{بسم اللہ شریف کی جگہ ۷۸۶ لکھنا کیسا ہے ؟}
سوال : بسم اللہ کے طور پر خطوط وغیرہ پر جو ۷۸۶ لکھا جاتا ہے ، کتاب وسنت کی روشنی میں اس سلسلے میں ہماری رہنمائی کیجئے کہ کیا یہ صحیح ہے ؟
جواب : عام طور پر خطوط ، دستاویزات اورتحریروں وغیرہ میں بسم اللہ کے بجائے ۷۸۶ لکھ جاتاہے ، کہا یہ جاتاہے کہ ان کاغذات کے زمین پر گرنے سے بسم اللہ کے پاکیزہ حروف کی بے ادبی ہوتی ہے ، ان کو بے ادبی سے بچانے کے لئے ۷۸۶ لکھ دیا جاتاہے جب کہ اسلامی تعلیم واضح طور پر یہ ہے کہ ہر کام اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرنا چاہیے ، جو کام اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع نہ کیا جائے، اس میں برکت نہیں ہوتی اوروہ پایۂ تکمیل تک بھی نہیں پہنچتا۔یہ بات قابل غور ہے کہ کیا اس طرح اللہ تعالیٰ کانام لینا صحیح ہے ، فرض کیجئے کسی کے نام کے اعداد کا مجموعہ ۴۲۰ ہو اورکوئی اسے نام کے بجائے مسٹر ۴۲۰ کہہ کر پکارے تواس کا رد عمل کیاہوگا؟ اس طرح بسم اللہ کی بجائے ۷۸۶ کا استعمال کسی طرح بھی پسندیدہ نہیں ہے پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بسم اللہ کے اعداد ۷۸۶ نہیں بنتے ، قمری حروف کی صورت میں ا ل لگا کر پڑھا جاتاہے جب کہ شمسی حروف کے ساتھ ا ل لکھا توجاتاہے ، لیکن پڑھا نہیں جاتا۔ الرحمن اورالرحیم میں قمری حروف کی صورت میں بسم اللہ کے عدد کا مجموعہ ۱۱۸۸ بنتا ہے اورشمسی حروف کی صورت میں اس کا مجموعہ ۷۲۶ بنتا ہے یعنی کسی بھی صورت میں یہ مجموعہ ۷۸۶ نہیں بنتا، اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ پھر ۷۸۶ہے کیا؟ غالب امکان یہ ہے کہ ۷۸۶ ہندوؤں کے بھگوان ہری کرشنا کے نام کے حروف کا مجموعہ ہے ، حروف ابجد کے حساب سے اسی کے یہ اعداد نکلتے ہیں ، برصغیر پاک وہند کے مسلمان سینکڑوں برس تک ہندؤں کے ساتھ اکھٹے رہے ہیں ، وہ ۷۸۶ استعمال کرتے ہوں گے ، اس کی تشریح انہوں نے مسلمانوں کے سامنے غلط انداز میں کی ہوگی اورانہوں نے اس کو صحیح سمجھ کر ۷۸۶ کا استعمال شروع کردیا، بسم اللہ کے لئے اس طرح کے اعداد کا استعمال درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دعوت دینے کے مُترادف ہے اس لئے ان اَعداد کے استعمال سے مکمل طور……(اصل میں بھی یہیں تک ہے ) (ہفت روزہ ’’اخبار جہاں‘‘ ۲۵ نومبر تایکم دسمبر 2002ء)
الجواب
یہ صحیح ہے کہ خطوط وغیرہ کی ابتداء تسمیہ (بسم اللہ) سے کرنا سنّت ہے مگر یہ سنّت مؤکدہ نہیں کہ اس کا چھوڑنا ممنوع ہو اور اس کی عادت گناہ ہو سنّت غیر مؤکدہ ہے کہ اگر کوئی اس پر عمل کرے گا توثواب پائے گا، لیکن خطوط وغیرہ کو لوگ لاپرواہی سے ادھر اُدھر پھینک دیتے ہیں جس سے بے ادبی ہوتی ہے اوربسم اللہ قرآن مجید کی آیت ہے جسے بے وضو چھونا بھی جائز نہیں ، ارشاد ہوتاہے : لَاَیُمَسَّہُ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ’’اسے صرف وہی لوگ چھوئیں جو خوب پاک ہوں ‘‘۔
