مزاروں، درباروں اور قبروں پر رکھے چھوٹے بڑے صندوقوں میں ہرگز 1 روپیہ بھی نہ ڈالیں۔ صاحب مزار کو اپکے پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
درباروں کے گدی نشین اور محکمہ اوقاف آپ کے پیسوں سے وہ عیاشیاں کرتے ہیں جس کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔
یہ گدی نشین کوئی کاروبار جاب محنت مزدوری وغیرہ نہیں کرتے اور نا ہی کوئی دینی خدمت کر رہے ہوتے ہیں خانقاہ پر علم و ادب کا نام نشان تک نہیں ہوتا بلکہ آپ کے پیسے سے یہ دو نمبر گدی نشین زندگی بھر انجوائے کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی نئی نسل آ جاتی ہے پھر یہی مفت کی عیاشیاں ان کے حصے میں آجاتی ہیں اور یہ سلسلہ ایسے چلتا رہتا ہے۔
..آپ وہی پیسہ کتب تصانیف کرنے والے، مدارس چلانے والے اور دین کی خدمت میں مصروف علماء اور اپنے سفید پوش رشتہ داروں، غریبوں، یتیموں اور مسکینوں پہ لگائیں جو حقیقت میں آپ کے لئے دلی خوشی کا سبب اور صدقہِ جاریہ بنے گا ۔
علم_و_اگاہی
پیر_فیضان_علی_چشتی
