’جوواقعی آدمی ہوگاوہ کبھی بے لباس نہیں ہوگا ‘
سہ روزہ سنی اجتماع کے پہلے دن امیرسنی دعوت اسلامی مولانامحمدشاکرنوری کاخواتین سے خطاب،آج اورکل مردوں کااجتماع
ممبئی:سنی دعوت اسلامی کا۳۱؍واں سالانہ سہ روزہ سنی اجتماع آج یہاں آزادمیدان وادی نورمیں جمعہ کی نمازکے بعدفوراًتلاوت قرآن پاک اورحضرت معین میاں صاحب قبلہ کی پرسوزدعاؤں سے شروع ہوگیا۔خواتین کی آمدکاسلسلہ جمعہ سے پہلے ہی شروع ہوگیاتھا۔خواتین کی ایک بہت بڑی تعدادنے ظہرکی نمازیہیں اداکی ۔پھرجوں ہی پروگرام کاسلسلہ آگے بڑھتارہا،خواتین کی تعدادمیں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوتا گیا اورشام ہوتے ہوتے چاروں طرف خواتین کے سرہی سرنظرآنے لگے ۔آج کے اجلاس میں سب سے اہم خطاب داعی کبیرخطیب ایشیاویورپ امیرسنی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولاناشاکرعلی نوری صاحب کاہوا۔حضرت موصوف نے قرآن مجید کی روشنی میں لباس کے موضوع پربڑاہی فکر انگیز اور معلوماتی خطاب فرمایا۔انہوں نے کہاکہ اللہ عزوجل نے سورہ اعراف میں ارشادفرمایاکہ اے بنی آدم! تمہارے لیے ہم نے لباس نازل کیاتاکہ تم شرم کی چیزیں چھپاؤ اورزینت حاصل کرواورتقویٰ کالباس بہترین لباس ہے۔قرآن کریم کایہ خطاب صرف مسلمانوں سے نہیں بلکہ ساری اولادآدم سے ہے ۔ گویا اللہ نےلباس کو اولادآدم کی فطری ضرورت بتایاہے لہٰذاجوآدمی ہوگاوہ ضرورلباس زیب تن کرے گا۔ اسی آیت پرمزیدگفتگوآگے بڑھاتے ہوئے حضرت امیرسنی دعوت اسلامی نے فرمایاکہ اس آیت سے یہ بھی پتہ چلاکہ آج جوبے لباسی عام ہوگئی ہے یہ آدمیت نہیں ہے ،یہ حیوانیت ہے کیوں کہ جوواقعی آدمی ہوگاوہ کبھی بے لباس نہیں ہوگا۔مغربی دنیاجوکہ شیطان کی آلہ کارہے وہ اولادآدم کالباس اترواناچاہتی ہے۔آج معاشرے میں باریک اورچست لباس پہننالوگوں نے فیشن بنالیاہے ۔حضرت امیرسنی دعوت اسلامی نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہاکہ خواتین نے یہ فیشن اس لیے اپنایاہواہے کہ وہ لباس کے مقصدکوبھول گئی ہیں اورعریانیت کامظاہرہ اس لیے کرتی ہیں کہ انہیں بے لباس ہونے کے عذاب کاعلم نہیں ہے۔
ایک حدیث کاحوالہ دیتے ہوئے حضرت موصوف نے فرمایاکہ ایک حدیث مبارکہ ہے کہ جوعورتیں کپڑاپہن کربھی ننگی ہوں اورمردوں کواپنی طرف مائل کرنے والی ہوں ان کاٹھکانہ جہنم ہے اوروہ جنت کی خوشبوسے بھی محروم رہیں گی حالاں کہ جنت کی خوشبوبہت دورسے آرہی ہوگی ۔سورہ اعراف آیت نمبر۲۶کاحوالہ دیتےہوئے انہوں نے فرمایاکہ شیطان ،انسان کاکھلاہوادشمن ہے اورروزاول سے ہی اس نے مصیبت میں گرفتارکرنے کے لیے سب سے پہلے حضرت آدم کوبے لباس کیاجس کی وجہ سے آپ پریشانی میں گرفتارہوئے ۔اس آیت سے یہ ثابت ہوتاہے کہ آج معاشرہ جوپریشانیوں کاشکارہے اس کی ایک بڑی وجہ عریانیت بھی ہے ۔اخیرمیں امیرسنی دعوت اسلامی نے خواتین کو تلقین کی کہ جس لباس سے جسم جھلکتاہو،رنگت ظاہرہوتی ہواورجسم کے خال وخط نمایاں ہوتے ہوں ایسے لباس سے پرہیزکریں اور اپنے اردگردکی خواتین کوبھی اس کی نصیحت کریں ۔یہ بے لباسی اورعریانیت دنیامیں تونقصان دہ توہے ہی ، جہنم میں لے جانے کاباعث بھی ہے۔
محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی محمدنظام الدین رضوی مصباحی صدرشعبہ افتاجامعہ اشرفیہ مبارک پورکاشرعی سوالات وجوابات کاسیشن بعدنمازعصرشروع ہواجس میں معاشرے میں نہایت ہی سلگتے ہوئے درجنوں دینی و سماجی مسائل کاحل پیش کیاگیا۔ایک سوال کے جواب میں مفتی صاحب نے فرمایاکہ بعض عورتیں خوب شاپنگ کرتی ہیں ،یہاں وہاں خوب آتی جاتی ہیں اس وقت ان کے پیروں میں تکلیف نہیں ہوتی لیکن جوں ہی نمازکاارادہ کرتی ہیں تووہ کرسی پربیٹھ کرنمازپڑھنے لگتی ہیں توایسی عورتوں کی نمازصحیح نہیں ہوتی ۔ہاں اگرواقعی عذرہومثلاًجوعورت سجدے میں نہیں جاسکتی یااگرجاتوسکتی ہےلیکن اس کے پیٹ میں جوبچہ ہے اس کونقصان ہوگایااگرایسی بیماری میں مبتلاہے کہ اگروہ سجدہ یارکوع کرے گی تواس کامرض بڑھ جائے گااوروہ جلدی صحت یاب نہیں ہوگی توایسی عورت کے لیے کرسی پربیٹھ کراوراشارے سے رکوع وسجدہ کرناجائزہے۔معاشرے کے ایک اہم مسئلہ ،وراثت پرہوئے ایک سوال کے جواب میں مفتی صاحب قبلہ نے شرعی رہ نمائی کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں نے پتہ نہیں کیسے یہ جہالت اپنالی کہ وہ اپنی بہنوں،بیٹیوں اورپھوپھیوں کووراثت میں حصہ نہیں دیتے حالاں کہ یہ سخت حرام اورناجائزہے ۔یہ حقوق العبادہے اورحقوق العباداس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک کہ بندہ خودمعاف نہ کردے ۔ اسلام نے حقوق کی ادائیگی اوروراثت میں حصہ دینے کی بہت تاکیدکی ہے اس لیے اس شدیدگناہ میں کبھی نہیں پڑناچاہیے ۔اگرکسی نے اپنی بیٹی ،بہن یاپھوپھی کاحصہ غصب کررکھاہے تو اسےفوراً ادا کرنا چاہیے۔عقیقے کے گوشت پرکسی بزرگ کی نیازفاتحہ وغیرہ کرسکتی ہیں یانہیں ؟اس سوال کے جواب میں مفتی صاحب نے فرمایاکہ یہ بالکل جائزہے ۔عقیقے کے گوشت پرایک ساتھ دوکام کیے جاسکتے ہیں ۔
ملک وبیرون ملک کےمعروف ومقبول خطیب حضرت سیدامین القادری صاحب نے’’خیرالقرون کی خواتین اوران کاعلمی ذوق‘‘کے عنوان پر اپنے پرمغزخطاب میں فرمایاکہ لوگ آج اسلام پراعتراض کرتے ہیں کہ اسلام عورتوں کومردوں کے برابرحقوق نہیں دیتامگرحقیقت یہ ہے کہ اسلام کی تاریخ میں کئی سارے شعبوں میں عورتیں ،مردوں سے فائق دکھائی دیتی ہیں۔تاریخ کے صفحات کھنگالیے تواندازہ ہوگاکہ حضرت عائشہ صدیقہ سے لے کرحضرت امام اعظم کی بیٹی حنیفہ تک بے شمارخواتین ہیں جوعلم کے معاملے میں مردوں سے بدرجہابہترہیں۔انہوں نے کہاکہ آج ’’بیٹی بچاؤبیٹی پڑھاؤ ‘‘تحریک بہت زوروں پرہے لیکن مصطفی جان رحمت نے ساڑھے چودہ سوسال پہلے بیٹیوں کوبچاکربھی دکھایااوربیٹیوں کوپڑھاکربھی دکھایا۔اسی ضمن میں سیدصاحب نے کہا کہ دنیاجہاں کہیں بھی اسلامی حکومتیں قائم ہوئیں بیٹیوں کوان کاصحیح مقام دیاجاتارہااورمعاشرہ ترقی کرتارہا۔اخیرمیں انہوں نے عورتوں کوتلقین کی کہ آپ لوگ صحیح عقیدہ اوردینی تعلیم سیکھیے کہ اس کے بغیرآپ اپنے بچوں کی تربیت نہیں کرسکتیں اوراگرآپ کے بچوں کودینی تربیت نہ ملی تومعاشرے کوبربادہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔
ان حضرات کے علاوہ دیگرمبلغین اورنعت خوانوں نے بھی اپنے اپنے طورسامعات کی دینی رہنمائی فرمائی ۔نظامت کے فرائض محترم قاری رضوان صاحب پرنسپل ہاشمیہ ہائی اسکول ممبئی نے انجام دیے۔ ساری نمازیں میدان پرہی اداکی گئیں ۔ممبئی ومضافات ودیگرریاستوں کی بے شمارخواتین اجتماع میں موجودرہیں ۔بہت ساری خواتین بسوںکے ذریعے یہاں پہنچی تھیں ۔اسکولوں کی طالبات ،ٹیچرز،سماجی تنظیموں کی سربرآوردہ خواتین سمیت قریب ایک لاکھ خواتین آج شریک تھیں ۔