جس پر غسل واجب نہ ہو وہ بھی خوب پاک نہیں ، خوب پاک اس وقت ہوگا جب کہ باوضو ہو۔ خطوط کے سرنامے پر بسم اللہ شریف لکھی ہوگی توبے وضو لوگوں کا ہاتھ پڑ جائے گا ، پھر ڈاکخانے کے ذریعے جو خطوط بھیجے جاتے ہیں ، ان خطوط کی کیا درگت بنتی ہے ، وہ سب کو معلوم ہے ۔ ڈاکخانے والے ان پر پاؤں بھی رکھ دیا کرتے ہیں اورڈاکیے تھیلوں میں بند کرکے گھسیٹتے ہوئے جہاں چاہتے ہیں لیجاتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اس پر بیٹھتے بھی ہیں اوربھی کئی طرح کی بے ادبی ہوتی ہے اورکئی بار دیکھنے میں آیا کے خطوط مکتوب الیہ کے سامنے پھینک دیتے ہیں ۔ کیا یہ سب اللہ عزوجل کے اسمائے مبارکہ اورقرآن مجید کی آیات کی بے ادبیاں نہیں ؟ کیا کسی مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ قرآن مجید کی ضرور توہین ہوگی اورپھر بھی بسم اللہ شریف لکھے؟
علماء نے تویہاں تک لکھا ہے کہ قرآن مجید کو کُفّار کی بستیوں میں نہ لے جائیں کہ اس کا اندیشہ ہے کہ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے اورکُفّار اس کی بے حرمتی نہ کرنے لگیں تو جب خطوط میں اس کا صرف اندیشہ ہی نہیں بلکہ یقین ہے کہ ضرور اس کی بے حرمتی ہوگی، اس لئے علماء نے خطوط پر بسم اللہ شریف لکھنے کو پسند نہیں فرمایا، یہ مُسَلَّمہ قاعدہ ہے کہ کسی چیز میں نفع نقصان دونوں ہوں تو اس کو ترک کردیا جائے جَلبِ مَنَافِع پر دَفِع مُضرت مناسب ہے ۔
۷۸۶ بقاعدئہ جمل (اعداد کے حساب سے) پوری بسم اللہ شریف کا عدد ہے ، علماء نے اس کا لحاظ کرتے ہوئے خطوط کی ابتداء میں اسے لکھنے کا رواج دیا تاکہ من وجہٖ بسم اللہ شریف لکھنے کی مکافات ہوجائے ۔ اسمائے مبارکہ کو ان کے اعداد کے ساتھ مناسبت ہے اوران اعداد میں فوائد بھی ہیں علماء واکابر تعویذ لکھتے تھے اگر اسمائے مبارکہ میں کوئی اثروفائد ہ نہ ہوتا توعلماء حق اسے کیوں لکھا کرتے ؟
پھر یہ چیز مسلم الثبوت مشائخ سے متوارث چلی آرہی ہے حتیٰ کہ اہلسنّت ودیگر طبقوں کے مشترکہ پیشوا شاہ ولی اللہ صاحب اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما بھی تعویذات لکھا کرتے تھے جو صرف اعداد ہی سے پُر ہوتے تھے ۔
ہر حرف کو اس کے عدد کے ساتھ باطنی ربط ہے جسے اہلِ کشف نے دریافت کیا۔ یہ ایسا نہیں کہ کسی نے اٹکل پچو سے اسے بنالیا ہو، یہی وجہ ہے کہ حروف کے اعداد حروف تہجی کی ترتیب سے نہیں بلکہ اس کی الگ ترتیب ہے جو ابجد(۱،۲،۳،۴)، ہوز(۵،۶،۷)، حطی(۸،۹،۱۰)، کلمن (۲۰،۳۰،۴۰،۵۰)، سعفص(۶۰،۷۰،۸۰،۹۰)، قرشت(۱۰۰،۲۰۰،۳۰۰،۴۰۰)، ثخذ(۵۰۰،۶۰۰،۷۰۰)، ضظغ(۸۰۰،۹۰۰،۱۰۰۰) میں مذکور ہے ۔ جس کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے :
