سمندر ہیں جس میں لوگ اپنے اخلاق کو کھو رہے ہیں اور دماغی صلاحیتیں کھپا رہے ہیں۔ ان میں بوڑھے بھی ہیں اور جوان بھی۔ اس سمندر کی بے رحم موجیں نہ صرف ایک خلق کثیر کو ہلاک کرچکی ہیں بلکہ ہماری عورتوں کی حیا بھی نگل چکی ہیں۔
اس میں انہماک سے بچو ۔
انٹرنیٹ پر آپ کا رویہ شہد کی مکھی کی طرح ہونا چاہیئے، صرف عمدہ باتوں پر توجہ مرکوز کرو، خود بھی استفادہ کرو اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاؤ۔ عام مکھی کی طرح ہر گندی اور صاف چیز پر مت بیٹھو، مبادا دوسروں تک بیماری کے جراثیم منتقل کرنے لگو اور تمہیں اس کا احساس ہی نہ ہو۔
انٹرنیٹ ایک بڑی مارکیٹ ہے، یہاں کوئی بھی اپنی چیز مفت لے کر نہیں بیٹھا، ہر شخص اپنا سودا کسی نہ کسی عوض پر دینے کا خواہشمند ہے۔ کوئی اپنی چیز کا سودا اخلاق کی قیمت پر کرنا چاہتا ہے تو کسی کو فکری انتشار کی تجارت پسند ہے۔ بعض کا مقصد شہرت اور حبِ جاہ ہے اور ایسے بھی ہیں جو اپنے تئیں خیر خواہی کا جذبہ رکھتے ہیں۔ اس لیئے خریداری سے پہلے سامان کی خوب چانچ پڑتال کرو۔
تعلقات قائم کرنے میں بھی احتیاط سے کام لو، بعض تعلقات شکاری کے جال کے مانند ہیں، بعض برائی کا سرچشمہ ہیں، کچھ بے حیائی اور فسق وفجور پر مبنی ہیں اور کچھ کا انجام تباہی اور بربادی ہے۔
نشرو اشاعت میں بھی محتاط رہو، جن باتوں سے شریعت نے منع کیا ہے انہیں کاپی پیسٹ کرنے سے گریز کرو۔ یہ نیکیوں اور گناہوں کی تجارت ہے۔ تم کیا سودا بیچ رہے ہو اس پر تمہاری گہری نظر رہنی چاہیئے۔
کسی تحریر پر کمنٹ یا اسے شیئر کرنے سے پہلے خوب اچھی طرح بار بار سوچ لیا کرو کہ یہ الله کی خوشنودی کا باعث ہے یا ناراضی کا۔
ایسے شخص کی دوستی پر بھروسہ مت کرو جسے تم نے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو، لوگوں کی تحریروں سے انہیں سمجھنے کی کوشش مت کرو۔ یہ دوست کے بھیس میں اجنبی ہیں، ان کی تصویروں میں ڈبنگ (جعلسازی) ہے، ان کا اخلاق وکردار مخفی ہے، ان کی گفتگو میں ملمع سازی ہے، ان کے چہروں پر ماسک (خول) ہیں، یہ جھوٹ بھی ایسے بولتے ہیں کہ سچائی کا گمان ہوتا ہے۔
بہت سے عقلمند دکھائی دینے والے در حقیقت بڑی حماقت میں مبتلا ہیں۔
کتنے خوبصورت ایسے ہیں جو حقیقت میں بدصورت ترین ہیں۔
بہت سے سخی نظر آنے والے ایسے ہیں جن کا شمار کنجوس ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔
بے شمار ایسے ہیں جو شجاعت کے وصف سے شہرت رکھتے ہیں مگر پرلے درجے کے بزدل ہیں۔
سوائے ان کے جن پر الله کی رحمت ہو۔ (الله کرے تمہارا شمار بھی ان میں ہو۔)
