وہ اس میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات
لغو اور گناہ کی باتوں کے مصادیق
الواقعہ : 26۔ 25 میں فرمایا : اس میں نہ کوئی بےہودہ بات سنیں گے نہ گناہ کی بات۔ مگر ہر طرف سلام سلام کی آواز۔
اس آیت میں ” لغو “ کا لفظ ہے ‘ وہ کوئی لغو بات نہیں سنیں گے ‘ لغو بات سے کیا مراد ہے : ایسا کلام جو عبث اور بےفائدہ ہو ‘ جو لائقِ شمار نہ ہو یا کھیل کود کی باتیں ‘ جن کو سننے سے محض وقت ضائع ہو اور گناہ کی بات سے مراد ہے : جھوٹ ‘ چغلی اور فحش باتیں۔
مجاہد نے کہا : اس سے مراد ہے : لڑائی جھگڑے ‘ گالم گلوچ ‘ جھوٹی قسمیں اور گناہ پر ابھارنے والی باتیں۔
وہ اس میں سلامتی کی باتیں سنیں گے اور نیکی کی اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ذکر کی باتیں سنیں گے ‘ وہ جب ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے تو کلام کی ابتداء سلام سے کریں گے ‘ اور ایک دوسرے کو خوش آمدید اور مرحبا کہیں گے۔