بلکہ علامہ قاضی بیضاوی علیہ الرحمہ کے ارشاد سے پتہ چلتاہے کہ اللہ تعالیٰ اورحضور اقدس ﷺنے بھی ان اعداد کا اعتبار فرمایا۔
آپ الم مقطعات قرآنیہ کی بحث میں لکھتے ہیں :
اوالی مدد اقوام واجال بحساب الجمل کماقالہ ابو العالیۃ متمسکا بما روی أنَّہٗ علیہ الصلاۃ والسلام لم أَتَاہُ الْیَھُوْدُ تلے عَلَیْھم الم البقرۃً فَحَسِبُوْہُ وَقَالُوْ ا کَیْفَ نَدْخلُ فِیْ دِیْنٍ مُدَّتُہٗ اِحْدًی وَّسَبْعُوْنَ سَنَۃ فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺفَقَالُوْا فَھَلْ غَیْر ہٗ فَقَالَ ’’المص‘‘ ’’والر‘‘ و ’’والمر‘‘ فَقَالُوْ اخُلَطَتْ عَلَیْنَا فَلَا نُدْرِیْ بِأَیِّھَا نَأخُذُ فان تلاوتہ ایاھا بھٰذا الترتیب علیھم وتقریر ھم علی استنباطھم دلیل علی ذالک۔(تفسیر بیضاوی علیٰ ھامش شیخ زادہ، /1 66،مطبوعہ استنبول)
یعنی ’’یایہ حروف قوموں کی مدت اورمیعاد کی طرف اشارہ ہے ، جمل کے حساب سے جیساکہ اس کو ابوالعالیہ نے کہا، اس حدیث سے دلیل دیتے ہوئے کہ یہود حضور ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضور ﷺنے سورئہ بقرہ کا الم (الف ، لام، میم )پڑھ کر سنایا انہوں نے اس کا حساب لگایا اورکہا ہم اس دین میں کیسے داخل ہوں جس کی مدت ۷۱ سال ہے ، یہ سن کر رسول اللہ ﷺمسکرائے جس پر یہود نے کہا، کیا اس کے علاوہ بھی کچھ اورہے ؟ توحضور ﷺنے المص الر، المر پڑھا یہ سن کر یہود نے کہا آپ ﷺنے ہماری سوچی ہوئی بات کو خلط ملط کردیا ،ہم نہیں جانتے کہ ان میں سے کس کو لیں۔‘‘علامہ بیضاوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺکااس ترتیب سے پڑھ کر یہود کو سنانا اورانہوں نے جو حساب لگایا تھا اس کا ردّ نہ فرمانا اس کی دلیل ہے کہ قوموں کی معیاد بتانے کے لئے ہے ۔
اس کے تحت شیخ زادہ میں ہے :
فان تلاوتہ علیہ الصلوٰۃ والسلام تلک الفواتح بھذاالترتیب وھو ذکر الأکثر بعد الاقل فی معرض الجواب عن قولھم فھل غیرہ وکذا تقریرہ علیہ الصلوٰۃ والسلام ایاھم علی استنباطھم ذلک وعدم انکارہ علیھم فی تسلیم ذلک یدل علی أنہ سلم ان المراد منھا الَاشارۃ الی المدّۃ ۔(حاشیۃ ، شیخ زادہ علیٰ البیضاوی 66/1)
یعنی،حضور ﷺکا ان فواتح سور کا یہود کے سامنے اس ترتیب سے پڑھنا کہ اکثر کواقل کے بعد پڑھا اوران کے اس قول کے جواب میں کہ کیا اس کے علاوہ کچھ اور ہے ؟ اورایسے ہی حضور ﷺکا ان کے استنباط کو مان لینا اوراس پر انکار نہ کرنا اس بات پر دلالت کرتاہے کہ حضور ﷺکے نزدیک بھی اس سے اشارہ مدت کی طرف ہے ۔
