*کیا مولا علی رضی ﷲ عنہ نے خاتون جنت کو غسل دیا تھا؟* تحقیق رضوی
امام اہل سنت فرماتے ہیں: وہ جو منقول ہُوا کہ سیّدنا علی کرم ﷲ وجہہ، نے حضرت بتول زہرا رضی ﷲ تعالٰی عنہا کو غسل دیا،
*اوّلاً* اس کی ایسی صحت و لیاقت حجّیت محلِ نظر ہے۔
*ثانیاً* دوسری روایت یوں ہے کہ اُس جناب کو حضرت اُمِ ّایمن رضی ﷲ تعالٰی عنہا نبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی دائی نے غسل دیا۔
*ثالثاً* بمعنی امر شائع، یقال قتل الامیر فلانا “و قاتل الملك القوم الفلانی” اذن النبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم” ای امر بالتاذین۔
یعنی کہا جاتا ہے”امیر نے فلاں کو قتل کیا- (یعنی قتل کا حکم دیا) -“بادشاہ نے فلاں قوم سے جنگ کی” (یعنی جنگ کا حکم دیا) — حدیث میں آیا:نبی صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اذان دی”یعنی اذان کا حکم دیا۔ (ت)
*رابعاً* اضافت فعل بسوئے مسبب غیر مستنکر
اور حدیثِ علی ان وجوہ پر محمول کرنے سے تعارض مرتفع یعنی ام ایمن نے اپنے ہاتھوں سے نہلایا اور سیّدنا علی کرم ﷲ وجہہ، نے حکم دیا یا اسبابِ غسل کو مہیّا فرمایا۔
*خامساً* مولٰی علی کرم ﷲ وجہہ کے لئے خصوصیت تھی اوروں کا قیاس اُن پر روا نہیں۔
ہمارے علماء جو غسلِ زوجہ سے منع فرماتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ موت بسبب انعدام محل، ملك نکاح ختم ہوجاتی ہے، تو شوہر اجنبی ہوگیا،کما افادہ ملك العلماء فی البدائع والمحقق حیث اطلق فی الفتح وغیرھما فی غیرھما۔
مگر نبی صلی ﷲ تعالٰی علیه وسلم کا رشتہ ابدالآباد تك باقی ہے کبھی منقطع نہ ہوگا۔ فقدخرج الحاکم و صححه والبیھقی عن ابن عمر والطبرانی فی الکبیر عنه وعن ابن عباس و عن المسود رضی ﷲ تعالٰی عنهم عن النبی صلی ﷲ تعالٰی علیه وسلم انه قال کل سبب و نسب و منقطع یوم القٰیامة الا سببی و نسبی. واخرج البیھقی والدار قطنی بسند، قال ابن حجر المکی رجاله من اکابر اھل البیت فی حدیث طویل فیه عن عمر بن الخطاب رضی ﷲ تعالٰی عنه انه سمع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیه وسلم یقول کل صھر او سبب او نسب ینقطع یوم القیٰمة الا صھری و سببی و نسبی. وقد روی نحوہ من حدیث عبدﷲ بن زبیر رضی ﷲ تعالٰی عنھا قال ابن حجر قال الذھبی واسنادہ صالح اھ ونقل المناوی من الذھبی انه قال غیر منقطع قلت ان ثبت عندنا الصحة وقد قال ابن حجر انه صح عن عمر کیف وقد تعدد طرقه وجاء عن جماعة من الاصحاب رضی ﷲ تعالٰی عنهم۔
اسی لئے منقول ہوا کہ سیّدنا علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ پر حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی ﷲ تعالٰی عنہ نے اس امر پر اعتراض کیا،حضرت مرتضٰی نے جواب میں ارشاد فرمایا: اما علمت ان رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیه وسلم قال ان فاطمة زوجتك فی الدنیا والاٰخرۃ.
تو دیکھو اس خصوصیت کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ رشتہ منقطع نہیں۔یہ جواب نہ فرمایا کہ شوہر کو اپنی عورت کو نہلانا روا ہے۔ اس سے اور بھی ثابت ہوا کہ صحابہ کرام کے نزدیك صورتِ مذکورہ میں مذہب عدم جواز تھا۔ جب تو حضرت ابنِ مسعود نے انکار فرمایا اورحضرت مرتضٰی نے اسے تسلیم فرماکر اپنی خصوصیات سے جواب دیا۔
وھذا خلاصة ما فی الدر المختار و ردالمحتار عن شرح المجمع مع زیادات النفائس۔ وﷲ تعالٰی اعلم۔
(فتاوى رضوية ٩ /٩٢ تا ٩٤)
ابو الحسن
