Site icon اردو محفل

حرمین شریفین میں ۲۰؍ رکعات تراویح کے بجائے ۱۰؍ رکعات پڑھائی جانے لگی ہے

حرمین شریفین میں ۲۰؍ رکعات تراویح کے بجائے ۱۰؍ رکعات پڑھائی جانے لگی ہے ۔ (رضا اکیڈمی)
ہم اہلسنت و جماعت کو اس سے سروکار نہیں ہے کہ حکومت سعودیہ عربیہ تراویح کی کتنی رکعت پڑھا رہی ہے ۔ پہلے ۲۰؍ رکعتیں پڑھائی جاتی تھیں۔ کووڈ کے دور سے ۱۰؍ رکعتیں پڑھائی جانے لگی ہیں ۔
سعودی عرب میں گانا بجانا، ناچنا، بے پردگی ، سنیما گھر ، جوا خانہ اور بدکاری کے ہر وہ کام کئے جا رہے ہیں جس کا اسلامی سلطنت میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ سعودیہ عربیہ نام نہاد اسلامی سلطنت ہو کر رہ گیا ہے جب جیسا چاہتا ہے کرتا ہے ۔ اب تو نماز میں بھی تخفیف شروع کردی کہ ۲۰؍ رکعات تراویح کے بجائے ۱۰؍ رکعات تراویح کردی ۔ جبکہ ہندو پاک بنگلہ دیش کے علاوہ دنیا بھر میں تراویح کی ۲۰؍رکعات پڑھی جاتی ہیں ۔ اور سعودی عرب میں بھی ۲۰؍ رکعات پڑھی جاتی رہی ہیں۔اب یہ سعودی عرب ۸؍ رکعات پڑھیں یا ۱۰ ؍ رکعات مگر عوام میں یہ نیا فتنہ اٹھے گا اور عالم اسلام میں لوگوں کے اندر خلفشار مچے گا کہ مکہ مکرمہ ، مدینہ طیبہ میں ۱۰ ؍ رکعات تراویح پڑھی جاتی ہیںتو ہمارے یہاں بھی ۱۰؍ رکعتیں ہونی چاہئیں۔ اسی لئے ہم سعودی عرب کے ارباب حل و عقد سےمطالبہ کرتے ہیں کہ ۲۰؍ رکعات تراویح ہی پڑھائی جائے تاکہ شریعت پر عمل ہو اور امن و امان بحال رہے اور لوگوں کی د ل شکنی نہ ہو۔اور زائرین و عوام میں بےچینی نہیں پھیلے ۔

فقط والسلام
اسیرمفتی اعظم محمد سعید نوری خادم رضا اکیڈمی

Exit mobile version