ان سب کا حاصل یہ ہے کہ الم (الف ،لام ، میم)کے عدد’’۷۱‘‘ عد د ہیں ، اگر اعداد کا کوئی اعتبار نہیں تھا تو حضور اقدس ﷺفرمادیتے کہ تم کیا کہتے ہو؟ حروف کے اعداد کا کوئی اعتبار نہیں یہ کالعدم ہیں بلکہ حضور اقدس ﷺنے ترتیب وار دوسرے مقطّعات کی تلاوت فرمائی ، وہ بھی اس ترتیب سے کہ پہلے چھوٹے اَعداد پڑھے پھر بڑے اَعداد۔
مثلاً المص (الف ، میم،صاد)اس کے عد د ’’۱۶۱‘‘ ہیں پھر الر (الف ، لام ، را)جس کے عدد ’’۲۳۱‘‘ ہیں پھر المر (الف ، میم، را) جس کے عدد ’’۲۷۵‘‘ ہیں اوریہ قاعدہ مقرر ہے کہ جب حضور اقدس ﷺکے سامنے کوئی بات کہی جائے اورحضور ﷺاسے ردّ نہ فرمائیں تو وہ حدیث مرفوع ہے اوریہاں صرف سُکوت ہی نہیں بلکہ انہیں الزام دینے کے لئے ترتیب وار مقطّعات کی تلاوت فرمائی ۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ حروف کے ان مخصوص اعداد کا اعتبار خود حضور ﷺسے ثابت ہے اوریہ مُنَزَّلْ مِنَ اللّٰہِ بھی ہے ۔
نیز ملا عبدالحکیم خیالی لکھتے ہیں :
والمقصود منھا الاشارۃ باعتبار مسمّیا تھا الی مدد بقاء أقوام واجٰال أمور قال الجوفی قداستخرج بعض الأئمۃ من قولہ تعالی (الم غلبت الروم) ان البیت المقدس یفتتح المسلمون فی سنۃ ثلاث وثمانین وخمس مائۃ ووقع کما قال وقال السھیلی لعل عدد حروف التی فی اوائل السور مع حرف المکرر للاشارۃ الی مدۃ بقاء ھذا الأمۃ۔
ان امور سے مقصود ان کے مسمّیات کے اعتبار سے کچھ قوموں کے بقاء کی مدت اورامور کی میعاد کی طرف اشارہ ہے جو فی نے کہا کہ آیۃ کریمہ ’’ الم غلبت الروم‘‘ سے بعض ائمہ نے یہ استخراج فرمایا کہ بیت المقدس مسلمان ۵۸۳ھ میں فتح کریں گے، جیسا انہوں نے کہا تھا ویسا ہی ہوا۔ سہیلی نے کہا، ہوسکتاہے ان حروف کے عد د جو سورتوں کے اوائل میں ہے ، اس امت کی بقاء کی مدت کے اشارے کے لئے ہیں۔
البدایۃ والنھایۃ (جلد /12 ص326)میں ہے کہ اس استخراج کو سب سے پہلے علامہ ابو الحکم ابن برجان اندلسی نے 522ھ کے حدود میں ذکر کیا۔
حاصل یہ نکلا کہ جمل کے حساب سے لے کر خلف تک ، اس کا اعتبار رہا ہے ۔ مفتی صاحب کا یہ کہنا کہ یہ ہری کرشنا کا عدد ہے سراسر غلط ہے ۔اس کی دلیل یہ ہے کہ جمل کا حساب عربی حروف کے ساتھ خاص ہے ، ہندی یا سنسکرت میں یہ طریقہ رائج ہے نہ ان کے حروف تہجی کے مطابق ہے ۔
غور کیجئے جمل کے حساب سے جو گنتیاں ہیں وہ 28ہیں اورعربی حروف تہجی بھی 28ہیں اورسنسکرت کے حروف تہجی 37ہیں جس میں سرے سے الف ہے ہی نہیں ، الف کو یہ سبد (حرف) نہیں مانتے ، ماترا مانتے ہیں ، جب کہ جمل کے حساب میں پہلا حرف الف ہے جس کا عدد ایک ہے ۔ نیز جمل کے بہت سے حروف سنسکرت میں غائب ہیں مثلاً ثا، حا ، خا، ذال ، صاد، ضاد ، طا، ظا، عین ، غین ، فا اورقاف۔
