Site icon اردو محفل

قیادت ایسی ہوتی ہے

قیادت ایسی ہوتی ہے!!

غلام مصطفےٰ نعیمی
روشن مستقبل دہلی

پچھلے کچھ دنوں سے پنجاب میں خالصتان تحریک کے نام پر پولیس اور ایجنسیوں کا کریک ڈاؤن جاری ہے۔ایجنسیوں کے مطابق “وارث پنجاب دے” نامی تنظیم کے تحت ملک مخالف سرگرمیاں چلائی جارہی ہیں۔اٹھارہ مارچ کو تنظیم کے مُکھیا امرت پال سنگھ اور اس کے حامیوں کے خلاف، تقریباً اسّی ہزار پولیس فورس کے ساتھ ایکشن لیا گیا۔جس کے نتیجے میں سیکڑوں کارکنان اور درجنوں ذمہ داران گرفتار ہوئے لیکن بہت پیچھا کرنے کے بعد بھی امرت پال سنگھ پولیس کے ہاتھ نہیں آیا اور اسّی ہزار فورس کی آنکھوں میں دھول جھونک فرار ہونے میں کامیاب رہا۔امرت پال تو ہاتھ نہیں لگا لیکن خالصتان موومنٹ چلانے کے شک میں پولیس نے تھوک کے بھاؤ میں گرفتاریاں شروع کردیں۔پورے پنجاب میں ہر طرف خوف وہراس کا ماحول تھا۔ایسے وقت میں سِکھوں کی مذہبی اور سیاسی قیادت نے آگے آکر اپنے نوجوانوں کی حمایت میں آواز اٹھائی۔ایک طرف سِکھوں کی سیاسی پارٹی شِرومَنی اکالی دَل نے گرفتار نوجوانوں کے کیس لڑنے کا اعلان کیا تو دوسری جانب سِکھوں کی مذہبی قیادت “اکال تخت” نے سیدھے سیدھے پولیس اور حکومت پر خالصتان کے نام پر جھوٹی اور بے جا گرفتاریوں کا الزام لگاتے ہوئے وارننگ دی کہ اگر چوبیس گھنٹوں کے اندر بے قصور نوجوانوں کو رہا نہ کیا گیا تو اکال تخت خود ان معاملات سے نپٹے گا۔
ابھی اکال تخت کی وارننگ کی مدت پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ پولیس نے تین سو ساٹھ افراد میں سے تین سو اڑتالیس لوگوں کو فی الفور رہا کردیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ کسی بھی فرد کو بلا وجہ گرفتار نہیں کیا جائے گا۔اکال تخت کی ہمت اور بروقت لیے گیے بہادرانہ موقف سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیا کہ اگر قیادت مخلص اور بہادر ہو تو بڑے بڑے مسائل چشم زدن میں حل ہوجاتے ہیں۔حل نہیں بھی ہوتے تب بھی قوم کا ذہنی معیار بلند رہتا ہے۔

اپنی قیادت کا حال بھی دیکھ لیں_____

اپنی قیادت کی سرد مہری، برف سی خاموشی اور ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے جیسی کتنی ہی مثالیں ہیں۔اکال تخت کی ہمت اور بہادرانہ موقف دیکھ کر بے اختیار وہ وقت یاد آگیا جب 5 اگست 2019 کو کشمیر سے آرٹیکل 370 ختم کیا گیا تھا اور شدت پسندی کے الزام/شک میں تقریباً پندرہ ہزار کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرکے مہینوں/سالوں تک جیلوں میں رکھا گیا تھا۔وادی میں سات لاکھ فورس تعینات تھی۔فون انٹرنیٹ اور اخبارات سب بند تھے۔مہینوں تک باہری دنیا سے کشمیر میں کسی کو جانے کی اجازت تک نہیں تھی۔ضرورت کی چیزیں ، دودھ، سبزی اور دوائیاں تک دستیاب نہیں تھیں۔ایسے مشکل ترین دور میں امید تھی کہ ملت اسلامیہ کے قائدین آگے آکر ان کی حمایت میں آواز بلند کریں گے۔بے قصوروں کو رہا کرائیں گے، لیکن افسوس جب ملی قیادت کی سب سے زیادہ ضرورت تھی اس وقت جمیعۃ علماے ہند نے 12 ستمبر 2019 کو مجلس عاملہ کا اجلاس بلا کر یہ اعلان کیا تھا:
“کشمیر کے معاملے پر ہم کلی طور پر حکومت کے ساتھ ہیں۔”

اس اعلان سے کچھ دن پہلے ہی زکاۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا، مسلم مجلس مشاورت اور جماعت اسلامی ہند سمیت آدھا درجن تنظیمیں حکومتی اسٹینڈ کی حمایت کر چکی تھیں۔حمایت کی اس ہوڑ میں کچھ سرکاری صوفی بھی شامل تھے جنہوں نے بھارت سے جنیوا تک حکومتی حمایت کا فریضہ انجام دیا لیکن مظلوم اور بے بس کشمیریوں کی حمایت میں کسی کی زبان سے ایک لفظ تک نہیں نکلا۔
سِکھ قیادت نے ایسے وقت میں اپنے نوجوانوں کی حمایت کی جب ان پر ملک مخالف سرگرمیاں چلانے کا الزام تھا جب کہ کشمیری نوجوان صرف خدشہ احتجاج کے پیش نظر گرفتار کیے گیے تھے اس کے باوجود ہماری قیادت یا تو چپ کا روزہ رکھے رہی یا حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتی رہی۔قیادت کی بہادری ہی کا نتیجہ تھا کہ اکال تخت کی وارننگ کے چوبیس گھنٹوں میں ان کے اکثر نوجوان رہا کردئے گئے جب کہ ہمارے نوجوان مہینوں تک قید وبند کی مصیبتیں جھیلتے رہے۔
حالیہ دنوں میں جس تیزی کے ساتھ مسلم لڑکیوں کے ارتداد کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔نمازوں کی ادائیگی پر مقدمات درج ہورہے ہیں۔مساجد پر بھگوا جھنڈے لہرائے جارہے ہیں۔یہ سب حاد دن کے اجالے میں ہورہے ہیں مگر ساری کی ساری قیادت مفروضہ حکمت ومصلحت کی تسبیح پڑھنے میں مصروف ہے۔
کاش!
قیادت کو احساس ہوتا کہ عزت شانتی سمّیلنوں، خیر سگالی جلسوں اور اہل اقتدار کی دعوتوں سے نہیں بل کہ قومی ہمدردی ، بہادرانہ موقف اور غیرت مندانہ جرأت سے ملا کرتی ہے۔جو قیادت ان اوصاف کی حامل ہوتی ہے اس کی حکومتیں بھی عزت کرتی ہیں اور جو قیادت ان اوصاف سے محروم ہوتی ہے اس کی عزت حکومت تو دور حکومت کا چپراسی بھی نہیں کرتا۔

٩ رمضان المبارک ١٤٤٤ھ
یکم اپریل 2023 بروز ہفتہ

Exit mobile version