اوربہت سے ایسے حروف سنسکرت کے حروف تہجی میں ہیں ، جو جمل میںنہیں مثلاً بھ، پ، پھ، ٹ، ٹھ، جھ، چ، چھ ، دھا، ڈھا ، کھا، گ، گھا وغیرہ۔ جمل کا حساب عربی کلمات اورحروف میں معتبر ہے ،
دیگر زبانوںکے کلمات اورحروف میں اس کا اعتبار نہیں ۔ اس لئے یہ کہنا کہ ۷۸۶ہری کرشنا کے بھی عدد ہیں، فریب دینا ہے ۔ اعداد کی مطابقت سے کچھ نہیں ہوتا جس زبان میں اورجس زبان کے کلمات کے لئے ان اعداد کا اعتبار رسول اللہ ﷺنے اوراسلاف نے فرمایا، وہ صرف عربی ہے ۔ اس لئے صرف عربی کلمات کے جو اعداد ہیں ان کا اعتبار ہے ۔ اس سے بھی قطع نظر اعتبار ان حروف کا ہوتاہے جو لکھے جائیں ، خواہ پڑھے جائیں یا نہ پڑھے جائیں اگر کچھ الفاظ پڑھے جارہے ہیں مگر لکھے نہیں جارہے ان کا کوئی اعتبار نہیں ۔
مثلاً اسم جلالت ’’اللہ‘‘ کے عدد’’66‘‘ ہیں حالانکہ جب لام کے بعد الف پڑھا جارہا ہے تو’’67‘‘ ہونا چاہیے مگر چونکہ درمیانی الف لکھا نہیں جاتا، اس لئے اس کا حسابِ جمل میں اعتبار نہیں ۔نیز اسم کریم ’’الرحمن‘‘ کے اعداد’’329‘‘ ہیں حالانکہ لام پڑھا نہیں جاتاہے مگر لکھا جاتا ہے اس لئے اس کے عدد کا اعتبار ہے اوردرمیانی الف پڑھا جاتاہے مگر چونکہ لکھا نہیں جاتااس لئے اس کا اعتبار نہیں چنانچہ جمل کے حساب سے ناواقفی کی وجہ سے مفتی صاحب کو یہ دھوکہ لگا اورانہوں نے کہہ دیا بسم اللہ شریف کے اعداد ۷۸۶ نہیں ۔ جمل کے قاعدے کی رو سے ہری کرشنا کے اعداد ۷۸۶ ہر گز نہیں اس لئے کہ اعتبار اسی رسم الخط کا ہوگا جس زبان کا وہ کلمہ ہے ۔
بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم
ہری کرشنا سنسکرت کا لفظ ہے سنسکرت میں اسے یوں لکھتے ہیں اس میں حروف یہ ہیں اب آپ خود جوڑئیے کو ’’ہ‘‘ مانئے اس کے عد د 5’’ر‘‘ کے 200’’ی‘‘ کے 10’’ک‘‘ کے 20، اور اس کے مماثل ابجد میں کوئی حرف نہیں کو زبردستی ’’ش‘‘ مان کر اور کو ’’ن‘‘ مان کر ۷۸۶ پورا کرنا جمل کے حساب سے خارج ہے اور مخالفین کی شرارت ، نہ یہ لفظ اردو کا ہے اورنہ اردو رسم الخط کا اعتبار ہوگا۔ جس زبان کا لفظ ہے اسی زبان کے رسم الخط کااعتبار لازم ہے ۔اوراس لحاظ سے کے اعداد ۷۸۶ نہیں بلکہ ۴۳۶ ہیں ۔
دوسری خاص بات یہ ہے کہ مسلمان خطوط کے سرنامے پر ۷۸۶ لکھتے ہیں تواسے فرض جانتے ہیں نہ واجب وسنّت، بلکہ مستحسن اوراستحسان کے لئے یہی کافی ہے کہ امت کے معتمد علماء اور مشائخ کا اس پر عمل ہے اس کے لئے نہ قرآن سے ثبوت کی حاجت ہے اورنہ حدیث سے ، صرف یہی کافی ہے کہ قرآن وحدیث میں اس سے ممانعت نہیں اور امت کے عوام وخواص کااس پر عمل ہے ۔
(حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ کے فتویٰ سے مستفاد)
